Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

حاعفہ آژمیر کے پیچھے گاڑی سے نکلی تھی۔۔ سامنے بڑی سی بلڈنگ پر کنسٹرکشن کا کام زور و شور سے جاری تھا۔۔ بڑی تعداد میں مزدور کام میں مصروف تھے۔۔ یہ کنسٹرکشن کا کام آژمیر کی کمپنی کی جانب سے ہی کیا جارہا تھا۔۔۔ اِسی لیے وہ آج یہاں وزٹ کرنے آیا تھا۔۔۔
وہاں موجود آژمیر کا منیجر اُسے وہاں یوز ہورہے مٹیریل اور باقی چیزوں کے بارے میں بریفنگ دیتا اُس کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔ جبکہ حاعفہ بامشکل وہاں پڑے پتھروں اور اونچے نیچے راستوں سے سنبھلتی اُن کے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔ آژمیر کا دماغ پہلے ہی اچھا خاصہ ڈسٹرب تھا۔۔۔ اُوپر سے ابھی منیجر کی باتیں پورے دھیان سے سننے کی کوشش کرتے وہ حاعفہ کی وہاں موجودگی کو بالکل فراموش کرگیا تھا۔۔۔
حاعفہ نے تیز قدموں سے آگے بڑھتے آژمیر کی چوڑی پشت کو گھور کر دیکھا تھا۔۔۔ جب اُسی لمے وہ راستے میں پڑے پتھر کو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔ اُس کا پیر بہت زور سے پتھر کے ساتھ ٹکرا گیا تھا۔۔۔ زوردار ٹھوکر کی وجہ سے وہ بُری طرح لڑکھڑاتی زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔ درد کے مارے ناچاہتے ہوئے بھی اُس کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے انگوٹھے کا ناخن ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ جہاں سے اب خون نکلنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔
حاعفہ کی چیخ پر آژمیر اور اُس کے منیجر نے مڑ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔ آژمیر جو حاعفہ کو بالکل فراموش کرچکا تھا۔۔۔ اور کسی نسوانی چیخ پر حیران بھی ہوا تھا۔۔۔ حاعفہ کو وہاں گرا دیکھ وہ اپنی لاپرواہی پر افسوس سے سر ہلاتا جلدی سے اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“کیا ہوا آپ کو؟؟؟ آپ ٹھیک ہیں…. کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟؟؟”
آژمیر اُس سے پوچھ رہا تھا جب اُس کی نظر حاعفہ کے پیر پر پڑی تھی۔۔۔۔ اُس کا ٹوٹا ناخن اور تیزی سے نکلتا خون دیکھ آژمیر نے فکرمندی سے اُس کا بھیگا چہرا دیکھا تھا۔۔۔ جو ہونٹ بھینچے لال پڑتی رنگت کے ساتھ اپنی تکلیف پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ آژمیر کچھ پل کے لیے اُسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ اُس کا درد اور نجانے کس بات کے زیرِ اثر لرزتا کانپتا وجود، درزیدہ نگاہیں جو آژمیر کی توجہ بالکل اپنی جانب ہونے کی وجہ سے گھبرا رہی تھی۔۔۔ اُس کی گہری نگاہوں کی تپیش کے زیرِ اثر وہ درد بھلائے اندر ہی اندر لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
اب تک کے اُس کے ساتھ گزرے وقت میں یہ پہلی بار آژمیر نے اُسے اتنے غور سے دیکھا تھا۔۔۔ وہ بھی اتنے قریب بیٹھ کر۔۔۔۔۔
حاعفہ کا کنفیوژ ہونا تو بنتا تھا۔۔
“دیکھائیں مجھے۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کے پیر کی جانب ہاتھ بڑھاتے اُس کا زخم دیکھنا چاہا تھا۔۔۔۔
“نو سر میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے فوراً پیر پیچھے کھینچا تھا۔۔۔ اُسے آژمیر کا یوں اپنے پیر کو ہاتھ لگایا جانا پسند نہیں تھا۔۔۔
اُس کی اِس گریز بھری حرکت پر آژمیر نے بہت غور سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے آگے بڑھ کر اُسے بانہوں میں اُٹھاتے وہ گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ ہکا بکا سی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
