Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

حاعفہ جو کو ٹھے سے نکلتے وقت بس یہی دعا کرتی آئی تھی کہ وہ شخص کوئی اچھا، شریف انسان ہو۔۔۔ جس کے قریب جانے سے اُسے کوئی خطرہ نہ ہو۔۔۔۔ اِس وقت اُس کی یہی دعا قبول تو ہوچکی تھی۔۔۔۔ مگر حاعفہ کو سکون ابھی بھی نہیں تھا۔۔۔ کسی شخص کے جذبات کے ساتھ کھیلنا وہ بھی صرف اپنے مقصد کے لیے۔۔۔۔ اور بعد میں اُسی شخص کو موت کے کنارے لے کر جانا۔۔۔۔ یہ سب اُسے کرنا تھا۔۔۔۔
لیکن خود کو اتنا ڈانٹ ڈپٹ کے باوجودق ایسا کرنے کے لیے اُس کا دل نہیں مان رہا تھا۔۔۔۔
اگر وہ پیچھے ہٹ جاتی تو۔۔۔۔۔ ماورا کو نہ بچا پاتی۔۔۔۔ اپنی ماں سے کیا وعدہ ٹوٹ جاتا۔۔۔۔ وہ دھوکے باز اور جھوٹی نہیں تھی۔۔۔۔ مگر اب بننا تھا اُسے۔۔۔۔۔۔ اپنی زندگی میں موجود واحد رشتے کی خاطر۔۔۔۔۔
ٹھنڈا سانس بھرتی وہ صوفے کی بیک سے سر ٹکاتی آژمیر میران سے ہونے والے اپنے اگلے ٹکراؤ کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔۔۔
@@@@@@@@
“ماورا اپنا موڈ ٹھیک کرو۔۔۔۔ حیرت ہورہی ہے مجھے ۔۔۔۔ کی ماورا نور لڑنے کے بحائے۔۔۔ چھپ کر روتی ہے۔۔۔۔ امیزنگ۔۔۔۔۔ “
فاطمہ اُس کے ساتھ ساتھ چلتی کلاس روم کی جانب بڑھتے بولی۔۔۔۔ کیونکہ ماورا اُس دن منہاج درانی سے ہونے والے ٹاکرے کے بعد دو دن تک یونی آئی ہی نہیں تھی۔۔۔۔ اُسے خوف تھا کہ کہیں وہ سب کو اُس کی اصلیت نہ دیکھا دے۔۔۔۔۔
اِس وقت بھی کلاس کی جانب بڑھتے اُسے ایک طرف وہ اپنے گروپ کے ساتھ بیٹھا نظر آیا تھا۔۔۔ اور وہ اُس کی طرف متوجہ بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔ ماورا سکھ کا سانس لیتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے فاطمہ کو بھی اپنے طوائف زادی ہونے کا نہیں بتایا تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی اُس کی اصلیت جان کر فاطمہ بھی اُسے چھوڑ دے گی۔۔۔۔
وہ یہاں بنی اپنی اکلوتی دوست نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
ماورا یونیورسٹی کے پہلے دن سے اب تک ہمیشہ دوپٹہ سر پر اوڑھتی تھی۔۔۔ اُس کے دوپٹے کی لینتھ اتنی تو ضروری ہوتی تھی۔۔۔ کہ اُس کے نازک سراپے کو پوری طرح ڈھانپ لے۔۔۔۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے۔۔۔۔ جنہیں خود تو پردے کی توفیق نہیں ملتی تھی۔۔۔۔ مگر وہ دوسروں کو بھی ایسا کرتے برداشت نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔۔
خاص طور پر منہاج درانی اور اُس کے فرینڈز اُسے حقارت بھری نظروں سے ہی دیکھا کرتے تھے۔۔۔
جب سے وہ اِس یونی میں آئی تھی۔۔۔ اُس نے ایک ہی شخص کو ہر جگہ چھائے دیکھا تھا۔۔۔ منہاج درانی اپنی پرسنیلٹی، اپنے رکھ رکھاؤ اور اپنے منفرد لاپرواہ انداز کی وجہ سے ہر جگہ مقبول تھا۔۔۔ پہلے پہل تو ماورا کو وہ بلا وجہ کی اکڑ اور اونچی ناک رکھنے والا شخص ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔۔۔
