Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

زنیشہ زوہان کے سہارے زوہان ولا میں انٹر ہوئی تھی۔۔۔۔۔ زوہان کا مضبوط لمس اپنی کمر پر محسوس کرتے زنیشہ کا دل دھک دھک کررہا تھا۔۔۔۔۔
وہ تو زوہان ولا کی سجاوٹیں دیکھ کر ہی دھنگ رہ گئی تھی۔۔۔۔ ہر شے گلاب کے پھولوں اور برقی قمقموں سے سجی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
انٹرنس پر ہی سجی سنوری بہت ساری لڑکیاں ہاتھوں میں پھول اُٹھائے اُن کی راہ میں نچھاور کر رہی تھیں۔۔۔۔ زنیشہ زوہان کی سنگت میں آگے بڑھتی بے پناہ خوش تھی۔۔۔۔ اُس نے بھی زوہان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔۔۔۔ جب سامنے ہی نفیسہ بیگم کے ساتھ کھڑی ثمن کو دیکھ اُس کا موڈ خراب ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے پوری شادی میں نہ دیکھ وہ بہت خوش تھی۔۔۔۔ مگر اب یہاں دیکھ اُسے بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ جس طرح وہ دیوانہ وار نظروں سے زوہان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ برداشت کرنا زنیشہ یے کے لیے بہت مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
اُس نے زوہان کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
جس کا ریزن زوہان منٹوں میں سمجھ گیا تھا۔۔۔۔
“ویلکم ہوم۔۔۔۔۔ ورلڈز بیوٹیفل اینڈ چارمنگ کپل۔۔۔۔۔”
ثمن نے آگے بڑھتے زنیشہ کے گلے لگتے دل سے مبارک باد دی تھی۔۔۔۔۔
“تھینکس۔۔۔۔”
زوہان کے مسکرا کر جواب دینے پر زنیشہ مزید تپ گئی تھی۔۔۔۔
سامنے موجود کمرے کی جانب جاتی اتنی لمبی سیڑھیاں دیکھ زوہان زنیشہ کا اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا۔۔۔۔ جب ثمن نے مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھتے روک دیا تھا۔۔۔۔
“مسٹر میران ہم آپ کی دلہن کو بغیر کوئی تکلیف پہنچائے آپ تک پہنچا دیں گے۔۔۔۔ یہ آپ ہی کی ہیں۔۔۔ مگر ابھی تھوڑی دیر کے لیے اُنہیں ہمارے حوالے کردیں۔۔۔۔ “
ثمن زنیشہ کے گرد بازو حمائل کرتی اُسے اپنے ساتھ لگاتے بولی۔۔۔۔ جبکہ زنیشہ کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کا منہ توڑ دے۔۔۔۔۔
“اوکے مگر جسٹ ٹین منٹس اِس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔۔”
زوہان نفیسہ بیگم کو بھی رسموں کے لیے تیار دیکھ انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جو یہی سمجھ رہی تھی کہ زوہان انکار کردے گا۔۔۔۔ اُس کے اتنی آسانی سے مان جانے اور مردوں کی طرف جاتا دیکھ زنیشہ کا پارہ بُری طرح چڑھ گیا تھا۔۔۔۔
مطلب صرف یہاں تک لانے کے لیے یہ شخص پاگل ہورہا تھا۔۔۔۔ اب میری کوئی پرواہ ہی نہیں۔۔۔ زنیشہ کا اِس وقت غصے سے بُرا حال تھا۔۔۔۔
اُسے شادی کی یہ رسمیں بہت پسند تھیں۔۔۔ مگر یہاں موجود ثمن کو دیکھ جو پوری طرح اُس کے شوہر پر فدا تھی۔۔۔۔ زنیشہ کے لیے وہ ہضم کرنا آسان نہیں تھا۔۔۔
@@@@@@@@@
ماورا کا پورا فنکشن اِسی ٹینشن کو بے چینی میں گزرا تھا۔۔۔۔ اُس نے پورا میزان پیلس چھان مارا تھا۔۔۔ مگر منہاج اُسے کہیں نہیں ملا تھا۔۔۔۔ وہ یہ سوچ سوچ کر ہی پاگل ہورہی تھی کہ اگر وہ منہاج نہ ہوا تو۔۔۔۔۔
واش روم سے چینج کرکے نکلتے اُس نے بالوں کو کیچر کی مدد سے جوڑے میں مقید کیا تھا۔۔۔۔ وہ اِس وقت معمول کے مطابق سیاہ نائٹی میں اپنے دلکش رُوپ کے ساتھ سوگوار سی بہت پرکشش اور حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
جوڑا بنانے کی وجہ سے گردن کا نشان واضح تھا۔۔۔ جسے پورے فنکشن میں چھپانے کے لیے ہلکان ہوتی رہی تھی وہ۔۔۔۔۔
