No Download Link
Rate this Novel
Episode 61
“بی بی جی آپ یہاں۔۔۔۔؟؟؟”
حاکم زنیشہ کو زوہان کے وائٹ کاٹیج میں آتا دیکھ بوکھلا گیا تھا۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا پیچھے کھڑے ڈرائیور کا بھیجہ اُڑا دے۔۔۔ جو بنا اُسے بتائے زنیشہ کو یہاں لے آیا تھا۔۔۔۔
اب زوہان کے ہاتھوں اُس کی ٹانگیں تو ٹوٹنے ہی والی تھیں۔۔۔۔
“مجھے دیکھ کر اتنے گھبرا کیوں رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟ “
زنیشہ نے اپنی سیاہ شال درست کرتے اُسے کٹیلی نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔
“سر تو یہاں نہیں ہیں۔۔۔ پھر آپ یہاں۔۔۔۔”
زوہان کے ساتھ مل کر بڑے بڑے دشمنوں کی چالیں اُنہیں پر پلٹ دینے والا زوہان کا خاص ملازمہ اُس کی بیوی کے آگے بالکل ہی بوکھلا چکا تھا۔۔۔
کیونکہ اُسے زوہان کے نزدیک اِس لڑکی کی اہمیت کا اچھے سے اندازہ تھا۔۔۔۔
“میں نے کب کہا۔۔۔ کہ میں تمہارے سر سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ میں تو اپنے شوہر کا یہ دوسرا گھر دیکھنے آئی ہوں۔۔۔”
زنیشہ اُس کے لڑکھڑاتے لہجے سے ہی سمجھ گئی تھی کہ زوہان اندر تھا۔۔۔۔
“بی بی جی وہ اندر کنسٹرکشن کا کام چل رہا ہے۔۔۔۔ “
حاکم کو سمجھ نہیں آریا تھا کیا بہانہ بنائے۔۔۔۔
حاکم کی لاکھ کوششوں کے باوجود اُس کی ایک نہ سنتی۔ زنیشہ اندر داخل ہوچکی تھی۔۔۔۔
جہاں ہر طرف چھایا سناٹا دیکھ اُس کا دل ہول کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
“زوہان کہاں ہیں۔۔۔۔؟ مجھے بتا دو ورنہ اُنہیں ڈھونڈ تو میں لوں گی ہی سہی۔۔۔۔”
زنیشہ کے انداز سے زوہان کی صحبت کا اثر واضح چھلک رہا تھا۔۔۔۔ جو زوہان کی طرح بات بعد میں کررہی تھی۔۔۔ اور دھمکیاں پہلے دے رہی تھی۔۔۔۔
“سٹڈی روم میں۔۔۔۔”
حاکم مری مری آواز میں جواب دیتا اپنی اِس ضدی مالکن کے آگے ہار مان گیا تھا۔۔۔۔ جو نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک زخمی شیر کی کھچاڑ میں گھسنے جارہی تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ سٹڈی کا دروازہ دھکیلتے اندر پھیلی نیم تاریکی کو دیکھا تھا۔۔۔ زوہان کا اِس طرح خود کو تاریکیوں کی نظر کرتا دیکھ زنیشہ کی تکلیف میں اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
“کون۔۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان ہلکی سے آہٹ پر آنکھیں کھولتا غضبناکی کا شکار ہوتا دھاڑا تھا۔۔۔۔
زنیشہ تو اُس کے اتنے غصے پر خوف سے کانپ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ ایک پل کے لیے اُس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے یہیں سے واپس پلٹ جانا چاہا تھا۔۔۔ لیکن پھر خود کو تیار کرتی آگے بڑھ کر لائٹس آن کر گئی تھی۔۔۔۔
پل بھر میں پورا کمرہ روشنیوں میں نہا گیا تھا۔۔۔
زنیشہ کو وہاں دیکھ زوہان پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا۔۔۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو۔…..؟”
زوہان فوراً اجنبی بنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“کیا مطلب میں یہاں کیوں آئی ہوں؟۔۔۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو اکیلا چھوڑوں گی۔۔۔۔؟”
زنیشہ اُس کے سرد لہجے کی پرواہ کیے بغیر اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کی جانب سے رُخ موڑ لیا تھا۔۔ جبکہ اُس کے اتنے اجنبی انداز پر زنیشہ کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔
“ْآپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟؟؟ جب دل چاہا مجھے اپنے قریب کرلیا۔۔۔۔ جب دل چاہا دور کردیا۔۔۔ کیا کوئی بےجان کھیلونا سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔ اگر ایسا ہی برتاؤ رکھنا تھا تو رہنے دیتے وہاں میران پیلس میں۔۔۔۔ کیوں لائے مجھے اپنے قریب۔۔۔۔
جس طرح آپ مجھ سے اپنی نگاہیں چُرا رہیں ہیں۔۔۔ اُس سے صاف ظاہر ہے۔۔۔ کہ آپ کو مجھ سے رشتہ جوڑ کر پچھتاوا ہورہا ہے۔۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں آپ کی یہ غلطی سدھار دیتی ہوں۔۔۔ واپس جارہی ہوں میں میران پیلس۔۔۔۔ بیٹھیں یہاں آپ اپنی تنہائی کے ساتھ۔۔۔۔”
زنیشہ ایک ہی سانس میں بولتی ملک زوہان کے شدید ترین غصے کو ہوا دے گئی تھی۔۔۔۔
