No Download Link
Rate this Novel
Episode 55
“آپ نے اُسے میٹھائی کیوں کھلائی۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ نے بھی جواباً خفگی کا اظہار کرتے منہ بسورتے پوچھا تھا۔۔۔۔ آج تک آژمیر سے کسی نے کسی بھی معاملے میں کوئی وضاحت نہیں مانگی تھی۔۔۔۔
لیکن آژمیر جس قدر مان حاعفہ کو سونپ چکا تھا۔۔۔۔ اپنے شوہر سے اُس کے عمل پر سوال کرنا حاعفہ نے اِس لمحے اپنا حق سمجھا تھا۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آژمیر اُس کے عمل سے غصے میں آچکا تھا۔۔۔۔۔۔
اُن دونوں کو ایک دوسرے میں گم دیکھ سویرا تو شرمندہ ہوتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر اپنی زہانت سے اپنی بیوی کو پروٹیکٹ کرتا اُس کی چال اُسی پر ہی اُلٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ کے انداز پر آژمیر نظریں گھما کر اُسے دیکھنے پر محبور ہوا تھا۔۔۔۔ اُس نازک سی بیوی جو اُس کی ایک سخت نگاہ پر سہم جاتی تھی۔۔۔۔ وہ ابھی شدید جلن کا شکار غصے سے اُس سے سوال کررہی تھی۔۔۔۔
آج کی تاریخ کا سب سے انوکھا واقعہ تھا یہ۔۔۔۔ مگر آژمیر نے اِسے خوب انجوائے کیا تھا۔۔۔۔۔ حیرت انگیز طور پر اُس کا ابھی تھوڑی دیر پہلے کا خراب موڈ اتنی جلدی خوشگواریت میں بدل چکا تھا۔۔۔۔۔۔
“کیا تم اِس بات پر جیلس ہورہی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
آژمیر نے گہری نگاہوں سے اُسے سرتاپا گھورا تھا۔۔۔۔ اُسے اِس وقت یہ گھونگھٹ اپنا سب سے بڑا دشمن لگ رہا تھا۔۔۔۔ جسے وہ ہٹانے کا پورا حق بھی رکھتا تھا۔۔۔۔ مگر وہ نہیں چاہتا تھا اردگرد موجود باقی مرد حضرات اُس کی بیوی کا یہ حسین رُوپ دیکھیں۔۔۔۔۔
اِس لیے وہ یہ برداشت کررہا تھا۔۔۔۔۔
“میں بہت اچھے سے واقف ہوں اپنی اِس کزن کی سوچ سے۔۔۔۔۔ یہ اُس گلاب جامن میں تمہارے لیے کچھ مکس کرکے لائی تھی۔۔۔۔ اُس کی دوا کا مزا اُسی کو چکھانے کے لیے وہ میٹھائی کھلائی میں نے اُسے۔۔۔۔ نہ کہ کسی محبت کے تحت۔۔۔۔”
آژمیر میران آج پہلی بار اپنے کسی عمل پر وضاحت دے رہا تھا۔۔۔۔ جس پر حاعفہ نے بھی محبت پاش نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
یہ ایک لمحہ اُسے بے پناہ خوشی سے دوچار کرگیا تھا۔۔۔۔ وہ اب آژمیر میران کے مضبوط سائبان تلے تھی۔۔۔۔ جو اُس پر آئی معمولی سے معمولی تکلیف کو بھی اُس تک پہنچنے کی اجازت نہیں دینے والا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے دل میں اُس کی اہمیت کیا تھی اِس کا اندازہ تو وہ اِس بات سے بھی باآسانی لگا گئی تھی جب کسی کے سوال کرنے پر اُسے دوبارہ بولنے کے قابل نہ چھوڑنے والا اتنی چھوٹی سی بات پر بھی اُسے وضاحت دے گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اُس کی زندگی کبھی اتنی حسین بھی ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔
وہ خود کو دنیا کی سب سے بدنصیب لڑکی تصور کرتی تھی۔۔۔۔ مگر آژمیر کے مل جانے کے بعد اُس کی اِس سوچ کی پوری طرح سے نفی ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
وہ اب اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش قسمت ترین لڑکی تصور کررہی تھی۔۔۔۔ جس کی زندگی میں آژمیر میران جیسا شخص لکھ دیا گیا تھا۔۔۔۔
اب تو وہ اُسے دل و جان سے منا لینا چاہتی تھی۔۔۔۔ جیسے وہ چاہتا تھا بالکل ویسے ہی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“کیا کہہ رہی تھی ابھی تم میرے بارے میں۔۔۔۔ میں اکڑو اور گھمنڈی ہوں رائٹ۔۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان سامنے بھنگڑا ڈالتے سب کو دیکھتا انتہائی سنجیدگی بھرے لہجے میں زنیشہ سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔۔ تو اِس کا مطلب جذبات میں آکر کی گئی اُس کی گوہر فشانی وہ سن چکا تھا۔۔۔۔۔
پہلے ہی زوہان کی یہ قربت اُس پر بھاری پڑ رہی تھی۔۔۔ اُوپر سے اُس کا یہ تفتیشی انداز۔۔۔۔۔ زنیشہ کی ہتھیلیاں بھیگ چکی تھیں۔۔۔۔
“نہیں وہ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔”
ہمیشہ اُس کے سامنے شیرنی بنی رہنے والی یوں سب کے بیچ اُس کے ساتھ بیٹھنے پر شدید گھبراہٹ کا شکار تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی زوہان میران پیلس والوں کے سامنے ایک الگ ہی انسان ہوتا تھا۔۔۔ جس سے کسی بھی حد تک روڈنیس کی توقع کی جاسکتی تھی۔۔۔۔
اُسے پل پل مزاج بدلتے اِس شخص کی یہی چیز بدلنی تھی۔۔۔۔ اُس کے دل سے قریبی رشتوں کو لے کر تمام تلخی دور کرکے اُس کے اپنے اندر چھپا کر بیٹھے پیارے سے شخص کو باہر نکالنا تھا۔۔۔۔
“مجھے تو لگا تھا تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔ مگر تمہارے دل میں بھی میران پیلس کے باقی افراد کی طرح ایسے خیالات ہے میرے بارے میں۔۔۔ جان کر کافی حیرت ہورہی ہے۔۔۔۔۔ میں بھلا اِس معاملے میں اتنا غلط کیسے ہوسکتا ہوں۔۔۔۔۔”
زوہان کی انتہائی سنجیدگی سے بولے جانے والی باتیں زنیشہ کی جان نکال گئی تھیں۔۔۔
“میں صرف مذاق کررہی تھی۔۔۔”
زنیشہ روہانسی آواز میں بولتی اُس کی ناراضگی کے خوف سے پریشان ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ کم از کم اِس موڑ پر تو زوہان کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ جب وہ پہلے ہی یہاں موجود ہر شخص سے خفا اور بدگمان تھا۔۔۔۔
“یہ جانتے ہوئے بھی کے مجھے مذاق کرنا اور سہنا دونوں پسند نہیں۔۔۔۔۔”
زوہان کا لہجہ مزید سخت ہوا تھا۔۔۔۔
اور بس اِسی پل زنیشہ کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
” میرے دل میں آپ کے لیے ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ دل کے کتنے اچھے اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔۔۔۔”
زوہان زنیشہ کے آنسو نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ مگر اُس کا گھبرا کر کیا جانے والا اقرار زوہان کے چہرے پر ایک جاندار سی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
خاندان کے کافی لوگ جو زوہان کی جانب متوجہ تھے۔۔۔ اِس حد درجہ سنجیدہ شخص کو مسکراتے دیکھنا اُنہیں کوئی خواب ہی معلوم ہوا تھا۔۔۔۔۔
“رئیلی۔۔۔۔ ؟؟؟ اور کیا کیا لگتا ہے تمہیں میرے بارے میں۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے مزید تنگ کرنا ترک کرتا شوخی بھرے لہجے میں بولتا اُس کا سیروں خون جلا گیا تھا۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر اُس کے ہاتھوں بے وقوف بن چکی تھی۔۔۔
“مجھے اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔ “
زنیشہ سخت خفا ہوئی تھی۔۔۔۔
“یار ایک تو میرے عجیب و غریب نام تم رکھ رہی ہو۔۔۔ اُوپر سے ناراض بھی تم ہورہی ہو۔۔۔۔”
زنیشہ کی مہندی، چوڑیوں اور گجروں سے رچی بسی کلائی اپنی گرفت میں لیتے زوہان نے اُسے چھیڑا تھا۔۔۔
“اور آپ نے جو میری جان نکال دی تھی وہ۔۔۔ مجھے لگا آپ ناراض ہوگئے ہیں مجھ سے۔۔۔۔۔ “
زنیشہ اُس کی گرفت سے اپنی کلائی آزاد کرواتی بے ساختہ یہ الفاظ ادا کر گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے فوراً زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔۔۔ مگ جس نے سمجھنا تھا وہ سمجھ چکا تھا۔۔۔
“میری ناراضگی کی اتنی پرواہ ہے تمہیں۔۔۔۔”
زوہان اپنی جانب متوجہ لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اُس کی جانب جھکتا گھمبیر سرگوشی کر گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کی بڑھتی جسارتوں پر دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر اُس کا دوپٹہ زوہان کی گرفت میں قید ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔
“آپ بھول رہے ہیں۔۔۔ سب ہماری جانب ہی متوجہ ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُسے تھوڑی سی شرم دلانی چاہی تھی۔۔۔ جس کا کم از کم زوہان سے دور دور تک کوئی ناطہ نہیں تھا۔۔۔۔
“جب تم پر کوئی حق نہیں تھا تب بھی اِن لوگوں کی پرواہ نہیں کی میں نے۔۔۔۔ اب تو تم میری ملکیت کو۔۔۔ ابھی سب کے سامنے تمہیں یہاں سے اُٹھا کر لے جاسکتا ہوں۔۔۔۔۔”
زوہان اپنے دل کی خواہش زبان پر لاتے زنیشہ کی دھڑکنیں تیز کرگیا تھا۔۔۔۔۔ اُس سے کوئی بعید نہیں تھی۔۔۔ وہ اگر ایسا کہہ رہا تھا تو کر بھی سکتا تھا۔۔۔۔
زوہان کو وہ سجی سنوری اِس قدر حسین لگ رہی تھی۔۔۔ کہ اُسے اپنے جذبات پر بندھ باندھنا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔
“اماں سائیں میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے روم میں جانا ہے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو اب زوہان کے تیور خوفزدہ کررہے تھے۔۔۔۔ اُس نے سٹیج کی جانب آتی شمسہ بیگم کو اپنی جانب بلایا تھا۔۔۔۔
زوہان نے بہت مشکل سے اپنا بے ساختہ اُمڈ آنے والا قہقہ روکا تھا۔۔۔
“کیا ہوا گڑیا؟؟؟ ابھی تو آپ بالکل ٹھیک تھی۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کی زرد صورت دیکھ پریشان ہوئی تھیں۔۔۔۔ اُن کے قریب آنے سے پہلے ہی زوہان خود پر واپس سنجیدگی کی چادر اوڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کا یہ نرمی بھرا انداز صرف اُس کی چہیتی بیوی کے لیے تھا۔۔۔۔
“جی وہ سر میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔ اور ٹھنڈ بھی لگ رہی ہے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ وہ کیا بولے۔۔۔۔
وہ مسلسل زوہان سے اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔ مگر وہ اُس کی نازک اُنگلیوں کو اپنی مضبوط اُنگلیوں میں پھنسائے ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔
“میں ہیٹر آن کروا دیتی ہوں۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں رسم کے بعد آپ کو روم میں کے جائیں گے۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم زوہان کو اِس طرح مہندی کے فنکشن میں شرکت کرتا دیکھ بہت خوش تھیں۔۔۔۔۔ اِس لیے وہ ابھی زوہان کے سامنے زنیشہ کو اندر لے جاکر بالکل بھی اُس کا موڈ آف نہیں کرسکتی تھیں۔۔۔۔
“جانِ من مجھ سے یہ فرار کی کوششیں تم پر بہت بھاری پڑ سکتی ہیں۔۔۔۔ بھولو مت۔۔۔۔ کل سے تم میری دسترس میں ہوگی۔۔۔۔ پوری طرح سے میرے رحم و کرم پر۔۔۔۔۔”
زوہان کی دھمکی آمیز سرگوشی زنیشہ کو آنے والے وقت سے مزید خوفزدہ کر گئی تھی۔۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے زنیشہ کوئی جواب دیتی۔۔۔۔ نفیسہ بیگم اور شمسہ بیگم باقی عورتوں کے ہمراہ مہندی کا تھال لیے اُن کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔۔
“ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔ وہ سب اِدھر ہی آرہی ہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کا چہرا حیا سے لال ہوا تھا۔۔۔۔
“مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔۔”
زوہان کی لاپرواہی ہنوز تھی۔۔۔۔
جس پر زنیشہ نے ہی ہار مانتے اپنا دوپٹہ اُٹھا کر دونوں کے ہاتھ کے اُوپر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے اِس حفاظتی اقدام پر زوہان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔
ہر تھوڑی دیر بعد زنیشہ کی کسی نہ کسی بات یا حرکت پر مسکراتا وہ میران پیلس کے ہر فرد کو اچھنبے میں مبتلا کررہا تھا۔۔۔۔ سب کو زوہان کا یہ رُوپ دیکھنے کا پہلی بار اتفاق ہوا تھا۔۔۔۔
اور وہ شدید حیرانگی کا شکار بھی تھے۔۔۔۔۔
ہر وقت چہرے پر خونخوار تاثرات سجائے رکھنے والا شخص مسکرانا بھی جانتا تھا۔۔۔۔ اُنہیں یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔
شمسہ بیگم آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھ پر نوٹ رکھ کر مہندی لگاتیں اُس کا ماتھا چوم گئی تھیں۔۔۔۔۔
زوہان کہ لیے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کا چہرا آن ٹھہرا تھا۔۔۔۔ اِن سب لوگوں کو وہ قاتل مانتا تھا اپنی ماں کا۔۔۔۔۔۔ وہ یوں بیچ میں سے اُٹھ کر زنیشہ کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا۔۔۔۔ لیکن یہاں اِن لوگوں کے درمیان یوں خوشیاں سلیبریٹ کرنا اُس کے لیے کتنا مشکل تھا یہ زنیشہ کہ ہاتھ پر لمحہ با لمحہ بڑھتی اُس کی مضبوط گرفت اچھی طرح واضح کررہی تھی۔۔۔
زنیشہ نے گھبرا کر زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو صرف اُس کی خاطر اپنی زندگی کے سب سے ناپسندیدہ لوگوں کے بیچ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
زوہان کے تاثرات بالکل نارمل تھے۔۔۔ مگر پھر بھی نجانے کیوں زنیشہ کی آنکھوں میں آنسو تیر گئے تھے۔۔۔۔
نفیسہ بیگم نے بہت ہی محبت سے اُن دونوں کو مہندی لگاتے پیار کیا تھا۔۔۔۔۔
اُن کے بھانجے کو اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ملنے والی تھی۔۔۔۔ وہ کیسے خوش نہ ہوتیں۔۔۔۔
“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔ اگر آپ کو اچھا نہیں لگ رہا تو آپ جاسکتے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ نے دھیمے لہجے میں اُسے پکارا تھا۔۔۔۔
“اگر تم ساتھ ہو۔۔۔۔ تو میں کچھ بھی برداشت کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے فکر مند انداز پر اُسے ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔۔
ایسے ہی تو اُس کا دل اِس لڑکی کی چاہت میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔ یہ اُس کی دنیا تھی۔۔۔۔ وہ اِس کی خاطر تو اپنی جان دینے کو تیار رہتا تھا۔۔۔۔۔
رسم پوری ہوتے ہی زوہان۔۔۔۔ زنیشہ کا ہتھیلی پر اپنے لگ رکھتا، اُس کے حسین رُوپ پر ایک گہری نگاہ ڈالتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کی محبت بھری مسکراتی نگاہوں نے منظر سے اوجھل ہونے تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
میران ولا میں تو آج جیسے خوشیوں کی بارات اُتر آئی تھی۔۔۔ شہنائیوں اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ وہاں آنے والے تمام مہمانوں کا استقبال کیا جارہا تھا۔۔۔۔
ہر کوئی خوش تھا۔۔۔۔۔ بہت عرصے بعد مسکراہٹوں اور کھلکھلاہٹوں نے میران پیلس میں بسیرا کیا تھا۔۔۔۔
شمسہ بیگم کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔۔۔۔ اُن کے دونوں بچوں کو اتنے دکھوں کے بعد اُن کی خوشیاں مل رہی تھیں۔۔
وہ نجانے کتنی بار اُن دونوں کی نظر اُتار چکی تھیں۔۔۔۔
یہی حال قاسم صاحب کا بھی تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے اُنہیں معاف کردیا تھا۔۔۔ اُس سے بھی زیادہ خوشی کی بات اُن کے لیے یہی تھی۔۔۔۔۔ کہ اُن کی بیٹی کی قسمت میں آژمیر جیسا شخص لکھا گیا تھا۔۔۔
جس نے نہ خود حاعفہ کے گزرے ماضی پر کوئی سوال اُٹھایا تھا۔۔۔ اور نہ ہی کسی اور کو اِس بات کا حق دیا تھا۔۔۔۔۔۔
کسی نے بھی زبان پر ایسی کوئی بات لانے کی جرأت نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
قاسم صاحب اِس وقت بھی حاعفہ کو گلے سے لگائے اُسے اپنی پچھلی تمام خطاؤں پر دل کا بوجھ ہلکا کرنے ایک آخری بار معافی مانگ رہے تھے۔۔۔۔
جب ملازمہ نے آکر اُنہیں شہاب درانی کی آمد کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔۔۔۔
“اُنہیں اِدھر ہی لے آؤ۔۔۔۔ وہ بھی ہماری فیملی کا حصہ ہی ہیں۔۔۔۔”
اپنے عزیز ازجان دوست کی آمد کا سن کر قاسم صاحب بہت خوش ہوئے تھے۔۔۔۔
“تھینک گارڈ۔۔۔۔ آپ لوگوں کا روٹھنا منانا ختم ہوا۔۔۔۔”
اُن کی دوسری جانب بیٹھی ماورا جو کب سے اُن باپ بیٹی کا روٹھنا منانا دیکھ رہی تھی۔۔۔ اب آخر کار بول ہی پڑی تھی۔۔۔۔ جس پر دونوں نے ہی اُسے گھورا تھا۔۔۔۔
“بابا کون ہیں یہ۔۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ کو ابھی تیار ہونے کے لیے اُوپر جانا تھا۔۔۔۔ قاسم صاحب کے شہاب درانی سے ملنے کے لیے روکنے پر اُس نے سرسری سا پوچھا تھا۔۔۔۔
“میرا جگری دوست۔۔۔۔ جو آج تک میری ہر خوشی اور غم میں شریک رہا ہے۔۔۔۔۔”
قاسم صاحب کے لہجے میں شہاب درانی کے لیے بے پناہ محبت تھی۔۔۔۔ جسے محسوس کرتیں وہ دونوں بہنیں مسکرا دی تھیں۔۔۔
جب اُسی لمحے شہاب درانی اپنے بیٹے شہریار کے ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔ شہریار سولہ سترہ سالہ نوجوان تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر کسی کی شبیہہ ماورا کے تصور میں اُبھرتی اُس کا زخم تازہ کرگئی تھی۔۔۔۔
وہ حاعفہ سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر اُسے اتنا خوش دیکھ، اُس کی زندگی کہ اتنے اہم وقت میں وہ اُسے اپنی وجہ سے دوبارہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
اِس لیے بے بسی سے کچھ دنوں کا مزید انتظار کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔۔
وہ پچھلے دنوں کئی بار منہاج سے رابطہ کرنے کی کوشش کرچکی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کا نمبر مسلسل آف جاتا دیکھ اب اُس جانب سے بھی مایوس ہوچکی تھی۔۔۔۔
“یہ میری چھوٹی بیٹی ماورا ہے۔۔۔۔۔”
قاسم صاحب کی آواز اُسے سوچوں کی دنیا سے واپس حقیقت میں کھینچ لائی تھی۔۔۔۔
“السلام و علیکم انکل!”
