No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
میران پیلس میں اس وقت بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔۔ سب گم صم سے سر جھکائے بیٹھے تھے۔۔۔ کسی کو بھی اپنے کانوں سنی حقیقت پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
قاسم میران کا ماضی ایسا بھی ہوسکتا تھا۔۔۔ اُن میں سے کوئی بھی یقین نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔ قاسم صاحب اپنے منہ سے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کا اقرار کرتے اب سر جھکائے ہوئے تھے۔۔۔
شمسہ بیگم اور باقی سب نے بھی گھبرا کر حمیرا بیگم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ مگر اُن کے چہرے کا اطمینان بتا رہا تھا کہ وہ پہلے سے ہی سب کچھ جانتی ہیں۔۔۔ یہ بات ان سب سے لیے دوہرے شاک کی بات تھی۔۔۔۔
“مجھے آپ کے کیے گئے کسی بھی فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ آپ اپنی بیٹیوں کو اِس گھر میں لاسکتے ہیں۔۔۔ اِسی بہانے کیا پتا میری ممتا کی پیاس بھی بجھ جائے۔۔۔۔”
حمیرا بیگم اپنے شوہر کو سب خاندان والوں کے سامنے اِس طرح شرمندگی کا شکار ہوتے نہیں دیکھ پائی تھیں۔۔۔ اِس لیے سب کو حیران چھوڑتیں وہ قاسم صاحب کی خوشی کی خاطر بہت بڑا فیصلہ کر گئی تھیں۔۔۔
“حمیرا کیا تم دل سے ایسا چاہتی ہو؟؟؟”
شمسہ بیگم نے حمیرا بیگم کا ہاتھ تھامتے اُن سے پوچھا تھا۔۔۔
“جی بھابھی۔۔۔۔ قاسم کی اولاد میری بھی اولاد ہے۔۔۔۔ میں دل سے چاہتی ہوں کہ وہ اِس گھر میں آئیں۔۔۔۔ اگر آپ سب کو کوئی اعتراض نہ ہو تو۔۔۔۔”
حمیرا بیگم اب کسی صورت گنوارہ نہیں کرسکتی تھیں کہ اُن کا شوہر مزید اپنی بیٹیوں کی جدائی میں تڑپے۔۔۔
“ہم سب کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے چچی جان۔۔۔۔ مگر آژمیر لالہ کیا وہ یہ سب قبول کریں گے۔۔۔۔”
زنیشہ کو فوراً آژمیر کی فکر لاحق ہوئی تھی۔۔۔۔ جس کا فیصلہ ہمیشہ ایسے معاملوں میں کافی سخت رہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زنیشہ کی بات پر سب کی سوچوں کا رُخ بدلہ تھا اور سب نے ہی فکرمندی سے قاسم صاحب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے آژمیر ڈارئنگ میں داخل ہوا تھا۔۔۔ وہ سب کی باتیں ان چکا تھا۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔ “
آژمیر کے یہ چند الفاظ سب کے چہروں پر بہار لے آئے تھے۔۔۔ آج اتنے دنوں بعد اُن سب نے قاسم میران کی ویران آنکھوں میں آسودگی بھری چمک دیکھی تھی۔۔۔
اتنے سالوں کی تڑپ کے بعد آج جاکر وہ اپنی بیٹیوں کو اُن کے اصل مقام پر لانے والے تھے۔۔۔ اب آگے کی زندگی اپنے سائے تلے رکھ کر گزارنا چاہتے تھے۔۔۔۔
“واؤ کتنا مزا آئے گا۔۔۔۔ اب دو مزید کزنز بھی آنے والی ہیں گھر میں۔۔۔۔ زنیشہ کی شادی پر تو انجوائمنٹ مزید دوبالا ہوجائے گی۔۔۔۔”
صدف کے چہک کر کہنے پر زنیشہ نے اپنی کے ذکر کر گھور کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اُس کی شادی تو مزید ایک ویک لیٹ ہوچکی تھی نا۔۔۔