زوہان نے اُس کی جانب بڑھتے اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو تم؟؟؟… تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟ اگر دوبارہ ایسی فضولیات بولنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے اپنے قریب تر کرتا۔۔۔۔ بُری طرح برسا تھا اُس پر۔۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسوں سے زنیشہ کو اپنا چہرا جلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ دل ہی دل میں اپنا پلان کامیاب ہونے پر مسکائی تھی۔۔۔۔ زوہان کو پوری طرح خود میں اُلجھانے کا اُس کا پلان کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
زنیشہ کو وہاں دیکھ زوہان پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا۔۔۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو۔…..؟”
زوہان فوراً اجنبی بنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“کیا مطلب میں یہاں کیوں آئی ہوں؟۔۔۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو اکیلا چھوڑوں گی۔۔۔۔؟”
زنیشہ اُس کے سرد لہجے کی پرواہ کیے بغیر اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کی جانب سے رُخ موڑ لیا تھا۔۔ جبکہ اُس کے اتنے اجنبی انداز پر زنیشہ کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔
“ْآپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟؟؟ جب دل چاہا مجھے اپنے قریب کرلیا۔۔۔۔ جب دل چاہا دور کردیا۔۔۔ کیا کوئی بےجان کھیلونا سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔ اگر ایسا ہی برتاؤ رکھنا تھا تو رہنے دیتے وہاں میران پیلس میں۔۔۔۔ کیوں لائے مجھے اپنے قریب۔۔۔۔
جس طرح آپ مجھ سے اپنی نگاہیں چُرا رہیں ہیں۔۔۔ اُس سے صاف ظاہر ہے۔۔۔ کہ آپ کو مجھ سے رشتہ جوڑ کر پچھتاوا ہورہا ہے۔۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں آپ کی یہ غلطی سدھار دیتی ہوں۔۔۔ دل بھر گیا ہے آپ کا مجھ سے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔واپس جارہی ہوں میں میران پیلس۔۔۔۔ بیٹھیں یہاں آپ اپنی تنہائی کے ساتھ۔۔۔۔”
زنیشہ ایک ہی سانس میں بولتی ملک زوہان کے شدید ترین غصے کو ہوا دے گئی تھی۔۔۔۔
زوہان نے اُس کی جانب بڑھتے اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو تم؟؟؟… تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟ اگر دوبارہ ایسی فضولیات بولنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے اپنے قریب تر کرتا۔۔۔۔ بُری طرح برسا تھا اُس پر۔۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسوں سے زنیشہ کو اپنا چہرا جلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ دل ہی دل میں اپنا پلان کامیاب ہونے پر مسکائی تھی۔۔۔۔ زوہان کو پوری طرح خود میں اُلجھانے کا اُس کا پلان کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
“تو اور کیا کہوں۔۔۔۔ جو آپ مجھے محسوس ہوگا وہی بولوں گی نا۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی لال آنکھیں دیکھ اندر ہی اندر خوف سے کانپ گئی تھی۔۔۔۔ مگر اُسے اپنے اِس آندھی طوفان بنے شوہر کو کیسے قابو کرنا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔۔
“تمہیں کیسے لگا کہ میرا دل بھر گیا ہے تم سے۔۔۔۔ یا میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرکے پچھتا رہا ہوں۔۔۔ تم یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہو۔۔۔۔”
زوہان کو اُس کے ادا کیے جانے والے الفاظ پاگل کررہے تھے۔۔۔۔ اُس کے سامنے اگر زنیشہ کی جگہ کوئی اور آکر ایسی گستاخی کرتا تو اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا۔۔۔۔۔
“میران پیلس والوں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ہے۔۔۔۔ تم مجھے چھوڑ کر اُن کے پاس جانا چاہتی ہو۔۔۔۔”
اُس کے بالوں کی گدی پر ہاتھ کی مضبوط گرفت رکھتے اُس نے زنیشہ کا چہرا اپنے چہرے کے بے حد قریب کررکھا تھا۔۔۔ اتنا کہ دونوں کی سانسیں اُلجھنیں لگی تھیں۔۔۔
“میں نہیں جانا چاہتی وہاں۔۔۔۔ آپ چاہیں گے تو کبھی نہیں جاؤں گی وہاں۔۔۔۔۔ آپ کے پاس آنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ کے قریب رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ مجھ سے اجنبیت برت رہے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے خود سے دور رکھ رہے ہیں۔۔۔۔ “
زنیشہ نے اُس کا چہرا تھامتے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔
“چھوڑ سکتی ہو میری خاطر اُن سب کو۔۔۔۔؟؟؟؟ میران پیلس کے ہر فرد سے۔۔۔۔ آژمیر میران سے رشتہ توڑ سکتی ہو میری خاطر۔۔۔۔۔؟؟؟ “
زوہان اُس سے سوال کرتا ستہزایہ لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
“تم مجھے چھوڑ سکتی ہو۔۔۔ مگر اُنہیں نہیں۔۔۔۔ تم جانتی ہو اُن لوگوں سے اتنی نفرت کے باوجود آج تک تمہیں اِس دوہرائے پر کیوں نہیں لایا میں۔۔۔ اِس خوف سے کیونکہ میں جانتا ہوں تم مجھے چھوڑ دو گی۔۔۔۔۔ تم سے لیے جانے والے امتحان میں ہار میری ہوگی۔۔۔ “
زوہان زخمی نگاہوں سے اُسے دیکھتا اپنا مذاق اُڑاتے بولتا اُسے خود سے دور کرگیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ غم کی مورت بنی اپنی جگہ ساکت ہوچکی تھی۔۔۔۔
زوہان اندر ہی اندر خود کو اتنی اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔۔۔ اور وہ لاعلمی کا شکار۔۔۔ ہر بار اپنی ضد اود نادانی میں اُسے کیا کیا باتیں بول کر ہرٹ کرتی آئی تھی۔۔۔۔
اُسے آژمیر کے رخصتی سے کچھ دیر پہلے کے ادا کیے جانے والے الفاظ یاد آئے تھے۔۔۔۔
“زوہان کا خیال رکھنا زنیشہ۔۔۔ دنیا کے سامنے وہ خود کو جتنا بے حس اور سخت دل ظاہر کرتا ہے۔۔۔ حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہے۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو اپنی ماں کو نہ بچا پانے کا قصور وار سمجھتے۔۔۔۔ خود کو سزا دے رہا ہے۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔ اُسے سنبھال لینا۔۔۔۔ مجھ سے نفرت نہیں کرتا وہ۔۔۔۔ ہاں مگر شدید غصہ ہے۔۔۔۔ اور مجھ سے بہتر اُس کے غصے سے کوئی واقف نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے کبھی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیگا۔۔۔۔ اِس لیے دشمنی کا سہارا لے کر ہی۔۔۔ میں اُس کے ساتھ جُرا ہوا ہوں۔۔۔۔ لیکن تم سے بہت محبت کرتا ہے وہ۔۔۔۔ تم ہی وہ واحد ہستی ہو۔۔۔ جو اُسے اُس اذیت سے باہر نکالنے کی ہمت اور حق دونوں رکھتی ہو۔۔۔۔ وہ تمہیں کبھی خود سے دور نہیں کرے گا۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس وقت انتہائی بے یقینی سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ اُس نے ہمیشہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے جان لیوا دشمنوں کے رُوپ میں دیکھا تھا۔۔۔۔ دونوں آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت سجا کر پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو بھی بے وقوف بنائے ہوئے تھے۔۔۔۔
جبکہ حقیقت تو یہ تھی۔۔۔۔۔ جس نے زنیشہ کو سن کردیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کے کانوں میں آژمیر کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔۔ جن کی وجہ سے اُسے فیصلہ کرنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئی تھی۔۔۔۔
“میں جانتا تھا تم مجھے چھوڑ دو گی مگر اُنہیں نہیں۔۔۔۔”
زوہان اُس کی گہری خاموشی پر اُس پر ایک تلخ نگاہ ڈالتا اُس کے پاس سے گزرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔
“آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔ ہر بات کا علم ہے آپ کو۔۔۔ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔ یہ بھی جانتے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ ہوش میں آتے اُس کے پیچھے لپکی تھی۔۔۔۔
لیکن زوہان اُس کی بات پر کان بند کرتا تیز قدموں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کی اِس قدر روڈنیس پر ڈبڈبائی آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔ جو سیڑھیاں اُتر رہا تھا۔۔۔۔
زوہان اُس کا فیصلہ سننے سے پہلے ہی وہاں سے ہٹ جانا چاہتا تھا۔۔۔۔ ابھی وہ سیڑھیوں کے وسط میں ہی پہنچا تھا۔۔۔ جب زنیشہ کی دلخراش چیخ پر زوہان نے تڑپ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کا پیر سیڑھیوں سے پھسل چکا تھا۔۔۔۔ وہ سر کے بل سیڑھیوں پر لڑھکنے ہی والی تھی جب زوہان ایک ہی جست میں دو دو تین زینے ایک ساتھ پھلانگتا اُس کو دوسری سیڑھی پر ہی تھام گیا تھا۔۔۔
زنیشہ اپنے پیر کو پکڑے بُری طرح رو دی تھی۔۔۔ اُس کا پیر شاید مُڑ گیا تھا۔۔۔ زوہان کی تو جیسے جان پر بن آئی تھی۔۔۔۔
وہ خود کو کوستا زنیشہ کو پوری احتیاط سے اُٹھاتا اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اپنی ایکٹنگ پر خود کو داد دیتی زوہان کو دور جانے سے روک چکی تھی۔۔۔۔ بنا یہ سوچے کہ اگر زوہان کو اُس کے جان بوجھ کر گرنے والے اِس ڈرامے کا پتا چل جاتا تو اُس کی کیسی شامت آنی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“بی بی جی آپ یہاں۔۔۔۔؟؟؟”
