Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12 Pt.1


کونین آج یونی میرا داخل ہوتے وقت عترت کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ اسے کس طرح بتائے گا کہ کل میں نے مزاق کیا تھا.ابھی وہ اپنی ہی دھن میں MBA ڈیپاٹمنٹ کی طرف جا رہا تھا جب اسے کسی کی آواز نے روکا.کونین نے مڑ کر دیکھا تو وہ عترت تھا.
سنیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے.
کونین نے ایک نظر اسے سر سے پاؤں تک دیکھا وہ اس دن والی ڈرپوک عترت نہیں لگ رہی تھی.بلکہ آج وہ کافی پر اعتماد تھی.نفیس کپڑے پہنے سلیقے سے حجاب کیے وہ شرافت کا اعلٰی نمونہ پیش کر رہی تھی.
جی……کونین نے جواب دیا اور ساتھ ہی پورا اس کی طرف گھوم گیا.
ابھی صبح صبح تھی کوریڈور میں کافی رش تھا سٹوڈنٹس اور ٹیچرز سب آ جا رہے تھے.
ہم کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں.یہاں بہت شور ہے عترت نے پوچھا
ابھی تو میری کلاس ہے پھر ملتے ہیں کونین نے مسکرا کر ٹالنا چاہا.
مگر مجھے ابھی بات کرنی ہے.عترت نے اپنی فطرت کے مطابق ضد کی….
جیسے وہ دبیر سے کرتی تھی اور وہ مان جاتا تھا.
اچھا……
دو منٹ انتظار کریں میں اپنی attendance لگوا لوں.
کونین کہتا ہوا اپنے ڈیپارٹمنت کی طرف بڑھ گیا.
عترت وہیں کوریڈور میں سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اور آنے جانے والوں کو دیکھنے لگی.
کونین کلاس میں جا کر دوستوں ساتھ گپ شپ کرنے لگا پھر پروفیسر صاحب لیکچر دینے آ گئے.کونین نے آرام سے لیکچر اٹینڈ کیا.وہ مکمل طور پر بھول گیا کہ عترت کو انتظار کا کہہ کر آیا تھا.
عترت کافی دیر سے انتظار کر رہی تھی وہ کبھی گھڑی کو دیکھتی اور کبھی ڈیپاٹمنٹ کی طرف.جب کافی دیر ہو گئی اور کونین نہیں آیا تو اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی.حالانکہ کونین نے کبھی عترت سے محبت کے دعوے نہیں کیے تھے نا ہی وہ دونوں روز ملتے تھے مگر پتہ نہیں کیوں عترت کو بہت رونا آ رہا تھا.کونین مجھے کیسے نظر انداز کر سکتا ہے ..؟؟؟؟
دس بجے کے قریب وہ آنسو صاف کرتی سیڑھیوں سے اٹھی اور اپنے ڈیپاٹمنٹ کی طرف چلنے لگی جب اس کے کان میں حنین کی آواز پڑی.
دبیر کی گڑیا ایک منٹ رکو….
حنین کسی لڑکی کو بہن نہیں کہتا تھا.اس کا کہنا تھا جب اللہ نے مجھے بہن نہیں دی تو میں خود کیوں بہن بناؤں.ہاں میں بھابی بنا سکتا ہوں اس طرح کم از کم دوستوں کا تو بھلا ہو گا.جس ہر دبیر اور زریاب خوب ہنستے..
آپ حنین بھائی…عترت نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے جواب دیا جبکہ آنکھیں نم تھیں.
ہاں…….
مگر تم یہاں کیا کر رہی ہو..؟؟؟
یہ تو تمہارا ڈیپاٹمنٹ نہیں ….
کونین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر پہلے ڈیپارٹمنٹ کی طرف اشارہ کیا پھر عترت کو دیکھا.
بس ویسے ہی….عترت کو جب کچھ نہیں سوجھا تو یہ کہہ دیا.
چلو میرے ساتھ کینٹین چلتے ہیں.
حنین نے عترت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا.