اُسے لگا تھا اُس کے انکار کرنے پر آژمیر پیچھے ہٹ جائے گا۔۔۔۔ کیونکہ اُس کے قریب رہتے وہ اُس کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہوچکی تھی۔۔۔ وہ کافی موڈی بندہ تھا۔۔۔ اپنا اگنور کیا جانا یا پھر یوں کسی بات سے گریز برتنا اُسے بالکل بھی پسند نہیں تھا۔۔۔۔
مگر اب اُس کا یہ ایک دم الگ کیئرنگ سا انداز دیکھ حاعفہ اچھی خاصی حیران ہوئی تھی۔۔۔۔
آژمیر نے اُسے گاڑی کے اندر آن بیٹھایا تھا۔۔۔۔ اُس کا منیجر بھی اتنی دیر میں فرسٹ ایڈ باکس لے آیا تھا۔۔۔ حاعفہ مبہوت سی اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ گرے تھری پیس میں ملبوس وہ اپنے مغرور انداز کے ساتھ ہمیشہ کی طرح ڈیشنگ اور ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔ حاعفہ کی ماں کے بعد آج پہلی بار کسی نے اُس کے لیے اتنی کیئر دیکھائی تھی۔۔۔
آژمیر گاڑی میں اُس کے قریب بیٹھتے اُس کا پیر تھام کر روئی سے اُس پر لگا خون صاف کرنے لگا تھا۔۔ زخم اچھا خاصہ تھا۔۔۔ آژمیر کو حیرت بھی ہوئی تھی۔۔۔ کہ لڑکیاں تو چھوٹی سی تکلیف پر رونا دھونا مچا دیتی تھیں۔۔۔ مگر حاعفہ اتنی نارمل کیوں تھی۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے راستے ہی آنسو ٹپک رہے تھے۔۔۔ اِس کے علاوہ اُس نے زرا سی آواز تک نہیں نکالی تھی۔۔۔۔
آژمیر یہ نہیں جانتا تھا حاعفہ اپنے دل اور روح پر اتنی چوٹیں کھا چکی تھی۔۔۔ کہ یہ معمولی سی چوٹ اُس کے لیے کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔
حاعفہ نے اِس بار آژمیر کی گرفت سے اپنا پیر نہیں کھینچا تھا۔۔۔ آژمیر کی مضبوط گرفت اپنے پیر پر محسوس کرتے حاعفہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
اُسے لگ رہا تھا کہ شاید وہ اپنا مقصد بھول رہی ہے۔۔۔ اُسے یہاں پر پر آژمیر میران کی محبت میں مبتلا ہونے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔۔۔۔ بلکہ اپنی ادائیوں سے اُسے اپنا گرویدہ کرنے کو کہا گیا تھا۔۔۔ مگر جس شخص کے سامنے اُس کی آواز تک نہیں نکلتی تھی۔۔۔ اُس کے سامنے بھلا وہ اپنی کیا ادائیں دیکھاتی۔۔۔۔۔ آژمیر کے ایک بار نگاہ اُٹھا کر دیکھنے پر ہی اُس کی سانسیں رک جاتی تھیں۔۔۔
ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔۔ وہ بہت ہی انہماک سے آژمیر کا سر جھکا ہونے کی وجہ سے اُس کی چوڑی پیشانی پر آئے گھنے بالوں کو گھور رہی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے آژمیر نے بھی نظریں اُٹھائے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ نظروں کے اِس تصادم پر حاعفہ فوراً گڑبڑاتی نگاہیں جھکا گئی تھی۔۔۔
اُس کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔ رنگت ایک دم لال پڑی تھی۔۔۔۔ اُس کے گلابیاں چھلکاتے رخسار اور ناک میں پہنی لونگ اُس کی دلکشی مزید بڑھا دیتی تھی۔۔۔۔ آژمیر بھی کچھ دیر کے لیے اِس قیامت خیز منظر سے نگاہیں ہٹا ہی نہیں پایا تھا۔۔۔۔
“مس حاعفہ سنبھل کر رہا کریں۔۔۔ لگتا ہے آپ کو خود کو ہی چوٹیں لگوانے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر اپنی بے اختیار حرکت سے سنبھلتا سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔ اُس نے نظریں حاعفہ کے سندر مکھڑے سے ابھی بھی نہیں ہٹائی تھیں۔۔۔ جب اُس کا دائیاں ہاتھ ابھی بھی حاعفہ کے پیر پر تھا۔۔۔
