Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 20 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20 Pt.2
زریاب کمرے میں داخل ہوا تو موڈ کچھ خراب تھا.جبکہ حنین موبائل کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
زریاب نے حنین کی طرف ابرو اچکا کر کہا
خیر ہے کیوں اتنا مسکرا رہا ہے..؟؟؟
یار styloo سے بات کر رہا تھا میں نے سوچا تُو اپنے گھر کا ہو گیا ہے تو دبیر کا بھی کچھ بندوبست کر دوں وہ خود تو کچھ کرے گا نہیں اور ہنسنے لگ گیا
آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے عرض ہے کہ (اپنے گھر کا) یہ جملہ لڑکیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے. زریاب نے بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر لیٹتے ہوئے کہا
جو تیری اور دبیر کی حرکتیں ہیں اس حساب سے تم لڑکیاں ہی ہو.صرف دیکھنے میں لڑکے ہو.اور پھر قہقے لگانے لگا
حنین نہ کر یار میرے سر میں آگے ہی درد ہو رہا ہے.زریاب نے کنپٹی ملتے ہوئے جوابدیا
جی وہ تو آپ نے آج خود اپنی ذاتی رضامندی سے لیا ہے باقاعدہ طور پر اگریمنٹ سائن کر کے….
حنین کا اشارہ نکاح کی طرف تھا.
بکواس ہو گی یا ابھی کچھ باقی ہے…؟؟؟
زریاب نے حنین کی طرف بغیر دیکھے کہا
جی ہو گئی ہے اب تو بتا جانا کب تک ہے؟؟؟
حنین نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کہا
حنین میرا جانا تو مشکل ہے بابا سائیں اور تایا سائیں ناراض ہو جائیں گے میں تو کہتا ہوں تو بھی میرے ساتھ رک جا صبح اکٹھے چلیں گے لیکن اگر تو نے آج لازمی جانا ہے تو میں تجھے بھیج دیتا ہوں ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ……
ٹھیک ہے پھر تو میرا بندوبست کر دے حنین نے زریاب سے کہا
چل پہلے کھانا کھاتے ہیں مجھے بہت زوروں کی بھوک لگی ہے.
زریاب نے کہا
کیا تجھے آج بھی بھوک لگی ہے ..؟؟ میں تو سمجھا تھا کہ خوشی کی وجہ سے تو کم از کم تین چار روز تک کھانا نہیں کھائے گا مگر …….
حنین کی آنکھوں میں شرارت تیر رہی تھی.
کیوں جی جن لوگوں کی شادی ہوتی ہے وہ بھوکے مرتے ہیں…
زریاب نے منہ چڑھاتے ہوئے جواب دیا
……………….
زریاب ماہ نور کے کمرے کے باہر کھڑا کافی دیر سے سوچ رہا تھا کہ اسے اندر جانا چاہیے یا نہیں..؟؟؟
دل کہہ رہا تھا کہ اندر جا اور اسے دیکھ،اس سے باتیں کر،وہ اب تیری ہے تیرا حق ہے اس پر…..
مگر دماغ منع کر رہا تھا کہ مت جا وہ پھر الٹا سیدھا بولے گی.
جب کافی دیر دل اور دماغ آپس میں لڑتے رہے تو زریاب نے تھک کر واپس جانے کا فیصلہ کیا.ابھی وہ پلٹنے ہی والا تھا کہ دروازہ خودبخود کھل گیا.ماہ نور کو اپنے سامنے دیکھتے ہی زریاب کے ہوش اڑنے لگے وہ رائل بلیو کلر کے ٹراؤزر اور پرنٹڈڈ شرٹ کے ساتھ سلیقہ سے دوپٹہ لیے ہوئے اپنی پوری آن بان ساتھ زریاب کے مقابل کھڑی تھی.
تم یہاں کیا کر رہے ہو..؟؟
ماہ نور نے اسے دروازے ساتھ کھڑا دیکھ کر پوچھا.
ماہ نور کے مخاطب کرنے پر زریاب نے سمبھلتے ہوئے جواب دیا
تم سے ملنے آیا تھا.مجھے بابا سائیں نے بھیجا ہے.
اچھا پھر اندر آ جاؤ..
یہ کہتے ساتھ ہی ماہ نور نے دورازہ کھول کر خود پیچھے ہوتے ہوئے زریاب کو راستہ دیا.
ماہ نور کے اس رویہ پر زریاب کو بہت حیرت ہوئی.مگر وہ چھپا گیا.
ماہ نور بیڈ کی سائیڈ پر جبکہ زریاب ہمیشہ کی طرح دروازے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.کمرے میں مکمل خاموشی کا راج تھا.مگر خلافِ معمول اس بار خاموشی کو ماہ نور کی آواز نے توڑا.
