No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
“کیا ہوا یقین نہیں آرہا مجھے زندہ دیکھ۔۔۔۔۔تمہارے مطابق تو مر چکا ہونگا نا میں۔۔۔۔۔ مجھے مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی نا تم نے۔۔۔۔۔ اپنی طرف سے زہر تک دے ڈالا مجھے۔۔۔۔۔”
آژمیر میران کی سرد منجمند کرتی آواز حاعفہ کے کانوں سے ٹکراتی اُس کا رنگ فق کر گئی تھی۔ اُس کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
دلہن کی طرح سجی سنوری حاعفہ کو وہ زہرآلود نظروں سے دیکھتا ضبط کی انتہا پر تھا۔۔۔۔
یہ بات ہی اُس کے دل پر چھڑیاں چلانے کے لیے کافی تھی کہ اُس کے نکاح میں ہوتے ہوئے حاعفہ کا یہ رُوپ کسی اور کے لیے سجایا گیا تھا۔۔۔۔
وہ اِس وقت سیاہ کلف لگے لباس میں کندھوں پر ڈارک براؤن شال ڈالے اپنی سحر انگیز شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ اُسے لہو رنگ انتقامی نظروں سے سر سے لے کر پیر تک دیکھتا زمین میں گاڑھ گیا تھا۔
”اِس سے پہلے کتنوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔“
حاعفہ کی نم آنکھیں اُوپر اُٹھانے پر وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گیا تھا۔ مگر وہ ادھوارا جملہ بھی اتنا نوکیلا تھا کہ حاعفہ کو اپنا دل لہولہان ہوتا محسوس ہوا تھا۔ آژمیر کے دل میں یہ ساری آگ اُس کی اپنی لگائی ہوئی تھی۔۔۔ اب برداشت تو کرنی تھی اُسے۔۔۔۔
”کیا ہوا ایک طوائف زادی سے اِس کے علاوہ اور کیا سوال کرسکتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔؟“
زہر خند لہجے میں بولتا وہ اُس کے بہت پاس آن پہنچا تھا۔ حاعفہ پتھر بنی اپنی جگہ پر جم چکی تھی۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس آگ اُگلتے شخص کی جارحانہ کاروائی پر حائفہ کی آنکھ سے آنسو نکلتے بے مول ہوئے تھے۔ جن کی اب مقابل کے آگے کوئی قیمت نہیں تھی۔ حائفہ اُس کے محبت بھرے دل کا قتل کر چکی تھی۔۔۔ اُسے وہ اب کہیں سے بھی پہلے والا آژمیر میران نہیں لگا تھا۔۔۔۔ حاعفہ سے بات کرتے جس کے لہجہ میں نرمی در آتی تھی۔۔۔ آج اُتنی ہی نفرت اور حقارت تھی۔۔۔۔
اُس نے حاعفہ کی کلائی موڑ کے کمر سے لگائی تھی۔ اُسے اپنی کلائی ٹوٹتی محسوس ہوئی تھی۔ مگر وہ کچھ بھی بول کر اِس بپھرے زخمی شیر کے غصے کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ اُسے یہ سب چپ چاپ برداشت کرنا تھا۔۔۔ اور وہ دل سے ایسا کرنا بھی چاہتی تھی۔۔۔۔
نفرت میں ہی سہی مگر آژمیر میران اُسے اپنے قریب کر تو رہا تھا۔۔۔۔۔
”کیوں کیا میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا۔۔۔۔۔صرف پیسوں کے لیے؟؟؟۔۔۔۔۔۔تم ایک بار بولتی میں دنیا کی ہر چیز تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دیتا، مگر تم نے تو مجھے انسان سے وحشی بنا کر وہ نقصان کیا ہے، جس کی کبھی بھرپائی نہیں ہوسکے گی۔۔۔۔۔“
اُس نے اپنی بات ختم کرتے حاعفہ کو کسی اچھوت شے کی طرح دھکا مارتے دور پھینکا تھا۔
حاعفہ منہ کے بل زمین پے جاگری تھی۔۔۔ اُس نے ہونٹ بھینچے بہت مشکل سے اپنی سسکی روکی تھی۔۔۔۔
وہ اِس وقت ریڈ ڈریس میں ملبوس آژمیر میران کو دھکتے کوئلے میں جھونک رہی تھی۔۔۔۔ اُس کی سیاہ چادر تو کب کی گر چکی تھی۔۔۔ ابھی وہ اپنے ہوش رُبا حلیے کے ساتھ آژمیر کے سامنے تھی۔۔۔
