Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32 Pt.2


کونین خلافِ عادت آج گھر پر تھا جس پر ہالہ کو بہت حیرت ہوئی.
خیر ہے آج آپ کا لاڈلا یونی نہیں گیا…؟؟؟؟ پیپرز سر پر ہیں اور یہ چھٹیوں پر چھٹیاں کر رہا ہے ہالہ بی نے ہاہر برآمدے میں تخت پوش پر بیٹھی اپنی اماں سے پوچھا
پتہ نہیں مجھے تو خود سمجھ نہیں آ رہی یہ کیا کرتا پھر رہا ہے کل کافی دیر سے آیا تھا اور غصہ میں بھی لگ رہا تھا میں نے پوچھا تو کہا کوئی بات نہیں ہے بس سر میں درد ہے اور رات میں کھانا بھی نہیں کھایا صبح اٹھایا یونی کے لیے تو کہنے لگا مجھے نہیں جانا…؟؟؟
پتہ نہیں کس کہ نظر لگ گئی ہے
ثریا بیگم نے دکھ سے ہالہ بی کو جواب دیتے ہوئے سبزی بنانا شروع کر دی
ویسے آج بنا کیا رہیں ہیں..؟؟؟
ہالہ نے دو تین سبزیاں ایک ساتھ تیار کرتے دیکھ کر پوچھا
تمہارے ابا کے لیے مونگرے اور تم دونوں بہن بھائی کے لیے مکس سبزی…….
انسان تو مجھے سمجھتے ہی نہیں… ابا کو ایک چیز پسند ہے تو بچوں کو دوسری…..
چھوٹی سی فیملی ہے پھر بھی ایک ٹائم میں دو دو ہانڈیاں پکتی ہیں غضب خدا کا…..
ثریا بیگم کو دہائی دیتے ہوئے دیکھ کر ہالہ نے وہاں سے کونین کے کمرے کا رخ کیا کیونکہ زیادہ بیٹھنا اب خطرے سے خالی نہیں تھا
کونین منہ سر چادر میں لپیٹے بظاہر سو رہا تھا جب ہالہ کمرے میں داخل ہوئی.
مسٹر کونین تم جاگ رہے ہو اس لیے زیادہ سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں
چلو شاباش اٹھ جاؤ اور بتاؤ کہ کیا ہوا ہے…؟؟؟؟
ساتھ ہی ہالہ نے کونین کے اوپر سے چادر کھینچ لی.
ہالہ بی کیا ہے ..؟؟؟
کونین غصہ سے بولتا ہوا اٹھ بیٹھا
آج یونی کیوں نہیں گئے..؟؟؟
ہالہ نے کونین کے غصہ کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا
سر میں درد ہے…کونین روٹھے لہجہ میں بولا
سر میں درد ہے یا دل میں…؟؟؟
ہالہ نے ابرو اچکا کر شرارت سے کونین کو دیکھا کونین کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ ظاہر ہو کر غائب ہو گئی.
مطلب اندازہ درست ہے میرا…
ہالہ نے کونین کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں ہالہ بی کچھ نہیں ہے بس ویسے ہی…
کونین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا
چلو اب بتا بھی دو ویسے ہی کیا ہے…؟؟؟
ہالہ نے کونین کےبال پھر خراب کرتے ہوئے پوچھا
کل مجھے عترت کے بھائی نے اپنے آفس بلایا تھا اس کے ساتھ ہی کونین نے دبیر کی ساری گفتگو ہالہ کو بتا دی.
ہائے کونین گاڑی لے لو پلیززززز
ہالہ نے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے کہا
ہالہ بی کیا ہو گیا ہے آپ کو…؟؟؟
کونین کو ہالہ سے ایسی امید نہیں تھی
صحیح تو کہہ رہی ہوں تمہیں کون سی عترت پسند ہے تم نے خود ہی بتایا تھا کہ وہ دوستی نہیں کرنا چاہ رہی تھی تو تم نے شادی کی آفر کر دی اب ظاہر ہے تم دونوں کی شادی سٹیٹس کے فرق کی وجہ سے ہو نہیں سکتی مگر گاڑی تو آ سکتی ہے میں تو داد ہی دوں گی اس کے بھائی کو…بجائے تمہاری پھینٹی لگوانے کے تمہیں کتنی اچھی اچھی آفرز کر رہا ہے شریف لگتا ہے
ہالہ نے کونین کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ کونین کو ہالہ کے رویہ سے مایوسی ہوئی.
آپ کو کس نے کہا عترت مجھے اچھی نہیں لگتی ..؟؟؟ وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے اور میں نے اسی سے شادی کرنی ہے بس مجھے نہین پتہ….
کونین نے سنجیدہ ہوتے ہوئے جواب دیا
دماغ ٹھیک ہے تمہارا کوٹھی دیکھی تھی ….
ہالہ نے کونین کو یاد دلایا اس سے پہلے کہ کونین کوئی جواب دیتا دروازے پر گھنٹی بجی
دیکھو کون آیا ہے یقیناً تمہارے ہی دوست ہوں گے اور اس ریئس زادی سے شادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دو یہ نہ ہو کہ اس کا بھائی بدمعاشی پر اتر آئے اور تمہاری ایک دو ہڈیاں غائب ہو جائیں……
کونین نے دروازہ کھولو تو کوئی بیگم صاحبہ باہر ناگوار چہرے ساتھ موجود تھیں
جی فرمائیں کس سے ملنا ہے..؟؟؟
کونین آگے ہی بیزار تھا اس لیے سلام کرنے کی زحمت بھی نہیں کی
یہ ہالہ کا گھر ہے مجھے اس کے والدین سے ملنا ہے
بیگم صاحبہ نے ناک کے آگے ٹشو کرتے ہوئے جواب دیا جبکہ کونین ہالہ کہ نام پر نرم پڑ گیا
میں امی کو بلاتا ہوں اپ آئیں اندر…
کونین نے بیٹھک کا دروازہ کھول کر بیگم صاحبہ کو اندر بیٹھایا اور خود امی کو بلانے چلا گیا
ہالہ بی کوئی امیر خاتون آئیں ہیں مجھے لگتا آپ کا رشتہ لائیں ہیں…..
کونین نے کچن میں موجود ہالہ بی کو چسکے لیتے ہوئے بتایا
ثریا بیگم نے اماں بی کی باتیں بہت غور سے سنی اور اس پر خوشی کا اظہار بھی کیا.
دیکھیں آپ ہم غریبوں کہ گھر آئیں آپ کا شکریہ مگر میں سید صاحب سے پوچھے بغیر کچھ کہہ نہیں سکتی
ثریا بیگم نے عزر پیش کیا
اماں بی نے اپنی ناگواری کو چھپاتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ سے کام لیا اور ہالہ بی کو بلانے کا کہا
اس سے پہلے کہ ثریا بیگم ہالہ بی کو آواز دیتی ہالہ خود ہی شربت کے ساتھ لوازمات سے بھری ٹرے لے کر بیٹھک میں داخل ہوئی اماں بی کو سلام کرتے ہوئے ہالہ نے ٹرے درمیان میں رکھے ہوئے میز پر رکھی.
اماں بی نے نظروں سے ہالہ کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی اسے ریجیکٹ بھی کر دیا یہ معمولی شکل وصورت والی لڑکی کسی بھی طرح میری بہو بننے کے قابل نہیں.
ثریا بیگم کے اصرار کرنے کے باوجود اماں بی نے کسی چیز کو ہاتھ نہین لگا بمشکل دو گھونٹ شربت کے پیے اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں…
اچھا میں چلتی ہوں آپ اپنے ہسبنڈ سے پوچھ کر مجھے بتا دیجیے گا مجھے آپ کی بچی پسند ہے ( یہ جملہ اماں بی نے دل پر پتھر رکھ کر کہا)
اس سے پہلے کہ اماں بی گھر کی دہلیز پار کرتیں باہر موٹر سائیکل کے ہارن کی آواز آئی جسے سن کر ہالہ نے کہا
لگتا ہے ابو جی آ گئے اور دروازہ کھولنے چلی گئی
آپ بیٹھے میں انھیں لے کر آ
تی ہوں ویسے تو وہ دیر سے آتے ہیں مگر خوش قسمتی سے آج جلدی آ گئے ہیں
ثریا بیگم نے مسکرا کر کہا اور بیٹھک سے باہر چلی گئی
سادہ سی یہ بیٹھک دو سوفے سیٹ پر مشتمل تھی درمیان میں لکڑی کا ایک میز تھا جس پر کروشیا کا رومال پڑا ہوا تھا ایک دیوار پر گھڑی جبکہ دوسری دیوار ہالہ اور کونین کی ٹرافیوں، شیلڈ اور اسناد سے سجی ہوئی تھی.