تمہیں کچھ کہنا ہے مجھ سے ..؟؟؟
ماہ نور کی آواز پر زریاب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا.وہ ماہ نور کے رویہ سے شاکڈ تھا.اسے کیا ہوا ہے ..؟؟؟ یہ اتنا عجیب behave کیوں کر رہی ہے..؟؟؟ لڑ بھی نہیں رہی.مجھے کوس بھی نہیں رہی. اور مسکرا بھی رہی ہے زریاب کے کانوں میں حنین کے الفاظ گونجے
“اگر لڑکی بغیر وجہ کے مسکرائے تو سمجھو کچھ گڑ بڑ ہے”
کیا گڑ بڑ ہو سکتی ہے.؟؟ ابھی زریاب یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک دفعہ پھر ماہ نور نے مخاطب کیا.
اگر تمہیں کچھ نہیں کہنا تو تم جا سکتے ہو کیونکہ زیادہ دیر میں تمہاری شکل برداشت نہین کر سکتی.ویسے چچا سائیں نے تمہیں ہمارے نکاح کی شرط تو بتا دی ہو گی..؟؟؟
شرط….؟؟؟ کیسی شرط…؟؟؟
میں کسی شرط کو نہین مانتا اور نہ ہی میں کوئی شرط پوری کروں گا سمجھی تم…..
مزاق بنایا ہوا ہے سب نے بابا سائیں کہتے میں معاہدہ پورا کروں گا تم کہتی میں شرط پوری کروں گا میں کچھ بھی نہیں کروں گا. اور کیوں کروں ..؟؟ وجہ..؟؟؟
زریاب نے غصہ سےالجھتے ہوئے جواب دیا.
میں نے چھ سال قربانی دی اب تمہاری باری ہے .سردار زریاب علی خان…..
ماہ نور نے جیسے ہی یہ کہا زریاب چلتا ہوا ماہ نور کے قریب آیا.زریاب کو قریب آتا دیکھ کر ماہ نور کھڑی ہو گئی اور حیرت سے زریاب کو دیکھنے لگی.
“کبھی کبھی کسی رشتے سے” احساس محرومی” آ س پاس بسنے والی رنگین دنیا کو بھی بے رنگ و بے کیف بنا دیتا ہے .،ہر رشتے کو پهلنے اور پھولنے کے لیے تمھارے وقت’ خلوص اور انسیت کی ضرورت ہوتی ہے…
اپنوں کو وقت اور توجہ دیں.تا کہ وقت سے پہلے کوئی رشتہ دم نہ توڑ دے .”
امید ہے تمہیں میں نے جو سمجھایا ہے وہ سمجھ آ گیا ہو گا.زریاب کہتے ساتھ مڑنے لگا جب ماہ نور کی آواز پر پلٹا
“زریاب رشتے اور دوستیاں استوار کرنے کے معاملے میں ھم اگر دوسروں کے ساتھ زبردستیاں کرنی چھوڑ دیں تو زندگی قدرے آسان ھو سکتی ھے.
ھم زندگی کے داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے نہیں بٹھا سکتے.
بس جو آئے اس کو خوش دلی سے خوش آمدید کہیں
اور جو جانا چاھے اسے الوداع کہہ کر رخصت کر دیں، یہی اعلی ظرفی ھے..
کیونکہ اگر یہ طے پا چکا ھے تو یہ ھو کر رھے گا.
ھماری زبردستی سوائے ھمیں تکلیف میں مبتلا کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی.”
ٹھیک کہا تم نے بلکل ٹھیک…..
اب جبکہ تم میرے نصیب میں لکھ دی گئی ہو تو تمہیں چاہیے کے تم چپ چاپ اس رشتے کو من و عن قبول کر لو اور اس رشتے کے تمام فرائض اچھے سے ادا کرو تاکہ میں بھی تمہیں بدلے میں خوشی خوشی تمہارے حقوق دے سکوں.
زریاب نے مسکراتے ہوئے ماہ نور کا ہاتھ پکڑا اور اس میں پائل کا جوڑا رکھ دیا.
دل کرے تو پہن لینا ورنہ پھینک دینا زیادہ غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے.
دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے اور خبردار جو دوبارہ مجھے اپنی منحوس شکل دیکھائی نفرت ہے مجھے تم سے….
ماہ نور اپنے پرانے لب و لہجہ میں واپس آ چکی تھی.
ہاں اب ٹھیک ہے ورنہ مجھے یہ گمان ہوتا کہ میں خواب دیکھ رہا تھا.