کچھ دیر میں دونوں کینٹن میں موجود تھے. کینٹین تقریباً خالی تھی.کونین کافی کے دو کپ اور دو پراٹھا رول لے آیا جسے دیکھ کر عترت نے کیا
بھائی صبح صبح اتنا میں نہیں کھاؤں گی..؟؟؟
اچھا مت کھانا میں دونوں کھا لوں گا تم بس بل دے دینا. حنین نے کہتے ہوئے کافی کا کپ عترت کو پکڑیا اور خود پراٹھا رول کھانےلگا
عترت کافی کا مگ پکڑے سوچوں میں گم تھی جب حنین کی آواز پر چونکی….
کون ہے وہ..؟؟؟
حنین بظاہر پراٹھا کھا رہا تھا مگر دیھان سارا عترت پر تھا.
کو کو کون ن ن …بھائی
عترت چوری پکڑے جانے پر عجیب شرمندہ ہوئی اور اس نے ہاتھ میں کافی کا کپ زورسے پکڑا
عترت میری طرف دیکھواور بات غور سے سنو.یہ جو میری آنکھیں ہیں نا.یہ سامنے والے کا ایک منٹ مین ایکسرے کر لیتی ہیں کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے اور اس کے ساتھ کیا چل رہا ہے.اوپر سے یونی کا چھ سالہ تجربہ بھی ہے.اب سچ سچ بتاؤ اس میں تمہارا فائدہ ہے اگر تم دبیر کی بہن نہ ہوتیں تو مجھے تم سے کوئی غرض نہیں تھی مگر اب میں تمہارے ساتھ کچھ برا ہوتا دیکھ نہیں سکتا سمجھیں اب شروع ہو جاؤ شروع سے…..
آپ کو کیسے پتہ چلا…؟؟
عترت کو حیرت ہوئی حنین کی باتوں سے..؟؟؟
تم ایک اناڑی چور ہو اور یہ تمہاری پہلی چوری ہے بس….
یہ کہتے حنین نے کندھے اچکائے اور ٹشو سے ہاتھ صاف کرنے لگا.
عترت نے کونین کی پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات کی سب تفصیل حنین کو بتا کر کہا
پلیزززز بھائی کو نہیں بتاناوہ رو دینے کو تھی…
عترت کے منہ سے یہ بات سنتے ہی حنین نے قہقہ لگایا.بھائی کی تو تم فکر نہ کرو.وہ بھی آج کل یہی شغل فرما رہا ہے اس کا کیس بھی میرے پاس ہے…..
عترت نے ناسمجھی سے حنین کو دیکھا
دبیر کی تم فکر نہ کرو میں اسے کچھ نہیں بتاؤں گا.اور اب تم میری بات غور سے سنو…
عترت یہ یونی ہے.تمہیں ہر روز رنگ رنگ کے لوگ ملیں گے کوئی تمہاری تعریف کرے گا.؟
کوئی تمہیں آئی لو یو بولے گا.؟
کوئی تمہیں اس بات کا یقین دلائے گا کہ تم اس کے لیے سب کچھ ہو اور وہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا.؟؟
کوئی پرپوز کرے گا…؟؟
مگر یہ سب دھوکا ہے.
سب جھوٹ ہے.
یہاں پر تم دیکھوں گی روز بریک اپ ہوتا ہے نئی جوڑیاں بنتی ہیں.
آج ایک لڑکا کسی ساتھ نظر آئے گا تو کچھ دنوں بعد وہی لڑکا کسی اور لڑکی ساتھ محبت کا اقرار کر رہا ہو گا.
یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تم یہاں کسی کی بات کو سیریس نہیں لو گی. اور اگر کبھی تمہیں لگے کہ کوئی تمہارے ساتھ مخلص ہے تو تم سب سے پہلے مجھے بتاؤ گی.میں خود دیکھوں گا اسے اگر وہ مجھے ٹھیک لگا تو پھر میں جانوں اور دبیر تمہارا اس میں نام نہیں آئے گا.اور تمہیں اپنی محبت مل جائے گی.مگر اس کے لیے تمہیں مجھ سے سچ بولنا پڑے گا.ٹھیک ہے یہ کہہ کر حنین نے عترت کی طرف دیکھا جو پہلے آنے جانے والوں کو دیکھ رہا تھا.
