No Download Link
Rate this Novel
Episode 57
گھنیری پلکوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
آج تو اُس کی چھب ہی نرالی تھی۔۔۔۔ آژمیر یقین سے کہہ سکتا تھا اتنی حسین دلہن اُس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔ جیسی اُس کے نصیب میں لکھ دی گئی تھی۔۔۔۔
ْآژمیر کو تو یہی فکر ہورہی تھی کے اتنے بھاری لہنگے میں اُس کی وہ نازک سی جانن چل کیسے رہی تھی۔۔۔۔ ایک پل کو تو اُس کا دل چاہا تھا۔۔۔ آگے بڑھ کر اُسے بانہوں میں اُٹھا لے۔۔۔۔۔۔
کسی کی پرواہ کیے بغیر وہ ایسا کر بھی گزرتا مگر اُسے ڈر تھا کہ اُس کے اِس عمل پر حاعفہ نے شرم و حیا کے مارے بے ہوش ہوجانا ہے۔۔۔۔ اِس لیے وہ ضبط کیے کھڑا رہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے ماتھے پر سجائے بالوں میں سے جھانکتی بندیاں اور ناک میں پہنی ہونٹوں کو چھوتی نتھ آژمیر کے دل پر بجلیاں گرا گئی تھی۔۔۔۔ کانوں میں پہنے بھاری جھمکے اور نازک گردن کو پوری طرح زیورات سے ڈھکے وہ اپنا پور پور اُس کی خاطر سجائے ہوئے تھی۔۔۔۔
آژمیر اِس وقت اپنے آپ کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان تصور کررہا تھا۔۔۔ جس کی قسمت میں حاعفہ جیسی لڑکی لکھی گئی تھی۔۔۔۔ جو اُس سے محبت نہیں عشق کرتی تھی۔۔۔۔۔ اُس کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتی تھی۔۔۔۔
اُس کی صنفِ نازک قاسم صاحب کے ساتھ چلتی اُس ہ مقابل آن پہنچی تھی۔۔۔۔ اُس کے وجود سے اُٹھتی دلفریب مہک اور ہاتھوں میں کنگن اور گجروں کے ساتھ پہنی کانچ کی سُرخ چوڑیوں کی کھن کھن نے اُسے اپنی زندگی کی حسین حقیقت سے اُجاگر کروا دیا تھا۔۔۔۔
جو اِس وقت پورے ہوش و حواس میں اُس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر میں آنکھوں میں عقیدت اور محبت کے دیئے روشن کیے اُس کے سامنے اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا دی تھی۔۔۔۔ جس میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بنا حاعفہ نے اپنی مہندی اور اُنگوٹھیوں سے سجی نازک ہتھیلی آژمیر کے مضبوط ہاتھ پر رکھ دی تھی۔۔۔۔
آج دونوں کی مسکراہٹ دیکھنے لائق تھی۔۔۔۔ اتنی مسافتیں طے کرکے اُنہیں نے ایک دوسرے کو پا لیا تھا۔۔۔۔ خوش کیسے نہ ہوتے۔۔۔۔۔
حاعفہ کے گرد بازو حمائل کرتے آژمیر نے نہایت ہی محبت اور احتیاط سے اُسے سٹیج پر چڑھنے میں مدد دی تھی۔۔۔۔ حاعفہ بھاری لہنگے سے زیادہ اُس کی قربت کے زیرِ اثر کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔
“بہت بُری طرح گھائل کیا ہے تم نے مجھے۔۔۔۔۔ آج تو تمہیں میرے جنون کو برداشت کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔ خود کو پوری طرح سے تیار کرلو میری زندگی۔۔۔۔۔”
حاعفہ کو وہاں بیٹھا کر اُس کی پیشانی پر بوسہ دیتے آژمیر بھی اُس کے ساتھ براجمان ہوا تھا۔۔۔۔۔
نجانے کتنی رشک و حسد بھری نگاہیں اُن دونوں کپلز پر اُٹھ رہی تھیں۔۔۔۔