“منہاج۔۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔۔ بہت غلط کیا نا آپ کے ساتھ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں میرے اِس قدر قریب آنے والا شخص آپ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ “
ماورا اُسے دل ہی دل میں پکارتی رو دی تھی۔۔۔۔
جب اچانک کسی خیال کے تحٹ بنا روم لاک کیے بیڈ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ سائیڈ دراز سے موبائل نکالتے اُس نے منہاج کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔۔ مگر پچھلی بار کی طرح اِس بار بھی بند ہی ملا تھا۔۔۔۔۔
ماورا موبائل اِسی طرح سینے سے لگاتی بیڈ پر اوندھے منہ گرتی آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔۔ بنا کمبل کے جما دینے والی سردی پر سکڑی سمٹی خود کو اذیت دینے کی خاطر ایسے ہی پڑی رہی تھی۔۔۔۔۔
اُسے اب احساس ہورہا تھا کہ منہاج اُس کے یوں اچانک غائب ہوجانے پر کس قدر اذیت سے گزرا ہوگا۔۔۔۔ وہ اُس پر تو اعتبار کرکے اُسے سارا معاملہ سمجھا سکتی تھی۔۔۔۔
مگر اُس نے تو منہاج کے بارے میں اِس رُخ پر سوچنا گوارہ ہی نہیں کیا تھا۔۔۔۔ اب جب وہ خود اُس کے لیے تڑپ رہی تھی تو اُسے منہاج کی تڑپ کا اندازہ ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے شدید ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔۔۔روم میں ہیٹر بھی آن نہیں تھا۔۔۔۔۔ مگر اُسے پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔ کھلی کھڑیوں سے آتی ٹھنڈی ہوا اُسے اپنی ہڈیوں میں گھستی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ باہر شاید برف باری سٹارٹ ہوچکی تھی۔۔۔ درجہ حرارت منفی میں جاچکا تھا۔۔۔۔۔
اُس کا نازک وجود اتنی ٹھنڈ برداشت نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔۔ اور کچھ دیر بعد وہ آنکھیں موند ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔۔۔۔

@@@@@@@@@
حاعفہ کو آژمیر کے سجے سجائے شاندار کمرے میں اُس کی سیج تک پہنچا دیا گیا تھا۔۔۔۔ جہاں سر جھکائے بیٹھی وہ دل و جان سے اپنے ستمگر کی منتظر تھی۔۔۔۔
جس کے لیے وہ تڑپی بھی بہت تھی اور اُسے خود کے لیے تڑپایا بھی بہت تھا۔۔۔۔ مگر آج وہ اُس ہر تکلیف اور اذیت کا ازالہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔
جس کے لیے وہ اپنے آپ کو بہادر بنا رہی تھی۔۔۔۔۔
اتنا ہیوی لباس اور جیولری پہننے کے باوجود وہ تھکن کا شکار بالکل نہیں تھی۔۔۔۔ اُس کی ساری تھکن اور تکلیفیں کہیں دور جا سوئی تھیں۔۔۔۔
اب صرف خوشیاں اور مسکراہٹیں تھی اُس کی زندگی میں۔۔۔۔ اور اُس محبوب ترین شخص کا مہکتا ساتھ۔۔۔۔۔
حاعفہ بالکل فریش لگ رہی تھی۔۔۔ چہرے پر گھونگھٹ گرائے وہ اُس کی منتظر تھی۔۔۔۔
جب دروازے پر ہوئی آہٹ کے ساتھ اُس کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔ ہتھیلیوں کی نمی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے بھاری قدموں کی چاپ اُسے اپنے دل پر سنائی دی تھی۔۔۔۔ مگر یہ کیا وہ دروازہ لاک کرتا۔۔۔ بیڈ پر اُس کے قریب آنے کے بجائے صوفے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُسے صوفے پر بیٹھ کر سیگریٹ سلگھاتا دیکھ حاعفہ پہلے حیران ہوئی تھی مگر اگلے ہی لمحے ایک دلفریب مسکان اُس کے ہونٹوں کا احاطہ کر گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر کا یہ عمل اُس کی ناراضگی کا اظہار تھا۔۔۔۔ وہ چاہتا تھا وہ اُسے منائے۔۔۔۔ جس کے لیے وہ دل و جان سے تیار تھی۔۔۔۔