حاعفہ کو اِس بات کا احساس تو اب ہوا تھا۔۔۔ کہ وہ اُس کے کتنے قریب بیٹھا ہے۔۔۔ اور اب قدرے اُس کی طرف جھک کر بات کرتا حاعفہ کی حالت غیر کر گیا تھا۔۔۔ اُس کے لیے اب مزید اپنے دل پر پہرے بیٹھانا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔
یہ سامنے بیٹھا شخص ایک ساحر تھا۔۔۔ اور آہستہ آہستہ اُسے اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا۔۔۔ آژمیر کی خوشبو اُسے کے گرد پھیلی اُسے اپنا مزید دیوانہ بنا رہی تھی۔۔۔
“تھینیکیو سر۔۔۔۔ اور آئم سوری بھی۔۔۔۔ میں نے آپ کا اتنا ٹائم ویسٹ کر دیا۔۔۔ “
حاعفہ اُس کی گہری نگاہوں سے گھبرا کر اُس کا دھیان خود سے ہٹانے کی کوشش کرتے بولی۔۔۔ جو بات اُس کے کام کے بالکل خلاف تھی۔۔۔ اُسے آژمیر کو اپنے قریب لانا تھا۔۔۔ خود سے دور نہیں کرنا تھا۔۔۔ مگر نجانے آژمیر میران کے قریب آتے اُسے کیا ہوجاتا تھا کہ وہ سب کچھ فراموش کر جاتی تھی۔۔۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ آپ یہاں گاڑی میں ہی بیٹھیں۔۔۔ میں جلدی سے وزٹ کرکے آتا ہوں۔۔۔ پھر آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کروا دوں گا۔۔۔۔”
آژمیر واپس سنجیدگی کی چادر اوڑھتے اُس کے پاس سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔ حاعفہ خالی نگاہوں سے اُسے دور جاتے دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔ کاش یہ شخص صرف اور صرف اُس کا ہوتا۔۔۔۔ وہ اِس کی مضبوط بانہوں کے حصار میں چوڑے سینے پر سر رکھ کر اپنا ہر غم کہہ دیتی۔۔۔۔ اور اپنی باقی کی ساری زندگی اُنہیں مضبوط پناہوں میں ہی سکون سے گزار دیتی۔۔۔۔ مگر ایسا صرف سوچا ہی جاسکتا تھا۔۔۔۔ وہ اِس کاش سے آگے کبھی نہ بڑھ پائے گی۔۔۔۔۔۔ آژمیر میران جیسا مکمل مضبوط مرد۔۔۔ جو ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے ہی پاک صاف اور شریف نفس تھا۔۔۔ وہ بھلا اُس کی قسمت میں کیسے لکھا جاسکتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ خود اذیتی سے سوچتی۔۔۔۔ آژمیر کے جانے کے بعد سیٹ کی بیک سے پشت ٹکا گئی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے اُس کے موبائل کی میسیج ٹون بجی تھی۔۔۔ دوسری جانب سے اُسے ویلڈن کا میسج کیا گیا تھا۔۔۔
حاعفہ نے اپنی جگہ پر ہی بیٹھے۔۔۔۔ نگاہیں گھما کر اِدھر اُدھر دیکھا تھا۔۔۔۔
جب کافی دور اُسے ایک سیاہ شیشوں والی گاڑی کھڑی نظر آئی تھی۔۔۔ حاعفہ بوجھل سانس ہوا میں خارج کرتی واپس آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔ وہ اِس گیم سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اپنی زندگی کی طرح اِس معاملے میں بھی بے بس تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ نے مندی مندی آنکھیں کھولی تھیں۔۔ اُس پر ابھی مدہوشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔ وہ پہلے تو کتنے ہی لمحے اجنبی نگاہوں سے اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ جب کافی دیر بعد اُس کے دماغ میں جھماکا ہوا تھا تھا کہ اُس کا کڈنیپ ہوچکا ہے۔۔۔۔ زنیشہ کی آنکھوں سے کئی آنسو قطار کی صورت اُس کے گالوں پر لڑھک آئے تھے۔۔۔
وہ اِس وقت اوندھے منہ سنگل بیڈ پر پڑی تھی۔۔۔ اُس کے ہاتھ پیر رسیوں سے باندھے گئے تھے۔۔۔ کمرے میں نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
زنیشہ کو جیسے ہی گزرے لمحوں اپنی سرزد کی گئی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔۔ اُس کا دل چاہا اپنی کم عقلی اور بے وقوفی پر اپنا سر کسی دیوار کے ساتھ دے مارے۔۔۔۔