زنیشہ نے سوالیہ نظروں سے شمسہ بیگم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“اِن سب باتوں میں میں آپ لوگوں کو ایک بات بتانا ہی بھول گئی۔۔۔۔ میری نفیسہ بہن سے آج صبح ہی بات ہوئی ہے۔۔۔۔ وہ لوگ شادی کو ایک ہفتہ لیٹ نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ شادی اُنہیں پہلی تاریخوں پر ہی ہوگی۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کی بات زنیشہ کی سانسیں روک گئی تھی۔۔۔ زوہان اُس پر ان قدر شدید غصہ تھا۔۔۔ اِس دوران شادی۔۔۔ خوف کے مارے زنیشہ ابھی سے ہی کانپنے لگی تھی۔۔۔ جس انسان کے سامنے وہ تھوڑی دیر نہیں ٹک پاتی تھی۔۔۔ اُس کی لمحہ بھر کی قربت جان لیوا ثابت ہوتی تھی۔۔۔ ہمیشہ کے لیے اُس کے ساتھ کیسے رہے گی وہ۔۔۔۔
آگے کا سوچتے زنیشہ ہولے ہولے لرزنے لگی تھی۔۔۔ اُس نے اُمید بھری نظروں سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ کیا پتا وہ کوئی اعتراض اُٹھائے۔۔۔۔ مگر قاسم صاحب کے ساتھ کوئی بات کرتے اُس نے کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا تھا۔۔۔۔ جس کا یہی مطلب تھا کہ آژمیر سے پوچھ کر ہی شمسہ بیگم نے ایسی کوئی بات کہی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کی ساری اُمیدیں ختم ہوچکی تھیں۔۔۔۔اب اُسے اُس جلاد کے شکنجے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔۔۔۔
سب خواتین تو ایک دم سر پے آجانے والی شادی کے بارے میں ڈسکس کرنے لگی تھیں۔۔۔۔
جب کوئی فون سنتے آژمیر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔۔۔ اُس کے تاثرات ایک دم سرد ہوئے۔۔۔۔ باقی سب بھی پریشانی سے اُسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
“اوکے میں ابھی پہنچتا ہوں۔۔۔۔۔”
آژمیر کے ماتھے پر واضح شکنوں کا جال بُن چکا تھا۔۔۔
“کیا ہوا آژمیر سب خیریت ہے ؟؟؟”
قاسم صاحب فکرمندی سے بولے تھے۔۔۔
“جی سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ ایک ضروری کام کے لیے مجھے ابھی شہر کے لیے نکلنا ہوگا۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر سب نے اُداسی بھری نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔ اتنے دنوں بعد تو وہ میران پیلس میں پایا گیا تھا۔۔۔۔ مگر اب تھوڑی دیر میں پھر واپس جارہا تھا۔۔۔۔،
“آژمیر مجھے بھی آپ کے ساتھ شہر جانا ہے۔۔۔ پلیز مجھے بھی لیتے جائیں۔۔۔ ابھی کچھ دیر میں اندھیرے ہونے والا ہے تو ڈرائیور کے ساتھ جانا۔۔۔۔۔۔”
اچانک سویرا نے وہاں آتے آژمیر کے بازو پر ہاتھ رکھتے ملتجی لہجے میں ریکوسٹ کی تھی۔۔۔
ْاُسے اپنی حویلی میں دیکھ آژمیر نے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے تھے۔۔۔ اور اُس کے ساتھ ساتھ ایک سخت نظر باقی سب پر ڈالی تھی۔۔۔ جنہوں نے اِس لڑکی کو یہاں جگہ دی تھی۔۔۔
“سٹے اوے۔۔۔۔۔”
آژمیر ایک جھٹکے سے اُس کا ہاتھ اپنے بازو سے دور کیا تھا۔۔۔ جس پر سویرا لڑکھڑا کر چند قدم دور ہوئی تھی۔۔۔
آژمیر کی دھاڑ پر باقی سب بھی اپنی جگہوں سے کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
جن پر ایک سرد نگاہ ڈالتا آژمیر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
سویرا شرمندہ سی لال چہرا لیے وہاں سے ہٹ گئی تھی۔۔۔ آژمیر میران اتنی جلدی کسی کی خطا معاف نہیں کرتا تھا۔۔۔ اِسی لیے سب اُس کے سامنے غلطی کرنے سے ڈرتے تھے۔۔۔ کیونکہ اُس کے بعد سخت ترین مرحلہ آژمیر میران نے معافی مانگنا ہوتا تھا۔۔۔ جو قسمت کے ساتھ ہی جاکر ملتی تھی۔۔۔۔
