Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 25 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25 Pt.2
بتمیز ….
نرمین غصہ سے کہتی دونوں ہاتھ حنین کے سینے پر رکھ کر اٹھنے لگی
میں نے کیابتمیزی کی ہے …؟؟؟تم خود میرے اوپر گری ہو.پہلے مجھ پر چیزیں گراتی تھی اب پوری کی پوری خود گر گئی ہو آٹے کی بوری.اتنی وزنی ہو تم میرا سانس بند ہو رہا ہے.
حنین نے اس کے گرد اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا
نرمین جو اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی آٹے کی بوری سن کر رونے والی شکل بنا کر بولی
حنین تمہیں میں آٹے کی بوری لگتی ہوں.
نہیں نہیں تم آٹے کی بوری نہیں بلکہ پھول ہو مگر گملے میں لگا ہوا. اب کی بار حنین پہلے سے زیادہ قہقے لگانے لگا
ابھی وہ نرمین کو مزید تنگ کرنے کے موڈ میں تھا مگر اس کا موبائل بجنے لگا تو مجبوراً حنین نے نرمین کو آزاد کرتے ہوئے
کال اٹینڈ کی جو اس کے ڈرائیور کی تھی اور اس نے حنین کو اطلاع دی کہ وہ ڈاکٹر رائحہ کو لے آیا ہے.
نرمین، حنین کے اوپر سے اٹھتی جانے لگی جب حنین نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوا کہا
تم یہاں بیٹھو میں پانج منٹ میں واپس آ رہا ہوں تمہیں کسی سے ملوانا ہے.اور خود دروازے کی طرف بڑھ گیا
تمہارے پانج منٹ پچاس منٹ کے برابر ہوتے ہیں میں جا رہی ہوں.
نرمین نے روٹھے لہجے میں کہا
میں دروازہ باہر سے لاک کر کے جا رہا ہوں سمجھی اس سے پہلے نرمین کچھ سمجھتی حنین دروازہ لاک کرتا تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا نیچے رائحہ کو تلاش کر نے لگا
تھوڑی دیر بعد وہ رائحہ کو لے کر واپس کمرے میں داخل ہوا تو نرمین رائحہ کو دیکھتے ہی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی اور کچھ الجھی سے حنین کو اور رائحہ کو باری باری دیکھنے لگی
بلکل یہی حالت رائحہ کی تھی.
تم دونوں کیا مجھے نظر لگاؤ گی کیسے دیکھ رہی ہو ..؟؟؟
حنین نے دونوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
یہ ڈاکٹر رائحہ ہیں اور یہ نرمین میری روم میٹ…
حنین نے دونوں کا آپس میں تعارف کرایا
جبکہ “روم میٹ” کے لفظ پر نرمین اور رائحہ دونوں ہی حنین کو دیکھنے لگیں.
تم نے تو بتایا تھا کہ تمہاری کلاس فیلو ہے..رائحہ نے کچھ سوچ کر نرمین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں کلاس فیلو بھی ہے مگر اب…..
حنین نے جملہ ادھورا چھوڑ کر نرمین کو دیکھا جو کھا جانے والی نظروں سے حنین کو گھور رہی تھی.
ابھی ہم تھوڑی دیر پہلے روم میٹ بن گئے ہیں.
حنین نے نرمین کی حالت کے پیشِ نظر وضاحت دی.
جبکہ نرمین ابھی بھی سخت غصہ میں تھی
رائحہ تم کمرے کو اچھی طرح دیکھ لو تب تک میں نیچے سے ہو کر آتا ہوں پھر بات کرتے ہیں اور نرمین تم اسے کمپنی دو.
حنین نے مڑتے ہوئے نرمین سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا
……………………
لان میں آتے ہی اس کی نظر کونین پر پڑی جسے وہ لے کر دبیر پاس آگیا.