لیکن ایک پرابلم جو دونوں دلہوں کو اِس وقت ایک ساتھ ہورہی تھی۔۔۔۔ اور وہ تھی اُن کی دلہنوں کا یہ حسین رُوپ سب کے سامنے نہیں آنا چاہئے۔۔۔۔
اُن کے اِس اعتراض پر اگلے ہی لمحے شمسہ بیگم آگے بڑھی تھیں۔۔۔۔ اور نیٹ کے خاص طور پر گھونگھٹ کے لیے بنوائے دوپٹے باری باری دونوں کے اُوپر ڈال کر پن اپ کردیئے تھے۔۔۔۔
جن پر گولڈن رنگ سے کندے الفاظ “آژمیر کی دلہن” اور “زوہان کی دلہن” اُن دونوں کے دلہناپے کو چار چاند لگا گئے تھے۔۔۔۔
اُن چاروں سے نظریں ہٹانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔
زوہان نے آج کے دن بھی ایسے ہی زنیشہ کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں جکڑ رکھا تھا۔۔۔ اُس کے لمس میں کچھ ایسا خاص تھا کہ زنیشہ کی دھڑکنیں بے قابو ہوکر بے ہنگم انداز میں شور مچانے لگی تھی۔۔۔۔
“میں جانتا ہوں تمہیں ہمیشہ سے گلا رہا ہے ۔۔ کہ میں کبھی تمہاری تعریف نہیں کرتا۔۔۔۔ لیکن اُن سب شکووں کا جواب اور تمہاری گزری ملاقاتوں کے ہر ہر حسین رُوپ کی تعریف میں آج کے دن کے لیے ہی بچا کر رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔۔ آج میں بہت تفصیل سے تمہیں یہ بتانے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ تم نے کب کب اور کہاں کہاں میرے دل پر بجلیاں گرائی ہیں۔۔۔۔”
زوہان کی دھیمی سرگوشیاں زنیشہ کی جان مشکل میں ڈال رہی تھیں۔۔۔۔ وہ اب تک جتنا لڑ چکی تھی اور زوہان کو ستا چکی تھی۔۔۔۔ آپ اُسے اپنی خیر معلوم نہیں ہورہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
ماورا حاعفہ اور زنیشہ کے لہنگے سیٹ کرتی سٹیج سے کچھ فاصلے پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ اُسے آج بہت عجیب سا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔ اُسے لگ رہا تھا کوئی مسلسل اُسے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔ مگر کون؟؟؟؟
یہ بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی وہ پتا نہیں لگا پائی تھی۔۔۔۔۔
“ماورا بیٹا فریحہ اُوپر گئی ہے۔۔۔۔ زنیشہ کی کچھ چیزیں اُٹھانے۔۔۔ جاؤ زرا دیکھ کر آؤ ابھی تک واپس کیوں نہیں آ رہی وہ۔۔۔۔۔۔”
حمیرا بیگم کی ہدایت پر ماورا اثبات میں سر ہلاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ نیچے کی نسبت اُوپر قدر لائٹنگ کم کی گئی تھی۔۔۔۔ اُوپر کے حصے میں مین لائٹنگ آف کرکے نیچے کا بہت زبردست ماحول بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔
مدھم مدھم سی روشنی میں وہ اپنا بھاری لہنگا سنبھالے آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ جب اُسے سامنے ہی فریحہ فون پر بات کرتے دوران مسکراتی اُسی جانب آتی دکھائی دی تھی۔۔۔۔۔
“تمہیں نیچے سب ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔ اور محترمہ یہاں قہقے لگانے میں مصروف ہیں۔۔۔ جلدی سے زنیشہ کی یہ چیزیں لے کر جاؤ نیچے۔۔۔۔ ماما انتظار کررہی ہیں۔۔۔۔”
ماورا اُسے مصنوعی گھوری سے نوازتی آگے بڑھی تھی۔۔۔
“بیٹا جب تمہارے پاس ایسا امپورٹنٹ بندہ ہوگا تو دیکھتی ہوں کیسے تمہیں ایسی امپورٹنٹ کال نہیں آتی۔۔۔۔۔۔”