“میں نے آپ سب سے کہا تھا اِس لڑکی کو لالہ سے دور ہی رکھیں۔۔۔۔ اب دیکھیں بلا وجہ آژمیر لالہ ہم سب پر بھی ناراض ہوکر چلے گئے۔۔۔۔”
زنیشہ کو آژمیر کی لال آنکھیں فکر میں مبتلا کر رہی تھیں۔۔۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ سب سویرا کی وجہ سے نہیں تھا۔۔۔ آژمیر کی اِس بے چینی کی وجہ وہ لڑکی ہی تھی۔۔۔ جو اُس کے بھائی کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔۔۔ زنیشہ کا دل چاہا تھا اُس لڑکی کو ڈھونڈ کر اُس کا منہ توڑ دے۔۔۔۔
@@@@@@@@
“بیٹا تم فکر مت کرو سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ میرے آدمی مسلسل اُن لوگوں کی تلاش میں ہیں۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں جلد ہی اپنی بہو کو ڈھونڈ کر رہوں گا۔۔۔۔”
شہاب درانی منہاج سے فون پر بات کرتے اُسے تسلی دیتے بولے۔۔۔۔
“بابا میں واپس آرہا ہوں۔۔۔ میں کوشش کے باوجود اپنے کسی کام پر کانسنٹریٹ نہیں کرپارہا۔۔۔ پتا نہیں ماورا کس حال میں ہوگی۔۔۔ یہ خیال مجھے سکون نہیں لینے دے رہا۔۔۔۔۔ “
منہاج کی اُداسی بھری آواز اُس کا حالِ دل بیان کررہی تھی۔۔۔۔ وہ اِس وقت کتنی تکلیف میں تھا۔۔۔ اُس سے بیان کرنا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
“منہاج بیٹا میں سمجھ رہا ہوں اس سچویشن میں آپ کے لیے وہاں رہنا کتنا مشکل ہورہا ہے۔۔۔ لیکن بیٹا مجھ پر ٹرسٹ رکھو۔۔۔ اور تھوڑا سا مزید وقت دو مجھے۔۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔۔۔ ویسے بھی تھوڑا سا ٹائم ہے تمہارا مزید وہاں۔۔۔۔ تم جلدی سے وہ سب نبٹاؤ۔۔۔۔ اور مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ یہاں آکر تمہیں اچھی خبر ہی ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
شہاب درانی منہاج کو سمجھاتے ہوئے بولے۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کو کوئی بھی جذباتی فیصلہ اُٹھا کر اپنا مستقبل خراب کرنے نہیں دینا چاہتے تھے۔۔۔
“بابا پلیز۔۔۔ کچھ بھی کرکے ڈھونڈیں اُسے۔۔۔۔ میں بہت محبت کرتا ہوں اُس سے۔۔۔ نہیں رہ پاؤں گا اُس کے بغیر۔۔۔”
منہاج کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے ابھی رو دے گا۔۔
شہاب درانی نے اُسے اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ اُن کی پریشانی کئی گناہ بڑھ گئی تھی۔۔۔
منہاج کو بہت ساری تسلیاں دیتے اور یقین دلاتے وہ فون بند کرگئے تھے۔۔۔
منہاج موبائل بیڈ پر اُچھالتا سرد ہوا میں ٹیرس پر آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ اُسے اب احساس ہورہا تھا ماورا کی فیلنگز کا۔۔۔ اُسے تب کیسا محسوس ہوا ہوگا۔۔ جب منہاج نے بنا کسی قصور کے اُسے اتنی بڑی سزا دی تھی۔۔۔
ماورا کی اُس ریکارڈنگ میں کہی گئی باتیں منہاج کے کانوں میں گونجتی اُسے بے چین کر جاتی تھیں۔۔۔ وہ اُس سب پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔
مگر وہیں دوسری طرف دماغ کی تاویلیں اُسے دوسرے رُخ پر سوچنے پر مجبور کررہی تھیں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی اُسے ایک بات کی طرف سے سکون تھا کہ ماورا اُس کے نکاح میں تھی۔۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اُسے دھوکا دے کر کسی اور کی نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آج تو جیسے آژمیر آشیانے میں رونقیں اُتر آئی تھیں۔۔۔۔ آژمیر کے علاوہ میران پیلس کے تمام افراد پوری عزت و احترام اور چاہت کے ساتھ اُن دونوں کو لینے آئے تھے۔۔۔۔ ماورا تو اتنا بھرا پرا خاندان دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کی بچپن سے یہ ایک بہت بڑی خواہش رہی تھی کہ اُس کا بھی ایسا ہی ایک خاندان ہو۔۔۔۔ جہاں بہت سارے کزنز ہوں۔۔۔۔ جو آج پوری ہوچکی تھی۔۔۔۔
حاعفہ ماورا کو خوش دیکھ کر خوش تھی۔۔۔۔
سب اُن سے بہت محبت سے ملے تھے۔۔۔ جس پر حاعفہ نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے اُن کی گرمجوشی کا جواب انہیں کے انداز میں دیا تھا۔۔۔۔ اُس کا پرابلم صرف اپنے باپ سے تھا۔۔۔۔ جس کے لیے وہ باقی سب کو کسی بھی بات کا قصور وار نہیں سمجھتی تھی۔۔۔
خاندان کے تقریباً سبھی لوگ آئے تھے۔۔۔ آژمیر کو اُن میں نہ دیکھ۔۔۔۔ اُس کی آمد سے ڈری بیٹھی حاعفہ کافی حد تک نارمل ہوتی۔۔۔۔ سب سے اچھی طرح بات کررہی تھی۔۔۔
“آپ بہت بیوٹی فل ہو۔۔۔۔ اور کیوٹ بھی۔۔۔۔ معصومیت اور حُسن کا ملاپ کتنا دلکش ہوتا ہے آپ کو دیکھ کر صاف پتا چل رہا ہے۔۔۔۔ اور آپ کی سمائل بھی بہت پیاری ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کو دھیمی نرم مسکراہٹ والی حاعفہ بہت پسند آئی تھی۔۔۔
اُس کی اتنی تعریف پر حاعفہ ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔ جس پر اُس کے گالوں کے گڑھے واضح ہوئے تھے۔۔۔ اُس کے ہونٹوں کے اُوپری تل کی اُداسی بہت حد تک ختم ہوچکی تھی۔۔۔
“آپ خود بھی کسی سے کم نہیں ہو۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی حسین آنکھوں کی جانب دیکھتی دل سے بولی تھی۔۔۔
“آپی یہ سب لوگ بہت اچھے ہیں مگر آپ کی ساس اور نند تو بہت زیادہ اچھی ہیں۔۔۔ کس قدر لکی ہیں آپ۔۔۔۔”
ماور اُس کے کان میں سرگوشی کرنے سے باز نہیں آئی تھی۔۔۔
“شٹ اپ ماورا۔۔۔۔ کسی نے سن لیا تو۔۔۔۔؟؟ پہلے تو میں بچ گئی تھی مگر اب کی بار آژمیر میران نے میرا قتل کرکے چھوڑنا ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُسے سختی سے ٹوک تھا۔۔۔
“آپ کے حُسن کے آگے اُن کے اپنے گھائل ہونے کے چانسز ہیں۔۔۔ کرنے کے نہیں۔۔۔ ویسے بھی دیکھیں۔۔۔ آپ کی دلکشی کی وجہ سے خاندان کے کسی فرد کی نگاہیں بھی آپ سے نہیں ہٹ رہیں۔۔۔ میں تو حیران ہوں اپنے جیجو پے کہ ایسے کیسے آپ کو دور رکھا ہوا آپ کو خود سے۔۔۔۔ “
ماورا بولنے سے باز نہیں آئی تھی۔۔۔
اور یہ سچ بھی تھا۔۔۔ حاعفہ کا بے پناہ حُسن ہمیشہ ہر جگہ اُسے نگاہوں کا مرکز بنا دیتا تھا۔۔۔ اُس کے تیکھے دلکش نقوش تو ویسے ہی قیامت خیز تھے مگر اُس کے دودھیا نرم و ملائم ہاتھ پیر بھی سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے تھے۔۔۔۔
وہ ایک کانچ کی حسین گڑیا ہی لگتی تھی۔۔۔ جسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اندر سے کس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔۔۔ جسے جوڑنے کا ہنر صرف ایک انسان کے پاس ہی تھا۔۔۔۔ اور وہ تھا حاعفہ کا وہ ستمگر آژمیر میران۔۔۔۔ پوری دنیا جس لڑکی کے حُسن کی اسیر تھی وہ دیوانی لڑکی صرف آژمیر میران کے قدموں میں بچھنا چاہتی تھی۔۔۔ اور اُسی دشمنِ جاں پر دل و جان سے مرتی تھی۔۔۔۔
کافی دیر کی گپ شپ اور ڈنر کے بعد وہ سب حاعفہ اور ماورا کو اپنے ساتھ لیے میران پیلس کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔۔۔
اُن دونوں کی سب کے ساتھ اچھا خاصہ میل جول بن چکا تھا۔۔۔۔ گھر کے سب افراد کو بھی وہ بہت پسند آئی تھیں۔۔۔ ایک طوائف کی بیٹیوں کے ناطے جیسا وہ اُن کے بارے میں اندازے لگائے بیٹھے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے تھے۔۔۔
وہ دونوں ہی اُنہیں بہت ہی سلجھی ہوئی اور باوقار سی لگی تھیں۔۔۔۔ سب کو ہی وہ بہت پسند آئی تھیں۔۔۔ مگر وہیں سویرا کو حاعفہ کے حُسن کے قصیدے آگ لگا گئے تھے۔۔۔۔ شمسہ بیگم اور زنیشہ کی نگاہوں میں حاعفہ کے لیے اتنی پسندیدگی دیکھ اُسے کچھ غلط ہونے کا الارم مل رہا تھا۔۔۔۔
“مجھے جلد از جلد آژمیر سے معافی مانگ کر۔۔۔ واپس سے اُس کی زندگی میں جگہ بنانی ہوگی۔۔۔ اِس سے پہلے کہ حاعفہ کا جادو آژمیر میران پر بھی چڑھ جائے۔۔۔ جتنی معصوم یہ لڑکی بن رہی ہے۔۔۔۔ ہے نہیں۔۔۔۔ اِسے اپنے حُسن کا اچھے سے اندازہ ہے۔۔۔۔ اور جس طرح یہ خاندان کے باقی لڑکوں کو لفٹ نہیں کروا رہی اُس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آژمیر پر ہی لٹو ہوگی۔۔۔۔ مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔”
سویرا دل ہی دل میں حاعفہ کے خلاف پلاننگ شروع کرچکی تھی۔۔۔ اُسے حاعفہ سے خطرہ محسوس ہورہا تھا۔۔۔ وہ حاعفہ کو آژمیر سے دور ہی رکھنا چاہتی تھی۔۔۔
اس بات سے انجان کے آژمیر میران پر تو بہت پہلے ہی حاعفہ نور کا جادو چل چکا تھا۔۔۔ اب اِن سب حد بندیوں کی ضرورت دونوں کے لیے نہیں تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکائے اپنے اندر اُٹھتے اضطراب پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔ جب گاڑی اچانک ایک جھٹکے سے رُکی تھی۔۔۔
“کیا ہوا فیصل۔۔۔۔؟؟”
آژمیر نے آنکھیں کھولتے ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے فیصل کو مخاطب کیا تھا۔۔۔۔
“سر وہ۔۔۔۔۔ ملک زوہان۔۔۔۔۔”
فیصل نے سامنے اشارہ کرتے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔ زوہان اپنی گاڑی اُن کی گاڑی کے بالکل سامنے کھڑی کرتے اُن کا راستہ روکتے اب گاڑی سے نکل آیا تھا۔۔۔۔
اُس کی یہ حرکت آژمیر کا دماغ گھما گئی تھی۔۔۔۔
گاڑی سے نکلتے وہ طیش کے عالم میں اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جو بڑے مزے سے گاڑی کے دروازے سے ٹیک لگائے اُس پر نگاہیں گاڑھے کھڑا تھا۔۔۔۔
“کیوں اپنی موت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہو۔۔۔۔ میں اپنے ہاتھ گندے نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔”
آژمیر آگ اُگلتی نگاہوں سے اُسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
“یا تو یہ کام کرکے اپنے ہاتھ گندے کر لو یا پھر میرا مجرم میرے حوالے کرکے مجھے میرے ہاتھ گندے کرنے دو۔۔۔”
زوہان آژمیر کی نسبت نارمل لہجے میں بولا تھا۔۔۔
اُس کا اشارہ ملح فیاض میران کی جانب تھا۔۔۔۔ جو کومہ میں تھے اور آژمیر نے اُنہیں زوہان سے بچا کر کسی خفیہ جگہ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔ سیکیورٹی کے تحت گھر کے کسی بھی فرد کو اُن سے ملنے کی اجازت نہیں تھی سوائے آژمیر کے۔۔۔۔۔
زوہان کی آژمیر سے نفرت کرنے کی یہی وجہ تھی۔۔۔ کہ آژمیر نے اُس کی ماں کے قاتل ملک فیاض کے پناہ دینے کے ساتھ ساتھ، اُن کے اِس جرم کے ہمراز میران پیلس کے باقی افراد کو بھی اپنی حفاظت میں رکھا ہوا تھا۔۔۔
یہ دشمنی یہاں سے شروع ہونے کے بعد باقی بہت سے واقعات کے ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتی گئی تھی۔۔۔۔
اور اب آگے نجانے مزید کتنی تباہی خود میں سمیٹے کس موڑ تک پہنچنے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
“میرے سامنے میرے باپ کے مجرم ہونے کا ثبوت پیش کرو۔۔۔ میں تمہاری بات مان جاؤں گا۔۔۔۔”
آژمیر کا لہجہ ہنوز تھا۔۔۔
“میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو زندگی جلتے دیکھا ہے۔۔۔۔ اِس سے بڑا ثبوت میرے لیے کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے زوہان کی آنکھیں لہو رنگ ہوئی تھیں۔۔۔
“میں نہیں مانتا اِس ثبوت کو۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی جانب سے نگاہیں پھیر چکا تھا۔۔۔۔
“اتنے ظالم مت بنو آژمیر میران۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو زندگی تم سے بھی تمہاری کوئی قیمتی شے چھین لے۔۔۔ اور میری طرح اُس پر رونے تڑپنے کے سوا کچھ نہ کرسکو۔۔۔”
زوہان کی بات پر حاعفہ کے چہرا آژمیر کی نگاہوں کے سامنے جھلملا گیا تھا۔۔۔ اُس کے دل میں عجیب سی بے چینی گھل گئی تھی۔۔۔
“بددعا دے رہے ہو مجھے۔۔۔۔؟؟؟؟”
آژمیر نے طنزیا نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تمہیں میری اُس اذیت اور درد کا اندازہ ہو۔۔۔ جس کی وجہ سے میں اتنے سالوں سے تڑپتا آرہا ہوں۔۔۔۔”
زوہان اُس پر ایک زخمی نگاہ ڈالتا گاڑی میں بیٹھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کتنی ہی دیر اُس جگہ پر کھڑا زوہان کی گاڑی کے پیچھے اُڑتی دھول کو دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
کل زنیشہ کی مایوں تھی جس کے بعد لگاتار شادی کے باقی فنکشن شروع ہوجانے تھے۔۔۔۔ جہاں گھر کے باقی تمام افراد زوہان اور زنیشہ کی شادی کو لے کر بہت زیادہ ایکسائیٹڈ تھے۔۔۔ وہیں زنیشہ کی خوف کے مارے جان آدھی ہوچکی تھی۔۔۔
جب بھی آنے والے لمحوں کا سوچتی تھی تو اُس کی روح فنا ہونے لگتی تھی۔۔۔۔
حاعفہ بھی پوری طرح شمسہ بیگم اور گھر کی باقی خواتین کا کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی۔۔۔ جبکہ ماورا گھر ساری ینگ پارٹی کے ساتھ ہلا گلا کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
حاعفہ جب سے یہاں آئی تھی اُس کے بعد سے آژمیر ایک بار بھی وہاں نہیں آیا تھا۔۔۔ جہاں یہ بات حاعفہ کے لیے تسلی بخش تھی وہیں اُس کا دل اُس سے بغاوت کرتا آژمیر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے تڑپ رہا تھا۔۔۔ مگر اُس ظالم شخص کو اپنی اِس پاگل دیوانی پر زرا برابر رحم نہیں آرہا تھا شاید۔۔۔۔
“بھابھی آژمیر نے کب تک آنا ہے۔۔۔ کچھ بتایا اُس نے۔۔۔۔”
حمیرا بیگم کو اچانک آژمیر کا خیال آیا تھا۔۔۔ کیونکہ خاندان کے تقریباً تمام لوگ ہی میران پیلس پینچ چکے تھے سوائے آژمیر کے۔۔۔۔
آژمیر کے نام پر دوپٹے کی لیس ٹانکتی حاعفہ نے بے دھیانی میں سوئی اپنی انگلی میں گھسا دی تھی۔۔۔۔
اُن کے ہاں رواج تھا۔۔۔ دلہن کی مہندی کا جوڑا خاص طور پر گھر کی خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی تھیں۔۔۔ اِس وقت وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھیں اِسی کام میں مصروف تھیں۔۔۔
“کیا ہوا بیٹا آپ ٹھیک ہو؟؟؟”
حمیرا بیگم حاعفہ کی سسکاری پر فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔
“جج جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کی جانب سے اُن کا جواب سننے کی منتظر حاعفہ نے جلدی سے جواب دیا تھا۔۔۔۔
“بالکل آژمیر کا اِس شادی کے تمام فنکشن میں ہونا بنتا بھی ہے۔۔۔ آخر کو اُس کی لاڈلی بہن کی شادی ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ بیگم نے بھی بیچ میں حصہ ڈالا تھا۔۔۔ حاعفہ کو اِس وقت یہ تمام خواتین پہلے سے بھی زیادہ اچھی لگی تھیں۔۔۔
“ہاں میری آج صبح ہی بات ہوئی ہے آژمیر سے۔۔۔۔ وہ آج یا کل تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔ زنیشہ کے کسی معاملے میں اُس نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔۔۔ اب اتنے اہم موڑ پر بھلا کیسے کرسکتا ہے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لیے بے پناہ محبت تھی۔۔۔۔
“ہاں یہ تو سچ ہے۔۔۔۔ اپنی زمہ داریاں کیسے نبھائی جاتی ہیں آژمیر سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہوگا۔۔۔۔۔”
حمیرا بیگم بھی آژمیر کی تعریف کرتیں فخریہ لہجے میں بولی تھیں۔۔۔
آژمیر میران ہر معاملے میں اول نمبر پر تھا۔۔۔۔ حاعفہ تو پہلے ہی اُس شخص کے عشق میں پاگل تھی۔۔۔ یہ سب باتیں تو اُس کی دیوانگی میں مزید اضافہ کررہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ آژمیر کی آمد کے خیال سے اُس کا دل ابھی سے ہی بُری طرح دھڑکنا شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔
وہ سب اِسی طرح کام کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھیں جب حاشر موبائل ہاتھ میں پکڑے گھبرایا ہوا سیڑھیوں سے نیچے اُترتا دیکھائی دیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا حاشر۔۔۔۔؟؟؟”
سب سے پہلے شمسہ بیگم کی نظر ہی اُس پر پڑی تھی۔۔۔۔
“وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ زوہان لالہ کی گاڑی پر حملہ ہوا ہے۔۔۔۔۔”
حاشر شدید پریشانی کے عالم میں بولتا دروازے میں کھڑی زنیشہ کی دھڑکنیں ساکت کرگیا تھا۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔ زوہان ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔؟؟؟”
یہ خبر باقی سب پر بھی قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔
“اُن کے ڈرائیور کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔۔۔۔ اور زوہان لالہ۔۔۔۔”
حاشر کی پوری بات سننے سے پہلے ہی زنیشہ اپنے حواس کھوتے زمین بوس ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