یار اس سے مل…حنین نے کونین کو دبیر کے آگے کرتے ہوئے کہا
دبیر بہت خوشدلی کے ساتھ کونین سے ملا جبکہ حنین ان دونوں کو دیکھ کر مسکرایا (سالہ، بہنوئی)
یار یہ لڑکا ہماری یونی کا ہے بہت ہی ذہین ہے میں چاہتا ہوں کہ پیپرز کے بعد تو اسے اپنے آفس میں انٹرنل شپ کے لیے رکھ لے سید فیملی سے ہے.
حنین نے اس کا مکمل تعارف کرواتے ہوئے کہا
اب دبیر اور کونین بیٹھے باتیں کر رہے تھے جبکہ حنین الاؤئچ میں اپنی مام کو تلاش کر رہا تھا جو کہ بلآخر اسے مل ہی گئیں.
موم اب گپے مارنا چھوڑیں اور سر احمد سے نکاح کی بات کریں نااا….حنین نے لاڈ سے موم کو کہا
اچھا میں تمہارے ڈیڈ سے بات کرتی ہوں کیونکہ شام بھی ہو رہی ہے ابھی تھوڑی دیر میں کھانا بھی لگنے لگا ہے مگر مجھے نرمین نظر نہیں آ رہی میں نے اسے کچھ لوگوں سے ملوانا تھا.
غزالہ بیگم نے عورتوں میں ڈھونڈتے ہوئے کہا
کوئی ضرورت نہیں ہے اسے نظر لگوانے کی اتنی پیاری لگ رہی ہے میں نے اسے چھپا دیا ہے….
حنین نے شرارت سے موم کو آنکھ مارتے ہوئے کہا
حنین تیرا کوئی حال نہیں ہے لے کر آ اسے ورنہ میں تاریخ طے نہیں کروں گی.
غزالہ بیگم نے حنین کو دھمکی دی
اچھا لاتا ہوں…..حنین شکل بناتا سیڑھیاں چڑھنے لگا
نرمین نے مختصراً اپنے اور حنین کے بارے میں رائحہ کو بتایا.رائحہ کو نرم گفتار نرمین بہت پسند آئی.مگر وہ حیران تھی کہ حنین کو نرمین کیسے پسند آ گئی …؟؟؟؟جبکہ ان دونوں کی پرسنلٹیز بہت مختلف ہیں.
رائحہ کو مسکراتے دیکھ کر نرمین نے آنکھ کے اشارے سے پوچھا کیا ہوا..؟؟
کچھ نہیں بس میں سوچ رہی تھی کہ آپ بہت معصوم ہیں.
جیسے ہی رائحہ نے یہ الفاظ ادا کیے حنین نے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا.
ایسا کرتے ہیں کہ نرمین کا نام تبدیل کر کے “مس معصومہ ” رکھ دیتے ہین.جس کسی کو دیکھو ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے اگر تم تھوڑی دیر پہلے کا منظر دیکھ لیتی تو مجھے معصوم کہتی پتہ یہ آج میری عزت لوٹنے لگی تھی.
آخر میں حنین نے نرمین کو آنکھ مارتے ہوئے کہا اور خود ڈریسنگ ٹیبل ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.
نرمین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا جبکہ رائحہ حنین کی شرارت سمجھ کر ہنسی لگی.
نرمین نے حنین کی طرف تکیہ اچھالا اور خود غصہ سے باہر چلی گئی.اسے باہر جاتا دیکھ کر رائحہ نے کہا
ناراض کر دیا تم نے..؟؟؟
تم اس کی فکر نہ کرو اس کے سوفٹ وئیر کی سی ڈی میرے پاس ہے جب مرضی update کر لو.اس لیے اب تم میری بات غور سے سنو. یاد ہے ناااا کیا کہا تھا میں نے تمہیں فون پر جب میں گاؤں تھا یہ کہتے ہوئے حنین رائحہ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا
ہاں یاد ہے بولو کیا میرے فائدہ کی بات ہے..؟؟؟
رائحہ نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا
………………
لان میں زبردست کھانے کا انتظام تھا لان کے چاروں طرف کھانے کے میز لگے ہوئے تھے اور درمیان میں کہیں تخت پوش، کہیں کرسیاں اور کہیں صوفے سیٹ موجود تھے بہرے کھانا لگانے لگے تھے.
