Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Pt.2


ماہ نور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں برش کرنے لگی تھی جب کسی خوشگوار یاد نے اسے اپنے احاطہ میں لےلیا
(ماہ نور کا ماضی)
آج حویلی میں بہت چہل پہل تھی.ہر کسی کا چہرہ خوشی سے دھمک رہا تھا اور کیوں نہ ہوتا آخر آج کا دن ان سب کے لیے بہت خاص تھا سردار دلاور علی خان بار بار زنان خانے کے چکر لگا رہیے تھے.سب تیاریاں مکمل ہیں نا.کوئی کمی نہ رہ جائے.وہ بار بار بیگم کوثر اور بیگم نسرین سے پوچھتے….
تو وہ ہنس پڑتیں……
کیا ہو گیا ہے آپ کو آج ..؟؟
کہہ تو دیا سب ٹھیک ہے پھر کیوں آ جاتے ہیں.جائیں مہمان خانے میں، مہمان آنے والے ہوں گے….
بیگم نسرین نے کہا
پتہ ہے بس تسلی کرنے آیا تھا
میں چاہتا ہوں چوہدریوں کو پتہ چلے کس خاندان میں رشتہ کر رہے ہین.وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں کہ ماہ نور ان کی بہو بن رہی ہے.اگر ان کا لڑکا اکلوتا ہے پڑھا لکھا اور خوبصورت ہے تو ہماری بیٹی بھی کسی سے کم نہیں اور تمہیں تو معلوم ہے مجھے ماہ نور اپنی بیٹیوں کی طرح عزیز ہے.سردار دلاور علی خان نے کہا
وہ کافی جذباتی ہو رہے تھے
آج چوہدریوں نے شادی کی تاریخ پکی کرنے آنا تھا.
جب چوہدری اسد کا رشتہ ماہ نور کے لیے آیا تھا تو حویلی میں کسی کو بھی اعتراز نہ تھا کیونکہ خاندان میں ماہ نور کے ساتھ کا جوڑ موجود نہیں تھا اس لیے اس کی شادی خاندان سے باہر ہی ہونی تھی.مگر اتنا اچھا رشتہ،…..
یہ تو کسی نے نہیں سوچا تھا …؟؟؟
گاؤں میں صرف دو حویلیاں تھیں ایک سرداروں کی اور دوسری چوہدریوں کی..
دونوں زمین دار خاندان تھے ہم پلہ بھی تھے اس لیے فوراً ہاں کر دی گئی
مہمانوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا.عورتوں کو ماہ نور کے کمرے میں بیٹھایا گیا.وہ بار بار ماہ نور کے صدقے واری جا رہیں تھیں
ماہ نور اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی.
مردوں نے فیصلہ کیا کہ آنے والے جمعہ کو بعد نماز عصر ماہ نور اور اسد کا نکاح پڑھایا جائے گا
اور پندرہ دن بعد ان کی جمعے کے دن ہی رخصتی ہو گی.
دن پِر لگا کر اڑ رہے تھے.سب کچھ بہت اچھا ہو رہا تھا.
آخر کار وہ دن آن پہنچا جس دن ماہ نور اور اسد کا نکاح تھا.
ماہ نور کے سسرال سے بہت ہی خوبصورت اور مہنگے کپڑے جوتے اور جیولری آئی تھی.
جسے دیکھ کر نسرین بیگم اور کوثر بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے وہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہیں تھی جس نے ان کی بیٹی کے نصیب اتنے اچھے لکھے
نکاح کے وقت جس بات نے سب کو چونکا دیا وہ ماہ نور کا حق مہر تھا.اسد نے اپنے حصے کی ساری زمینیں ماہ نور کو حق مہر میں دے دیں تھیں.
اس پرجہاں سردار دلاور علی خان اور سردار حشمت علی خان خوش تھے وہاں حیران بھی…
کیا قسمت پائی ہے ماہ نور نے اتنے لاڈ تو ہم نے نہیں اٹھائے جتنے اس کے سسرال والے اٹھا رہے ہیں.