آژمیر ہاتھ میں پکڑا شراب کا پورا گلاس اپنے اندر اُنڈیلتا اُسے دیوار سے مار گیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے سہم کر آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جس کی لال اذیت اور وحشت سے بھری لال آنکھیں اُسی کے اُوپر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ زمین سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اپنے اُوپر شال نہ ہونے کا احساس ہوتے اُس نے اردگرد نظریں دوڑائی تھیں۔۔۔ جب آژمیر کے قدموں کے قریب اُسے اپنے شال پڑی نظر آئی تھی۔۔۔ وہ بے بسی سے چہرا جھکا گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر کا اپنے قریب آتا دیکھ اُس نے پیچھے ہونا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر تب تک آژمیر اُس پر حملہ آور ہوتا پوری طرح اُسے اپنی بے رحم گرفت میں. جکڑ چکا تھا۔۔۔
آژمیر کا ایک بازو انتہائی سختی سے حاعفہ کے گرد لپٹا ہوا تھا۔۔۔۔ جبکہ دوسرا بازو اُس کے لال دوپٹے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
حاعفہ تکلیف کے باوجود بنا کوئی مزاحمت کیے ایسے ہی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر نے اُس کا دوپٹہ اُتار کر دور اُچھال دیا تھا۔۔۔ دوپٹے کے ساتھ اٹیچ جوڑے کی پنیں بھی نکلتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔
حاعفہ کے منہ سے ہلکی سے سسکاری نکلی تھی۔۔۔ مگر آژمیر کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ دبا گئی تھی۔۔۔ اُس کا دوپٹہ دور جا گرا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی حسین زلفیں کسی آبشار کی طرح اُس کے اُوپر آن گری تھیں۔۔۔۔
آژمیر میران آج پہلی بار حاعفہ کو اِس طرح اُس کے حُسن کی پوری رعنائیوں کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔۔۔
مگر آج اُس کی محبت کے جذبات نفرت اور غصے کی شدید لہر کے نیچے دب چکے تھے۔۔۔۔
“کیوں کیا میرے ساتھ ایسا؟؟؟؟؟”
آژمیر ابھی بھی وہی سوال جاننے پر بضد تھا۔۔۔ جس کا جواب اُسے مل چکا تھا مگر وہ شاید اب بھی حاعفہ کو اپنی زبان سے سچ بولنے کا مارجن دے رہا تھا۔۔۔۔
وہ اتنے دھوکے کے بعد بھی اِس لڑکی کو مہلت دے رہا تھا۔۔۔۔ یہی آژمیر میران کی اعلٰی ظرفی اور سچی محبت کا ثبوت تھا۔۔۔۔۔
اُس نے حاعفہ کی گردن کو پیچھے سے اپنی ہاتھ کی گرفت میں لیتے اُس کا چہرا اُٹھا کر اپنے سامنے کیا تھا۔۔۔۔
بند آنکھوں پر سایہ فگن گھنی سیاہ پلکیں جو آژمیر میران کی قربت کے احساس سے مسلسل لرز رہی تھیں۔۔۔ پھولے سُرخ گال اور ٹھنڈ سے لال ہوتی ستواں ناک۔۔۔۔ یہ لڑکی قیامت خیز حُسن کی مالک تھی۔۔۔۔ ایک منظر پر آکر آژمیر کی نظریں جم سی گئی تھیں۔۔۔۔ سُرخی مائل اُس کی رس بھری لال پنکھڑیاں۔۔۔۔ جن کی کپکپاہٹ لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔
اِس معصوم چہرے پر کیسے بھلا کوئی شک کر سکتا تھا۔۔۔۔ آژمیر کو اپنے چوک جانے اور اِس لڑکی کے ہاتھوں مات کھانے پر خود پر بھی بہت غصہ تھا۔۔۔۔ مگر اِس پُرفریب معصوم چہرے سے دھوکا کھانا عام بات تھی۔۔۔۔ یہ چہرا آج بھی اُتنا ہی معصوم تھا۔۔۔ بس آج اُس کا پول کھل چکا تھا۔۔۔۔
آژمیر کی نگاہوں کی تپیش سے حاعفہ کا پورا وجود لرز رہا تھا۔۔۔۔۔
“سر مجھے معاف۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُسے نرم پڑتے دیکھ آنکھیں واں کرتے اُس سے معافی مانگنی چاہی تھی۔۔۔۔
لیکن آژمیر اُس کی بات پوری ہونے دیئے بغیر اُس پر پوری طرح حاوی ہوتا اُس کی سانسیں قید کرگیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اِس جارحانہ شدت بڑھے عمل کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔ اُس کی آنکھیں غیر معمولی حد تک کھل چکی تھیں۔۔۔