ٹھیک ہے بھائی میں ایسا ہی کروں گی آپ ملیں گے کونین سے……؟؟؟
یہ کہتے عترت نے نگاہین جھکا لیں.
ہاں کیوں نہیں ضرور ملوں گا.
اور ہاں ایک اور کام تم آج گھر جا کر سو دفعہ میرا نمبر لکھوں گی تاکہ تمہیں اچھی طرح یاد ہو جائے.حنین نے انگلی اٹھا کر عترت کو حکم دینے والے انداز میں کہا
اچھا…مگر میرے موبائل میں آپ اور زریاب بھائی کا نمبر سیو ہے عترت نے جواب دیا
نمبر سیو ہونے سے کچھ نہیں ہوتا موبائل گم سکتا ہے بیٹری لو ہو سکتی ہے تم یاد کروں گی زبانی جیسے چھوٹا بچہ ٹو کا ٹیبل یاد کرتا ہے.کبھی بھی کہیں بھی تمہیں کوئی تنگ کرے یونی میں ستائے تم مجھے کال یا میسج کر دینا میں یہیں ہوتا ہوں سمجھی.حنین نے انگلی عترت کے سر پر رکھتے ہوئے کہا
چلو میں تمہیں تمہارے ڈیپارٹمنٹ میں چھوڑ آؤں.
اب دونوں کینٹین سے نکل کر کوریڈور میں ساتھ ساتھ چل رہے تھے جب عترت نے حنین سے سوال کیا.
اگر یہاں سب جھوٹی محبت کرتے ہیں تو آپ بھی نرمین آپی کو چیٹ کر رہے ہیں.؟؟؟
عترت کو حنین کی باتیں زیادہ پسند نہیں آئیں تھیں.
عترت کے سوال پر حنین نے آنکھیں گھما کر عترت کو دیکھا اور ہنسا.
یاررر وہ اسپیشل کیس ہے اسے پھر کسی دن ڈسکس کریں گے.
ویسے وہ بہت معصوم ہیں.
عترت نے حنین کو دیکھ کر کہا
پتہ نہیں تم لوگوں کو وہ اتنی معصوم کیوں لگتی ہے میرے خیالات اس کے بارے میں ایسے نہیں ہیں.
حنین نے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا
پھر آپ کے خیالات ان کے بارے میں کیسے ہیں…؟؟
عترت نے سادگی سے پوچھا
حنین اس کی بات پر ہنس پڑا.تمہیں کیوں بتاؤں یہ تو میں نے ابھی تک اسے بھی نہیں بتائے.
آپ کو ان میں کیا خاص لگتا ہے؟؟؟
عترت انٹرویو کے موڈ میں تھی.
اُس میں کچھ خاص نہیں بس یہی خاص لگتا ہے
اب دونوں خاموشی سے چل رہے تھے یہاں تک کے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ آ گیا.
اچھا میں چلتی ہوں.
عترت کہتی ہوئی جانے لگی جب حنین نے بلایا
تمہیں میری باتیں بری لگیں.لیکن جب تم یہاں وقت گزاروں گی تو مان لو گی کہ میں نے سب ٹھیک کہا تھا.تم بہت معصوم ہو دبیر نے تمہیں بہت لاڈ سے پالا ہے میرا دل نہیں کرتا کہ تم ٹھوکر کھاؤں.خود تجربہ نہ کروں میری باتیں مان لوں.پہلی محبت کی چوٹ ساری زندگی ستاتی ہے.حنین اب دکھ سے کہہ رہا تھا اور نظروں میں زریاب کا چہرہ تھا.
عترت بغیر کچھ کہے کلاس کی طرف بڑھ گئی جبکہ حنین اسے دیکھتے ہوئے زیرِ لب کونین دہرانے لگا
………………..
دبیر اپنی سوچوں میں گم گاڑی چلا رہا تھا جب اچانک ایک بوڑھا بابا اس کی گاڑی کے سامنے آ گیا.بریک لگانے کے باوجود اسے چوٹ لگی سوری بابا جی دبیر جلدی سے گاڑی سے اترا اور انھیں اٹھاتے ہوئے بولا.