جو اپنے سوا باقی سب کو کمتر ہی سمجھتا تھا، جسے اپنے خاندان اور اپنی بے شمار دولت پر بہت گھمنڈ تھا۔۔۔ باقی بھی بہت سارے سٹوڈنٹس اُس کے آگے ہاتھ باندھے اُس کی ہر بات ماننے کو تیار رہتے تھے۔۔۔۔
ماورا کو نہ ہی اُس شخص کا بی ہیوئیر پسند آیا تھا اور نہ ہی وہ خود۔۔۔۔ جو اپنے علاوہ باقی سب کو حقیر سمجھتا تھا۔۔۔ ماورا کو اُس سے عجیب سی چڑ ہوگئی تھی۔۔۔ اِس کا بہتر حل اُس نے یہی جانا تھا کہ وہ اُس کا سامنا کم سے کم کرے۔۔۔۔
وہ اگر کہیں سے گزر رہا ہوتا۔۔۔ تو ماورا اپنا راستہ ہی بدل لیتی۔۔۔۔ یونی کی جس پارٹی یا فنکشن میں وہ ہوتا۔۔۔ وہاں جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی یہ سب کرکے وہ منہاج درانی کی نظروں سے بچی ہوئی ہے۔۔۔ مگر ایسا نہیں تھا۔۔۔ بہت سے لوگ یہ بات نوٹ کرچکے تھے۔۔۔ اور منہاج کا دھیان بھی اِس جانب دلا چکے تھے۔۔۔۔
منہاج کو اپنا اگنور کیا جانا وہ بھی کسی لڑکی سے نہایت ہی عجیب لگا تھا۔۔۔
جب اچانک ایک دن وہ ماورا کے پاس خود آن ٹپکا تھا۔۔۔۔ ماورا نے اُسے اگنور کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ تو جیسے اُس کے پیچھے ہی پڑ چکا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ اُس کے سامنے جتنے اچھے سے بی ہیو کرتا تھا۔۔۔ ماورا اُس کے لیے اپنا نظریہ بدلنے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔ اُسے حاعفہ کی کی گئی نصیحت بھولنے لگی تھی۔۔۔ وہ منہاج درانی پر ٹرسٹ کرنے لگی تھی۔۔۔ اپنے دل کو اُس کی جانب مائل ہونے سے نہیں روک پارہی تھی۔۔۔۔
جب منہاج نے اُس کے لیے اپنی محبت کا اظہار کردیا تو وہ بھی اپنی فیلنگز کو مزید جھٹلا نہیں پائی تھی۔۔۔۔ اور منہاج درانی کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
جسے منہاج نے دل و جان سے قبول کیا تھا۔۔۔ منہاج کے دوست اور یونی کے تمام لوگ حیران تھے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ منہاج درانی کو یہ بڑے سے تھان میں لپٹی لڑکی بھی پسند آسکتی ہے۔۔۔۔۔
منہاج کو اُس نے اپنا سچ نہیں بتایا تھا۔۔۔ وہ بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔ مگر اُسے ڈر تھا کہ کہیں منہاج اُسے چھوڑ نہ دے۔۔۔۔۔ وہ اُس سے بہت زیادہ محبت کرنے لگی تھی۔۔۔ منہاج کی عورت کی ریسپیکٹ کرنے والی، اُنہیں خود سے اعلٰی مقام دینے والی جو سائیڈ اُس نے دیکھی تھی۔ اُس نے ماورا کو اپنا اسیر کرلیا تھا۔۔۔۔
منہاج نے اچانک ایک دن اُس کے گھر رشتہ بھیجنے، اُس سے نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کرتے اُس کے سامنے ثابت کردیا تھا کہ وہ یہ محبت ٹائم پاس کے لیے نہیں کررہا تھا۔۔۔ بلکہ واقعی اُس سے محبت کرتا تھا۔۔۔
لیکن وہیں ماورا کا دل یہ سوچ کر بھی بے چین ہوا تھا کہ اگر اُس کی اصلیت جان کر منہاج نے اُسے چھوڑ دیا تو۔۔۔۔ ایسا وہ کسی صورت نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ اِس لیے اُس نے خود غرض بنتے منہاج کو یہ کہہ دیا تھا کہ اُس کے پیرنٹس اِس رشتے کے لیے کسی صورت نہیں مانیں گے۔۔۔۔ جس پر منہاج بھی اُسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ اُس نے خفیہ طور پر نکاح کرنے کا حل پیش کیا تھا۔۔۔۔