آژمیر میران کی لمحہ با لمحہ بڑھتی شدت حاعفہ کی آنکھوں میں آنسو بھر گئی تھی۔۔۔۔
کیونکہ وہ اِس لمس کے ذریعے اپنے اندر کا شدید غصہ، نفرت ، انتقام اور اشتعال اُس کے اندر اُنڈیل رہا تھا۔۔۔
حاعفہ بنا اُسے دور جھٹکے یہ سب برداشت کرتی رہی تھی۔۔۔۔ آژمیر کا ایک بازو اُس کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ دوسرا اُس کہ گردن پر تھا۔۔۔۔
حاعفہ کا پورا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔۔ اُس نے آژمیر کی شرٹ سینے سے دبوچ رکھی تھی۔۔۔۔
اُسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔۔۔۔ اتنی دیر ہوجانے کے بعد بھی آژمیر کا اُسے چھوڑنے کا کوئی موڈ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
جب کچھ لمحے بعد حاعفہ کو ایک تکلیف کے احساس کے ساتھ اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ اِس کے ساتھ ہی اُس کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر اُس پر ترس کھاتے آژمیر میران اُسے آزاد کرگیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ گہرے گہرے سانس لیتی بُری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔ آژمیر اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرچکا تھا۔۔۔۔ وہ کب کی زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔۔ اگر اُس نے آژمیر کو سینے سے تھام نہ رکھا ہوتا۔۔۔۔
اُس نے اپنا کانپتا نازک بازو آژمیر کی کمر کے گرد حمائل کر رکھا تھا۔۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ کی مٹھی سے آژمیر کی شرٹ دبوچ رکھی تھی۔۔۔۔
وہ پورے حق سے اُس کے سینے پر سر رکھے گہرے گہرے سانس لیتی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔۔
آژمیر اُس کے خطرناک حد تک لال ہوتے چہرے پر ایک گہری نظر ڈالتا سیگریٹ سلگھا گیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟ ابھی سے یہ حالت ہوگئی تمہاری۔۔۔۔۔ ابھی تو میرے اندر لگی آگ بجھانی ہے تم نے۔۔۔۔ وہ کیسے برداشت کر پاؤ گی۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی ٹھوڑی پنجوں میں جکڑ کر اپنی جانب اُٹھاتا زہر خند لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
“میں آپ کی ہر سزا سہنے کو تیار ہوں۔۔۔۔ آپ جو کہیں گے میں کروں گی۔۔۔۔۔ بس آپ مجھے خود سے جدا مت کیجیئے گا میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔”
حاعفہ کافی حد تک اپنی سانسیں بحال کر چکی تھی۔۔۔۔
دیوانہ وار نظروں سے آژمیر کا چہرا دیکھتی بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہ دیوانی آج اپنا سب کچھ اپنے محبوب پر وارنے کو تیار تھی۔۔۔۔
مگر اِس وقت آژمیر پوری طرح اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔۔۔۔ اِس لیے اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے بھری بے پناہ دیوانگی نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔۔
“جانتی ہو نا میں کون ہوں۔۔۔؟؟ ملک آژمیر میران۔۔۔ آج تک کسی غیر لڑکی کو اپنے قریب بھٹکنے بھی نہیں دیا۔۔۔۔ ہمیشہ اپنے کردار کو مضبوط اود بے داغ رکھا۔۔۔۔ اِس لیے بالکل بھی نہیں کہ تم جیسی ایک طوائف زادی جو نجانے کتنے مردوں کی سیج سجا چکی ہے وہ میری بیوی بنے۔۔۔۔۔ تم پر آژمیر میران اب تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔”
آژمیر کے منہ سے نکلنے والے نوکیلے الفاظ سیدھے حاعفہ کے دل میں پیوست ہوتے اُسے ویسے ہی لہولہان کرگئے تھے۔۔۔۔ جیسے اُس نے آژمیر کے دل کے ساتھ کھیل کر کیا تھا۔۔۔۔
آژمیر یہ الفاظ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی گردن پر اپنی مضبوط ہتھیلی جما چکا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے اعصاب پر نشہ چھانے لگا تھا۔۔۔ حاعفہ کے آنے سے پہلے شدید غصے کے عالم میں وہ شراب کی دو بوتلیں ختم کر چکا تھا۔۔۔ جس حرام شے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا وہ۔۔۔۔ حاعفہ کی جانب سے ملنے والے دھوکے اور دل کی بربادی نے اُس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں چھین لی تھیں۔۔۔۔ وہ کبھی کسی کو اپنے اتنے قریب نہیں آنے دیتا تھا۔۔۔۔ اِسی دھوکے کے ڈر سے۔۔۔۔۔
یہ لڑکی اُس کے لیے پل پل مررہی تھی۔۔۔۔ اگر وہ یہ جان جاتا تو اُسے ایسا کبھی نہ کہتا۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ کی طبیعت کے پیشِ نظر اُسے روم میں لایا گیا تھا۔۔۔ زوہان کی نظروں سے اوجھل ہوتے زنیشہ نے سکھ کا سانس بھرا تھا۔۔۔۔۔
وہ بخار سے زیادہ زوہان کی شوخ نگاہوں سے نڈھال تھی۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی اچانک زوہان کو کیا ہوا تھا۔۔۔۔
“پلیز بھابِھی اِس کو میرے سر سے اُتار دیں یہ بہت ہیوی ہے۔۔۔۔ میرے سر میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے دکھتے سر کو دباتے فریحہ کو پکارا تھا۔۔۔۔ جو اُسے روم میں بیٹھا کر واپس پلٹ رہی تھی۔۔۔۔
اُس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنا چاہا تھا جب اُس کے ساتھ کھڑی صدف اُسے اشارے سے خاموش کروا گئی تھی۔۔۔۔
“میں بس ابھی آکر تمہاری ہیلپ کرتی ہوں۔۔۔۔ تھوڑی دیر صبر کرو۔۔۔۔”
فریحہ الفاظ بدلتی وہاں سے کھسک گئی تھی۔۔۔ وہ دونوں اُسے یہاں زوہان کی متوقع آمد کا بتاتے اپنے سر وقت سے پہلے کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
“تم نے مجھے بتانے کیوں نہیں دیا زنیشہ کو۔۔۔۔ کہ زوہان اُس سے ملنے آرہا ہے۔۔۔۔۔”
فریحہ نے باہر آتے صدف کو گھوری سے نوازا تھا۔۔۔۔
“آپ کو لگتا ہے یہ جان کے زنیشہ ہمیں اتنی آسانی سے روم سے آنے دیتی۔۔۔۔۔ وہ کتنی گھبرائی رہتی ہے زوہان بھائی کے نام سے بھی۔۔۔۔ ہماری بات سنتے ہی اُس نے بے ہوش ہوجانا تھا۔۔۔۔”
صدف زنیشہ کی حالت سوچ مسکرائی تھی۔۔۔
“تو تمہیں کیا لگتا ہے زوہان کو اپنے سامنے یوں اچانک دیکھ وہ بے ہوش نہیں ہوگی۔۔۔۔۔”
فریحہ کو زنیشہ کی فکر ہوئی تھی۔۔۔۔
“وہ تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ہوگی۔۔۔۔ مگر اُس کے وہ ہیرو صاحب جو ہر وقت تیس مار خان بنے پھرتے، یہاں سب میران پیلس والوں کا خون خشک کرکے رکھا ہوا ہے۔۔۔ اب سنبھالیں گے اپنی ہیروئن کو۔۔۔۔ مزا تب آئے گا۔۔۔۔۔”
صدف خوب مزے لے کر بولتی جیسے ہی مُڑی، سامنے شمسہ بیگم اور قاسم صاحب کے ساتھ سرد تاثرات لیے کھڑے زوہان کو دیکھ اُس کی سیٹی گم ہوئی تھی۔۔۔۔
شمسہ بیگم نے گھبرا کر زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جس کا کب کس بات پر موڈ بگڑ جائے کوئی پتا نہیں تھا۔۔۔۔
“آئم سو۔۔۔۔۔”
