Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 17 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17 Pt.1
زریاب پارو سے مل کر ہٹا تو پیچھے ہی افراسیاب کھڑا تھا.
لالا بہت دیر کر دی آنے میں…؟؟
یہ کہتے ہوئے افراسیاب نے بھی زریاب کو گلے لگایا.
ہاں یار راستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی.زریاب نے افراسیاب کو خود سے الگ کرتےہوئے کہا
لالا آپ میرے ساتھ آئیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے.
پارو نے زریاب کا بازو کھینچتے ہوئے کہا
گڑیا میں سب سے مل لوں اور وہ دیکھو (حنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) میرے ساتھ مہمان بھی ہے.پھر بات کرتے.نماز کا بھی ٹائم ہو رہا ہے.
اور ساتھ ہی پارو کو اندر جانے کا کہا مگر پھر ماہ نور کے خیال سے روکا.
تمہاری آپا کیسی ہے..؟؟؟
عادت سے مجبور ، رہا نہ گیا تو پوچھ لیا
ٹھیک ہیں….
پارو نے افسردگی سے جواب دیا
……………………………….
حنین نے دبیر کو فون کر کے کہا
یارررر یہاں بہت جذباتی سین چل رہا ہے. مجھ سے ایسے سین تو فلم اور ڈراموں میں برداشت نہیں ہوتے یہ تو پھر رئیل ہے.کیا کروں اب….؟؟؟
میں تو سمجھا تھا صرف زریاب ہی لڑکیوں جیسی حرکتیں کرتا ہے مگر یہاں تو پورا خاندان ہی سٹار پلس کی ٹیم لگ رہا.
دبیر جو نماز کے لیے جا رہاتھا حنین کی کال اٹینڈ کرتا مسجد کی طرف چل پڑا.
شرم کر تو اس لیے ساتھ گیا ہے.دبیر نے ہنستے ہوئے کہا
اچھا چھوڑ ساری باتیں یہ بتا میرا کام کیا ہے یا نہیں…..؟؟
حنین نے دبیر کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا
کر دیا جناب…….
آپ کی حکم عدولی کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے دبیر نے ہنستے ہوئے جواب دیا
آپ کی فرمان برداریاں مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے یہ بتا کہ اُس کی طبیعت اب کیسی ہے..؟؟؟
حنین نے پوچھا
پتہ نہیں وہ سو رہی تھی ویسے کافی کمزور لگ رہی تھی……
دبیر نے جواب دیا
ہمممم………
حنین نے افسردگی سے کہا
اچھا چل میں مسجد پہنچ گیا پھر بات کرتے ہین اور ساتھ ہی دبیر نے فون بند کر دیا.
………………………….
زریاب باری باری سب گھر والوں سے ملا اور پھر حنین ساتھ مہمان خانے میں آگیا.
یار تو زرا تھوڑی دیر ریسٹ کر میں زرا زنان خانے سے ہو آؤں.
زریاب نے حنین کو کمرے میں چھوڑتے ہوئے کہا
کیا..؟؟؟میں یہاں اکیلے رہوں گا
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھوم کر کمرے کا جائزہ لیا
بے فکر رہ تجھے یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا.میں ابھی پارو کی بات سن کر آتا ہوں
پھر نماز پڑھتے اور کھانا کھاتے.تایا سائیں نے خاص طور پر ہرن کا گوشت پکوایا ہے
زریاب نے منہ میں پانی بھرتے ہوئے کہا
ہرن کا گوشت،میں نے کبھی نہیں کھایا.
حنین نے بھی پُرجوش ہو کر کہا
ویسے ایک بات ہے زریاب تمہاری حویلی بہت بڑی اور خوبصورت ہے.کتنے نوکر چاکر ہیں قسم سے تجھے دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ تو اس طرح کے ماحول سے تعلق رکھتا ہو گا
یاررر تُو ، تو اپنے علاقے میں شیر ہے.
حنین نے زریاب کی طرف دیکھ کر کہا
یہ علاقہ ہمارا ہے ہم سردار ہیں اپنے علاقے کے….جناب کوئی مزاق نہیں. میں آتا ہوں ابھی…
زریاب کہتے ہوئے زنان خانے کی طرف بڑھ گیا.