حاعفہ چند گہرے گہرے سانس لیتی۔۔۔۔۔ اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو قابو کرتی بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔۔
کمرے میں پھیلی مدھم روشنی اور گلابوں کی مہک ماحول کو رومانوی بنا رہی تھیں۔۔۔
حاعفہ کے اُٹھنے سے اُس کے زیورات چھنک اُٹھے تھے۔۔۔۔ اور آژمیر کے جذبات کو اچھا خاصہ ڈگمگا گئے تھے۔۔۔۔ جنہیں بہت مشکل سے قابو کیے بیٹھا تھا وہ۔۔۔۔
حاعفہ کے ہر اُٹھتے قدم پر اُس کے نازک پیروں میں بندھی پائل کی چھنکار آژمیر کی دھڑکنوں کو اُلجھا رہی تھی۔۔۔۔
حاعفہ نے ابھی تک اپنا گھونگھٹ نہیں اُٹھایا تھا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے آژمیر کے سیگریٹ کے دھویں سے بچاؤ ہورہا تھا۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں آپ کو مجھ سے کوئی وضاحت نہیں چاہیئے مگر میں اپنے اندر کا گلٹ ختم کرنے کے لیے آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے آپ کو کبھی دھوکا نہیں دینا چاہا۔۔۔۔۔ اکرام حنیف کے آدمیوں نے مجھے ماورا کی زندگی کے بدلے ایک کام سونپا تھا۔۔۔۔ جس پر حامی بھرنے سے پہلے مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میری ملاقات آپ سے ہوگی۔۔۔۔
جس کے آگے پہلی ملاقات میں ہی میں اپنا دل ہار بیٹھوں گی۔۔۔۔ میں آپ کو نقصان پہنچانے سے پہلے خود مرجانا پسند کرتی۔۔۔۔ میں نے اُس دن بھی یہی کیا تھا۔۔۔۔ جس میڈیسن اُنہوں نے مجھے آپ کی چائے میں ملانے کے لیے دی تھی وہ میں نے زہر سمجھ کر اپنی چائے میں ملا دی تھی۔۔۔۔ اور نہ ہی میں اُس دن آپ کے گھر سے بھاگ کر گئی تھی۔۔۔۔ مجھے وہاں سے اغوا کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اُس رات جب مجھے آپ کے پاس بھیجا گیا تھا تو میں صرف اِسی خوف سے آپ سے دور چلی گئی تھی کہ مجھے لگا تھا آپ مجھے طلاق دے دیں۔۔۔۔
مجھے لگا تھا آپ مجھ سے نفرت کرنے لگ گئے ہیں۔۔۔۔۔
میرا خدا گواہ ہے آپ کے حوالے سے پہلے دن سے لے کر آج تک کبھی کوئی غلط خیال میرے دل میں نہیں آیا۔۔۔۔
نہ آج تک اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کسی کو چاہا ہے۔۔۔۔ کل رات بھی اکرام حنیف نے مجھے بلیک میل کیا تھا کہ اگر میں نے یہ سب نہ کہا تو وہ آپ کے یہاں آتے ہی آپ کو مروا دے گا۔۔۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔۔ اِس لیے وہ سب کہا جو کبھی بھی دل میں آپ کے لیے نہیں رہا۔۔۔۔۔
آپ میری دنیا ہیں۔۔۔۔ اور آپ سے الگ ہوکر اب ایک پل بھی جینا میرے لیے ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ ایک ایک صدقے دل سے بولتی آژمیر کو اپنے دل میں اُترتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
اُسے اِس پل اپنا آپ دنیا کا خوش قسمت ترین انسان لگا تھا۔۔۔۔ جس کی زندگی میں اِس قدر محبت کرنے والی، اُس کے لیے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہ کرنے والی ایک باکردار لڑکی لکھ دی گئی تھی۔۔۔
بہت بڑی دشمنی نبھاتے نبھاتے اکرام حنیف زندگی بھر کے لیے اُس پر ایک بہت بڑا احسان کرگیا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ کو اُس کی زندگی میں بھیج کر۔۔۔۔۔
آژمیر اپنی جگہ سے اُٹھا تھا اور آگے بڑھ کر اُس کے ماتھے پر مہرِ محبت تبت کی تھی۔۔۔۔
“لیکن میں ناراض ہوں ابھی۔۔۔۔۔ “
آژمیر اُس سے دور ہٹتا واپس پلٹا تھا۔۔۔۔ اُس کے سہانے رُوپ سے نگاہیں چرانا آسان نہیں تھا۔۔۔۔ مگر جتنا وہ اُسے تڑپا چکی تھی۔۔۔۔ اُس کے بدلے اتنا حق تو اُس کا بھی بنتا تھا۔۔۔۔
“میں آپ کو منانا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے راستے میں آتے خفگی سے بولی۔۔۔۔ جو آج بھی کٹھور بنا کھڑا تھا۔۔۔۔
