Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26 Pt.1


آج تو آپ بہت فرصت سے دیکھ رہی ہیں مجھے…
دبیر نے قریب آتے ہوئے مسکرا کر رہا
آپ نے خود ہی تو کہا تھا کوئی پابندی نہیں دیکھنے پر…
رائحہ نے ہلکا سا ابرو اچکا کے جواب دیا
میں نے کہا تھا قریب آنے پر کوئی پابندی نہیں…
دبیر نے رائحہ کی طرف جھکتے ہوئے یاد دلایا
ایک ہی بات ہے رائحہ نے فاصلہ بڑھاتے ہوئے کہا جس پر دبیر نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے مسکرا کر اردگرد دیکھنے لگا
آپ آج خلافِ معمول کافی اچھے لگ رہے ہیں.
رائحہ نے ایک دفعہ پھر حنین کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا
اچھاااااااااادبیر نے حیرت سے ایک نظر خود کو اور دوسری نظر رائحہ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
اس میں اتنی حیران ہونے والی کون سی بات ہے..؟؟؟
دبیر کی حیرت کو دیکھتے ہوئے رائحہ نے پوچھا
اصل میں آپ کو میری ہر چیز پر اعتراض ہی ہوتا ہے تو….؟؟؟
دبیر نے بات ادھوری چھوڑ دی
نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں میں لوگوں کی اچھی چوائس کو ہمیشہ سراہتی ہوں.
رائحہ نے اب مکمل توجہ سے دبیر کو جواب دیا
کس کو فون کر رہی ہیں..؟؟؟
حنین کو…وہ مجھے گھر جانا ہے دیر ہو رہی….
رائحہ نے جواب دیا
چلیں میں چھوڑ دیتا ہوں دبیر نے آفر ماری…
گاڑی تبدیل کی..؟؟
رائحہ کے ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ ابھری اور ساتھ ہی اس نے گاڑیوں کی طرف دیکھا جہاں اس کی بلیک مرسڈیز اپنی آن بان سے چمک رہی تھی.
دبیر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
مجھے اپنی گاڑی بہت پسند ہے میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا
دبیر نے رائحہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اچھی بات ہے مگر میرے خیال سے آپ اتنے غریب نہیں کہ دوسری گاڑی afford نہ کر سکیں..؟؟
رائحہ نے حنین کو اپنی طرف آتا دیکھ کر قدرے لاپرواہی سے کہا
آپ تو مجھے ایسے آڈر کرتی ہیں جیسے میں……
دبیر کا جملہ ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ حنین پہنچ گیا
کیا مسئلہ ہے ڈاکٹر صاحبہ…؟؟؟؟
حنین نے سر سے پاؤں تک دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں بس اب تم مجھے واپس بھیجوا دو..
رائحہ نے اپنی ریسٹ واچ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے میں ڈرائیور کو کہہ دیتا ہوں آپ آئیں….
اور پھر حنین رائحہ کو پارکنگ کی طرف لے کر بڑھ گیا جبکہ دبیر ان دونوں کو جاتا دیکھنے لگا
کچھ دیر بعد حنین واپس آیا تو دبیر ابھی تک وہیں کھڑا تھا.دبیر کو ایسے کھڑا دیکھ کر حنین کو شرارت سوجھی
وہ چلی گئی ہے اب تو بھی اپنا کام کر…..
حنین نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا جس کے جواب میں دبیر نے تھوڑا سا مسکرا کر کہا تو تھوڑی دیر سے نہیں آ سکتا تھا..؟؟؟
کیوں تو اسے پرپوز کر رہا تھا..؟؟
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر دبیر کو دیکھا
تو نے اس کی نوبت ہی نہیں آنے دی ……
اور پھر دونوں ہنستے ہوئے آگے کی طرف بڑھ گئے
…………………
اس وقت کمرے میں احمد مراد اور ان کی اہلیہ ایک طرف بیٹھی تھیں جبکہ بلکل مقابل صوفے پر بیگم غزالہ اور ملک نزیر صاحب موجود تھے باہر کیونکہ کافی ہنگامہ برپا تھا اس لیے ان چاروں نے اندر بیٹھنا پسند کیا کافی سوچ بیچار کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس جمعہ کو چھوڑ کر اگلے جمعہ نرمین اور حنین کا نکاح ہو گا.مگر حنین جو کمرے کے باہر ان کی باتیں سن رہا تھا فوراً ملک نزیر کو میسج کیا کہ جمعہ کو نہیں اتوار کو….
میسج پڑھتے ملک نزیر نے معزرت کرتے ہوئے کمرے سے باہر آگئے
برخودار کوئی کام ہمیں بھی کر لینے دو کہ سارے خود ہی کرنے ہیں…؟؟؟
ملک صاحب نے ہنستے ہوئے حنین کے کندھے پر ہاتھ رکھا
ڈیڈ اصل میں اس اتوار کو زریاب ہسپتال سے ڈسچارج ہو جائے گا اور اگلی اتوار تک کافی بہتر ہو گا میں نہیں چاہتا کہ میرے نکاح میں وہ شرکت نہ کرے آج بھی میں اسے مس کر رہا ہوں….
