No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
برینڈ نیو مرسڈیز بلیک کلر کی جیسے ہی گیٹ پر پہنچی لان میں عترت جو مزے سے نرم گھاس پر ننگے پاؤں چل رہی تھی بھاگی بھاگی آئی بھائی آ گئے…….
دبیر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور بازو کھول کر عترت کا استقبال کیا عترت کو نرمی سے ساتھ لگایا اور اس کا سر چوما.
سید دبیر حسین کی جان اگر کسی چیز میں ہےتو وہ صرف اور صرف عترت ہو سکتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور نہیں…یہ الفاظ تھے ان کے اپنے….
بھائی کی جان کتنی دفعہ کہا ہے سردی لگ جائے گی موسم اچھا نہیں ہے وہ اسے اپنے ساتھ لگائے ٹی وی لاؤنچ میں داخل ہوئے عالیہ بیگم پر نظر پڑتے ہی بہن کو چھوڑ کر ماں کے سر کا بوسہ لیا اور ان کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا دوسری طرف جلدی سے عترت آ کر بیٹھ گئی
تمہیں نے اس کو بگاڑ دیا ہے روز نئی نئی فرمائشیں کرتی ہے دبیر نے آنکھ کے اشارہ سے عترت کو دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو اب کیا ہوا عترت نے شانے اچکائے جیسے کہ رہی ہو مجھے کیا پتہ
عالیہ بیگم نے دونوں کو دیکھ کر غصہ سے کہا اگر دونوں بہن بھائی کی انکھ مچولی ختم ہو گئی ہو تو میں کچھ کہو…دونوں ہسنے لگ گئے
اماں بی کیا ہے…… کیا کر دیا اب اس نے..
عترت جاؤ بوا کو کہو کھانا لگائے بھوک لگی ہے
ارےبیٹا تمہاری اور بھی دو بہنیں ہیں تم نے کبھی ان کے ساتھ اتنے چونچلے نہیں کیے کل اس نے بھی پرائے گھر جانا ہے کیا کرے گی وہاںجا کر.. تم جہیز میں ساتھ جاؤ گے…
دبیر کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آگئی.دونوں ہاتھوں سے ماں کو پکڑ کر چہرہ اپنی طرف کیا جو وہ ناراضگی سے موڑ گئیں تھی اماں بی میں نے عشرت اور ندرت کو بھی بہت پیار دیا ہے ہر خواہش پوری کرتا ہوں جو مانگتیں ہیں دیتا ہوں.کوئی شکایت کی انھوں نے میری..دبیر نے شکوہ کنان آنکھوں سے ماں کی طرف دیکھا…نہیں میرے بیٹے ایسی بات نہیں ہےوہ اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں.تو پھر…..کیا مسئلہ ہے…..
مسئلہ انھیں نہیں عترت کو ہے…
کیا ہوا عترت کو ابھی تو ٹھیک ٹھاک تھی میں نے خود دیکھا دبیر نے ٹائی ڈھیلی کرتے ہوا کہا اب وہ شوز اتار رہا تھا…..
سیدذادیاں لڑکوں کے ساتھ نہیں پڑھتین اور محترمہ فرما رہی ہی ں میں نے میڈیکل کالج میں داخلہ لینا ہے خبردار جو تم نے اس دفعہ اس کی حمایت کی سمجھے….عالیہ بیگم نے غصہ سے بیٹے کو دیکھا جو اب شوز کے ساتھ موزے اتار کے پاؤں پر پاؤں رگڑ رہا تھا…..اس کی شادی کرو اور پھر اپنی طرف توجہ دو…
اچھا تو یہ بات ہے مسکراہٹ کے ساتھ ماں کی طرف دیکھا…..
جی بلکل اور حسب عادت آپ کو عترت کی فرمائش بری نہیں لگے گی بلکل ابھی تھوڑی دیر میں اپ کے منہ سے اس کی حمایت کے دلائل بھی آنا شروع ہو جائیں گے…..
.عالیہ بیگم بیٹے کی فطرت سے واقف تھیں…تو اس میں برا کیا ہے اچھا ہے گھر کا ڈاکٹر ہو گا ویسے بھی میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا ہمارے خاندان میں کوئی ڈاکٹر نہیں بنا سب نے ایم بی اے کیا ہے….
حد ہے دبیر …عالیہ بیگم غصہ سے اٹھین اور واک واٹ کر گئیں جبکہ دبیر نے اندر اتی ہوئی عترت کو انگوٹھے سے او کے کا سائن دیا جس کا مطلب تھا تمہارا کام ہو گیا..اور خود مسکراتا ہوا روم میں فریش ہونے چلا گیا…پیچھے سے عترت نے آواز لگائی
You are best brother in the world i love u 😍
ڈیفنس ایریا میں بنا یہ پانج کنال کا گھر اصل میں گھر کم اور فام ہاؤس زیادہ تھا اس سید ہاؤس میں کل چار لوگ رہتے تھے عالیہ بیگم جو بہت پرانے خیالات کی مالک تھیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ آج کل کے دور میں پرانی روایات کو قائم رکھے تھی شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی نہیں کی اپنی زندگی ایک بیٹے اور تین بیٹیوں پر قربان کر دی.سید دبیر حسین شاہ اس گھر کا واحد چشم وچراغ اپنی خوبصورتی اور ذہانت سے اگلے کو ایک منٹ میں زیر کرنے والا وسیع و عریض بزنس کو سمبھالے ہوئے مگر جس چیز سے چڑ تھی وہ صنف نازک تھیچڑ کی وجہ یہ تھی کہ اس کے خاندان سوشل سرکل اور آفس میں جتنی بھی لڑکیاں تھی وہ تمام اس پر ایسے مرتی تھیں جیسے شہد پرمکھیاں..یہی چیز چڑ کا باعث تھی…
باپ کے مرنے کے بعد اس نے بیٹا بھائی اور باپ کا کردار خوب نبھایا تھا.دو بہنوں کی شادی کر دی تھی عترت اس کی چھوٹی بہن اس کی جان تھی سب سے پیاری تھی اسے…..
………………………………….
حنین کے کمرے کا دروازہ زور سے کھلا بلکہ دھماکے سے کھلا ملک نذیر اس دفعہ جارھانہ عزائم سے داخل ہوئے وہ پچھلے دو گھنٹوں سے اپنے اکلوتے شہزادے کو واک کے لیے اٹھا رہے تھے حنین کی نظر جیسے ہی باپ پر پڑی ایک منٹ میں چھلانگ لگا کر واش روم بھاگا…بابا پلیززز صبح صبح نہیں میں کوئی لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں.مجھے صبح کی سیر کی تمام افادیت از بر ہوچکی ہے وہ اندر سے چلایا ساتھ ساتھ شاور کی آواز بھی آ رہی تھی
ملک نزیر مسکراتے ہوئے سیڑھیاں اتر رہے تھےغزالہ بیگم بھی مسکرا دیں تو بلآخر آپ اپنے شہزادے کو اٹھانے میں کامیاب ہو ہی گئے ساتھ وہ بریڈ پر جیم لگا رہی تھین جی بیگم صاحبہ وہ بھی اب کرسی کھینچ کر بیٹھ چکے تھے غزالہ بیگم نے بریڈ سلائس اور چائے کا کپ ملک صاحب کو پیش کیا اتنے میں حنین سیڑھیاں پھلانگتا ملک صاھب کی ساتھ والی کرسی پر برا جمال ہوا ہائے موم ڈیڈ ….خوبصورت اور شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا بلیک پینٹ لائینگ والی بلیک شرٹ پہنے کف فولڈ کیے ایک ہاتھ میں بلیک سٹرپ والی گھڑی اس کے حسن کو مزید چار چاند لگا رہی تھی.بیٹا بات یہ ہے ملک صاحب نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ حنین کھڑا ہو گیا ڈیڈی واپسی پر پلیززززز صبح خراب نہ کریں یونی سے واپسی پر دیر ہو جائے گی موم کو پیار کرتے ہوئے انفارم کیا پھر گاڑی کی چابی اور ویلٹ لے کر یہ جا وہ جا……
یہ ملک ویلاز تھا جہاں تین لوگ رہتے تھے ملک نزیر بہت بڑے بزنس میں کڑوڑوں کی جاۂیدادکے مالک اور مسز نزیر یعنی غزالہ بیگم اور ان کی اکلوتی اولاد حنین ملک….
شادی کے آٹھ سال بعد حنین پیدا ہوا منتوں مرادوں سے مانگا گیا یہ بچہ عجیب تھا خوبصورتی بے انتہا تھی تو نالائقی بھی بے مثال …پچھلے چھ سالوں سے ایک ہی کلاس میں بار بار فیل ہو رہے تھے ان کے ساتھ والے لڑکے لڑکیان شادی شدہ اور اپنا بزنس کر رہے تھے مگر حنین کو کوئی پرواہ نہیں تھی اس کے خیال میں ادے پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں میرے باپ پاس جو بھی ہے وہ میرا ہے پھر کیوں خامخواہ پڑھائی کر کے خود کو ذلیل کرو
ملک صاحب بھی ضد کے پکے تھے جب تک تم ایم بی اے نہین کر لیتے نہ تمہاری شادی کروں گا اور نہ ہی بزنس …
حنین ڈرائیونگ کر رہا تھا اس کی زندگی پانچ لوگوں کے گرد گھومتی تھی موم،ڈیڈ،زریاب،دبیر اور وہ پڑھاکو یعنی نرمین احمد….
………………………………….