“تو مناؤ۔۔۔۔۔”
آژمیر نے ہاتھ بڑھا کر اُس کا گھونگھٹ اُلٹ دیا تھا۔۔۔۔
“میں مناؤں گی مگر آپ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔”
حاعفہ اپنے ایکشن کے جواب میں ملنے والے اُس کے ری ایکشن سے ہی خوفزدہ تھی۔۔۔۔۔
جبکہ اُس کی کانپتی آواز پر آژمیر اپنے ہونٹوں پر اُمڈ آئی بے ساختہ مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔ جبکہ حاعفہ تو پل بھر کے لیے اِس حسین منظر میں کھو سی گئی تھی۔۔۔۔
“کوئی مرد بھلا اتنا حسین اور دل کا اتنا پیارا کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔۔”
وہ ہمیشہ کی طرح بس سوچ کررہ گئی تھی۔۔۔۔
“دیکھ لو۔۔۔۔ تم منا لو گی۔۔۔۔ میں بالکل بھی نہیں چاہتا کہ میری آج کی رات بے ہوش ہو۔۔۔۔”
آژمیر نے دوسرا سیگریٹ سلگھاتے اُس کے لرزتے وجود پر ایک سلگھتی نگاہ ڈالتے چوٹ کی تھی۔۔۔۔۔
جس پر حاعفہ اندر تک لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
“آژمیر پلیز۔۔۔۔۔ “
حاعفہ لال چہرے کے ساتھ بولی تھی۔۔۔۔
“جی جانِ آژمیر۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی نتھ کو ہونٹوں سے چھوتا مخمور لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ کی تھوڑی دیر پہلے کی اکٹھی کی ساری بہادری دم دبا کر بھاگ چکی تھی۔۔۔۔۔۔
“آپ سیگریٹ نہیں پیئں گے اب۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کا دھیان دوسری جانب لے جانے کی کوشش کرتی نہایت ہی دلیری کا مظاہرہ کرتی اُس کے ہاتھ سے سیگریٹ چھین کر دور اُچھال گئی تھی۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔ تو اِس لے بدلے کیا کرنا چاہیئے مجھے۔۔۔۔۔”
حاعفہ کا یہ حق جتاتا انداز اُسے بہکا رہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اُس کے ایک بار کہنے سے اپنے عزیز ترین شغل سے دستبردار ہوجائے گا۔۔۔۔
اُس کے ہونٹوں پر دل موہ لینے والی مسکراہٹ اُبھری تھی۔۔۔۔۔
جسے آگے بڑھ کر آژمیر نے ہونٹوں سے چھوتے اُسے سرتاپا لرزنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔۔
اِس سے پہلے وہ مزید کوئی گستاخی کرتا حاعفہ اُس کے ہونٹوں پر اپنی نازک ہتھیلی جما گئی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی گستاخیوں پر حد بندیاں باندھنے کی معصوم سی کوشش کی گئی تھی۔۔۔۔
جس پر آژمیر شرافت کا مظاہرہ کرتا خاموشی سے پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔
“مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔ کہ میری بیوی منانے کے معاملے میں اتنی اناڑی ہے۔۔۔”
آژمیر اُس کے گھبرائے شرمائے رُوپ کو بے باکی بھری نظروں سے دیکھتے بولا تھا۔۔۔۔
“مجھے منانا آتا ہے۔۔۔ مگر آپ مسلسل چیٹنگ کرکے مجھے کنفیوژ کررہے ہیں۔۔۔۔”
حاعفہ نے اپنی بزدلی کا الزام اُس پر عائد کیا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہا میری جان ابھی تو میں انتہائی شرافت کا مظاہرہ کرکے تمہارا بھرپور ساتھ دے رہا ہوں۔۔۔ مگر جو تمہاری منانے کی سپیڈ ہے۔۔۔ اُسے دیکھ کر تو یہی لگ رہا ہے۔۔۔ کہ آج کی رات اِسی طرح یہاں کھڑے کھڑے گزر جانی ہے۔۔۔۔”
آژمیر آج کسی صورت سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔
“آپ ہی نے ہمیشہ غصہ دکھا دکھا کر مجھے خود سے اتنا خوفزدہ کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ “
حاعفہ زیرِ لب بڑبڑاتی شکوہ کرتے بولی تھی۔۔۔۔ مگر وہ بھول چکی تھی کہ مقابل کمال کی سماعتیں رکھتا تھا۔۔۔۔ اُس کی سرگوشی باآسانی سن چکا تھا۔۔۔۔
