Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1 By Amna Mehmood Readelle50146

Last updated: 17 August 2025

Hichkiyan Muhabbat Ki Season 1

By Amna Mehmood

برینڈ نیو مرسڈیز بلیک کلر کی جیسے ہی گیٹ پر پہنچی لان میں عترت جو مزے سے نرم گھاس پر ننگے پاؤں چل رہی تھی بھاگی بھاگی آئی بھائی آ گئے.......
دبیر نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور بازو کھول کر عترت کا استقبال کیا عترت کو نرمی سے ساتھ لگایا اور اس کا سر چوما.
سید دبیر حسین کی جان اگر کسی چیز میں ہےتو وہ صرف اور صرف عترت ہو سکتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور نہیں...یہ الفاظ تھے ان کے اپنے....
بھائی کی جان کتنی دفعہ کہا ہے سردی لگ جائے گی موسم اچھا نہیں ہے وہ اسے اپنے ساتھ لگائے ٹی وی لاؤنچ میں داخل ہوئے عالیہ بیگم پر نظر پڑتے ہی بہن کو چھوڑ کر ماں کے سر کا بوسہ لیا اور ان کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا دوسری طرف جلدی سے عترت آ کر بیٹھ گئی
تمہیں نے اس کو بگاڑ دیا ہے روز نئی نئی فرمائشیں کرتی ہے دبیر نے آنکھ کے اشارہ سے عترت کو دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو اب کیا ہوا عترت نے شانے اچکائے جیسے کہ رہی ہو مجھے کیا پتہ
عالیہ بیگم نے دونوں کو دیکھ کر غصہ سے کہا اگر دونوں بہن بھائی کی انکھ مچولی ختم ہو گئی ہو تو میں کچھ کہو...دونوں ہسنے لگ گئے
اماں بی کیا ہے...... کیا کر دیا اب اس نے..
عترت جاؤ بوا کو کہو کھانا لگائے بھوک لگی ہے
ارےبیٹا تمہاری اور بھی دو بہنیں ہیں تم نے کبھی ان کے ساتھ اتنے چونچلے نہیں کیے کل اس نے بھی پرائے گھر جانا ہے کیا کرے گی وہاںجا کر.. تم جہیز میں ساتھ جاؤ گے...
دبیر کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ آگئی.دونوں ہاتھوں سے ماں کو پکڑ کر چہرہ اپنی طرف کیا جو وہ ناراضگی سے موڑ گئیں تھی اماں بی میں نے عشرت اور ندرت کو بھی بہت پیار دیا ہے ہر خواہش پوری کرتا ہوں جو مانگتیں ہیں دیتا ہوں.کوئی شکایت کی انھوں نے میری..دبیر نے شکوہ کنان آنکھوں سے ماں کی طرف دیکھا...نہیں میرے بیٹے ایسی بات نہیں ہےوہ اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں.تو پھر.....کیا مسئلہ ہے.....
مسئلہ انھیں نہیں عترت کو ہے...
کیا ہوا عترت کو ابھی تو ٹھیک ٹھاک تھی میں نے خود دیکھا دبیر نے ٹائی ڈھیلی کرتے ہوا کہا اب وہ شوز اتار رہا تھا.....
سیدذادیاں لڑکوں کے ساتھ نہیں پڑھتین اور محترمہ فرما رہی ہی ں میں نے میڈیکل کالج میں داخلہ لینا ہے خبردار جو تم نے اس دفعہ اس کی حمایت کی سمجھے....عالیہ بیگم نے غصہ سے بیٹے کو دیکھا جو اب شوز کے ساتھ موزے اتار کے پاؤں پر پاؤں رگڑ رہا تھا.....اس کی شادی کرو اور پھر اپنی طرف توجہ دو...
اچھا تو یہ بات ہے مسکراہٹ کے ساتھ ماں کی طرف دیکھا.....
جی بلکل اور حسب عادت آپ کو عترت کی فرمائش بری نہیں لگے گی بلکل ابھی تھوڑی دیر میں اپ کے منہ سے اس کی حمایت کے دلائل بھی آنا شروع ہو جائیں گے.....
.عالیہ بیگم بیٹے کی فطرت سے واقف تھیں...تو اس میں برا کیا ہے اچھا ہے گھر کا ڈاکٹر ہو گا ویسے بھی میں کافی عرصے سے سوچ رہا تھا ہمارے خاندان میں کوئی ڈاکٹر نہیں بنا سب نے ایم بی اے کیا ہے....
حد ہے دبیر ...عالیہ بیگم غصہ سے اٹھین اور واک واٹ کر گئیں جبکہ دبیر نے اندر اتی ہوئی عترت کو انگوٹھے سے او کے کا سائن دیا جس کا مطلب تھا تمہارا کام ہو گیا..اور خود مسکراتا ہوا روم میں فریش ہونے چلا گیا...پیچھے سے عترت نے آواز لگائی
You are best brother in the world i love u 😍
ڈیفنس ایریا میں بنا یہ پانج کنال کا گھر اصل میں گھر کم اور فام ہاؤس زیادہ تھا اس سید ہاؤس میں کل چار لوگ رہتے تھے عالیہ بیگم جو بہت پرانے خیالات کی مالک تھیں بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ آج کل کے دور میں پرانی روایات کو قائم رکھے تھی شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی نہیں کی اپنی زندگی ایک بیٹے اور تین بیٹیوں پر قربان کر دی.سید دبیر حسین شاہ اس گھر کا واحد چشم وچراغ اپنی خوبصورتی اور ذہانت سے اگلے کو ایک منٹ میں زیر کرنے والا وسیع و عریض بزنس کو سمبھالے ہوئے مگر جس چیز سے چڑ تھی وہ صنف نازک تھیچڑ کی وجہ یہ تھی کہ اس کے خاندان سوشل سرکل اور آفس میں جتنی بھی لڑکیاں تھی وہ تمام اس پر ایسے مرتی تھیں جیسے شہد پرمکھیاں..یہی چیز چڑ کا باعث تھی...
باپ کے مرنے کے بعد اس نے بیٹا بھائی اور باپ کا کردار خوب نبھایا تھا.دو بہنوں کی شادی کر دی تھی عترت اس کی چھوٹی بہن اس کی جان تھی سب سے پیاری تھی اسے.....

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!