Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 22 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22 Pt.1
کونین آج صرف اور صرف عترت سے ملنے کے لیے یونی آیا تھا.مگر تلاش کرنے کے باوجود وہ اسے کہیں نہیں نظر آئی تھی بلآخر تھک ہار کر وہ واپس پارکنگ کی جانب بڑھ گیا اور اپنی بائیک سٹارٹ کرنے لگا جو اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے سٹارٹ ہونے کو تیار نہیں تھی.کونین بار بار کک مار رہا تھا جب اس کے کانوں میں عترت کی آواز پڑی.
کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتی ہوں….؟؟؟؟
عترت نے مسکرا کر پوچھا
جی کیوں نہیں آپ میری مدد نہیں کریں گی تو اور کون کرے گا…؟؟؟؟
کونین نے بائیک سٹینڈ پر کھڑی کرتے ہوئے کہا
اچھا بتائیں پھر کیا مدد کروں…؟؟؟؟؟
عترت کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا
کیا آپ آج میرے ساتھ میرے گھر چل سکتیں ہیں..؟؟
کونین نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے سوال کیا
میم میم میں….؟؟؟؟
عترت نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
جی بلکل آپ ہی…..کیونکہ اگر میں نے آپ سے شادی کرنی ہے اور بقول آپ کے آپ کو دوستی پسند نہیں تو آپ کو ہی اپنے گھر لے کر جاؤں گا تاکہ آپ کو میرے گھر والے دیکھ لیں اور آپ میرا غریب خانہ. اس طرح ہم دونوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی.
کیا خیال ہے آپ کا……؟؟؟
کونین نے بائیک ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے آنکھ کے اشارے سے پوچھا
میں آپ کے ساتھ آپ کے گھر اکیلے نہیں جا سکتی….
عترت نے کچھ رک رک کر جواب دیا
کیوں…؟؟؟؟ اب کی بار کونین نے قدرے سنجیدگی سے پوچھا
وہ حنین بھائی نے منع کیا ہے.وہ کہتے ہیں کہ مجھے بتائے بغیر کسی کے ساتھ نہیں جانا. دنیا بہت خراب ہے اور میں بےوقوف……..
عترت نے نظریں چرا کر جواب دیا
ہممممم……..مطلب یہ کہ تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں
کونین ایکدم آپ سے تم پر اتر آیا تھا.
یہ بات نہیں ہے آپ مجھے بہت زیادہ اچھے لگتے ہیں مگر…
عترت نے کونین کو غصہ کرتے دیکھا تو بات ٹالنا چاہی
تو پھر کیا بات ہے…؟؟؟
کونین اب بحث پر اتر آیا تھا.
وہ حنین بھائی کہتے تمہیں جہاں بھی جانا ہو پہلے مجھے بتایا کرو. اب وہ گاؤں ہیں میں کیسے بتاؤں انھیں اور ان کو بتائے بغیر میں آپ ساتھ نہیں جا سکتی . عترت نے شرمندگی سے کہا
ایک تو میں حنین سے بہت تنگ ہوں تم اتنا اپنے بھائی کا ذکر نہیں کرتی جتنا حنین کا کرتی ہو جبکہ وہ تمہیں اپنی بہن ہی نہیں مانتا.مجھے یہ سمجھ نہیں آتی جو شخص تمہیں اپنی بہن نہیں مانتا تم اس پر اعتبار کرتی ہو اور میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں مگر تم مجھ پر اعتبار نہین کرتی اب میں اس کو کیا سمجھوں…؟؟؟؟؟
کونین نے تفتیشی انداز میں کہا
حنین بھائی کو آپ نہیں جانتے ورنہ ان کے بارے میں ایسی بات نہیں کرتے وہ بہت اچھے ہیں مجھے ان پر اندھا اعتماد ہے وہ کبھی کسی کو بھی دھوکا نہیں دے سکتے میں تو پھر “دبیر کی گڑیا ” ہوں.