کوئی نہیں پتر تھوڑی ہی سٹ لگی اے.
وہ پنجابی میں بولے
بابا جی آپ کہاں جا رہے تھے آئیں میں آپ کو چھوڑ دیتا ہون.
نہیں نہیں پتر بس ٹھیک ہوں میں خود چلا جاؤں گا.
بابا جی نے جواب دیا
نہیں آپ میرے ساتھ پہلے ہسپتال چلیں پھر میں آپ کو خود اپ کے گھر چھوڑ دوں گا.
دبیر نے بابا کو ہسپتال لا کر ان کی پرچی بنوائی.اور اب وہ دونوں OPD ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑے ڈاکٹر کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ ڈاکٹر انھیں دیکھ کر ڈریسنگ روم میں بھیج دے. دبیر اپنے موبائل میں بزی تھا جب ڈاکٹر رائحہ کی آواز کانوں میں پڑی.
زرا سی چوٹ لگتی ہے تو ہسپتال بھاگے آتے ہیں اتنی ڈریسنگ گھر میں بھی ہو سکتی ہے مگر نہیں….
وہ کسی مریض پر غصہ کر رہی تھی.
دبیر کچھ سوچ کر اس کی طرف بڑھ گیا.
آپ کو ڈاکٹر کس نے بنایا ہے انتہائی بتمیز ہیں آپ..؟؟
میڈیکل کا تو کچھ پتہ نہیں ہے میں آج آپ کی کمپلین کرون گا.
دبیر نے اس کے پاس پہنچ کر قدرے اونچی آواز میں کہا اسے اپنے 40000 بھی یاد آ گئے تھے.
آپ سچ کہہ رہے ہیں آپ میری کمپلین کریں گے..؟؟؟
رائحہ نے پلٹ کر دبیر سے خوش ہوتے ہوئے کہا
جی میں مزاق نہیں کر رہا.
دبیر نے سیریس انداز اختیار کیا
چلیں تو پھر میرے ساتھ آئین.
رائحہ نے ہاتھ کے اشارے سے ایک طرف چلنے کو کہا
دبیر حیرت سے اس کے ساتھ چل پڑا.
وہ دوبوں ایک کوریڈور سے گزر رہے تھے جہاں بہت سے آفس تھے.شاید ہسپتال کا مینجمنٹ ایریا تھا.رائحہ مسلسل بول رہی تھی.
آپ نے سہی سے کمپلین کرنی ہے انھیں بتانا ہے کہ میں ایک بتمیز ڈاکٹر ہوں مریضوں سے میرا رویہ ٹھیک نہیں میں ڈیوٹی hoursمیں سوتی رہتی ہوں مریض ٹھیک چیک نہین کرتی اور نا ہی میڈیسن مریض کے مطابق دیتی ہوں اب وہ ایک کمرہ کے پاس پہنچ چکے تھے.جب رائحہ نے تھوڑا دبیر کے قریب ہو کر کہا کوشش کرنی نوکری کے ساتھ ساتھ وہ میرا ڈاکٹری لائسنس بھی کینسل کر دیں.بڑے لوگوں کی بات سنتے ہیں غریب کی کمپلین کی کوئی اہمیت نہیں یہ کہہ کر اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور خود جانے لگی مگر پھر اپنے ہی پاؤں پر گھوم گئی.
آپ نے پرفیوم تبدیل نہیں کیا؟؟ قسم سے سر گھوم جاتا ہے اس کی smell سے پتہ نہیں آپ کے فرینڈز کیسے بیٹھتے ہوں گے اپ کے پاس اور ناگواری سے دبیر کو دیکھا.
تو آپ کو کس نے کہا ہے میرے پاس ہونے کو..
دبیر کو آگے ہی اس کی بکواس سے غصہ آیا ہوا تھا وہ اسے ڈرانا چاہ رہا تھا مگر یہاں کیس ہی کچھ اور تھا….
کیوں آپ کے پاس آنے پر پابندی ہے…؟؟؟
رائحہ کہتی ہوئی چلی گئی مگر دبیر اس کی بات سوچ کر مسکرانے لگا.
“کوئی پابندی نہیں آپ پاس آ سکتی ہیں”
………….