فریحہ بھی اُسے جواباً چھیڑتے بولی تھی۔۔۔۔
“میں ایسے ہی بہت خوش ہوں۔۔۔۔ تم جاؤ نیچے۔۔۔۔ مجھے لہنگے کی یہ ہک بہت تنگ کررہی ہے۔۔۔۔ بار بار ڈھیلا ہوجاتا ہے۔۔۔۔ میں اِسے سیٹ کرکے آتی ہوں۔۔۔”
ماورا اُس کی بات پر مسکراتی اپنے روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
جب اچانک کسی نے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اُسی کے روم میں کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
خوف کے مارے ماورا کی چیخ برآمد ہونے ہی والی تھی۔۔۔ جب مقابل نے اُسے دیوار کے ساتھ لگاتے، اُس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر ایسا کچھ بھی کرنے کی مہلت نہ دیتے اُس کی سانسوں کو قید کرلیا تھا۔۔۔۔۔
ماورا کی آنکھوں کی پتلیاں ناقابلے یقین حد تک پھیل گئی تھی۔۔۔۔ اُس نے ہاتھ ہلاتے مزاحمت کرنی چاہی تھی۔۔۔۔مگر اُس کی دونوں کلائیوں پر مضبوط گرفت کرتے پیچھے دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا تھا۔۔۔۔
مقابل کا شدت بھرا لمس جس میں غصہ، ناراضگی، اذیت، محبت اور جنون کا عنصر شامل تھا۔۔۔۔ ماورا کی جان نکال گیا تھا۔۔۔۔ اگر وہ منہاج کی خوشبو اور لمس کی شدتوں سے انجان ہوتی تو اب تک کسی اجنبی کو اپنے اتنے قریب محسوس کرکے اُس کی سانسیں تھم چکی ہوتیں۔۔۔۔۔
مگر یہ تو اُس کی زندگی کے محبوب ترین شخص کی خوشبو تھی۔۔۔۔ اُس کے دل میں پیدا ہوتی خوش فہمی اُس کی آنکھوں میں رنگ بھر گئی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ پوری طرح شیور نہیں تھی۔۔۔۔ اِس لیے مسلسل مزاحمت کرتی خود کو اِس جان لیوا قید سے رہاع کروانے کے لیے بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی۔۔۔۔ منہاج کے جنون کو مزید ہوا دے رہی تھی۔۔۔۔
اُس کا لمحہ با لمحہ شدت پکڑتا عمل ماورا کی آنکھوں میں نمی لانے کے ساتھ ساتھ اُس کے منہ میں خون کا ذائقہ گھول گیا تھا۔۔۔۔ جس کے ساتھ ہی مقابل کو جیسے اُس پر رحم آیا تھا۔۔۔۔
مگر گردن کے پچھلے حصے پر موجود ہاتھ کی گرفت ہنوز تھی۔۔۔۔
“منہاج۔۔۔۔۔؟؟؟”
ماورا کے کپکپاتے لب بمشکل پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس لیتی اپنی کانپتی ٹانگے کی وجہ سے لڑ کھڑا کر گرنے کو تھی جب مقابل نے کچھ نرمی دیکھاتے اُس کے گرد بازو حمائل کرتے اُسے سہارا دیا تھا۔۔۔۔
ہر طرف چھائے اندھیرے کی وجہ سے ماورا اُس کا چہرا نہیں دیکھ پارہی تھی۔۔۔۔ مگر وہ مضبوط جسامت کے مالک اپنے سامنے کھڑے اُونچے لمبے شخص کو دیکھ کر اور اُس کا لمس محسوس کرکے ننانوے فیصد یقین کر چکی تھی کہ یہ منہاج ہی تھا۔۔۔۔۔
مگر وہ کچھ بول کیوں نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔
ماورا کو اُس ایک پرسنٹ نے بھی خوفزدہ کردیا تھا۔۔۔۔۔
وہ شاید فریحہ سے کہی اُس کی بات سن چکا تھا۔۔۔۔ اِس لیے اُس کے ہاتھوں کا لمس اپنے لہنگے پر محسوس کرتے ماورا کے رہے سہے حواس بھی ساتھ چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