صدف سب کی گھورتی نگاہوں پر شرمندہ سی ہوئی تھی۔۔۔ مگر اُس کی پوری سوری سنے بغیر زوہان زنیشہ کے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“بیٹا اب سوچ سمجھ کر بولنا کب شروع کریں گی۔۔۔زوہان اور ہمارے بیچ ماضی میں جو بھی چلتا رہا ہو۔۔۔ مگر اب وہ ہمارا داماد ہے۔۔۔ اُس کی عزت و احترام میں زرا سی بھی کوتاہی ہم برداشت نہیں کریں گے۔۔۔”
قاسم صاحب زوہان کے بگڑے تیور دیکھ صدف کو ٹھیک ٹھاک سنا گئے تھے۔۔۔۔
“بھابھی یہ بندہ کتنے غصے والا ہے مذاق بھی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔ ہماری زنیشہ کا کیا ہوگا۔۔۔۔ مجھے اِس کا نام تیس مار خان نہیں ہٹلر رکھنا چاہیے تھا۔۔۔۔ “
صدف کا منہ اُتر چکا تھا۔۔۔۔
جبکہ فریحہ کی کب سے رکی ہنسی چھوٹ چکی تھی۔۔۔
“جہاں تک ہم سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔ یہ بندہ زنیشہ میران کے ہاتھوں جاکر ہی سیدھا ہوگا۔۔۔ تم دیکھنا۔۔۔۔ اگر یہ مغرور شہزادہ جھکے گا تو اپنی شہزادی کے آگے ہی۔۔۔۔۔”
فریحہ مسکرا کر پورے یقین سے کہتیں وہاں سے ہٹ گئی تھیں۔۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا جو پوری طرح کسی کے حصار میں قید ہوجانے کے خوف سے بے ہوش ہونے کے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے اُس کے وجود سے اُٹھتی خوشبو محسوس کرتے وہ آسودگی سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
وہ سوچ بھی کیسے سکتی تھی کہ منہاج درانی کے سوا کوئی ایسی جرأت کرسکتا تھا۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں جماتے اُس سے آزادی چاہتی تھی۔۔۔۔
منہاج موبائل کی ٹارچ آن کرتا سائیڈ ریک پر رکھ گیا تھا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ ماورا کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
“صبح سے مجھ سے کیوں چھپ رہی ہو وائفی؟؟”
منہاج اُسے اپنے حصار سے آزاد کرتا اُس کی دونوں کلائیاں تھام کر پیچھے موجود ریک کے ساتھ دائیں بائیں ٹکاتے اُس پر پوری طرح حاوی نظر آرہا تھا۔۔۔
ماورا اُس کے مضبوط وجود کے پیچھے چھپ سی گئی تھی۔۔۔۔
منہاج کے محبت بھرے شوخ لب و لہجے پر ماورا نے اپنی شرمگی پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ مگر زیادہ دیر اُس کی جذبے لُٹاتی آنکھوں میں دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
“میں سٹڈی کررہی تھی صبح سے۔۔۔۔۔”
ماورا سے اُس کے آگے بولنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ اُس نے اپنی کلائیاں آزاد کروانے کی کوشش کی تھی مگر منہاج ابھی اِس کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔۔۔
“اور میں جو صبح سے تمہاری ایک جھلک دیکھنے کے لیے خوار ہوا ہوں وہ۔۔۔۔۔ اُس کا حساب کون دے گا۔۔۔۔”
منہاج نے اُس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو پھونک مار کر ہٹایا تھا۔۔۔۔ ماورا کے چہرے کو اُس کے علاوہ کوئی بھی چھوئے اُس سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔
“ہمیں باہر جانا چاہیے۔۔۔۔ لائبریری کے بند ہونے کا ٹائم ہوچکا ہے۔۔۔۔”
ماورا سے اُس کی شوخ نظروں کے وار سہنا مشکل ہوا تھا۔۔۔
ابھی وہ اتنا ہی بولی تھی جب اُسی لمحے باہر سے لائبریری کا مین ڈور لاک ہونے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔ ماورا نے سہمی نظروں سے منہاج کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ جس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔۔۔۔
اب وہ پوری طرح سے اُس کے رحم و کرم پر تھی۔۔۔