ایک تو یہ غریبوں کہ بچے لائق پتہ نہیں کیوں ہوتے ہین..؟؟؟
اماں بی نے حقارت سے سوچا
ابھی وہ بیٹھک کا جائزہ لے رہی تھیں جب سید سبطین الحسن بخاری اندر داخل ہوئے.
جیسے ہی اماں بی کی نظر سید صاحب پر پڑی وہ خود بخود اپنی جگہ سے اٹھ گئیں ثریا بیگم دونوں کا تعارف کروا رہیں تھیں مگر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کہیں دور نکل گئے تھے.اماں بی کی آنکھوں میں نمی چمکنے کی وجہ سے سامنے کا منظر دھندلانے لگا تھا انھوں نے چادر کے پلو سے اپنی انکھیں صاف کیں جبکہ سید صاحب کی آواز نے ماحول کے سکوت کو توڑا
بیگم ان کی خوب خاطرمدارات کر کے کہہ دیں ہمیں ان سے کسی قسم کی کوئی رشتہ داری نہیں کرنی…
اور خود تیزی سے بیٹھک سے باہر نکل گئے جبکہ ثریا بیگم اور باہر کھڑے ہالہ اور کونین سید صاحب کہ اس رویے پر حیران تھے انھوں نے آج تک کسی مہمان ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا تھا پھر آج کیا ہوا…؟؟؟
اماں بی کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آ گئی اور جاتے جاتے انھوں نے ثریا بیگم سے کہا مجھے آپ کے دونوں بچوں سے رشتہ کرنا منظور ہے میں عترت کی امی ہوں اور گلے لگا کر ثریا بیگم کو گرم جوشی سے ملیں پھر باہر نکلنے سے پہلے کچھ سوچ کر مڑیں اور برآمدے میں کھڑے کونین اور ہالہ کو گلے لگا کر ماتھے پر پیار دیا جو تھوڑی دیر پہلے دو ٹکے کے لگ رہے تھے وہی اب جان سے پیارے ہو گئے تھے
جبکہ ہالہ، کونین اور ثریا بیگم اچانک اماں بی کے بدلتے محبت بھرے رویہ پر شاکڈ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں کہ یہ سب کیا ہے…؟؟؟؟
اماں بی جیسے ہی گلی میں آئی بہت سے بند دریچے خودبخود کھلنے لگے
ایک بڑی سی حویلی…..
لان میں بچہ ماموں کے اوپر بیٹھا گھڑ سواری کرتا قہقے لگا رہا….
صحن میں ماں باپ باتیں کر رہے…
ایک لاڈلے بھائی کی آوازیں اپنی بہن کو…..
ایک طرف خوشیاں ہی خوشیاں…..
اور دوسری طرف طعنے، لڑائی جھگڑا سگے رشتے دست و گریباں….
اماں بی نے گلی سے گاڑی تک آتے آتے پچیس سال کا عرصے طے کر لیا.
یا اللہ کیا یہ مکافاتِ عمل ہے
اماں بی کا سر چکرا رہا تھا بڑی مشکل سے خود کو نارمل کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئیں مگر نظر بار بار گلی کے اس چھوٹے سے مکان پر جا رکتی تھی جب تک ڈرائیور نے گاڑی موڑ نہیں لی
………….
ماہ نور اس وقت کچن میں کھانا بنا رہی تھی جب ڈور بل بجی.
زریاب نے دروازہ کھولا
مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی تیری شادی ہوئی ہے یا تجھے حکومت نے نظر بند کر دیا ہے اس فلیٹ میں……
حنین نے زریاب کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے پیچھے کیا اور خود الاؤئچ میں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا.