عترت اپنے خیالوں میں گم لاؤئچ کے دروازے میں کھڑی تھی جب آنے والے سے ٹکرا گئی.
تم اور یہاں…؟؟؟
کونین نے عترت کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے کہا جو آج بہت پیاری لگ رہی تھی.
جی وہ میں بھائی ساتھ آئی تھی
عترت نے فوراً جواب دیا
دبیر ہے تمہارے بھائی کا نام….؟؟؟
کونین نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے پوچھا
کونین کے منہ سے دبیر کا نام سنتے عترت کے چہرے پر ایکدم خوف سا لہرایا اور کہا
کیا کہا ہے آپ نے بھائی کو..؟؟؟
ویسے وہ اتنے خوفناک ہیں نہیں جتنا تم پوٹریٹ کرتی ہو.اچھا خاصے فرینڈلی ہیں میں ابھی ان کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا.
کونین نے عترت کی حالت سے لطف لیتے ہوئے بتایا
اچھا میں چلتی ہوں…عترت کو سخت ٹینش ہوئی پتہ نہیں بھائی مجھے گھر جا کر کیا کہیں گے..؟؟؟
جیسے ہی عترت جانے کے لیے پلٹی اس کے قدم کونین کی آواز پر رکے
اگر فون نہیں کرنا تھا تو نمبر لینے کا مقصد..؟؟؟اب یہ مت کہنا کہ بیلس نہیں تھا کیونکہ تمہارے بھائی تو پوری کمپنی خرید سکتے ہیں.
نہیں وہ مجھے لگا آپ ناراض ہیں.بات نہیں کریں گے اس لیے کال نہیں کی تھی.
عترت نے ہمیشہ کی طرح سچ بولا
مگر ناراض لوگوں کو منایا تو جا سکتا ہے..؟؟؟ کونین نے سوالیہ انداز اپنایا
مجھے منانا نہیں آتا…عترت نے معصومیت سےجواب دیا اور اب وہ کونین کے مسلسل سوالوں کی وجہ سے رونے والی ہو گئی تھی.
اچھا ٹھیک ہے تم میرے ساتھ آج کھانا کھاؤ گی تو میں پھر تم سے راضی ہو جاؤں گا.
کونین کو عترت پر بہت پیار آیا.
نہیں بھائی دیکھ لیں گے عترت نے صاف انکار کیا
اتنے سارے لوگوں میں کیسے دیکھیں گے..؟؟
کونین نے مسکراتے ہوئے پوچھا
میں آج گھر جاکر ضرور آپ کو فون کروں گی…
عترت یہ کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گی.جبکہ کونین اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا
………….
رائحہ کافی دیر سے ادھر ادھر لوگوں میں حنین کو تلاش کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کا نمبر بھی ملا رہی تھی تاکہ حنین کو کہہ سکے کہ مجھے واپس گھر چھوڑ آؤ اور اس کی باتیں بھی سوچ رہی تھی جب نظر دبیر پر پڑی وہ بھی سائیڈ پر کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا.رائحہ نے غیر ارادی طور پر دبیر کا جائزہ لیا اور دل میں اس کی زبردست پرسنیلٹی کی داد دی سر سے لے کر پاؤں تک وہ فل برینڈڈ چیزوں میں ملبوس تھا.آنکھوں کی تپش تھی یا کچھ اور مگر دبیر نے ایکدم رائحہ کی طرف مڑ کر دیکھا تو دونوں کی نظریں ٹکرائیں دبیر ہلکا سا مسکراتا ہوا معزرت کرتا رائحہ کی جانب بڑھ گیا.جبکہ دبیر کو اپنی طرف آتا رائحہ دیکھ رہی تھی
آج تو بہت فرصت سے دیکھ رہیں ہیں آپ مجھے…..
دبیر نے قریب آتے ہوئے
……………………..
