Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6 Pt.1

دبیر کو رائحہ پر بہت غصہ آ رہا تھا.ہر کسی سے اپنی تعریفیں سنتا آیا تھا لوگ اسے اور اس کی چیزوں کو سراہتے تھے.مگر وہ ہر بار اسے تضحیک کا نشانہ بناتی ہے سڑکوں پر بغیر وجہ کے گاڑی گھماتے گھماتے شام ہو گئی تھی اور بارش بھی تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی دبیر نے ایک ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی روکی
پاگل بلکل پاگل…
دبیر نے سٹرینگ پر مکے مارے..
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اپنا غصہ کیسے نکالے..
وہ ایک دفعہ پھر اس کی بے عزتی کر گئی تھی…
دبیر نے زریاب کو کال کی…
زریاب اس وقت راستے میں تھا دبیر کی کال پر چونکا..
ہیلو کافی مصروف انداز میں بولا
جب کہ دوسری طرف سے دبیر کی غصہ سے بھری آواز ابھری
پاگل ہے باکل پاگل ہے…
گھر سے لڑ کر آتی ہے. اور مجھ پر شروع ہو جاتی ہے.اسے میری ہر چیز میں خرابی نطر آتی ہے…دبیر نےاونچا اونچا بولنا شروع کیا..
زریاب کو کچھ سمجھ نہین آیا
کون …؟؟؟
پاگل….؟؟؟
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا
وہ بلکل حنین ہے حنین
دبیر پھر بولا
کون حنین ہے؟؟
اب کی بار زریاب الجھن کا شکار ہوا اسے کچھ سمجھ نہین آ رہی تھی آج سے پہلے دبیر نے کبھی اس طرح بات نہیں کی تھی
یاررررر
وہ لڑکی پاگلوں کی ڈاکٹر ہے شاید مگر…..
وہ کبھی بھی کسی کو بھی کسی بھی وقت پاگل کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے.
زریاب میں پاگل ہو جاؤں گا اگر اب مجھے وہ دوبارہ ملی تو…
دبیر کو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہتا جا رہا ہے اسے شدید دکھ تھا کبھی کسی صنف نازک نے اس طرح اس کی تذلیل نہیں کی تھی
دبیر رک میں آتا ہوں مجھے تیری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی..
زریاب اب کی بار سچ مچ پریشان ہو گیا تھا.
دبیر نے اپنی کنپٹی سہلاتے ہوئے کود کو نارمل کرنے کی کوشش کی..
میں ٹھیک ہوں ……
اب کی بار اسکی آواز نارمل تھی
چل پھر بات کرتا ہوں اور زریاب کی بات سنے بغیر کال کاٹ دی
………………………………….
زریاب اپاٹمنٹ میں داخل ہوتے سیدھا اپنے کمرے میں گیا.
ڈریسنگ ٹیبل پر گھڑی اتار کر رکھی اور موبائل بھی، الماری سے کپڑے نکالے اور جوتے اتار کر سلیپر پہنے اور واش روم میں فریش ہونے چلا گیا.
ابھی وہ فریش ہو کر نکلا ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا.لگتا ہے حنین کی کال ہے زریاب زیرِ لب بڑبڑایا.اور موبائل اٹھانے لگا جس پر
Dabeer calling….
لکھا آ رہا تھا
ہیلو …زریاب نے خوش دلی سے کہا
کہاں تک پہنچا ہے….؟؟؟ یا ابھی تک تجھے گاؤں کی ہوائیں سلام کہہ رہیں ہیں. دبیر پہلے کی نسبت اب فریش لگ رہا تھا
نہیں یاررر…فلیٹ پر ہوں.حنین کی کال آئی تھی کہہ رہا تھا چائے بنا اور انڈے بھی ابال میں آ رہا ہوں تھوڑی دیر میں…
زریاب فون پر دبیر کو بتاتے ہوئے کچن میں پہنچ چکا تھا.
کیوں خیریت..؟؟؟ اس وقت تیرے پاس کیون آ رہا ہے…دبیر نے قدرے حیرت سے پوچھا
پتہ نہیں آئے گا تو کچھ پتہ چلے گا.زریاب نے کہا
زریاب وہ میں نے تجھ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے مگر حنین کے سامنے نہیں…..
دبیر نے رازدلانہ لہجے مین کہا
ٹھیک ہے پھر کل آفس میں بات کرتے ہین.مگر ابھی تو آ کتنے دن ہوئے اکٹھے چائے نہیں پی..زریاب نے کہا
اچھا آتا ہوں…بائے
کہتے فون بند کر دیا
زریاب کی کوکنگ بہت اچھی تھی وہ کالج کے زمانے سے ہی کوکنگ کر رہا تھا اور اپنے فلیٹ کے سارے کام بھی خود ہی کرتا تھا صرف کپڑے لانڈری والے کو جاتے اور وہیں سے پریس ہو کر آتے.