مگر یہ ماورا کی بدقسمتی تھی یا خوش قسمتی کہ جس وقت اُنہوں نے نکاح کے لیے فرار ہونا تھا اُسی وقت کرامت اپنے آدمیوں کے ساتھ آکر اُسے رنگے ہاتھوں پکڑ چکا تھا۔۔۔۔ ماورا کے لیے حیرت کی بات یہی تھی کہ کرامت نے منہاج کو کچھ بھی نہیں کہا تھا۔۔۔ بلکہ اُس کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔ کہ اُس نے بروقت اُنہیں اطلاع کرتے اُن کا اتنا بڑا نقصان ہونے سے بچا لیا تھا۔۔۔۔
ماورا نے پھٹی پھٹی بے یقین نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ تو اُس سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔پھر اُس کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیسے کرسکتا تھا۔۔۔
جب منہاج آنکھوں میں طنز اور حقارت لیے اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا مس ماورا نور؟؟؟ دغابازی کرنا اور جھوٹ بولنا صرف تمہارا کام ہے کیا؟۔۔۔۔ تم نے محبت کے نام پر مجھے دھوکا دیا اور میں نے وہ اُس سے ڈبل کرکے تمہیں واپس لوٹا دیا۔۔۔۔ حساب برابر۔۔۔۔ اب آئندہ میں بھی محبت لفظ پر اعتبار کرنے سے پہلے ہزار بار سوچوں گا اور تم بھی۔۔۔۔ “
منہاج اُسے انتقامی نظروں سے دیکھتا وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔۔۔
ماورا سکتے کی کیفیت میں پھٹی پھٹی نظروں سے اُسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ تو اِس کا مطلب یہ شخص اُس کی اصلیت جان چکا تھا۔۔۔۔ اور اب اُسی کی سزا دے گیا تھا۔۔۔۔ ماورا نہیں جانتی تھی کہ اِس شخص نے کبھی اُس سے محبت کی بھی تھی یا نہیں۔۔۔۔ کیونکہ محبت میں اتنی کم ظرفی نہیں ہوتی۔۔۔ کہ اپنے محبوب کو اُس کی ایک غلطی پر اُٹھا کر موت اور ذلت کے منہ میں پھینک دیا جائے۔۔۔ جو بھی تھا۔۔۔ مگر ماورا کا اعتبار اب مردوں اور محبت پر سے بالکل اُٹھ گیا تھا۔۔۔ اُس کے نزدیک دنیا کا ہر مرد دھوکے باز اور فراڈ تھا۔۔۔
منہاج کے دھوکے کے بعد وہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔۔۔ صرف اپنی بہن کی خاطر وہ اپنا دل کچلتی واپس اُسی جگہ آگئی تھی۔۔۔ جہاں اُسے اُس شخص کا سامنا کرنا تھا۔۔۔۔ جس کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی وہ۔۔۔۔ جو اُس کا خطاوار تھا۔۔۔ اُس کا دل لہولہان کردیا تھا۔۔۔۔۔
ماورا نے آج پہلی بار کی طرح منہاج درانی اور اُس کے گروپ کو بیٹھا دیکھ اپنا راستہ نہیں بدلا تھا۔۔۔ بلکہ سر اُٹھائے بےتاثر چہرے کے ساتھ وہاں سے گزر گئی تھی۔۔۔۔ یہ ظاہر کرتے کہ اُس شخص کے ہونے نہ ہونے سے اب اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔
وہاں بیٹھے منہاج درانی نے پلٹ کر گہری نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ اُس کے نظروں سے اوجھل ہونے پر سر جھٹکتا اپنے دوستوں سے باتوں میں مصروف ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“السلام وعلیکم لالہ۔۔۔۔”
