Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146 Episode 13 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13 Pt.2
حنین آج صبح خلافِ معمول دیر سے اٹھا اسے ایک طرف خوشی تھی کہ اس کی نیند پوری ہو گئی تو دوسری طرف حیرت بھی کہ آج ڈیڈ نے مجھے واک کے لیے نہیں اٹھایا.وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو اسے گھر میں کافی خاموشی لگی.نوکرانی کو بلا کر ناشتہ لانے کو کہا اور پوچھا
موم کہاں ہیں نظر نہیں آ رہیں..؟
اس سے پہلے حنین ڈائنگ ٹیبل پر ناشتہ کے لیے بیٹھتا نوکرانی کی بات سن کر دوبارہ کھڑا ہو گیا.
بی بی اور صاحب جی ہسپتال گئے ہیں وہ بتا رہیں تھی کہ کسی احمد صاحب کی بیٹی کو نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ایمرجنسی میں ہے.
کیااااااا…؟؟؟؟ دماغ ٹھیک ہے تمہارا جو منہ میں آیا بکواس کر رہی ہو.اور جیب سے موبائل نکال کر نرمین کو کال کرنے لگا.
نرمین کا نمبر بند جا رہا تھا کچھ سوچتے ہوئے حنین نے ملک نزیر کو کال کی. جو فوراً اٹینڈ ہو گئی.
ڈیڈ کیا ہوا ہے نرمین کو….؟؟
حنین نے بےقراری سے پوچھا
بیٹا اسے رات نروس بریک داؤن ہوا ہے CMH کی ایمرجنسی میں داخل ہے ہمیں صبح مسز احمد کا فون آیا تھا ہم نے تمہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا.اب جاگ گئے ہو تو جلدی سے ہسپتال آ جاؤ.اس کی حالت اچھی نہیں ابھی تک بیہوش ہے.
ملک نزیر نے مکمل تفصیل بتاتے ہوئے ہسپتال آنے کا کہا
اچھا ٹھیک ہے حنین نے سب سن کر فون بند کر دیا اور بغیر ناشتے کیے گاڑی میں بیٹھ کر دبیر کے آفس چلا آیا.
دبیر اور زریاب صبح صبح آفس میں سارے دن کی میٹنگ کو ڈسکس کر رہے تھے جب حنین اندر داخل ہوا اور چپ کر کے صوفے پر بیٹھ گیا.
کیا ہوا ہے ڈیڈ نے گھر سے نکال دیا آج یونی نہیں جانا تھا..؟؟؟
زریاب نے اسے یوں چپ بیٹھا دیکھ کر سوال کیا
یار آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ نرمین احمد کو اپنی احمقانہ حرکتوں کی وجہ سے نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے اس وقت CMH کی ایمرجنسی میں پائی جا رہی ہیں اور آخری اطلاع آنے تک حالت تشویش ناک ہے.
اور خود صوفے ساتھ ٹیگ لگا لی
کیاااااا….؟؟؟؟
دبیر اور زریاب ایکدم اٹھ گئے اور مڑ کر حنین کو دیکھا جیسے یقین کر رہے ہوں جو سنا وہ سب سچ ہے
جی بلکل اگر آپ چاہیں تو اسےجا کر دیکھ سکتے ہیں.
حنین نے عام سے لہجے میں کہا اور خود بھی کھڑا ہو کر جیبوں میں ہاتھ ڈال لیے.
تو نہیں جائے گا…؟؟؟ یا وہاں سے آ رہا ہے..؟؟
دبیر نے کچھ پریشانی سے پوچھا
نہ وہاں سے آیا ہوں نہ وہاں جا رہا ہوں. تمہیں اس لیے بتایا ہے کیونکہ تمہیں اس سے بہت ہمدردی رہتی ہے جا کر اپنی اس ہوتی سوتی کو دیکھ لو کیا پتہ پھر موقع نہ ملے.حنین نے آنکھیں گھما کر باری باری دونوں کو دیکھا.
حد ہے حنین شرم آنی چاہیے. تمہیں وہاں جانا چاہیے.چلو ہمارے ساتھ…..
زریاب نے کہا
نہیں مجھے کچھ کام ہیں اگر بچ گئی تو کل دیکھوں گا.
