No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
حاعفہ کو اُسی طرح ساتھ لگائے وہ شمسہ بیگم اور باقی سب کی جانب پلٹا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ میری زندگی میں آنے والی وہ پہلی اور آخری لڑکی ہے۔۔۔ جس نے مجھے محبت کرنا سکھایا ہے۔۔۔۔ اُس نے مجھے کبھی دھوکا نہیں دیا۔۔۔۔ اکرام حنیف کی بہت بلیک میلنگ کے باوجود بھی وہ میرے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں کرپائی۔۔۔۔ کیونکہ وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔۔۔۔ حاعفہ نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔۔۔۔ ہر تکلیف سے مجھے اور میرے خاندان کو بچا کر اور اُنہیں خود پر جھیل کر اُس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک مضبوط اور سچی لڑکی ہے۔۔۔۔ جسے رشتے نبھانا بھی آتا ہے۔۔۔ اور محبت کرنا بھی۔۔۔۔
میرا اور حاعفہ کا نکاح جن حالات میں ہوا۔۔۔۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ اُس میں۔۔۔ میں آپ سب اپنے اپنوں کو شریک نہیں کرسکا۔۔۔۔ حاعفہ میری بیوی ہے۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں جتنی عزت اور محبت میرے لیے آپ لوگوں کے دلوں میں ہے۔۔۔ اتنی ہی حاعفہ کے لیے بھی ہونی چاہیئے۔۔۔ کیونکہ وہ اِس سب کی حقدار ہے۔۔۔۔ “
آژمیر نے سب کے سامنے حاعفہ کو معتبر کرتے اُس کا جھکا سر اُٹھا دیا تھا۔۔۔ حاعفہ سکتے کے عالم میں یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔۔
اِس شخص سے عشق کی منزلوں سے بھی بہت آگے نکل چکی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔
شمسہ بیگم کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔ اُنہیں اِس لمحے اپنے بیٹے پر بہت زیادہ فخر محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
جو اپنی بیوی کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“مگر جو کچھ زنیشہ نے بتایا وہ۔۔۔۔۔”
سویرا سے یہ منظر دیکھنا کسی صورت برداشت نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ آگے بڑھی تھی۔۔۔۔ مگر آژمیر کی ایک ہی سخت نگاہ اُسے وہیں خاموشی کروا گئی تھی۔۔۔
“اکرام حنیف جیسے گھٹیا شخص کے جھوٹ پر مجھ سمیت آئی تھنک میرے گھر کے کسی بھی فرد کو ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں ہوگا۔۔۔۔ اِس لیے میں نہیں چاہتا گزری باتوں کو دوہرایا جائے۔۔۔۔”
آژمیر جانتا تھا کہ زنیشہ کی کہی باتیں سویرا سمیت باقی سب لوگوں کے دماغ میں بھی ہونگی۔۔۔ اِس لیے وہ سب پر یہ بات بھی واضح کرگیا تھا۔۔۔۔
جس کے بعد حاعفہ پر شک کی کوئی گنجائش نہیں بچتی تھی۔۔۔۔
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ میرے بچوں کی جوڑی سلامت رہے۔۔۔۔ میں بھی سوچتی تھی کہ میرے اِس بے حد وجیہہ بیٹے کے ساتھ بھلا کون سی لڑکی سوٹ کرے گی۔۔۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنی پیاری چاند سی بہو ملے گی مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم آگے بڑھتیں حاعفہ کو اپنے سینے سے لگا گئی تھیں۔۔۔۔ حاعفہ تو ابھی تک سکتے سے باہر ہی نہیں نکل پارہی تھی۔۔۔۔ آژمیر کی جانب والی اتنی بڑی خوشی اُس سے سنبھالی نہیں جارہی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر حاعفہ کو سب کے درمیان چھوڑتا ایک محبت بھری نظر اُس کی گم صم صورت پر ڈالتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ نے سب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جو لوگ کچھ وقت پہلے اُسے حقارت آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ اب آژمیر میران کے یوں معتبر کر دینے پر اُنہیں سب کی آنکھوں میں محبت اور عزت کی جھلک نمایاں تھی۔۔۔۔