ماورا نے جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے اُنہیں سلام کیا تھا۔۔۔
جبکہ ماورا پر نظر پڑتے ہی اُس کے سر کی جانب بڑھایا اُن کا ہاتھ ہوا میں معلق ہوا تھا۔۔۔۔ جس لڑکی کو اُن کا بیٹا دیوانوں کی طرح ملک کے کونے کونے پر ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔ وہ اُن کے سامنے تھی۔۔۔
اچانک لگنے والا یہ جھٹکا شدید ترین تھا۔۔۔۔ مگر وہ خود کو فوراً سنبھالتے انتہائی شفقت سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے پیچھے ہوئے تھے۔۔۔۔
اتنے دنوں سے دل پر چھائی پژمردگی پل بھر میں چھٹ گئی تھی۔۔۔۔ اُن کا دل خوشی کے مارے بے قابو ہوا تھا۔۔۔۔ اُن کے بیٹے کا امتحان ختم ہونے والا تھا۔۔۔۔
ااور اُن کی بہو کوئی اور نہیں اُن کے عزیز ترین دوست کی بیٹی نکلی تھی۔۔۔۔ وہ اِس حسین اتفاق پر خوش نہ ہوتے تو کیا کرتے۔۔۔۔۔
“ماشاء اللہ ہماری دونوں بیٹیاں بہت پیاری ہیں۔۔۔۔۔ اللہ اِن کے نصیب اچھے کرے۔۔۔”
شہاب درانی کو زرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہاں آکر اُنہیں اتنی بڑی خوشی ملے گی۔۔۔۔۔ اگر اِس بارے میں جانتے ہوتے تو بہت پہلے یہاں آجاتے۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر اُن کے پاس بیٹھ کر وہ دنوں معذرت کرتی وہاں سے اُٹھ گئی تھیں۔۔۔۔۔
اُنہیں تیار ہونے کے لیے دیر ہورہی تھی۔۔۔۔
اُن کے جاتے ہی شہاب درانی پوری طرح قاسم صاحب کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
“مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔۔ بلکہ یوں کہوں اپنی امانت واپس مانگنی ہے۔۔۔۔۔”
شہاب درانی تو ابھی ہی سارے معاملات سیٹ کر لینا چاہتے تھے۔۔۔۔ جبکہ اُن کی اِس غیر متوقع بات پر قاسم صاحب نے اچھنبے سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
وہ حیرت سے شہاب درانی کی اس عجیب و غریب بات پر اُن کی جانب دیکھے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
جس پر شہاب درانی ایک گہری سانس ہوا میں خارج کرتے اُنہیں ساری حقیقت سے آگاہ کرتے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@@
“بابا میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا اور اب دوبارہ کہہ رہا ہوں۔۔۔ مجھے آپ کے دوست کی بیٹی کی شادی میں آنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
منہاج ایک بار پھر اُن کے کال کرکے ایک ہی بات کے اصرار کرنے پر زچ ہوتے بولا تھا۔۔۔۔
اُس کا پہلے ہی دماغ کافی خراب تھا۔۔۔۔ اِس لیے اب بھی بہت مشکل سے غصہ ضبط کرتے بولا تھا۔۔۔۔۔
“بیٹا جی آنا تو آپ کو ہر حال میں پڑے گا وہ بھی آج ہی۔۔۔۔ کیونکہ میں نے اپنے دوست کی بیٹی سے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے۔۔۔۔ وہ لوگ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔”
شہاب درانی نے بڑے سکون سے اُس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔۔۔
“بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔۔ پلیز میں اِس وقت ایسے کسی بھی مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔۔”
منہاج اپنی جگہ سے اُچھل پڑا تھا۔۔۔۔
“میری جان میں مذاق کربھی نہیں رہا آپ سے۔۔۔۔ میں بالکل سیریس ہوں۔۔۔۔ کسی بے وفا لڑکی کی خاطر میں تمہیں اپنی زندگی برباد نہیں کرنے دوں گا۔۔۔۔۔ میں نے ایک بہت ہی اچھی لڑکی سے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے۔۔۔۔ اِس یقین کے ساتھ کہ میرا بیٹا میرا مان ضرور رکھے گا۔۔۔۔ میرے دوست کے سامنے میرا سر نہیں جھکنے دے گا۔۔۔۔ تم ابھی اور اِسی وقت یہاں آنے کے لیے نکل رہے ہو۔۔۔۔ میں اِس سے آگے کچھ نہیں سنوں گا۔۔۔۔”
شہاب درانی جانتے تھے اُن کا لاڈلہ نرمی سے ماننے والا بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ اِس لیے انہوں نے یہ طریقہ آزمایا تھا۔۔۔۔ وہ اُسے یہاں بلا کر اُس کی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز دینا چاہتے تھے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
