No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
آژمیر نے غصے سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا یہاں سے ابھی اُٹھ کر چلا جائے۔۔۔ مگر اپنے ٹیم ممبرز کے فیسز دیکھ وہ تنے ہوئے نقوش کے ساتھ وہیں بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
“ہیلو ایری ون۔۔۔ آئی ہوپ آپ سب ٹھیک ہونگے۔۔۔ اور مجھے اِس سیٹ پر دیکھ کر خوش بھی۔۔۔۔۔”
سویرا آژمیر میران پر وارفتگی بھری نظر ڈالتی باقی سب سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔
آژمیر کے سوا باقی سب کی نظریں سویرا شیخ پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
سیاہ پینٹ کورٹ میں ملبوس اپنے سیاہ سلکی بالوں کو کھلا چھوڑ رکھا تھا۔۔۔ فل میک اپ میں ریڈ لپسٹک لگائے وہ آژمیر میران کو گھائل کرنے کے پورے ارادے کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔
مگر آژمیر میران نے ایک نگاہِ غلط بھی ڈالنا گوارہ نہیں کی تھی اُس پر۔۔۔۔
وہ سامنے پڑے پیپر ویٹ کو گھماتا اپنے اشتعال کو کنٹرول کرنے لگا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کا غصہ اُس کے چہرے سے عیاں ہونے لگا تھا۔۔۔۔
میٹنگ کے حوالے سے کچھ پوائنٹس کلیئر کرتی سویرا گاہے بگاہے آژمیر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ زوہان کا دھیان بھی اُن دونوں پر ہی تھا۔۔۔۔
جب اچانک میٹنگ کے دوران ہی اپنا غصہ ضبط نہ کر پاتے آژمیر کرسی دھکیل کر وہاں سے اُٹھا تھا۔۔۔ سب حیرت سے اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔ آژمیر کے غصے سے وہاں سب واقف تھے۔۔۔ مگر وہ اِس طرح اتنی امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑ کر جائے گا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔۔۔
جب سویرا کے آنے پر سب یہ بھی جان چکے تھے کہ یہ پراجیکٹ ہر صورت میں آژمیر میران کی کمپنی کو ہی ملنے والا تھا۔۔۔۔
آژمیر میٹنگ روم کا درازہ زور سے بند کرتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔
“حیرت کی بات ہے ویسے۔۔۔ مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ آژمیر میران میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے ہے۔۔۔۔ ایک لڑکی کا مقابلہ نہیں کرسکتے تم۔۔۔۔۔”
آژمیر کے پیچھے اُٹھ کر آتے زوہان کے سخت الفاظ آژمیر کے قدم روک گئے تھے۔۔۔
وہ خود پر بہت مشکل سے ضبط کرنے کی کوشش کرتا مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔ وہ اِن لوگوں کے ساتھ ساتھ اِس جگہ کا حلیے نہیں بگاڑنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“جہاں تمہارے اور اُس لڑکی جیسے گھٹیا لوگ موجود ہوں۔۔۔ وہاں بیٹھنا میں اپنی توہین سمجھتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان کے مقابل آکر کھڑے ہونے پر آژمیر اُسے خونخوار نظروں سے دیکھتا اُسے منہ توڑ جواب دے گیا تھا۔۔۔
مگر اُس کی بات پر زوہان کو غصہ نہیں آیا تھا بلکہ اُس نے چہرے پر دل جلاتی مسکراہٹ سجائے آژمیر کے پیچھے آتی سویرا کو دیکھا تھا۔۔۔
“جب تم سے منسلک رشتے خود ہی تمہارے ساتھ مخلص نہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔۔ “
زوہان نے سویرا کی جانب اشارہ کرتے لاپرواہی سے کندھے اُچکائے تھے۔۔۔۔
“زوہان پلیز۔۔۔۔ “
سویرا نے اُسے آژمیر کے غصے کی آگ پر مزید تیل چھڑکنے سے باز رکھنا چاہا تھا۔۔۔۔
“آژمیر پلیز ایک بار میری بات سن لیں آپ۔۔۔۔۔”
سویرا بات کرتے دوران آژمیر کے قریب آتی اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔۔۔۔
لیکن اُس کے زرا سے لمس پر آژمیر میران کے چہرے پر ناگواریت پھیل گئی تھی۔۔
اُس نے بنا اُس کی پوری بات سنیں۔۔۔ اُسے اپنے بازو سے دور جھٹک دیا تھا۔۔۔ ہیل پہننے کی وجہ سے سویرا بُری طرح لڑکھڑائی تھی۔۔۔ مگر زوہان کے سہارا دینے پر منہ کے بل گرنے سے بچ گئی تھی۔۔۔
“دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔ دوبارہ میری نظروں کے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔۔ ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”
آژمیر اُسے نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتے زہر خند لہجے میں بولتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
“جب تم جانتی ہو کہ آژمیر میران کبھی کسی کی غلطی معاف نہیں کرتا۔۔۔ اور جو تم نے کیا وہ تو کبِھی کسی قیمت پر معاف ہونے والا ہی نہیں ہے تو پھر کیوں واپس ذلیل ہونے آگئی ہو۔۔۔؟؟”
زوہان اُس کی روہانسی صورت دیکھ استہزایہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔
“کیونکہ آژمیر تکلیف میں ہیں۔۔۔ میں اُنہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔ “
سویرا گالوں پر بہہ آئے آنسو صاف کرتی زوہان کی جانب دیکھتے بولی تھی۔۔۔
“اوہ۔۔۔اچھا۔۔؟؟؟؟ لگتا ہے باہر رہ کر تمہارا سینس آف ہیومر کافی اچھا ہوگیا ہے۔۔۔ تم وہی لڑکی ہونا جو دو سال پہلے آژمیر میران کی پیٹھ میں خنجر کھونپ کر گئی تھی۔۔۔۔”
زوہان نے اُس پر گہرا طنز کرتے اُس کا مذاق اُڑایا تھا۔۔۔
“آپ ایسے کیسے سارا الزام مجھ پر ڈال سکتے ہیں؟ آپ نے وہ سب کروایا تھا مجھ سے۔۔۔۔ “
سویرا زوہان کے اِس طرح پینترا بدلنے پر افسوس اور دکھ بھری نظروں سے دیکھتے بولی تھی۔۔۔
“میں تو سرِ عام بولتا ہوں۔۔۔ بھائی نہیں دشمن ہوں اُس کا۔۔۔۔ اُسے برباد کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاؤں گا۔۔۔۔ مگر تم۔۔۔ تم پر تو آژمیر کے اتنے احسان تھے نا۔۔۔۔ اُس کے باوجود میرے ایک بار کہنے آژمیر کو دھوکا دے دیا۔۔۔۔ اور اب جاکر احساس ہورہا ہے تمہیں کہ محبت کرتی تھی تم اُس سے۔۔۔۔ واؤ امیزنگ۔۔۔۔ عجیب ہو تم لڑکیاں بھی۔۔۔۔ تمہیں پیسہ بھی چاہیے اور باقی سب بھی۔۔۔۔”
زوہان تفصیل سے اُس کی بات کا جواب دیتا اُسے آئینہ دکھا گیا تھا۔۔۔۔
“اِس کا مطلب وہ لڑکی جو ابھی آژمیر کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کر کے گئی ہے وہ بھی آپ نے بھیجی تھی۔۔۔۔؟؟”
سویرا نے شاک کی کیفیت میں زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“کون سی لڑکی؟؟؟”
زوہان اُس کی بات کو سیریس لیے بغیر اُسی سے سوال کر گیا تھا۔۔۔
“دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں مسٹر ملک زوہان میران۔۔۔۔ اتنے بے رحم مت بنوں کے بعد میں آپ کو ہی اُس سب کا بھگتان بھگتنا پڑے۔۔۔ جو کچھ آپ آژمیر کے ساتھ کررہے ہیں۔۔ جو پیٹھ پیچھے گندی گیمز کھیل رہے ہیں وہ بہت غلط ہے۔۔۔۔۔