حاکم زنیشہ کو زوہان کے وائٹ کاٹیج میں آتا دیکھ بوکھلا گیا تھا۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا پیچھے کھڑے ڈرائیور کا بھیجہ اُڑا دے۔۔۔ جو بنا اُسے بتائے زنیشہ کو یہاں لے آیا تھا۔۔۔۔
اب زوہان کے ہاتھوں اُس کی ٹانگیں تو ٹوٹنے ہی والی تھیں۔۔۔۔
“مجھے دیکھ کر اتنے گھبرا کیوں رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟ “
زنیشہ نے اپنی سیاہ شال درست کرتے اُسے کٹیلی نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔
“سر تو یہاں نہیں ہیں۔۔۔ پھر آپ یہاں۔۔۔۔”
زوہان کے ساتھ مل کر بڑے بڑے دشمنوں کی چالیں اُنہیں پر پلٹ دینے والا زوہان کا خاص ملازمہ اُس کی بیوی کے آگے بالکل ہی بوکھلا چکا تھا۔۔۔
کیونکہ اُسے زوہان کے نزدیک اِس لڑکی کی اہمیت کا اچھے سے اندازہ تھا۔۔۔۔
“میں نے کب کہا۔۔۔ کہ میں تمہارے سر سے ملنے آئی ہوں۔۔۔ میں تو اپنے شوہر کا یہ دوسرا گھر دیکھنے آئی ہوں۔۔۔”
زنیشہ اُس کے لڑکھڑاتے لہجے سے ہی سمجھ گئی تھی کہ زوہان اندر تھا۔۔۔۔
“بی بی جی وہ اندر کنسٹرکشن کا کام چل رہا ہے۔۔۔۔ “
حاکم کو سمجھ نہیں آریا تھا کیا بہانہ بنائے۔۔۔۔
حاکم کی لاکھ کوششوں کے باوجود اُس کی ایک نہ سنتی۔ زنیشہ اندر داخل ہوچکی تھی۔۔۔۔
جہاں ہر طرف چھایا سناٹا دیکھ اُس کا دل ہول کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
“زوہان کہاں ہیں۔۔۔۔؟ مجھے بتا دو ورنہ اُنہیں ڈھونڈ تو میں لوں گی ہی سہی۔۔۔۔”
زنیشہ کے انداز سے زوہان کی صحبت کا اثر واضح چھلک رہا تھا۔۔۔۔ جو زوہان کی طرح بات بعد میں کررہی تھی۔۔۔ اور دھمکیاں پہلے دے رہی تھی۔۔۔۔
“سٹڈی روم میں۔۔۔۔”
حاکم مری مری آواز میں جواب دیتا اپنی اِس ضدی مالکن کے آگے ہار مان گیا تھا۔۔۔۔ جو نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک زخمی شیر کی کھچاڑ میں گھسنے جارہی تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ سٹڈی کا دروازہ دھکیلتے اندر پھیلی نیم تاریکی کو دیکھا تھا۔۔۔ زوہان کا اِس طرح خود کو تاریکیوں کی نظر کرتا دیکھ زنیشہ کی تکلیف میں اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
“کون۔۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان ہلکی سے آہٹ پر آنکھیں کھولتا غضبناکی کا شکار ہوتا دھاڑا تھا۔۔۔۔
زنیشہ تو اُس کے اتنے غصے پر خوف سے کانپ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ ایک پل کے لیے اُس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے یہیں سے واپس پلٹ جانا چاہا تھا۔۔۔ لیکن پھر خود کو تیار کرتی آگے بڑھ کر لائٹس آن کر گئی تھی۔۔۔۔
پل بھر میں پورا کمرہ روشنیوں میں نہا گیا تھا۔۔۔
زنیشہ کو وہاں دیکھ زوہان پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا۔۔۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو۔…..؟”
زوہان فوراً اجنبی بنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“کیا مطلب میں یہاں کیوں آئی ہوں؟۔۔۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو اکیلا چھوڑوں گی۔۔۔۔؟”
زنیشہ اُس کے سرد لہجے کی پرواہ کیے بغیر اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کی جانب سے رُخ موڑ لیا تھا۔۔ جبکہ اُس کے اتنے اجنبی انداز پر زنیشہ کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔
“ْآپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟؟؟ جب دل چاہا مجھے اپنے قریب کرلیا۔۔۔۔ جب دل چاہا دور کردیا۔۔۔ کیا کوئی بےجان کھیلونا سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔ اگر ایسا ہی برتاؤ رکھنا تھا تو رہنے دیتے وہاں میران پیلس میں۔۔۔۔ کیوں لائے مجھے اپنے قریب۔۔۔۔
جس طرح آپ مجھ سے اپنی نگاہیں چُرا رہیں ہیں۔۔۔ اُس سے صاف ظاہر ہے۔۔۔ کہ آپ کو مجھ سے رشتہ جوڑ کر پچھتاوا ہورہا ہے۔۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں آپ کی یہ غلطی سدھار دیتی ہوں۔۔۔ واپس جارہی ہوں میں میران پیلس۔۔۔۔ بیٹھیں یہاں آپ اپنی تنہائی کے ساتھ۔۔۔۔”
زنیشہ ایک ہی سانس میں بولتی ملک زوہان کے شدید ترین غصے کو ہوا دے گئی تھی۔۔۔۔
