No Download Link
Rate this Novel
Episode 64
“یہ ڈاکٹر منہاج درانی کی تو دو دن بعد شادی ہے نا۔۔۔ مجھے تو لگا تھا کہ اب یہ شادی کے بعد ہی ہاسپٹل آئیں گے۔۔۔ لیکن اپنے کام کو لے کر بہت سینسئر ہیں۔۔۔ زرا سی بھی کوتاہی نہیں کرتے۔۔۔۔”
وہ لوگ اور بھی بہت کچھ بول رہی تھیں۔۔۔ مگر ماورا کے دل و دماغ میں تو منہاج کی شادی والی بات اٹک کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ گزرے دنوں وہ جس زہنی ٹینشن کا شکار تھی۔۔۔۔۔ اِس وقت اُس کا دماغ اِس بات پر توجہ دے ہی نہیں پایا تھا کہ اُس کی بھی تو دو دنوں بعد شادی تھی۔۔۔۔
ماورا اپنی غلطی کو ازسر فراموش کرتی منہاج کی اِس بے وفائی پر جی جان سے سلگھ اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
اُس کا رخ سامنے ڈاکٹر منہاج درانی کی جگمگاتی نیم پلیٹ کے ساتھ موجود آفس کی جانب تھا۔۔۔۔
دھاڑ سے دروازہ دھکیلتی وہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ جہاں منہاج کے سامنے تین انتہائی خوبصورت سی ڈاکٹرز کو بیٹھے کسی پیشنٹ کے حوالے سے ڈسکشن کرتا دیکھ ماورا کا پارہ مزید چڑھا تھا۔۔۔
منہاج بھی ماورا کو وہاں دیکھ پل بھر کو چونکا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اجنبی بنتا اُسے کڑے تیوروں سے گھور گیا تھا۔۔۔۔
“واٹس رانگ ود یو۔۔۔محترمہ؟؟؟؟ یہ کیا طریقہ ہے کسی کے آفس میں داخل ہونے کا۔۔۔۔۔ واپس باہر جائیں اور دروازہ ناک کرکے پراپر پرمیشن لیں۔۔۔۔”
منہاج اس کے ساتھ ایسے پیش آیا تھا جیسے اُسے بالکل بھی نہ جانتا ہو۔۔۔۔۔
وہاں بیٹھی ڈاکٹرز نے بھی ماورا کی مداخلت پر اُسے ناپسندیدگی بھری نظروں سے گھورا تھا۔۔۔۔
جبکہ ماورا تو اُس کے اس اجنبیت بھرے برتاؤ پر سکتے کے عالم میں اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ ہی اُس کی سنہری دلکش آنکھوں سے قطار در قطار موٹے موٹے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
اور بس منہاج درانی اِس سے زیادہ سختی نہیں برت پایا تھا اُس سے۔۔۔ منہاج کے اشارے پر وہ تینوں خاموشی سے اُٹھ گئی تھیں۔۔۔۔
“کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔۔؟؟؟”
منہاج نے کرسی کا رُخ اُس کی جانب گھماتے اُس کی لال سوجی آنکھوں کو گھورتے پوچھا تھا۔۔۔
“آپ شادی کررہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
اُس نے سب سے پہلے وہی بات پوچھی تھی۔۔۔ جو چند لمحوں میں ہی اُس کی دھڑکنیں مدھم کرگئی تھی۔۔۔
جبکہ منہاج تو اُس کے منہ سے اپنے لیے لفظ آپ سن کر ہی ششدر ہوا تھا۔۔۔ اُس کی جدائی کس قدر بدلاؤ لے آئی تھی اِس لڑکی میں۔۔۔۔
“اِس میں اتنے حیران ہونے والی بات کیا ہے۔۔۔؟؟؟ ہر کوئی کرتا ہے شادی۔۔۔۔”
منہاج ایسے ظاہر کررہا تھا جیسے اُن کے درمیان سب نارمل ہو۔۔۔۔
“لیکن آپ کی شادی مجھ سے ہوچکی ہے۔۔۔ آپ بھلا یہ کیسے کرسکتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
ماورا کو اُس کا یہ لاپرواہ انداز خفگی سے لال کرگیا تھا۔۔۔۔
ماورا بھیگی آنکھیں صاف کرتی اُس کی سنگدلی پر مزید اذیت کا شکار ہوتی وہاں سے جانے کے لیے پلٹی تھی۔۔۔۔
اُس نے ابھی پہلا قدم بڑھایا ہی تھا جب منہاج نے اُس کی ٹانگ کے آگے پیر کرتے اُس کا بیلنس بگاڑ دیا تھا۔۔۔۔
ماورا کوشش کے باوجود نہ سنبھل پاتی سیدھی منہاج کے اُوپر آن گری تھی۔۔۔۔
منہاج نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے قریب تر کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
“کیوں اگر تم مجھے تڑپتا چھوڑ کر جاسکتی ہو۔۔۔ تو میں دوسری شادی کیوں نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کے آنسوؤں سے نم ہوئے گالوں کو ہونٹوں سے چھوتا منہاج اپنے گزرے لمحوں کی تشنگی ختم کرنے لگا تھا۔۔۔۔
ماورا اُس کی گرم سانسوں اور دہکتے لمس پر کسمساتی لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
منہاج کے اِس انوکھے غصے کا اظہار اُس کو سرتاپا سُرخ کرگیا تھا۔۔۔۔
“پلیز چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔ “
ماورا اُس کی بے باکیوں سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔ اِس لیے کانپتی آواز کے ساتھ بولتی اُس کا حصار توڑ گئی تھی۔۔۔۔
ماورا لال چہرے کے ساتھ اُس سے فاصلے پر جاکھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جب منہاج اُسے کوئی مہلت دیئے بغیر اُس کی دونوں کلائیاں جکڑ کر پیچھے دیوار کے ساتھ ٹکاتا پوری طرح اُس کے نازک وجود پر حاوی ہوا تھا۔۔۔۔۔
“میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔۔۔۔ میں اُس وقت بہت مجبور ہوچکی تھی۔۔۔۔”
ماورا نے اُس کے جارحانہ تیوروں سے گھبرا کر بولتے اُسے اصل بات بتانا چاہی تھی۔۔۔۔ جس کے بارے میں حاعفہ پہلے ہی منہاج کو سب بتا کر کافی حد تک ماورا کی پوزیشن اُس کے سامنے کلیئر کر چکی تھی۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ منہاج پہلے کی نسبت اُس سے بہت حد تک نرمی سے پیش آرہا تھا۔۔۔۔۔
لیکن منہاج کا اِس بات پر ماورا پے غصے کم نہیں ہورہا تھا کہ اُس نے منہاج پر اعتبار کرکے اُسے اپنی پریشانی کیوں نہیں بتائی تھی۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اُس کی مدد کرنے کی پوری طاقت رکھتا تھا۔۔۔۔
اُس کی اِس غلطی پر منہاج دل کی دہائیوں کے باوجود اُسے اتنی آسانی سے معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔
“ایسی کی تیسی تمہاری مجبوری کی۔۔۔۔ میں مر گیا تھا کیا۔۔۔۔ جو میرے پاس آنے کے بجائے فرار ہوکر کہیں اور نکل گئی۔۔۔ اور سچ بتانے کے بجائے وہ فضولیات بھرا خط چھوڑ گئیں میرے لیے۔۔۔۔ تمہیں یہ لگا بھی کیسے کہ میں تم سے اتنی آسانی سے دستبردار ہوجاؤں گا۔۔۔۔ اور یہ جان کر کے تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔۔ میں تمہیں بنا کچھ کہیں چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔”
ماورا کے وجود کی حرارت منہاج باآسانی محسوس کرپارہا تھا۔۔۔ اُسے بخار تھا یہ بات تو پہلے سے اُس کے علم میں تھی۔۔۔ مگر بخار کی شدت اِس قدر تھی منہاج کو بالکل اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
“اِسی لیے ہی تو وہ سب بول کر گئی تھی۔۔۔ کہ آپ غصے میں ہی سہی۔۔۔ مگر مجھ ڈھونڈنے کی کوشش تو کریں گے نا۔۔۔۔۔”
ماورا نہایت ہی معصومیت سے بولتی منہاج درانی کو گھائل کر گئی تھی۔۔۔۔
“لیکن آپ نے تو مجھے ڈھونڈنا تو دور کی بات نجانے کس لڑکی سے شادی بھی طے کرلی۔۔۔۔ اتنی سی ہی تھی آپ کی محبت۔۔۔۔۔”
ماورا بڑے آرام سے سارا الزام اُس کے کندھوں پر ڈال گئی تھی۔۔۔۔۔
“جس لڑکی سے میری شادی طے ہوئی ہے۔۔۔۔ بہت محبت کرتا ہوں اُس سے۔۔۔۔ اُس کے بغیر رہنا گوارہ نہیں ہے مجھے۔۔۔۔ ہاں اگر تم اُس کے ساتھ کمپرومائز کرسکتی ہو تو میں تم سے بھی شادی کرلوں گا۔۔۔۔ مجھے کوئی ایشو نہیں ہے۔۔۔۔۔ “
منہاج نے اُس کا دل جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔
“چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔”
ماورا غصے سے لال چہرے کے ساتھ منہاج سے اپنی کلائیاں آزاد کرواتی دروازے کی جانب بڑھی تھا۔۔۔
“کہاں جارہی ہو۔۔۔۔؟؟؟”
منہاج نے اُس کے ایسے ری ایکشن پر حیرت سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“اُس لڑکی کو ڈھونڈ کر اپنے ہاتھوں سے اُس کا گلا دبانے۔۔۔۔”
ماورا خونخوار لہجے میں بولتی منہاج کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔ جسے اُس نے ہونٹ بھینچتے ماورا سے پوشیدہ رکھا تھا۔۔۔۔۔
“تم اُسے کوئی تکلیف نہیں دو گی۔۔۔ ابھی تک جتنی تکلیف دے چکی ہو وہ کافی ہے۔۔۔۔”
منہاج اُس کی جانب بڑھتا اُسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر بانہوں میں بھرتا اپنی کرسی میں بیٹھا گیا تھا۔۔۔
ماورا ابھی تک سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ کس کی بات کررہا ہے۔۔۔۔ اِس لیے اُسے کسی اور لڑکی کے بارے میں ایسے پوزیسو ہوتا دیکھ اُس کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔۔۔۔۔
“آپ کو اچانک سے کسی سے اتنی محبت بھی ہوگئی اور اُس کی تکلیف کا اتنا احساس ہے۔۔۔۔ مگر میری اذیت نظر نہیں آرہی آپ کو۔۔۔۔ پچھلی پانچ راتوں سے سوئی نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔ میرے گھر والوں نے مجھ سے پوچھے بغیر میری شادی فکس کردی ہے۔۔۔۔ نہ آپ کو میری پرواہ ہے نہ اُن میں سے کوئی میری بات سننے کا تیار ہے۔۔۔۔ جب کسی کو میری پرواہ ہی نہیں ہے تو اِس سے بہتر تو یہی ہے کہ میں مر ہی جاؤں۔۔۔ آپ بھی آزاد ہوجائیں گا اور باقی سب کو بھی سکون مل جائے گا۔۔۔۔کسی کو میری ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ وہ بھی سب بھی جلد از جلد مجھ سے جان چھڑوانا چاہتے ییں۔۔۔ اور آپ بھی مجھے اپنانا نہیں چاہتے۔۔۔۔”
ماورا دلبرداشتہ ہوتی بُری طرح رو دی تھی۔۔۔
اور بس یہاں پر بریک لگا تھا منہاج کے سارے مذاق کو۔۔۔
وہ اُسے تنگ کررہا تھا لیکن ماورا کو اِس طرح روتا دیکھ اُس کی جان پر بن چکی تھی۔۔
خود کو لاکھوں لعنت ملامت کرتا وہ ماورا کو اپنی جانب کھینچتا اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا۔۔۔۔۔
“مذاق کررہا تھا میری جان۔۔۔۔ میری زندگی میں تمہارے علاوہ کوئی لڑکی کبھی نہیں آسکتی اِس بات سے تم بھی اچھی طرح آگاہ ہو۔۔۔۔ اور ساری ٹینشنیں نکال کر یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بیٹھا دو کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی تم سے شادی کرنے کی خواہش کرنا تو دور تمہاری جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے۔۔۔۔ وہ اُلو، جاہل اور گدھا میں ہی ہوں۔۔۔ جو بہت جلد اپنی اِس گدھی کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے پوری تیاری کرچکا ہے۔۔۔۔”
منہاج خود کو اُسی کے کہے جانے والے القابات سے نوازتا ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ سجائے، اُسے اپنے سینے سے لگاکر جیسے ایک نئی زندگی دے گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی بات سنتے مزید شدت سے رو دی تھی۔۔۔۔
“مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کے سینے میں منہ چھپاتی اب کبھی اُس سے جدا ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔ اُس کی بھیگی آواز پر منہاج اُسے مزید خود میں سمیٹتا اُس کے سر پر لب رکھ گیا تھا۔۔۔۔
جب کافی دیر بعد اپنے دل کا سارا غبار آنسوؤں کے راستہ نکال لینے اور منہاج کی شرٹ اچھی طرح بھگو دینے کے بعد اُس کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
اور وہ ایک جھٹکے سے منہاج سے علیحدہ ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر اُس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے منہاج نے اُسے خود سے دور نہیں جانے دیا تھا۔۔۔۔
“مگر میرا رشتہ تو شہاب انکل کے بیٹے سے طے ہوا۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔۔۔”
ماورا بولتے بولتے رکی تھی۔۔۔۔
اُس کا دماغ تیزی سے چلنے لگا تھا۔۔۔ شہاب درانی اور شہریار سے پہلی بار ملنے کے باوجود اُن کا دیکھا لگنا۔۔۔۔ اور سب کا اِس شادی کو لے کر حد درجہ ایکسائیٹڈ ہونا۔۔۔۔ ماورا کو اُن سب کا کھیل سمجھا گیا تھا۔۔۔۔
جو اُسے اتنے آرام سے بے وقوف بنا گئے تھے۔۔۔۔
سب سے بڑی بات منہاج دو بار اُس کے بے جد قریب آکر اُسے اپنی موجودگی کا شدت بھرا احساس بھی دلا چکا تھا۔۔۔۔ اور وہ پاگل بالکل بھی نہیں سمجھ پائی تھی۔۔۔۔
ماورا کو سب سے زیادہ تو خود پر غصہ آیا تھا۔۔۔۔
منہاج بہت غور سے اُس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ نوٹ کرتا مسکرا دیا تھا۔۔۔۔
“کیسا لگا میرا سرپرائز۔۔۔۔؟؟”
ماورا کے چہرے پر پھسلی لٹوں کو اُنگلی پر لپیٹ کر اُس کا چہرا اپنے قریب لاتے منہاج اُس کے گلابی ہونٹوں کو فوکس کیے مخمور لہجے میں بولا تھا۔۔۔
“آپ نے اُس رات میری جان نکال کر رکھ دی تھی۔۔۔۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے میں کس قدر ڈر گئی تھی۔۔۔۔”
باقی بہت سی باتوں کے ساتھ ماورا کی آنکھوں کے سامنے بارات کی رات والا منظر لہرایا تھا۔۔۔۔ جس میں منہاج نے جنونی انداز میں اُس پر اپنی شدتیں لُٹاتے اُس کی جان نکال کر رکھ دی تھی۔۔۔۔
“کونسی رات۔۔۔۔۔ اور کیا کیا تھا میں نے۔۔۔۔؟؟؟”
منہاج اُس کی بات پر سنجیدہ ہوتا لاعملی کا اظہار کرتے بولا تھا۔۔۔
“آپ نے۔۔۔۔”
اب بھی اُس کی باتوں میں آئے بغیر روانی میں ماورا کچھ بولنے ہی والی تھی۔۔۔۔ جب منہاج کی آنکھوں میں چھائی شوخی دیکھ اُس کی زبان کو بریک لگی تھی۔۔۔۔
اُس کا چہرا سُرخ مائل ہوتا تپ اُٹھا تھا۔۔۔۔
“بہت بُرے ہیں آپ آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کے سینے پر بازو ٹکائے اُسے دور دھکیلتی شرم سے لال ہوئی تھی۔۔۔۔
“اُس رات تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ جتنا تم نے مجھے تڑپایا ہے اُس سب کا حساب لینا تو ابھی باقی ہے مائی لو۔۔۔۔۔ اگر اتنے سے ہی جان نکل گئی تو۔۔۔۔۔”
منہاج اُس کو بے باکی بھری نظروں سے دیکھتا اِس سے پہلے کو مزید کچھ بولتا۔۔۔ ماورا سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اُس کے ہونٹوں پر اپنی نازک ہتھیلی جما گئی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے جانا ہے اب یہاں سے۔۔۔ باہر سب میرا ویٹ کررہے ہونگے۔۔۔۔ “
ماورا سے منہاج کی بڑھتی گستاخیاں برداشت کرنا دشواد ہوا تھا۔۔۔ گھنیری پلکوں کی باڑ حیا کے بھاری بوجھ تلے جھک گئی تھی۔۔۔۔
“ایک دن مزید اور پھر تم میری دسترس میں ہوگی۔۔۔ “
منہاج اُس کی ٹھوڑی پر لب رکھتا اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرگیا تھا۔۔۔۔
اُس کے آزاد کرتے ہی ماورا ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔ جس بوجھل دل کے ساتھ وہ منہاج کے آفس میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ نکلتے وقت اُس سے کہیں زیادہ سکون اور سچی خوشی سے اُس کا چہرا چمک رہا تھا۔۔۔۔