“ہم کیسے جائیں گے باہر۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کا دھیان خود پر سے ہٹانے کے لیے بولی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“آج کی رات میرا یہاں سے جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔۔”
منہاج کو اُسے تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا۔۔۔
“تم جانتی ہو تمہارا یہ شرمایا گھبرایا رُوپ مجھے کیا کیا گستاخیاں کرنے پر اُکسا رہا ہے۔۔۔۔”
منہاج اُس کی کان کی لوح پر لب رکھتے اُس کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔
ماورا کے گال تپ اُٹھے تھے۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ “
ماورا سے کچھ بولا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی ساری تیز طراری دم دبا کر بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ “
منہاج نے اُس کی گال کو لبوں سے چھوا تھا۔۔۔
ماورا اُس کے دہکتے لمس پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“مجھے جانا ہے یہاں سے۔۔۔۔۔”
ماورا بمشکل یہ الفاظ ادا کرپائی تھی۔۔۔۔
“میں جس کام کے لیے یہاں آیا ہوں میں وہ کیے بغیر نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔”
منہاج اُس کے مزید قریب ہوا تھا۔۔۔
جبکہ شرم اور خوف کے مارے ماورا کی جان آدھی ہوئی تھی۔۔۔۔
“نہیں بالکل بھی نہیں۔۔۔۔”
ماورا نے فوراً نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
“ارے پوری بات تو سن لو۔۔۔۔”
منہاج اُس کی لرزتی پلکوں کا رقص دیکھ مبہوت ہوا تھا۔۔۔۔ ماورا کی مومی کلائیوں کا لمس اُس پر خمار سا طاری کررہا تھا۔۔۔۔
اِس لڑکی کی مہکتی قربت کے باوجود وہ خود پر کیسے ضبط کیے کھڑا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔
“نن نہیں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔”
ماورا اُس کے سارے مطلب سمجھتی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس کی پوری بات سننے کی روادار بھی نہیں تھی۔۔۔۔
“آج میرا اِس یونی میں لاسٹ ڈے ہے۔۔۔۔ میں سپیشلائزیشن کے لیے یو۔کے جارہا ہوں۔۔۔۔”
یہ بات کرتے منہاج لمحہ بھر کو رُکا تھا۔۔۔۔ کیونکہ ماورا کی آنکھوں میں واضح اُبھرتی اُداسی اُس سے چھپی نہیں رہ سکی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ اُن کو واپس لوٹتا نہ دیکھ خود ہی اُٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آن بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے بھاری دوپٹے کو بالوں کے جوڑے کے ساتھ اتنی زیادہ پنز لگا کر پن اپ کیا گیا تھا کہ اُس کے لیے ایک ایک پن نکالنا محال ہورہا تھا۔۔۔۔
وہ نجانے کتنی پنز نکال چکی تھی مگر دوپٹہ اپنی جگہ سے ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔ جبکہ جوڑا ڈھیلا ہوچکا تھا۔۔۔ اور اُس میں سے بال باہر آنے لگے تھے۔۔۔
زنیشہ اچھی خاصی زچ ہوچکی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے اُسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔
اُس کا چہرا جھکا ہوا تھا۔۔۔ وہ یہی سمجھی تھی کہ فریحہ لوگ ہی واپس آئی ہیں۔۔۔۔
“شکر ہے تم لوگوں کو میرا خیال آگیا۔۔۔۔ پلیز اب مجھے اِس پچاس کلو کے دوپٹے سے رہائی دلوا دو۔۔۔۔ “
زنیشہ بنا پیچھے کھڑی ہستی کو دیکھے مدد کے لیے پکار بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔ اگر وہ پلٹ کر دیکھ لیتی تو کسی صورت یہ الفاظ ادا نہ کرتی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