زوہان نے اُس کی جانب بڑھتے اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو تم؟؟؟… تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟ اگر دوبارہ ایسی فضولیات بولنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے اپنے قریب تر کرتا۔۔۔۔ بُری طرح برسا تھا اُس پر۔۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسوں سے زنیشہ کو اپنا چہرا جلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ دل ہی دل میں اپنا پلان کامیاب ہونے پر مسکائی تھی۔۔۔۔ زوہان کو پوری طرح خود میں اُلجھانے کا اُس کا پلان کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
زنیشہ کو وہاں دیکھ زوہان پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا۔۔۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو۔…..؟”
زوہان فوراً اجنبی بنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“کیا مطلب میں یہاں کیوں آئی ہوں؟۔۔۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کو اکیلا چھوڑوں گی۔۔۔۔؟”
زنیشہ اُس کے سرد لہجے کی پرواہ کیے بغیر اُس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کی جانب سے رُخ موڑ لیا تھا۔۔ جبکہ اُس کے اتنے اجنبی انداز پر زنیشہ کا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔۔۔
“ْآپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟؟؟ جب دل چاہا مجھے اپنے قریب کرلیا۔۔۔۔ جب دل چاہا دور کردیا۔۔۔ کیا کوئی بےجان کھیلونا سمجھ رکھا ہے مجھے۔۔۔ اگر ایسا ہی برتاؤ رکھنا تھا تو رہنے دیتے وہاں میران پیلس میں۔۔۔۔ کیوں لائے مجھے اپنے قریب۔۔۔۔
جس طرح آپ مجھ سے اپنی نگاہیں چُرا رہیں ہیں۔۔۔ اُس سے صاف ظاہر ہے۔۔۔ کہ آپ کو مجھ سے رشتہ جوڑ کر پچھتاوا ہورہا ہے۔۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں آپ کی یہ غلطی سدھار دیتی ہوں۔۔۔ دل بھر گیا ہے آپ کا مجھ سے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔واپس جارہی ہوں میں میران پیلس۔۔۔۔ بیٹھیں یہاں آپ اپنی تنہائی کے ساتھ۔۔۔۔”
زنیشہ ایک ہی سانس میں بولتی ملک زوہان کے شدید ترین غصے کو ہوا دے گئی تھی۔۔۔۔
زوہان نے اُس کی جانب بڑھتے اُس کی کلائی دبوچ کر اُسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو تم؟؟؟… تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟ اگر دوبارہ ایسی فضولیات بولنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
زوہان اُسے اپنے قریب تر کرتا۔۔۔۔ بُری طرح برسا تھا اُس پر۔۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسوں سے زنیشہ کو اپنا چہرا جلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ دل ہی دل میں اپنا پلان کامیاب ہونے پر مسکائی تھی۔۔۔۔ زوہان کو پوری طرح خود میں اُلجھانے کا اُس کا پلان کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
“تو اور کیا کہوں۔۔۔۔ جو آپ مجھے محسوس ہوگا وہی بولوں گی نا۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کی لال آنکھیں دیکھ اندر ہی اندر خوف سے کانپ گئی تھی۔۔۔۔ مگر اُسے اپنے اِس آندھی طوفان بنے شوہر کو کیسے قابو کرنا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔۔
“تمہیں کیسے لگا کہ میرا دل بھر گیا ہے تم سے۔۔۔۔ یا میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرکے پچھتا رہا ہوں۔۔۔ تم یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہو۔۔۔۔”
زوہان کو اُس کے ادا کیے جانے والے الفاظ پاگل کررہے تھے۔۔۔۔ اُس کے سامنے اگر زنیشہ کی جگہ کوئی اور آکر ایسی گستاخی کرتا تو اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا۔۔۔۔۔
“میران پیلس والوں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ہے۔۔۔۔ تم مجھے چھوڑ کر اُن کے پاس جانا چاہتی ہو۔۔۔۔”
اُس کے بالوں کی گدی پر ہاتھ کی مضبوط گرفت رکھتے اُس نے زنیشہ کا چہرا اپنے چہرے کے بے حد قریب کررکھا تھا۔۔۔ اتنا کہ دونوں کی سانسیں اُلجھنیں لگی تھیں۔۔۔
“میں نہیں جانا چاہتی وہاں۔۔۔۔ آپ چاہیں گے تو کبھی نہیں جاؤں گی وہاں۔۔۔۔۔ آپ کے پاس آنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ کے قریب رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ مجھ سے اجنبیت برت رہے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے خود سے دور رکھ رہے ہیں۔۔۔۔ “
زنیشہ نے اُس کا چہرا تھامتے محبت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔
“چھوڑ سکتی ہو میری خاطر اُن سب کو۔۔۔۔؟؟؟؟ میران پیلس کے ہر فرد سے۔۔۔۔ آژمیر میران سے رشتہ توڑ سکتی ہو میری خاطر۔۔۔۔۔؟؟؟ “
زوہان اُس سے سوال کرتا ستہزایہ لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
“تم مجھے چھوڑ سکتی ہو۔۔۔ مگر اُنہیں نہیں۔۔۔۔ تم جانتی ہو اُن لوگوں سے اتنی نفرت کے باوجود آج تک تمہیں اِس دوہرائے پر کیوں نہیں لایا میں۔۔۔ اِس خوف سے کیونکہ میں جانتا ہوں تم مجھے چھوڑ دو گی۔۔۔۔۔ تم سے لیے جانے والے امتحان میں ہار میری ہوگی۔۔۔ “
زوہان زخمی نگاہوں سے اُسے دیکھتا اپنا مذاق اُڑاتے بولتا اُسے خود سے دور کرگیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ غم کی مورت بنی اپنی جگہ ساکت ہوچکی تھی۔۔۔۔
زوہان اندر ہی اندر خود کو اتنی اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔۔۔ اور وہ لاعلمی کا شکار۔۔۔ ہر بار اپنی ضد اود نادانی میں اُسے کیا کیا باتیں بول کر ہرٹ کرتی آئی تھی۔۔۔۔
اُسے آژمیر کے رخصتی سے کچھ دیر پہلے کے ادا کیے جانے والے الفاظ یاد آئے تھے۔۔۔۔
“زوہان کا خیال رکھنا زنیشہ۔۔۔ دنیا کے سامنے وہ خود کو جتنا بے حس اور سخت دل ظاہر کرتا ہے۔۔۔ حقیقت اِس کے بالکل برعکس ہے۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو اپنی ماں کو نہ بچا پانے کا قصور وار سمجھتے۔۔۔۔ خود کو سزا دے رہا ہے۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔ اُسے سنبھال لینا۔۔۔۔ مجھ سے نفرت نہیں کرتا وہ۔۔۔۔ ہاں مگر شدید غصہ ہے۔۔۔۔ اور مجھ سے بہتر اُس کے غصے سے کوئی واقف نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے کبھی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیگا۔۔۔۔ اِس لیے دشمنی کا سہارا لے کر ہی۔۔۔ میں اُس کے ساتھ جُرا ہوا ہوں۔۔۔۔ لیکن تم سے بہت محبت کرتا ہے وہ۔۔۔۔ تم ہی وہ واحد ہستی ہو۔۔۔ جو اُسے اُس اذیت سے باہر نکالنے کی ہمت اور حق دونوں رکھتی ہو۔۔۔۔ وہ تمہیں کبھی خود سے دور نہیں کرے گا۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس وقت انتہائی بے یقینی سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ اُس نے ہمیشہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے جان لیوا دشمنوں کے رُوپ میں دیکھا تھا۔۔۔۔ دونوں آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت سجا کر پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو بھی بے وقوف بنائے ہوئے تھے۔۔۔۔
جبکہ حقیقت تو یہ تھی۔۔۔۔۔ جس نے زنیشہ کو سن کردیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کے کانوں میں آژمیر کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔۔ جن کی وجہ سے اُسے فیصلہ کرنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئی تھی۔۔۔۔
“میں جانتا تھا تم مجھے چھوڑ دو گی مگر اُنہیں نہیں۔۔۔۔”
زوہان اُس کی گہری خاموشی پر اُس پر ایک تلخ نگاہ ڈالتا اُس کے پاس سے گزرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔
“آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔ ہر بات کا علم ہے آپ کو۔۔۔ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔ یہ بھی جانتے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ ہوش میں آتے اُس کے پیچھے لپکی تھی۔۔۔۔
لیکن زوہان اُس کی بات پر کان بند کرتا تیز قدموں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کی اِس قدر روڈنیس پر ڈبڈبائی آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔ جو سیڑھیاں اُتر رہا تھا۔۔۔۔
زوہان اُس کا فیصلہ سننے سے پہلے ہی وہاں سے ہٹ جانا چاہتا تھا۔۔۔۔ ابھی وہ سیڑھیوں کے وسط میں ہی پہنچا تھا۔۔۔ جب زنیشہ کی دلخراش چیخ پر زوہان نے تڑپ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کا پیر سیڑھیوں سے پھسل چکا تھا۔۔۔۔ وہ سر کے بل سیڑھیوں پر لڑھکنے ہی والی تھی جب زوہان ایک ہی جست میں دو دو تین زینے ایک ساتھ پھلانگتا اُس کو دوسری سیڑھی پر ہی تھام گیا تھا۔۔۔
زنیشہ اپنے پیر کو پکڑے بُری طرح رو دی تھی۔۔۔ اُس کا پیر شاید مُڑ گیا تھا۔۔۔ زوہان کی تو جیسے جان پر بن آئی تھی۔۔۔۔