کیوں کیا ہوا..؟؟؟
زریاب نے مسکراتے ہوئے دروازہ بند کیا
بس کر دے یار اب باہر نکل زمین دیکھ آسمان دیکھ اتوار کو میرا نکاح دیکھ…..
حنین نے کشن اٹھا کر زریاب کو مارا.
اقبال کے شعر کو تو کم از کم بخش دے
زریاب نے کشن کیچ کرتے ہوئے کہا
میرا اقبال ہے میں جو مرضی ان کے شعر ساتھ کروں آخر میں ان کا شاھین ہوں اقبال نے مجھ جیسے نوجوانوں کے لیے شاھین کا لفظ استعمال کیا تھا تیرے جیسے(پھر ادھر ادھر دیکھ کر زرا آگے جھکا) رن مرید کے لیے نہیں….
جس پر زریاب سر نفی میں ہلاتا مسکرانے لگا
ماہ نور دونوں کو کچن سے دیکھ رہی تھی زریاب ہنستا ہوا کتنا پیارا لگتا ہے مگر یہ کوئی اور زریاب ہے جو دوستوں ساتھ شرارت بھی کرتا ہے اور ان کے مزاق بھی برداشت کر لیتا ہے جس زریاب کو میں جانتی ہوں وہ تو ایک ظالم سردار ہے حویلی میں زریاب ایسا تو نہیں ہوتا کتنے روپ ہیں اس کے…
ماہ نور زریاب کو یوں دیکھ کر سوچ رہی تھی….
یار تو بیٹھ میں ماہ نور کو دیکھتا ہوں کہ کیا کر رہی ہے تیرے لیے کچھ لے کر آئے..؟؟؟
زریاب یہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا
تو رہنے دے میری بھی آنکھیں ہیں میں بھی اسےدیکھ سکتا ہوں تو بس جلدی سے تیار ہو جا میں تجھے لینے آیا ہوں جلدی کر…..
حنین کہتا ہوا کچن کی طرف بڑھ گیا جبکہ زریاب مسکرا کر اس کی پشت کو دیکھنے لگا
ہائے آپا کیسی ہو…؟؟؟
حنین نے اتنی قریب ہو کر کہا کہ ماہ نور کے ہاتھ سے چاول گرتے گرتے بچے…..
آپ ڈرتی بھی ہیں..؟؟ میں سمجھا صرف ڈراتی ہیں…..
حنین اپنی گول مٹول آنکھیں ادھر ادھر گھما کر شلف پر بیٹھ گیاجبکہ ماہ نور صرف مسکرا کر چاول ڈالنے لگی
میں نے آپ کو نرمین سے ملانا ہے آپ اتوار کو اپنے شوہرِ “دم دار”ساتھ ضرور آنا
حنین نے کہتے ہوئے پلیٹ میں سجے سلاد کو کھانا شروع کیا
“شوہرِ نام دار ” ہوتا ہے “دم دار “نہیں.
ماہ نور نے تصیح کی…
جی لوگوں کے شوہرِ “نام دار” ہی ہوتے ہیں مگر جس قسم کا آپ کا شوہر ہے (رن مرید یہ حنین نے دل میں سوچا) اسے” دم دار “ہی کہتے ہیں…
حنین نے مسکراتےہوئے کھیرے کا ایک پیس لیا
مطلب…؟؟؟؟ ماہ نور نے حیرت سے حنین کی طرف دیکھا
ایک تو ہر کوئی میرے سے مطلب ضرور پوچھتا ہے نرمین بھی ،styloo بھی ،موم بھی اور اب آپ بھی، میں حنین ہوں Oxford کی ڈکشنری نہیں…
حنین نے منہ بنا کر جواب دیا
یہ styloo کیا نام ہوا ..؟؟ وہ مسلمان تو ہے..؟؟؟
ماہ نور نے سادگی سے پوچھا جبکہ حنین ماہ نور کی بات پو قہقے لگانے لگا
یہ سٹوری پھر سہی ابھی تو آپ صرف نرمین کے بارے میں سوچیں…
حنین اب کھیرے کھانے کے بعد چقیندر کھانے لگا تھا
نرمین کون ہے ..؟؟؟ بہن ہے تمہاری…؟؟؟
مای نور نے چاولوں کو دم پر رکھتے ہوئے پوچھا مگر اس سوال کے جواب میں حنین کو بری طرح کھانسی شروع ہو گئی اور اس نے سارا چقیندر بیسن میں نکال دیا.
