Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 22 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22 Pt.2
ملک صاحب نے غزالہ بیگم سے جھوٹ بول کر ،کہ ان کا کوئی دوست ہسپتال داخل ہے رات یہاں رکنے کا بندوبست کر لیا تھا صبح کے تقریباً پانچ بج رہے تھے جب حنین کو ہوش آیا. پہلے تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے پھر آہستہ آہستہ دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو گزشتہ رات آنکھوں کے سامنے گھوم گئی.بےساختہ حنین نے زریاب کو پکارا.جیسے ہی حنین کے منہ سے دو تین بار زریاب کے الفاظ نکلے قریب پڑی کرسی پر نیم غنودگی میں بیٹھے ملک صاحب فوراً ہوش میں آئے.
حنین میرے بچے آنکھیں کھولو تمہارے ڈیڈ یہاں ہیں تمہارے پاس….ملک صاحب نے حنین کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
ڈیڈ…. زریاب کیسا ہے..؟؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول انکھیں جو پوری طرح نہیں کھولیں تھی گھما کر باپ سے پوچھا
اس کو آپریشن ہو گیا ہے انشاءاللہ جلدی ٹھیک ہو جائے گا تم اس کی فکر مت کروں.
ملک صاحب نے حنین کی طبیعت کے پیشِ نظر پوری بات بتانے سے گریز کیا.
شکر ہے اللہ کا…حنین نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا پھر ملک صاحب سے کہا
ڈیڈ مجھے پیاس لگی ہے…؟؟؟
میں نے پانی پینا ہے.
(ساتھ ہی اسے نرمین یاد آ گئی ایسا ہی کچھ اس نے مجھے بولا تھا کاش تم اس وقت یہاں ہوتی اور مجھے پانی پلاتی.حنین نے دل میں سوچا)
ملک صاحب نے فوراً حنین کو سہارے سے بیٹھایا اور پانی پلایا.
ڈیڈ دبیر کو بلائیں میں نے اس سے ملنا ہے. حنین نے ملک نزیر سے کہا
اچھا میں بلا کر لاتا ہوں بیچارہ ساری رات تم دونوں کی وجہ سے جاگتا رہا ہے.
یہ کہتے ہوئے ملک نزیر نے اپنے موبائل سے دبیر کو کال کی….
………………..
حویلی میں دعاؤں کا سلسلہ جاری تھا گاؤں کی مسجد میں جو بچے قرآن حفظ کرنے کے لیے رہائش پزیر تھے انھیں سردار حشمت نے حویلی بلا لیا تھا ان کی خوب خاطر مدارات بھی کیں تھیں اور انھیں زریاب کے لیے قرآن خانی کا کہا تھا بچے اور بڑے سب ساری رات زریاب کی زندگی کے لیے دعائیں کرتے رہےتھے .کوئی نفل پڑھ رہا تھا، تو کوئی قرآن اور کوئی تسبیحات کا ورد کر رہا تھا.مقصد سب کا ایک ہی تھا کہ خدا زریاب کو زندگی دے سردار حشمت علی خان کود بھی ساری رات نہین سوئے تھے بلکہ حویلی میں کوئی بھی نہیں سویا تھا. سوائے بیگم نسرین کے جنھیں ماہ نور نے دوا دے کر سلا دیا تھا اور ٹھیک ہی کیا تھا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کے غم میں رو رو کر نڈھال ہو گئیں تھی.
صبح کے وقت بیگم کوثر، ماہین اور پارو فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گئیں تھیں جبکہ سردار حشمت کے کہنے پر زریاب کی زندگی کے لیے فجر کی نماز کے بعد مسجد میں خصوصی دعائیں مانگیں گئیں اور نیاز بھی تقسیم کی گئی.
ماہ نور ساری رات نہین سوئی تھی اور اب بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وجہ یہ نہیں تھی کہ اسے زریاب کا دکھ تھا وجہ یہ تھی کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ زریاب منحوس ہے یا میں…..؟؟
کبھی وہ زریاب کو منحوس قرار دیتی …….
تو کبھی اپنے آپ کو….
جو بھی مجھ سے نکاح کرتا ہے مارا جاتا ہے اسد نے نکاح کیا تو اسے زریاب نے ما دیا …….
زریاب نے مجھ سے نکاح کیا تو اسے چوہدریوں نے مار دیا…
نقصان دونوں صورتوں میں میرا ہوا.آخر کیوں…؟؟؟؟؟ اس لیے کہ میں منحوس ہوں. بابا سائیں ٹھیک کہتے ہیں کہ میرے پیدا ہونے کےبعد کچھ بھی ٹھیک نہین ہوا.ہاں میں ہی منحوس ہوں…….
میرے لیے تو کوئی نہیں روتا تھا نہ صدقے دیے جاتے تھے.اور اس زریاب کے لیے کیسے سب کی جان نکلی ہوئی ہے میرے اپنے بھی مرتے جا رہے ہیں.زریاب تم نے مجھ سے میرے اپنے بھی چھین لیے ہیں.اسی لیے نفرت ہے مجھے تم سے……
ماہ نور زریاب سے حسد اور بدگمانی کی انتہا پر تھی.اس کی ساری رات انھی باتوں میں گزری.اس نے پچھلی سب باتوں کو دہرایا.اور آخر میں پھر اسی نتیجہ پر پہنچی کہ میری خوشیوں کا قاتل زریاب ہے اسے سزا ملنی تھی میرے گھر والوں نے نہیں دی تو کیا ہوا اللہ نے دے دی.اچھا ہوا زریاب ساتھ……….
پھر اندر سے آواز آئی ماہ نور کچھ شرم کر تو اتنی خود غرض کب سے ہو گئی ہے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے اٹھ اس کے لیے دعا کر …..
ماہ نور نے اپنے اردگرد نظر ڈالی اس وقت سب بےخبر سو رہے تھے وہ اٹھی اور جائے نماز بچھا کر نفل پڑھے مگر آخر میں پھر وہی مسئلہ کہ اس کے لیے میں کیوں دعا مانگو سارے ہی تو مانگ رہے ہیں ایک میرے نہ مانگنے سے اسے کیا فرق پڑے گا….؟؟؟؟؟
مگر پھر اس نے سر کو جھٹک کر زریاب کی زندگی کے لیے دعا مانگی اور ایسا ماہ نور نے پہلی بار کیا
…………………..
دبیر پیار سے حنین کے بالوں کو ٹھیک کر رہا تھا جبکہ ملک نزیر اب مطمئن ہو کر گھر چلے گئے تھے.رائحہ نے حنین کی خود ڈریسنگ کر کے اس کا بازو اس کے گلے میں لٹکا دیا تھا تاکہ کون نیچے کی طرف دباؤ نہ ڈالے.جس پر حنین نے بہت شور مچایا تھا.
یار میں تیری styloo سے بہت تنگ ہوں بات نہیں مانتی….
حنین نے منہ بنا کر دبیر سے کہا
اب کیا کیا جائے…؟؟؟؟بات تو وہ میری بھی نہیں مانتی….
دبیر نے حنین کو مسکراتے ہوئے جواب دیا
یار تو اس کی پٹائی کر…..زرا سی طبیعت بہتر ہوئی تھی کہ حنین کی زبان نے کام کرنا شروع کر دیا.
کیوں…؟؟دبیر نے حیرانگی سے کہا
کیونکہ اسے ضرورت ہے میں نے منع بھی کیا تھا پھر بھی اس نے میری ایک نہیں سنی اور بازو باندھ کر چلی گئی.
حنین نے ناگواری سے کہا
تیری بہتری ہے اس میں…..
دبیر نے سمجھاتے ہوئے کہا
حنین نے تھوڑی دیر منہ بنا کر رکھا پھر دبیر سے کہا
مجھے زریاب پاس لے چل میں نے اسے دیکھنا ہے.
اچھا لے جاتا ہوں مگر پہلے تو کچھ کھا کر دوائی لے ….
دبیر نے حامی بھرتے ہوئے کہا
……………….