اُس نے مقابل کے سینے پر ہتھیلیاں جما کر دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اُسے بے حد قریب کھینچ لیا گیا تھا۔۔۔۔۔
ماورا سیدھی اُس کے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔
لیکن جیسے ہی اُس کے ہاتھ کا لمس اپنی ہک ہر محسوس ہوا ماورا بُری طرح لرزنے لگی تھی۔۔۔۔۔ اُسے لگا تھا وہ ابھی بے ہوش ہوکر گر جائے گی۔۔۔۔۔ لیکن اُس کے گرد قائم مضبوط سہارے نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔۔۔
ماورا کا چہرا اِس لمس پر خطرناک حد تک لال ہوچکا تھا۔۔۔۔
جب ہک ٹائٹ ہونے پر اُس کے منہ سے ہلکی سے کراہ نکلی تھی۔۔۔۔ اُس نے سختی سے سامنے والے کی شرٹ سینے سے دبوچ لی تھی۔۔۔۔۔
“منہاج پلیز۔۔۔۔۔۔”
اب کی بار ماورا کو اُس کا سلگھتا لمس اپنی گردن پر محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ ماورا بُری طرح تڑپ اُٹھی تھی۔۔۔۔ وہ اُس کی شفاف نازک گردن پر لو بائٹ کا گہرا نشان چھوڑتا اگلے ہی پل وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
ماورا نے دیوار کا سہارا لیتے بمشکل خود کو گرنے سے بچایا تھا۔۔۔۔۔ وہ اُسے روکنا چاہتی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کی آواز کوشش کے باوجود نہیں نکل پائی تھی۔۔۔۔۔
“ماورا کہاں رہ گئی ہو تم؟؟؟؟ ماورا؟؟؟؟؟”
باہر سے فجر کی آتی آوازوں پر ماورا نے اُسی طرح اندھیرے میں کھڑے اپنا بکھرا حلیہ ٹھیک کیا تھا۔۔۔۔۔
“فجر دیکھو باہر کوریڈور میں کوئی ہے۔۔۔۔ یا سیڑھیوں پر تمہیں کوئی نظر آیا۔۔۔۔۔؟؟؟”
ماورا اندر ہی کھڑی بے قراری سے چلائی تھی۔۔۔۔
“نہیں ماورا باہر تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا؟؟؟”
فجر فکرمندی سے بولی تھی۔۔۔۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔ تم جاؤ میں بس ابھی آتی ہوں۔۔۔”
ماورا کمزور سی آواز میں بولتی روم کا دروازہ لاک کرتی لائٹ آن کرتے ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
اُس شخص کی ستمگری پر پوری طرح مٹ چکی لپسٹک دوبارہ سے لگاتے۔۔۔۔۔۔ اُس کی نظر اپنی گردن پر پڑی تھی۔۔۔۔
اُس کا چہرا لال انگارہ ہوچکا تھا۔۔۔ جلدی سے بال درست کر کے گردن کو کور کرتی وہ باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
بے قراری سے اُس نے ایک ایک روم چھان مارا تھا۔۔۔۔ اور اُس کے بعد ہال کا بھی کوئی کونا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔
مگر اُسے منہاج کہیں نہیں ملا تھا۔۔۔
بہت سے واہموں اور وسوسوں کے ساتھ خوف بھی اُس کے اندر انگڑائی لینے لگا تھا۔۔۔۔
اگر خدانخواستہ وہ منہاج نہیں تھا تو پھر کون تھا۔۔۔۔؟؟؟؟
اِس خیال کے آتے ہی ماورا کی دھڑکنیں رُک جاتی تھی۔۔۔۔
“نہیں وہ منہاج کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ میں منہاج کی خوشبو اچھے سے پہنچاتی ہوں۔۔۔۔ اُسے پہچاننے میں تو میں غلطی کر ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔ مگر وہ ہے کہاں میرے سامنے کیوں نہیں آرہا۔۔۔۔ میں جانتی ہوں وہ بہت ناراض ہوگا مجھ سے۔۔۔۔ مگر ایک بار سامنے تو آئے نا۔۔۔۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل میری جان نکال دے گا۔۔۔۔”