حسیب نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے آژمیر کو سلام کیا تھا۔۔۔ جو ابھی کچھ دیر پہلے شہر سے لوٹا تھا۔۔۔ باقی سب افراد بھی رات کا وقت ہونے کی وجہ سے وہاں جمع تھے۔۔۔ اُن سب کی عادت تھی۔۔ رات کے وقت سب لوگ ایک ساتھ ضرور بیٹھتے تھے۔۔۔ یہ عادت سب کی آژمیر نے ہی بنائی تھی۔۔۔ اُسے پسند نہیں تھا کہ شام ہوتے ہی سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں گھس جائیں۔۔۔
وہ اپنے خاندان کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی تھا۔۔۔۔
“حسیب میں نے تمہیں ایک ضروری کام سونپا تھا، ہوگیا کیا؟؟”
آژمیر سنجیدگی بھرے تاثرات کے ساتھ حسیب کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
باقی سب بھی اُن کی جانب متوجہ تھے۔۔۔۔
“جی لالہ آج میں اُسی کام میں مصروف رہا ہوں۔۔۔۔ آپ کے کہے کے عین مطابق بہت قابل باڈی گارڈ ڈھونڈا ہے میں نے زنیشہ کے لیے۔۔۔۔ جو یونیورسٹی میں بھی فل ٹائم اُس کے ساتھ رہے گا۔۔۔”
حسیب نے تفصیل سے جواب دیا تھا۔
“مگر باڈی گارڈ کس لیے آژمیر؟ ہم میں سے ہی کوئی زنیشہ کو پک اینڈ ڈراپ کرلے گا۔۔۔۔ میں ملا ہوں اُس شخص سے جسے حسیب نے اِس جاب کے لیے رکھا ہے۔۔۔۔ کافی شریف اور قابل انسان لگ رہا ہے۔۔۔ پچھلا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے اِس کا۔۔۔۔ مگر پھر بھی ہمارے ہوتے زنیشہ کو کسی باڈی گارڈ کی کیا ضرورت۔۔۔۔۔”
قاسم میران کو یہ بات کافی عجیب لگی تھی۔ جس کا اُنہوں نے برملا اظہار بھی کیا تھا۔۔۔
“آپ نے بالکل ٹھیک کہا چچا جان۔۔۔۔۔ مگر میں فل ٹائم زنیشہ کی حفاظت چاہتا ہوں۔۔۔۔ میں زنیشہ کے حوالے سے کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا۔۔۔۔۔ ملک زوہان کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔۔۔۔”
آژمیر اٹل لہجے میں بولا تھا۔۔۔ اُسے اس بات کا شک ہوچکا تھا کہ زوہان زنیشہ کے روم تک گیا تھا۔۔۔ مگر ابھی اِس بات کا پوری طرح سراغ نہیں مل پایا تھا۔۔۔ اپنی بہن کی عزت کی خاطر وہ نہ کسی کے سامنے اِس بات کا ذکر کر سکتا تھا۔۔ اور نہ بنا کسی ٹھوس ثبوت کے زوہان سے اِس بارے میں کوئی بات کرسکتا تھا۔۔۔
“اللہ اُسے ہدایت عطا فرمائے۔۔۔ اور جلد اُسے احساس ہوجائے کے وہ کتنا غلط کررہا ہے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم افسوس سے سر ہلاتے بولی تھیں۔۔۔۔
“بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے۔۔۔”
قاسم صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
“لالہ سائیں مزمل نام ہے اُس کا۔۔۔۔ میں اور چچا جان مل چکے ہیں اُس سے۔۔۔۔اور اُس کے حوالے سے پوری تسلی بھی کرلی ہے۔۔۔۔ آپ بھی ایک بار مل لیں۔۔۔ پھر فائنل کرلیتے ہیں اُسے۔۔۔۔۔”