زریاب نے ابھی ایک چولہے پر چائے اور دوسرے پر انڈے ابالنے کے لیے پانی رکھا ہی تھا کہ کسی نے گھنٹی پر ہاتھ رکھا اور پھر اٹھانا بھول گیا..
زریاب نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا…اور پھر ساتھ ہی اس کا اپنا منہ کھل گیا
تو اتنا گیلا کیسے ہو گیا..؟؟؟
کہاں سے آ رہا ہے..؟؟
پیدل آیا ہے کیا…؟؟؟
تیری گاڑی کدھر ہے..؟؟؟
ابھی وہ اور بولتا مگر حنین نے اس کی بات کاٹ دی….
کیا بیویوں کی طرح بحث کر رہا ہے سائیڈ پر ہو اور خود زریاب کے کمرے کی طرف بڑھ گیا
زریاب دروازہ بند کرتا حنین کی طرف گیا.جو زریاب کی الماری سے اب کپڑے نکال رہا تھا.زریاب کو دروازے میں کھڑا دیکھ کر بولا…….
میرے واش روم سے واپس آتے چائےاور انڈے لے آ…اگر مجھے زندہ دیکھنا چاہتا ہے تو سخت سردی لگ رہی ہے کہتا ہوا…
واش روم کی طرف بڑھ گیا
زریاب ٹرے میں چائے اور انڈے سجائے کمرہ میں داخل ہوا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر مبہوث رہ گیا..
حنین ابھی ابھی واش روم سے نکلا تھا کالی شلوار قمیض اور سرخ ولوٹ کی واسکٹ میں وہ غضب کا لگ رہا تھاماتھے پر کچھ گیلے بالے چمک رہے تھے.جو اس کے حسن کو مزید چار چاند لگا رہے تھے. حنین شلوارقمیض نہیں پہنتا تھا صرف پینٹ شرٹ پہنتا تھا. اس لیے زریاب کو حیرت ہو رہی تھی
حنین نے جب اپنی طرف زریاب کو یوں ساکت کھڑے دیکھا تو بول پڑا….
کس طرح دیکھ رہا ہے میں کوئی تیری بیوی نہیں جو شادی کے دوسرے دن نہا کر نکلی ہوں….
اور ڈریسنگ ٹیبل سے برش لے کر بالوں مین پھیرنے لگا.
حنین کی بات پر زریاب نے قہقہ لگایا اور ٹرے ٹیبل پر رکھ دی…
یاررر…
حنین قسم سے بہت پیارا لگ رہا ہے تو شلوار قمیض پہناکر.اس وقت تو کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا ہے.
زریاب نے کھلے دل سے اسے سراہا…
اتنے میں ڈور بل بجی
لگتا ہے دبیر آ گیا.
کہتے ساتھ زریاب ڈور کی طرف بڑھا…..
توقع کے عین مطابق دروازہ کھلتے ہی دبیر اندر داخل ہوا زریاب سے ملا.اب دونوں کمرے میں اگے پیچھے داخل ہوئے
مگر اب دبیر کی حنین پر نظر پڑتے ہی وہی حالت تھی جو تھوڑی دیر پہلے زریاب کی تھی.
دبیر کو یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئے حنین کو غصہ آگیا..
تم دونوں نے میرا ریپ کرنا ہے کیسی گندی نظروں سے دیکھ رہے ہو جب کہ زدیاب صوفے پر بیٹھا ہنس رہا تھا.
حنین تو کتنا پیارا لگ رہا ہے..
دبیر نے کہتے ہوئے حنین سے ہاتھ ملایا اور زریاب کے ساتھ بیٹھ گیا
جبکہ حنین نیچے کارپٹ پر ہیٹر کے سامنے بیٹھنے لگا
چل چائے پکڑا اور انڈے کی پلیٹ بھی دے.
حنین نے زریاب سے کہا
زریاب نے باری باری دونوں کو چائے دی جبکہ انڈوں پر حنین نے قبضہ کر لیا…
گاؤن میں سب خیریت تھی.دبیر نے زریاب کی طرف دیکھتے پوچھا.
ہاں یارررر….شکر ہے اللہ کا
تیری پیرنی کیسی ہے…؟؟؟
حنین نے سوال کیا اور ساتھ شرارت سے مسکرایا
اس کی شرارت سمجھ کر زریاب نے جواب دیا
“جیسی پہلے تھی بلکل ویسی ہے.”
یعنی …بتمیززززز
حنین نے زریاب کو دیکھ کر کہا
اور آنکھیں مٹکائی
حنین بازززز آجا…کتنی دفعہ منع کیا ہے تجھے اثر کیون نہیں ہوتا
زریاب نے مصنوعی غصہ سے کہا
اب ہر کوئی نرمین تو نہیں ہوتا…وہ بیچاری معصوم سی تیرے ہتھے چڑھ گئی ہے..دبیر نے لقمہ دیا
واہ کیا بات ہے معصوم اور نرمین…
اچھی خاصی بدمعاشیاں کرتی ہے میرے ساتھ پتہ نہیں تم لوگوں کو معصوم کیسے لگتی ہے.یہ جو میں اتنا گیلا ہوا ہوں اسی کی مہربانی ہے…….