کیا ہوا تم ٹھیک ہو…؟؟؟ یہ لو پانی پیو….
ماہ نور نے حنین کی حالت دیکھ کر پریشانی سے پوچھا
آپ تو میری جان لینے لگی تھیں..؟؟ اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو…؟؟؟ نہیں سلاد کھاتا میں آپ کا……..
حنین نے ناراض ہوتے ہوئے سلاد کی پلیٹ سائیڈ پر کی جو تقریباً خالی ہو چکی تھی.ماہ نور کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہوا وہ ایسے مزاق کی عادی نہیں تھی..؟؟؟ پریشان سی کبھی حنین کو دیکھتی تو کبھی سلاد کی پلیٹ کو……
ماہ نور کو پریشان دیکھ کر حنین مسکرانے لگا
آپا ادھر بیٹھو حنین نے ماہ نور کو کرسی پر بیٹھاتے ہوئے کہا
چھ سال سے جس لڑکی سے میں شادی کرنا چاہ رہا ہوں اس کا نام “نرمین ” ہے اس اتوار کو میرا اس کے ساتھ نکاح ہے. میں سمجھا زریاب نے آپ کو بتا دیا ہو گا اور ہاں ایک اور بات میں اپنے ماں بات کی اکلوتی اولاد ہوں میری کوئی بہن نہیں…….
اچھا تو یہ بات ہے بہت پیاری ہے وہ تمہاری طرح….
ماہ نور اب نارمل تھی
خاک پیاری ہے کوئی پیاری ویاری نہیں…..
حنین اب دوبارہ اپنی فام میں واپس آ چکا تھا
اچھا پھر بہت ذہین ہو گئی…؟؟؟
ماہ نور کو حنین کے جواب پر حیرت ہوئی
نہیں ایک دم بے وقوف…..ہاں البتہ لائق کافی ہے وہ جو پڑھنے والی چشماٹوں لڑکیاں ہوتی ہیں ویسی ہے….
حنین ماہ نور کے تاثرات نوٹ کر کے مزے لے رہا تھا جو اس کے جوابات سے الجھ رہی تھی
جب وہ خوبصورت بھی نہیں، ذہین بھی نہیں تو پھر تمہیں اس میں کیا اچھا لگا…؟؟؟؟
بلآخر ماہ نور نے اپنی حیرت ظاہر کرتے ہوئے پوچھا
یہ سوال مجھ سے بہت لوگوں نے پوچھا ہے مگر میں نے کبھی کسی کو اس کا جواب نہیں دیا پر آج آپ کو دے دیتا ہوں کہ مجھے نرمین میں کیا اچھا لگا ہے.
حنین نے ایک لمبا سانس لے کر ماہ نور کی طرف دیکھا اب وہ انتہائی سنجیدہ انسان لگ رہا تھا
آپا میں نے اس سے لوگوں کا مان رکھنا سیکھا ہے لوگوں کے راز رکھنے سیکھے ہیں اپنی انا کو مار کر دوسروں کو خوش کرنا سیکھا ہے. پتہ وہ جان بجھ کر لوگوں کے ہاتھوں یونی میں بےوقوف بن جاتی، لوگ اس کے منہ پر جھوٹ بول رہے ہوتے اور وہ ان کی بات کا مان رکھتے انھیں ذلیل نہیں کرتی،مجھے بہت غصہ آتا ایک دن میں نے پوچھا تم ایسا کیوں کرتی ہو…؟؟؟
پتہ کیا جواب دیا اس نے…
حنین کی آنکھوں میں ایک چمک اور لہجہ میں فخر تھا
کہتی اگر ہمارے بےوقوف بن جانے سے کوئی خوش ہو جائے، ہم کسی کا مان رکھ لیں اسے جھوٹا ہوتے ہوئے بھی شرمندہ نہ کریں کسی کی خوشی کے لیے کچھ دیر چپ رہیں تو کیا فرق پڑ جائے گا ہمیں…….