دیوانہ وار چاروں طرف نگاہیں دوڑاتی اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔۔۔۔
مگر پھر جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتی وہ سٹیج کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔ جہاں دونوں دلہنوں کی رخصتی ہونے والی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زوہان نے زنیشہ کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اُٹھایا تھا۔۔۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی ویران آنکھوں میں خوشی کی چمک مزید واضح ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔
ہمیشہ سے خود کو تنہا رکھنے والا وہ آج تنہا نہیں بچا تھا۔۔۔۔ اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی بہار بن کر اُس کے آنگن میں اُتر آئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کا دل اپنے اللہ کے خضور تشکر سے جھک گیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ سب گھر والوں سے باری باری مل رہی تھی۔۔۔ آژمیر کے علاوہ تقریباً ہر فرد نے ہی اُسے زوہان کے غصے اور اُس کی اُکھڑ مزاجی سہنے کی تلقین کی تھی۔۔۔۔
کیونکہ اُن میں سے شاید اِس بات سے کوئی بھی واقف نہیں تھا کہ چاہے زوہان سڑیل اور غصے کا تیز تھا۔۔۔۔ مگر باقی لوگوں کے لیے۔۔۔۔۔ ورنہ زوہان سے زیادہ تو زنیشہ اُس سے اپنے نخرے اُٹھواتی تھی۔۔۔۔
اور وہ ہر بار بنا ایک شکن بھی لائے اُس کی بہت ساری باتیں مان بھی جاتا تھا۔۔۔۔ لیکن جس بلیک میلنگ سے وہ زنیشہ سے اپنی باتیں منواتا تھا اُس معاملے میں زنیشہ ابھی اُس سے جیت نہیں پائی تھی۔۔۔
سب سے مل کر زوہان کا ہاتھ تھامے میران پیلس کی دہلیز پار کرتی آج وہ اِس ضدی شخص کی ایک ضد تو نہایت محبت سے پوری کر گئی تھی۔۔۔۔
مگر اب اُسے اِسی محبت کے ساتھ زوہان کو بدلنا تھا۔۔۔۔۔ جس کے لیے وہ دلوں جان سے تیار تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
حاعفہ سٹیج پر بیٹھی تھی جب آژمیر اُس کے قریب آکر اپنے دل کی خواہش پر سر تسلیم خم کرتا اُسے بانہوں میں اُٹھا گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے اِس عمل پر حاعفہ کا دل اُچھل کر حلق میں آن گرا تھا۔۔۔۔ جبکہ پورا ہال ہوٹنگ سے گونج اُٹھا تھا۔۔۔ حاعفہ نے لال چہرے کے ساتھ آژمیر کو گھورنا چاہا تھا۔۔۔ مگر گھونگھٹ کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
اُس نے شرم کے مارے بے ہوش ہوجانا تھا۔۔۔۔ اُسی کا خیال کرتے آژمیر نے سٹیج سے نیچے اُتر کر حاعفہ کو اُتار دیا تھا۔۔۔۔کیونکہ بقول لیڈیز کے اُنہیں ابھی کچھ رسمیں کرنی تھیں۔۔۔۔
اِس لیے اُسے اپنی دلہن کو ناچاہتے ہوئے بھی کچھ دیر کے لیے اُن کے حوالے کرنا پڑا تھا۔۔۔۔
“اماں سائیں یہ فضول کی رسمیں ضروری ہیں کیا۔۔۔؟؟؟”
آژمیر اچھا خاصہ تپا کھڑا تھا۔۔۔۔
“جی ضروری بھی ہیں اور آپ کی دلہن کو یہ سب رسمیں پسند بھی بہت ہیں۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم نے اُسے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔
“ہممہ اِسی وجہ سے ہی تو رُکا ہوا ہوں۔۔۔۔”
آژمیر آج کے دن کم از کم اپنی مرضی نہیں چلانا چاہتا تھا حاعفہ پر۔۔۔۔ جو اِس وقت اپنی شادی کی کی جانے والی رسمیں انجوائے کررہی تھی۔۔۔۔
“لالہ آپ بھی اِدھر آئیں نا پلیز۔۔۔۔۔”
فجر نے ڈر کے مارے نہایت ہی آہستہ آواز میں اُسے پکارا تھا۔۔۔۔ آژمیر سے اُن میں سے کوئی فری نہیں تھا۔۔۔ اور اُس کے شدید غصے کی وجہ سے تقریباً تمام کزنز ہی اُس سے بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے تھے۔۔۔۔
لیکن آج تو آژمیر کا موڈ بہت خوشگوار تھا۔۔۔۔ اُسے آج کسی کی بات کا بُرا نہیں لگنا تھا۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے جاکر حاعفہ کے پہلو میں جاکر بیٹھا تھا۔۔۔۔
“لالہ یہ چھوٹی سی رسم ہے۔۔۔۔۔ ہم نے اِس تھال میں ایک انگوٹھی ڈال دی ہے۔۔۔۔ آپ میں سے جو پہلے اُسے ڈھونڈ لے گا۔۔۔۔ اِس کا مطلب یہ ہوگا۔۔۔ کہ آگے کی لائف اُسی پارٹنز کی حکمرانی ہوگی۔۔۔۔۔”
فریحہ دودھ میں گلاب کی پتیاں مکس کیے۔۔۔ ایک سجا سجایا خوبصورت سا تھال اُن کے سامنے ٹیبل پر رکھ گئی تھی۔۔۔۔
آژمیر کو اِس رسم کی لاجک تو فضول ترین لگی تھی۔۔۔۔ مگر رسم انتہائی انٹرسٹنگ تھی۔۔۔۔ اِس لیے وہ اِسے کرنے کے لیے دل و جان سے راضی ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ نے آژمیر کے ساتھ اپنا لرزتا کانپتا ہاتھ اندر ڈالا تھا۔۔۔۔جب پہلی ہی بار میں آنکھوں پر گھونگھٹ آجانے کی وجہ سے انگوٹھی کی جگہ اُس نے آژمیر کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔
باقی سب تو آژمیر کی وجہ سے حاعفہ سے کوئی چھیڑ خانی نہیں کرسکے تھے۔۔۔۔مگر آژمیر کا اُمڈ آنے والا قہقہ حاعفہ کو شرم سے لال کرگیا تھا۔۔۔۔
اُس کے بعد آژمیر نے دو بار حاعفہ کی اُنگلیوں کو چھوا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ اُس کی اِن مستیوں پر حیا سے سرخ ہونے کے سوا کچھ نہیں کر پائی تھی۔۔۔ اُس کی دھڑکنوں کا شور بڑھنے لگا تھا۔۔۔۔ سانسیں الگ رفتار پکڑ چکی تھیں۔۔۔۔۔۔
حاعفہ کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ آژمیر میران جیسا سخت مزاج شخص اتنا رومینٹک اور بے باک ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔۔ حاعفہ کا وجود آنے والے لمحوں کا سوچتے لرزنے لگا تھا۔۔۔۔
آژمیر کا فوکس انگوٹھی ڈھونڈنے سے زیادہ حاعفہ پر تھا۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے انگوٹھی حاعفہ کے ہاتھ میں آچکی تھی۔۔۔۔
جو مل جانے پر وہ بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔۔ آژمیر تو اُس کی اِس خوشی پر ہی نہال ہوا تھا۔۔۔۔
“سویٹ ہارٹ ایسی چاہے جتنی رسمیں بھی جیت لو۔۔۔۔۔ تم پر حکمرانی تو میری ہی رہے گی۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے کان میں مبہم سے سرگوشی کرتا ایک امپورٹنٹ کال آجانے کی وجہ سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