حنین کی حمایت میں فوراً عترت بول پڑی جسے کونین نے نوٹ کیا
قصہ مختصر تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں…..؟؟؟
کونین نے عترت سے پوچھا
آپ بار بار ایک ہی بات کیوں کر رہے ہیں.عترت نے تنگ ہوتے ہوئے کہا
میری بات کا جواب ہاں یا نہ میں دو.کونین نے انگلی اٹھا کر سختی سے کہا
مجھے آپ پر اعتماد نہیں.کیونکہ میں آپ کو ابھی اچھے سے جانتی نہیں.عترت نے سچ سے کام لیا
ٹھیک ہے جب تم مجھے اپنے اعتماد کے قابل سمجھو گی تو بتا دینا.کونین نے ناراض ہوتے ہوئے دوبارہ بائیک سٹارٹ کی
سوری آپ شاید ناراض ہوگئے ہیں.عترت نے معزرت کی
نہیں مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آپ نے میری اتنی عزت افزائی کی ہے…
کونین نے طنز کرتے ہوئے جواب دیا جس پر عترت نے شرمندگی سے سر جھکا لیا
آپ مجھے اپنا فون نمبر دے سکتے ہیں….؟؟؟
کچھ دیر بعد عترت نے ہمت کر کے کونین سے پوچھا
جی ضرور ….میں آپ کی طرح نہیں ہوں کہ سامنے والے کی رتی بھر پرواہ نہ کروں .ویسے مجھ پر آپ کو بھروسہ نہیں، اعتبار نہیں، پھر آپ میرے نمبر کا کیا کریں گئیں….؟؟؟
کونین دوبارہ آپ پر اتر آیا تھا
بس ویسے ہی ،اگر آپ نہیں دینا چاہتے تو کوئی بات نہیں…
عترت کو پتہ نہین کیوں کونین کے اس طرح بات کرنے پر بہت دکھ ہوا اور وہ واپس اپنی گاڑی کی طرف پلٹی جب کونین نے آواز دے کر روکا
روکیں مس عترت حسین….
میرا نمبر اپنے موبائل میں سیو کر لیں.
…………………………
جیسے ہی ڈاکٹرز آپریشن روم سے نکلے سب ان کے گرد جمع ہو گئے دبیر بھی تیز تیز قدم اٹھاتا ان پاس جا پہنچا
ڈاکٹرز نے سردار دلاور کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے مگر زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے مریض کا خون بہت ضائع ہو چکا تھا اور سینے میں لگنے والی گولی بہت خطر ناک جگہ پر پہنچ چکی تھی. ہم نے آپریشن کر دیا ہے اگلے چوبیس گھنٹے مریض کے لیے بہت اہم ہیں آپ لوگ دعا کریں اب مزید ہم کچھ نہین کر سکتے اگر چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مریض کی یہی حالت رہتی ہے تو……….آپ خود سمجھدار ہیں”
یہ کہتے ہوئے وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گے.
سردار دلاور یہ سننے کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑے نہ رہ سکے اور ایکدم لڑکھڑائے اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتے افراسیاب اور دبیر نے انھیں پکڑ کے بینچ پر بیٹھایا.
انکل آپ حوصلہ کریں اس طرح ہمت نہیں ہارتے آپ دیکھنا زریاب بلکل ٹھیک ہو جائے گا.
دبیر نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا
بابا سائیں ایسا نہیں کریں ورنہ میری ہمت بھی جواب دے جائے گی.
افراسیاب نے سردار دلاور کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
اس وقت زریاب کو ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے آئیں ہم سب مل کر اس کے لیے دعا کرتے ہیں.
دبیر نے ہسپتال میں بنی چھوٹی سی مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
وہ سب مسجد میں بیٹھ کر زریاب کی زندگی کے لیے دعا مانگنے لگے دبیر اور افراسیاب نے نفل پڑھے کمدار اور اس کے ساتھیوں نے قرآن پاک پڑھا لیکن سردار دلاور دیوار ساتھ چپ چاپ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے.
کافی دیر بعد انھوں نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے اور کچھ اس انداز میں دعا مانگی.
“اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں بےبس ہوں اور مجھے میرا بیٹا بہت پیارا ہے اگر تو چاہے تو کوئی اسے مجھ سے چھین نہیں سکتا.تیرے نبی نے فرمایا ہے کہ باپ کی دعا اپنی اولاد کے حق میں فوراً قبول ہو جاتی ہے.میں تیرے نبی پر ایمان رکھتا ہوں اس کی ہر بات پر ایمان رکھتا ہوں اور پورے ایمان سے دعا کرتا ہوں کہ میری یہ دعا رد نہیں ہو گی تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک، میرے بڑھاپے کے سہارے،میرے بیٹے کو زندگی دے دیں.”
اور آمین کہتے ہوئے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر رونے لگے
“سر اُٹھا کر بھی دعا مانگنا جائز ہے مگر..
سجدہ کر لیجئیے تاثیر بدل جائے گی..”
………………………..
دبیر ، زریاب کے لیے نفل اور دعائیں مانگنے کے بعد حنین کو دیکھنے کی نیت سے وارڈ کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا وہ اپنا سر پکڑ کر قریبی بینچ پر بیٹھ گیا.
ایک تو پریشانی شدید تھی دونوں ہی جگری دوست زخمی تھے دوسرا کوئی ایسا کندھا نہیں تھا جس کے ساتھ لگ کر دبیر اپنا دل ہلکا کرتا تیسرا وہ گھر سے کھانا کھائے بغیر آیا تھا اور اب رات کے دو بج رہے تھے اسے بھوک بھی ستا رہی تھی وہ ابھی دوبارہ اپنا سر انگلیوں سے دباتا اٹھنے لگا جب اسے اپنے قریب سے رائحہ کی آواز آئی.
آپ پلیز تھوڑا سا کچھ کھا لیں.
رائحہ کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں ایک سینڈوچ اور ایک کپ چائے کا تھا جسے تھامے وہ دبیر کے بلکل قریب کھڑی تھی.
دبیر نے گردن اوپر کر کے رائحہ کو دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا.
یہ تو بہت غلط بات ہے اگر آپ اپنا خیال نہیں رکھیں گے تو اپنے دوستوں کا کیسے رکھیں گے..؟؟؟؟
پلیزززز کچھ کھا لیں اگر کوئی آپ کو بغیر لالچ کے کچھ دے تو وہ فوراً قبول کر لینا چاہیے. ایسے ہمارے نبی نے بولا ہے
جیسے ہی رائحہ نے یہ کہا دبیر نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لے کر اپنی گرد میں رکھ لی مگر کھانا شروع نہیں کیا.دبیر کو کھاتا نہ دیکھ کر رائحہ نے بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا
آپ تو خود سید زادے ہیں اگر آپ ہی نبی کی بات سن کر ایسا کریں گے تو…….
ابھی رائحہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ دبیر نے سینڈوچ کھانا شروع کر دیا دبیر کو کھاتا دیکھ کر رائحہ کو کچھ اطمینان ہوا.
مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ اپنے دوستوں سے اتنا پیار کرتے ہیں میں اپنے رویہ پر بہت شرمندہ ہوں.سوری
رائحہ نے کہا
دبیر نے کچھ دیر رک کر رائحہ کو دیکھا اور کہا
ہم تینوں پچھلے دس سال سے ایک ساتھ ہیں مگر ایسا لگتا ہے جیسے بچپن سے ہی ساتھ ہوں ہم تینوں ایک دوسرے کے ہم راز بھی ہیں اور ہم قدم بھی. بھائیوں جیسا پیار ہے ہم میں…..
میرا اور حنین کا کوئی سگا بھائی نہیں ہاں البتہ زریاب کا ہے.مگر ایسا لگتا ہے کہ ہم تینوں آپس میں سگے ہیں…..
پھر آہستہ آہستہ دبیر اپنی دوستی کے بارے میں ساری باتیں رائحہ کو بتانے لگا. پتہ نہیں کیوں…؟؟؟ مگر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا زریاب اور حنین کے بارے میں باتیں کرنا………