“میں نے تم پر کبھی غصہ نہیں کیا۔۔۔۔ تم مسلسل مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُسے مصنوعی گھوری سے نوازا تھا۔۔۔۔۔
“اچھا اُس رات جو آپ نے۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ بولتے بولتے زبان دانتوں تلے دبا گئی تھی۔۔۔۔ لیکن سمجھنے والا سمجھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ اُس کا اشارہ اُسی رات کی جانب تھا۔۔۔ جب اُسے سجا سنوار کر آژمیر کے پاس بھیحا گیا تھا۔۔۔۔ اور آژمیر اپنی کا اظہار غصے اور جنون کے ذریعے اُس پر اُنڈیل گیا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر کی آنکھوں میں وہ منظر گھوم گئے تھے۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی اُس کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔۔۔۔ حاعفہ کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکتا وہ دور ہوا تھا۔۔۔
جبکہ ایک بار پھر اپنی بے وقوفی پر حاعفہ خود کو کوس کر رہ گئی تھی۔۔۔ بھلا اُس رات کا ذکر کرنا ضروری تھا کیا۔۔۔۔۔
“آئم سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔۔ پلیز آپ مجھ سے مزید خفا نہ ہوں۔۔۔۔۔ آپ نے میری باقی باتیں تو سن لی مگر جو مین بات میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں وہ تو سنی ہی نہیں۔۔۔۔۔”
حاعفہ کی تو جان پر بن آئی تھی اُسے خفا ہوتے دیکھ۔۔۔۔۔ ہمیشہ اُس نے اِس پیارے سے انسان کو ہرٹ کیا تھا۔۔۔ مگر آج وہ اُسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اُس کے لیے کیا تھا۔۔
کچھ پل کے لیے اپنی ساری شرم و حیا بلاطاق رکھتے حاعفہ اُس کے مقابل آتی۔۔۔۔
اُسی کے پیروں پر اپنے مہندی لگے نازک پیر رکھتی، اُس کی گردن میں بازو حمائل کرتی اُس کے بے حد قریب آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
آژمیر مسمرائز سا کھڑا اپنی اِس نازک جان کی کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو اُس کی ناراضگی پر تڑپ اُٹھی تھی۔۔۔۔
یہ پل اُسے اپنی زندگی کا سب سے حسین ترین پل لگا تھا۔۔۔ جب حاعفہ خود اُسے کے اِس قدر قریب آئی تھی۔۔۔۔
آژمیر نے دھیرے سے ہاتھ بڑھاتے اُس کے نازک وجود کو سہارا دیا تھا۔۔۔۔ اُسے ڈر تھا جس طرح وہ کانپ رہی تھی۔۔۔۔ کہیں زمین بوس ہی نہ ہوجائے۔۔۔۔۔
“آپ میری سانسوں میں بستے ہیں۔۔۔۔ میری نادانیوں سے آپ کو لگا کہ میں آپ پر اعتبار نہیں کرتی۔۔۔۔ مگر حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہے۔۔۔۔۔ میں نے اپنی ذات سے بھی زیادہ آپ پر بھروسہ کیا ہے۔۔۔۔ محبت نہیں عشق ہے مجھے آپ سے۔۔۔۔۔ ہمیشہ اِسی ڈر سے نجانے کتنی غلطیاں سرذد کرتی گئی کہ کہیں آپ مجھ سے جدا نہ ہوجائیں۔۔۔۔۔ آپ کو کھونے سے بڑا خوف میرے لیے کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ اب کبھی مجھے خود سے دور نہ کیجئے گا۔۔۔ اور نہ خود کبھی مجھ سے دور جانے کا سوچیئے گا۔۔۔۔ ورنہ آپ کی یہ دیوانی آپ کے بغیر مر جائے گی۔۔۔۔۔”
دیوانہ وار بھیگی نظروں سے اُس کے وجیہہ نقش کو دیکھتی وہ عقیدت بھرے انداز میں اُس کی شہ رگ پر اپنے ہونٹ رکھ گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر بے خود سا اُس کا یہ انوکھا اور بے حد دلفریب انداز دیکھ کر مزید اُس کا دیوانہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ اتنا عظیم انسان بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ جتنا یہ لڑکی اُسے معتبر کر گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر نے اپنی مضبوط بانہیں اُس کے گرد پھیلا کر اُسے اپنے حصار میں اُٹھاتے مضبوط چوڑے سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔ اپنی گردن پر محسوس ہوتا اُس کی نازک کلائیوں کا لمس آژمیر کو پاگل کر رہا تھا۔۔۔۔۔
“میں اِس قدر خوش قسمت انسان ہونگا۔۔۔۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔ تم اِس دل میں کیا مقام رکھتی ہو۔۔۔ شاید یہ کبھی میں لفظوں میں بیان نہ کر پاؤں۔۔۔۔ مگر میری سنگت میں گزارا جانے والا زندگی کا ہر لمحہ تمہیں اُس کا احساس دلاتا رہے گا۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی مدھم مدھم سی نرم گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتا اب مزید اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔۔
اُس کی زندگی اُس کی بانہوں میں دھڑک رہی تھی۔۔۔۔ وہ کنٹرول رکھتا بھی کیوں۔۔۔۔۔
آژمیر نے ہاتھ بڑھا کر حاعفہ کے دوپٹے کی پنیں کھولتے۔۔۔ اُسے بھاری بوجھ سے آزاد کردیا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ اُس کی گرم سانسیں اور بڑھتی گستاخیوں پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔ مگر اُس سے دور ہونے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔۔
“ویسے میں آج بھی اُس رات کی طرح ہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی گردن سے نیکلس نکالتا۔۔۔۔ اُس کی سختی سے دودھیا گردن پر بنے نشانات پر جھکا تھا۔۔۔۔ اُس کے دہکتے لمس اور مونچھوں کی گہری چبھن پر حاعفہ خود میں سمٹی تھی۔۔۔۔۔
وہی آژمیر کے جملے پر اُس نے جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ مطلب ابھی جو وہ ناراضگی جتلائی تھی وہ سب مذاق تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے فوراً اپنی کلائیاں اُس کی گردن سے ہٹائی تھیں۔۔۔۔ لیکن آژمیر کا مضبوط حصار نہیں توڑ پائی تھی۔۔۔۔
“مجھے چینج کرنا ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ جو کچھ دیر پہلے اُس کے آگے بہادری کی داستان رقم کر چکی تھی۔۔۔ اب اُس کے نتائج دیکھ اُس کا گھبراہٹ کے مارے بُرا حال تھا۔۔۔۔
صاف ظاہر تھا۔۔۔ آژمیر آج اُسے کسی طرح بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔
“اوکے وہ بھی کر لینا مگر پہلے مجھے میرے اُن تمام لمحوں کا حساب تو دے دو۔۔۔۔ جو تمہاری جدائی میں تڑپتے گزرے ہیں میرے۔۔۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر حاعفہ نے لرزتی گھنیری پلکوں کی باڑ اُٹھاتے گھبرا کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔ بنا دوپٹے کے آژمیر کے سامنے کھڑا ہونا اُسے سرتاپا لال کرگیا تھا۔۔۔۔
کیونکہ نہ آج آژمیر کی گہری تپش ذدہ شوخ نگاہیں قابو میں تھیں اور نہ ہی اُس کے گستاخیاں کرتے ہاتھ۔۔۔۔۔
“کک کیسا حساب۔۔۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ کے سُرخ لپسٹک سے سجے ہونٹ کپکپائے تھے۔۔۔۔
اُس سے آژمیر کی جانب دیکھا محال ہوا تھا۔۔۔۔۔
“یہ اُس کے لیے جب تم نے اُس شام میری توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی پیشانی کو زخمی کرکے یہ زخم اپنی پیشانی پر سجایا تھا۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی پیشانی کے مٹے مٹے نشان پر لب رکھتے حاعفہ کے ہوش اُڑا دیئے تھے۔۔۔۔ تو مطلب وہ اِس بات سے واقف تھا۔۔۔۔ کہ حاعفہ نے جان بوجھ کر خود کو زخمی کرکے اُسے اپنے قریب لانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کے گال شرم و خفت کے مارے تپ اُٹھے تھے۔۔۔ وہ اِس شخص کی سوچ تک کبھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔۔۔۔