یہ کہہ کر آفس سے باہر چلا گیا اور زریاب، دبیر ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے
ہسپتال میں اس وقت مسٹر اینڈ مسز ملک نزیر، زریاب،دبیر اور مسٹر اینڈ مسز احمد مراد موجود تھے. جب ڈاکٹر نے آ کر بتایا کہ مریضہ کو ہوش آ گیا ہے اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ہم کچھ دیر میں انھیں روم میں شفٹ کر دیں گے.مگر آئندہ کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہےمسز احمد مراد نے روتے ہوئے احمد مراد کا گریبان پکڑ لیا یہ سب آپ کے اس فضول پلان کی وجہ سے ہوا ہے اگر میری بیٹی کو کچھ ہو جاتا تو میں کبھی آپ کو معاف نہ کرتی.میری بچی بہت معصوم ہے. بیگم غزالہ نے انھیں پکڑ کر بینچ پر بٹھایا اور تسلی دی جبکہ احمد مراد کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے.
دبیر نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی.
سر شکر کریں اللہ کا کہ اس نے دوبارہ نرمین کو زندگی دی. پلیززز روئے مت حوصلہ کریں وہ جلد صحت یاب ہو جائے گی.
جس پر وہ سر ہلاتے ریسپشن کی طرف بڑھ گئے
احمد مراد کے جاتے ہی ملک نزیر نے دبیر اور زریاب سے حنین کا پوچھا.
کہاں ہے وہ گدھا..؟؟میں نے اسے ہسپتال آنے کا کہا تھا.مگر وہ نہیں آیا.فون بھی بند جا رہا ہے تم لوگ اسے ساتھ لے کر آتے.
زریاب نے دبیر کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سچ بتانے سے منع کیا.
انکل وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے کچھ کام ہے وہ کر کے آتا ہوں.
دبیر نے نہایت صفائی سے جھوٹ بولا
بس پڑا ہو گا کسی فضول کام میں…
ملک نزیر افسوس سے سر ہلاتے احمد مراد کی طرف چل پڑے
ڈاکٹر نے نرمین کو روم میں شفٹ کر دیا اور ساتھ ہی کسی کو بھی رات رکنے سے منع کر دیا.اعتراض کرنے پر انھوں نے جواب دیا ہمارا سٹاف موجود ہیں. اپ گھر جا کر آرام کریں اور مریضہ کو بھی آرام کرنے دیں. انھیں آرام کی سخت ضرورت ہے.
تقریباً رات کے بارہ بج رہے تھے جب حنین نے ہسپتال کا رخ کیا سارا دن یوہی سڑکوں پر گھمتا رہا کچھ نہیں کھایا پیا.اب اسے یقین تھا کہ سب جا چکے ہوں گے وہ کسی کے سامنے رونا نہیں چاہتا تھا جب وہ نرمین کے کمرے میں داخل ہوا تو اس کا دل نرمین کو دیکھ کر بجھ گیا.اس کا رنگ زرد پڑا ہوا تھا آنکھوں کے نیچے ہلکے تکلیف کی نشاندہی کر رہے تھے ہاتھ میں کینولا لگنے کی وجہ سے سبز اور نیلی رگیں تنی ہوئی تھی وہ دنیا سے بےنیاز بے جان بستر پر لیٹی تھی
حنین نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور ابھری ہوئی رگوں پر اپنی انگلی پھیری اس کی آنکھیں بھیگنیں لگیں.پھر آہستہ سے اس کے ماتھے پر جھک کر اپنا ماتھا رکھ دیا.حنین کو خود پتہ نہیں چلا کب اس کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر نرمین کے چہرے پر گرے پھر ان آنسوؤں میں روانی آگئی.نرمین کا ہاتھ حنین کے ہاتھوں میں تھا.پہلی دفع حنین کو احساس ہوا کہ جب آپ اپنے کسی پیارے کے سامنے روئیں اور وہ آپ کو چپ نہ کرائے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے.
مسلسل پانی چہرے پر گرنے کی وجہ سے نرمین کے وجود میں حرکت آئی اس نے اپنا ہاتھ اور سر ہلایا.
نرمین کو جاگتا دیکھ کر حنین نے اپنا ماتھا اس سے الگ کی اس کے پاس بستر پر بیٹھ گیا.