زنیشہ زوہان کے سہارے زوہان ولا میں انٹر ہوئی تھی۔۔۔۔۔ زوہان کا مضبوط لمس اپنی کمر پر محسوس کرتے زنیشہ کا دل دھک دھک کررہا تھا۔۔۔۔۔
وہ تو زوہان ولا کی سجاوٹیں دیکھ کر ہی دھنگ رہ گئی تھی۔۔۔۔ ہر شے گلاب کے پھولوں اور برقی قمقموں سے سجی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
انٹرنس پر ہی سجی سنوری بہت ساری لڑکیاں ہاتھوں میں پھول اُٹھائے اُن کی راہ میں نچھاور کر رہی تھیں۔۔۔۔ زنیشہ زوہان کی سنگت میں آگے بڑھتی بے پناہ خوش تھی۔۔۔۔ اُس نے بھی زوہان کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔۔۔۔ جب سامنے ہی نفیسہ بیگم کے ساتھ کھڑی ثمن کو دیکھ اُس کا موڈ خراب ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے پوری شادی میں نہ دیکھ وہ بہت خوش تھی۔۔۔۔ مگر اب یہاں دیکھ اُسے بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ جس طرح وہ دیوانہ وار نظروں سے زوہان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ برداشت کرنا زنیشہ یے کے لیے بہت مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
اُس نے زوہان کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
جس کا ریزن زوہان منٹوں میں سمجھ گیا تھا۔۔۔۔
“ویلکم ہوم۔۔۔۔۔ ورلڈز بیوٹیفل اینڈ چارمنگ کپل۔۔۔۔۔”
ثمن نے آگے بڑھتے زنیشہ کے گلے لگتے دل سے مبارک باد دی تھی۔۔۔۔۔
“تھینکس۔۔۔۔”
زوہان کے مسکرا کر جواب دینے پر زنیشہ مزید تپ گئی تھی۔۔۔۔
سامنے موجود کمرے کی جانب جاتی اتنی لمبی سیڑھیاں دیکھ زوہان زنیشہ کا اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا ہی تھا۔۔۔۔ جب ثمن نے مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھتے روک دیا تھا۔۔۔۔
“مسٹر میران ہم آپ کی دلہن کو بغیر کوئی تکلیف پہنچائے آپ تک پہنچا دیں گے۔۔۔۔ یہ آپ ہی کی ہیں۔۔۔ مگر ابھی تھوڑی دیر کے لیے اُنہیں ہمارے حوالے کردیں۔۔۔۔ “
ثمن زنیشہ کے گرد بازو حمائل کرتی اُسے اپنے ساتھ لگاتے بولی۔۔۔۔ جبکہ زنیشہ کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کا منہ توڑ دے۔۔۔۔۔
“اوکے مگر جسٹ ٹین منٹس اِس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔۔”
زوہان نفیسہ بیگم کو بھی رسموں کے لیے تیار دیکھ انکار نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جو یہی سمجھ رہی تھی کہ زوہان انکار کردے گا۔۔۔۔ اُس کے اتنی آسانی سے مان جانے اور مردوں کی طرف جاتا دیکھ زنیشہ کا پارہ بُری طرح چڑھ گیا تھا۔۔۔۔
مطلب صرف یہاں تک لانے کے لیے یہ شخص پاگل ہورہا تھا۔۔۔۔ اب میری کوئی پرواہ ہی نہیں۔۔۔ زنیشہ کا اِس وقت غصے سے بُرا حال تھا۔۔۔۔
اُسے شادی کی یہ رسمیں بہت پسند تھیں۔۔۔ مگر یہاں موجود ثمن کو دیکھ جو پوری طرح اُس کے شوہر پر فدا تھی۔۔۔۔ زنیشہ کے لیے وہ ہضم کرنا آسان نہیں تھا۔۔۔
@@@@@@@@@
جاری ہے۔۔۔۔۔
