Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Pt.2

بابا آپ…..دبیر کے منہ سے نکلنے والے ان الفاظ نے جہاں بخاری صاحب کو اپنی جگہ پر منجمد کیا وہاں کونین اور کچن کے دروازے میں کھڑی ثریا بیگم اور ہالہ بھی حیران پریشان ہو گئیں.

دبیر آس پاس دیکھے بغیر تیزی سے بڑھتا ہوا بخاری صاحب کے گلے لگ گیا.

بابا آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے..؟؟ کہاں کہاں میں نے آپ کو تلاش نہیں کیا….؟؟؟ جلیں گھر چلتے ہیں. میں آپ کے بغیر بہت اکیلا ہو گیا تھا بہت مس کرتا ہوں میں ابھی تک آپ کو….

دبیر ایک چھوٹے معصوم بچے کی طرح بخاری صاحب کے سینے سے لگا گلے شکوے کر رہا تھا جبکہ بخاری صاحب کی آنکھوں سے اشک رواں تھے اور کونین،ہالہ اور ثریا بیگم خاموش سامع کا کردار ادا کر رہے تھے.

چلو آؤ اندر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں. پھر بخاری صاحب نے اپنی فیملی سے دبیر کو ملوایا اور دونوں کمرے کی طرف بڑھ گئے.

ہالہ بی یہ سب کیا ہے…؟؟؟

ثریا بیگم اور ہالہ کھانا بنانے میں مصروف تھیں جب کونین نے ٹرے سے کباب اٹھاتے ہوئے پوچھا

مجھے کیا پتہ..؟؟؟ مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ کیا ہو رہا ہے..؟؟؟ مگر تم نے نوٹ کیا ابا کتنے خوش ہیں..؟؟؟

ہالہ نے کونین کو مزید کباب اٹھانے سے روکتے ہوئے کہا

ہاں یہ تو ہے ویسے یہ امیر زادہ ہمارے گھر کھانا کھا لے گا..؟؟؟

کونین نے کبابوں کو دیکھتے ہوئے ہالہ سے پوچھا

ابا کا آڈر ہے کہ اچھا سا کھانا تیار کرو اب وہ کھاتا ہے یا نہیں مجھے نہیں پتہ..؟؟ مجھے صرف یہ پتہ ہے بچا کھانا ضائع نہیں ہو گا.

ہالہ نے ہنستے ہوئے کونین کو دیکھا

کھانے کی میز پر صرف دبیر اور بخاری صاحب باتیں کر رہے تھے جبکہ ہالہ ، کونین اور ثریا بیگم بلکل خاموش تھے جیسے میز پر موجود ہی نہ ہوں. دبیر نے کھانا پیٹ بھر کر کھایا اور کھانے کی تعریف بھی کی……

اچھا بابا اب میں چلتا ہوں اور شام میں اماں بی کو لے کر آؤں گا..؟؟؟

دبیر نے بخاری صاحب کے گلے لگتے ہوئے کہا

نہیں تم جانتے ہو کہ میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا……ہاں البتہ تم آتے جاتے رہنا…..

بخاری صاحب نے دبیر کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا

بابا پلیززز اماں بی کو معاف کر دیں وہ آپ کو بہت یاد کرتیں ہیں بس منہ سے نہیں کہتی آپ کے جانے کے بعد وہ بہت چپ چپ ہو گئیں ہیں بس مجھے نہیں معلوم آپ اپنا سامان پیک کریں اور اپنے گھر چلیں……

دو دن کا ٹائم دے کر جا رہا ہوں بس…..

دبیر نے انگلی اٹھاتے ہوئے پیار سے بخاری صاحب کو وارنگ دی.

تم ابھی بھی بچپن کی طرح ضد کرتے ہو…

بخاری صاحب نے دبیر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

دبیر جانے لگا تو کونین دروازہ بند کرنے کی نیت سے پیچھے چل پڑا ….

دبیر نے باہر نکلتے ہوئے پلٹ کر کونین کو دیکھا اور کہا

میں تمہارا بڑا بھائی ہوں اور کونین کو گلے لگا لیا….

گرمجوشی سے ملنے کے بعد دبیر نے کونین کے کندھے پر ہاتھ سے تھپکی دی اور کہا

اپنی پیکنگ کر لو میں تم لوگ کو دو دن میں یہاں سے لے جاؤں گا…

اور مسکراتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا

دبیر کے جاتے ہی ہالہ اور کونین یہ سب کچھ جاننے کے لیے بخاری صاحب پاس آکر بیٹھ گئےبخاری صاحب کے سامنے ہالہ اور کونین بیٹھے ہوئے تھے بخاری صاحب نے اپنے دونوں بچوں پر ایک نظر ماری اور بتانا شروع کیا……

“سید سبطین الحسن بخاری کا ماضی”

عالیہ اور سبطین دو ہی بچے تھے شاہ صاحب کے…

عالیہ پورے سات سال بڑی تھی سبطین سے،جس کی وجہ سے عالیہ کا پوری حویلی پر حکم چلتا تھا سات سال اس نے اکلوتے بن کر گزارے تھے بےشمار دولت اور نازونخروں نے عالیہ کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا وہ ایک ضدی لڑکی تھی کوئی اس کی بات نہیں مانتا تو وہ ہنگامہ برپا کر دیتی تھی.

شاہ صاحب کی منظورِ نظر تھی. سبطین حالانکہ اکلوتا بیٹا تھا مگر جو مقام خاندان میں عالیہ کوحاصل تھا وہ س کو نہیں تھا.

قسمت قدم قدم پر عالیہ کا ساتھ دے رہی تھی. ایک امیر کبیر سید خاندان کے اکلوتے لڑکا کا رشتہ عالیہ کے لیے آیا جسے عالیہ کی مرضی سے قبول کر لیا گیا.

خاوند “سید عابد حسین شاہ” نے بھی عالیہ کو مکمل آزادی دی جس سے وہ مزید شیر ہو گی چھوٹے بڑے کا لحاظ سب ختم ہو گیا.

وہ اپنے اعلٰی خاندان، مال و دولت اور حسب نسب پر فخر کرتیں تھیں اور عام لوگوں کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ شادی کے پہلے سال ہی عالیہ کے گھر لڑکے نے جنم لیا یعنی” سید دبیر حسین شاہ “پیدا ہوا. بیٹے کی ماں بنتے ہی عالیہ بیگم مزید غرور کو شکار ہو گئیں.

سبطین کی طبیعت بلکل عالیہ کے برعکس تھی وہ چھوٹے لوگوں سے بھی اسی طرح ملتا تھا جس طرح اپنے برابر کے لوگوں سے…..اس کے دل میں غرور اور تکبر نام کی چیز نہیں تھی اور یہ بات عالیہ بیگم کو سخت نا پسند تھی وہ کئی بار سبطین کو سمجھا بھی چکیں تھی کہ دوستی اپنے برابر کے لوگوں سے کرتے ہیں….

سبطین ہاں میں سر ہلا دیتا مگر اپنے غریب دوستوں سے یاری نہ چھوڑتا….

جب دبیر تین سال کا ہوا تو سید عابد حسین شاہ کو کینیڈا پانچ سال کے لیے جانا پڑا جس کی وجہ سے عالیہ بیگم حویلی واپس آگئیں دبیر اب سبطین کی آنکھوں کا تارا تھا نانا نانی بھی صدقے واری جاتے….

دبیر کا شمار ان چند خوش قسمت بچوں میں ہوتا تھا جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر اس دنیا میں آتے ہیں.جو بات وہ منہ سے نکالتا وہ فوراً پوری ہو جاتی…..

دبیر ہر وقت سبطین کے ساتھ رہتا کبھی وہ سبطین سے گھوڑا بننے کی خواہش کر کے گھنٹوں لان میں گھومتا، کبھی فٹ بال کھیلتا اور کبھی پریوں کی کہانیاں سنتا ویسے بھی عالیہ بیگم اپنا دوسرا بچہ ایکسپٹ کر رہیں تھی تو دبیر نانا نانی اور ماموں ساتھ ہی ہوتا اس نے جب دوسرے بچوں کو بابا کہتے سنا تو سبطین کو بھی بابا بولنے لگا کسی کو بھی اس بات پر اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے باپ کو ابا کہتا تھا اور ماں کو اماں …….

سبطین بھی ننھے منے بچے کہ منہ سے اپنے لیے بابا کا لفظ سن کر خوش ہوتا …..

وقت خوش خوش گزر رہا تھا کہ ایک دن اچانک سبطین کی زندگی میں ایک واقعہ نے طوفان برپا کر دیا….

ہوا کچھ یوں کہ سبطین کو اپنی یونی کی ایک لڑکی پسند آ گئی سبطین اس لڑکی سے آہستہ آہستہ قریب ہوتا چلا گیا اور پسندیدگی کب محبت میں تبدیل ہو گئی پتہ نہیں چلا…..

لیکن جب سبطین نے گھر میں ذکر کیا تو سب سے پہلے عالیہ بیگم نے اعتراض کیا کہ میں ایک معمولی گھرانے کی لڑکی کو اپنی بھابی نہیں بناؤں گی…؟؟؟

صرف یہی نہیں بلکہ عالیہ بیگم نے اس لڑکی کےگھر جا کر اُن لوگوں کی خوب بےعزتی کی. جب اس لڑکی کی ماں نے کہا کہ کیا ہو گیا ہے اگر یہ پسند کرتے ہیں تو کر لینے دو ان کو شادی…. اس پر عالیہ بیگم نے اس کی ماں سے کہا

“اگر میری بیٹی ایسا کرتی تو میں اسے اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تمہاری طرح اس کی حمایت نہ کرتی.”

سبطین نے ماں باپ سے بات کی تو انھوں نے بھی عالیہ بیگم کی ہی حمایت کرتے ہوئے کہا

وہ اس گھر کی بڑی ہے تم ہمارے اکلوتے بیٹے ہو ہم کسی ایسے ویسے خاندان کی لڑکی نہیں لا سکتے عالیہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے….

جس پر سبطین کو بہت دکھ ہوا لڑکی والوں نے بھی سبطین کو منع کیا کہہ آئندہ ہماری بیٹی سے کوئی رابطہ نہ رکھنا اور اپنی بچی کا کہیں اور رشتہ طے کر دیا.

سبطین نے غصے میں آکر گھر چھوڑ دیا. اور اپنے ایک دوست کے گھر رہنے لگا وہ لوگ بیچارہ عام سے تھےسبطین کو بھی زندگی میں تنہائی ستا رہی تھی مگر ایسے میں اسے کون رشتہ دیتا جبکہ سبطین کی پڑھائی بھی مکمل نہیں ہوئی تھی.

ثریا بیگم سبطین کے دوست کی بہن تھی معمولی شکل و صورت کی مالک مگر اعلٰی اخلاق و کردار تھا سبطین نے ثریا بیگم سے شادی کی خواہش ظاہر کی جسے ان لوگوں نے خوشی خوشی منظور کر لیا.

ثریا بیگم نے قدم قدم پر سبطین صاحب کا بھر پور ساتھ دیا اپنے زیور بیچ کر ان کی تعلیم مکمل کروائی….

پھر آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوتے گئے سبطین کو ایک گورنمنٹ جاب مل گئی انھوں نے تین مرلے کا مکان ایک متوسط طبقے میں خریدا….

اللہ نے انھیں پہلے ایک بیٹی “سیدہ رائحہ بخاری” اور پھر ایک بیٹا “سید کونین بخاری” دیا.

بخاری صاحب اپنی کہانی سنانے کے دوران مسلسل رو رہے تھے رائحہ نے اٹھ کر باپ کی گود میں سر رکھ لیا جبکہ کونین بازو ساتھ لگ گیا.

……………………

دبیر جب زریاب کے فلیٹ پر پہنچا تو نرمین اور حنین کو دیکھ کر پہلے حیران ہوا پھر مسکراتے ہوئے حنین کو گلے لگا لیا.

خیر ہے یہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے…؟؟؟

حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر زریاب سے پوچھا

یار میں آج بہت خوش ہوں تمہیں پتہ ہے رائحہ ہی ہالہ ہے کونین کی بہن……میں ابھی ان لوگوں سے مل کر آ رہا ہوں.

دبیر نے اپنے طور پر دونوں کو سرپرائز دیا مگر وہ دونوں دبیر کی بات سن کر بلکل بھی نہیں چونکے جس پر دبیر کو کافی حیرت ہوئی…؟؟؟

جی ہمیں یہ بات معلوم ہے اور اب سے نہیں کافی دیر پہلے سے….

زریاب نے حنین کی طرف دیکھ کر جواب دیا

تجھے یہ بات کس نے بتائی اور کب…..؟؟؟

وہ دونوں تو حیران نہیں ہوئے البتہ دبیر ضرور حیران ہو گیا

جب میں styloo کو اس کے گھر پہلی بار چھوڑنے گیا تھا تب مجھے معلوم ہوا تھا کہ رائحہ کو گھر والے پیار سے ہالہ بلاتے ہیں اور کونین اس کا چھوٹا بھائی ہے…

حنین نے تفصیل بتائی جس پر دبیر منہ کھولے دونوں کو دیکھنے لگا…

اچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہالہ اور کونین میرے ماموں کے بچے ہیں…؟؟؟

دبیر کے منہ سے جیسے ہی یہ الفاظ نکلے دونوں نے گھوم کر دبیر کو دیکھا

پھر دبیر نے تمام تفصیل دونوں کو بتائی.

واہ جی کمال ہو گیا میں تو کہتا ہوں مٹھائی کا ڈبہ منگوا لو….

حنین نے ہنستے ہوئے دبیر سے کہا اتنی دیر میں ماہ نور اور نرمین چائے کے ساتھ ریفریشمنٹ لے آئیں…..

نرمین ادھر آؤ چلو تم تینوں لائن میں لگو مجھے تم تینوں سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے…

حنین نے نرمین کو زریاب اور دبیر کے درمیان صوفے پر بیٹھاتے ہوئے کہا جبکہ ماہ نور جانے لگی

ماہ نور تم ادھر بیٹھ جاؤ…

زریاب نے ماہ نور کو دیکھ کر اپنے قریب پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا.

چلو جی اب شروع ہو جاؤ…..

زریاب نے حنین کو کہا

اوئے تمیز سے بات کر میں کوئی مشین ہوں جو شروع ہو جاؤں.

حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر جواب دیا

اچھا جی شادی شدہ تو میں بھی ہوں نرمین بھی ہے مگر تُو ہم دونوں سے کب تمیز سے بات کرتا ہے…؟؟؟

زریاب نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا

یار بس کرو مجھے گھر جانا ہے جو بھی بات ہے جلدی بتا دو…

دبیر نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

ابھی سے یہ حرکتیں اچھی نہیں اپنی حرکتیں درست کر لے میں تجھے بتا رہا ہوں ورنہ ساری زندگی میرے آگے روئے گا….

حنین نے کن اکھیوں سے زریاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دبیر سے کہا جس پت دبیر نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو خم دیا مطلب وہ اب مزید حنین سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا

سب سے پہلے تم تینوں سیدھے ہو کر بیٹھو…

حنین نے تینوں کو دیکھتے ہوئے کہا جو کافی ریلیکس بیٹھے تھے.

لڑکیوں اور حضرات جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے میں یعنی “حنین ملک” اس سال MBA کے پیپرز آپ لوگوں کے بھر پور اصرار پر دے رہا ہوں تو اب مجھے آپ سے بھی تعاون کی امید ہے….(پھر تینوں پر مسکراتی ہوئی ایک نظر ڈالی)

یعنی تم دونوں(زریاب اور دبیر کی طرف انگلی سے اشارہ کیا) میرے پیپرز دو گے اور نرمین ملک جوکہ میرے خفیہ ذرائع کے مطابق وہاں نگران ہو گی ہمیں چٹنگ کرائے گی اس طرح میں تم تینوں کے بھر پور تعاون سے MBA فسٹ گریڈ میں کروں گا. اور آپ سب کو میری مدد کرنے کے نتیجہ میں میرا ولیمہ کھانے کو ملے گا…..

اپنی بات کہ اختتام پر حنین نے ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے جھک کر تینوں کو آنکھ ماری جوکہ اس کی باتوں سے پھٹی پھٹی نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے.

میں تمہیں چٹنگ نہیں کراؤں گی..؟؟

سب سے پہلے نرمین بول پڑی

چپ نافرمان بیوی مت بنو تمہیں آج ہی میں نے کتنا سمجھایا ہے سمجھ نہیں آتی اچھی بیویاں خاوند کو نہ نہیں کہتیں…..

حنین کے اس لیکچر پر دبیر اور زریاب نیچے منہ کر کے ہنسنے لگے جبکہ نرمین نے اپنا سر پکڑ لیا.

نرمین تم بہت برا پھنسی ہو مجھے تم سے پوری ہمدردی ہے…..

زریاب نے نرمین کے کان میں سرگوشی کی.

خبردار کو میری بیوی کے کان کسی نے میرے خلاف بھرے یہ شیطان کا کام ہے…

حنین نے زریاب پر چوٹ کی. دبیر نے جلدی سے مداخلت کی ورنہ یہ دونوں پھر شروع ہو جاتے.

یار مگر ہم یونی جائیں گے کیسے…؟؟؟

دبیر نے سوچتے ہوئے پوچھا

سٹوڈنٹ بن کر…ایک دفعہ پھر سٹوڈنٹ لائف انجوائے کرتے ہیں. پھر حنین نے اپنا ہاتھ زریاب اور دبیر کے آگے پھیلاتے ہوئے یونی کے زمانے کا ڈائیلاگ بولا جس میں زریاب اور دبیر نے اس کا ساتھ دیا جبکہ نرمین نے کانوں میں انگلیاں لے لیں اور ماہ نور حیرت سے زریاب کو دیکھنے لگی.

“وہ بھی کیا دن تھے جب ہم جن تھے اب ہم دیو ہیں اُن کے بھی پیو ہیں”

تینوں کے قہقے فلیٹ میں گونجے