“آپ جانتے تھے۔۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ شرمندگی کے مارے نگاہیں نہیں اُٹھا پائی تھی۔۔۔۔
“تمہارے بارے میں۔۔۔ میں اتنا بے خبر کبھی نہیں تھا جتنا تم مجھے سمجھتی رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
آژمیر نے ہولے سے جھکتے اُس کی نتھ کھولتے سرخ ہوئی اُس کی ستواں ناک پر ہونٹ رکھتے اُس کی بولتی بند کردی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کا دل اِس بُری طرح سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ کہ اُسے لگا ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔۔۔۔
“یہ اُس دن کے لیے جب تم نکاح کے دن۔۔۔۔ مجھے کانٹوں پر لوٹتا چھوڑ کر مجھ سے دور چلی گئی تھی۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کے گلابی گال پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے اُن کی سُرخی مزید بڑھا دی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کے آژمیر کی اِس جان لیوا قربت پر حواس صلب ہوچکے تھے۔۔۔۔ لیکن وہ اب ہمیشہ کے لیے اِنہیں محبت بھری پناہوں میں رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر کو اُس کا یہ شرمایا لجایا انداز مزید بہکنے پر مجبور کررہا تھا۔۔۔۔۔
“ابھی تو شروعات ہے میری جان۔۔۔۔۔ ابھی سے یہ حال ہے۔۔۔۔۔ تم اتنی نازک کیوں ہو۔۔۔۔ کہ تمہیں سختی سے چھونے سے بھی ڈر لگتا ہے مجھے۔۔۔۔۔”
آژمیر کی بات پر حاعفہ کے لبوں پر ایک میٹھی سی شرمیلی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ جسے آژمیر کا چین و قرار لوٹ لیا تھا۔۔۔۔۔ وہ جھکا تھا اور اُس مسکان کو نہایت ہی محبت سے چن لیا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ اِس کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ آژمیر کا گریبان مٹھیوں میں بھینچتے اُس نے اپنی پاگل ہوتی دھڑکنوں اور لرزتے کانپتے وجود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی مدھم ہوتی سانسوں اور سینے پر محسوس ہوتے اُس کے ہاتھوں کے لمس پر آژمیر دلکش مسکراہٹ اُس کی بکھری حالت پر ڈالتا پیچھے ہٹا تھا۔۔۔۔۔
“یہ حساب اُس رات کے لیے جب تم مجھے اِسی طرح ہوش سے بیگانہ کرکے چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی غیر ہوتی حالت کو شوخ نگاہوں کے حصار میں لیے بولا تھا۔۔۔۔۔ جو اُس سے بچنے کے لیے گہرے گہرے سانس لیتی اُسی کی پناہوں میں جا چھپی تھی۔۔۔۔
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔”
حاعفہ کافی دیر بعد بولنے کے قابل ہوئی تھی۔۔۔۔۔ آژمیر کو خفگی بھری نگاہوں سے گھورتے شکوہ کیا تھا۔۔۔۔
“میں بھی اب باتیں کرنے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔”
آژمیر کو اُس کی اِس معصومیت بھری خفگی پر بھی پیار آیا تھا۔۔۔۔۔
“آپ خاموشی سے وہاں بیٹھ جائیں۔۔۔۔ مجھے اب چینج کرنا ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے اگلا حکم صادر کیا تھا۔۔۔۔
“تم مجھے آرڈر دے رہی ہو۔؟؟؟؟؟۔۔۔ مجھے آژمیر میران کو۔۔۔۔؟؟؟؟”
آژمیر نے اُس کے دور ہونے پر اُس کی کلائی تھام کر نرمی سے اُس کی کمر کے گرد موڑتے اُسے اپنے قریب کرتے اپنے مخصوص رعب بھرے انداز میں آنکھیں دکھائی تھیں۔۔۔۔
“جی ہاں۔۔۔۔۔ آپ شاید تھوڑی دیر پہلے کی جانے والی رسم بھول چکے ہیں۔۔۔۔۔ اب آگے کی لائف میں، میں ہی آپ پر حکم چلا سکتی ہوں آپ نہیں۔۔۔۔۔”
حاعفہ بھی دیدہ دلیری سے بولتی اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی۔۔۔۔۔۔آژمیر کی محبت نے اُسے اُس کے سامنے بولنا سیکھا دیا تھا۔۔۔۔
