Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 19 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19 Pt.2
زریاب لان سے سیدھا لاؤنچ میں پہنچا سردار دلاور کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا.کچھ دیر مشورہ کرنے کے بعد سردار حشمت علی اس نتیجہ پر پہنچے کہ پہلا نکاح ہو گا پھر چوہدریوں سے ملاقات……
سردار حشمت، سردار دلاور ،افراسیاب اور زریاب اس وقت مہمان خانے میں موجود تھے.جبکہ دوسری طرف سے چوہدری محمد علی کے ساتھ تین لوگ اور بھی موجود تھے جب کافی دیر کسی نے کچھ نہ کہا تو بلآخر چوہدری محمد علی نے اپنا گلہ صاف کیا اور بات کا آغاز شروع کیا.
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہماری جو زمین ماہ نور کے نام ہے وہ ہمیں واپس کر دی جائے اور ساتھ ہی کچھ پیپرز سردار حشمت کے سامنے رکھے ماہ نور کے سائن ان پیپرز پر لے دیں آپ نے جرگہ کی شرائط توڑیں ہیں اس لیے اب ہم میں سے کوئی بھی جرگہ کا پابند نہیں رہا.مگر میں پھر بھی کوشش کروں گا کہ ہماری طرف سے کسی قسم کی گڑ بڑ کا آغاز نہ ہو مگر اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے پہل کی تو پھر مجھ سے گلہ مت کرنا ہم نے چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں.
سردار حشمت نے وہ کاغذ سردار دلاور کے حوالے کیے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ماہ نور ان کے علاوہ کسی کے بھی کہنے پر سائن نہیں کرے گی.
کچھ دیر بعد سردار دلاور علی خان پیپرز پر ماہ نور کے سائن کرا لائے.چوہدری محمد علی کو پیپرز دیتے ہوئے سردار دلاور نے کہا
چوہدری صاحب ہم آپ سے بہت شرمندہ ہیں لیکن امید کرتے ہیں کہ آپ جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں گے اس میں ہم دونوں خاندانوں کی عافیت ہے.
جب کہ چوہدری محمد علی نے ایک نظر بیٹھے ہوئے زریاب پر ڈالی اور بغیر کچھ کہے باہر کی طرف بڑھ گئے
…………………..
یار پانج بج رہے ہیں کیا ارادہ ہے تیرا…؟؟؟ اگر تو نے نہیں جانا تو مجھے بتا دے کیونکہ میں اب نکلنا چاہتا ہوں.حنین نے زریاب سے کہا
زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایک ساتھ آئیں ہیں اور ایک ساتھ ہی واپس جائیں گے. لیکن زرا صبر کر تایا سائیں کو اپنے کمرے میں جانے دے پھر ہم دونوں خاموشی سے پچھلے دروازے سے نکل جائیں گے. تب تک چل کر تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں.
زریاب نے حنین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا پھر دونوں زریاب کے بیڈ روم میں آ گئے جسے دیکھ کر حنین نے کہا
یار تیرا کمرہ زبردست ہے جیسے کسی شہزادے کا ہو میں سوچ رہا ہوں اگر یہ لوگ تجھے شہر میں نوکروں کی طرح کام کرتا دیکھ لیں تو یقیناً بیہوش ہو جائیں.اور خود بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا
زریاب بھی حنین کے ساتھ ہی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں. آنکھیں بند کرتے ہی ماہ نور کا چہرہ سامنے آ گیا عجیب خوشی تھی جو بیان سے باہر تھی عجیب احساس تھا جسے صرف محسوس کیا جا سکتا تھا
“وہ میری ہے آج سے صرف میری”
اگر دیکھ پاتے تم میری چاھت کی انتہا…………
تو” هم تم ” سے نہیں ” تم هم ” سے محبت کرتے .
زریاب کے ہونٹ اس خیال سے خودبخود مسکرائے مگر اگلے ہی پل آج کا تھپڑ یاد آگیا تو وہ پریشان ہو گیا.
یہ میں نے لیا کیا ..؟؟؟
کیوں مارا اسے..؟؟
اب میں اس کا سامنا کیسے کروں گا..؟؟
زریاب کی سوچ کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے کےتاثرات بھی بدل رہے تھے جسے حنین بہت غور سے دیکھ رہا تھا.وہ اس کی حالت سے واقف تھا ایسا کیا کروں کہ یہ خوش ہو جائے اس کی خوشی “سیلیبریٹ”کرتے ہیں یہ ٹھیک آئیڈیا ہے. پھر اس نے دبیر کو زریاب کے نکاح کی ساری کاروائی مختصراً لکھ کر سینڈ کر دی.تھوڑی دیر بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ دبیر نے سارا میسج پڑھ لیا ہو گا تو حنین نے دبیر کو ویڈیو کال کی جسے فوراً دبیر نے اٹینڈ کیا.
یار تو نکاح نہ کریں اس کے بعد بندے کی یہ حالت ہوتی ہے
جیسے ہی حنین نے یہ جملہ کہا زریاب نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا جہاں سکرین پر دبیر کا چہرہ مسکرا رہا تھا
مبارک ہو یار بہت بہت…
میں ٹریٹ لوں گا وہ بھی اپنی پسند سے…
دبیر نے زریاب کو خوشی سے مبارک دی.