…………………
جو چیز زریاب کو عجیب لگ رہی تھی وہ سب کے چہرے تھے جو اترے اترے تھے.
جب کہ اس کے بر عکس اسد کی دفعہ ایسا کچھ نہیں تھا سب خوش تھے.
وہ یہ سوچتے ہوئے زنان خانے میں داخل ہوا.سامنے ہی ماہین، افراسیاب اور پارو کھڑے تھے.وہ تینوں لاؤنچ میں چکر لگا رہے تھے زریاب پر نظر پڑتے ہی سب سے آگے پارو نے ہو کر کہا
لالا ادھر آئیں لان میں…
اور تینوں لان کی طرف بڑھنے لگے جب سردار حشمت علی خان نے زریاب کو آواز دی
بیٹا سائیں آپ ادھر کیا کر رہیں ہیں…؟؟؟؟
چلیں مہمان خانے میں،نماز کا وقت ہو رہا ہے پھر کھانے کے بعد باتیں کرتے رہنا.
زریاب نے ایک نظر تایا سائیں پر ڈالی اور دوسری اُن تینوں پر….
آپ چلیں میں آ رہا ہوں اور خود اُن کے ساتھ لان میں آگیا.
چلو اب بتا بھی دو کیا بات ہے…؟؟؟
لالا پلیززز یہ شادی روک دیں پلیززز لالا……
پارو کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ بات کہاں سے شروع کرے
یہ کیا بات ہوئی…؟؟؟؟
کیوں روک دوں…؟؟؟
(حالانکہ چاہتا تو وہ بھی یہی تھا)
زریاب نے پوچھا
لالا وہ…..افراسیاب نے پوری بات زریاب کو بتا دی.
بات سننے کے بعد زریاب نے تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے ایک لمبا سانس کھینچا اور کہا
ماہ نور کیا کہتی ہے..؟؟؟
میرا مطلب ہے وہ کیا چاہتی ہے..؟؟؟
لالا انھوں نے کیا کہنا ہے بس چپ چاپ ہیں ہمیشہ کی طرح…..
ماہین نے جواب دیا
آپ پلیززز آپا کو بچالیں پارو نے ایک دفعہ پھر زریاب کا ہاتھ پکڑ کر کہا
دیکھو اگر ماہ نور کو اعتراض ہوتا تو میں کچھ کرتا ، اب میں کیا کروں بولو..؟؟
جب تک انسان خود اپنے مسائل حل نہیں کرنا چاہتا تب تک کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا.
لالا پلیزززز ماہین بھی زریاب ساتھ آ کر لگ گئی اور رونے لگی.اچھا تم دونوں چپ کرو میں کرتا ہوں کچھ…
زریاب دونوں کے سر پر ہاتھ رکھتا بوجھل دل کے ساتھ مہمان خانے کی طرف بڑھ گیا.
………………………..
زریاب کمرے میں داخل ہوا تو تھکا تھکا سا بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کر لیں.
حنین نے اسے دیکھ کر کہا جو ابھی ابھی واش روم سے وضو کر کے نکلا تھا
کیا ہوا؟؟ پیرنی سے ملاقات کر کے آیا ہے.تیرا بھی کوئی حال نہیں نہ کچھ کھایا نہ پیا نہ آرام کیا بس آتے ہی بدعائیں لینے چلا گیا.
حنین کی آواز پر زریاب اٹھ کر بیٹھا. اس کی آنکھیں انگارے کی طرح سرخ ہو رہیں تھیں.ایک تو وہ رات سہی طرح سو نہیں سکا تھا دوسرا سفر کی تھکاوٹ اور تیسرا رہتی سہتی کسر افراسیاب کی باتوں نے نکال دی تھی.
حنین ایک مسئلہ ہو گیا ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے زریاب نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی کنپٹیوں کو دبایا.
کیا بات ہے ابھی تو سب ٹھیک تھا کیا ہوا ہے حنین پریشانی سے زریاب کے پاس آ کر بیٹھ گیا.
