Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 16 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16 Pt.2
نرمین سو کر اٹھی تو دن کے بارہ بج رہے تھے دوائیوں کا اثر تھا شاید یا اس کی طبیعت بہتر تھی خیر جو بھی تھا وہ آج اچھا محسوس کر رہی تھی. کمرے میں فلحال کوئی نہیں تھا مگر صوفے پر ماما کا پرس دیکھ کر نرمین کو حوصلہ ہوا کہ وہ ادھر ہیں شاید کسی کام سے باہر گئی ہوں.
پھر نظر سائیڈ ٹیبل پر گئ جہاں چھوٹی سے باسکٹ پڑی تھی جس میں بہت ساری چاکلیٹ، کینڈیز اور بنٹیاں تھیں اور سرخ اور سفید رنگ کے دو گلاب اور ایک کارڈ بھی تھا.
نرمین نے وہ باسکٹ اٹھا کر گودمیں رکھی اور کارڈ کو دیکھا جو سائز میں ایک وزیٹنگ کارڈ جتنا تھااور جس کے باہر صرف
“Yessssss “
لکھا ہوا تھا.نرمین نے اسے کھولا تو اندر حنین کی رائیٹنگ میں لکھا تھا
“I lovvee uuuuu “
“دوسری بار بھی ﮨﻮتی تو تم سے ہی ہوتی
میں بالفرض محبت جو دوبارہ کرتا”
From : Hanain Malik
نرمین کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اس نے دونوں پھول اٹھائے اور سونگھنے لگی
……………..
ماہ نور نے اپنے کمرے کا جائزہ لیا تقریباً تمام سامان جو اُسے ساتھ لے کر جانا تھا پیک ہو چکا تھا.پھر ایک سرد آہ بھر کر وہ بیڈ کے کنارےبیٹھ گئی.
کتنے سال گزارے میں نے اس کمرے میں، اس کمرے کے درودیوار میرے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں عجیب سی انسیت ہے مجھے اس کمرے سے….
پتہ نہیں اُن کی حویلی کیسی ہو گی.میں وہاں ایڈجسٹ بھی کر پاؤں گی کہ نہیں…؟؟
میرے ساتھ کیسا سلوک کریں گے وہ لوگ….؟؟
کچھ بھی تو معلوم نہیں مجھے…؟؟؟
اللہ رحم کر مجھ پر اور حوصلہ دے میں کمزور نہیں پڑنا چاہتی پر دل عجیب طرح دھڑک رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے لگا ہے سب ٹھیک ٹھیک ہو جائے. تاریخ اپنے آپ کو نہ دہرائے میں بار بار دلہن نہیں بننا چاہتی.اس نے اپنے ہاتھوں پر مہندی کے نقشوں نگار دیکھتے ہوئے سوچا
“پگڑیوں کے اکثر فیصلے
چادروں کو بھگتنا پڑتے ہیں”
ماہ نور سوچوں کے گرداب میں باتوں کا تانا بانا بُن رہی تھی جب ماہین اور پارو کمرے میں داخل ہوئیں.
آپا کیا سوچ رہیں ہیں….؟؟
ماہین نے ماہ نور کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا….
کچھ نہیں بس مہندی دیکھ رہی تھی.دیکھو کتنا اچھا رنگ آیا ہے.ماہ نور نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سامنے کرتے ہوئے کہا
ہاں آپا یہ تو ہے پارو نے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور رونے لگی.
بس کرو پاگل ہو گئی ہو کیوں رو رہی ہو میں نے اُس دن بھی منع کیا تھا.تم میری بات نہیں مانتی .دیکھو میری بات تم دونوں غور سے سنو…
اماں کا بہت خیال رکھنا،ماہین تم پارو کا بھی خیال رکھنا اور پارو تم نے ماہین کو تنگ نہیں کرنا.دونوں نے اچھا اچھا پڑھنا ہے سمجھیں.پتہ نہیں وہ لوگ مجھے دوبارہ یہاں آنے بھی دیں گے کہ نہیں..؟؟؟
پتہ نہیں پھر تم لوگوں کو کب دیکھوں..؟؟
شدتِ جزبات سے ماہ نور کی آواز نم ہو گئی اور اس نے دونوں بہنوں کو ساتھ لگا لیا.اپنا بہت خیال رکھنا.میں تم دونوں کو مس کروں گی
پارو کچھ دیر چپ رہی پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی.اسے یوں باہر جاتا دیکھ کر ماہ نور نے ماہین سے کہا
وہ ابھی چھوٹی ہے ان مسائل کو نہیں سمجھتی تم بڑی ہو سمجھداری کا ثبوت دینا.اور اللہ کا شکر ادا کرو دیکھو اس نے تمہیں ضائع نہیں کیا بلکہ ایک بہت ہی زبردست انسان تمہارا شریکِ سفر بنایا.افراسیاب کی قدر کرنا.اب اس سے لڑنا چھوڑ دو. آخر میں ماہین کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں بھی سرخ ہو رہیں تھیں.
جیسا آپ چاہتی ہیں میں بلکل ویسے ہی کروں گی.لیکن آپا ہم سب آپ کو بہت مس کریں گے یہ کہتے ہی ماہین، ماہ نور کے گلے لگ گئی اور آنسو خودبخود اپنا راستہ بنانے لگے.
پارو کمرے سے نکل کر سیدھا افراسیاب کے کمرے کی طرف گئی جو اس وقت جمعہ کی نماز کے لیے تیار ہو کر نکل رہا تھا.پارو کو دیکھ کر رک گیا.
آپ نے زریاب لالا کو کال نہیں کی..؟؟
پارو نے بےصبری سے پوچھا
پارو بار بار کر رہا ہوں ان کا فون بند جا رہا ہے میں نے کل ان کے دوست کو فون کیا تھا اور لالا کے نام پیغام بھی دیا تھا.بتاؤ اب اور کیا کروں..؟؟؟
افراسیاب نے دکھ سے پارو کو دیکھتے ہوئے قمیض کے کف فولڈ کیے.
آپ بھی تو بڑے ہیں.آپ کی بھی تو آپا ہیں اتنا پیار کرتیں آپ سے
کچھ کریں نا آپ اُن کے لیے…..
پارو نے روتے ہوئے کہا
میں کیا کر سکتا ہوں تایا سائیں کے سامنے تو بابا سائیں نہیں بولتے تو میری اوقات کیا ہے.
ہاں مگر زریاب لالا کچھ کر سکتے ہیں تایاسائیں لالا سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کی بات بھی مانتے ہین.مگر پتہ نہیں لالا ابھی تک آئےکیوں نہیں سوا ایک بج رہا ہے افراسیاب نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا
لالا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آئیں گے.وہ ضرور آئیں گے
پارو ابھی یہ کہہ ہی رہی تھی
جب زنان خانے کے گیٹ پر زریاب کی گاڑی کا ہارن بجا
لالا آگئے ……
پارو تیزی سے گیٹ کی طرف بھاگی
جیسے ہی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی زریاب نے پارو کو دیکھتے ہوئے ھنین کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی دروازہ کھول کر باہر نکل گیا.
لالا آپ اتنی دیر سے کیوں آئے ہیں میں نہیں بولتی آپ سے…
پارو یہ کہتی ہوئی زریاب ساتھ لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.زریاب بھی اسے دیکھ کر کچھ جزباتی ہو گیا.
جبکہ حنین کو ایسے موقعوں پر اپنی ہنسی روکنا مشکل ہوتا تھا اس لیے وہ اپنا موبائل نکال کر دبیر کو کال کرنے لگا
………………….
