No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
“نن نہیں آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔ اِس کے علاوہ آپ چاہے جو مرضی سزا دے دیں مجھے۔۔۔ مگر پلیز مجھ سے اپنا نام مت چھینیں۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کے روح فساں الفاظ سن کر پھوٹ پھوٹ کر روتی اُس کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
آژمیر کے لیے حاعفہ کا یہ ردعمل بہت حیران کن تھا۔۔۔ جب وہ اُس سے محبت کرتی ہی نہیں تھی۔۔۔ صرف ایک فریب بن کر اُس کی زندگی میں آئی تھی تو پھر یہ سب کیا تھا۔۔۔۔۔۔
آژمیر کو اُس کی یوں اپنے قدموں میں گرنے والی حرکت انتہائی ناگوار گزری تھی۔۔۔ وہ اگلے ہی لمحے کلائی سے پکڑ کر اُسے اُوپر اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔
“یہ کیا نیا ناٹک ہے؟؟؟ “
آژمیر کا دماغ حاعفہ کی طلاق کے نام پر خراب ہوتی حالت دیکھ اُلجھ چکا تھا۔۔۔
“میں ناٹک نہیں کررہی۔۔۔۔ سچی محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔ وہ سب مجھ سے زبردستی کروایا گیا تھا۔۔۔ میں مر کر بھی آپ کو تکلیف پہنچانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتی۔۔۔ “
حاعفہ جذبات کے عالم میں آخر کار اونچی آواز میں چلاتی اپنی محبت کا اظہار کر گئی تھی۔۔۔۔
“اوہ رئیلی تمہیں لگتا ہے میں اب بھی تمہاری بات پر یقین کروں گا۔۔۔۔ مجھے تم پر اب ایک پرسنٹ بھی ٹرسٹ نہیں رہا حاعفہ نور۔۔۔۔ تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا بھروسہ کھو چکی ہو۔۔۔۔ تم نے مجھ سے اپنی اصلیت چھپائی، کہ طوائف زادی ہوتے میرے سامنے باپردہ ہونے کا ناٹک کرکے مجھے محبت کے جال میں پھنسایا اور پھر آخر میں مجھے زہر دے کر مارنا چاہا۔۔۔۔ کیا یہی ہے تمہاری محبت؟؟؟ ایسی محبت سے بہتر میں ساری زندگی کے لیے تنہا رہنا پسند کروں گا۔۔۔۔”
آژمیر اپنے اندر کی بھڑاس اُس پر نکال رہا تھا۔۔۔ اور حاعفہ بے بسی سے اُسے تکی جارہی تھی۔۔۔ یہ شخص اُس کی زندگی تھا جو اُس سے بہت جارہی تھی۔۔۔ اُس کی اب تک کی زندگی دکھوں سے بھری پڑی تھی۔۔۔ مگر اتنی اذیت اُسے آج تک محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔ جتنی اِس وقت آژمیر کے الفاظ نے اُسے دی تھی۔۔۔
آژمیر ابھی اُسے اُس کی سزا سنانے ہی والا تھا۔۔۔ جب موبائل پر آتی کال نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔
دوسری جانب سے قاسم صاحب کے ارجنٹ بلاوے پر وہ فکر مند ہوا تھا۔۔۔
“کیا ہوا سب خیریت ہے؟ آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟”
آژمیر کو ایک دم اُن کی فکر ہوئی تھی۔۔۔۔
“اوکے میں ابھی پہنچتا ہوں۔۔۔۔”
آژمیر اُنہیں جواب دے کر فون رکھتا واپس حاعفہ کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔ جو اُس کو جاتا دیکھ وہاں سے کھسکنے کو پڑ تول رہی تھی۔۔۔
آژمیر کو اُس کا بار بار یہ اپنی نظروں سے اوجھل ہونے کی کوشش کرنا بہت بُرا لگا تھا۔۔۔
حاعفہ کی دونوں کلائیوں دبوچ کر اُس کی کمر کے پیچھے موڑتے آژمیر نے اُسے پوری طرح اپنے حصار میں لیتے اپنے بے حد قریب کیا تھا۔۔۔۔
“خبردار جو یہاں سے کہیں بھی بھاگنے کی کوشش کی تو۔۔۔۔ اگر تم یہاں سے غائب ہوئی تو تمہیں ڈھونڈ کر اپنے ہاتھوں سے یہ نازک گردن دبا دوں گا۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔۔”
آژمیر کی گرم سانسیں حاعفہ کو اپنی گردن پر محسوس ہوئیں تو وہ جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔
اُس کی شہہ رگ پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتا اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
آژمیر کے سرد و سپاٹ لہجے میں ادا کیے الفاظ اُس کی سماعتوں میں ابھی بھی گونج رہے تھے۔۔۔۔
دھیرے سے قدم اُٹھاتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس ستمگر کے غصے میں چھوڑے لمس کا نشان اُس کی سُرخ پڑتی گردن پر واضح تھا۔۔۔ حاعفہ کا چہرا تپ اُٹھا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے الفاظ یاد کرتے اُس کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔
آژمیر کی دھمکی میں چھپا اقرار اُس کے دل کو خوش فہمیوں کی دنیا میں دھکیل گیا تھا۔۔۔۔ آژمیر اُسے یہاں سے نہ جانے کا بول کر گیا تھا۔۔۔ جس کا مطلب تھا اُسے حاعفہ کا خود سے دور ہونا برداشت نہیں تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے لیے اُس کا غصے اود مصنوعی نفرت میں چھپا یہ چھوٹا سا اقرار بھی کافی تھا۔۔۔ اب وہ مر کر بھی آژمیر میران سے دور جانے کا نہیں سوچنے والی تھی۔۔۔
“میں جانتی ہوں آپ اب بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔ تبھی تو میری اتنی غلطیوں کے باوجود مجھے زرا سی سزا بھی نہیں سنا سکے۔۔۔۔ میں اب کسی قیمت پر آپ سے دور نہیں جاؤں گی۔۔۔۔ آپ مجھے بیوی کے رُوپ میں چاہے قبول نہ کریں۔۔۔ میں ساری زندگی کے لیے آپ کی باندی بن کر جینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ حاعفہ آژمیر ہمیشہ سے صرف آپ کی تھی۔۔۔ اور آگے بھی ہمیشہ آپ ہی کی رہے گی۔۔۔۔”
نجانے کتنے عرصے بعد حاعفہ کا مرجھایا زندگی سے دالبرداشتہ چہرا کھل اُٹھا تھا۔۔۔
وہ دیوانی لڑکی آژمیر میران کی ایک دھمکی پر خوشی سے پاگل ہو اُٹھی تھی۔۔۔۔ اگر جو کبھی آژمیر میران اُس سے محبت سے بات کرلے۔۔۔۔ پھر تو حاعفہ نور کا حواس کھونا متوقع تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
میران پیلس کے مکینوں نے آژمیر میران کی خاطر سویرا کو ایک اور موقع سے دیا تھا۔۔۔ وہ سب بس آژمیر کو خوش و خرم دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔ اگر سویرا ایسا کرنے کا یقین دلا چکی تھی اُنہیں تو اُن سب کو اِس سے زیادہ کچھ چاہیئے بھی نہیں تھا۔۔۔۔
سویرا اُن سب کی فراخ دلی پر مزید شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔۔ اُس کے اتنا بُرا کرنے کے باوجود سب نے اُسے مزید ایک موقع دے دیا تھا۔۔۔ اب وہ کسی بھی صورت آژمیر کو منا کر اپنی جانب راغب کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میری جان کیا ہوا؟؟؟ کوئی پرابلم ہے کیا؟؟”
شمسہ بیگم زنیشہ کو ایک جگہ پریشان اور گم صم بیٹھا دیکھ اُس کے قریب آتے فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔۔
“اماں سائیں میں نے اپنی سب سے قیمتی اور عزیز ترین شے کو اپنے ہاتھوں خود سے دور کردیا ہے۔۔۔ میں بہت بُری ہوں۔۔۔۔ مجھے خود سے نفرت محسوس ہورہی ہے۔۔۔۔”
زنیشہ روہانسی آواز میں بولتی آخر میں رو دی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ میرے بچے کیا ہوا ہے۔۔۔۔ زوہان سے کوئی لڑائی ہوئی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
شمسہ بیگم اچھے سے جانتی تھیں اُن کی بیٹی کا اتنا افیکٹ ملک زوہان ہی کرسکتا تھا۔۔۔۔
“وہ مجھ سے بہت سخت ناراض ہوگئے ہیں۔۔۔۔ اب کبھی مجھ سے بات نہیں کریں گے۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔۔”
زنیشہ بچوں کی طرح روتی شمسہ بیگم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔
“تم نے ناراض کیا ہے۔۔۔ تو مناؤ بھی سہی۔۔۔ میں جانتی ہوں میرا بگڑا ہوا بیٹا میری اِس جھلی بیٹی سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ پائے گا۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کا ماتھا چوم کر اُسے مفید مشورے سے نوازتیں وہاں سے اُٹھ گئی تھیں۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر شاک کی کیفیت میں قاسم میران کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ کسی سے بھی توقع کرسکتا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کے چچا قاسم میران کا ماضی ایسا سیاہ ہوگا اُسے بالکل اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔
وہ دونوں چچا بھتیجے سے زیادہ بہترین دوستوں کی طرح تھے۔۔۔۔ مگر قاسم میران کی سچائی جان کر آژمیر کو بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“میں جانتا ہوں آژمیر بیٹا۔۔۔۔ میرا گناہ بہت بڑا ہے۔۔۔ مگر ساری زندگی اولاد سے محروم رہ کر مجھے اِس کی بہت بڑی سزا مل چکی ہے۔۔۔۔ مجھ میں اب مزید یہ بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔۔۔۔ میں اپنی بیٹیوں کو اب اپنی آگے کی زندگی میں اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ بچپن سے اب تک وہ باپ کی جس شفقت سے محروم رہی ہیں اُنہیں وہ سونپنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں حاعفہ اور ماورا کو بتانا چاہتا ہوں کہ اُن کا باپ اتنے سالوں سے اُن کے لیے کا قدر تڑپتا آیا ہے۔۔۔۔ “
خاموشی سے قاسم صاحب کی بات سنتے حاعفہ کے نام پر اُس نے جھٹکے سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔ یہ سب سے بڑا شاک تھا اُس کے لیے۔۔۔۔ حاعفہ اُس کے چچا کی بیٹی اُسی کے خاندان کا ہی حصہ تھی۔۔۔۔
آژمیر نے سختی سے مُٹھیاں بھینچتے ایک گہرا سانس ہوا میں خارج کرتے خود پر ضبط پانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ وہ جتنا اِس لڑکی سے دور جانے کی کوشش کررہا تھا وہ اُتنا ہی اُس کے قریب تر آرہی تھی۔۔۔
آژمیر کو ایک لمحہ لگا تھا سارا معاملہ سمجھنے میں۔۔۔۔۔ کچھ لمحے پہلے وہ جو حاعفہ کی اپنے بیڈ روم میں موجودگی پر حیران تھا۔۔۔ اب سب کچھ اُس کے سامنے واضح ہوچکا تھا۔۔۔۔
“بیٹا کیا آپ میرا ساتھ دو گے۔۔۔۔ میری بیٹیوں کو میران پیلس میں جگہ دلوانے میں میرا ساتھ دو گے؟؟؟ میں جانتا ہوں تم ہی وہ واحد انسان ہو۔۔۔ جو سب گھر کے سب افراد کو اِس کے لیے راضی بھی کرسکتے ہو۔۔۔ اور برادری کے لوگوں کا منہ بھی بند کرسکتے ہو۔۔۔۔ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔۔”
قاسم صاحب آنکھوں سے پھسل آئے آنسو صاف کرتے اذیت بھرے لہجے میں بولتے آژمیر کے لیے انکار کرنے کی ساری وجوہات ختم کر گئے تھے۔۔۔
آژمیر میران جو ہمیشہ اپنوں کے مشکل وقت میں اُن کے ساتھ کھڑا ہوتا آیا تھا۔۔۔ بھلا اِس مقام پر قاسم میران کو کیسے انکار کرسکتا تھا۔۔۔۔
“آپ فکر مت کریں۔۔۔ میں سب کا منا لوں گا۔۔۔۔ مگر کیا آپ کی بیٹیاں آپ کو قبول کریں گی۔۔۔۔ ابھی آپ نے بتایا آپ کی بڑی بیٹی بہت نفرت کرتی ہے آپ سے۔۔۔۔”
آژمیر نے حاعفہ کا ذکر کرتے اجنبی لہجہ اختیار کیا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے رشتے کی سچائی فلحال تو کسی کے سامنے بھی لانے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔۔
“ہاں ماورا اور نگینہ بائی دونوں سے بات ہوئی ہے میری۔۔۔۔۔ میری حاعفہ نے میری وجہ سے بہت مشکل زندگی گزاری ہے۔۔۔۔ میں سب سے زیادہ مجرم اُسی کا ہوں۔۔۔۔ وہ نفرت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔ لیکن میں فلحال بس اُسے میران پیلس میں رہنے کے لیے منا لینا چاہتا ہوں۔۔۔۔ تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی کی گئی زیادتیوں کا ازالہ کرکے اُس کا دل اپنی جانب سے نرم کرسکوں۔۔۔۔”
قاسم صاحب آژمیر سے کچھ بھی نہیں چھپانا چاہتے تھے۔۔۔۔۔
“میں سمجھا نہیں کیسی اذیت اور تکلیف برداشت کی ہے اُس نے۔۔۔۔؟؟؟”
آژمیر کا دل بےچین ہوا تھا حاعفہ کی سچائی جاننے کے لیے۔۔۔۔ وہ اُس کی گنہگار تھی مگر اُس سے بھی پہلے اُس کی محبت تھی۔۔۔ وہ اُس کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے سوال پر قاسم صاحب نے بھیگتی آنکھوں سے نگینہ بائی اور ماورا کی زبانی بتائی تمام حقیقت آژمیر کو بتا دی تھی۔۔۔۔ مگر دانستہ طور پر حاعفہ کے نکاح والی بات پوشیدہ رکھی تھی۔۔۔ کیونکہ ماورا کو اُس نے سختی سے کسی کو کچھ بھی بتانے سے منع کررکھا تھا اِس لیے ماورا نے قاسم صاحب کو آژمیر کا نام نہیں بتایا تھا۔۔ اور نگینہ بائی نے بھی حاعفہ کی قسم کے مطابق کسی کو بھی آژمیر کا نہ بتانے کا عہد کررکھا تھا۔۔۔۔ اِس لیے قاسم صاحب یہاں آژمیر کے سامنے اپنی بیٹی کی عزت رکھ گئے تھے۔۔۔
اِس بات سے انجان کے آژمیر اُن کی بیٹی کو اُن سے زیادہ بہتر جانتا تھا۔۔۔۔
“میرے خیال میں آپ کے پاس اپنی بیٹی کے حوالے سے معلومات ناکافی ہے۔۔۔۔ ہوسکتا ہے آپ کی بیٹی اتنی معصوم بھی نہ ہو۔۔۔ جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔ اینی وے آپ کو میری جو ہیلپ بھی چاہئیے میں اُس کے لیے تیار ہوں۔۔۔ ابھی مجھے ایک ضروری کام کے لیے شہر کے لیے نکلنا ہے۔۔۔۔ کل ملاقات ہوگی آپ سے۔۔۔۔”
حاعفہ کے بارے میں جان کر آژمیر کے دل کی بے چینی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔ وہ لڑکی اتنی قصور نہیں تھی جتنا وہ اُسے سمجھ رہا تھا۔۔۔ مگر وہ اُس کے دل کا خون کرنے کی خطا وار تھی۔۔۔۔ جس کے لیے وہ اُسے اتنی آسانی سے معاف کرنے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔
آژمیر میران کا دل اتنا ارزاں بالکل بھی نہیں تھا کہ کوئی بھی آکر اُس سے کھیل کر چلا جاتا۔۔۔۔ آژمیر نے صرف ایک لڑکی کو اپنے دل تک رسائی دی تھی ۔۔۔ مگر اُسی لڑکی کا دل پر کیا وار بہت کاری تھا۔۔۔۔ جسے اتنی جلدی بھول پانا آژمیر کے لیے بہت مشکل تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@
“زوہان پلیز بس کرو۔۔۔ کیوں جان بوجھ کر اپنی جان کے دشمن بنے پڑے ہو۔۔۔۔ پلیز مزید سیگریٹ مت پینا۔۔۔۔”
ثمن زوہان کے پاس کھڑی منت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔۔ اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اُس کے سامنے ٹیبل پر رکھی سیگریٹ کی ڈبیا خود اُٹھا کر پھینک دیتی۔۔۔
“تمہیں کس نے کہا ہے یہاں بیٹھنے کا۔۔۔۔ جاؤ اپنے گھر۔۔۔۔ مجھے اکیلا رہنا ہے۔۔۔۔”
زوہان اُس کے ٹوکنے پر اُسے وہیں ڈپٹ گیا تھا۔۔۔۔
اُسے ہمیشہ اپنے قریب صرف ایک انسان کی خواہش ہی رہی تھی۔۔۔ مگر اُس ہستی نے ہر بار اُس پر الزاموں کی برسات کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔۔ اِس لیے اگر وہ نہیں تو زوہان کو کوئی بھی نہیں چاہیئے تھا۔۔۔
ثمن بے بسی سے اُسے دوبارہ سیگریٹ سلگھاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا زوہان کا موبائل بج اُٹھا تھا۔۔۔۔۔
زوہان ویسے ہی آنکھیِں موندے بیٹھا تھا۔۔۔۔
“زنیشہ کی کال ہے….”
ثمن کب سے بجتے فون کی جانب دیکھتی زوہان کو پکار بیٹھی تھی۔۔۔۔ زنیشہ کے نام پر زوہان نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔۔
مگر فون اٹینڈ کرنے کے بجائے وہ بڑے آرام سے کال کاٹ گیا تھا۔۔۔۔ ثمن افسوس سے سر ہلا کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ ہمیشہ اِس مشکل ترین انسان کو سمجھنا اُس کے لیے کٹھن رہا تھا۔۔۔۔
ایک طرف جس کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر وہ اپنی صحت خراب کر رہا تھا دوسری طرف اُس کی بات سننے کا بھی روادار نہیں تھا۔۔۔۔۔
مگر دوسری جانب بھی کوئی اور نہیں زنیشہ میران تھی۔۔۔۔۔ جب تک زوہان کی بات نہ سن لیتی باز نہیں آنا تھا اُس نے۔۔۔۔ ثمن اِن دونوں کی ایک دوسرے کے لیے اتنی شدت پسندی دیکھ کر حیرت زدہ تھی۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو چاہتے بھی بہت تھے مگر ضدی بھی حد درجے کے تھے۔۔۔۔۔
“کیا پرابلم ہے؟؟؟؟”
زوہان شدید غصے کے باوجود اُس کی کال زیادہ دیر اگنور نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔۔
“مجھے بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔۔۔”
دوسری جانب سے زنیشہ کی فکر بھری روہانسی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔۔۔
“مگر مجھے کسی قسم کی ہمدردی نہیں چاہیئے۔۔۔۔ اور نہ اِس وقت میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ مجھے تنگ مت کرو۔۔۔۔”
زوہان پیشانی مسلتے خود پر ضبط پاتے بولا۔۔۔۔۔ آج اتنے سالوں بات اُس نے اپنی ماں پر ہوئے ظلم کی حقیقت کسی کے سامنے دوہرائی تھی۔۔۔۔ جس سے اُس کے زخم ایک بار پھر اُدھڑ چکے تھے۔۔۔۔
“میں بہت اچھے سے جانتی ہوں ملک زوہان کو کسی کی ہمدردی کی کبھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ اور نہ میں ایسا کررہی ہوں۔۔۔۔ میں معافی مانگنا۔۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے۔۔۔۔ جب دوسری جانب سے کال کاٹ دی گئی تھی۔۔۔۔۔
زنیشہ نے آنکھیں پھاڑے موبائل سکرین کو گھورا تھا۔۔۔۔۔۔
مگر جو کچھ وہ زوہان کو کہہ چکی تھی۔۔۔ اُس سب کا یہ ردعمل تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔ وہ زوہان کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔ جو اس کے اتنے غلط الزامات لگانے کے باوجود اُسے اچھی خاصی مہلت دے گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ سامنے کھڑے قاسم میران کو اپنے باپ کے رُوپ میں دیکھتی شاک میں تھی۔۔۔ جس انسان سے وہ اتنا عرصہ بھاگتی آئی تھی آج آخر کار وہ اُس تک پہنچ ہی گیا تھا۔۔۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اپنے باپ کے ڈھائے سارے ظلم یاد کرتے اُس نے رُخ موڑ لیا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ بیٹا پلیز ایک بار میری بات سن لو۔۔۔۔”
قاسم صاحب حاعفہ کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ اذیت بھرے لہجے میں بولے تھے۔۔۔۔
“میں آپکی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔۔ میرے لیے میرا باپ میری ماں کے ساتھ ہی مر چکا ہے۔۔۔۔ آپ یہ سب کرکے اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ “
حاعفہ شدت جذبات سے مُٹھیاں بھینچے بولی تھی۔۔۔
اُس کا دل چاہ رہا تھا۔۔۔۔ اِس شخص سے کہیں دور بھاگ جائے۔۔۔۔ مگر آژمیر کا احساس اُسے ایسا کرنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ بیٹا میں جانتا ہوں میں دنیا کا سب سے ظالم باپ ہوں۔۔۔۔ میں نے تم لوگوں کو یوں بے آسرا چھوڑ کر بہت بڑا گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔ پر بیٹا میں اب تم لوگوں کو تمہاری اصل حیثیت اور مقام دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔ جو تم لوگوں کا حق ہے۔۔۔۔ تم چاہے مجھے معاف نہ کرو۔۔۔۔ مجھ سے نفرت کرنی ہے کرو۔۔۔۔۔ مگر اپنے اصل گھر لوٹنے سے انکار مت کرو۔۔۔۔ میرے لیے سب سے بڑی تکلیفوں سے بڑی یہی تکلیف ہے کہ میری بیٹیاں بے آسرا ہوکر در بدر بھٹک رہی ہیں۔۔۔۔ اپنے اِس گنہگار باپ کی یہ اذیت ختم کردو۔۔۔۔”
قاسم صاحب بات کرتے آخر میں رو دیئے تھے۔۔۔ مگر حاعفہ اُن کے حوالے سے اپنا دل نرم کرنے کو بالکل بھی تیار نہیں تھی۔۔۔۔
اُس نے اپنی ماں کو جس طرح تڑپتے دیکھا تھا اور جس قدر اذیت بھری زندگی اُس نے بسر کی تھی۔۔۔۔ اُس کا دل اپنے باپ کے لیے پتھر ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
“تو کیا آپ کی فیملی اب ایک طوائف کی بیٹیوں کو قبول کرنے کو تیار ہوجائے گی۔۔۔۔۔ “
حاعفہ نے اُن کی بات پر گہرا طنز کرتے کہا۔۔
“میری آژمیر سے بات ہوچکی ہے۔۔۔ وہ میری خاطر سب کو منا لے گا۔۔۔۔ اُس نے وعدہ کیا ہے مجھ سے۔۔۔۔”
قاسم صاحب کے منہ سے نکلا نام سن کر حاعفہ کو شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ اُس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے پاس کھڑی ماورا کو گھورا تھا۔۔۔
“آژمیر میران اِن کے سگے بھتیجے ہیں۔۔۔ “
ماورا نے دھیمے لہجے میں حاعفہ کی کنفیوژن دور کی تھی۔۔۔
مطلب جس گھر میں اُسے جانے کے لیے بولا جارہا تھا وہاں وہ دشمنِ جاں بھی رہتا تھا۔۔۔۔ یہ جان کا آژمیر کی دیوانی کو ایک لمحہ لگا تھا پگھلنے میں۔ آژمیر سے اُس کا صرف دل کا نہیں بلکہ خون کا رشتہ بھی تھا۔۔۔ یہ احساس ہی حاعفہ کے دل میں پھول کھلا گیا تھا۔۔۔ وہ بھلا اُس گھر میں جانے سے انکار کیسے کرسکتی تھی جو آژمیر میران کا تھا۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ ہم آپ کے ساتھ میران پیلس جانے کے لیے تیار ہیں۔۔۔ مگر صرف اِس شرط پر کہ آپ اِس سے زیادہ کی توقع نہیں کریں گے مجھ سے۔۔۔۔”
ماورا حاعفہ کے فوراً حامی بھرنے پر مسکرا دی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ حاعفہ کی اپنے باپ سے بے پناہ نفرت سے بھی واقف تھی اور آژمیر کے لیے محبت سے بھی۔۔۔۔
مگر آج یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ اُس کی آژمیر کے لیے محبت ہر شے سے بڑھ کر تھی۔۔۔ وہ اُس کی خاطر اپنے بڑے سے بڑے مجرم کو معاف بھی کرسکتی تھی اور پوری دنیا سے ہمیشہ کے لیے تعلق بھی توڑ سکتی تھی۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