“مجھے عادت نہیں ہے کسی کی سننے کی۔۔۔۔ اور کافی غصہ بھی آتا ہے مجھے۔۔۔۔”
آژمیر نے اُسے اپنے بارے میں ایسے آگاہ کیا تھا جیسے وہ تو کچھ جانتی ہی نہ ہو اُسے کے بارے کے۔۔۔۔
“مگر میری سننے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔۔۔۔۔ لیکن ہاں غصہ کرنے کی اجازت ہے آپ کو۔۔۔۔ کیونکہ۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُس سے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرتے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
“کیونکہ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
آژمیر کا دل حاعفہ کے ہر رُوپ کا دیوانہ ہورہا تھا۔۔۔۔
“کیونکہ غصے میں کافی کیوٹ لگتے ہیں آپ۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کی ٹھوڑی پر لب رکھ کر اُسے اپنے سحر میں اُلجھاتی آژمیر کی گرفت ڈھیلی پڑتے دیکھ اُس کے حصار سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
جبکہ اُس کی اِس چلاکی پر آژمیر کا قہقہ برآمد ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ اُسے آج سے پہلے اپنے بارے میں ایسا جاننے کو کبھی نہیں ملا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کے یہ دلفریب رُوپ اُسے نئے سرے سے حاعفہ کی محبت میں مبتلا کر رہے تھے۔۔۔۔
“اوہ تو میں تمہیں غصے میں کیوٹ لگتا ہوں۔۔۔؟؟؟؟”
حاعفہ کو اپنی جیولری اُتارتا دیکھ وہ سینے پر بازو باندھے اُس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“آپ مجھے ڈسٹرب نہیں کریں گے۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُسے خطرناک تیوروں سے اپنی جانب بڑھتا دیکھ ملتجی لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔۔
“اور جو تم نے ابھی جملہ بول کر مجھے بُری طرح ڈسٹرب کردیا ہے وہ۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرکے اُسے اپنے قریب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ سیدھی اُس کے سینے سے آن ٹکرائی تھی۔۔۔۔
“آژمیر آپ کو اِس بازو پر گولی لگی ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ کو اب خیال آیا تھا۔۔۔۔ کہ وہ کس قدر لاپرواہی برتتا اپنے بازو کو مسلسل حرکت دے رہا تھا۔۔۔۔
“تم نے مجھے کسی اور جانب دھیان دینے کے لائق چھوڑا ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟”
اُس کے جوڑے کی آخری پن کھولتا وہ اُس کی گھنی سیاہ زلفوں کو آبشار کی طرح اُس کی نازک کمر پر بکھیرتے اُن میں چہرا چھپائے مخمور لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
“مگر آپ۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے کچھ بولنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر آژمیر کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے اُس کی آواز حلق میں اٹک کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر اُس پر اپنی شدتیں نچھاوڑ کرتا بانہوں میں اُٹھاتا بیڈ کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُس کی بے پناہ محبت اور وارفتگی پر دوہری ہوتی اُس کے سینے میں پناہ ڈھونڈنی چاہی تھی۔۔۔ جس پر آژمیر اُسے اپنے مزید قریب کرتا نہایت ہی محبت اور چاہت سے اُسے خود میں سمیٹتا اپنی پیاسی تڑپتی بھٹکتی روح کو سیراب کرتا چلا گیا تھا۔۔۔
جدائی اور ہجر کی لمبی مسافتیں طے کرتے آج آخر کار اُن دو محبت کرنے والے کو وصل کی رات نصیب ہوئی تھی۔۔۔۔
آہستہ آہستہ بھیگی رات کٹتی اُن دونوں کو ہمیشہ کے لیے ایک کرگئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@@

جاری ہے۔۔۔۔