زریاب نے ایک نظرحنین کو دیکھا اور کہا
مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا.جب میں کچھ کر ہی نہیں سکتا تو میں یہاں آیا کیوں ہوں.؟؟؟
اور نفی میں سر ہلایا
وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو رہا تھا ماتھے پر دو رگیں ابھر آئیں تھیں.
میں ہوں نا تیرے ساتھ بتا کیا ہوا حنین نے زریاب کو کندھوں سے پکڑ کر کہا
زریاب نے ساری بات حنین کو بتا دی.اور کہا
تایا سائیں کے سامنے کوئی بھی نہیں بول سکتا.بابا سائیں بھی نہیں…اوپر سے ماہ نور نے بھی کوئی کسی قسم کا احتجاج نہین کیا کہ میں اسے ہی اشو بناؤں تیسرا چوہدریوں کے آنے میں ٹائم بھی کم رہ گیا ہے اب تو بتا میں کیا کروں…؟؟
حنین نے ساری بات سنی پھر مسکرا کر زریاب کو دیکھا اور کہا
جیسا میں کہتا ہوں اگر تو بلکل ویسا کرے گا تو میرا تیرے سے وعدہ ہے سب ٹھیک ہو جائے گا.بول کرے گا…؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر زریاب سے پوچھا
زریاب خالی ذہن سے حنین کو دیکھتا رہا پھر بولا
“وعدہ”، سب مگر سب ٹھیک تو ہو جائے گا نااا اور اپنا ہاتھ حنین کی طرف بڑھایا.جسے حنین نے فوراً تھام لیا اور کہا “وعدہ”
ٹھیک ہے تو جیسا کہے گا میں بلکل ویسا ہی کروں گا.مگر مجھے کرنا کیا ہو گا.زریاب نے پوچھا
“اگر زندگی میں کامیابی چاہتے
تو ایک ہاتھ میں مکھن اور دوسرے میں چونا جہاں موقع ملے بس لگاتے جاؤ”
حنین نے زریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
…………………….
عترت ٹیرس پر بیٹھی کونین کے بارے میں سوچ رہی تھی دو دن سے یونی بھی نہیں گئی تھی. اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ کونین کو دیکھے یا کم از کم اس سے بات ہی کر لے. مگر کیسے..؟؟
اس کے پاس تو کونین کا نمبر بھی نہیں تھا.پھر اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا کہ دبیر بھائی کے موبائل میں ہالہ بی کا نمبر ہے وہ لے کر میں ان سے کونین کا نمبر مانگ لوں گی یہ ٹھیک رہے گا.
عترت اپنے آپ سے مشورہ کرتی کمرے سے باہر نکلی.اس کی خوش قسمتی کہ دبیر الاونچ میں بیٹھا میچ دیکھ رہا تھا اور خلافِ معمول گھر پر تھا. عترت پر نظر پڑتے ہی دبیر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اورکہا
آؤ گڑیا ادھر آ کر بیٹھو دیکھو کتنا زبردست میچ ہو رہا ہے
بھائی آج آپ اس وقت گھر پر ہیں.زریاب بھائی کے فلیٹ پر ن
نہیں گئے.عترت نے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
نہیں، گڑیا وہ اور حنین گاؤں گئے ہوئے ہیں میں ان دونوں کو مس کر رہا ہوں رات تک لوٹیں گے کل ہی ملاقات ہو گی
دبیر نے افسردہ سے لہجہ میں بتایا
بھائی آپ کو حنین اور زریاب بھائی میں کون زیادہ اچھا لگتا ہے؟؟
دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بہت اچھے ہیں میرے لیے ایک سورج ہے تو دوسرا چاند….
دبیر نے مسکراتے ہوئے عترت کی طرف دیکھا
یہ تو آپ نے چیٹنگ کی ہے..؟؟؟
سیاسی بیان دے دیا…؟؟
عترت نے منہ بنا کر کہا
تم کیا سننا چاہ رہی ہو.اب کی بار دبیر نے ریموٹ سے ٹی وی بند کر دیا اور عترت کی طرف گھوم کر بیٹھ گیا.
