Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 27 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27 Pt.2
دبیر سارا دن حنین کی باتوں کی وجہ سے ڈسٹرب رہا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ عترت کچھ ایسا کر سکتی ہے چار بجے کے قریب وہ آفس سے نکلا اور گھر کے راستے پر گاڑی ڈال دی گھر آ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا سارا دن خود سے ہی الجھتا رہا بلآخر اس نے عترت سے بات کرنے کا فیصلہ کیا.اور اس کے کمرے کی طرف چل پڑا…
عترت اپنے کمرے میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر فلم دیکھ رہی تھی جب دروازے پر دستک دیتے ہوئے دبیر اندر داخل ہوا عترت نے دبیر کو دیکھتے ہی لیپ ٹاپ بند کیا اور سیدھی ہو کر بیڈ پر بیٹھ گی.
بھائی کوئی کام تھا..؟؟ مجھے بلا لیتے.
عترت نے بیڈ پر دبیر کے لیے جگہ بناتے ہوئے پوچھا
گڑیا ادھر میرے پاس آؤ…..
دبیر نے یہ کہتے ہوئے اپنا سیدھا بازو کھول کر عترت کو اپنے ساتھ لگایا
میں تمہارا کبھی بھی برا نہیں چاہ سکتا میرا تم سے زبان کا نہیں بلکہ خون کا رشتہ ہے میں نے تمہیں بھائی نہیں باپ بن کر پالا ہے اس لیے میں جو بھی فیصلہ تمہارے لیے کروں گا اس میں تمہارا ہی فائدہ ہو گا سمجھی…….
میں تم سے کچھ نہیں پوچھوں گا بس تم کو بتاؤں گا کہ آئندہ میں تمہاری زبان سے “کونین”کا لفظ نہ سنو.تم اس کے لیے نہیں بنی ہو اس لیے اپنے قیمتی جذبات اس پر ضائع نہ کروں اور مجھے یہ سوچنے پر مجبور نہ کروں کہ میرا تمہیں یونی میں داخل کرانا غلط فیصلہ تھا.
دبیر کی باتیں سنتے ہی عترت پہلے تو سکتہ میں آگئی پھر تھوڑی ہمت کر کہ بولی
بھائی وہ بہت اچھے ہیں…
مطلب میں برا ہوں..؟؟؟
دبیر نے قدرے غصہ سے پوچھا
نہیں میرا یہ مطلب نہیں ہے مگر مجھے وہ بہت پسند ہیں کیا آپ میری پسند کو اہمیت نہیں دیں گے …؟؟؟
عترت نے سوالیہ نظروں سے دبیر کی طرف دیکھا
گڑیا بحث نہیں جو کہا ہے اس پر عمل کرو ورنہ “کونین”تمہیں زمین کے اوپر نظر نہیں آئے گا.
دبیر عترت کا سر چومتا کمرے سے باہر چلا گیا جبکہ عترت نم آنکھوں سے دروازے کو دیکھتی رہی
……………..
حنین رائحہ کو لے کر زریاب کے فلیٹ پر آیا اسے سارا فلیٹ دیکھنے کے بعد بولا
آپ نے فلیٹ اچھی طرح دیکھ لیا ہے…؟؟؟
جی میں نے دیکھ لیا ہے رائحہ نے جواب دیا
چلیں پھر چلتے ہیں حنین نے رائحہ کے لیے باہر کا دروازہ کھولا اور پھر دروازے پر لاک لگانے لگا.
رائحہ نے اسے اتنی جلدی میں دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکی.
آپ کو کس چیز کی جلدی ہے..؟؟؟
دو چیزیں انسان کے ہاتھ سےبہت جلدی نکل جاتی ہیں
ایک وقت اور
دوسری آم کی گٹک..🤭🙊😂😂
میری نوی نکور تحقیق…😁😁
حنین نے کہتے ہوئے ہنسنا شروع کر دیا جبکہ رائحہ سر نفی میں ہلانے لگی
پھر دونوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئے
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی اگر آپ کو برا نہ لگے تو پوچھ لوں….؟؟؟
رائحہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا
بس ایک بات ..؟؟؟
مجھے لگا کم از کم ایک درجن تو پوچھیں گی.؟؟؟
حنین نے ہنستے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے جب پہلی دفعہ آپ نے نرمین کا تعارف کرایا تو کہا تھا کہ وہ آپ کی بیوی ہے پھر ہسپتال میں کہا کلاس فیلو ہے اور اس دن پارٹی میں بولا کہ روم میٹ ہے..؟؟؟
یہ چکر کیا ہے؟؟؟ رائحہ نے کنفیوژ ہوتے ہوئے پوچھا
اچھی یاداشت بھی ایک مسئلہ ہے مجھے آج اس بات کا احساس ہوا ہے آپ ان باتوں کو چھوڑیں اور کام کی بات پوچھیں
حنین نے مسکراتے ہوئے رائحہ کو دیکھا
مثلاً…رائحہ نے کہا
مثلاً یہ کہ میں آپ کو فلیٹ پر کیوں لے کر گیا تھا..؟؟؟
…………………
حویلی میں شادی کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھیں پوری حویلی کو سجایا گیا تھا کیونکہ اب سرداروں کو چوہدریوں کا ڈر نہیں تھا بلکہ چوہدریں اب ڈر رہے تھے کیونکہ زریاب پر فائرنگ کرنے کی وجہ سے ان پر اقدامِ قتل کی دفع لگتی تھی مگر سرداروں نے دشمنی ختم کرنے کے لیے ان کہ کہنے پر انھیں معاف کر دیا تھا
سب ہی بہت خوش تھے سوائے ماہ نور کے،اسی خوشی نہیں ہو رہی تھی وہ اپنی حالت پر ہنس رہی تھی اتنی دفعہ دلہن بنی ہوں کہ اب نہ شرم آ رہی ہے اور نہ ہی روپ….
اس نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوئے سوچا
جو خوشی اسے اسد کی دلہن بن کر ہوئی تھی اس کے بعد کسی کی دلہن بننے پر اس کے وہ جذبات نہ تھے اور زریاب کا تو سوچ کر ہی اس کا رنگ سرخ ہو جاتا تھا شرم سے نہیں بلکہ غصہ سے….
زریاب اگر میں چین سے نہ رہی تو تمہیں بھی نہیں رہنے دوں گی تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ مجھ سے دور رہو.
وہ اپنے خیالوں میں زریاب سے مخاطب تھی.
“اپنے بڑوں کی عزت پر قربان ہو جاتیں ہیں
گاؤں میں بیٹیاں تو بس نیلام ہو جاتیں ہیں
جن کو نہ ہو زندگی خود جینے کا حق..
ماہ نور جیسی لڑکیاں پھر کیا مسکرا پاتی ہیں؟؟
وہ تو جیتی ہیں بس زندگی گزارنے کے لیے
پھر محبت کو بھی وہ کہاں اپنا پاتی ہیں
غلط نہ سمجھو تم ماہ نور جیسوں کو
دل ہوتے ہوئے بھی ان پر زنگ لگا جاتی ہیں
جو کر لو پیار سے بات تو رو پڑتی ہیں
صحیح ہوتے ہوئے بھی غلط کا خول چڑھا جاتی ہیں”
(خدیجہ عاطف)
……………