اُس کا اِس وقت خوشی سے اُچھلنے کو دل چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔ منہاج درانی صرف اور صرف اُس کا تھا۔۔۔۔ کوئی اُسے اُس کی زندگی کے محبوب ترین انسان سے دور نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
زوہان مزید ایک منٹ بھی ہاسپٹل نہیں رُک پایا تھا۔۔۔۔ وہ اُس جگہ نہیں رکنا چاہتا تھا جہاں اُس کی ماں کا قاتل سانسیں لے رہا تھا۔۔۔
زوہان اِس وقت کسی سے بات کرنے کے قابل نہیں سمجھ پاریا تھا خود کو مگر آج آژمیر اُس کو اکیلا چھوڑنے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ زوہان کے پیچھے وہ بھی اُس کے ساتھ ہی ہاسپٹل کی پُر شکوہ منزل سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ زوہان اُسے صاف نظر انداز کرتا۔۔۔ سامنے ہی گاڑی کے قریب کھڑے حاکم سے چابی چھین کر فرنٹ سیٹ پر براجمان ہوتا وہ گاڑی سٹارٹ کر گیا تھا۔۔۔۔
لیکن اُس کے وہاں سے نکلنے سے پہلے ہی آژمیر نے کھڑکی سے ہاتھ بڑھاتے کیز نکال لی تھیں۔۔۔ زوہان نے تپ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
” آژمیر میران تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟ جو تم کرنا چاہ رہے ہو۔۔۔ ویسا اب کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔”
زوہان گاڑی کا دروازہ دھاڑ سے بند کرتا آژمیر کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
“تمیز سے بات کرو۔۔۔ میں تم سے پورے چھے مہینے بڑا ہوں۔۔۔ اور اِسی حساب سے تم پر میری ہر بات ماننا فرض ہے۔۔۔۔”
آژمیر ملک فیاض والا قصہ ختم ہوتے ہی پوری طرح سے اپنا رویہ زوہان کے ساتھ بدل چکا تھا۔۔۔
جبکہ زوہان کا غصہ ابھی پوری طرح ٹھنڈا نہیں ہوپایا تھا۔۔۔۔ یا پھر وہ اتنی جلدی کھلنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
“ہم بہت پہلے ایک دوسرے سے تمام تعلق توڑ چکے ہیں۔۔۔۔”
زوہان نے پیشانی مسلتے اُسے یاد دلایا تھا۔۔۔۔
“خون اور دل کے رشتے۔۔۔ زبانی کلامی ختم نہیں ہوسکتے۔۔۔۔۔”
آژمیر اپنے جیسے اِس اُکھڑ مزاج بھائی کو منا لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
“تم کیا چاہتے ہو۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان اُس کے لفظوں کے جال میں الجھانے پر آخر کار زچ ہوچکا تھا۔۔۔
“مجھے میرا بھائی واپس لوٹا دو۔۔۔۔۔”
آژمیر کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جو زوہان کے دل کو پگھلا گیا تھا۔۔۔۔
“میں تمہارے ساتھ اتنا غلط کرچکا ہوں۔۔۔ اُس کے بعد بھی تم ایسا چاہتے ہو۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان چاہتا تھا آژمیر اُس سے لڑے۔۔۔ اُس سے شکوہ کرے۔۔ وہ بھلا اپنے جان از عزیز بھائی سے اتنا عرصہ اِس حد تک بدگمان کیسے رہ سکتا تھا۔۔۔ جو اُس کی خاطر قتل کا الزام بھی اپنے سر لینے کو تیار ہوگیا تھا۔۔۔۔
“تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ غلط میں نے کیا جو تمہاری بدگمانی دور کرنے کے بجائے۔۔ خود کو مزید تم سے دور کرلیا۔۔۔ اور زندگی کے اتنے سال اپنے بچپن کے کرائم پارٹنر کے بغیر گزار دیئے۔۔۔۔ “
گزرے سالوں کی اذیت کا ذکر کرتے زوہان کے ساتھ ساتھ آژمیر کی آنکھوں میں بھی نمی اُتر آئی تھی۔۔۔۔
“مجھے تمہاری بات سننی چاہئے تھی۔۔۔ میں بھلا یہ کیسے سوچتا رہا کہ تم میرے ساتھ دھوکا کرسکتے ہو۔۔۔۔ تم نے میرا ہی بھلا چاہا اور میں نے تم پر اُلٹا الزام داغ کر تمہیں اذیت میں مبتلا رکھا۔۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔۔۔”
زوہان اپنی جگہ سے دو قدم آگے بڑھا تھا۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کے راستے اتنے سالوں کی اکٹھی کی گئی اذیت بہنے لگی تھی۔۔۔۔
“سمجھا تو میں نے نہیں تمہیں۔۔۔۔ تم اپنا سب کچھ گنوا چکے تھے۔۔۔۔ تمہیں میری سب سے زیادہ ضرورت تھی۔۔۔ اور تمہیں ہی تنہا چھوڑ دیا۔۔۔ میں اپنی ہر خطا کے لیے معافی مانگتا ہوں تم سے۔۔۔۔ “
آژمیر بھی آگے بڑھا تھا اور آج اتنے سالوں بعد دونوں پوری محبت اور گرمجوشی سے ایک دوسرے کے سینے سے لگتے۔۔۔۔ پوری دنیا کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرنے والے۔۔۔ ایک دوسرے کی گزری اذیتوں پر آنکھوں سے بہتا ل گرم سیال مادہ روک نہیں پائے تھے۔۔۔۔
دونوں ایک بار ایسے ہی گلے لگ کر اُس رات روئے تھے۔۔۔ جب اُنہوں نے تحریمہ بیگم کو کھویا تھا۔۔۔ آج پھر وہ گلے لگ کر رو رہے تھے۔۔۔۔ اپنے اندر جمع کی اتنے سالوں کی اذیت آنسو کے راستے بہانے کے لیے۔۔۔ کیونکہ آج کے بعد وہ اُس درد ناک باب کو اپنی زندگی کے صفحات سے مٹا دینا چاہتے تھے۔۔۔
ہاسپٹل سے نکلتے اُن دونوں کو متلاشی نگاہوں سے ہر طرف ڈھونڈتے زنیشہ کی نظر جیسے ہی اپنی زندگی کے اِس سب سے خوبصورت ترین منظر پر پڑی وہ خوشی سے چہک اُٹھی تھی۔۔۔۔
“فائنلی اُن دونوں میں صلح ہوگئی۔۔۔۔ اللہ جی آپ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کی بات پر باقی سب نے بھی مسکراتی نظروں سے اُن دونوں کو ایک دوسرے کے گلے لگتے دیکھا تھا۔۔۔۔
شمسہ بیگم کا دل سکون سے بھر گیا تھا۔۔۔۔ بنا مزید کسی نقصان کے اُن کا خاندان ایک ہوچکا تھا۔۔۔۔
اُن سب نے بہت غم دیکھے تھے۔۔۔ لیکن اتنی کٹھنائیاں برداشت کرنے کے بعد اب سب کچھ بالکل ٹھیک ہوچکا تھا۔۔۔ نفرتوں کی جگہ محبتوں نے اپنا بسیرا جما لیا تھا۔۔۔۔۔ اُن کی زندگی کی تاریکیاں اُجالوں میں بدل چکی تھیں۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ سب ہاسپٹل سے واپس لوٹ آئے تھے۔۔۔۔ ملک فیاض کی حالت ایسی نہیں تھی کہ کوئی اُن کے پاس رُکتا۔۔۔ ڈاکٹرز نے بھی دوبارہ کسی کو ملک فیاض کے روم میں نہیں جانے دیا تھا۔۔۔
شمسہ بیگم اپنے شوہر کی یہ قابلے رحم حالت دیکھ اُن کو معاف کر گئی تھیں۔۔۔۔۔۔ ملک فیاض نے جو بویا تھا اب وہی کاٹ رہے تھے۔۔۔۔
آژمیر اور زوہان کل سے غائب تھے۔۔۔۔ اتنے عرصے بعد ملنے پر وہ دونوں بھائی کچھ وقت صرف ایک دوسرے کے ساتھ ہی گزارنا چاہتے تھے۔۔۔ جس چکر میں وہ اپنی بیگمات کو بھی کچھ وقت کے لیے بھول چکے تھے۔۔۔۔
لیکن زنیشہ اور حاعفہ کے ساتھ ساتھ میران پیلس کا ہر فرد بے پناہ خوش تھا۔۔۔۔ اُن دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھنے کے لیے اُن سب کی آنکھیں ترس گئی تھیں۔۔۔۔
جہاں زنیشہ کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی تھی۔۔۔ وہیں حاعفہ بھی آژمیر کی خوشی میں بے پناہ خوش تھی۔۔۔۔
میران پیلس میں ایک بار پھر سے شہنائیاں بج اُٹھی تھیں۔۔۔۔ سب لوگ پورے جوش و خروش کے ساتھ ارجنٹ بیسز پر طے والی شادی کی تیاریوں میں بزی تھے۔۔۔۔
کل ماورا کی بارات تھی۔۔۔۔ اور آج ساری خواتین نے گھر میں ڈھولکی رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔ منہاج مایوں مہندی جیسے فنکشن سے صاف منع کرگیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ سیدھی سیدھی بارات لاکر اپنی بیوی کو جلد از جلد اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔۔۔ اُس کے اُتاولے پن پر سب نے اُسے بہت چھیڑا تھا۔۔۔ جسے منہاج نے بھرپور طریقے سے انجوائے بھی کیا تھا۔۔۔۔
ماورا کے منع کرنے پر منہاج نے کسی کو بھی ہاسپٹل میں ہوئی اُن کی ملاقات کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔۔۔۔
منہاج سے تو وہ بعد میں نمٹنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ مگر ابھی وہ اپنے سارے گھر والوں کے ساتھ اُنہیں کا گیم کھیل کر بدلہ لینا چاہتی تھی۔۔۔ جنہوں نے منہاج کے ساتھ مل کر اُس کی جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔
“یہ ماورا اتنی خوش کیسے ہے۔۔۔؟؟؟ کہیں بہت زیادہ ٹینشن لینے کی وجہ سے اِس کا دماغ تو نہیں چل گیا۔۔۔۔۔۔۔”
وہ سب لوگ اِس وقت لاؤنج میں جمع مہندی لگوانے کے ساتھ ساتھ ڈھولک کی تھاپ پر لڈی اور ڈانس کرنے میں مصروف تھیں۔۔۔ خاندان کی قریبی خواتین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔۔۔۔
شہر سے آئی بیوٹیشن ماورا کو مہندی لگانے میں مصروف تھی۔۔۔۔ اور ماورا جس خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ خوش ہو ہو کر اپنی شادی کا فنکشن انجوائے کررہی تھی۔۔۔۔ اُسے دیکھ وہ سب ہی حیران تھیں۔۔۔۔
فجر نے ماورا کی جانب فکرمندی سے دیکھتے زنیشہ کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
ماورا نے پیلے رنگ کے لہنگے کے اوپر شارٹ کامدار چولی پہن رکھی تھی۔۔۔ جس میں اُس کے نازک سراپے کی دلکشی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ پھولوں کی خوبصورت بالیاں کانوں میں پہنے، بالوں میں موتیے کے پھول ڈال کر چٹیا گوندھے بنا میک اپ کے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگتی پوری محفل کی مرکزِ نگاہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کے ہونٹوں کی دھمی دلفریب مسکان اُس کی اندرونی خوشی کی داستان سنا رہی تھی۔۔۔۔۔
مہندی اور اُبٹن سے سجے اُس کے حسین رُوپ میں چاندنیاں سی گھل محسوس ہورہی تھیں۔۔۔۔
“میں نے تو کہا تھا تم لوگوں سے۔۔۔۔ بتا دو سب سچ اُسے۔۔۔۔ اگر اُسے کچھ بھی ہوا تو اِس کے ڈاکٹر صاحب نے ہم سب کو زہر کے انجکشن ٹھوک دینے ہیں۔۔۔۔”
فریحہ بھی ماورا کو گھورتی اُن کے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔
“تم سب لوگ یہاں کیوں ایک دوسرے میں گھس کر بیٹھی ہو۔۔۔ یہاں آؤ نا۔۔۔۔”
رامین زنیشہ اود فجر کا ہاتھ پکڑتی اپنے ساتھ کھینچ گئی تھی۔۔۔۔ وہ سب لڑکیاں آج یلو تھیم کے مطابق پیلے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس بہت حسین لگ رہی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ بھاری کامدار شرارے کے اُوپر شارٹ شرٹ زیب تن کیے، سیاہ زلفوں کو موتیوں کے پھولوں کی مدد سے جوڑے کی شکل میں قید کیے، بھاری جھمکے اور ماتھے پر جھمکے کے ڈیزائن کی ہی بندیاں لگائے اپنے ہوش ربا حُسن کے ساتھ بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔ وہاں بیٹھی خواتین کی نظریں بھی حاعفہ کے کھلکھلاتے خوبصورت مکھڑے سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔۔۔۔ اُس کی بہن جسے اُس نے اپنی اولاد کی طرح رکھا تھا۔۔۔ آج اُس کی بھی شادی ہورہی تھی۔۔۔ وہ خوش کیسے نہ ہوتی۔۔۔۔
“تم دونوں کے شوہر نامدار تو تم لوگوں کو فراموش کرچکے ہیں۔۔۔۔ اب تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہی ڈانس کرلو۔۔۔۔ “
فریحہ نے اُن دونوں کو درمیان میں کھینچتے ڈانس کرنے کا اصرار کرنے کے ساتھ ساتھ چھیڑا تھا۔۔۔۔
جس پر زنیشہ تو ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔ لیکن حاعفہ کے انداز سے سب نے نوٹ کیا تھا کہ وہ آژمیر سے خفا خفا سی تھی۔۔۔۔
“حاعفہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔”
سویرا بھی حاعفہ کی آژمیر کے حوالے سے خفگی نوٹ کرچکی تھی۔۔۔ جس کا فائدہ اُٹھانے کی خاطر وہ حاعفہ کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ اُن دونوں کے بیچ اب کافی حد تک بات چیت شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔
“جی بولیں۔۔۔۔”
حاعفہ نے سوالیہ نگاہوں سے سویرا کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“میں تمہیں یہ سب نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔ لیکن میرے اندر بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔۔۔ آژمیر تمہارا شوہر ہے۔۔۔ اُس کے بارے میں تمہیں ہر بات کا علم ہونا چاہئے۔۔۔۔”
سویرا نے بات کرنے کے لیے تمہید باندھی تھی۔۔۔ جب اُسی لمہے آژمیر نے وہاں قدم رکھا تھا۔۔۔ وہ دونوں اِس وقت ڈرائینگ روم میں کھڑی تھیں۔۔۔ اُن کا رُخ دروازے کی مخالف سمت تھا۔۔۔۔ اِس لیے وہ آژمیر کو نہیں دیکھ پائی تھیں۔۔۔
آژمیر کے ساتھ زوہان بھی تھا۔۔۔ جو ایک ضروری کال آجانے کی وجہ سے باہر ہی رک گیا تھا۔۔۔۔۔
“کس بارے میں بات کررہی ہو تم۔۔۔ میں سمجھی نہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ کی پیشانی پر بل واضح ہوئے تھے۔۔۔۔ اُسے زنیشہ کی بات بالکل ٹھیک لگی تھی۔۔۔ سویرا کا اُسے کے ساتھ ایک دم اتنی محبت سے پیش آنے کے پیچھے کوئی مقصد پوشیدہ تھا۔۔۔۔۔
“آژمیر اور میں بچپن سے انگیج تھے۔۔۔۔ ہم شروع سے ہی ایک دوسرے کے بہت کلوز رہے ہیں۔۔۔۔۔ آژمیر اور میرے بیچ کا تعلق۔۔۔۔۔ مطلب آژمیر زوہان کی وجہ سے بہت ڈسٹرب رہتا تھا۔۔۔ تو رات ہم۔۔۔۔۔”
ایک لڑکی ہوکر اپنے بارے میں اِس قدر گھٹیا بول کر سویرا کو لگا تھا وہ اپنے ماضی کی سچی جھوٹی کہانیاں سنا کر حاعفہ کو آژمیر میران کے خلاف کرلے گی۔۔۔ لیکن وہ شاید ابھی تک حاعفہ کی دیوانگی سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ جو لڑکی آژمیر کے خلاف اپنی آنکھوں دیکھے پر بھی یقین نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔ وہ بھلا اُس کے منہ سے آژمیر کے خلاف کچھ سنتی بھی کیونکر۔۔۔۔
سویرا کو لگا تھا بیوی ہونے کے ناطے وہ آژمیر اور اُس کے تعلق کے بارے میں متجسس ضرور ہوگی۔۔۔۔ اور اُس کی بات ضرور سننا چاہے گی۔۔۔ مگر حاعفہ نے اُس کی بات شروع ہونے سے پہلے ہی روک دی تھی۔۔۔
“تھینکیو سو مچ سویرا تمہاے کنسرن کے لیے۔۔۔ مگر آژمیر مجھے اپنے بارے میں سب کچھ بتا چکے ہیں۔۔۔۔ اب اُن کی زندگی کا کوئی حصہ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔۔۔ تمہارے ساتھ اُن کا ماضی میں جو بھی رشتہ رہا ہو۔۔ وہ ماضی کے ساتھ ہی بیت چکا ہے۔۔۔۔ لیکن آژمیر کا حال اور مستقبل اب میں ہوں۔۔۔۔ اور ٹرسٹ می۔۔۔ مجھے اِنہیں دونوں کو آژمیر کی محبت بھری سنگت میں حسین بنانا ہے۔۔۔۔۔۔ “
حاعفہ کے ایک ایک لفظ میں آژمیر کے لیے بے پناہ محبت اور یقین بول رہا تھا۔۔۔۔ جو آژمیر کا ہی بخشا گیا تھا۔۔۔۔
اُسے سویرا کی نادانی پر افسوس ہوا تھا۔۔۔ جو حاعفہ کے آژمیر کے لیے عشق سے انجان۔۔۔ ایک بار پھر اپنی انسلٹ کروانے وہاں پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
بھاری قدموں کی چاپ کر دونوں نے پلٹ کر دیکھا تھا۔۔۔۔ جب آژمیر پر نظر پڑتے سویرا کی رنگت متغیر ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک پورے دن کے بعد آژمیر کا سامنے دیکھ حاعفہ کی آنکھوں میں ٹھنڈک اُتر گئی تھی۔۔۔۔ وہ اُس سے بہت ناراض تھی۔۔۔ لیکن صبح سے اُس کا دل ہر آہٹ پر آژمیر کا منتظر رہا تھا۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔۔ وہ میں۔۔۔۔”
آژمیر کی آنکھوں میں شدید غصے کی لہر دیکھ وہ دونوں ہی سمجھ گئی تھیں۔۔۔ کہ آژمیر اُن کی باتیں سن چکا ہے۔۔۔۔۔
سویرا کو لگا تھا اب اُس کی خیر نہیں تھی۔۔۔ آژمیر اب اُسے کسی صورت نہیں چھوڑنے والا تھا۔۔۔۔
“مجھے لگا تھا کہ شاید تم سدھر گئی ہو۔۔۔ مگر تمہاری فطرت ابھی تک نہیں بدلی۔۔۔۔ تمہاری سوچ ابھی بھی اُتنی ہی نیچ اور گھٹیا ہے۔۔۔۔ “
جب آژمیر کے قریب آنے اور اُس کی دھاڑ پر سویرا کا چہرا خوف کے مارے زرد ہوا تھا۔۔۔۔۔
“میں اُسے اُس کی بات کا جواب اچھے سے دے چکی ہوں۔۔۔ آپ اُسے کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کے مقابل آتی اُس کے سینے پر اپنے مہندی سے بھرے نازک ہاتھ رکھتے اُسے ریلکیس کرتے اِس وقت غصہ کرنے سے روکا تھا۔۔۔ ورنہ آژمیر کی سزاؤں سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔۔۔۔ چھوڑتا تو وہ کسی کو نہیں تھا۔۔۔۔
آژمیر سویرا کی نیت اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔۔ اور اُس کی کی جانے والی بکواس آژمیر کا دماغ بری طرح کھولا گئی تھی۔۔۔
لیکن پہلے حاعفہ کا سویرا کو دیا جانے والا منہ توڑ جواب اور اب اُس کا اتنی محبت سے قریب آکر اُسے ریلیکس کرنا آژمیر میران کا غصہ ٹھنڈا کر گیا تھا۔۔۔۔
محبت پاش نظروں سے حاعفہ کے گرد بازو پھیلا کر اُسے قریب کرتے آژمیر نے نفرت آمیز نگاہوں سے پیچھے کھڑی سویرا کو دیکھا تھا۔۔۔ جو اُس سے محبت کی دعوے دار تھی۔۔۔ مگر دو بار اُس کے کردار پر انتہائی گھٹیا الزام لگا چکی تھی۔۔۔۔
“کل صبح ہوتے ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے گھر سے دفع ہوجانا۔۔۔۔ اگر تم مجھے کل کے بعد کہیں نظر آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”
آژمیر سویرا کو اُس کی اوقات بتاتا بانہوں میں موجود اپنی زندگی کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ جو بے پناہ حسین لگتی اُس کا چین و قرار لوٹ کر لے گئی تھی۔۔۔۔
سویرا تو آژمیر کی آنکھوں میں اپنے لیے توہین آمیز نفرت دیکھ سیکنڈز کے اندر وہاں سے غائب ہوئی تھی۔۔۔۔
بہت دیر سے ہی مگر کہیں نہ کہیں اُسے سمجھ آچکی تھی۔۔۔ کہ آژمیر میران کی زندگی میں اُس کی کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔۔ اور وہ چاہے پوری دنیا کا زور بھی لگا لیتی تو اِن دونوں کو الگ نہ کر پاتی۔۔۔۔
بلکہ اِس بار تو حاعفہ کے کہنے پر آژمیر نے اُسے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ اِس کے بعد آژمیر نے اُسے کوئی مہلت نہیں دینی تھی۔۔۔ اِس لیے سویرا نے اُسی لمحے میران پیلس سے نکل جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔۔۔
“چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ مجھے بہت کام ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کا بازو اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرتی اُسے دیکھنے سے صاف اجتناب برتے ہوئے تھی۔۔۔۔
“محترمہ اپنے سارے کام مجھ تک ہی محدود رکھیں تو آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔۔”
آژمیر کی نگاہیں بار بار اُس کی صراحی دار شفاف گردن پر پھسل رہی تھیں۔۔۔۔ جو آج گھنے بالوں کی چادر سے پاک اُس کا ایمان متزلزل کررہی تھی۔۔۔۔
“میں اچھے سے جانتی ہوں آپ کو کتنی پرواہ ہے میری۔۔۔۔ میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔”
حاعفہ شدید ناراضگی کا مظاہرہ کرتی آژمیر کو اچھا خاصہ حیران کرگئی تھی۔۔۔۔
“تم ناراض ہو مجھ سے۔۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر آژمیر نے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔۔
“آپ کو کونسا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟”
حاعفہ نم آنکھوں کے ساتھ اُسے دیکھتی اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“حاعفہ۔۔۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کے یوں دور جانے پر آژمیر نے غصے سے اُسے گھورا تھا۔۔۔۔۔
“آپ کو غصہ کرنا ہے یا جو بھی کرنا ہے مرضی کریں۔۔۔۔ میں آپ سے بالکل بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔”
حاعفہ جواباً بھیگی آنکھوں کے ساتھ ساتھ غصے سے بولتی آژمیر کو مبہوت سا کرگئی تھی۔۔۔۔ کسی کے اِس طرح بات کرنے پر اُس سے بھی زیادہ غصے سے بھڑک اُٹھنے والا آژمیر میران اپنی چہیتی بیوی کے سامنے تو ایک الگ ہی آژمیر بن جاتا تھا۔۔۔۔
“پر میری جان ہوا کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ تم رونا بند کرو۔۔۔ یہاں آؤ اور بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟ “
ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے زوہان اور حاشر حاعفہ کا ادا کیا جانے والے جملہ بِھی سن چکے تھے اور جواباً آژمیر کا اتنا نرم انداز دونوں کو ہی سکتے میں مبتلا کر گیا تھا۔۔۔۔
اُن کی پرائیوسی کے خیال سے زوہان کا ارادہ تو دروازے سے ہی پلٹنے کا تھا۔۔۔ مگر حاشر کو تو آج ہی موقع ملا تھا۔۔۔۔۔ اپنے سخت گیر لالہ کو اِس طرح شیرنی کی طرح دھاڑتی اپنی بیوی کے سامنے اِس طرح دیکھنے کا۔۔۔۔
وہ آژمیر کے متوقع غصے سے بچنے کے لیے حفاظتاً زوہان کا ہاتھ بھی پکڑ کر ساتھ کھینچتا اندر داخل ہوا تھا
آژمیر کی نظر اُن پر پڑچکی تھی۔۔۔ دونوں کے ہی ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ پر آژمیر اُنہیں خوشمگیں نگاہوں سے گھور کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
“میں آپ سے تب تک کوئی بات نہیں کرنے والی۔۔۔ جب تک آپ کو اپنی سنگین غلطی کا احساس نہ ہو۔۔۔۔ اور ہاں مجھ پر اپنے غصے سے رعب جمانے کی کوشش بالکل مت کیجئے گا۔۔۔ورنہ میں آپ سے مزید خفا ہوجاؤں گی۔۔۔۔”
حاعفہ انتہائی معصومیت بھری خفگی اور غصے کے ساتھ اُسے وارن کرتی پلٹی تھی۔۔۔۔
جہاں یہ سب دیکھ حاشر کو بُری طرح کھانسی کا دورہ پڑ چکا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ زوہان نے سامنے رکھا پانی کا گلاس اُٹھا کر ہونٹوں سے لگاتے اپنا بے ساختہ اُمڈ آنے والا قہقہ روکا تھا۔۔۔۔
اکڑو اور سخت گیر آژمیر میران جس کے سامنے بات کرنے سے پہلے اُس کی فیملی ممبر سمیت باہر والے بھی ہزار بار سوچتے تھے۔۔۔۔ اُس کا ایسا رُوپ کوئی خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ کو زرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ دونوں پیچھے کھڑے ہیں۔۔۔ وہ شرمندہ سی ہوتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
“آژمیر لالہ سیریسلی یہ آپ ہی ہیں نا۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
حاشر زبردستی کھانس کھانس کر لال ہوتا اب آژمیر سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔۔
“خبیث انسان یہ اوور ایکٹنگ کرکے میری بیوی کو شرمندہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔”
آژمیر اُن دونوں کے ایکسپریشنز دیکھ خود بھی زیرِ لب مسکراتے حاشر کی گردن دبوچتے مصنوعی خفگی سے بولا تھا۔۔۔۔
“مجھے نہیں لگا تھا کہ اِس معاملے میں بھی ہم ایک جیسے ہیں۔۔۔۔”
زوہان نے آژمیر کی جانب دیکھتے اُس کے ساتھ ساتھ اپنا بھی مذاق بنایا تھا۔۔۔۔
“کیا مطلب زوہان لالہ آپ بھی زنیشہ سے ایسے ہی ڈرتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حاشر کی زبان پھسلی تھی۔۔۔۔ جس پر اُس نے درزیدہ نگاہوں سے ساتھ کھڑے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیا مطلب ایسے ہی۔۔۔۔؟؟؟ “
آژمیر کا بھاری ہاتھ پڑنے سے پہلے ہی حاشر دور کھسک گیا تھا۔۔۔۔
“یار مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔ آخر میں نے ایسا کیا کردیا ہے۔۔۔۔ جو وہ مجھ سے اتنی ناراض ہے۔۔۔۔۔”
آژمیر کو حاعفہ کی ناراضگی اچھا خاصہ ڈسٹرب کرگئی تھی۔۔۔۔ اُوپر سے وہ لگ بھی اتنی پیاری رہی تھی کہ آژمیر کا دل ہمک ہمک کر اُس کے پاس جانے کا خواہاں تھا۔۔۔۔
“ویسے مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ تمہیں بھی کبھی محبت ہوگی۔۔۔۔ وہ بھی اتنی شدید محبت۔۔۔۔ جس نے آژمیر میران کو کافی حد تک بدل دیا ہے۔۔۔۔۔”
زوہان بچپن سے ہی اُس کی لڑکیوں سے دور رہنے والی عادت سے واقف تھا۔۔۔۔ زوہان کی اکثر لڑکیوں سے دوستی رہی تھی۔۔۔ جن میں ثمن سرِ فہرست تھی۔۔۔۔ لیکن آژمیر نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی تھی۔۔۔ کہ اُس سے لڑکیوں کے یوں نخرے نہیں اُٹھائے جاتے۔۔۔۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے نخرے اُٹھوانے کا عادی تھا۔۔۔
اِس لیے آژمیر کا حاعفہ کے سامنے یہ بدلہ انداز زوہان کو بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔۔
“مجھے خود کبھی نہیں لگا تھا۔۔۔ لیکن اب اِس محبت کے بغیر رہنا ناممکن لگتا ہے۔۔۔۔”
آژمیر حاعفہ کے بارے میں بولتے دلکشی سے مسکرایا تھا۔۔۔۔۔ جس پر زوہان کی دماغ کے پردے پر زنیشہ کی شبیہہ لہرائی تھی۔۔۔۔ اُسے آژمیر کی یہ بات سو فیصد سچ لگی تھی۔۔۔۔ کل صبح کے بعد سے اُس کی زنیشہ سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کا دل اب اچھا خاصہ بے چین ہوچکا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
جاری ہے