حسیب کو بھی آژمیر کا آئیڈیا اچھا لگا تھا۔۔۔ زوہان کی سوچ تک پہنچنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔۔ مجھے آپ دونوں پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔۔۔۔ اگر آپ نے اُسے فائنل کیا ہے تو ٹھیک ہی ہوگا۔۔۔۔ اماں سائیں آپ زنیشہ کو کل یونیورسٹی کے لیے تیار کر دیجیے گا۔۔۔۔ اور مزمل کے حوالے سے بھی سمجھا دیجئے گا۔۔۔۔ اپنی سیفٹی کے لیے ہی سہی اُسے اپنے گارڈ کو فل ٹائم اپنے ساتھ رکھنا ہوگا۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر شمسہ بیگم بھی کافی حد تک مطمئین ہوتیں اثبات میں سر ہلا گئی تھیں۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
میران پیلس روشنی اور خوشیوں سے جگمگاتی پورے گاؤں کی سب سے خوبصورت عمارت مشہور تھی۔۔۔۔ آزاد کشمیر کے اس خوبصورت علاقے میں آئے سیاحت کے شوقین لوگوں کے اندر بھی اکثر اِس وسیع پیمانے پر پھیلی سیاہ عمارت کو دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوجاتا تھا۔۔۔۔
جو باہر سے تو دلفریب مناظر پیش کرتی ہی تھی۔۔۔ مگر اندر جاکر ایسا معلوم ہوتا تھا۔۔۔ کہ جیسے انسان جنت میں قدم رکھ چکا ہو۔۔۔۔ ہر طرح کی آسائش اور دلکشی سے مبرا یہ خوبصورت عمارت اکثر لوگوں کا للچاتی پوری شان سے کھڑی تھی۔۔۔ اِس حویلی میں میران خاندان کے تمام افراد بستے تھے۔۔۔ مگر اُن سب پر ایک بے تاج بادشاہ بھی راج کرتا تھا۔۔۔ ملک آژمیر میران۔۔۔۔ جس کی کہی ہر بات پر ایمان لانا سب لوگ اپنا فرض سمجھتے تھے۔۔۔۔ وہ اگر اپنوں کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتا تھا۔۔۔ تو باقی سب بھی اُس کے ایک اشارے پر کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔۔۔ اُن سب کی یہی محبت اور دل میں موجود ایک دوسرے کے لیے بے پناہ خلوص تھا۔۔۔ کہ اتنے طوفان آکر گزر جانے کے باوجود کوئی اُس خاندان کی بنیاد کو ہلا نہیں پایا تھا۔۔۔ وہ آج بھی ہر طرح کی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے۔۔۔ ایک ساتھ کھڑے تھے۔۔۔۔
ملک احمد علی میران نے اِس حویلی کی بنیاد جس محبت اور اپنائیت سے رکھی تھی۔۔۔ اُن کی آل و اولاد اُسے اُسی وفاداری سے لے کر چل رہی تھی۔۔۔
ملک احمد علی میران کی چار اولادیں تھیں۔۔۔۔
سب سے بڑے ملک فیاض تھے۔۔۔ جن کی شادی اپنی چچا زاد شمسہ بیگم سے ہوئی تھی۔۔۔ اُن کا ایک بیٹا۔۔۔ آژمیر اور بیٹی زنیشہ تھے۔۔۔ ایک حادثے میں ملک فیاض بہت بُری طرح زخمی ہوئے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹرز کی بہت کوششوں کے باوجود بھی وہ انہیں کوما میں جانے سے نہیں روک پائے تھے۔۔۔ پچھلے کتنے سالوں سے وہ کوما میں تھے۔۔۔۔ آژمیر نے دنیا کا کوئی قابل ڈاکٹر نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ وہ اپنے بابا کو سہی سلامت واپس اپنے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر وہ اپنے رب کے کیے گئے فیصلے سے جیت نہیں پایا تھا۔۔۔۔