بھیا کے بھیجے گئے باڈی گارڈ کے بنا یونی سے نکلنا کا بہت بڑا بھگتان وہ بھگتنے والی تھی۔۔۔
بیڈ پر اُٹھ کر بیٹھتے۔۔۔۔ اُس نے چاروں جانب نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔۔ اِس پورے کمرے میں سوائے سنگل بیڈ کے کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر پانی کا جگ اور گلاس رکھا گیا تھے۔۔۔۔
زنیشہ خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر اندر سے وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھی۔۔۔
اُسے نجانے کس نے اور کس مقصد کے لیے کڈنیپ کیا گیا تھا۔۔۔۔
“بھیا پلیز جلدی سے آجائیں۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یہاں پر۔۔۔۔ “
زنیشہ آژمیر کو پکارتی رونے لگی تھی۔۔۔۔وہ جانتی تھی آژمیر جتنا پاور فل تھا اُس کے دشمن بھی اُتنے ہی بے شمار تھے۔۔۔ اُس کے مطابق زوہان اتنی گری ہوئی حرکت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ وہ آژمیر کے کتنے بھی خلاف کیوں نہ ہو۔۔۔ اُسے وہ اپنی عزت مانتا تھا۔۔۔ اُس کے معاملے میں وہ اتنا نہیں گر سکتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جاننا چاہتی آخر ایسا کیا کس نے تھا۔۔۔ جو اگلی بات اُس کے دماغ میں آرہی تھی۔۔۔ وہ سوچ کر اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
اُس نے ٹیبل کو پیروں سے ایک زور دار ٹھوکر رسید کی تھی۔۔۔ جس کے نتیجے میں اُس پر رکھے گئے جگ اور گلاس چھناکے کی آواز سے زمین بوس ہوئے تھے۔۔۔۔
آواز کافی اونچی تھی۔۔۔۔ کچھ ہی لمحوں بعد زنیشہ کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔ جس کے بعد جو شخص اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ اُسے پتھرائی نگاہوں سے دیکھتے زنیشہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرتے اُس کا چہرا پوری طرح بھگو گئے تھے۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر فون کان سے لگائے مزمل کی دی جانے والی اطلاع سنتا۔۔۔ زلزلوں کی ضد میں تھا۔۔۔۔
اُس کا دل چاہا تھا۔۔۔ اِس نااہل باڈی گارڈ کو ابھی اور اِسی وقت شوٹ کروا دے۔۔۔۔ مگر ابھی اُس کے پاس اِس سب کے لیے ٹائم نہیں تھا۔۔۔
اُس کی پھولوں جیسی نازک بہن اِس وقت نجانے کس ظالم کے شکنجے میں تھی۔۔۔
حاعفہ کو وہ پہلے ہی ڈراپ کرچکا تھا۔۔۔ اُس کا رُخ آفس کی جانب تھا۔۔۔ مگر اب یہ دل چیڑتی خبر نے اُسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے وہ اندھا دھند گاڑی بھگانا شروع کرچکا تھا۔۔۔۔
ساتھ ساتھ وہ ایس پی راحیل سے بھی رابطے میں تھا۔۔۔۔ جسے اُس نے زنیشہ کا موبائل اور اُس کی ریسٹ واچ میں خفیہ طور پر لگائے ٹریکڑ کو ٹریس کرنے کو کہا تھا۔۔۔۔
جب کچھ ہی دیر میں ایس پی راحیل نے اُسے جس لوکیشن کے بارے میں بتایا تھا آژمیر کا غصے سے خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔۔
اسٹیئرنگ پر اُس کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ اُڑ کر زنیشہ کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔۔۔ اپنی بہن پر وہ ایک آنچ بھی نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے گارڈز کی چار گاڑیاں بھی اِس وقت اُس کے پیچھے آچکی تھیں۔۔۔ جہاں وہ جارہا تھا وہاں اُسے گارڈز کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اُس کا چہرا پوری طرح آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔۔۔
“آپ۔۔۔۔ آپ نے مجھے کڈنیپ کیا؟….”