نرمین نے آنکھیں کھولی تو پہلے منطر کچھ دھندلا دھندلا سا تھا پھر آہستہ آہستہ صاف ہوتا گیا.
نرمین نے پاس بیٹھے حنین کو غور سے دیکھا اور کہا
“تم رو رہے ہو…؟؟ “
نہیں……ڈرامہ کر رہا تھا.
اور مسکرانے لگا
حنین مجھے پیاس لگی ہے میں نے پانی پینا ہے…..
نرمین کو اچانک پیاس کا احساس ہوا.
اچھا رکوں میں پلاتا ہوں.
حنین نے نرمین کو اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر بیٹھایا اور پھر دوسرے ہاتھ سے ٹیبل پر پڑا ہوا گلاس پکڑ کر نرمین کے منہ ساتھ لگا دیا.
بس….
تھوڑا سا پانی پی کر نرمین نے گلاس منہ سے پیچھے ہٹا دیاجسے حنین نے دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیا.
اب نرمین نے اپنا سر حنین کے سینے سے لگا دیا وہ اب حنین کے دل کی دھڑکن آرام سے سن رہی تھی اور اس کی شرٹ کے بٹنوں پر غیر ارادی طور پر ہاتھ پھیرنے لگی جب کہ حنین نے ایک ہاتھ نرمین کے گرد رکھا ہوا تھا اور دوسرے سے وہ نرمین کا سر دبا رہا تھا.
حنین میرا سر درد نہیں کر رہا ہے پلیززز بس کرو. نرمین نے حنین کا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی.
مگر میرا تو سخت درد کر رہا ہے سارا دن سڑکوں پر گھوم گھوم کر سر بھی گھوم گیا ہے.حنین نے نرمین کاہاتھ پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا.
تو اپنا سر دباؤ نااااا …………..نرمین نے کہا
اپنا ہی دبا رہا ہوں تم چپ کرو حنین نے خفگی سے جواب دیا.
کچھ دیر دونوں خاموش رہے پھر نرمین نے اس خاموشی کو توڑا.
حنین میں نے تمہیں فون پر بہت برا بھلا کہا لیکن تم نے مجھے جواب میں کچھ نہیں کہا کیوں…..؟؟؟
نرمین نے بٹنوں کے ڈیزائن پر انگلی رکھتے ہوئے حنین کو دیکھا
“جب دوست اپ سیٹ ہو
تو اس کو نصیحت نہیں کرتے
نہ حقیقت پسندانہ تجزیے دیتے ہیں
بس خاموشی سے اس کو سن لیتے ہیں
تاکہ اس کا دل ہلکا ہو جائے
کسی کا دل ہلکا کرنا بھی ایک آرٹ ہے
اور ہمیں وہ آرٹ سیکھنا چاہئیے..!”
حنین نے نرمین کے بال سہلاتے پیار سے جواب دیا.اورپھر نرمین کے سر پر اپنا سر رکھ دیا.
حنین کے جواب کے بعد کمرے میں ایک دفعہ پھر خاموشی چھا گئی جسے نرمین نے ہی دوبارہ توڑا.
تمہیں مجھ سے محبت ہے..؟؟؟
نرمین نے بہت مان سے پوچھا.
نہیں…….
حنین نے مسکرا کر جواب دیا.
پھر عشق ہے…؟؟؟
نرمین نے سوال بدل کر پوچھا
بلکل بھی نہیں……
حنین کا ہنوز وہی جواب تھا
پھر میں تمہیں بہت اچھی لگتی ہوں…؟؟
نرمین نے اب بٹنوں کوگنتے ہوئے قدرے غصہ سے پوچھا
یہ کس نے کہا تم سے….
یہ کہتے حنین نے نرمین کا ہاتھ بٹنوں سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لے لیا.
حنین کے جواب پر اسے غصہ آگیا.
چلو پھر چھوڑو مجھے …..؟؟؟
ٹھیک ہے میں تمہیں تکیہ پر لیٹا دیتاہوں.اور حنین نے آہستہ سے نرمین کا سر خود سے الگ کر کے تکیہ پر رکھ دیا جبکہ خود پاس پڑی چئیر پر بیٹھ کر کہنیوں کو بیڈ پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر تھوڈی کے نیچے رکھ دیا .