دونوں بہت اچھے ہیں مگر رونق زیادہ حنین کے دم سے ہے پتہ عترت مجھے کبھی کبھی بہت ڈر لگتا ہے یہ جو حنین کی طرح کے لوگ ہوتے ہیں ناااااا زندگی سے بھر پور،خوبصورت،اکلوتے سب کے لاڈلے، سب کی جان ، ہر رشتے کی محبت ان کے پاس ہوتی ہے ،ان کی زندگی بہت کم ہوتی ہے یہ لوگ زیادہ نہیں جیتے.مگر جتنا جیتے ہیں کمال جیتے ہیں.میں حنین کو اکثر کہتا ہوں تو اپنی نظر اتارا کرمجھے ڈر لگتا ہے حنین ہمیں چھوڑ کر نہ چلا جائے.اگر کبھی ایسا ہو گیا تو….؟؟؟
اس سے آگے وہ بول نہ سکا اور دبیر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی.
کیا ہو گیا ہے بھائی آپ کو میں نے تو ویسے ہی سوال پوچھا تھا مجھے نہیں پتہ تھا آپ یوں جزباتی ہو جائیں گے.سوری بھائی….
عترت نے شرمندہ اور پریشان ہوتے ہوئے کہا اور جلدی سے بات بدلی
بھائی مجھے ہالہ بی کا نمبر چاہیے میں نے ان سے کچھ ڈسکس کرنا ہے انھوں نے مجھے خود کہا تھا کہ جب بھی کوئی مسئلہ ہوا تو مجھ سے بات کر لینا.
ٹھیک ہے یہ لو موبائل اور کہتے ہوئے دوباری ٹی وی آن کر لیا مگر اب دبیر کا میچ دیکھنے کا دل نہیں کر رہا تھا.
بھائی اس پر تو پاسورڈ لگا ہوا ہے…؟؟ عترت نے موبائل آن کرتے ہوئے منہ بنا کر کہا
میری ہر چیز کا پاسورڈ “عترت”ہے اور دبیر نے پیار سے ریموٹ عترت کے سر پر مارا.
…………………….
پہلے سے طے شدہ “plan”کے مطابق جیسے ہی سب لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے اور کھانا شروع کیا تو زریاب نے اپنے تایا سائیں سے لڑکے کے بارے میں پوچھا.
تایا سائیں لڑکا کیا کرتا ہے میرا مطلب اسد کی طرح ہے..؟؟
زریاب کے سوال پر سردار دلاور علی خان اور سردار حشمت علی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر حنین کو مخاطب کر کے کہا
بیٹا اور سالن ڈالیں خاص آپ کے لیے ہرن پکایا ہے
جی میں لے رہا ہوں…
حنین نے بڑے مودبانہ انداز میں جواب دیا جو کہ اس کی شخصیت کا خاصا نہ تھا.جس پر زریاب نیچے منہ کر کے مسکرانے لگا اور حنین کے قریب ہو کر سرگوشی کی
اتنی سعادت مندی اگر تیرے والدین دیکھ لیں تو یقیناً بےہوش ہو جائیں.
بکواس نہ کر جو کہا ہے وہ کر ٹائم تھوڑا ہے حنین نے زریاب کو مسکراتا دیکھ کر خفگی سے یاد دلایا
بابا سائیں بتائیں نا لڑکا کیا کرتا ہے؟؟ کیا نام ہے؟؟ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو چوہدریوں کی فیملی میں اسد کا ہم عمر کوئی اور نہیں تھا.اب کی بار زریاب کافی سنجیدگی سے ٹیبل پر موجود سب نفوس کو دیکھ رہا تھاجبکہ افراسیاب انتہائی پریشان تھا کہ لالا کو کیا ہو گیا ہے بتایا تو تھا سب کچھ پھر بھی …..؟؟
بلآخر سردار دلاور نے پہلے سردار حشمت علی خان کو دیکھا اور پھر زریاب کو دیکھتے ہوا کہا
اپنا کھانا ختم کرو اور پھر کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں.جسے زریاب نے مان لیا