زریاب نے کہتے ہوئے ماہ نور کا ہاتھ چھوڑ دیا اور کمرے سے باہر نکلنے لگا مگر ایک بار پھر ماہ نور کی آواز نے اسے روکا
زریاب میں تمہیں کبھی معاف نہیں کر سکتی کبھی نہیں…
“انسان بے اختیار ہونے کے باوجود کسی کی خطا بھولتا نہیں معاف نہیں کرتا
جبکہ اللّه تعالیٰ اختیار رکھنے کے باوجود معاف فرما دیتا ھَذا مِن فَضْلِ رَبِّي”
زریاب نے بغیر مڑے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا.
زریاب کے جاتے ہی ماہ نور دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس کے کانوں میں زریاب کے الفاظ گونجنے لگے
…………….
زریاب، حنین ساتھ چلتا ہوا حویلی کے بیرونی دروازے پر آیا. جہاں حنین کے لیے گاڑی تیار تھی اور دو جیپیں بھی جس میں کچھ مسلح افراد بھی سوار تھے جنھیں دیکھ کر حنین نے شرارت سے زریاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا…..
یار ایسا لگتا ہے کہ میں1970 کے زمانے کا ہیرؤ ہوں اور ولن کے خلاف گواہی دینے عدالت جا رہا ہون کیونکہ ان فلموں میں سب سے مشکل کام گواہ کو عدالت تک پہنچانا ہوتا تھا.
حنین کبھی تو باز آ جایا کر تیری جگتوں سے لگتا ہے کہ تیرے آباؤ اجداد فیصل اباد سے تعلق رکھتے تھے .یہ جیپیں تیرے ساتھ جائیں گی تیری حفاظت کے لیے …….سمجھا……
زریاب نے پیار سے کہتے ہوئے حنین کو اپنے سینے سے لگایا.یار تیرا بہت بہت شکریہ میرا سگا بھائی بھی میرے لیے یہ سب نہیں کر سکتا تھا جو تو نے کیا.زریاب کافی جزباتی ہو رہا تھا.
اور حنین اس بات پر حیران تھا کہ اسے زریاب نے خود اپنے ساتھ لگایا جبکہ وہ اس حرکت پر سخت چڑتا تھا.زریاب کو ادادی سے روکنے کے لیے حنین کو شرارت سوجھی
تیرا نکاح ہوتے ہی بڑی گہری تبدیلی آئی تجھ میں…
حنین نے زریاب سے الگ ہوتے ہوئے کہا
نہین یار بس تیرا شکریہ ادا کرنا چاہ رہا تھا.زریاب نے جواب دیا
اچھا میں سمجھا تو پریکٹس کر رہا ہے.حنین نے آنکھ مارتے ہوئے زریاب سے ہاتھ ملایا
تو بہت کمینہ ہے پریکٹس میں نے تیرے ساتھ کرنی ہے.
زریاب جو ابھی ابھی بہت اداس ہو رہا تھا ایکدم حنین کے رویہ کی وجہ سے شرارتی ہو گیا.
ابھی سات بجے ہیں انشاءاللہ تو نو بجے تک اسلام آباد پہنچ جائے گا. زریاب نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
یہ بارات میرے ساتھ شہر تک جائے گی.حنین نے جیپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نہیں….. بس تجھے گاؤں سے باہر نکال کر واپس آ جائیں گی.زریاب نے حنین کے ساتھ گاڑی تک آتے ہوئے کہا
اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے فرنٹ ڈور حنین کے لیے کھولا زریاب کو یوں بیٹھتے دیکھ کر حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھمائیں.جیسے پوچھ رہا ہو یہ سب کیا ہے..؟؟؟
کچھ نہیں سوچا تجھے گاؤں سے باہر اپنی نگرانی میں چھوڑ آؤں.آخر تو میرا مہمان ہے…
زریاب نے مسکرا کر گاڑی سٹارٹ کی جبکہ ایک جیپ ان کی گاڑی سے پہلے اور دوسری ان کی گاڑی کے پیچھے نکلی…….
ابھی بمشکل پانچ منٹ کا سفر ہی طے پایا تھا کہ سڑک کے دونوں کناروں سے فائرنگ شروع ہوگئی زریاب نے تقریباً چیختے ہوئے حنین کو نیچے بیٹھنے کا کہا اس سے پہلے کے حنین کچھ سمجھتا ایک گولی سنسناتی ہوئی حنین کے آکر لگی درد کی تکلیف کی وجہ سے حنین نے انکھیں بند کر کے کھولیں اور پھر زریاب کی حالت دیکھ کر دوبارہ بند کرنا بھول گیا.
زریاب خون سے لت پت گاڑی کے سٹیرنگ پر گرا ہوا تھا اور یہ کہنا مشکل تھاکہ وہ سانس لے رہا ہے
………………