وہ خود کو کوستا زنیشہ کو پوری احتیاط سے اُٹھاتا اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اپنی ایکٹنگ پر خود کو داد دیتی زوہان کو دور جانے سے روک چکی تھی۔۔۔۔ بنا یہ سوچے کہ اگر زوہان کو اُس کے جان بوجھ کر گرنے والے اِس ڈرامے کا پتا چل جاتا تو اُس کی کیسی شامت آنی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے بیٹھے قاسم صاحب کے کیے جانے والے انکشاف پر اُنہیں دیکھتی۔۔۔ کتنے ہی لمحے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اُس کی بہن کے بارے میں اتنی اہم بات سب کو معلوم ہوچکی تھی۔۔۔۔ سوائے اُس کے۔۔۔۔۔
وہ ماورا کی تلاش میں اُس کی جانب بڑھ رہی تھی جب قاسم صاحب اُسے ضروری بات کرنے کا کہتے اپنے ساتھ اپنے روم میں لے گئے تھے۔۔۔۔ جہاں پہلے سے موجود شہاب درانی اور منہاج درانی کو موجود دیکھ وہ ٹھٹھک گئی تھی۔۔۔۔
لیکن قاسم صاحب نے اُن کے وہاں موجود ہونے کا جو ریزن بتایا تھا اُسے سن کر میران پیلس کی در و دیوار اُس کی نگاہوں میں گھوم کر رہ گئی تھیں۔۔۔
ماورا کے ساتھ اتنا سب ہوا تھا اور اُس نے حاعفہ کو کچھ بھی بتانا گوارہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ اُس سے اپنی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف اِسی لیے شیئر کرتی تھی تاکہ وہ بھی اُس کے ساتھ اپنی پرابلم ڈسکس کرے۔۔۔۔
لیکن ماورا نے تو اپنی تکلیف کی بھنک بھی نہیں لگنے دی تھی اُسے۔۔۔۔
اُسے منہاج پر بھی بہت غصہ آیا تھا لیکن وہ اپنی سزا بھگت چکا تھا۔۔۔۔ اب اُسے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں تھا۔۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں میں اپنی بہن کے لیے بے پناہ محبت دیکھ حاعفہ کے اُس سے سارے شکوے دھل گئے تھے۔۔۔۔
اور ماورا کو اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینے کے لیے وہ باقی سب کے ساتھ اُن کے پلان میں شریک ہوچکی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کو مانتے دیکھ منہاج نے گھر کے باقی لوگوں کو بھی وہاں بلا لیا تھا۔۔۔۔ وہ پہلے بھی شہاب درانی کے ساتھ کئی بار یہاں آچکا تھا۔۔۔۔ اِس لیے اُس کی سب سے جان پہچان تھی۔۔۔۔
“باقی سب کی تو خیر ہے۔۔۔ ماورا تک کو پٹا لیں گے ہم۔۔۔ لیکن کسی نے اصل مسئلے پر غور کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
فجر کی بات پر سب نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
“آژمیر لالہ۔۔۔۔ وہ کسی صورت ہمارے پلان میں شامل نہیں ہونگے۔۔۔۔ اُن کی وجہ سے ہمارا پلان چوپٹ ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
فجر کی بات پر سب کی نگاہیں بے ساختہ حاعفہ کی جانب اُٹھی تھیں۔۔۔۔
“کیا۔۔۔۔ ؟؟؟؟”
حاعفہ اُن کی نگاہوں کا مفمہوم سمجھ کر بھی انجان بنی تھی۔۔۔۔
“منہاج لالہ۔۔۔۔ یہ آخری مارکہ آپ کی سالی صاحبہ ہی سر کرسکتی ہیں۔۔۔۔ ہم سب کو سوفیصد یقین ہے۔۔۔۔ آژمیر لالہ اِن کی بات کسی صورت نہیں ٹالیں گے۔۔۔”
رامین نے بھی لمقہ دیا تھا۔۔۔
“اچھا اور تمہیں یہ سوفیصد یقین کس غلط فہمی کی بنیاد پر ہے۔۔۔۔”
حاعفہ اُن سب کی جانب سے خود کو بلی کا بکرا بنائے جانے پر خفگی سے بولی۔۔۔۔
“آج صبح ناشتے کے ٹیبل پر ہی ہم سب کو اِس بات کا اندازہ اچھی طرح ہوگیا ہے۔۔۔۔ اب آپ جائیں اور کام پر لگ جائیں۔۔۔۔ ویسے بھی آپ کے شوہر نامدار آپ ہی کو ڈھونڈ رہے تھے ابھی۔۔۔۔۔”
صدف نے تفصیل سے جواب دیتے حاعفہ کی بولتی بند کردی تھی۔۔۔۔ انکار کا مزید کو جواز نہ ملتے اُسے حامی بھرنی پڑھی تھی۔۔۔۔۔
وہ سب جانتے تھے کہ آژمیر کو کسی بھی بات کے لیے منانا کتنا مشکل تھا۔۔۔ اِس لیے سب نے حاعفہ کا انتخاب ہی کیا تھا۔۔۔۔۔۔
حاعفہ سب کے پُر زور اصرار پر مان تو گئی تھی۔۔۔ مگر اب آژمیر کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھتی وہ کانپتے دل کے ساتھ آگے بڑھی تھی۔۔۔۔ ماورا کو وہ بھی یہ سرپرائز دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ جس کے لیے اُس نے خود کو پوری طرح سے بقول رامین کے مارکہ سر کرنے کے لیے تیار کرلیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“بہت درد ہورہا ہے۔۔۔۔”
زوہان اُس کے لال ہوتے نازک پیر کو دیکھتے انتہائی فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔۔ جس میں اُس کی پہنائی گئی پائل اُسے مزید حسین بنا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔ آپ جائیں۔۔۔ جہاں جارہے تھے۔۔۔ میں اپنے درد سے خود ہی نبٹ لوں گی۔۔۔۔ “
زنیشہ اُس کی گرفت سے اپنا پیر کھینچنے کی ناکام کوشش کرتی نروٹھے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
