Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31 Pt.2


حنین گھر میں داخل ہوا تو بیگم غزالہ کافی ساری شاپنگ کر کے الاؤنچ میں بیٹھی تھیں شاید ابھی ابھی آئیں تھیں.
سلام موم …حنین نے ماں کو چومتے ہوئے نیچے کارپٹ پر پڑے شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا
یہ سب کیا ہے..؟؟ اور خود بیگم غزالہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
اس اتوار کو تیرا نکاح ہے اب شاپنگ بھی نہ کروں..؟؟؟
غزالہ بیگم نے شاپنگ بیگز پر نظر مارتے ہوئے کہا
حنین نے لاڈ سے ماں کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا
موم جب سے زریاب کی شادی ہوئی ہے تب سے مجھے بہت جیلسی ہو رہی ہے مجھے نہیں پتہ میں نے بھی پھولوں والے کمرے میں سونا ہے اب میں اکیلے سوتا اچھا لگتا ہوں…..؟؟؟
غزالہ بیگم نے حنین کی بات سنتے ہی اسے گھور کر دیکھا
بیٹا جی پہلے MBA کرو پھر پھولوں والے کمرے میں سونے کا خواب دیکھو…..
موم کیا ہے اچھے خاصے موڈ کا ستیا ناس کر دیا ہے میں کچھ اور بات کر رہا ہوں اور آپ کچھ اور پہلے میری بات تو پوری سن لیں میرے پاس ایک آئیڈیا ہے…..
حنین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
اچھا بتا..؟؟ غزالہ بیگم نے پیار سے حنین نے بالوں میں ہاتھ پھرا حنین غصہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا
ایک تو پتہ نہیں آپ سب کو میرے ہئیر سٹائل سے کیا مسئلہ ہے ؟؟؟جس کو دیکھو انھیں خراب کرتا رہتا ہے پچاس ہزار کے ہیئر سٹائل کو پانچ سیکنڈ میں خراب کر دیتے….
حنین پر بالوں میں ہاتھ پھیر کر انھیں دوبارہ سیٹ کرنے لگا
اچھا غصہ نہ کر بتا آئیڈیا کیا ہے؟؟؟
بیگم غزالہ نے لاڈ سے پوچھا
موم میں نے سوچا ہے کہ ہم نکاح والے دن واپسی پر نرمین کو بھی ساتھ لے آئیں گے…
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر کہا
تیرا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا میرا ایک ہی بیٹا ہے اور میں نے اس کی شادی میں ساری رسمیں کرنی ہیں وہ بھی دھوم دھام سے میں تو پورا ایک مہینہ لگاؤں گی ……
بیگم غزالہ نے ناپسندیدگی سے حننین کی طرف دیکھا جب ملک صاحب الاؤنچ میں داخل ہوئے.
کیا ہو رہا ہے …..؟؟؟
انھوں نے بیگم غزالہ کی طرف مسکرا کر دیکھا
چلو جی !ایک تو آپ دونوں نے گھر کا ماحول خراب کیا ہوا ہے جب دیکھو ایک دوسرے سے لاڈ کر رہے ہوتے ہیں اور مجھے اپنی بیگم بھی نہیں لانے دے رہے.
حنین نے منہ پھلاتے ہوئے کہا
اسے کیا ہوا ہے..؟؟؟
ملک نزیر نے بیگم غزالہ سے پوچھا
کچھ نہیں بس بکواس کر رہا ہے جو اس کی عادت ہے.
بیگم غزالہ اب ملک نزیر کو شاپنگ دیکھانے لگیں جبکہ ملک نزیر ان کے کپڑوں کی تعریف کر رہے تھے کہ آپ نے بہت اچھے کپڑے لیے ہیں آپ تو چھا جائیں گی نکاح والے دن……
حنین دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا پھر گلا صاف کر کے کہنے لگا
موم تو ہیں ہی بہت پیاری میرا تو خود موم پر دل آجاتا ہے مگر میں سوچ رہا ہوں آپ کیسے لگے گئے لوگ تو یہی کہیں گے نا کہ دیکھو حور کہ پہلو میں……..
اور زور زور سے ہنسنے لگا جبکہ ملک نزیر نے پاؤں سے جوتا اتارا اس سے پہلے کہ وہ حنین کو مارتے حنین آنکھ مارتا ہوا دو دو تین تین سیڑھیاں پھلانگتا اپنے کمرے میں غائب ہو گیا جبکہ بیگم غزاکہ نے ملک صاحب کے ہاتھ سے جوتا لے کر نیچے رکھا اور کہا
آپ کو اس کی عادت کا پتہ تو ہے وہ جان بجھ کر آپ کو چڑاتا ہے چھوڑیں اسے اور کپڑے دیکھیں
……………….
کمرے میں آکر حنین نے جوتے اتار کر رکھے خود ننگے پاؤں چلتا ہوا ٹیرس پر آگیا کچھ دیر نیچے دیکھتا رہا پھر نرمین کا خیال آتے ہی ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ آگئی.
کمرے میں واپس آ کر نرمین کو کال کی اور چلتے چلتے دوبارہ ٹیرس پر ریلنگ ساتھ کھڑا ہو گیا.
ہیلو….نرمین نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کہا
ویسے اگر غلطی سے ایک خوبصورت اور حسین لڑکا تم پھنسانے میں کامیاب ہو گئی ہو تو کم از کم اس کی خیر خبر ہی لے لیا کرو یہ نہ ہو کہ تمہاری بے خبری میں کوئی حسینہ اسے لے اڑے اور تم منہ دیکھتی رہ جاؤ.
حنین نے نرمین کی آواز سنتے ہی اسے تنگ کرنے کے لیا کہا
کیا مطلب..؟؟
حنین کی تقریر نرمین کے سر کے اوپر سے گزر گئی
مطلب یہ نرمین بی بی اگر میں فون یا میسج نہ کروں تو تم ہی کبھی کر کہ پوچھ لیا کرو حد ہے بےمروتی کی کتنے دن ہو گئے ہیں نہ فون نہ میسج..؟؟؟
حنین نے گلہ کیا
وہ میں اسائیمنٹ بنانے میں مصروف تھی مجھے یاد ہی نہیں رہا ویسے بھی اتنے دن تو نہیں ہوئے زریاب کی شادی سے پہلے بات ہوئی تھی ہماری…
نرمین نے ہمیشہ کی طرح نرمی سے جواب دیا
“جی چاہتا ہے عشق کو رد کر دیں
تمہیں بھول جائیں۔۔۔۔۔۔
یعنی حد کر دیں۔۔۔۔۔۔”
حنین نے غصہ سے کہا
کیا ہے اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو..؟؟؟
نرمین نے حنین کو غصہ میں آتا دیکھ کر پوچھا
اگر تم میرے سے اسی طرح لا پرواہ رہی تو تم مجھے بہت جلدی کھو دو گی پتہ ہے دبیر دو شادیاں کر رہا ہے اور اگر اس نے ایسا کیا تو میں بھی ایسا ہی کروں گا…
حنین نے مزے لیتے ہوئے کہا
کیا دو شادیاں…؟؟؟
نرمین نے بےیقینی سے پوچھا
جی جناب دو شادیاں، مگر تمہیں کیا تم اپنی اسائیمنٹ بناؤ….؟؟؟
حنین نے مزے لیتے ہوئے کہا
ھنین تم میرے ساتھ ایسا کرو گے..؟؟؟
نرمین نے معصومیت سے پوچھا
“کنارہ کرنے والوں سے__کنارہ ہو بھی سکتا ہے
مجازی عشق ہے صاحب دوبارہ ہو بھی سکتا ہے”
ظاہری سی بات ہے اگر تم مجھے اگنور کرو گی تو میں ایسا ہی کروں گا میری موم ہیں ہی اتنی پیاری کے ڈیڈ ان کے آگے پیچھے پھرتے ہیں مگر موم کو دیکھو وہ بھی ملک صاحب کو اکیلا نہیں چھوڑتیں کہ کہیں کوئی اور عورت انھیں پٹا نہ لے ھالانکہ مجھے یقین ہیں ملک صاحب کو جوانی میں بھی کوئی لڑکی لفٹ نہیں کراتی ہو گئی..
حنین نے کہتے ہوئے قہقے لگائے
شرم کرو تمہارے ماں باپ ہیں
نرمین نے کہا
اچھا میں شرم کروں مگر تم نہ شرم کرنا نرمین اگر تم میری موم جیسی بیوی نہ بنی تو یاد رکھنا میں دوسری شادی کر لوں گا…
حنین نے نرمین کو چڑانے کے لیے دھمکی لگائی جس کا بھر پور اثر ہوا
حنین تم مجھے تنگ کر رہے ہو
نرمین نے پوچھا
نہیں میں سچ کہہ رہا ہوں اب تم زریاب کی بیوی جتنی خوبصورف تو ہو نہیں کہ میں تمہارے پیچھے زریاب کی طرح پاگل ہو جاؤں…؟؟
حنین نے نرمین پر ایک اور چوٹ کی…
زریاب کی بیوی بہت خوبصورت ہے کیا..؟؟؟
نرمین نے تجسس سے پوچھا
ایسی ویسی مت پوچھو یارررر……
حنین نے بھر پور چسکے لیتے ہوئے کہا
حنین تم بہت برے ہو مجھے اپنی شکل مت دکھانا…؟؟
نرمین نے غصہ سے جواب دیا
سوچ لو تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ تم نکاح سے انکار کر رہی ہو…؟؟؟؟
یہ میں نے کب کہا
نرمین کو حنین کی بات پر مزید غصہ آیا
ظاہری سی بات ہے شکل مت دکھانے کا تو یہی مطلب بنتا ہے کہ میں اتوار والے دن نہ آؤں…؟؟
حنین نے مزید نرمین کو تنگ کیا
حنین…نرمین نے صرف اتنا ہی کہا
بتاؤ پھر نہ آؤں اتوار والے دن …؟؟
حنین نے اپنا سوال دہرایا
جبکہ نرمین نے غصہ سے فون بند کر دیا
پڑھاکو اب اسائیمنٹ بنا کر دیکھاؤ…؟؟؟؟
حنین فون کو دیکھتا ہنسنا لگا
…………..
…………………….
ماہ نور صرفے پر بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی جبکہ زریاب اسے مسلسل دو گھنٹے سے بیڈ پر ٹیک لگائے دیکھ رہا تھا بلآخر تنگ آ کر بولا
ماہ نور بس کردو یاررر میرے سے بھی کچھ دیر باتیں کر لو میں بور ہو رہا ہوں.
زریاب میں نے تم سے کہا ہے کہ اگر تمہیں کوئی بھی چیز چاہیے ہو، دوائی لینی ہو تو مجھے بلایا کرو ورنہ مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں.
ماہ نور نے ناراضگی سے صرف ایک نظر زریاب پر ڈالتے ہوئے کہا
ماہ نور تم ظالم ہو بہت ظالم….
زریاب نے آہ بھرتے ہوئے کہا
ظالم میں نہیں تم ہو اور اب سے نہیں شروع سے ….
ماہ نور کو اچانک غصہ آ گیا
وہ کیسے..؟؟؟
زریاب نے ماہ نور کو بولنے پر اکسایا
وہ ایسے کہ تم شروع سے میرا حق مارتے آئے ہو میں اس وقت ماضی یاد نہیں کرنا چاہتی پلیززز مجھے ڈسٹرب نہیں کرو
ماہ نور نے اداس ہوتے ہوئے کہا
اور جو تم مجھے ڈسٹرب کر رہی ہو وہ…؟؟؟
زریاب نے ذومعنی انداز میں کہا
اچھا پھر کیا کروں…؟؟؟
ماہ نور نے بک بند کرتے ہوئے پوچھا
تم اگر مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی تو نہ سہی کم از کم میرے پاس آ کر تو بیٹھ سکتی ہو….
زریاب نے بیچارگی سے کہا
زریاب کی بات سنتے ہی ماہ نور اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی
اب ٹھیک ہے میں کتاب پڑھ لوں.
زریاب نے ہاں میں سر ہلایا اور ماہ نور کی گود میں اپنا سر رکھ دیا.
زریاب…..جبکہ ماہ نور اسے ایسا کرتا دیکھ کر چیخ اٹھی
شششششششش چپ اب تم اپنی کتاب پڑھو اور مجھے سونے دو
یہ کہہ کر زریاب نے آنکھیں بند کر لیں جبکہ ماہ نور نے غصہ سے کتاب بھی بند کر دی
تم مجھے تنگ کر رہے ہو …؟؟؟
ماہ نور نے غصہ سے زریاب کے بال کھینچے
اگر تمہارا دل میرے بال سہلانے کو کر رہا ہے تو میں تمہیں منع نہیں کروں گا…؟؟ مگر پلیزززز مجھے تنگ نہ کرو اور سونے دو
زریاب نے کہتے ہی اپنے بازو ماہ نور کے گرد پھیلائے اور خود اوندھے منہ اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا.
……………..
نرمین نے حنین کی کال بند کرنے کے بعد فوراً دبیر کو کال کی
سلام کرنے کے بعدغصہ سے بولی
دبیر مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی..؟؟؟
کس چیز کی امید..؟؟؟
دبیر نے نارمل انداز میں جواب دیا
یہی کہ تم دو شادیاں کرو گے..؟؟؟
نرمین نے معصومیت سے پوچھا
یہ بکواس تم سے حنین نے کی ہو گی…..؟؟؟
دبیر نے ہنستے ہوئے پوچھا
ہاں اور وہ کہتا ہے اگر تم نے دوشادیاں کی تو وہ بھی دو شادیاں کرے گا..؟؟؟
نرمین نے اسے اپنی پریشانی سے آگاہ کیا
نرمین کیا ہو گیا ہے تم ابھی تک اسے نہیں سمجھی یار صرف تمہیں تنگ کر رہا ہے اور بس….
دبیر نے تسلی دیتے ہوئے کہا
تم دو شادیاں کرو گے..؟؟
نرمین کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی
نہیں بابا میں دو شادیاں نہیں کروں گا صرف اور صرف تمہارے لیے اب خوش……
دبیر نے پھر سے نرمین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی
اچھا ٹھیک ہے شکریہ تمہارا…
نرمین نے کہتے ہوئے کال بند کی اور زریاب کا نمبر ڈائل کیا
ہیلو زریاب کیسے ہو…؟؟؟
کال اٹینڈ ہوتے ہی نرمین نے نرمی سے پوچھا
ٹھیک ہوں تم سناؤ کیس ہو..؟؟؟
زریاب نے نرمین سے پوچھا
وہ میں تمہارے فلیٹ پر آ سکتی ہوں..؟؟؟
نرمین نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
ہاں کیوں نہیں جب مرضی آؤ…..ویسے خیریت تم تو پہلےکبھی میرے فلیٹ پر نہیں آئی پھر اب کوئی خاص وجہ..؟؟؟
زریاب کو نرمین کے یوں اچانک آنے پر حیرت ہوئی
وہ اصل میں حنین نے تمہاری بیوی کی بہت تعریف کی ہے تو میں نے اسے دیکھنا ہے بہت پیاری ہے وہ…؟؟؟؟
نرمین نے زریاب سے پوچھا
جبکہ زریاب، حنین کی شرارت سمجھ کر ہنسنے لگا
نرمین وہ تم سے زیادہ پیاری نہیں ہے تم تسلی رکھو.
زریاب نے نرمین کو ہنستے ہوئے جواب دیا
حنین تیرا کوئی حال نہیں تو اس لڑکی کو پاگل کر کے چھوڑے گا.