زنیشہ اپنی جگہ شرمندہ سی ہوتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
اُسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔ جذبات میں آکر اُس نے حاعفہ کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“آپی آج بہت ہلکا فیل کررہی ہوں۔۔۔ فائنلی آپ کو آپ کا رائٹ مین۔۔۔ رائٹ پلیس پر مل گیا۔۔۔۔ ویسے اگر دنیا کے سارے مرد آژمیر لالہ جیسے ہوجائیں تو کیا ہی اچھا ہو۔۔۔۔۔ بنا ساری حقیقت جانے بھی اُنہوں نے جس طرح آپ پر ٹرسٹ کرکے آپ کو سب لوگوں کے سامنے ڈیفینڈ کیا۔۔۔۔ کیا ہی بات ہے۔۔۔۔ اُن کی نگاہوں میں آپ کے لیے عزت ،اعتبار اور بے پناہ محبت دیکھی ہے میں نے۔۔۔۔ اصل مرد ہی وہی ہوتا ہے۔۔۔ جو اپنی عورت کی عزت کرنا اور کروانا جانتا ہو۔۔۔۔۔”
ماورا اُس کے مقابل بیٹھتی اُس کی چوٹ کی ڈریسنگ کرنے کے لیے فرسٹ ایڈ باکس لیے اُس کی جانب بڑھی ہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جب دروازہ ناک ہوا تھا۔۔۔
“کون…؟؟؟”
ماورا اُٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ مگر سامنے کھڑے آژمیر کو دیکھ وہ حیران ہوئی تھی۔۔۔ لیکن پھر آژمیر کے سنجیدہ تیور دیکھ بنا کچھ بولے سائیڈ پر ہوئی تھی۔۔۔۔
“آؤٹ۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے ہاتھ سے باکس لیتا نرمی سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کا نرم انداز بھی ماورا کو اچھا خاصا خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔
“اُف اللہ جی۔۔۔۔ یہ کتنے سڑیل ہیں۔۔۔۔ باہر جانے کو ایسے بولا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں سے مجھے دھکے مار کر نکال رہے ہوں۔۔۔۔ “
ماورا یوں کمرے سے نکالے جانے پر منہ بسورتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ جو گزرے لمحوں کے سحر میں جکڑی بیٹھی تھی۔۔۔ ماورا کو دروازے سے نہ پلٹتا دیکھ اُس نے نظریں گھما کر اُس جانب دیکھا تھا۔۔۔
جہاں کھڑے آژمیر کو دیکھ اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر ہاتھ میں باکس تھامے اُس کے قریب آن بیٹھا تھا۔۔۔۔
“خود کو ہرٹ کرنے کی عادت گئی نہیں نا ابھی تک تمہاری۔۔۔۔”
آژمیر نے سرد خفگی بھری نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کی بولتی تو ویسے ہی آژمیر کے سامنے بند ہوجاتی تھی۔۔۔۔ اِس وقت تو اُس کی حالت ویسے ہی بہت خراب تھی۔۔۔۔
اُس نے کچھ بولنا چاہا تھا مگر اُس کی آواز نے ساتھ نہیں دیا تھا۔۔۔۔ نازک گلابی لب کپکپا کررہ گئے تھے۔۔۔۔ آژمیر کی گہری نگاہوں نے دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔
وہ بنا مزید کچھ بولے اُس کی ڈریسنگ کرنے لگا تھا۔۔۔ جیسے وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ کی چوٹ پر مرہم لگانا صرف آژمیر میران ہی جانتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ یک ٹک دیوانہ وار نگاہوں سے اُس کے دلکش مغرور نقوش سے سجے چہرے کو تکنے لگی تھی۔۔۔۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔”
کافی دیر بعد حاعفہ بامشکل بول پانے کے قابل ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔”
ْآژمیر کا وہی سرد انداز دیکھ حاعفہ کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
“آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔۔”
پیشانی پر محسوس ہوتا اُس کی اُنگلیوں کا لمس حاعفہ کو الگ دنیا میں پہنچا گیا تھا۔۔..
آژمیر کی ناراضگی کا خیال اُسے تڑپا گیا تھا۔۔۔۔
“تمہیں فرق پڑتا ہے۔۔۔۔ “
آژمیر کی بات پر حاعفہ نے شاید پہلی بار شکوہ کناں نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
اُسے زندگی میں اپنی سانسوں سے بھی زیادہ آژمیر میران کے ایک ایک عمل سے فرق پڑتا تھا۔۔۔ مگر یہ بھی سچ تھا کہ اس نے نہ ہی آج تک اِس شخص کو اپنے عشق کی گہرائیوں سے آگاہ کیا تھا۔۔۔ اور نہ ہی کبھی اُسے اعتبار کا مان سونپا تھا۔۔۔۔
“آژمیر۔۔۔۔۔”
آژمیر کو اپنا کام کمپلیٹ کرکے اُٹھتا دیکھ حاعفہ نے نہایت ہی آہستہ آواز میں اُسے پکارا تھا۔۔۔
جس پر وہ رُکا تھا مگر پلٹا نہیں تھا۔۔۔۔
“مجھے بہت فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ جو دل میں نجانے کیا کیا اقرار کرچکی تھی۔۔۔ آژمیر کے مقابل آتے اُس کی شخصیت کے رعب میں ہمیشہ کچھ بول نہیں پاتی تھی۔۔۔
اب بھی ادھورا جملہ بولتے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
جو آژمیر کو شدید غصہ دلا گئے تھے۔۔۔۔
آژمیر نے اُس کی نازک کمر کو اپنے بازو کے شکنجے میں جکڑتے اپنے بے انتہاہ قریب کرلیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اِس عمل کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔ آژمیر کے اتنے قریب آجانے پر اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ آژمیر کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے اُس کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں۔۔۔۔
لیکن آژمیر کا اگلا عمل پل بھر کے لیے اُس کی سانسیں روک گیا تھا۔۔۔۔ جب آژمیر نے جھک کر اُس کی گالوں پر لڑھکے آنسو ہونٹوں سے چن لیے تھے۔۔۔۔
اُس کے شدت بڑھے لمس پر اُس کی مونچھوں کی چھبن حاعفہ کو جی جان سے لرزا گئی تھی۔۔۔۔ آژمیر میران کی قربت ہمیشہ اُس کی نازک جان پر بھاری ثابت ہوتی تھی۔۔۔۔۔
“آج کے بعد میں یہ آنسو نہ دیکھوں۔۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو جس انداز میں، میں چپ کرواؤں گا وہ تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔ “
ْآژمیر کے لمس میں چھپی وارننگ تو وہ پہلے ہی جی جان سے سمجھ چکی تھی۔۔۔ اب اُس کے ادا کیے الفاظ اپنا باقی کا کام بھی کرگئے تھے۔۔۔۔
“آژمیر میران کی بیوی ہو تم۔۔۔۔ کسی سے ڈرنے یا جھکنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔ ڈرنا ہے تو صرف میری محبت کی شدتوں سے ڈرنا۔۔۔۔ کیونکہ وہ سہنا تمہارے لیے بہت مشکل امر ہونے والا ہے۔۔۔”
اُس کے کان کی لوح کو دانتوں سے دباتے وہ حاعفہ کی رہی سہی جان بھی نکال گیا تھا۔۔۔۔ اگر حاعفہ اُس کے سہارے نہ کھڑی ہوتی تو اب تک زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔۔۔
اُس کا دل تیز رفتاری سے دھڑکتا باہر آنے کو تیار تھا۔۔۔۔
آژمیر اُس کے شرم و حیا سے لال ہوئے حسین چہرے کو آنکھوں میں قید کرتا اُس سے دور ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن اُس کے وہاں سے جانے سے پہلے ہی حاعفہ اُس کا بازو اپنی نازک گرفت میں تھام گئی تھی۔۔۔۔
“آپ ناراض ہیں مجھ سے۔۔۔۔”
حاعفہ کو ابھی تک یہی فکر ستائے جارہی تھی۔۔۔۔
جو سچ بھی نکلی تھی۔۔۔۔
“میری بیوی مجھ پر اعتبار نہیں کرتی کیا اِس بات پر میرا ناراض ہونا بھی نہیں بنتا۔۔۔۔ تم دو بار مجھ پر اعتبار نہ کرکے خود کو خطرے میں ڈال چکی ہو۔۔۔۔ جس پر میرا غصہ کس قدر بڑھ چکا ہے۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔ اور نہ میں اِس کے لیے تمہیں معاف کروں گا۔۔۔۔”
آژمیر حاعفہ کے سامنے اپنی ناراضگی کی وجہ واضح کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
وہ حاعفہ کی وجہ سے ہرٹ تھا۔۔۔۔ اور شدید ناراض بھی۔۔۔۔ یہ بات تو حاعفہ اُس کے لمس سے ہی سمجھ گئی تھی۔۔۔۔ وہ بن کہے بھی اپنے محبوب ترین شخص کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
“مجھے معاف کردو۔۔۔۔ میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ مگر اُس ٹائم جو کچھ تمہارے منہ سے لالہ کے بارے میں سنا میں وہ برداشت نہیں کر پائی۔۔۔ سگا بھائی نہ ہونے کے باوجود لالہ نے آج تک سگوں سے کئی گنا بڑھ پر پیار دیا ہے مجھے۔۔۔۔ میں اُن کی تکلیف نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔ اِس لیے بنا تصدیق کیے وہ سب بول دیا تمہیں۔۔۔۔ جس پر میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں۔۔۔ بہت ہرٹ کیا میں نے تمہیں۔۔۔۔ پلیز جتنا غصہ ہونا ہے، ڈانٹنا ہے، ڈانٹ لو۔۔۔۔ مگر مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔ “
زنیشہ حاعفہ کے سامنے ہاتھ جوڑے شرمندگی سے سر جھکائے بولتی اپنی تھوڑی دیر پہلے کی گئی غلطی کی معافی مانگتے بولی تھی۔۔۔
“زنیشہ یہ کیا کررہی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ میں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں تم سے۔۔۔۔ میں جانتی ہوں تم نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ وہ سب نیچرلی عمل تھا۔۔۔۔ کوئی بھی بہن اپنے بھائی کے بارے میں وہ الفاظ برداشت نہیں کرسکتی جو میں نے ادا کیے۔۔۔۔۔ “
حاعفہ اُس کے ہاتھ تھام کر محبت سے بولتی اُس کی شرمندگی ختم کر گئی تھی۔۔۔۔
“تم بہت محبت کرتی ہو نا لالہ سے۔۔۔۔۔ میں کتنی بے وقوف ہوں۔۔۔۔ میری بھابھی میرے سامنے تھی اور میں پہچان ہی نہیں پائی۔۔۔۔ ویسے ایک دو بار تم پر لالہ کی نگاہیں نوٹ کی تھیں میں نے۔۔۔۔ مگر پھر اُسے اپنا وہم سمجھ کر اگنور کردیا۔۔۔۔”
زنیشہ حاعفہ کی فراخ دلی پر اُس سے متاثر ہوئی تھی۔۔۔۔ اِس لڑکی سے بہتر اُس کے لالہ کے ساتھ پرفیکٹ میچ اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔
“کیا واقعی…؟؟؟؟”
حاعفہ کو زرا بھی یقین نہیں آیا تھا زنیشہ کی بات پر۔۔۔۔
“ہاں سچی۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کہ اگر لالہ محبت کریں گے تو ایسی ہی ہوگی۔۔۔۔ دھواں دھار شدتوں بھری۔۔۔۔ ویسے وہ آپ کے معاملے میں کافی پوزیسو بھی ہیں۔۔۔۔ بہت سے واقعات اب آہستہ آہستہ زہن میں کلیئر ہورہے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ کی باتیں سن کر حاعفہ اپنے آپ کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی آژمیر کے ابھی تھوڑی دیر پہلے کے الفاظ یاد کرکے اُس کی دھڑکنیں بے قابو ہوئی تھیں۔۔۔۔
“ارے اِس روٹھنے منانے کو اب بریک لگائیں۔۔۔۔ اور جلدی سے اپنے حلیے درست کریں۔۔۔۔ آپ دونوں لیڈیز کی ابھی تھوڑی دیر میں مہندی کی رسم کی جانی ہے۔۔۔۔۔۔ اور ہاں حاعفہ آپی آپ کے لیے ایک بہت امیزنگ نیوز ہے۔۔۔۔ کل زنیشہ کے ساتھ ساتھ آپ کے پیا بھی آپ کو رخصت کروانے کا نیک ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ بڑوں کے درمیان سارے معاملات طے پاچکے ہیں۔۔۔۔۔۔”
ماورا دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی دونوں کے سر پر بم پھوڑ گئی تھی۔۔۔۔ زنیشہ تو اب سارا حلیہ خراب ہونے کے بعد مہندی کا سن کر خفگی کا شکار ہوئی تھی۔۔۔۔ جبکہ کل ہی کل رخصتی کا سن کر حاعفہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
“مگر مجھ سے تو کسی نے پوچھا ہی نہیں۔۔۔۔۔”
حاعفہ صدمے کی کیفیت میں بولی تھی۔۔۔۔
“آپ کو لگتا ہے آپ کے اُن مسٹر ہٹلر نے کسی اور سے پوچھا ہوگا۔۔۔۔۔ یا کسی کی چلنے دی ہوگی۔۔۔۔ اُن کے آج کے تیور دیکھ کر تو مجھے لگ رہا تھا کہ آج ہی اُٹھا کر لے جائیں گے آپ کو ساتھ۔۔۔۔۔”
ماورا کو اُن دونوں کی اُڑی رنگت دیکھ بہت مزا آیا تھا۔۔۔۔ خاص کر حاعفہ کو دیکھ کر۔۔۔۔ اُس کی ٹانگ کھینچنے پر زنیشہ نے بھی مسکراتے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
“آپ کی بھی جو مسکراہٹیں نکل رہی ہیں نا۔۔۔۔ نیچے اُس بڑوں کی محفل میں آپ کے سیاں بھی بھی شریک ہیں۔۔۔۔”
ماورا کی اِس نئی اطلاع پر زنیشہ کی بھی آنکھیں گھومی تھیں۔۔۔۔
“کیوں سب خیریت ہے۔۔۔۔؟؟؟ زوہان اِس وقت یہاں کیا کررہے ہیں۔۔۔؟؟؟”
اب ہوائیاں اُڑنے کی باری زنیشہ کی تھی۔۔۔۔
“کیا پتا آپ کو مہندی لگانے کے لیے۔۔۔۔۔”
ماورا اپنی مستیوں سے باز نہ آتی اُسے چھیڑ گئی تھی۔۔۔۔
“میری دعا ہے بہت جلدی ہمیں بھی ایسا کوئی زبردست سا موقع مل جائیں۔۔۔۔ پھر دیکھنا تم سارے بدلے لینگی ہم گن گن کے۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے شرارتاً اُسے دھمکی دیتے کہا تھا۔۔۔۔ اِس بات سے انجان کے اُس کے کہے الفاظ بہت جلد پورے ہونے والے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“جن جن شہروں کی میں نے نشاندہی کی ہے۔۔۔۔۔ اُس کے کونے کونے میں پھیل جاؤ۔۔۔۔ اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر مجھے رزلٹ چاہیے۔۔۔۔۔ اگر تم نے اور تمہاری ٹیم نے یہ کردیکھایا تو منہ مانگی قیمت ادا کروں گا میں۔۔۔۔”
منہاج واپس آچکا تھا۔۔۔۔ اور واپس آتے ہی اُس نے ایک سپیشل ایجنسی کی ایک ٹیم کو ہائر کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ جلد از جلد ماورا تم پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔۔۔
اُس کا دل کس قدر تکلیف میں تھا۔۔۔۔ وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
اگر ماورا کسی پرابلم میں نہیں تھی اور اُس نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تو منہاج اُسے کسی صورت بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ چاہتا تھا ایسا ہی کچھ ہو۔۔۔۔۔
ماورا بہت تڑپا رہی ہو مجھے۔۔۔۔ کاش تمہیں اندازہ ہوپاتا کہ میں کس قدر تکلیف میں ہوں تو تم مجھ سے یوں دور کبھی نہ جاتی۔۔۔۔
منہاج خود سے ہمکلام ہوتا۔۔۔۔۔ آنکھوں میں اُتر آئی نمی کو اندر دھکیل وہ اذیت کا شکار تھا۔۔۔۔
“جی سر ہم اپنی پوری جی جان لگا دیں گے میڈم کو ڈھونڈنے میں۔۔۔۔ “
اُس کی ہدایت پر وہ شخص سر ہلاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
“منہاج وہ لڑکی تمہاری قسمت میں ہوئی تو تمہیں ضرور ملے گی۔۔۔۔ تم اِس طرح خود کو ہلکان مت کرو۔۔۔۔”
منہاج کو صبح سے اَن گنت سیگریٹ پیتا دیکھ اُس کے سامنے بیٹھے شہاب درانی اب کی بار خاموش نہیں رہ پائے تھے۔۔۔۔
“تو اور کیا کروں بابا۔۔۔۔ “
منہاج خود اذیتی سے بولا تھا۔۔۔
“میرے اور شہریار کے ساتھ قاسم کی بیٹی کی شادی میں چلو۔۔۔۔ وہاں کا کلچر اور روایات دیکھ تمہارا موڈ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ بہت ہی اچھے اور ملنسار لوگ ہیں۔۔۔۔ اُن سے مل کر بہت اچھا لگے گا تمہیں۔۔۔۔”
شہاب درانی اُسے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا۔۔۔۔۔ آپ لوگ جائیں انجوائے کریں۔۔۔۔”
منہاج صاف انکار کرتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔ شہاب درانی نے دکھ بھری نظروں سے اُسے جاتے دیکھا تھا۔۔۔۔ اُن کا دل شدت سے دعا گو تھا کہ اُن کے بیٹے کو اُس کی محبت جلد مل جائے۔۔۔۔۔ وہ اُسے مزید اس حال میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ کزنز کی مدد سے دوبارہ تیار ہوچکی تھی۔۔۔۔ نئے پھولوں کے گجرے پہنے وہ مہندی کے گرین اور اورنج امتزاج کے پیروں تک آتے لانگ بھاری کامدار فراک میں نازک سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔۔ جس کا پنک دوپٹہ اُس نے پیچھے سے سر پر اوڑھ رکھا تھا۔۔۔۔۔ اُس کا رعنائیاں بکھیرتا دلکش نازک وجود بے پناہ دلفریب لگ رہا تھا۔۔۔
جیولری اور میک اپ نے اُس کے حسین رُوپ کو مزید نکھار دیا تھا۔۔۔۔۔
فجر نے اُس کی پکس بنا کر اُسے سینڈ کردی تھیں۔۔۔۔ جنہیں دیکھتے زنیشہ نے نجانے کس احساس کے تحت ایک فل پک زوہان کے نمبر پر سیکنڈ کردی تھی۔۔۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اپنی حرکت پر خود کو ڈپٹتے ڈیلیٹ کرنی چایی تھی۔۔۔۔ مگر تب تک وہ سین کرلی گئی تھی۔۔۔
گہرا صدمہ اور شدید غصہ تو اُسے تب آیا تھا جب زوہان نے تصویر سین کرلینے بعد بھی کوئی رپلائے نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی زنیشہ کا موڈ سخت آف ہوا تھا۔۔۔۔
“کس قدر کھڑوس اور گھمنڈی شخص ہے۔۔۔۔۔ ایک طرف میرے حصے کی گولی کھانے بیچ میں گود پڑتا ہے۔۔۔ اور دوسری طرف یہ اٹیٹوڈ۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں سے زیادہ نخریں ہیں۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوگا میرا۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی ابھی تکلیف کیا تھی مجھے، کیوں بھیجی میں نے اپنی پک۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے جلنے کڑھنے کے ساتھ ساتھ پک بھی ڈیلیٹ کردی تھی۔۔۔۔ زوہان اُسے آن لائن ہی شو ہورہا تھا۔۔۔۔ شاید وہ اُس کی یہ حرکت نوٹ کرچکا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ موبائل غصے سے وہیں پھینکتی باہر نکل گئی تھی۔۔۔ جب اُسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