ویسے بھی جب میں اس کے نکاح میں شامل تھا تو اسے بھی میرے نکاح میں ہونا چاہیے
حنین نے پیار سے ملک نزیر کو دیکھتے ہوئے کہا
چلو ٹھیک ہے ویسے میں کبھی کبھی سوچتا ہوں اگر تیری اولاد بھی تیرے جیسی ہوئی تو….؟؟؟
ملک نزیر نے طنز کرنے والے انداز میں پوچھا
آپ بےفکر رہیں وہ سب عادتوں میں اپنی ماں پر ہوں گے صرف شکلیں میری جیسی ہوں گی اس لیے ان پر بھی میرا ہی حکم چلے گا….
حنین نے آنکھ مارتے ہوئے باپ کو جواب دیا
……………….
حنین سب سے پہلے نرمین کو نکاح کی تاریخ کا خود بتانا چاہتا تھا اس لیے وہ نرمین کو تلاش کر رہا تھا مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آ رہی تھی
بلآخر وہ اسے سب سے آخر میں کرسی پر بیٹھی نظر آئی.
حنین ایک اور کرسی لیے اس کے بلکل سامنے بیٹھ گیا اور اپنی ٹانگیں اس کی کرسی کے اردگرد پھیلا دیں تاکہ وہ بات سنے بغیر چلی نہ جائے
کیا ہوا ہے ..؟؟؟ منہ کیوں پھولا ہوا ہے…حنین نے اسے کوئی چپ دیکھ کر پوچھا
تم جاؤ یہاں سے میں نے کوئی بات نہیں کرنی تم سے…؟؟؟
نرمین نے بغیر دیکھے جواب دیا
مگر کیوں..؟؟؟
حنین نے زور دیتے ہوئے پوچھا
کیونکہ تم بات نہیں کرتے بلکہ بکواس کرتے ہو…..
نرمین نے آہستہ مگر غصہ سے کہا
میں ……؟؟؟ حنین نے انگوٹھا اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا جیسے اسے یقین نہ ہو کہ نرمین مجھے کہہ رہی ہے
جی آپ کو ہی کہہ رہی ہوں. ابھی تھوڑی دیر پہلے جناب اس لڑکی کے سامنے کیا کہہ رہے تھے.اتنی شرمندگی ہوئی مجھے….نرمین نے دکھ سے اپنا سر نفی میں ہلایا
اونہہ….تو یہ بات ہے چلو اللہ نے مجھے سزا دے دی میرے کرنے کی اب تو تم خوش ہو جاؤ…
حنین نے سنجیدگی کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
کیا ہوا..؟؟؟ نرمین نے حنین کو سنجیدہ ہوتا دیکھ کر پوچھا
ہونا کیا تھا بس یوں سمجھ لو کے تمہاری لاٹری نکل آئی اور میرا نقصان ہو گیا.
حنین نے بلا کی معصومیت چہرہ پر لاتے ہوئے کہا
ظاہری سی بات ہے جب تم دوسروں کو اتنا تنگ کرو گے تو کچھ نا کچھ سزا تو ملے گی…
خیر بتاؤ کیا ہوا..؟؟؟
آخر میں نرمین نے اپنے دونوں ہاتھ بازوں پر باندھتے ہوئے پوچھا
دیکھو اگر تمہیں بیٹھے بیٹھائے اتنا بڑا گھر مل جائے(حنین نے اپنے بنگلے کی طرف اشارہ کیا) ساتھ میں نیو فرنیچر ،بہت سارے پیار کرنے والے لوگ، اچھے اچھے کپڑے، زیور، ایک عدد پیاری سی گاڑی اور ہر مہینے ایک سمارٹ سی رقم پاکٹ منی کے طور پر ….تو تمہیں کیسا لگے گا..؟؟؟
حنین نے نرمین کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے پوچھا
بہت اچھا لگے گا مگر مجھے کرنا کیا ہو گا….؟؟؟
نرمین نے مصومیت سے پوچھا
یاررررر تم بھی نااااا😂😂
حنین ہنسنے لگے مگر نرمین کا موڈ پھر سے خراب ہوتا دیکھ کر فوراً چپ ہوتے ہوئے بولا
لیکن میرے ساتھ تو ٹریجڈی ہے نااااااا😭😭
وہ کیسے …؟؟؟نرمین نے پوچھا
وہ ایسے کہ اگر کوئی میرے گھر، گاڑی، بینک بیلنس، کمرے اور ہر چیز میں حصہ دار بن جائے تو مجھے غصہ آئے گا نا…..
حنین نے مظلوم بنتے ہوئے پوچھا
کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو.مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کوئی تمہارے ساتھ ایسا کیوں کرے گا…؟؟؟
نرمین نے حنین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ تو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا..؟؟ تم فلحال میرا ایک کام کر دو پلیزززززز
حنین نے بڑے منت بھرے لہجے میں کہا
ہاں ضرور بولو…..نرمین نے حنین کی توقع کے عین مطابق جواب دیا
تم ادھر میں ہاتھ کی ہتھیلی پر لکھ دو کہ “حنین ساتھ زیادتی ہے”اور نیچے اپنے سائن کر دو.
حنین نے اپنی ہتھیلی اور پن نرمین کے آگے کرتے ہوئے کہا
نرمین نے حنین کی ہتھیلی پر لکھنا شروع کیا جبکہ حنین نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی اسے سچ مچ نرمین اس وقت بہت معصوم لگ رہی تھی.
یہ لو لکھ دیا….نرمین نے پن حنین کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا
شکریہ ….اب تم تھوڑی دیر بعد میرا سٹیٹس چک کر لینا
حنین کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ نرمین ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی