Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4 Pt.2

بوا دیکھو ابھی تک عترت بی بی تیار ہوئیں ہیں کہ نہیں…؟؟؟
دبیر نے ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوا کہا…
جی صاحب دیکھتی ہون…
اونہہ کتنی دفعہ کہا کہ بوا صاحب نہ کہا کرو…
بیٹا ہوں آپ کا…
صبح صبح موڈ خراب کر دیا….
دبیر نے مصنوعی خفگی سے کہا….
ارے بیٹا ناراض کیوں ہوتے ہو اللہ تمہیں خوش رکھے ہم نوکروں کا مان رکھتے ہو تمہیں چاند سی دلہن دے……
کچن سے آتی عالیہ بیگم اور سیڑھیاں اترتی عترت نے ایک ساتھ آمین کہا…
جس پر دبیر مسکرا کر رہ گیا
عترت نے ماں کو سلام کر کے بھائی کے ساتھ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی
اچھا تو ہماری گڑیا کا آج پہلا دن ہے یونی میں بریڈ کھاتے ہوئے دبیر نے عترت سے پوچھا…
عترت کی خوشی دیدنی تھی جی بھائی اور آپ ہی مجھے یونی چھوڑے گئے اور واپسی پر آپ نے ہی مجھے لینا ہے عترت نے لاڈ سے کہا…..
عالیہ بیگم کا پارہ عترت کی فامائش پر پھر ہائی ہوا…
اسے کوئی کام نہیں ہے جو تمہاری یونی کے چکر لگاتا رہے ڈرائیور ساتھ چلی جاؤوہی لے بھی آئے گا…
اماں بی رہنے دیں اج کل آفس زیادہ کام نہیں ہے میں مینج کر لوں گا…
چلو تم نے تو فرض بنا لیا ہے اپنا اس کی ہر خواہش پوری کرنا اور ماں کی نہ سننا…
ثریا بیگم غصہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں..
کیا ہوگیا ہے؟؟؟ صبح صبح…..
آپ کی باتیں بھی تو مانتا ہوں کونسی خواہش ہے جو پوری نہیں کی…
دبیر نے لاڈ سے ماں کو دوبارہ کرسی پر بیٹھایا..
عترت بھی کھڑی ہو گئی اور ماں کے گرد اپنے بازو حائل کر کے بولیں…..جی بتائیں بھائی کو…..
جب بھی شادی کا کہتی ہوں مانتا نہیں ہے ایک ہی خواہش ہے اس کے سر پر سہرا دیکھو…..
کتنی لڑکیاں دیکھیں کوئی پسند نہیں آتی کیا کرو میں …..
یہ کہہ کر عالیہ بیگم رونے لگیں
عترت نے بھائی کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہوغلط ہو گیا صبح صبح اب سمبھالیں ….
دبیر نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے اور کرسی سے کھڑا ہو کر ماں کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
ٹھیک ہے میں نے سوچا تھا پہلے عترت کی شادی ہو جائے مگر اگر آپ کو گھر کا سکون عزیز نہیں ہے تو لےآئیں بہو……..
شرارت سے بولتے ہوئے کہنے لگا پھر مجھے شکایت مت کرنا کہ آج اس نے یہ کر دیا وہ کر دیا میں کسی چیز کا ذمےدار نہیں ہونگا
.اور ہاں جو لڑکی آپ کو پسند ہے وہی ٹھیک ہے جس دن بارات لے کر جانی ہو مجھے بتا دینا….
دبیر نے بھی روز روز کی بحث سے جان چھڑائی اور مسکراتا ہوا کھڑا ہو گیا….
ویسے بھی اسے خود سےکوئی لڑکی پسند نہیں تھی سو جو بھی ہو ٹھیک ہے
عترت اور بیگم عالیہ دونوں نے حیرت سے دبیر کو دیکھا……..
جیسے یقین کر رہیں ہوں کہ سچ کہہ رہے ہو….
پھر بھائی کی طرف داد دینے والی نظروں سے عترت نے دیکھا
دبیر نے مسکراتے ہوئے ماں کے سر کا بوسہ لیا
چلیں ڈاکٹر صاحبہ باقی کا یونی میں حیران ہو لینا ابھی دیر ہو رہی ہے عترت نے ماں کو خوشی سے چوما آج تو سچ مچ بہت اچھا دن ہے…….
گاڑی جیسے ہی گھر سے باہر نکلی عترت نے پر جوش طریقے سے پوچھا
بھائی آپ نے ابھی ابھی جو کچھ اماں بی کو بولا ہے وہ صرف مسکا تھا یاسچ مچ ہم چاند جیسی بھابی تلاش کرین
بری بات عترت…دبیر نے مصنوعی غصہ دکھایا
ایسے کہتے ہیں…میں نے امان بی کو مسکا نہیں لگایا..سچ کہا ہے
اور ہاں خیال سے یہ جو چاند جیسی بھابیاں ہوتیں ہیں نا وہ دن میں تارے بھی دکھاتی ہیں
اور ہنسنے لگ گیا جبکہ عترت نہ منہ بنا لیا
تھوڑی دیر خوش نہ ہونے دینا
اچھا بابا موڈ اچھا کرو اور میری بات غور سے سنو دبیر نے سنجیدہ لہجہ میں کہا
عترت ناسمجھی سے بھائی کو دیکھنے لگی
میں نے تمہارے فون میں حنین اور زریاب کا نمبر سیو کر دیا ہے اگر کبھی میرا نمبر نہ ملے تو ان میں سے کسی کو کال کر لینا. میڈیکل ڈیپاٹمنٹ کے ساتھ ہی ایم بی اے کا ڈیپاٹمنٹ ہے یونی میں کسی بھی قسم کا کوئی بھی مسئلہ ہو تو حنین پاس چلی جانا او کے
عترت نے ہاں میں سر ہلایا
چلو شاباش اب اترو نیچے اور میں لینے آ جاؤ گا پریشان نہ ہونا.
دبیر نے یونی کی پارکنگ میں گاڑی روکتے ہوئے کہا
شکریہ…..
عترت کہتی ہوئی جب تک یونی کا گیٹ کراس نہیں کر گئی دبیر وہیں کھڑا رہا
………………………………….
زریاب نے زنان خانے میں قدم رکھا اور کریمو خالہ کو بھیجا پارو کو بلانے کے لیے..
تھوڑی دیر میں پارو آتی ہوئی نطر آئی زریاب کھڑا ہو گیا اور مسکراتے ہوئے پارو کی طرف دیکھنے لگا…
جی لالا اپ نے بلوایا…
پارو نے زریاب کے قریب آتے کہا…
ہاں ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو زریاب نے اپنے پاس جھولے میں جگہ بناتے ہوئے کہا..
اب دونوں لکڑی کے بنے بڑے سے جھولے میں جھولا جھول رہے تھے…
پارو میں آج شہر واپس جا رہا ہوں اگر کچھ منگوانا ہو تو بتا دو میں اگلی دفعہ جب آؤں گا تو گڑیا کے لیے لیتا آؤں گا..
زریاب نے بڑے پیار سے کہا..
لالا مجھے ٹیبلٹ چاہیے پارو نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا…
مگر تم کیا کرو گی اس کا….
ابھی تم چھوٹی ہو….؟؟؟
زریاب نے آنکھیں دیکھائی…
وہ ہنسنے لگ گئی….
لالا سمجھے نا…میری ساری فرینڈز پاس ہے اور پھر افراسیاب پاس بھی تو ہے آخر میں منہ بنا کر کہا…
اچھا تو اصل مسئلہ افراسیاب کے ٹیبلٹ سے ہے…
زریاب نے پارو کے سر پر چت لگاتے ہوئے کہا….
وہ لالا مجھے اپنا ٹیبلٹ نہیں دیتا..پارو نے منہ بنایا…
مگر وہ تو بڑا ہے کالج جاتا ہے جبکہ تم چھوٹی ہو ابھی سکول جاتی ہو…
زریاب نے سمجھانے والے انداز میں کہا…
اچھا تو پھر پوچھا کیوں تھا کیا چاہیے؟؟؟
پارو نے ناراضگی سے کہا…
زریاب ہنسنے لگا…
میں نے یہ تو نہیں کہا کہ لے کر نہیں دوں گا.
تو پھر…؟؟؟؟؟پارو نے حیرانگی سے زریاب کو دیکھا
سمجھایا ہے کہ ابھی تمہیں اس کی ضرورت نہیں….
.لیکن اگر تمہاری خواہش ہے تو پھر مل جائے گا…
زریاب نے پارو کی طرف مسکراتے ہوئے کہا..
اچھے لالا…آپ سب سے اچھے ہیں…پتہ میں آپ کو بہت مس کرتی ہون…پارو نے لاڈ سے زریاب کے بازو ساتھ ٹیک لگا لی..
اچھا اچھا اب زیادہ مکھن نہ لگاؤ…
زریاب نے اس کے گرد اپنا بازو حائل کرتے ہوئے کہا….
اچھا کیوں بلایا تھا پارو نے کچھ یاد آنے پر بولا….
وہ اصل میں پارو لالا کی گڑیا اب زریاب بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا خارش کرنے لگا…..
لالا اب آپ مکھن لگا رہے ہیں…
پارو نے کہا تو دونوں ہنسنے لگے
پارو میں نے شہر جانے سے پہلے تمہاری آپا سے ملنا ہے تم کچھ مدد کر سکتی ہو…
زریاب نے مدد طلب نظروں سے پارو کو دیکھا…
بس اتنا سا کام……….
پارو نے زریاب کو دیکھ کر رہا
میں بندوبست کر کے بتاتی ہوں آپ کو…
………………………………….
ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ماہ نور صوفے پر دونوں پاؤں سمیٹےبیٹھی باہر لان کو دیکھ رہی تھی
مرد عورت پر اتنا ظلم کیوں کرتا ہے…..؟؟؟؟
اس کے ذہن میں اب بھی گاؤں کی عورتوں کے مسائل گھوم رہے تھے
عورت نازک ھوتی ھے اور مرد سخت جاں …
اس کے باوجود عورت مرد کا تھپڑ بھی سہ لیتی ھے اور مرد اس کی اونچی آواز بھی برداشت نہیں کر سکتا ….
یہ کیا بات ہوئی…؟؟؟
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب دستک کی آواز پر چونکی….
اس وقت کون ہو سکتا ہے یہ وقت تو میرے آرام کا ہے سب کو پتہ ہے پھر بھی …..
اللہ خیر کرے….آجاؤ
زریاب اندر آتے ہی اپنے مخصوص انداز میں کھڑا ہوگیا مگر اس بار ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے وہ جانے کے لیے بلکل تیار تھا بس اک نظر اسے دیکھنے آیا تھا ہمیشہ کی طرح…
تم ابھی تک گئے نہیں…؟؟؟؟
اتنے دن ہو گئے تمہیں آئے ہوئے میں تو سمجھی چلے گئے ہو
ماہ نور کو اسے دیکھتے ہی حیرانگی ہوئی
آج تک تم سے ملے بغیر گیا ہوں…..
جو اب جاؤں گا…
زریاب نے مسکرا کر جواب دیا
مجھے یہ منحوس شکل دکھانا ضروری ہے………
ماہ نور کو اس کی مسکراہٹ نے غصہ دلا دیا
نہیں…..
مگر مجھے یہ پیاری شکل دیکھنا ضروری ہے
فوراً جواب آیا
زریاب ایک بات کہوں مانو گے؟؟؟؟
ماہ نور نے قدرے نرم لہجہ میں کہا…
ہاں کیوں نہیں…بولو
زریاب نے فوراً حامی بھر لی
تم خود کشی کر لو….کمال سفاکی سے کہا گیا
کیاااااااااااا؟؟؟؟؟
زریاب کو اس فرمائش کی امید نہیں تھی
مگر خود کشی حرام ہے؟؟؟
گناہ ہے؟؟؟
اور میں کیوں کروں؟؟؟؟
زریاب بے بسی سے بولا
ماہ نور اب کھڑی ہو گئی تھی رخ بھی زریاب کی طرف تھا جیسے ہی اس نے مہرون کارپٹ پر دو قدم چلے….
زریاب کی نظر اس کے پاؤں پر پڑی اور نظریں وہیں تھم گئیں….
موتیے جیسے سفید نرم ملائم پاؤں اپنا ہی وزن پڑنے پر گلابی ہو رہے تھے.
حنین ہمیشہ پوچھتا تھا تجھے اس میں کیا چیز بہت پسند ہے؟؟؟؟
زریاب نے سوچا
اگر حنین کو پتہ چل جائے کہ مجھےماہ نور کے پاؤں پسند ہیں
تو جو حشر وہ میرا کرے گا وہ میں حشر تک یاد رکھوں گا………….
اس کے ساتھ ہی چہرے پر مسکراہٹ آگئی…….
اور سماعتوں سے ماہ نور کی آواز ٹکرائی….
دھوکا دینا بھی گناہ ہے؟؟؟
دوسروں کا حق مارنا بھی گناہ ہے؟؟؟
مگر تم یہ دونوں کام کرتے ہو اس وقت ڈر نہیں لگتا اللہ سے…
رہی بات کیوں خود کشی کرو؟؟؟
تو میری دعاؤں میں اثر نہیں ہے اس لیے میں چاہتی ہوں تم خود ہی اپنے آپ کو مار لو…..
ماہ نور کیا مسئلہ ہے تمہین مجھ سے………؟؟؟؟
ہزار دفعہ کا پوچھا ہوا سوال پھر پوچھا
تمہاری اردو بہت خراب ہوتی جا رہی ہے سردار زریاب علی خان مجھے تم سے مسئلہ نہیں…
بلکہ میرے تمام مسائل کی جڑ تم ہو……
اب پھر ماہ نور آپے سے باہر ہو رہی تھی
زریاب نے بحث کو ختم کرنا چاہا ہمیشہ کی طرح
تایا سائیں نے تمہارے لیے کچھ کتابیں منگوائیں تھیں یہ لے لو اب وہ ہاتھ آگے کیے اسے کتابیں دے رہا تھا
ماہ نور چلتے ہوئے اس کے بلکل قریب آگئی دونوں میں فاصلہ صرف ایک کتاب جتنا تھا….
شفاف چہرہ چمکتی آنکھیں سفید دوپٹہ اس کی پاکیزگی کی نشانی….
ماہ نور اس دنیا کی سب سے خوبصورت اور پاکیزہ لڑکی ہے یا مجھے لگتی ہے….؟؟؟؟
زریاب نے سوچا اور کتابیں اسے دے دیں
سانس خارج کر کےان لمحوں کو ذہن میں نقش کرتے زریاب نے کہا…
ماہ نور میں واپس جا رہا ہوں…..
ابھی یہ الفاظ پورے ادا بھی نہیں ہوئے تھے کہ ماہ نور کی آواز آئی…
اللہ کرے واپس نہ آؤ….
اک دکھ کا سایہ زریاب کے چہرے پر لہرایا اور پھر مسکرا دیا.
ماہ نور مجھے لگتا ہے جس دن تم نے مجھے دعا دی اس دن ضرور مر جاؤں گا…ایسے مرنے والا نہیں…
چلتا ہوں اپنا خیال رکھا کرو پہلے سے بہت کمزور ہو گئی ہو شاید اب دیر سے چکر لگے
‏اﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣُﺤﺒﺖ ﮐﺮ ﮨﯽ لے تو ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺭُﻻﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﯾﮟ!!!
کیوﻧﮑﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻗﻄﺮﮦ ﻗﻄﺮﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣُﺤﺒﺖ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ!!!
اللہ حافظ
کہتے ہوئے زریاب کمرہ سے نکل گیا
………………………………….
حنین اپنے کمرے میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا….
اچھا تو نرمین بی بی اب تمہارے بھی پَر نکل آئے ہیں…
اج پندرہ دن ہو گئے مگر تم نے مجھے unblock نہیں کیا…
وہ ایک ہاتھ سے موبائل پکڑے دوسری ہاتھ کی ہتھلی پر مسلسل گھما رہا تھا…
اب تم مجھے تنگ کرو گی؟؟؟
مجھے…..
یعنی حنین ملک کو….
جب کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے جو مجھے تنگ کرتا ہے وہ خود کتنا تنگ ہوتا ہ…
ایسا ہے تو ایسا ہی سہی….
Wait and watch my dear..
I m coming on my way..
Let see what happens with you…
حنین سیڑھیاں اتر رہا تھا ساتھ ساتھ مام مام کی آوازیں دے رہا تھا
غزالہ بیگم کچن سے باہر آئیں…
کیا ہے؟ ؟
کیوں اتنا شور مچا رہے ہو.؟؟
مام مین زرا آپ کی بہو کی خیریت پتہ کرنے جا رہا ہون؟؟؟
شاید رات دیر ہو جائے پریشان نہیں ہونا اور ڈیڈ کو نہیں بتانا……
ماں کو دونوں بازؤں سے تھامے وہ آہستہ سے کہ رہا تھا
کیا ہوا نرمین کو؟؟؟
غزالہ بیگم کو تشویش ہوئی
کچھ نہین بس سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے دماغ خراب ہو گیا ہے…..
حنین نے لاپرواہی سے کہا اور شرارت آنکھون سے واضح تھی
اللہ رحم کرے کیسے لگی چوٹ؟ ؟
دوا لی اس نے..؟؟؟
اتنی پیاری بچی ہے نظر لگ گئی ہو گی…
غزالہ بیگم نے پیار سے کہا
وہی توپتہ کرنے جا رہا ہوں کہ کیسے لگی چوٹ..؟؟؟
دوا بھی دے کر آؤں گا اور نظر کی آپ بلکل فکر نہ کریں ایسی اتاروں گا کہ آئندہ نہیں لگے کی ….
ماں کو آنکھ مارتے ہوئے جواب دیا
اپنی گاڑی کی چابیاں موبائل اور ویلٹ اٹھاتے گیراج کی طرف بڑھ گیا…
………………………………….