Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 3 Pt.1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3 Pt.1
قسط نمبر ۳ (حصہ اول)
زریاب زنان خانے میں داخل ہوتے ہی پہلے کمرہ میں گیا جو اس کی تائی کوثر اور ماہ نور کی ماں کا تھا.
سلام تائی اماں..زریاب نے داخل ہوتے ہی سر جھکا کر تائی کو سلام کیا…..
تائی کی خوشی دیدنی تھی آگیا میرا شہزادہ ادھر آ……
تھک گیا ہے تائی نے لاڈ سے زریاب کا سر اپنی گود میں رکھا زریاب بیڈ پر سیدھا لیٹ گیا اور آنکھین بند کر لیں.تیرے بال کتنے روکھے ہو رہے ہیں لا تیل کی مالش کردو………
نیکی اور پوچھ پوچھ….
زریاب واقعی ہی چاہ رہا تھا کوئی سر دبائے تائی نے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل سے تیل کی بوتل اٹھائی اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور نسرین بیگم بھی آ گئی تو نواب صاحب یہان تائی سے خدمت کروا رہے ہیں.انھوں نے زریاب کے پاؤن پر ہلکی سی چت لگائی اور وہیں اس کے پاؤں گود مین رکھ کر بیٹھ گئی.
زریاب بیٹا تو شہر میں اپنا خیال نہیں رکھتا دیکھ کتنا کمزورہوگیا ہے
ماں کی ممتا جاگ اٹھی….ایسی کوئی بات نہیں ماما …..میں ٹھیک ہون
زریاب ماں اور تائی اپنے نخرے اٹھوا رہا تھا جب نظر گھڑی پر پڑی ساڑھے دس….وہ زیر لب کہتا ہوا اٹھ بیٹھا
کیا ہوا کوثر بیگم کو فکر ہوئی کچھ نہیں بس چلتا ہوں نیند آ رہی ہے ماں اور تائی سے پیار لے کر وہ کمرہ سے باہر آیا……..
اللہ کرے جاگ رہی ہو. ورنہ پھر کل رات تک انتظار کرنا پڑے گا دن میں اس سے ملنا ناممکن بات ہے گاؤں کی عورتوں کا اتنا رش ہوتا ہے کہ بس…..
ماہ نور کا کمرہ زنان خانے کے آخر میں تھا کمرے کی کھڑکی لان میں کھلتی تھی اور ابھی بھی کھڑکی سے روشنی باہر آ رہی تھی جس کا مطلب صاف ظاہر تھا کہ وہ ابھی جاگ رہی ہے
.زریاب نے دروازہ پر نوک کی .ماہ نور جانتی تھی اس وقت کون ہو گا اگر زریاب آج حویلی میں نہ ہوتا تو اسے تشویش ہوتی…مگر اب وہ جانتی تھی کہ وہی ہو گا دروازہ دوسری اور تیسری بار بجا …ماہ نور نے بیزاری سے کہا آجاؤ…
زریاب دروازہ کھول کر اندر آیا اور دروازہ بند کر کے اسی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اور ایک پاؤں پیچھے دروازے ساتھ لگائے وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا….
سفید کپڑے پہنے اور سفید دوپٹہ اچھے طریقے سے چہرے کے گرد لپیٹے وہ جائے نماز پر بیٹھی تھی زریاب ماہ نور کے کمرے میں نہیں آتا تھا نہ ہی بیٹھتا تھا بس دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا رہتا اور پھر وہی سے چلا جاتا…..
کافی دیر کمرے میں دو نفوس کے ہوتے ہوئے بھی خاموشی رہی….پھر اس خاموشی کو زریاب کی آواز نہ توڑا ہمیشہ کی طرح….
کیسی ہو؟؟؟؟
تم سے مطلب ….جیسی بھی ہوں ماہ نور نے بغیر دیکھے کہا….
زریاب نے اس کے جواب پر گردن نفی میں ہلائی جیسے کہ رہا ہو تم نہیں بدل سکتی….
تمہاری سرد مہری سے الجھنے سے تو بہتر تھا
ہم اپنی ذات کے قصے درو دیوار سے کہتے
پھر شکوہ زبان پر آیا…میں اتنی دور سے اتنے دنوں بعد آیا ہون بندہ اپنی شکل ہی دیکھا دیتا ہے.
زریاب کے شکوہ نے ماہ نور کے غصہ کو ہوا دی وہ پلٹی اور اٹھ کھڑی ہوئی…اب دونوں فاصلے پر مگر آمنے سامنے تھے.
مجھے تمہاری منحوس شکل دیکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے نفرت ہے مجھے تم سے کئی دفعہ کہ چکی ہوں سمجھ نہیں آتی تمہیں…پھر اپنی شکل لے کر میرے سامنے آ جاتے ہو.مرتے کیوں نہیں ہو اب ماہ نور تقریباً چیخ رہی تھی اور اس کی گوری رنگت سرخ ہو رہی تھی
زریاب نے لمبا سانس کھینچ کر خود کو نارمل کرنے کی پوری کوشش کی…..
کیا مسئلہ ہے تمہیں مجھ سے…میں نے تو کبھی تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائی…وہ آنکھوں میں بلا کی سنجیدگی لے کر کہ رہا تھا……
تکلیف…….سردار زریاب علی خان
تمہیں تکلیف کا لفظ آتا ہے معنی نہیں……
منتیں مانی ہے تمہارے مرنے کی…
جس دن منت پوری ہو گی میں درگاہ پر چاردچڑھاؤںگی.پھولوں کی نہیں نوٹوں کی…..
ماہ نور غصے کی شدت سے سرخ ہو رہی تھی
زریاب کو ماہ نے کے الفاظوں نے بہت تکلیف دی وہ صرف اتنا ہی کہ پایا
ماہ نور……..
مت نام لیا کرو میرا سب مجھے نور بی بی بولتے ہیں اور تم بھی یہی کہا کرو ویسے بھی میں تم سے بڑی ہوں احترام کیا کو میرا….
میرے لیے تم کل بھی ماہ نور تھی آج بھی اور آئندہ بھی ماہ نور ہی رہو گی….
زریاب نے اپنی بادامی آنکھیں جن میں تھکن نمایاں تھی ماہ نور کے چہرے پر گاڑتے ہوا کہا…
اور سنو یہ جو تم ہر وقت میرے مرنے کی دعائیں مانگتی ہو تم نے میری زندگی کے لیے رو رو کے دعائیں نہ مانگی تو میرا نام زریاب علی خان نہیں
اس کے ساتھ ہی وہ پلٹا مگر پھر ماہ نور کی طرف دیکھ کر کہا…
ماہ نور قدر نا کی جائے تو نعمتیں چھین لی جاتی ہیں
پھر چاہے وہ رزق ہو یا محبت….!
اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے…..
…………………………………
پارکنگ میں آکر دبیر نے ہچکی لی……
خیریت ….حنین نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں گھما کر پوچھا….
پتہ نہیں یار رات سے ہی آ رہی ہین.مگر اب تھوڑی تھوڑی دیر بعد آ رہی ہیں.میرے گلے میں درد بھی ہونے لگا ہے ساتھ ساتھ سینہ بھی بج رہا ہے…تکلیف دبیر کے چہرہ سے واضح تھی…
چابیاں ادھر دے میں خود ڈرائیو کرو گا.اپنی زندگی کا رزق نہیں لے سکتا…..حنین نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوا کہا…..
…………………………………
آج اتوار ہے کونین نے ہالہ بی کو صبح صبح کچن میں دیکھ کر پوچھا…..
جی ….مختصر جواب آیا
پھر آپ کچن میں کیا کر رہی ہیں ????
اس وقت تو بستر میں ہونا چاہیے تھا…
اتوار کو تو آپ شام میں ہستال جاتی ہیں….
کونین نے تھرمس سے چائے نکالتے ہوا کہا
امی آج اپنا فیورٹ کام کر رہی ہیں اور مجھے ساتھ دینے کا حکم ملا ہے…..
ہالہ انتہائی بیزاری سے جواب دیا…
اہووووو…تو یہ بات ہے.کتنے لوگ ہیں؟ کب تک آئیں گے؟ لڑکا کیا کرتا ہے؟ کونین نے تجسس سے پوچھا…….
مجھے کیا پتہ…بس حکم ملا ہے آج چھٹی کرو گھر پر رہو اور بسسسسسسس……
وہ منہ بناتی اپنے چائے کا کپ اتھائے ٹی وی الاؤنچ میں آگئی…
پیچھے پیچھے کونین بھی اسی کے ساتھ الاؤنچ میں آگیا…اداس کیوں ہو…
پتہ میں سوچتی ہوں تم لڑکے ٹھیک ہو؟؟؟؟؟؟؟
کیوں..کیسے؟؟؟؟
کونین نے چائے کا سیپ لیا..
مطلب یہ شادی کی ٹنشن سے آزاد.جب تک دل کیا اپنا کیرئر بنانا…
پھر پسند کی لڑکی سے شادی کی …اور عیش..
جبکہ ہم بڑی ہوئیں نہیں کہ ماں باپ کو رشتے کی فکر پڑ گئی…
اب امی ابو کو دیکھ لو ہر ویک اینڈ پر کوئی نہ کوئی آ جاتا ہے.مجھے تو اپنا آپ شو پیس لگ رہا ہے….
ہالہ بہت دکھی تھی…
اچھا چھوڑو……..
قانون قدرت ہے تمہیں کب تک گھر رکھین……..
اب تم کوئی رکھنے کی چیز ہو خود سوچو…….
کونین نے بات مزاق میں ٹالی……..
کونین کے بچے…….
.ہالہ چلائی اور ایک بار پھر دونوں بہن بھائی کی نہ ختم ہونے والی لڑائی شروع………