شدید تکلیف اور اذیت کے زیرِ اثر زنیشہ کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہوئے تھے۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ میں نے ایسا کیا۔۔۔۔ اِس کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ آژمیر تمہیں کسی قیمت پر میرے حوالے نہیں کرتا۔۔۔۔۔ اِس لیے مجھے یہ کرنا مناسب لگا۔۔۔۔۔ اب تم میرے پاس ہی رہو گی۔۔۔۔ اپنی اصل پہچان کے ساتھ۔۔۔۔ سب کو بتاؤں گا میں۔۔۔ کہ تم زنیشہ میران نہیں۔۔۔۔ زنیشہ اکرام ہو۔۔۔۔ میری اکرام حنیف کی بیٹی۔۔۔۔۔ “
زنیشہ نے دکھ بھری نگاہوں سے سامنے کھڑے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔ جسے آج اتنے سالوں بعد خیال آگیا تھا کہ اُس کی کوئی بیٹی بھی ہے۔۔۔ مگر زنیشہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔۔ اُسے یہاں وہ باپ بیٹی کی محبت میں نہیں بلکہ اپنے کسی مقصد کے تحت لائے تھے۔۔۔۔
ورنہ بھلا دنیا کا کونسا باپ اپنی بیٹی کو کڈنیپ کرکے یوں رسیوں میں باندھ کر رکھتا ہے۔۔۔
“کیا چاہتے ہیں آپ؟۔۔۔۔ اصل مقصد کیا ہے آپ کا مجھے یہاں لانے کا۔۔۔۔؟”
زنیشہ مسلسل اپنے پاتھ پیر رسیوں سے چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی بے خوفی سے بولی تھی۔۔۔
“تمہارا پیارا بھائی آژمیر۔۔۔ بہت اچھے سے جانتا ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اُس کی اتنے دنوں کے مسلسل انکار کی وجہ سے ہی مجھے یہ انتہائی قدم اُٹھانا پڑا۔۔۔۔ بہت ٹائٹ سیکیورٹی رکھی ہوئی تھی اُس نے تمہاری۔۔۔۔۔ مگر میری پیاری بیٹی نے اُن سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر میرا اتنے دنوں سے ناکام ہوتا مشن کامیاب کروا دیا۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف کے چہرے پر مکروں ہنسی کے آثار دیکھ کر زنیشہ نے نفرت سے نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔۔
“میرا آپ سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔ اور نہ ہی زندگی میں کبھی رکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ میں یہ بھی اچھے سے جانتی ہوں کہ آپ میرے نام پر موجود میری ماما کی جائیداد حاصل کرکے اُسے غلط مقصد کے کیے استعمال کرنا چاہتے ہیں جو کہ میں کبھی ہونے نہیں دوں گی۔۔۔۔ اور مجھے یوں کڈنیپ کرکے آپ نے اپنا مزید نقصان کیا ہے۔۔۔۔ میرے آژمیر بھائی آپ کو چھوڑیں کے نہیں۔۔۔۔”
زنیشہ کو آژمیر پر خود سے زیادہ بھروسہ تھا۔۔۔ وہ اُسے کچھ نہ ہونے دیتا۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ تمہارا بھائی تم تک پہنچے اُس سے پہلے ہی میں تمہارا نکاح اپنے بھتیجے سے کروا دوں گا۔۔۔۔ پھر تمہارے اُن سوکالڈ اپنوں میں سے کوئی کچھ نہیں کر پائے گا۔۔۔ تمہارے پاس پندرہ منٹ ہیں۔۔۔ تمہارا سگا باپ ہونے کے ناتے تمہیں ذہنی طور پر نکاح کے لیے تیار ہونے کے لیے اتنا ٹائم تو دے ہی سکتا ہوں۔۔۔۔ “
اکرام حنیف اُس پر ایک مسکراہٹ اُچھالتے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔ اُنہیں آژمیر پر زنیشہ کا یہی یقین ختم کرنا تھا۔۔۔
زنیشہ کا دل خوف سے کانپ اُٹھا تھا۔۔۔۔ اگر آژمیر وقت پر نہ پہنچ پایا تو۔۔۔۔۔ اِس سے آگے اُس سے کچھ سوچا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔
زوہان کا وجیہہ چہرا اُس کی نگاہوں میں آن سمایا تھا۔۔۔ اُسے کزن سے ہی پتا چلا تھا۔۔۔ کہ زوہان دوپہر میں ہی دبئی کے لیے نکل گیا ہے۔۔۔۔ زنیشہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔ کہ اگر وہ یہاں ہوتا تو ایک لمحہ بھی نہ لگاتا یہاں پہنچنے میں۔۔۔۔
@@@@@@@@
آژمیر کی گاڑیاں بڑے سے بنگلے کے سیاہ گیٹ کے سامنے آن رکی تھیں۔۔۔۔ وہ جیسے ہی گاڑی سے نکلا تو سامنے کھڑے گارڈ نے اُس کا راستے روکنا چاہا تھا۔۔۔ جس کے جواب میں آژمیر اُس کی کنپٹی پر سلنسر لگے پسٹل کا نشانہ باندھتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے گارڈز بھی اُس کے پیچھے ہی تھے۔۔۔
آژمیر پتھروں کی روش طے کرتا تھوڑا سا ہی آگے بڑھا تھا جب سامنے سے گارڈز کی فوج نمودار ہوئی تھی۔۔۔
“آپ اندر نہیں جاسکتے۔۔۔”
گارڈز نے آژمیر پر بندوقیں تانے اُسے اندر آنے سے روکا تھا۔۔۔
“اپنی جان پیاری ہے تو آگے سے ہٹ جاؤ۔۔۔۔ اندر تو میں ہر قیمت پر جاکر ہی رہوں گا۔۔۔۔ تم یہاں کھڑے میرا وقت ضائع کرکے اپنی موت کو مزید عبرت ناک بنا رہے ہو۔۔۔۔”
آژمیر نے اُنہیں آخری وارننگ دی تھی۔۔۔۔ مگر وہ گارڈز اپنے مالک کی جانب سے ملے گئے حکم کے مطابق وہیں جمے کھڑے رہے تھے۔۔۔ جب آژمیر کے ہاتھ کے اشارے پر اُس کے آدمی سامنے کھڑے لوگوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔ اُن لوگوں کے لیے یہ حملہ اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ انہیں ٹریگر دبانے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔۔۔ شاید اُنہیں اِس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کوئی اُنہیں کے ڈیرے پر آکر اُن پر حملہ بھی کرسکتا ہے۔۔۔
آژمیر کے پوری طرح ٹرینڈ گارڈز نے اُن کی گردنیں مڑورتے اُنہیں ایک سائیڈ پر ڈال دیا تھا۔۔۔۔
آژمیر عجلت میں اندر داخل ہوا تھا۔۔ لمبی سی راہداری عبور کرتے اندر ڈرائینگ روم میں بیٹھا اکرام حنیف اور اُس کے ساتھ بیٹھے تین افراد آژمیر کو وہاں دیکھ جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
“تم یہاں۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ آژمیر اتنی جلدی زنیشہ کو ڈھونڈ لے گا۔۔۔۔ اور اُس کے سب سے خفیہ ٹھکانے پر آن پہنچے گا۔۔۔ زنیشہ کا موبائل تو اُس کے آدمی وہیں پھینک آئے تھے۔۔۔ پھر آژمیر اتنی جلدی یہاں کیسے پہنچ گیا تھا۔۔۔۔
“میری بہن کہاں ہے؟؟؟….”