حنین نرمین کو دیکھ رہا تھا جبکہ نرمین نے غصہ سے منہ موڑ رکھا تھا.کیا فرق پڑ جاتا اگر مجھ سے محبت کا اظہار کر دیتا.نرمین نے دل میں سوچا.
یار میں پیار ، عشق اور محبت جیسے کام نہیں کر سکتا.یہ مجھ سے نہیں ہوں گے.تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو شاید مجھے تم سے محبت ہو جاتی مگر جب سے میں نے زریاب کی حالت دیکھی ہے میں نے پکی توبہ کر لی ہے.
حنین نے نرمین کی ناراضگی محسوز کرتے ہوئے آہستہ آواز میں پیار بھرے لہجہ سے جواب دیا
اچھا پھر تم MBA کر لو..؟؟
نرمین نے بےدلی سے کہا
کوئی آپشن…؟؟؟
حنین نے پوچھا
نہین کوئی آپشن نہیں.تم MBA کر رپے ہو اور بس….
نرمین نے حتمی انداز میں کہا
ٹھیک ہے مگر میری ایک شرط ہے
حنین نے اپنی گول مٹول آنکھیں گھما کر نرمین کو دیکھا.
کبھی آپشن اور شرط کے علاوہ بھی بات کر لیا کرو.ویسے MBA کرنے کے لیے مجھے تمہاری ساری شرطیں منظور ہیں
نرمین نےناگواری سے کہا
تم بھی میرا ساتھ دو گی MBA کرنے میں………. منظور
آخر میں حنین نے نرمین کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا
نرمین نے حنین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا.
چلو تم اب آرام کرو اور میں بھی گھر جا کر آرام کروں بہت پریشان کیا ہوا تھا تم نے دو دن سے…..
یہ کہہ کر حنین دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ نرمین اس کی پشت کو دیکھنے لگی.حنین دروازے پر جا کر پلٹااور کہا
“نرمین مجھے تمہیں ٹھیک دیکھ کر سکون ملتا ہے.میرا دل دھڑکتا ہے اور میری سانسیں چلتی ہیں اگر تم مجھے زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو آئندہ ایسی کوئی حرکت مت کرنا ورنہ تمہیں حنین ملک سفید کپڑے میں لپٹا ملے گا.”
ادھوری بات ھے لیکن میرا کہنا ضروری ھے…
میری سانس چلنے تک تیرا ھونا ضروری ھے…
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں باہر چلا گیا.
افففففف کس قدر خوفناک طریقہ ہے اظہارِ محبت کا….
یہ بندہ کوئی کام نارمل طریقے سے نہیں کر سکتا ابنارمل کہیں کا……نرمین کے ماتھے پر شکنیں ابھری
نرمیں نے اسے جاتا دیکھ کر خودکلامی کی اور انکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی جلد ہی نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو گئی اس کے ماتھے پر موجود شکنیں آہستہ آہستہ غائ ہو گئیں.اور اب وہ پرسکون نیند سو رہی تھی.
“تم سوتی ہوئی کتنی پرسکون لگتی ہو.”
حنین نے شیشے سے اندر لیٹی ہوئی نرمین کا چہرہ دیکھتے ہوئے سوچا اور جب تک وہ مکمل طور پر سو نہیں گئء و اسے باہر کھڑے دیکھتا رہا اور پھر ہسپتال سے باہر چلا گیا
…………………………
زریاب ٹیرس پر بیٹھا منی پلانٹ کی بیل کو دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی سوچوں کا تانا بانا بھی بن رہا تھا.
میں ماہ نور کے نکاح میں شرکت نہیں کروں گا.ہر دفعہ مجھ منحوس کی وجہ سے اس بیچاری کو خوشیاں نہیں مل پاتیں.
تایا سائیں نے کوئی اچھا لڑکا ہی دیکھ ہو گا پہلے بھی اسد بہت اچھا تھا.اب بھی یقیناً اچھا ہی ہو گا.کسی ایسے ویسے کو تو دینے سے رہے اپنی چاند جیسی بیٹی……
ماہ نور میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں.پلیززز مجھے معاف کر دو.
جب موبائل فون بجا
……………….