مجھے اس میں یہ اچھا لگا اور سب سے بڑھ کر میں نے اس سے دوستی نبھانا سیکھی.
وہ کہتی ہے دوست سے کبھی ناراض نہیں ہوتے اگر آپ سے وہ کبھی ناراض ہو بھی جائے تو اسے سوری کا موقع مت دو بس جا کر اسے گلے لگا لو اتنا کافی ہے سچے دوست کو منانے کے لیے…….
وہ کہتی ہے معاشرے میں ہم صرف منفی پہلو اجاگر کرتے ہیں اور جو چیز اجاگر کی جائے وہی پھیلتی ہے ہم مثبت کیوں نہیں پھیلاتے میں نے اس سے مثبت چیزیں سیکھیں…….
یہ کہہ کر حنین خاموش ہو گیا جیسے کہیں کھو گیا.
پتہ تمہیں اس لڑکی سے عشق ہے. سچا عشق …
ماہ نور نے حنین کی طرف دیکھ کر کہا
ماہ نور کی بات پر حنین شاکڈ سا اسے دیکھنے لگ گیا جیسے یقین کر رہا ہو کہ سنا کیا ہے
عشق اور مجھے…؟؟؟نہیں کبھی نہیں…؟؟
حنین سر نفی میں ہلاتے ہوئے کھڑا ہو گیا میں نے تو اس سے کبھی اظہارِ محبت نہیں کی عشق تو دور کی بات ہے….
اب وہ پہلے والا حنین تھا
کیوں اظہار نہیں کیا..؟؟؟
ماہ نور کو حیرت ہوئی
“میں نے زندگی سے ایک یہ بات بھی سیکھی ہے کہ “مجھے محبت ہے تم سے” کہہ کر خود کو ذلیل کرانے میں تکلیف ہی تکلیف ہے، اس کے برعکس “مجھے نہیں ہے محبت تم سے” کہہ کر ڈھیٹ پلس لاپرواہ ہوجانے میں سکون ہی سکون ہے!!! یقین کریں سچ بتا رہا ہوں!!
کچھ نہیں ہوتی یہ محبت_!!
خود کو آزاد کردیں محبت کی اس قید سے”
حنین نے کہتے ہوئے دوبارہ سلاد کی پلیٹ اٹھا لی جبکہ ماہ نور نے چولھا بند کر دیا
تم مانتے نہیں مگر تمہیں اس سے عشق ہے…
ماہ نور اب کھانے کے برتن نکال رہی تھی.
آپ بھی تو نہیں مانتی کہ زریاب کو آپ سے عشق ہے….
حنین نے ماہ نور کی پشت دیکھتے ہوئے کہا
زریاب جو تیار ہو کر کچن کی طرف آ رہا تھا حنین کی بات سن کر باہر ہی رک گیا جبکہ ماہ نور کچھ دیر خاموش رہی پھر حنین کی طرف مڑ کر دیکھا
اس دنیا میں فلحال جتنے بھی انسان زندہ ہیں ان میں زریاب واحد شخص ہے جو آپ سے بےانتہا محبت کرتا ہے قدر کریں اس کی جتنی بھی کر سکتی ہیں اگر کبھی ایسا ہوا کہ وہ آپ کی زندگی سے چلا گیا تو یقین مانیں “پچھتاوا”بہت چھوٹا لفظ ہے آپ پاگل ہو جائیں گی کیونکہ عادت ہے آپ کو زریاب سے اپنے نخرے اٹھوانے کی، باتیں منوانے کی،سچ سچ بتائیں زریاب کے علاوہ ایسا کون ہے آپ کی فیملی میں جو آپ کے آگے جھک جاتا ہے یر بات سن لیتا ہے پھر بھی کبھی ناراض نہیں ہوتا عورت کی عزت اس کے خاوند سے ہے زریاب ہی آپ کی دنیا اور آخرت ہیں قدر کریں کہیں دیر نہ ہو جائے….
آگے مرضی آپ کی مجھے بھوک لگی ہے …
حنین نے ماحول کو اداسی سے نکالنا چاہا مگر ماہ نور کے چہرے کا رنگ بدل گیا
…….