Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 26 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26 Pt.2
تھوڑی دیر بعد حنین نے اپنے whatsAap پر سٹیٹس لگایا
“الحمداللہ میرے نکاح کی ڈیٹ فکس ہو گئی ہے مگر نرمین دیکھو مجھے کیا کہہ رہی ہو”
“حنین ساتھ زیادتی ہے😭😭
نرمین”
سٹیس دیکھ کر نرمین کو جہاں حنین پر بہت غصہ آیا وہیں وہ بہت خوش بھی ہو گئی آخر کار اس کی مراد بھر آئی حنین ساتھ زندگی گزارنا آسان کام نہ تھا مگر خوشی اس بات کی تھی کہ وہ اس کا تھا اور ہمیشہ رہے گا.اب اسے تھوڑی دیر پہلے کی حنین کی گفتگو سمجھ آ رہی تھی اور اپنی بےوقوفی پر ہنسی رہی تھی………
“محبت خوبصورت ہے”
محبت خوبصورت ہے
محبت اوس کی صورت گلوں پر جگمگاتی ہے
سمندر ،آگ ،دریا سب محبت کے کرشمے ہیں
محبت موج کی صورت کنارہ ڈھونڈ لیتی ہے
کسی بچھڑے مسافر کو دوبارہ ڈھونڈ لیتی ہے
محبت خوبصورت ہے
محبت آنکھ میں چھپے تیرے سب راز لگتی ہے
محبت ہونٹوں پر لرزاں تیری کوئی بات لگتی ہے
محبت اک دریچہ بادلوں کی کوئی چلمن ہے
محبت آسماں کے سارے حسیں منظروں کی صورت
محبت نرم چھاوں میں کسی آنچل کی صورت
کسی شاعر کے لفظوں سے بنی تحریر لگتی ہے
محبت کسی آرٹسٹ کی کوئی تصویر لگتی ہے
…………..
زریاب کو مہینا ہو گیا تھا وہ اب بہت بہتر تھا بازو تو دیکھنے میں ٹھیک ہی لگتا تھا مگر سینے کی کافی تکلیف تھی اس کے باوجود اس نے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ اس نے گھر جانا ہے.افراسیاب اور سردار دلاور اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے مگر وہ ماننے کو تیار نہیں تھا ابھی ان تینوں میں یہی بحث چل رہی تھی جب حنین کمرے میں داخل ہوا
بیٹا تم اسے سمجھاؤں ڈاکٹر چاہتے ہیں کہ یہ ابھی ہفتہ اور ہسپتال میں رہے مگر اس نے جانے کی رٹ لگا رکھی ہے
سردار دلاور نے حنین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
آپ بات تو کر کہ دیکھیں شاید ڈاکٹر مان جائیں..؟؟؟
حنین نے جواب دیتے ہوئے زریاب کی طرف دیکھا جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا
حنین کے آتے ہی سردار دلاور اور افراسیاب اس سے مل کر باہر چلے گئے.
گھر یاد آ رہا ہے یا گھر والی..؟؟
حنین نے زریاب کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے شرارت سے پوچھا
دونوں….. زریاب نے جواب دیا
تُو اس کو بتا کیوں نہیں دیتا..؟؟؟
حنین نے زریاب کو خوش دیکھ کر کہا
کیا بتاؤ……؟؟؟؟جواب دینے کی بجائے زریاب نے الٹا حنین سے سوال کیا.
“یہی کہ تم آؤں تو شاید کوئی بات بنے ورنہ طبیبوں کا صاف انکار ہے”
حنین نے کہتے ہوئے قہقہ لگایا جس میں زریاب نے بھی اس کا ساتھ دیا.
یار ویسے تُو کمال کی چیز ہے تیرے دماغ میں کیا کچھ بھرا ہوا ہے.
زریاب نے ہنستے ہوئے کہا
اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور دبیر بھی آ کر کرسی پر بیٹھ گیا
تُو کب آیا..؟؟؟دبیر نے حنین کی طرف دیکھ کر پوچھا
ابھی تیرے آنے سے تھوڑی دیر پہلے…..
حنین نے جواب دیا
اچھا ….اور تو کب تک ڈسچارج ہو رہا ہے پتہ تو چل گیا ہو گا کہ next sunday کو شیطان کا نکاح ہے….
دبیر نے حنین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جبکہ حنین نے اپنی آنکھیں گھما کر دبیر کو دیکھا
بھیجا تو ہے بابا سائیں کو دیکھو کیا کرتے ہیں..
زریاب نے تھکے سے لہجے میں جواب دیا
پیرنی آئی تھی تجھے دیکھنے…؟؟؟
حنین نے زریاب سے پوچھا
نہیں…زریاب نے سرد لہجہ میں جواب دیا
پھر بھی گھر جانے کی اتنی جلدی…؟؟؟
حنین نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے جواب دیا
ہاں بس دیکھ لے…زریاب نے مسکرا کر کہا
“ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺧﻮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ
ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮯ
“ﻣﺤﺒﺖ ” ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﻧﮑﮫ
ﻣﭽﻮﻟﯽ ﮐﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭘﮑﯽ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ
ﺍﺗﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩﻻﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ
ﮐﻮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ
ﺳﯿﮍﮬﯽ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﯾﺘﯽ
ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ
ﭼﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ….
اب دیکھنا یہ ہے کہ “محبت “تیرے ساتھ ان دونوں میں سے کون سا سلوک کرتی ہے..؟؟؟.”