سردار حشمت علی خان نے سوچا.اور دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا.
نکاح کے بعد اسد نے ماہ نور سے ملنے کی خواہش ظاہر کی…
سردار حشمت علی خان کو یہ بات پسند نہیں آئی مگر سردار دلاور علی نے اجازت دے دی
بیٹا ویسے مناسب تو نہیں ہے مگر ہم آپ کی خواہش پوری کر دیتے ہیں جب تک کھانا نہیں لگتا آپ بات کر سکتے ہیں.مگر…
سردار دلاور علی خان نے ماہ نور کے کمرے کے باہر اسدکوچھوڑتے ہوئے کہا…
جی میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں.بس کچھ بات کرنی ہے مجھے میں زیادہ وقت نہیں لوں گا.
اسد نے ادب سے جواب دیا.
اور کمرے کا دروازہ کھولتا اندر قدم رکھا…..
ماہ نور پر نگاہ پڑتے ہی وہ بت بن گیا…؟؟؟
ماہ نور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی تھی.وہ کوئی افسرا، پری یا حور لگ رہی تھی.کم از کم اس دنیا کی نہیں لگ رہی تھی.
جب کافی دیر اسد اسے کھڑا دیکھتا رہا تو ماہ نور کو ہنسی آگئی..
اچھی نہیں لگ رہی…؟؟ اس نے شرارت سے اسد کو دیکھتے پوچھا
ماہ نور کی آواز نے اسے حقیقت کی دنیا میں واپس لایا.
اسد چلتا ہوا ماہ نور کے بلکل پاس آگیا اب ماہ نور کی پشت اسد کے سینے ساتھ لگی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو مرر میں دیکھ رہے تھے
کچھ تو کہو.. ؟؟؟
ماہ نور کو اسد کی خاموشی اچھی نہیں لگ رہی تھی.
سمجھ نہیں آ رہی تمہیں دیکھو…یا..بات کروں..؟؟
اسد نے محبت بھرے لہجے میں کہا
دیکھ کر بھی بات کی جا سکتی ہے..؟؟
ماہ نور کی آواز میں خوشی اور شرارت دونوں کے رنگ موجود تھے.
ماہ نور میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ…
آج سے میری ہر چیز تمہاری ہے تم جو کہو گی وہ میں کرون گا.تم میری پہلی محبت ہو.مجھے شرم نہین یہ اقرار کرنے مین کہ تم میری پہلی نظر کی محبت ہو.ماہ نور میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا.وعدہ ہے تم سے…
اسد محبت سے چور لہجے میں ماہ نور کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا.
تم نے اتنا زیادہ حق مہر کیوں رکھا..؟؟؟
ماہ نور نے مرر میں آنکھیں اچکا کر کہا.
وہ زمینیں اسی دن سے تمہاری ہو گئین تھیں جب تم مجھے ان کھیتون میں ملی تھی.میں نے کہا تھا یہ آج سے تمہاری یاد نہیں…..
اسد نے ماہ نور کے سر پر اپنی گال رکھتے کہا.ماہ نور خوشی اور شرم سے سرخ پڑنے لگی
اچھا میں آج بہت خوش ہوں.مانگو مجھ سے کچھ…
اسد نے ماہ نور سے پوچھا
ماہ نور نے کچھ دیر سوچ کر کہا
میں آگے پڑھنا چاہتی ہون…؟؟؟
بس…؟؟؟ اسد ہنس پڑا
لڑکی کچھ اور بھی مانگو….
کچھ زیادہ…
اتنا مانگو کہ مجھے دینے کا مزا آئے اور تمہیں لینے کا…
اسد مرر میں دیکھ کر بول رہا تھا.
اچھا……
پھر مجھے ساری دنیا کی سیر کرنی ہے میں کبھی گاؤں سے باہر نہیں گئی.میں نے تو گاؤں بھی پورا نہین دیکھا….
ماہ نور نے افسردگی سے کہا
ہاں یہ ہوئی نا بات…..
چلو سمجھون تمہاری خواہش پوری کر دی میں نے ….
ہم شادی کے بعد ورلڈ ٹور پر جائیں گے….
اسد نے مسکرا کر کہا
سچ …..
ماہ نور نے آنکھیں کھول کر بے یقینی سے اسد کو دیکھا
اب کیا جان لو گی …؟؟؟
ایک تو ویسے ہوش اڑا رہی ہو میرے اوپر سے آنکھیں تو نہ دیکھاؤں ….
میں نے ابھی جینا ہے تمہارے ساتھ….
ایسے تو میں جلدی مر جاؤں گا.
اسد نے ماہ نور کے گرد اپنی بازوؤں کو حائل کرتے کہا
چاہے جانے کا احساس ایک عام انسان کو کوہ ہمالیہ بنا دیتا ہے وہ اپنے آپ کو بہت خاص سمجھنے لگتا ہے.یہی حالت اب ماہ نور کی تھی وہ آسمانوں میں اڑنے لگی تھی.
جب فون کی آواز پر وہ چونکی اور اب وہ مرر میں اکیلی تھی اس کے خوابوں کا شہزادہ کہیں کھو گیا تھا.
فون پکڑا تو اس پر
Zeryab calling…
آرہا تھا.
اللہ کرے تو مر جائے زریاب تو کیوں نہیں مرتا.تو مرے گا تو میری سزا ختم ہو گی یہ کہتے وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
………………………..
دبیر نے صبح صبح عترت کو تیار دیکھا تو کافی حیران ہوا.
وہ اس وقت لان میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا.
خیر ہے گڑیا اتوار والے دن اتنی صبح…….اور اتنی تیاری….
ابرو اچکا کر پاس آتی عترت سے کہا
بھائی آپ ہمارے ساتھ چلیں گے؟؟؟
عترت نے بیٹھتے ہوئے پر جوش انداز میں کہا
گڑیا ویسے تو مجھے کافی کام ہے. لیکن اگر تم اصرار کرو گی تو میں چلنے کو تیار ہوں.
دبیر نے لیپ ٹاب بند کرتے ہوئے کہا
ہم ہالہ بی کے گھر جا رہیے ہین؟؟؟
عترت نے خوش ہوتے ہوئے کہ
“ہم ” سے کیا مراد ہے؟ ؟؟؟ دبیر نے ہم پر زور دیتے ہوئے پوچھا
“ہم “مطلب” ہم”…..
عترت نے مزید کنفیوژ کرنے کے لیے کہا
گڑیا…میرے خیال سے تم ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی کے مجھے چکر دے سکو…؟؟؟
معاملہ کیا ہے..؟؟؟
دبیر نے عترت کی پونی کھینچتی ہوئے کہا
بھائی…..عترت نے کہتے ساتھ ہی دبیر کے پاس کھڑی ہو کر کان میں آہستہ سے کہا
ہمیں انگلی کے اشارے سے اپنی طرف اشارہ کیا پھر اندر کی طرف انگلی گھما کر بولی اور اماں بی کو
اس گھر میں رونق چاہیے……
یعنی……دبیر نے جملہ ادھورا چھوڑ کر عترت کو دیکھا
یعنی کہ میں اور اماں بی آج آپ کے لیے چاند جیسی دلہن دیکھنھ جا رہے ہیں. اگر آپ بھی چاہیں تو ہمارے ساتھ جا سکتے ہیں.
عترت کہتے ساتھ ہی سیدھی کھڑی ہو گئی.اور آنکھوں سے پوچھنے لگی.چلنا ہے کہ نہیں…
ہمممممم……
تو یہ بات ہے.اب میں اپنی بیگم کے معاملہ میں تمہارے اوپر بھروسہ نہیں کر سکتا اس لیے میں بھی ساتھ جاؤں گا.کہتے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا.
سچ…………
عترت چیختے ہوئے دبیر ساتھ لگ گئی
مچ………..
دبیر نے عترت کو اپنے ساتھ لگایا اور اندر کی طرف بڑھ گیا
………………….