آژمیر کے لہجے میں چھپی غراہٹ مقابل کا دل دہلانے کے لیے کافی تھی۔۔۔
“وہ تمہاری بہن نہیں ہے۔۔۔ صرف اور صرف میری بیٹی ہے۔۔۔ میں اب کبھی اُسے تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔۔۔۔ قانونی طور پر اُس کا سرپرست صرف اور صرف میں ہوں۔۔۔ میں قانونی طور پر بھی اُسے اپنے پاس رکھنے کا حق رکھتا ہوں۔۔۔ اِس لیے تمہارے لیے بہتر ہوگا یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔۔”
اکرام حنیف اب زنیشہ کو کسی قیمت پر ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔۔۔
“ہر طرف پھیل جاؤ۔۔۔۔ سب کمرے چیک کرو۔۔۔۔ میری بہن ہر قیمت پر ملنی چاہیئے ۔۔۔۔”
آژمیر اپنے آدمیوں پر چلایا تھا۔۔۔ اُس کے لیے اکرام حنیف کی بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔۔۔
“آژمیر اپنے آدمیوں کو روک لو ورنہ میں تمہیں شوٹ کردوں گا۔۔۔۔”
اکرام حنیف نے آژمیر کے ماتھے پر نشانہ باندھتے اُسے باز رکھنا چاہا تھا۔۔۔۔۔
“اتنی اوقات نہیں ہے تمہاری۔۔۔۔۔”
آژمیر صوفے پر براجمان ہوتا اُسے خون آشام نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
“تم ابھی میری اوقات سے پوری طرح واقف نہیں ہو۔۔۔۔ میں ایسا کرسکتا ہوں۔۔۔۔”
اکرام حنیف نشانہ اُس کی کنپٹی سے ہٹا کر بازو پر رکھتا دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔۔۔
جبکہ آژمیر نے طنزیا نگاہوں سے اُسے نشانہ بدلتے دیکھا تھا۔۔ اِس شخص کی واقعی اتنی اوقات نہیں تھی کہ اُسے ختم کرنے کا سوچ بھی سکے۔۔۔۔۔
“آژمیر میران چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔”
اکرام حنیف اُسے آخری بار وارن کرتا ٹریگر پر انگلی دبا گیا تھا۔۔۔ مگر اُس سے بھی پہلے وہاں داخل ہوتے زوہان نے اُس کے بازو پر گولی چلاتے اُس کا نشانہ ضائع کیا تھا۔۔۔ بندوق اکرام حنیف کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاگری تھی۔۔۔
آژمیر نے حیرت بھری نگاہوں سے مُڑ کر اپنے اُس خیر خواہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جب اُس کی نگاہیں پیچھے کھڑے زوہان سے ٹکرائی تھیں۔۔۔ نظروں کے اِس تصادم پر دونوں نے نفرت سے نگاہیں پھیر لی تھیں۔۔۔
“تم۔۔۔۔ تم اپنے ہی دشمن کو بچا رہے ہو۔۔۔۔ جو تمہاری ہر چیز پر سانپ بن کر بیٹھا ہے۔۔۔۔”
اکرام حنیف درد سے بلبلاتا زوہان پر دھاڑا تھا۔۔۔ اُسے تو یہی معلومات ملی تھی۔۔ کہ زوہان اور آژمیر ایک دوسرے کے بہت بڑے دشمن ہیں۔۔۔ مگر زوہان کا آژمیر کو اِس طرح گولی سے محفوظ رکھنا اُس کا دماغ گھما گیا تھا۔۔۔۔
“آژمیر میران میری زندگی میں میرے کیے سب سے زیادہ نفرت آمیز انسان ہے۔۔۔ مگر اِس وقت ہم دونوں کے مشترکہ دشمن تم ہو۔۔۔۔ تم نے زنیشہ کو کڈنیپ کرکے جو گھناؤنی حرکت کی یے۔۔۔ اُس کے لیے میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔۔۔”
زوہان نفرت بھری نظر آژمیر پر ڈالتا غصے سے اکرام کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
” وہ میری بیٹی ہے۔۔۔۔ اُسے اپنے پاس رکھنے کا حق ہے میرا۔۔۔۔”
اکرام حنیف آج کسی صورت زنیشہ کو اُن کے حوالے کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔ چاہے وہ تین چار دشمن اور بھی کیوں نہ لے آتے۔۔۔۔
“دیکھ لیں گے زنیشہ کو اپنے پاس رکھنے کا حق کون حاصل کرتا ہے۔۔۔۔”
زوہان اکرام کے ساتھ ساتھ آژمیر پر بھی ایک سخت نگاہ ڈالتا بیسمنٹ کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔ آژمیر کا رُخ بھی اُسی جانب تھا۔۔۔ کیونکہ اُس کے آدمی اُوپر سے خالی ہاتھ لوٹے تھے۔۔۔۔
وہ دونوں باری باری مختلف کمرے چیک کررہے تھے۔۔ جب اچانک ایک کمرے کے پاس آتے دونوں کے قدم آمنے سامنے آن رکے تھے۔۔۔ وہ کمرہ لاک تھا۔۔۔ اُنہیں پورا یقین تھا۔۔۔ زنیشہ اندر ہی تھی۔۔۔۔
دونوں نے بنا زبان سے ایک لفظ بھی ادا کیے دروازے پر ضربیں لگانا شروع کردی تھیں۔۔۔ جب اُن کی چند منٹوں کی کوششوں کے بعد دروازہ ٹوٹا تھا۔۔۔۔
دونوں ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
جب زنیشہ کو بیڈ پر بیٹھے رسیوں میں جکڑا دیکھ اُن کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔۔ آژمیر آگے بڑھتے زنیشہ کو اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔۔ زوہان کے قدم فاصلے پر ہی رک گئے تھے۔۔۔
“میری گڑیا آپ ٹھیک ہو۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اُسے رسیوں سے آزاد کرنے لگا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اِس وقت گہرے شاک میں تھی۔۔۔ اُس کے سگے باپ نے اُسے کڈنیپ کروایا تھا یہ بات اُس کے لیے بہت اذیت ناک تھی۔۔۔۔۔ مگر وہیں آژمیر اور زوہان کو ایک ساتھ اپنے لیے فکرمند دیکھ اُس کی نم آنکھوں میں آسودگی سی بھر گئی تھی۔۔ لیکن وہ اِس بات سے بھی اچھی طرح واقف تھی کہ یہ دونوں ایک ساتھ تو تھے مگر دل سے ایک بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔
زنیشہ کو سہی سلامت دیکھ زوہان روم سے نکل گیا گیا تھا۔۔۔ اُس کے پیچھے ہی آژمیر بھی زنیشہ کو اپنے حصار میں لیے باہر نکل آیا تھا۔۔۔
“رُک جاؤ آژمیر۔۔۔۔۔ تم میری بیٹی کو اِس طرح نہیں لے کر جاسکتے۔۔۔۔”
اکرام حنیف نے آژمیر کو روکنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر آژمیر اُس کی بات کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھا تھا۔۔۔ وہ اکرام حنیف کو اُس کے اِس گناہ کا سبق بہت اچھے سے سیکھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ مگر زنیشہ کے سامنے بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ وہ پہلے ہی بہت ڈری ہوئی تھی۔۔۔
اِس لیے اِس وقت وہ اکرام حنیف کو اگنور کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
جب اکرام نے دائیں جانب صوفے کے پیچھے چھپے اپنے آدمی کو اشارہ کیا تھا۔۔۔ جو اگلے ہی لمحے باہر نکلتا آژمیر پر نشانہ باندھ گیا تھا۔۔۔۔ اکرام ہر قیمت پر زنیشہ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ جس کے لیے آژمیر کا مرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔۔۔۔
زوہان جسے اکرام فراموش کرچکا تھا۔۔۔ اُسی لمحے بیسمنٹ سے برآمد ہوا تھا۔۔۔ اُس کی زیرک نگاہوں سے اکرام کی حرکت چھپی نہیں رہ پائی تھی۔۔۔ اُس اپنی پاکٹ ٹٹولی تھی۔۔ مگر اُس کی گن دروازہ توڑتے شاید کہیں گر گئی تھی۔۔۔
اُس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔
وہ خون آشام نگاہوں سے اکرام کے آدمی کو گھورتا آگے بڑھا تھا۔۔۔ نجانے کس احساس کے تحت۔۔ آژمیر کے نام کی گولی وہ اُس کے سامنے آتے اپنے اُوپر کھا گیا تھا۔۔۔
زوہان سر۔۔۔۔”
حاکم چلایا تھا۔۔۔ زنیشہ نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے زوہان کی یہ حرکت دیکھی تھی۔۔۔ زوہان خود آژمیر کا جانی دشمن بنا ہوا تھا۔۔۔ اور اب اُسی کے نام کی گولی اپنے سر لے گیا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