اور بے بسی سے اپنے بابا کو اتنے سالوں سے بیڈ پر ہی پڑا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دوسرا نمبر ملک قاسم میران کا تھا۔۔۔ جن کی شادی اُن کی خالہ زاد حمیرا بیگم سے ہوئی تھی۔۔۔اُن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔۔۔ اُنہوں نے نجانے کتنی منتیں مرادیں مانگی تھیں۔۔۔ کوئی درگاہ کوئی پیر فقیر نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔ مگر ابھی تک اُن کی مُراد بر نہیں آئی تھی۔۔۔۔ جسے اُنہوں نے اللہ کی رضا سمجھتے اِسی حقیقت سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔۔۔۔
تیسرا نمبر ملک شاکر کا تھا۔۔۔ جن کی شادی آمنہ بیگم سے ہوئی تھی۔۔۔ اُن کے دو بیٹے حسیب، حاشر اور دو بیٹیاں رامین اور فریحہ تھیں۔۔۔
سب سے چھوٹی کشمالہ بیگم تھیں۔۔۔۔ اُن کی شادی اپنے چچا زاد ملک عثمان سے ہوئی تھی۔۔ ۔۔۔ جن کا ایک بیٹا ذیشان اور بیٹی فجر تھی۔۔۔۔ اُن کا گھر میران پیلس سے کچھ فاصلے پر ہی تھی۔۔۔۔ مگر وہ زیادہ طرح میران پیلس ہی پائے جاتے تھے۔۔۔ نجمہ بیگم کو اُن کے بھائیوں نے اُن کے حصے کے طور پر میران پیلس کا ایک پورشن دے رکھا تھا۔۔۔ تاکہ وہ بھی اُن کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ سکیں۔۔۔ بھائیوں کی نظروں کے سامنے۔۔۔۔۔
وہ سب ایک ہی چھت کے نیچے ہنسی خوشی رہتے تھے۔۔۔۔ اُنہوں نے ایک دوسرے کا غم بانٹنا اور خوشیوں پر خوش ہونا ہی سیکھا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“واٹ؟؟؟؟ اماں سائیں یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ میں یونی میں بھی، اور اپنی کلاس میں بھی اپنے ساتھ باڈی گارڈ لیے پھروں گی۔۔۔۔”
زنیشہ شمسہ بیگم کی بات سنتے ہتھے سے ہی اُکھڑ گئی تھی۔۔۔۔ اُسے یہ بات سوچ کرہی اتنی فنی لگ رہا تھا۔۔۔۔ کہ ہر وقت اُس کے پیچھے ہاتھ باندھے ایک ملازم کھڑا رہے گا۔۔۔۔
اُس کی فرینڈز، ٹیچرز اور کلاس فیلوز بھلا کیا سوچیں گے اُس کے بارے میں۔۔
“اگر ایسا ہی ہے۔۔۔۔ تو مجھے پڑھنا ہی نہیں ہے۔۔۔۔ میں سب کو خود پر ہنستا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔ اور یونی میں تو ویسے بھی اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔۔۔ تو بھلا وہ باڈی گارڈ بنا اسلحے کی حفاظت کیسے کر پائے گا۔۔۔۔۔ آپ لالہ کو کہیں نا۔۔۔ کہ وہ اُسے یونی کے باہر ہی رکھیں۔۔۔۔”
زنیشہ کو یہ سوچ سوچ کر ہی کوفت ہورہی تھی
“زنیشہ بچے آپ کی بھلائی کے لیے ہی آژمیر نے یہ فیصلہ لیا ہے۔۔۔۔۔ آپ اچھے سے جانتی ہیں ملک زوہان آژمیر کو نیچا دیکھانے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔ اور کچھ عرصہ پہلے بھی آپ پر دو بار جو جان لیوا حملے ہو چکے ہیں۔۔۔۔ وہ بھی نظر انداز کیے جانے والے نہیں ہیں۔۔۔۔۔ اِس لیے بہتری اِسی میں ہے جو آژمیر نے فیصلہ لیا ہے۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اُسے دوٹوک الفاظ میں اپنی بات کہہ دی تھی۔۔۔۔ جس پر زنیشہ کے پاس ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