میں نے تو صرف دھوکا دیا تھا مگر اِس بار آژمیر کا دل ٹوٹا ہے۔۔۔۔ اُن کے دل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔۔۔۔ ایک بار خود کو آژمیر کی جگہ پر رکھ کر سوچیں۔۔۔ کہ اگر اِسی طرح ایک دن زنیشہ آپ کو چھوڑ کر چلی گئی تو کیسا فیل کریں گے آپ۔۔۔۔ پھر آپ کو سمجھ آئے گا کہ آپ دشمنی میں کس حد تک گر چکے ہیں۔۔۔۔ “
سویرا کو زوہان کا یہ پرسکون اور لاپرواہ انداز آگ لگا گیا تھا۔۔۔۔ جو ہر بار آژمیر کو تکلیف دینے کے بعد ایسے ہی خوش رہتا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کی زوہان اُس کی اتنی بکواس کے جواب میں کچھ کہتا سویرا وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کتنے ہی لمحے وہاں کھڑا کسی غیر مری نقطے کو گھورتا رہا تھا۔۔۔ زنیشہ کے دور جانے والی بات تیر بن کر اُس کے دل میں چبھی تھی۔۔۔
اگلے ہی لمحے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُسی خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
اُن کی گاڑی مظفر آباد کے گاؤں نور پورا میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ جہاں ہر طرف دور دور تک پھیلے سبزے کو دیکھ دونوں کا موڈ کچھ حد تک فریش ہوا تھا۔۔۔۔
پہاڑوں کے بیچ گِھرا یہ گاؤں حُسن اور دلکشی میں اپنی مثال ایک تھا۔۔۔
“آپی کیا ہم یہاں رہیں گے؟”
ماورا کو یہ جگہ بہت پسند آئی تھی۔۔۔۔ اپنے اندر کی اُداسی اور درد پر قابو پاتے وہ ہشاش بشاش لہجے میں حاعفہ سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ حاعفہ کے سامنے اپنی تکلیف ظاہر کرکے اُسے مزید دکھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
آج تک حاعفہ نے اُس کے لیے بہت کچھ کیا تھا اب اُس کی باری تھی۔۔۔۔
“ہاں تمہیں اچھی لگی یہ جگہ؟؟؟”
حاعفہ نے دکت سے مسکراتے چہرا موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔
“ہاں بہت زیادہ۔۔۔۔ نگنیہ بائی نے ہمیں یہاں بھیج کر زندگی میں پہلی بار کوئی تو اچھا کام کیا۔۔۔”
ماورا پہاڑوں کی بلندیوں پر نظریں ٹکائے بولی۔۔۔۔
“ہاں اُنہیں نے میری بہت مدد کی ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے دل سے اقرار کیا تھا۔۔۔ اِس بات سے انجان کے یہاں بھی نگینہ بائی اُس کی قیمت وصول چکی ہیں۔۔۔
“یہاں سے ایک گھنٹے کے ڈسٹنس پر ایک میڈیکل کالج ہے۔۔۔۔ تمہارے کالج والوں سے سارے معاملات کلیئر ہوچکے ہیں۔۔۔ اب باقی جتنا ٹائم رہ گیا ہے۔۔۔ تم یہیں اپنی ڈگری کمپلیٹ کرو گی۔۔۔۔”
حاعفہ پہلے سے ہی ماورا کے حوالے سے تمام معاملات کلیئر کر چکی تھی۔۔۔۔
کچھ ہی لمحوں بعد اُن کی گاڑی ایک انتہائی خوبصورت بنگلے کے بڑے سے سفید گیٹ کے آگے جاکر رکی تھی۔۔۔۔
گیٹ کی دائیں جانب سفید اور سیاہ رنگ کی تختی موجود تھی۔۔۔۔ جس پر لکھا نام حاعفہ نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔ اگر دیکھ پاتی تو کبھی اِس گھر میں داخل نہ ہوتی۔۔۔۔
سفید تختی پر سیاہ لفظوں میں کندہ آژمیر آشیانہ پوری آب و تاب سے جگمگا رہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے فرار ہوکر وہ اتنے دور آئی ہے۔۔۔۔ اِس وقت اُسی کے گھر میں پناہ گزیں ہے۔۔۔۔۔
گاڑی سے اُترتے وہ دونوں سیدھی اندر داخل ہوئی تھیں۔۔۔ وہاں پہلے سے ہی ملازمین موجود تھے۔۔۔ اور اُن کی آمد کے منتظر تھے۔۔۔۔
دو خواتین اندر جبکہ دو گارڈز باہر موجود تھے۔۔۔۔
حاعفہ کو نگینہ بائی نے بتایا تھا کہ اُنہوں نے اُن دونوں کے لیے الگ سے ایک گھر ارینج کردیا ہے۔۔۔ جہاں اُنہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔۔۔
مگر وہ گھر اتنا شاندار اور پر آسائش ہوگا حاعفہ کو قطعاً اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔ اور نہ ہی نگینہ بائی کو۔۔۔
“بہت خوبصورت گاؤں ہے یہ۔۔۔۔ آپ شروع سے یہیں رہتی ہیں۔۔۔”
ماورا سامنے ٹیبل پر چائے رکھتی ملازمہ سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔
“شکریہ بی بی جی۔۔۔۔ ہم تو یہیں کی پیدوار ہیں بی بی جی۔۔۔۔ اور ساری زندگی اپنے مالکوں کی خدمت میں وقف کرنا ہی ہمارا کام ہے جی۔۔۔۔۔”
ملازمہ بھی کافی باتوں کی شوقین معلوم ہورہی تھی۔۔۔
حاعفہ کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ اِس وقت چائے اُسے غنیمت لگی تھی۔۔۔ وہ مگ ہونٹوں سے لگائے خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔
“کون مالک…؟؟؟”
ماورا کو شروع سے ایسا وڈیروں ٹائپ سسٹم دیکھنے کا بہت شوق رہا تھا۔۔۔۔
“جی ہمارے سائیں۔۔۔ وہی۔۔۔ جن کا یہ گھر ہے۔۔۔ بلکہ یہ پورا گاؤں اُنہیں کی جاگیر ہی تو ہے۔۔۔۔ یہاں پاس ہی اُن کی بہت بڑی حویلی ہے۔۔۔۔ بہت پیاری حویلی ہے جی اُن کی۔۔۔ لوگ ترستے ہیں اُن کی حویلی کو اندر سے دیکھنے کے لیے۔۔۔”
ملازمہ پورے جوش و خروش سے اپنے مالکوں کی تعریف بیان کررہی تھی۔۔۔
“اوہ رئیلی پھر تو ہم بھی دیکھنا چاہیں گی۔۔۔ ایسا کیا ہے اُس حویلی میں۔۔۔۔”
ملازمہ کی باتیں سن ماورا کا اشتیاق بڑھا تھا۔۔۔۔
ماورا کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ دیکھ حاعفہ کے دل کا بوجھ تھوڑا کم ہوا تھا۔۔۔ وہ بھی ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔
“جی بی بی جی۔۔۔ وہ لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔۔۔ آپ کی آمد کا اگر حویلی کی خواتین کو پتا چلا تو وہ آپ کو ضرور دعوت دیں گی۔۔۔ بڑی بی بی جی بہت اچھی ہیں۔۔۔۔”
ماورا نے ایسے ملازمین پہلی بار دیکھے تھے۔۔۔ جو اپنے مالکان سے اِس حد تک محبت کرتے تھے۔۔۔ اب تو وہ اِن حویلی والوں سے لازمی ملنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
سویرا شیخ آژمیر کی سگی خالہ کی بیٹی تھی۔۔۔ وہ آژمیر کی ایج فیلو تھی اور بچپن سے اُن دونوں کی بہت دوستی رہی تھی۔۔۔ آژمیر شروع سے ہی بہت ہی کیئرنگ اور اپنے سے منسلک رشتوں کو اہمیت دیتا تھا۔۔۔۔ وہ ابھی ٹینھ سٹینڈرڈ میں تھے جب ایک پلین کریش میں سویرا کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔
اُس کے بعد سے آژمیر نے ایک کزن اور دوست ہونے کے ناطے اُس کا بہت خیال رکھا تھا۔۔۔ وہ اُن کے گھر میں اُنہیں کے ساتھ رہنے لگی تھی۔۔۔
آژمیر نے ہر جگہ، ہر معاملے میں سویرا کو فل سپورٹ کیا تھا۔۔۔ سویرا کب آژمیر سے محبت کرنے لگی تھی اُسے پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔۔
مگر آژمیر نے اُسے ہمیشہ ایک دوست اور بہن ہی مانا تھا۔۔۔۔ آژمیر کے دل میں اُس کو لے کر ایسا کوئی خیال نہیں رہا تھا کبھی بھی۔۔۔۔ اور نہ ہی سویرا کی اپنے متعلق فیلنگز سمجھ پایا تھا۔۔۔
وہ اپنی تعلیم کے آخری مراحل میں تھے جب سویرا نے دل کے ہاتھوں مجبور اپنی محبت کا اظہار آژمیر کے آگے کردیا تھا۔۔۔
جس پر آژمیر نے نہ صرف اُسے صاف لفظوں میں انکار کیا تھا۔۔۔ بلکہ اُس کی دن بدن قریب آنے کی کوشش کرنے والی عجیب و غریب حرکتوں پر اُسے بُری طرح جھڑکا بھی تھا۔۔۔۔
آژمیر کو یہ عشق و محبت ہمیشہ سے دنیا کے سب سے فضول کام لگتے تھے۔ وہ ایسی چیزوں سے دور ہی رہنا چاہتا تھا۔۔۔ جو اُسے مینٹلی ویک کردیں۔۔۔
سویرا کی فیلنگز جاننے کے بعد آژمیر اُس سے دور ہوگیا تھا۔۔۔ سویرا جو ہر وقت آژمیر کے ساتھ رہنے کی عادی تھی۔۔۔ اُس کا اگنور کرنا برداشت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔ اور اندر ہی اندر آہستہ آہستہ اُس کے خلاف ہونے لگی تھی۔۔۔۔
جس کا زوہان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا تھا۔۔۔ زوہان ہمیشہ سے آژمیر کو نیچا دکھانے اور اُس سے بدلہ لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ اُس نے آہستہ آہستہ سویرا کی برین واشنگ کرکے اُس سے آژمیر کے بالکل خلاف کردیا تھا۔۔۔
سویرا آژمیر کے ساتھ اُس کے آفس میں کام کرتی تھی۔۔۔ اور آژمیر نے بھی اُس پر ٹرسٹ کرکے اپنی تمام امپورٹنٹ فائلز اُسی کے حوالے کر رکھی تھیں۔۔۔۔ جب اِسی طرح کے ایک انٹرنیشنل پراجیکٹ کی میٹنگ کے دوران جہاں آژمیر کی ٹیم نے اپنے کام کی ڈاکومنٹری دیکھانی تھی۔۔۔۔
سویرا نے انتہائی چالاکی سے سی ڈی بدلتے بزنس سوسائٹی کے تمام معزز لوگوں کے سامنے خاص طور پر ایڈٹ کروائی اپنی اور آژمیر کی انتہائی گھٹیا ویڈیو آن کردی تھی۔۔۔
جو دیکھ سب کو گہرا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
آژمیر میران جو اپنے حلقے کے تمام لوگوں کے لیے انتہائی مقابلے عزت اور معزز انسان تھا۔۔۔ آژمیر کے کہنے سے پہلے ہی بہت سے لوگ خود ہی اِس ویڈیو کے فیک ہونے کا کہہ اُٹھے تھے۔۔۔۔
مگر وہیں مخالفین نے اِس بات کو بہت بُری طرح اُچھالا تھا۔۔۔۔ نہ صرف وہ پراجیکٹ آژمیر کے ہاتھ سے نکلا تھا بلکہ اگلے چھ مہینوں تک اُسے بہت ٹف ٹائم دیکھنا پڑا تھا۔۔۔
میران پیلس کے ہر فرد نے سویرا کی اِس گھٹیا حرکت پر اُسے بھرپور لعنت ملامت کی تھی۔۔۔ جس پر سویرا کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔ اُس نے آژمیر سے معافی مانگنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ مگر تب سے لے کر اب تک آژمیر اُس جیسی لڑکی کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔۔۔ جس نے اُسے بدنام کرنے کے لیے خود کو اِس قدر نیچے گرا دیا تھا۔۔۔۔
سویرا نے سب کو بتا دیا تھا کہ اُسے ایسا کرنے کے لیے زوہان نے کہا تھا۔۔۔۔ اور زوہان نے سب کے سامنے اِس بات کا اقرار بھی کیا تھا کہ وہ آژمیر سے بدلہ لینے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔۔
آژمیر کو اُس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا۔۔۔ مگر جس لڑکی کا اُس نے شروع سے ساتھ دیا تھا۔۔۔ اُسے اِس مقام تک پہنچایا تھا اُسی نے اُس کی پیٹھ میں خنجر کھونپ دیا تھا۔۔۔ اِس واقع نے آژمیر کا لوگوں پر سے اعتبار اُٹھا دیا تھا۔۔۔