حنین نے جیسے ہی یہ کہا زریاب اور دبیر نے اسے بڑے غور سے دیکھا جیسے یقین کر رہے ہوں کہ یہ تو کہہ رہا ہے..؟؟
ایسے کیا دیکھ رہے ہو..؟؟؟
حنین نے ان کی نظریں خود پر محسوس کرتے ہوئے پوچھا
خیر ہے آج کل بڑا فلسفہ جھاڑتا ہے یا تجھے شاعری کا دورہ پڑ جاتا ہے آخر معاملہ کیا ہے..؟؟
دبیر نے تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں…بس نرمین کے اثرات ہیں اب اتنے سالوں میں اتنا اثر تو بنتا ہے.
حنین نے مسکرا کر اپنے کندھے اچکائے.
………………….
زریاب کو ڈاکٹرز نے چالیس دن بعد چھٹی دے دی تھی اور بہت ساری احتاط بھی بتائیں تھیں. زریاب ہسپتال سے سیدھا اپنے فلیٹ پر جانا چاہتا تھا مگر سردار حشمت علی خان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ زریاب ہسپتال سے سیدھا حویلی آئے گا اور ماہ نور کی زریاب ساتھ دھوم دھام سے شادی ہو گی اس کے بعد ماہ نور بھی زریاب ساتھ شہر شفٹ ہو جائے گی کیونکہ زریاب کو اس وقت ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو اس کا دن رات خیال رکھے اور بیوی سے بڑھ کر کوئی ہمدرد ساتھی نہیں ہو سکتا.
سردار حشمت علی خان اس وقت زریاب کے کمرے میں موجود تھے انھوں نے باقی گھر والوں بشمول ماہ نور کے وہیں بلا لیا تھا تھوڑی دیر میں سب نفوس کمرے میں تھے جب سردار حشمت علی نے ماہ نور کو پکارتے ہوئے سب پر ایک نظر مارتے کہا
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس جمعہ کو ماہ نور اور زریاب کی مہندی ہو گئی ہفتہ کو بارات اور اتوار والے دن ولیمہ کے ساتھ ہی ماہ نور اور زریاب کو شہر بھیج دیا جائے گا ویسے بھی بیٹیاں شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر ہی اچھی لگتی ہیں اور پھر اس وقت زریاب کو ماہ نور کی ضرورت بھی بہت ہے آپ میں سے کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں….؟؟؟
سب نے جوشی کا اظہار کیا جبکہ ماہ نور کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو رہا تھا پر وہ بولی کچھ نہیں.
بیٹا سائیں آپ نے کچھ کہنا ہے..؟؟
سردار حشمت نے ماہ نور سے پوچھا
ماہ نور نے نظر اٹھائے بغیر سر نفی میں ہلا دیا
جبکہ زریاب جو کافی دیر سے ماہ نور کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا بول پڑا
مگر مجھے اعتراض ہے میں ابھی ٹھیک نہیں ہوں ویسے بھی شہر والا گھر صرف میرے رہنے کے قابل ہے ماہ نور وہاں کیسے رہے گی..؟؟؟
سردار حشمت نے خاموشی سے زریاب کی باتیں سنی اور پھر بولے
بیٹا سائیں بیوی صرف خوشیوں کی ساتھی نہیں ہوتی بلکہ اچھی بیوی وہ ہے جو اپنے شوہر کے دکھ درد میں اس کا ساتھ دے تمہیں اس وقت ماہ نور کی ضرورت ہے، رہی بات وہ فلیٹ ماہ نور کے قابل نہیں تو سلیقہ مند عورت جس جگہ بھی جائے اسے ٹھیک کر لیتی ہے مجھے اپنی بیٹی پر اعتماد ہے تم فکر نہ کرو.
اب زریاب کیا کہتا اس کی تو بولتی ہی بند ہو گی وہ بھی حقیقت میں یہی سب چاہتا تھا بس ماہ نور کی وجہ سے کہہ رہا تھا.
ماہ نور نے اپنے کمرے کا دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے اپنا آدھا غصہ دروازے پر اور آدھا ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی سب چیزوں کو نیچے پھینک کر نکالا
منحوس کہیں کا…..ابھی ماہ نور زریاب کو کوسنے ہی لگی تھی کہ سردار دلاور دروازہ نوک کرتے اندر داخل ہوئے.
چچا سائیں آپ کو شرط یاد ہے نا……
ماہ نور نے انھیں دیکھتے ہوئے قدرے اونچی آواز میں کہا
یاد ہے بلکل یاد ہے مگر تب کہ اور اب کہ حالات میں بہت فرق ہے یہ آپ بھی جانتی ہیں.
سردار دلاور نے پیار سے ماہ نور کو اپنے پاس بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے سمجھایا
مگر چچا سائیں …؟؟؟؟
ماہ نور نے بولنے کی کوشش کی ہی تھی کہ سردار دلاور بول پڑے
دیکھو بیٹا مجھے تمہاری بات بغیر تمہارے کہے ہی سمجھ آ گئی ہے اس لیے پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا جیسے ہی زریاب کی طبیعت بہتر ہو گی میں خود تمہیں جا کر واپس گاؤں لے آؤں گا ٹھیک ہے.آخر میں انھوں نے ماہ نور کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا
ناچاہتے ہوئے بھی ماہ نور نے ہاں میں سر ہلا دیا
……………