اتنا کہتے ہی حنین نے پورا واقعہ سنا دیا…
افسوس ہے تجھ پر…زریاب نے سر مارتے ہوئے کہا
اب کبھی بلاک نہیں کرے گی
ورنہ جو عشق کا نواں مقام ہے بڑا خطرناک ہے میں سیدھا اس پر پہنچوں گا…
حنین نے جواب دیا وہ ساتھ ساتھ انڈوں سے انصاف بھی کر رہا تھا
یار یہ تجھے عشق کے مقام کیسے پتہ چلتے ہیں..؟؟؟
زریاب نے پوچھا
جبکہ دبیر بظاہر چائے پی رہا تھا لیکن ذہن میں رائحہ کا خیال آرہا تھا ان دونوں کی باتیں سنتے…
بیٹا جی…یہ جو عشق کے مقام ہیں نا یہ میرے جیسے مردوں کے لیے ہیں…تیرے جیسے رن مرید اس زمرے میں نہیں آتے….
اور قہقہ لگایا….
تو رن مریدی کی آخری سٹیج پر ہے…….
حنین نے زریاب پر پورا تبصرہ کر دیا.
اب زریاب نے پھیکی سی مسکراہٹ سے حنین کو دیکھا اور کہا…..
میں نے بھی کچھ تو کیا ہوگا..؟؟؟ وہ پاگل تو نہیں ہے…؟؟؟ جو مجھے ایسا کہتی ہے…؟؟؟ میں یہی deserve کرتا ہوں..
اب کی بار زریاب بہت سنجیدہ تھا.جسے حنین اور دبیر نے نوٹ کیا
اچھا چھوڑو کن باتوں میں الجھ گئے ہو مجھے دیر ہو رہی ہے دبیر نے موبائل پر ٹائم دیکھتے ہوئے پیالی ٹرے میں رکھ دی اور جانے کے لیے کھڑا ہو گیا.
ایک منٹ، ایک منٹ تو نے اپنا موبائل کب تبدیل کیا ..؟؟؟
حنین نے پوچھا
آج ہی…دبیر نے جواب دیا
واہ کیا بات ہے تیری اور تیری چوائس کی…..حنین نے ستائشی نظروں سے فون کو دیکھا
دبیر حنین اور زریاب سے ملتا کمرے سے باہر آگیا
یار مجنوں مجھے وہاں سے میرا موبائل پکڑا زرا خبر لوں…. ؟؟؟
خبر لوں….یا خبر دوں …؟؟
زریاب نے موبائل حنین کو دیتے پوچھا
نہیں اس کی لینی ہے وہ جو نازک مزاج ہے مجھے کیا ہونا ہے میں ٹھیک ہوں…
حنین نے فون پکڑتے جواب دیا
زریاب برتن اٹھاتے کچن میں جانے لگا جب حنین نے کہا مجھے تکیہ اور کمبل بیڈ سے پکڑا دے اور جاتےہوئے لائٹ آف کر دے
زریاب کے کمرے سے نکلتے ہی حنین نے نرمین کو کال کی.
دوسری بل پر ہی کال اٹینڈ ہو گئی.
کیسی ہو؟؟؟ حنین نے پوچھا
تھیک ہوں..؟؟ نرمین کی آواز میں فلو کے واضح آثار تھے
لگ تو نہیں رہا..؟؟ حنین کا اشارہ فلو کی طرف تھا
یہ بھی تمہاری مرہون منت ہے.نرمین نے جواب دیا
حنین نے قہقہ لگایا…تو نہ الٹے کام کیا کرو..نہ سزا ملا کرے
اور کچھ کہ بس….نرمین نے ناراضگی سے کہا
ناراض ہو…؟؟؟ میں آؤں.حنین نے پوچھا
نہیں ناراض….مہربانی فرما کر تم نہ آنا.دوسری طرف سے فوراً جواب آیا
ارے اتنا غصہ…ہر بار نظر اتارنے تھوڑا آؤں گا… بندہ منانے بھی آ سکتا ہے.عاجزی سے کہاحنین نے
نہیں میں تمہارا آنا afford نہیں کر سکتی..آواز میں خفگی تھی
چلو مرضی ہے تمہاری… آرام کرو
بائے
حنین نہیں کہتے ہوئے کال بند کر دی
پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد نرمین کو میسج کیا
I am sorrryyyy😞😞😞
اور موبائل سائیڈ پر رکھ کر کمبل اوڑھنے ہی لگا تھا کہ میسج ٹون بجی نومین کا ریپلائے تھا
ﺳﻨﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﮮ ﮨﻮ ﺗﻢ!!!! ﭘﺮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ!!!😍
حنین نے مسکراتے ہوئے کمبل اوڑھ لیا
………………………………….