مگر اب بہت عرصے بعد اُس نے دل سے بغاوت کرکے ایک لڑکی پر نہ صرف پورا بھروسہ کیا تھا بلکہ اپنا دل بھی اُس کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔۔۔ جسے وہ لڑکی اپنے پیروں تلے روندتے جاچکی تھی۔۔۔
آج تک آژمیر میران کی زندگی میں بہت طوفان آئے تھے۔۔۔ کبھی کوئی اُسے اُس کی جگہ سے ہلا بھی نہیں پایا تھا۔۔۔ مگر حاعفہ نور نے اُسے ایسی گہری چوٹ دی تھی۔ جس کا بھر پانا اب اُس کی زندگی بھر کے لیے ناممکن تھا۔۔۔۔
اُس کے خلاف سازشیں کرکے کے اُسے کمزور کرنے والے اُس کے دشمن پہلی بار کامیاب ہوئے تھے۔۔۔
سویرا میران پیلس میں رہ کر سب کی بے رُخی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اِس لیے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امریکہ چلی گئی تھی۔۔۔
لیکن یہاں بھی اُس نے کچھ ایسے لوگ چھوڑ رکھے تھے جو اُسے آژمیر کی پل پل کی خبر دے رہے تھے۔۔۔۔ آژمیر کی زندگی میں کسی لڑکی کے آنے کا سن کر اُسے بہت تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر اُس لڑکی کے آژمیر کو دیئے دھوکے کی خبر سویرا کو ہلا کر رکھ گئی تھی۔۔۔ جسے برداشت نہ کرپاتے وہ پاکستان واپس لوٹ آئی تھی۔۔۔ آژمیر میران کی خاطر۔۔۔
اور اب وہ ہر حال میں آژمیر سے معافی مانگ کر اُسے منانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ باہر لان میں جھولے پر آنکھیں موندے بیٹھی مسکرا رہی تھی۔۔۔۔ زوہان کے کیے جانے والے اظہار نے اُسے فرش سے عرش پر پہنچا دیا تھا۔۔۔۔ وہ اِس وقت خود کو دنیا کی سب سے زیادہ خوش قسمت لڑکی تصور کررہی تھی۔۔۔۔
اب اُسے پورا یقین تھا کہ وہ آژمیر اور زوہان کہ بیچ دشمنی کی وجہ جان کر اُنہیں ایک ضرور کرے گی۔۔۔۔ وہ دونوں ہی اُس سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔۔۔ وہ اپنی زندگی کے اِن دو سب سے اہم لوگوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
زوہان کی سوچوں میں کھوئے اُس کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔
چپکے سے اُس کے قریب آتی فریحہ اور صدف نے اُس کی مسکراہٹ کو ذومعنی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
“بھابھی۔۔۔۔۔۔ “
صدف نے زنیشہ کے زرا سا قریب ہوتے فریحہ کو مخاطب کرکے اپنا گلا کھنکھارا تھا۔۔۔۔
زنیشہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اور اُن دونوں کے چہروں پر سجی زومعنی مسکراہٹ دیکھ جھینپ گئی تھی۔۔۔
“بھابھی اِن محترمہ کی فکر میں، میں نے اِن کے اُن مسٹر ہٹلر کی ڈانٹ کھائی۔۔۔ مجھے لگا یہ میری بچاری معصوم سی کزن کہیں اپنے ہٹلر ہزبینڈ کو اچانک سامنے دیکھ بے ہوش ہی نہ ہوجائے۔۔۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور لگ رہا ہے۔۔۔ لگتا ہے ملک زوہان میران کا اپنی بیوی کے سامنے آتے ساری ہٹلر گری نکل گئی۔۔۔۔”
وہ دونوں اُس کی شرمیلی صورت دیکھ ہنستے ہوئے بولیں۔۔۔
“تم چپ کرو۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ “
زنیشہ زوہان کی باتیں اور حرکتیں یاد کرتی شرم سے دوہری ہوئی تھی۔۔۔
“اچھا تو مجھے بتا دو۔۔۔ کیسا ہے پھر؟.”
فریحہ بھی فل مستی میں تھی آج۔۔۔۔
“بھابھی آپ بھی۔۔۔۔؟؟ مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ دونوں سے۔۔۔۔”
زنیشہ اُن دونوں کے ٹانگ کھینچنے پر جلدی سے وہاں سے کھسک گئی تھی۔۔۔۔
اُس کا رُخ شمسہ بیگم کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔۔
وہ اُن سے آژمیر کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر ڈرائنگ روم کے پاس سے گزرتے اُس کے قدموں کو بریک لگی تھی۔۔۔
اندر آژمیر کا خاص آدمی فیصل قاسم صاحب اور شمسہ بیگم کے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔ نجانے وہ کیا بتا رہا تھا جسے سن کر شمسہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔۔
زنیشہ کا دل پریشان ہوا تھا۔۔۔
وہ ڈرائنگ روم کی اُس طرف بنی کھڑکی کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ جہاں سے اندر کی ساری باتیں واضح طور پر سنائی دیتی تھیں۔۔۔
مگر وہاں آتے جو باتیں زنیشہ کے کانوں میں پڑی تھیں۔۔۔ اُس کا دل ہلا کر رکھ گئی تھیں۔۔۔ ہمیشہ اُن سب کی خوشیوں کا خیال رکھنے والا اُس کا جان سے پیارا بھائی، جو زوہان سے اتنی دشمنی ہونے کے باوجود صرف اُس کی خوشی کی خاطر جھک گیا تھا وہ اِس وقت اتنی تکلیف میں تھا اور اُنہیں پتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
فیصل یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگر آژمیر کو پتا چل گیا کہ اُس نے اُس کی فیملی کو یہ ساری باتیں بتا دی ہیں۔۔۔ آژمیر اُسے چھوڑیں گا نہیں۔۔۔۔ اِس کے باوجود وہ یہاں آن پہنچا تھا۔۔۔۔ وہ آژمیر کو اتنی اذیت اور خود کو ٹارچر کرتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
اُس نے حاعفہ کے طوائف والے حصے کو چھوڑ کر باقی تمام حقیقت قاسم صاحب کے سامنے بھی رکھ دی تھی۔۔۔۔۔
زنیشہ نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی سسکی کو روکا تھا۔۔۔ اُس کا پورا چہرا آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے، اِس سب کے پیچھے کون ہوسکتا ہے۔۔؟؟”
قاسم صاحب نے فیصل کی رائے جاننی چاہی تھی۔۔ کیونکہ وہ ہر وقت آژمیر کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔
“سر میرے خیال میں ملک زوہان۔۔۔ سویرا شیخ والا معاملہ ہمارے سامنے ہی ہے۔۔۔ اُن کے علاوہ بھلا اور کون ہے آژمیر کا دشمن۔۔۔۔”
فیصل نے اپنی سوچ کے مطابق رائے دی تھی۔۔۔ جسے سنتے زنیشہ کو گہرا صدمہ پہنچا تھا۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ زوہان اِس حد تک گر سکتا ہے۔۔۔۔
زوہان کی آژمیر سے نفرت بالکل بھی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے ملازمہ کو اشارہ کرکے اپنی شال لانے کو کہا تھا۔۔۔۔
“تمہارے سر اِس وقت کہاں ہیں۔۔۔؟؟”
گاڑی میں آکر بیٹھتے زنیشہ نے حاکم کو کال ملائی تھی۔۔۔ وہ زوہان سے فیس ٹو فیس بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ جس کی گھٹیا سازشوں کی وجہ سے اُس کا بھائی اتنی تکلیف میں تھا۔۔۔۔
“وہ آج صبح ہی گاؤں پہنچے ہیں۔۔۔ اِس وقت اپنے سفید بنگلے پر موجود ہیں۔۔۔”
حاکم کو سمجھ نہیں آئی تھی وہ بھلا یہ بات کیوں پوچھ رہی تھی۔۔۔
زنیشہ نے مزید کوئی بات کیے بنا فون رکھ دیا تھا۔۔۔ اور ڈرائیور کو وہیں جانے کا حکم دیا تھا۔۔۔
پورے راستے زنیشہ جلتی بھنتی آئی تھی۔۔۔ اُسے رہ رہ کر اُس لڑکی پر غصہ آرہا تھا۔۔۔ جس نے آژمیر میران جیسے انسان کو دھوکا دیا تھا۔۔ جس انسان کے ساتھ کے لیے لڑکیاں مررہی تھیں۔۔۔ وہ اُسی کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