ٹھیک ہے بندہ حاضر ہے جہاں تو کہے گا وہیں تجھے ٹریٹ دوں گا مگر ایک شرط پر وہ یہ ہے کہ تو مجھے نکاح کی خوشی میں حنین جیسا موبائل لے کر دے گا
زریاب کا موڈ ایکدم فریش ہو گیا تھا
کیوں جی میرے جیسا کیوں…؟؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پاس بیٹھے زریاب کو دیکھا
اس لیے کہ میرا نکاح ہوا ہے اور تم دونوں مجھے گفٹ دو گے وہ بھی میری پسند کے…..
دبیر نے دونوں کی لڑائی ختم کرنے کے لیے مداخلت کی زریاب تیرا موبائل پکا اور حنین میں نے تجھے پہلے ہی لے دیا ہے اب”پھڈا” نہیں.
ٹھیک ہے پر تو مجھے ایک اور موبائل لے کر دے گا کیونکہ میں چاہتا ہوں جیسا میرا موبائل ہو ویسا ہی نرمین پاس بھی ہو. اوراب جلد ہی میرا اور اس کا نکاح ہونے والا ہے کیونکہ وہ تم دونوں کی کلاس فیلو بھی ہے تو اس لیے تم اسے گفٹ لے کر دو گے مگر میری پسند کے ….
سمجھ لگی حنین نے آخر میں دونوں کو باری باری دیکھا
ہم نرمین کو اُس کی پسند کا گفٹ لے کر دیں گے تجھے اپنی ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہے
زریاب نے دبیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس کا مقصد تھا کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں
ہاں بلکل زریاب ٹھیک کہہ رہا ہے دبیر نے مسکرا کر کہا اور پھر دونوں کو دیکھنے لگا وہ انھیں باتوں کو صبح سے مس کر رہا تھا
یہ چیٹنگ ہے میں نہیں مانتا وہ بےوقوف ہے مجھے پتہ ہے کہ اس نے کیا کہنا ہے
حنین نے منہ بناتے ہوئے کہا
کیا کہے گی…؟؟؟
زریاب اور دبیر نے ایک ساتھ پوچھا
حنین نے نرمین کی نقل اتارتے ہوئے کہا
“مجھے فلاح کتاب لے دو.”
اور اب تینوں قہقے مار مار کر ہنس رہے تھے.
پتہ یہ دنیا کی واحد لڑکی ہو گی جو جہیز میں ردی(کتابیں) لے کر آئےگی.
حنین نے بیزاری سے کہا
ویسے بڑی شرم کی بات ہے ایسی محبت کرتا ہے تو نرمین سے…؟؟؟؟زریاب نے دکھ کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
نہیں جی مجھے کہاں محبت کرنا آتی ہے …؟؟؟
حنین نے معصومیت سے پہلے زریاب کو دیکھا پھر دبیر کو مخاطب کر کے بولا ….
محبت تو یہ دونوں میاں بیوی کرتے ہیں کیا مثالی محبت ہے..؟؟
بیوی بدعائیں دیتی نہیں تھکتی اور میاں نے نکاح والے دن شاندار “تھپڑ”گفٹ کیا.ماشاءاللہ سبحان اللہ اب وہ باقاعدہ لہک لہک کر کہہ رہا تھا.
جبکہ دبیر قہقہ لگا رہا تھا
زریاب نے حنین کی گردن دبوچ کر کہا تیری بکواس بند ہوتی ہے یا میں کروں..؟؟؟
وہ خود بھی ہنس رہا تھا
دبیر مجھے بچا اس طالم انسان سے…..
حنین نے دبیر سے مدد مانگی جو اسے فوراً مل گئی.
اچھا یہ بچپنا چھوڑو اور یہ بتاؤ کب تک نکل رہے ہو..؟؟
دبیر نے بات بدلی
ابھی نہیں آٹھ بجے تک نکلیں گے…..زریاب نے جواب دیا
اتنی لیٹ…؟؟ دبیر نے حیرانگی سے پوچھا
جی کیونکہ ابھی اُنھوں نے اپنی پیرنی کے دربار میں حاضری دینی ہے اور ان کے قدموں میں بیٹھ کر اپنی “پچاس”روپے والی پائل نظرانہ کے طور پر پیش کرنی ہے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگنی ہے اور بدعاؤں سے جھولی بھر کر لانی ہے….
حنین زریاب کی گرفت سے نکلتے ہی واپس اپنی ٹون میں آگیا تھا
اب تو تجھے نہیں چھوڑوں گا زریاب نے حنین کو دوبارہ پکڑ لیا.
پورے کمرے میں محبت،پیار اور دوستی کے قہقے گونج رہے تھے اس بات سے بےخبر کے آگے کیا ہونے والا ہے
…………….
سردار حشمت کے کمرے میں موت کی طرح سکوت چھایا ہوا تھا سردار دلاور ان کے سامنے کھڑے تھے.
دلاور آج کسی بھی صورت زریاب حویلی سے باہر نہ نکلے اس کے کمرے کے باہر بھی پہرہ بیٹھا دو.مجھے چوہدریوں کے ارادہ ٹھیک نہیں لگ رہے دیکھا تھا تم نے کس نظر سے وہ زریاب کو دیکھ رہے تھے.اگر زریاب کو کچھ بھی ہوا تو میں مر جاؤں گا میری جان ہے اس میں…..
اللہ نہ کرے بھائی صاحب ایسا کچھ نہیں ہو گا آپ آرام سے سو جائیں میں جاگ رہا ہوں.
سردار دلاور نے تسلی دی
صبح حالات کا جائزہ لے کر میں خود اسے شہر چھوڑ کر آؤں گا.
سردار حشمت نے کہا
جی بہتر جیسا آپ مناسب سمجھیں.
سردار دلاور کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے اور زریاب کے کمرے کی طرف بڑھ گئے