زوہان نے گھورتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
زرا سے درد پر واویلا مچا دینے والی زنیشہ میران اتنی بڑی چوٹ پر اتنے سکون سے بیٹھی پیر ہلا جلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
زوہان کو ایک سیکنڈ لگا تھا۔۔۔ اُس کا یہ ناٹک پکڑنے میں۔۔۔۔
“اوکے ایز یو وش۔۔۔۔۔”
یہ لڑکی جب سے آئی تھی۔۔۔ اپنی اُلٹی سیدھی حرکتوں سے اُسے زچ کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ آج کے دن وہ کسی سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔ لیکن زنیشہ نے اُسے پوری طرح خود میں اُلجھاتے اُسے اُس کی تکلیف تو بھلا ہی دی تھی۔۔۔۔۔
زوہان نے اُس کے پیر کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے اُس کی جانب سے رُخ موڑ لیا تھا۔۔۔۔ لیکن وہاں سے اُٹھا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
“واٹ۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ حیرت کی زیادتی سی منہ بھی کھل چکا تھا۔۔۔۔ مطلب اُس کی تکلیف سے بھی اب اِس کھٹور شخص کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔۔”
زنیشہ آنکھوں میں آنسو بھرے بولتی زوہان کو اچھا خاصہ ڈسٹرب کر گئی تھی۔۔۔۔
“سیم ہیئر۔۔۔۔”
زوہان کوشش کے باوجود خود کو اُس کی اِس معصوم قاتلانہ اداؤں سے بچا پانے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا۔۔۔۔
زوہان کا ایک بار پھر ویسا ہی سرد اور کھردرا جواب زنیشہ کا چہرا غصہ اود خفگی سے لال کرگیا تھا۔۔۔
اِس سے پہلے کے پہلے کے زنیشہ کچھ بولتی۔۔۔۔ زوہان اُسے دونوں ٹانگوں سے تھام کر اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔
زنیشہ اُس کے اِس جارحانہ عمل کے لیے بالکل بِھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔ اُس کے فولادی سینے سے ٹکراتی سیدھی اُس کی گود میں آن سمائی تھی۔۔۔۔
“کیوں ڈسٹرب کررہی ہو مجھے۔۔۔؟؟؟”
زوہان اُس کی ریلنگ کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے لال ہوئی پیشانی سہلاتے گھمبیر سرگوشیانہ لہجے میں بولتا۔۔۔۔ اُس کی سانسیں تیز کرگیا تھا۔۔۔۔
“کیونکہ میں ڈسٹرب کرنے کا حق رکھتی ہوں۔۔۔۔ آپ مجھے روک نہیں سکتے۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کے سخت تیوروں سے بنا گھبرائے دوبدو بولی تھی۔۔۔ اُس نے اب تک زوہان کے حصار سے نکلنے کی کوشش بِھی نہیں کی تھی۔۔۔
اُس کا یہ بدلاؤ۔۔۔۔ زوہان کے لیے کافی خوش کن تھا۔۔۔
“تم تو مجھے چھوڑ کر جارہی ہو۔۔۔ پھر کیسا حق۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان کے دل میں اُس کی بات کھب کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
لیکن اِس بار زنیشہ نے بھی ٹھان لی تھی اِس شخص کی عقل ٹھکانے لگا کر رہے گی۔۔۔۔
زوہان کا گریبان دونوں مٹھیوں میں دبوچتے وہ اُس کا چہرا اپنے بے حد قریب کر گئی تھی۔۔۔۔
“مسٹر زوہان میران۔۔۔۔۔ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ میں اتنی آسانی سے آپ کی جان چھوڑ دوں گی۔۔۔۔ اِس بات کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ زنیشہ میران کبھی بھی آب سے دستبردار ہوگی۔۔۔۔ پوری دنیا کو چھوڑ سکتی ہوں۔۔۔ آپ کو نہیں۔۔۔۔ چاہے پھر اُن دنیا والوں میں میران پیلس والے ہی شامل کیوں نہ ہوں۔۔۔۔ ملک زوہان زندگی کے کسی بھی مقام پر ہارے یہ گوارہ نہیں ہے اُس کی بیوی کو۔۔۔۔ میں اب کبھی مڑ کر نہیں دیکھوں گی اُن کی جانب۔۔۔۔ کیونکہ میرے لیے آپ اور آپ کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ “
زنیشہ مدھم سرگوشیانہ لہجے میں بولتی زوہان کا سارا غصہ، اضطراب اور بے چینی اپنے لفظوں میں سمیٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان میران خود کو اِس ساحرہ کے سامنے پگھلنے سے روک نہیں پایا تھا۔۔۔۔ جو ہر بار اُسے اپنے سحر میں جکڑتی کہیں اور دیکھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑتی تھی۔۔۔۔
زوہان جھکا تھا اور اُس کے چہرے پر اپنے جنون کی داستان رقم کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کے لمس کی شدت پر جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔ جب زوہان نے اُسے خود میں سموتے اُس کے نازک وجود کی کپکپاہٹ کو اپنے وجود میں اُتار لیا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔
