No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
زوہان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میران پیلس لوٹتا دیکھ سب بہت خوش ہوئے تھے۔۔۔۔ کیونکہ وہ سب ایسا نجانے کب سے چاہتے تھے۔۔۔۔۔
لیکن اُن میں سب سے زیادہ خوش زنیشہ تھی۔۔۔۔ زوہان کو وہ اِسی طرح خاندان والوں کے ساتھ ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔ میران پیلس سے نفرتوں کا بسیرا اب ختم ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ ہر طرف روشنیاں اور مسکراہٹیں بکھری وہاں کے ہر فرد کو سرشار کر گئی تھیں۔۔۔ وہ سب ماضی میں ہوئے ہر خوشگوار واقع کو بھلائے اِن لمحوں سے خوشیاں سینچنے لگے تھے۔۔۔۔
میران پیلس کے درو دیوار نے بہت غم دیکھے تھے۔۔۔۔ لیکن اب وہاں خوشیوں کی شہنائیاں بجتیں گزرے مناظر کو دھندلا کر گئی تھیں۔۔۔۔۔
“زنیشہ زوہان لالہ کا آرڈر ہے۔۔۔ اُن کے لیے چائے لے کر اگلے پانچ منٹ کے اندر اُن کے روم میں پہنچو۔۔۔۔۔”
فریحہ زنیشہ کو زوہان کا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ شوخ نگاہوں سے چھیڑ گئی تھی۔۔۔
جس پر زنیشہ اُسے گھورتی دھڑکتے دل کے ساتھ وہاں سے اُٹھ گئی تھی۔۔۔۔
پیلے رنگ کے پیروں تک آتے فراک کے ساتھ چوڑی دار پجامہ پہنے۔۔۔۔ بالوں میں پھول ڈال کر اُنہیں کمر پر کھلا چھوڑے۔۔۔۔ دوپٹے کو نازک کمر پر باندھے وہ ہاتھ میں چائے تھامے زوہان کے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ میں موجود کانچ کی چوڑیوں کی جلترنگ کمرے کی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کر گئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کمرے میں کہیں موجود نہیں تھا۔۔۔۔ زنیشہ ٹیبل پر اُس کی چائے رکھ کر پلٹی ہی تھی۔۔۔ جب بیڈ کے عین سامنے والی دیوار پر لگی دونوں کی دیوار گیر فوٹو کو دیکھ زنیشہ مبہوت ہوئی تھی۔۔۔۔
یہ بارات والے دن زوہان کی مرضی سے بنوائی گئی۔۔۔۔ اُس کی پسندیدہ ترین تصویر تھی۔۔۔۔ جس میں دلہن بنی نازک اندام سی زنیشہ کے گرد پیچھے سے بازو پھیلا کر اُسے پوری طرح اپنے حصار میں لیے کھڑے زوہان کے ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور دلفریب مسکراہٹ تھی۔۔۔۔ جبکہ اُس کے ساتھ لگی کھڑی زنیشہ بھی اِس لمحے اُس کی کی جانے والی سرگوشی پر کھلکھلاتی کیمرے کی آنکھ میں اِس منظر کو ہمیشہ کے لیے قید کروا گئی تھی۔۔۔
زنیشہ اُس تصویر کو دیکھنے میں اِس قدر مگن تھی۔۔۔ کہ اپنے پیچھے بے حد قریب آن کھڑے زوہان کو دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔
وہ اِسی طرح یک ٹک مسکراتی نگاہوں سے اُس تصویر کو نجانے کب تک نہارتی رہتی۔۔۔ جب زوہان نے اُس کے پیٹ پر ہاتھ پھیلاتے اُسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔
زوہان کے لمس پر زنیشہ کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسیں اپنے چہرے کے بے حد قریب محسوس کرتے زنیشہ ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔
“میں نے تمہیں بہت یاد کیا۔۔۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے گال پر لب رکھتے بولتا زنیشہ کے ہونٹوں پر دلکشی بھری مسکان بکھیر گیا تھا۔۔۔۔
“میں نے بھی۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے لب ہولے سے ہلے تھے۔۔۔۔
“یہ پکچر بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی جانب چہرا موڑتے بولی تھی۔۔۔
جبکہ زوہان بنا اس کی بات کا جواب دیئے۔۔۔ اُس کی سانسوں کی دلفریب مہک محسوس کرتا۔۔۔۔ چہرا اُس کے کندھے پر جھکا گیا تھا۔۔۔۔
“تھینکس۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کے لمس پر کسمساتی ہولے سے بولی تھی۔۔۔۔
“فار واٹ مائی لو۔۔۔۔۔؟؟”
زوہان اُس کا رُخ اپنی جانب موڑتا سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے بولا۔۔۔
جبکہ اُسے شرٹ لیس دیکھ زنیشہ کی لرزتی پلکیں عارضوں پر جھک آئی تھیں۔۔۔۔
“فار ایوری تھنگ۔۔۔۔ “
زنیشہ کے لہجے میں زوہان کے لیے بے پناہ محبت تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی زوہان کے لیے اِس گھر میں لوٹنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔ جہاں اُس نے اپنی ماں کو کھویا تھا۔۔۔۔ مگر وہ سب کی خوشی کی خاطر۔۔۔ اُن سب کے حوالے سے دل سے ہر شکوہ مٹاتا یہاں لوٹ آیا تھا۔۔۔۔
“شکریہ تو مجھے ادا کرنا چاہیے تمہارا۔۔۔۔۔ تم نے میری زندگی میں آتے ہی اِسے روشنیوں سے بھر دیا ہے۔۔۔ تم میرے رب کا عطا کردہ وہ انمول تحفہ ہو۔۔۔ جس کے لیے میں ساری زندگی بھی اُس کا شکر ادا کروں تو کم ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے ماتھے پر عقیدت اور محبت بھری مہر ثبت کرتا اُسے خود سے قریب کرگیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُسکی بات پر دھیرے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
جب اچانک اُسے تمام کزنز سے کیا گیا وعدہ یاد آیا تھا۔۔۔ آج اُن سب کا مل کر رت جگا کرنے کا پلان تھا۔۔۔
جس کے ساتھ وہ ماورا پر منہاج کے حوالے سے سرپرائز بھی اوپن کرنے والی تھیں۔۔۔۔
زنیشہ نہایت ہی ایکسائیٹڈ ہوکر زوہان کو بتاتی۔۔۔ وہاں سے جانے کے لیے پلٹی تھی۔۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے زوہان اُس کی کلائی تھام کر اُسے واپس اپنے قریب کھینچ گیا تھا۔۔۔۔
“زوہان وہ سب میرا ویٹ کررہی ہونگی۔۔۔۔۔”
زنیشہ زوہان کے خطرناک تیور دیکھ گھبرا کر بولی تھی۔۔۔۔۔
“اور تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے۔۔۔ کہ میں تمہیں جانے دوں گا۔۔۔۔ “
زوہان دروازہ لاک کرکے آتے اُس کی جانب مُڑا تھا۔۔۔
“مگر زوہان۔۔۔۔۔ “
زنیشہ نے اُسے منانا چاہا تھا۔۔۔ جب اُسی لمحے سائیڈ ٹیبل پر رکھا زوہان کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔۔ جس پر جگمگاتا ثمن کا نام دیکھ زنیشہ کا موڈ فوراً آف ہوا تھا۔۔۔
اب تو وہ خود ہی باہر جانے کا ارادہ ترک کرتی۔۔۔ بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
اور شدید خفگی بھری نظروں سے زوہان کو دیکھا تھا۔۔۔۔
جو آنکھوں میں شریر مسکراہٹ بھرے لیکن چہرے پر انتہائی معصومیت سجائے اُس سے کال اُٹھانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔۔۔۔
جس کے جواب میں بھی زنیشہ نے اُسے گھورنے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔
بلیک ٹراؤذر کے اُوپر۔۔۔ اب وہ بلیک کلر کی ہی سلیور لیس بنیان پہنے رف حلیے میں بھی بے حد وجیہہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ کسرتی مضبوط کندھے، چوڑا سینہ اور روشن پیشانی پر بکھرے سیاہ گھنے بال۔۔۔۔
وہ صرف اور صرف اُس کا تھا۔۔۔ جس پر وہ کسی لڑکی کا سایہ بھی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔ اور ثمن کو میڈیا میں جس طرح بے تکلفی سے زوہان کے ساتھ چپکتا دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ اُسے ثمن کسی صورت بھی زوہان کے دور دور تک بھی برداشت نہیں تھی۔۔۔۔
زوہان فون آن کرکے کان سے لگاتا۔۔۔ بیڈ پر اُس کے مقابل آن بیٹھا تھا۔۔۔۔
“آف کورس یار میں ضرور آؤں گا۔۔۔۔ یہ تمہاری لائف کا اتنا اہم موومنٹ یے۔۔۔ میرا ہونا تو لازم ہے۔۔۔۔”
زوہان نے ثمن سے بات کرتے چہرا موڑ کر جلن سے لال ہوتی اپنی بیوی کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو زوہان کی یہ بات سنتے شدید غصے کے عالم میں بھی وہاں سے اُٹھی نہیں تھی۔۔۔۔
“زنیشہ کے بارے میں۔۔۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔ یہ اُس کی ہی چوائس ہوگی۔۔۔ تم خود بات کرلو اُس سے۔۔۔۔”
دوسری جانب سے شاید زنیشہ کو بھی ساتھ لانے کا ذکر کیا گیا تھا۔۔۔۔
“ثمن تمہیں اپنی شادی میں انوائٹ کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔”
زوہان نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ زنیشہ کا لال چہرا دیکھتے اصل بات بتاتے موبائل اُس کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔
جو کب سے کچھ اور ہی سمجھی بیٹھی تھی۔۔۔۔
“اُس کی شادی ہورہی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدلے تھے۔۔۔۔ وہ ایکسائٹمنٹ میں بولتی زوہان کے ہاتھ سے موبائل لے گئی تھی۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے زوہان کی گہری بولتی نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ اُس کےجوش کو زرا بریک لگا تھا۔۔۔۔
ہاں ہم ضرور آئیں گے۔۔۔۔”
زنیشہ نے فوراً حامی بھری تھی۔۔۔ آخر کو اُس کے شوہر کو ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل رہا تھا۔۔۔۔
یہ سچ تھا۔۔۔ ثمن نے زوہان سے بہت محبت کی تھی۔۔۔۔ زوہان کے ساتھ رہنے کے لیے اُس نے اپنے امیج تک کا خیال نہیں کیا تھا۔۔ جہاں بہت سی جگہوں پر زوہان نے اُس کی مدد کی تھی۔۔۔۔ وہیں وہ بھی زوہان کے بنا کہے اُس کے ساتھ کھڑی رہی تھی۔۔۔۔ زوہان کی زندگی میں زنیشہ میران اُس کے ہوش سنبھالتے ہی اُس کے دل میں تھی۔۔۔۔ جس کی جگہ لے پانا کسی بھی لڑکی کے لیے ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔
زوہان نے ثمن کو پہلے دن سے ہی آگاہ کر رکھا تھا کہ اُس کے دل و دماغ پر صرف اور صرف زنیشہ کا بسیرا تھا۔۔۔ یہ جاننے کے باوجود ثمن خود کو زوہان سے محبت کرنے سے نہیں روک پائی تھی۔۔۔۔
لیکن زوہان اُس کی قسمت میں تھا ہی نہیں تو کیسے ملتا اُسے۔۔۔۔ ثمن نے ساری زندگی زوہان کی محبت کے ساتھ کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔ لیکن زوہان نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا۔۔۔ جیسے ثمن نے شروع سے زوہان کی ہر بات مانی تھی۔۔۔ یہاں پر بھی زوہان کے کہے کا انکار نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ اور اپنے کزن شاہزیب سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔ جو ثمن سے بہت محبت کرتا تھا اور ثمن کی زوہان کے لیے چاہت سے بھی آگاہ تھا۔۔۔ لیکن اُس کی محبت نے اُسے اتنا ظرف بخشا تھا اور اُسے پورا بھروسہ تھا کہ وہ ثمن کا دل اپنی محبت سے اپنی جانب موڑ لے گا۔۔۔
“تم یقین نہیں کرو گی۔۔۔ تمہاری شادی کا سن کر اِس وقت شاہزیب سے بھی زیادہ میری بیوی خوش ہے۔۔۔۔”
ثمن سے الوداعی کلمات ادا کرتے زوہان نے آہستہ آہستہ دور کھسکتی زنیشہ کی کلائی پکڑتے پُر مزاح انداز میں طنز کیا تھا۔۔۔ جسے سمجھتے دوسری جانب سے ثمن اپنی ہنسی نہیں روک پائی تھی۔۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ نے اپنی کلائی آزاد کرواتے اُسے گھورا تھا۔۔۔
زوہان فون بند کر کے دور اُچھالتا۔۔۔ زنیشہ کو اپنے قریب بیڈ پر گراتے اُس کے اُوپر جھکا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کی سانسیں بکھر گئی تھیں۔۔۔۔ اُس نے بے اختیار پاگل ہوتے دل پر ہاتھ رکھتے دھڑکنوں کو نارمل کرنا چاہا تھا۔۔۔۔
“تم اِس طرح جیلس ہوتی پتا ہے کتنی کیوٹ لگتی ہو۔۔۔۔”
اُس کے دونوں ہاتھ پیچھے بیڈ پر ٹکاتے۔۔۔۔ زوہان نے اُس کے چہرے کو ڈھانپے بالوں کو پیچھے ہٹایا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔ مجھے جاننا بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے فوراً نفی میں سر ہلاتے اُسے باز رکھنا چاہا تھا۔۔۔۔ وہ ابھی بھی باہر جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ اِس لیے زوہان کو خطرناک تیوروں سے خود پر جھکتے دیکھ۔۔۔ اُسے اپنی تیاری خراب ہونے کی فکر لاحق ہوئی تھی۔۔۔۔
“مگر میں تو یہ بات اچھے سے سمجھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کے گلابی گال پر ہونٹ رکھتے اُس کے کانوں کو ائیر رنگز کے بوجھ سے آزاد کیا تھا۔۔۔۔ اور بس یہیں زنیشہ کی فرار کی کوشش دم توڑ گئی تھی۔۔۔
وہ اِس شخص کی مہکتی قربت کو چھوڑ کر کہیں جا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔ زوہان کی والہانہ چاہت کے جواب میں اُسے اپنا آپ سونپتی زنیشہ آسودگی سے آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@@@
حاعفہ آژمیر سے بہت سخت خفا تھی۔۔۔۔ اور اُس کے دو بار ملازمہ کے بھیجنے کے باوجود وہ اُس کے پاس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔۔ فجر لوگ اُس کی آژمیر سے ناراضگی جان کر اُسے آج رات کے لیے آژمیر سے دور رکھنے میں اُس کی مدد کرنے کی حامی بھر چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شمسہ بیگم سے نیچے آئے مہمانوں کو رخصت کرتی ماورا کے روم کی جانب جارہی تھی۔۔۔۔ جہاں سب لڑکیاں جمع تھیں۔۔۔ جب اچانک آژمیر کے سامنے آجانے پر حاعفہ اپنے قدموں کو بریک نہیں لگا پائی تھی۔۔۔۔ اُس کا سر بہت زور سے آژمیر کے فولادی سینے سے ٹکراتا اُسے کراہنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ آریو اوکے۔۔۔”
آژمیر نے فوراً اُسے سہارا دیتے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے بنا کوئی جواب دیئے سر اُس کے سینے پر ہی رکھ دیا تھا۔۔۔۔
“درد ہورہا ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر نرمی سے اُس کا سر سہلا رہا تھا جب حاعفہ کی کمزور سی نروٹھی آواز اُسے بے چین کرگئی تھی۔۔۔
“اوکے ابھی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔”
آژمیر اُس کو ایسے ہی اپنے کندھے کے ساتھ لگائے۔۔۔۔ بچوں کی طرح اُسے اُوپر اُٹھاتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی گردن میں چہرا چھپائے وہ بالکل بچوں جیسا ہی بی ہیو کررہی تھی۔۔۔
اور آژمیر دل و جان سے اُس کے یہ بچوں جیسے نخرے اُٹھانے کو تیار تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا حاعفہ کو۔۔۔؟؟؟”
ڈرائنگ روم میں بیٹھے تمام افراد حاعفہ کو اِس طرح دیکھ پریشان ہوئے تھے۔۔۔۔
مگر آژمیر سب ٹھیک ہونے کا اشارہ کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو احتیاط سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہوتا گاڑی وہاں سے نکال کر لیے گیا تھا۔۔۔۔۔۔
“کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔ میری بیوی مجھ سے کیوں ناراض ہے۔۔۔۔؟”
آژمیر اُس کا سر اپنے کندھے سے ٹکاتا۔۔۔۔ اُس کی نازک اُنگلیوں میں اپنی مضبوط اُنگلیاں پھنساتا ہونٹوں سے لگا گیا تھا۔۔۔۔
“آپ سے بالکل بات نہیں کروں گی میں۔۔۔۔ جب بھی اُس لمحے کو تصور میں لاتی ہوں۔۔۔ میری روح کانپ اُٹھتی ہے۔۔۔۔ آپ کیسے بھلا خود کو یوں پیش کرسکتے ہیں۔۔۔ اگر خدانخواستہ غلطی سے بھی گولی چل جاتی تو۔۔۔۔ میں تو مرجاتی نا۔۔۔۔”
حاعفہ بھیگے لہجے میں اذیت سے بولتی آژمیر کو تڑپا گئی تھی۔۔۔۔ وہ شام سے جو سوچ رہا تھا حاعفہ کی نارضگی کا ریزن وہی نکلا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کی سوجی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ کل سے کئی بار اِس بات پر رو چکی تھی۔۔۔۔ آژمیر کو اپنی اِس دیوانی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔
گاڑی ایک سائیڈ پر روکتے آژمیر جی جان سے اُن کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
“جانِ من ایک ہی دل ہے کتنی بار لوٹاو گی۔۔۔۔ اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اُس پر جھکتا اُس کی بھیگی آنکھوں کو چومتا چہرے پر پھسلے انمول موتیوں کو چنتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اپنی خفگی کے جواب میں ایسے والہانہ اظہار پر بوکھلا گئی تھی۔۔۔۔ اُس کا چہرا آژمیر کے شدت بھرے لمس سے تپ اُٹھا تھا۔۔۔۔
“میں ناراض ہوں آپ سے۔۔۔۔”
حاعفہ چہرے پر پھیلتی سرخی اور لرزتی کانپتی پلکوں کے زیرِ اثر اُسے ٹھیک سے گھور بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
“آپ کی ناراضگی سر آنکھوں پر ہے میری جان۔۔۔۔ اور میں اُسے محبت سے ختم کرنے کا پورا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔”
آژمیر نے اُس کے شرمگیں حسین رُوپ کو آنکھوں کے راستے دل میں اُتارتے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔۔۔۔۔
جب کچھ لمحوں بعد گاڑی کو آژمیر آشیانہ میں داخل ہوتا دیکھ حاعفہ نے حیرت سے آژمیر کو دیکھا تھا۔۔۔ اُسے تو اب تک یہی لگ رہا تھا کہ وہ دونوں ہاسپٹل کی جارہے تھے۔۔۔۔
“آژمیر ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ گاڑی سے نہیں نکلی تھی۔۔۔۔
“تاکہ یہاں ہمیں تمہاری تیار کردہ فوج ڈسٹرب نہ کرسکے۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ کو آگے بڑھ کر واپس بانہوں میں اُٹھاتے آژمیر اُس پر خفیف سا طنز کر گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ حاعفہ کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا تھا۔۔۔۔ میران پیلس میں بھلا وہ آژمیر میران کے خلاف کوئی پلاننگ کرنے میں کامیاب ہو بھی کیسے سکتی تھی۔۔۔۔۔ جہاں جگہ جگہ پر اُس کے وفادار ترین ملازمین موجود تھے۔۔۔۔
حاعفہ شرمندہ سی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اُسے روم میں لاکر صوفے پر بیٹھاتے آژمیر اُس کے سامنے دوزانوں بیٹھتا حاعفہ کو پل بھر کے لیے ساکت کرگیا تھا۔۔۔۔
“ہمیشہ اپنے سے پہلے اپنے سے منسلک رشتوں کے بارے میں سوچتے اور کرتے عادت ایسی پختہ ہوگئی ہے۔۔۔ کہ اُس وقت میں کچھ لمحے کے لیے یہ فراموش کرگیا تھا کہ اب میں اپنے فیصلوں میں تنہا نہیں ہوں۔۔۔ میری ذات سے اب ایک اور ہستی بھی جڑ چکی ہے۔۔۔۔ جسے میں اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہوں۔۔۔۔ میرے مطابق صرف بیوی کو ہی نہیں۔۔۔ بلکہ شوہر کو بھی اپنے اُٹھائے جانے والے ہر عمل پر اپنی بیوی کا جواب دہ ہونا چاہیے۔۔۔۔
آئندہ کبھی بھی میرے کسی عمل سے میں تمہیں ہرٹ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔ لیکن تم بھی مجھ سے وعدہ کرو کہ اِس طرح آنسو بہا کر میری ملکیت کو تکلیف نہیں پہنچاؤ گی۔۔۔۔ “
آژمیر گھمبیر لہجے میں بولتا حاعفہ پر اپنی سحر انگیز شخصیت کا سحر طاری کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔ وہ مسمرائز سی دیوانہ وار نگاہوں سے اُسے تکتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
وہ ہلکا سا جھکی تھی اور آژمیر کی کشادہ پیشانی پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
“تھینکس مائی بیوٹیفل لائف۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی شہہ رگ پر لب رکھتے اُسے اپنی شدتیں سونپی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ اُس کے کندھوں کو دونوں مٹھیوں میں جکڑتی جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
“تمہارے لیے میرے پاس ایک گفٹ ہے۔۔۔۔”
آژمیر اپنی جگہ سے اُٹھتا سائیڈ ٹیبل سے مطلوبہ فائل اُٹھاتا اُس کی جانب بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھتے فائل اوپن کی تھی۔۔۔۔ مگر جیسے جیسے وہ پڑھتی گئی تھی۔۔۔ اُس کے چہرے کی رونق میں کئی گنا اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے دل سے ایک آخری پھانس بھی نکل گئی تھی۔۔۔
آژمیر نے کوٹھے پر ریڈ کروا کر نہ صرب وہاں قید تمام لڑکیوں کو بازیاب کروا کر اُن کے گھر والوں تک پہنچا دیا تھا۔۔۔۔ بلکہ نگینہ بائی اور خان کو بھی جیل کی سلاخیوں میں ڈلوا دیا تھا۔۔ کبھی نہ نکلنے کے لیے۔۔۔۔
جس طرح کوٹھے کی تمام لڑکیوں نے اُن کے خلاف بیان دیا تھا۔۔۔ اُن کا اب آزاد ہو پانا ناممکن تھا۔۔۔۔۔
اُن سے منسلک اردگرد باقی شہروں کے کوٹھوں پر بھی چھاپے مارے جارہے تھے۔۔۔۔۔ آژمیر نے اُن سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
جن لوگوں نے اتنے وقت تک حاعفہ کی زندگی کو جہنم بنائے رکھا تھا۔۔۔ آژمیر اُنہیں یوں آزاد دندناتا کیسے دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
“تھینکیو سو مچ آژمیر۔۔۔۔ آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔”
حاعفہ اپنے قریب صوفے پر آن بیٹھے آژمیر کے گلے میں بانہیں ڈال کر اُس کے ساتھ لپٹتی محبت سے چور لہجے میں بولتی خوشی سے پاگل ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اپنے ساتھ ساتھ باقی لڑکیوں کو بھی وہاں سے آزاد کروانا چاہتی تھی۔۔۔۔ جو آج آژمیر نے کردیا تھا۔۔۔۔۔
“میری جان میں اتنا اچھا بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔”
آژمیر کا اشارہ اُس کے اتنے قریب آنے کے بعد خود سے شرافت کی اُمید رکھنے کی جانب تھا۔۔۔۔
حاعفہ فوراً گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔ مگر آژمیر اُس کو ہلکا سا جھٹکا دیتا اپنے سینے پر گرا گیا تھا۔۔۔۔
“مجھے اپنے تحفے کے بدلے ایک پیارا سا تحفہ چاہیے۔۔۔۔ “
آژمیر نے اُس کے جوڑے میں مقید بالوں کو پھولوں اور پنوں سے آزاد کرواتے اُن کی مہک کو سانسوں میں اُتارا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ کچھ لمحے اُس کے مغرور نقوش سے سجے چہرے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتی اُس کے سینے پر عین دل کے مقام پر اپنے لب رکھ گئی تھی۔۔۔۔
“مجھے محبت نہیں عشق ہے آپ سے۔۔۔۔ “
حاعفہ آژمیر کے سامنے بہت بڑا اظہار کرتی اُس کے سینے میں چہرا چھپا گئی تھی۔۔۔۔ اُس کی اسیری اور اِس خودسپردگی پر اپنا دل ہارتا وہ اُس پر محبت کی بارش کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
میران پیلس کو آج پھر سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔۔۔ جہاں ابھی کچھ دیر پہلے ماورا کی بارات پہنچی تھی۔۔۔۔ میران پیلس کی تمام ینگ پارٹی تو ماورا کے ری ایکٹ کرنے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے تھے۔۔۔ اور وہ اُن کی ہونقوں زدہ شکلیں دیکھ اندر ہی اندر اپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
ماورا آژمیر اور گھر کے باقی سب بڑوں کو پہلے ہی بتا چکی تھی کہ اُسے علم ہوچکا ہے۔۔۔۔ جبکہ باقی ڈرامے میں شریک لوگوں کو تنگ کرنے میں اُسے بہت مزا آرہا تھا۔۔۔
“ماورا تمہاری بارات آچکی ہے۔۔۔۔”
فجر نے اُسے کندھوں سے تھام کر یقین دلاتے انداز میں کہا تھا۔۔۔
“تو کیا نہیں آنی چاہیے تھی۔۔۔۔؟؟؟”
دلہن بن کر خوبصورتی اور دلکشی کے سارے ریکارڈ توڑتی ماورا نے بھنویں اُٹھاتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“نہیں وہ میرا مطلب۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔؟؟؟”
فجر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ماورا سے کیسے اگلوائے۔۔۔۔۔۔ جو بات اُگلوانے کے لیے اُنہوں نے اتنی پلاننگ کی تھی۔۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ لیکن بہت زیادہ نروس بھی ہوں۔۔۔۔ تم مزید میرا دماغ کھا کر مجھے پریشان مت کرو۔۔۔۔”
ماورا نے اُسے خفگی بھرا جواب دیا تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے فریحہ منہ سجائے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ “زرا گروپ میں منہاج بھائی کا میسج ملاحظہ فرمائیں سب۔۔۔۔ یہ دونوں میاں بیوی ہمارے ساتھ ہی کھیل گئے۔۔۔۔۔۔”
فریحہ کی بات پر سب نے ناسمجھی سے میسج اوپن کیا تھا۔۔۔۔جہاں منہاج کے ڈھیروں شکریہ کے ساتھ ماورا کی پرسوں ہی ساری حقیقت سے باخبر ہونے کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔۔۔
“میرے شوہر کے ساتھ مل کر تم لوگ مجھے بے وقوف بناؤ گی۔۔۔۔ کیسی لگی میری جوابی کارروائی۔۔۔۔”
ماورا اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ باندھے بولتی اُن سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔۔
“لیکن تھینکیو سو مچ۔۔۔۔ میرے لیے میری زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز پلان کرنے کے لیے۔۔۔۔ “
ماورا کی آنکھوں کے چھلکتی سچی خوشی اور ہونٹوں پر سجی انمول مسکراہٹ حاعفہ کے دل میں سکون بکھیر گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے آج اپنی ماں سے کیا وعدہ پورا کردیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
محبت کی طویل اور اذیت سے بِھری کھٹن راہیں طے کرتے آخر کار منہاج درانی آج اپنی محبت، اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
منہاج سرشار سا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
جہاں سُرخ لہنگے میں اُس کی سیج جائے بیٹھی اُس کی زندگی اُس کی منتظر تھی۔۔۔۔
منہاج سلام کرتا بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی ماورا کے قریب بیٹھنے کے بجائے کچھ فاصلے پر رکھی الماری کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
“ہر بار ہمیشہ میں نے ہی پہل کی ہے۔۔۔ مگر آج یہ دل تمہاری جانب سے پیشِ قدمی کا خواہاں ہے۔۔۔ کیا تم میدی یہ خواہش پوری کرتے چل کر میرے پاس آؤ گی۔۔۔۔”
منہاج کی نگاہیں بیڈ کے عین وسط میں بھاری کامدار دوپٹے کا مکمل گھونگھٹ لیے لرزتی کانپتی اپنی دلہن پر ٹکی ہوئی تھییں۔۔۔۔
جس نے نہ اُس کے سلام کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ اور نہ وہ اب کچھ بولی تھی۔۔۔۔
“مسسز منہاج درانی۔۔۔۔ میرے خیال میں اب یہ آنکھ مچولی والا کھیل ختم کرہی دینا چاہیے۔۔۔۔۔”
کچھ دیر کے انتظار اُسے اِسی طرح خاموش بیٹھے دیکھ منہاج آگے بڑھا تھا اور سیچ پر اُس کی نقلی دلہن بنے بیٹھے شہریار کے اُوپر سے دوپٹہ کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
اور اِس کے ساتھ ہی بیڈ کے نیچے چھپے حاشر اور عثمان، پردوں کے پیچھے دبکی کھڑیں فریحہ اور فجر، اور آدھ کھلے دروازے سے جھانکتیں حاعفہ اور زنیشہ کے ارمانوں پر پانی پھر گیا تھا۔۔۔۔
“بھائی وہ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔”
شہریار منہاج کے خطرناک تیور دیکھ ہکلا گیا تھا۔۔۔
“موٹے گینڈے۔۔۔ تمہیں کیا لگا تھا۔۔۔ میں تمہیں اپنی دلہن سمجھنے کی سنگین ترین غلطی کروں گا۔۔۔۔ اور باقی سب بھی جہاں جہاں ہیں۔۔۔ شرافت سے باہر نکل آؤ۔۔۔۔”
منہاج کی غصیلی آواز پر سب اپنی اپنی جگہوں سے نکلتے باہر آئے تھے۔۔۔
“یار کیا منہاج بھائی۔۔۔۔ تھوڑا سا بے وقوف بن کر ایک دو ڈائیلاگ مارنے کے ساتھ گھونگھٹ بھی اُٹھا دیتے تو ہم غریبوں کا تھوڑا سا بھلا ہی ہوجاتا۔۔۔۔ ہم اپنا پلان کامیاب ہونے پر خوش تو ہو لیتے۔۔۔۔ اتنی دیر سے بیڈ کے نیچے لیٹ لیٹ کر کمر اکڑ گئی ہے۔۔۔۔”
حاشر بمشکل بیڈ کے نیچے سے نکلتے ساتھ ساتھ زبان چلانے میں بھی مصروف تھا۔۔۔۔ لیکن منہاج کے خون خوار تیور دیکھ کر سرجھکائے خاموش ہوا تھا۔۔۔۔
“اب تم لوگ خود جاؤ گے۔۔۔ یا تم لوگوں کے لیے مجھے کوئی شاہی سواری بلوانی پڑے گی۔۔۔۔”
منہاج کے گھورنے پر وہ سب جلدی سے باہر کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔
“ویسے آپ کی اصلی والی دلہن بھی کمرے کے اندر ہی موجود ہے۔۔۔۔ زرا احتیاط سے ڈھونڈیئے گا۔۔۔۔ ویسے کافی ڈری ہوئی بھی ہے آپ سے۔۔۔ اور ہاں یہ پلان بھی اُسی کا ہی تھا۔۔۔۔۔”
فجر دروازے میں سے سر نکال کر اُس کی معلومات میں اضافہ کرتی اگلے ہی سیکنڈ غائب ہوئی تھی۔۔۔۔
منہاج نے سب سے پہلے جاکر دروازہ لاک کیا تھا۔۔۔۔
یہ الگ بات تھی کہ اُس نے ماورا کی یہ شرارت انجوائے بہت کی تھی۔۔۔
وہ واش روم کے دروازے میں ماورا کی ہلکی سی جھلک پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ اِس لیے اب کسی اور کے روم میں نہ ہونے کی پوری تسلی کرتا دبے قدموں واش روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔
ماورا جو گھونگھٹ میں سکڑی سمٹی کھڑی اُس کے ابھی تک خود کو نہ ڈھونڈ پانے پر شکر ادا کر ہی رہی تھی۔۔۔ جب اپنے بے حد قریب منہاج کے سیاہ بوٹ دیکھ اُس کا دل بُری طرح دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔
بنا کچھ بولے منہاج خاموشی سے اُس کے نازک وجود کو بانہوں میں بھرے روم کے عین درمیان میں آکر کھڑا کردیا تھا۔۔۔۔
“مجھے تڑپانے میں بہت مزا آتا ہے نا تمہیں۔۔۔۔ تمہیں پہچاننے میں میں کبھی کوتاہی نہیں کرسکتا۔۔۔۔ تمہاری خوشبو ہر وقت میرے رگوں میں سمائی ہے۔۔۔۔ میری روح کو مہکاتا ایک ایک خوبصورت احساس ہو تم۔۔۔۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو تم۔۔۔۔ “
منہاج اُس کے اردگرد محبت کے پھول کھلاتا اُس کے چہرے سے گھونگھٹ اُلٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
سامنے کھڑی سجی سنوری اپسراؤں کے حُسن کو مات دیتی، اُس کے دل کی سب سے اُونچی مسند پر بیٹھی ماورا نور ایک ہی جھلک میں اُسے بُری طرح گھائل کر گئی تھی۔۔۔۔
بلڈ ریڈ کلر کے بھاری بھرکم لہنگے میں اُس کے دلکش وجود کی رعنائیاں چھپائے نہیں چھپ رہی تھیں۔۔۔۔ بھاری فل کام سے مزین سوٹ دوپٹے کو سر پر اوڑھ کر نازک کلائیاں میں الجھائے۔۔۔۔ وائٹ اور ریڈ گجروں سے مہکتی کلائیاں منہاج کی توجہ اپنی جانب کھینچ گئی تھیں۔۔۔
زیورات سے لدھی پھندی منہاج کو وہ خود سے کہیں زیادہ ویٹ سنبھالے کھڑی معلوم ہوئی تھی۔۔۔
“تمہاری سادگی نے تو پہلے دن سے ہی گھائل کر رکھا تھا۔۔۔۔ مگر آج تو جو تھوڑے بہت ہوش سلامت تھے وہ بھی ساتھ ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔۔۔۔۔ آج تو لگتا ہے اِس کیل کانٹوں سے لیس قیامت خیز حُسن کے آگے میں جان سے جاؤں گا۔۔۔۔۔۔”
منہاج سے اپنے سامنے آنکھیں موندے چہرا جھکائے کھڑی ماورا کو دیکھ اپنے حواس قائم رکھ پانا مشکل ہوا تھا۔۔۔
جب اگلے ہی لمحے اُس کے لرزتے کانپتے وجود کو اپنے مضبوط حصار میں قید کرتے منہاج اُس کے چہرے پر جھکتا جابجا اپنی محبت کی نشانیاں چھوڑتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
ماورا اُس کے اِس جارحانہ حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔۔۔ اُس کا پورا وجود بُری طرح لرز اُٹھا تھا۔۔۔ اگر منہاج کا بازو اُس کے گرد حمائل نہ ہوتا تو وہ زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔۔۔
“بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔ تمہاری جدائی نے مجھے مجنوں بنا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔ اگر ابھی بھی نہ ملتی تو میں نے تو دیوانہ بن کر سڑکوں پر نکل جانا تھا۔۔”
ماورا کے لال چہرے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے وہ اپنا ہی مذاق اُڑاتے بولتا ماورا کو بہت پیارا لگا تھا۔۔۔
لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اِس شخص کو اُس نے بہت ستایا تھا۔۔۔
جو آج کے دن اُس کے اظہار کا پورا پورا حقدار تھا۔۔۔
ماورا اُس کے مزید قریب ہوتی منہاج کا چہرا اپنے مہندی اور جیولری سے سجے نازک کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتی اُسے پل بھر کے لیے ساکت کر گئی تھی۔۔۔۔
“میں بھی آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہوں۔۔۔ آپ سے دور جانے کا تصور ہمیشہ سے میرے لیے سہانے روح رہا ہے۔۔۔ میں ایک بار نادانی کرکے آپ کو ہرٹ کر چکی ہوں۔۔۔۔ جس میں میں بھی آپ کے لیے اُتنا ہی تڑپی ہوں جتنا آپ تڑپے ہیں۔۔۔۔ آپ کی محبت میری نس نس میں سما گئی ہے۔۔۔۔ میں اب مرتے دم تک اِنہیں بانہوں میں قید رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ ہی میری پوری دنیا ہو اب۔۔۔۔”
ماورا آج تمام جھجھک اور لحاظ ایک طرف رکھتی اپنے دل کی ایک ایک بات منہاج کی سماعتوں کی نظر کرتی اُسے اپنا تن من سونپ گئی تھی۔۔۔۔
“میں اب کبھی تمہیں خود سے دور جانے بھی نہیں دوگا۔۔۔۔”
اُسے اپنی مضبوط پناہوِں میں لیتا منہاج اُس کے کانوں میں محبت بھری سرگوشیاں کرتا اُسے لیے محبت کے میٹھے نشے میں ڈوبتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
کچھ سال بعد ۔۔۔۔۔۔۔
“شہیر آرام سے بیٹھ کر کھانا کھا لو۔۔۔ ورنہ میں بابا کو آواز سے کر یہیں بلا لوں گی۔۔۔۔”
زنیشہ اپنے چار سالہ بگڑے نواب کو کھانا کھلانے کے لیے معمول کے مطابق اُس کے پیچھے دوڑتی ہلکان ہورہی تھی۔۔۔۔۔
لیکن وہ اُس کے ہاتھ آنے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔ زنیشہ کو شہیر کی بہت سی عادتیں بالکل زوہان کی طرح بگڑی ہوئی لگتی تھیں۔۔۔ جن کا وہ برملہ اظہار بھی کرتی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کی باتوں کے جواب میں وہ دونوں باپ بیٹا ایسے فخر محسوس کرتے تھے۔۔۔ جیسے یہ اُن دونوں کے لیے اعزاز کی بات ہو۔۔۔۔
“شہیر بیٹا آپ تو گڈ بوائے ہونا۔۔۔ ماما کو تنگ مت کرو۔۔۔ آجاؤ آکر کھانا کھا لو۔۔۔”
تین سالہ حورم کو گود میں اُٹھائے حاعفہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ جہاں اب عنقریب زنیشہ کے ہاتھوں شہیر کی پٹائی کنفرم تھی۔۔۔۔
گول مٹول سی گڑیا جیسی سرخ و سفید حورم نے شادی کے دو سال بعد اُن کی زندگی میں داخل ہوکر۔۔۔۔ اُن کی زندگی مکمل کردی تھی۔۔۔۔ حورم نے آژمیر اود حاعفہ دونوں کے نین نقش چرائے تھے۔۔۔۔ اگر اُس کی معصوم سی دلکش مسکراہٹ آژمیر جیسی تھی تو اُس نے نزاکت بالکل حاعفہ جیسی پائی تھی۔۔۔۔ وہ اُن دونوں کی محبت کی نشانی تھی۔۔۔۔ آژمیر کی جان بستی تھی اپنی بیٹی میں۔۔۔۔۔۔۔ صرف آژمیر ہی نہیں حورم میران پیلس کی جان تھی۔۔۔۔ تو وہیں شہیر اُن کا دل۔۔۔۔۔
شہیر نہ صرف زوہان کی کاربن کاپی تھا بلکہ اُس کی عادت بِھی بالکل زوہان جیسی تھیں۔۔۔۔ نخرے دکھانے میں دونوں باپ بیٹے کا کوئی ثانی نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن جو بھی تھا زنیشہ کا اُن دونوں باپ بیٹے کے بغیر گزارا نہیں تھا۔۔۔ اور اُن کا زنیشہ کے بغیر۔۔۔۔۔
جہاں حورم کی معصوم کلکاریاں میران پیلس کی رونق کا باعث تھیِں۔۔۔ وہیں شہیر کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں سب کے چہروں سے مسکراہٹ نہیں ہٹنے دیتی تھیں۔۔۔
“اوتے بڑی ماما۔۔۔۔ لیتن پیلے آپ تو بے بی تو میلی گودی میں بیتھانا ہو دا۔۔۔۔۔ (اوکے بڑی ماما لیکن پہلے آپ کا بےبی کو میری گودی میں بیٹھانا ہوگا)…”
شہیر اپنی زبان میں بولتا۔۔۔۔ حاعفہ کے ساتھ وہاں داخل ہوتے آژمیر اور زوہان کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔۔۔
“تمہارا بیٹا اِس معاملے میں بھی تم پر گیا ہے۔۔۔۔”
آژمیر کا اشارہ سمجھتے زوہان کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ کھیل گئی تھی۔۔۔
جیسے اُس نے بچپن سے ہی زنیشہ پر اپنا حق جمانا شروع کردیا تھا۔۔۔ اُسی طرح اُس کا لاڈلا اکثر حورم کے بارے میں “یہ میلی بے بی ہے۔۔۔” کہتا پایا گیا تھا۔۔۔۔
جو بات سب نے ہی نوٹ کی تھی۔۔۔۔
“سارا الزام مجھ پر نہیں آسکتا۔۔۔۔ اُس کی بہت سی عادتیں تم پر بھی ہیں۔۔۔۔۔”
زوہان کی بات پر آژمیر مسکراتا اثبات میں سر ہلا گیا تھا۔۔۔۔۔ شہیر میں کبھی کبھار اُسے اپنے بچپن کی جھلک دیکھتی تھی۔۔۔۔
“آج پھر ماما کو تنگ کیا نا گندے بچے۔۔۔۔”
شہیر کا گال چومتا زوہان زنیشہ کو ڈھونڈتے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ آژمیر کا رُخ اپنی کل کائنات کی طرف تھا۔۔۔۔
حورم کو اُٹھائے کھڑی حاعفہ کو پیچھے سے ہگ کرتے اُس نے باری باری دونوں کے گال چوم لیے تھے۔۔۔۔
“میں کچھ دنوں سے ایک بات سوچ رہا تھا۔۔۔۔”
حورم کو حاعفہ سے لیتے وہ اُس کی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھتا مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے بولا۔۔۔
“جی۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے اتنے سنجیدگی بھرے انداز پر اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔۔
“کیوں نا اپنی محبت کی دوسری نشانی لانے کے بارے میں اب سوچا جائے۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرکے اپنے قریب کرتا مبہوت سا ہوکر اُس کے چہرے پر بکھرے حیا کے رنگ دیکھے گیا تھا۔۔۔۔
“آژمیر آپ کبھی تو جگہ کا خیال کرلیا کریں۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے بے باکانہ انداز پر آج بھی پہلے دن کی طرح ہی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی تھی۔۔۔۔۔ جن سب باتوں نے مل کر آژمیر کو اُس کا مزید گرویدہ بنا رکھا تھا۔۔۔۔
“زوہان آپ کا یہ بگڑا نواب زادہ مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔۔۔ کسی دن میرے ہاتھوں اِس کی پٹائی ہوجانی ہے۔۔۔”
زنیشہ مصروف سے انداز میں زوہان کے لیے کافی بناتی مخالف سمت ہونے کے باوجود بھی۔۔۔۔ اُس کے بھاری قدموں کی مخصوص دھمک سے ہی اُس کی آمد کا انداز لگا گئی تھی۔۔۔
“میرا ارادہ تو پوری کرکٹ ٹیم بنانے کا ہے۔۔۔۔ تم ایک سے ہی تنگ آگئی ہو سویٹ ہارٹ۔۔۔ باقی دس پر تمہارا کیا حال ہوگا۔۔۔۔”
اُس کا بازو تھام کر رُخ اپنی جانب موڑتا وہ اپنی بات کے جواب میں اُس کے ہونقوں جیسے تاثرات دیکھ اُس نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔۔۔
“آپ مذاق کررہے ہیں۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ گیارہ بچوں کا سوچ کر ہی کانپ اُٹھی تھی۔۔۔
“نہیں میں بالکل سیریں ہوں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی خفگی سے لال ہوتی نوز پر ہونٹ رکھتے۔۔۔۔ اُس کی صورت دیکھ زوہان کا گونجتا قہقہ اُس کی سانسیں بحال کر گیا تھا۔۔۔۔
“منہاج کہاں ہیں آپ۔۔۔؟؟؟”
ماورا اُس کے کال اٹینڈ کرتے ہی بولی تھی۔۔۔
“کیا ہوا مائی لو۔۔۔۔ایوری تھنگ از آل رائٹ۔۔۔۔؟؟؟”
منہاج آپریشن تھیٹر سے نکلتے اُس کی پندرہ مس بیلز دیکھ فون ملانے ہی والا تھا۔۔۔۔ جب دوبارہ آتی ماورا کی کال پک کرتا فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔۔
“ابھی اور اِسی وقت میرے آفس آکر اپنے اِن دونوں شیطانوں کو یہاں سے لے کر جائیں۔۔۔ ورنہ پھر بعد میں مجھے گلا مت کیجیئے گا۔۔۔۔”
ماورا کی بات سنتے منہاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ منہاج اور ماورا کو اُن کے رب نے جڑواں اولادوں سے نوازا تھا۔۔۔۔ شہرام اور دائم دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر شرارتی تھے۔۔۔ ماورا کے لیے اُنہیں اکیلے سنبھال پانا تو تقریباً ناممکن ہی تھا۔۔۔۔ منہاج کے بغیر اُن کو سنبھالتی وہ ایسے ہی پاگل ہوجاتی تھی۔۔۔۔
“پھر کیا کردیا میرے معصوم بیٹوں نے۔۔۔ “
منہاج اپنا کوٹ اُتار کر بازو پر ڈالتا شریر لہجے میں بولتا ماورا کو مزید تپا گیا تھا۔۔۔
شادی کے بعد منہاج کی مدد اور فل سپورٹ سے ماورا نے بھی اپنی میڈیکل کی ڈگری کمپلیٹ کرلی تھی۔۔۔ اور ااب وہ اپنی خواہش کے مطابق اُس کے ساتھ ہی شہاب درانی کے ہاسپٹل میں ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کررہی تھی۔۔۔۔
منہاج اچھے شوہروں کی طرح اُسے ہر معاملے میں پوری طرح سپورٹ کرتا آیا تھا۔۔۔ منہاج جیسے مرد کی سنگت میں ماورا خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کرتی تھی۔۔۔۔
اُن کی اِس خوشحال زندگی میں دائم اور شہرام نے آکر مزید رنگ بھر دیئے تھے۔۔۔۔
“آپ کے جیسی معصومیت پائی ہے۔۔۔ آپ کے بیٹوں نے۔۔۔۔”
ماورا نے بھی اُسی کے انداز میں جواب دیتے منہاج کو قہقہ لگانے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
اِسی طرح فون کان سے لگائے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُسے زچ کرتا منہاج تیز قدموں سے اُس کے آفس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
ملک فیاض مزید ایک ہفتہ ہی زندہ رہ پائے تھے۔۔۔۔ زوہان اُن کی دردناک موت دیکھ اپنے خون ہوتے دل کے ساتھ اُنہیں معاف کر گیا تھا۔۔۔۔ چاہے جیسا بھی سہی مگر وہ شخص اُس کا باپ تھا۔۔۔۔ ملک فیاض کی میت کو میران پیلس لایا گیا تھا۔۔۔۔۔ آژمیر اور زوہان نے اُن کے جنازے کو کندھا دیتے اور قبر میں اُتارتے اپنے بیٹے ہونے کا فرض ادا کر دیا تھا۔۔۔
اُن سب نے اپنے اپنے حصے کی مسافتیں طے کرکے اپنے حصے کی خوشیاں پالی تھیں۔۔۔۔ عشق و محبت کے راستے اُن سب کے لیے ہی اذیت اور تکلیف سے بھرے اُنہیں زخموں سے چور کرگئے تھے۔۔۔۔ مگر اُنہوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے سچی لگن کے ساتھ اپنی محبت کو حاصل کرلیا تھا۔۔۔۔
ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی ڈور سے جڑے وہ اپنی زندگیوں میں داخل ہوتی بہاروں کا کھلے دل سے استقبال کررہے تھے۔۔۔۔
ختم شد
