No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
زنیشہ نے پلٹ کر پیچھے کھڑی شمسہ بیگم کی جانب دیکھا تھا۔۔ جو اُس کے ہاتھ میں موجود چیزیں دیکھ چکی تھیں۔۔۔۔۔ زنیشہ کے چہرے پر زلزلوں کے سے آثار تھے۔۔۔ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زوہان اور آژمیر بھائی ہیں۔۔۔۔
وہ ساکت و صامت کھڑی شمسہ بیگم کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اگر وہ دونوں بھائی تھے تو پھر آخر ایسا کیا تھا اُن کے بیچ جو اتنی نفرت کا باعث بن رہا تھا۔۔۔۔
“اماں سائیں۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے ہونٹ پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔
وہ مزید کچھ بول نہیں پائی تھی۔۔۔ گہرے صدمے میں تھی وہ۔۔۔۔۔
اُسے اپنے حقیقی ماں باپ کے بارے میں آژمیر بہت پہلے بتا چکا تھا۔۔۔۔۔ آژمیر نہیں چاہتا تھا کہ اکرام حنیف زنیشہ کی لاعلمی کا فائدہ اُٹھا کر اُسے اپنے فریب میں پھنسا لے۔۔۔۔ اِس لیے اُس نے زنیشہ کو اُس کے پیرنٹس کی ساری سچائی بتا دی تھی۔۔۔ جسے سن کر زنیشہ بہت روئی تھی۔۔۔۔ وہ اتنے گھٹیا اور لالچی شخص کا خون تھی۔۔۔ یہ قبول کرنا اُس کے لیے بہت مشکل رہا تھا۔۔۔۔۔
اپنی ماں پر ہوئے ظلم اُس کو خون کے آنسو رُلا گئے تھے۔۔۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وہاں پر بھی اُسے آژمیر اور باقی گھر والوں نے سنبھال لیا تھا۔۔۔ اُس کے پاس ہمیشہ اِن پیارے اور مہربان رشتوں کا سائبان رہا تھا۔۔۔۔
جتنی محبت اُن دونوں بہن بھائی میں تھی۔۔۔۔ آج کل کے دور میں خون کے رشتوں میں بھی نہیں پائی جاتی تھی۔۔۔۔ ساری سچائی میں یہی ایک بات تھی جس نے زنیشہ کے دل کو تھوڑی بہت آسودگی بخشی تھی۔۔۔۔
اُسے دکھ تو اِس بات کا ہورہا تھا۔۔۔ کہ زوہان اِسی گھر کا خون ہونے کے باوجود یہاں کہ ہر فرد خاص کر اپنے اکلوتے بھائی آژمیر سے اتنی نفرت کیوں کرتا تھا۔۔۔۔ وہ اپنوں کے بیچ رہنے کے بجائے اکیلے رہنے کو ترجیح کیوں دیتا تھا؟؟…
سالوں پہلے آخر ایسا کیا ہوا تھا۔۔۔۔ جس نے زوہان کے دل میں اپنے خونی رشتوں کے لیے اتنی نفرت بھر دی تھی۔۔۔
یہ سب سوچتے زنیشہ کا دماغ ماؤف ہورہا تھا۔۔۔۔
دو سگے بھائی بھلا ایک دوسرے کے جانی دشمن کیسے ہوسکتے تھے؟ جو ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔۔۔۔۔
اکثر بھائیوں کے درمیان اختلاف ہوتے تھے۔۔۔۔ مگر اتنی نفرت کیونکر پیدا ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“اماں سائیں یہ سب کیا ہے؟…. آژمیر لالہ اور ملک زوہان بھائی ہیں۔۔۔۔۔ کیا گھر کے باقی بھی یہ بات جانتے ہیں۔۔۔۔ اور زوہان کیوں سب سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اور یہاں کے سب لوگ بھی اُنہیں پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔ پلیز مجھے اِس کا سارا سچ بتا دیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب لیے شمسہ بیگم کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھتی رو پڑی تھی۔۔۔۔۔
“زوہان اور آژمیر دونوں بھائی اور ملک فیاض کے بیٹے ہیں۔۔۔ آژمیر زوہان سے چھ مہینے بڑا ہے۔۔۔۔ زوہان میرا اور فیاض صاحب کا بیٹا نہیں ہے۔۔۔۔ وہ فیاص صاحب کی دوسری بیوی تحریمہ بیگم کا بیٹا ہے۔۔۔۔ جن کی عرصہ پہلے ڈیتھ ہوچکی ہے۔۔۔۔ گھر کے سب بڑے یہ بات جانتے ہیں، آژمیر اور زوہان کے علاوہ باقی سب بھی اِس حقیقت کے معاملے میں آپ کی طرح انجان ہی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس سے زیادہ میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتی۔۔۔۔۔ آژمیر اور زوہان دونوں کی جانب سے سختی سے کہا گیا ہے کہ آپ کو اِس بارے میں کچھ بھی پتا نہیں چلنا چاہیے۔۔۔۔۔ اب اگر اتفاقاً آپ کو میری کسی لاپرواہی سے آدھا سچ پتا چل گیا ہے۔۔۔۔ تو آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا کہ اِسے بھی دل میں چھپا کر رہیں گی۔۔۔۔ اُن دونوں یا کسی کے سامنے ظاہر نہیں کریں گی۔۔۔۔ کہ آپ اِس بارے میں جان چکی ہیں۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کی بات پر زنیشہ نے الجھی ناراض نگاہوں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
کیا ہوتا جو بتا دیتیں اُسے۔۔۔۔۔
اُن کا سنجیدہ اور دو ٹوک انداز دیکھ وہ مزید ضد نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ اُن سے پرامس کرتی وہ خاموشی سے وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔۔
اُس کا دل چاہا تو ابھی جاکر اُن دونوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دے کہ آخر کیوں ہو تم دونوں اتنے پر اسرار۔۔۔۔ اپنے اندر نجانے کتنے کتنے راز چھپائے اُس بچاری کو گھما رہے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
سوات کی خوبصورت پہاڑیوں کے درمیان واقع اُس سرسبزے سے ڈھکے میدان میں اُن سب کے کمپس لگائے گئے تھے۔۔۔۔ ایک طرف بہتی جھیل کا نیلا پانی صبح کے اُجالے میں بہتا دیکھنے والوں کے مزاج پر بہت خوشگوار اثر چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔
ماورا نے اپنی زندگی میں اتنا حسین منظر نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ اُن کے ساتھ یونیورسٹی کے کیفے کے سپیشل کک آئے ہوئے تھے۔۔۔۔ جنہوں نے یہاں اُن کے کھانے پینے کا سارا انتظام کرنا تھا۔۔۔۔
ماورا کی شروع سے عادت تھی۔۔۔۔ وہ فجر سے پہلے ہی اُٹھ جاتی تھی۔۔۔۔
اِس وقت بھی وہ نماز پڑھتی بیلا کو جگاتی کیمپ سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔۔ باہر ابھی نیم تاریکی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔ اندھیرا آہستہ آہستہ چھٹتا ہر شے روشن کررہا تھا۔۔۔۔۔ ماورا کو ہمیشہ سے یہ منظر دیکھنا بہت پسند تھا۔۔۔۔ باہر ٹھنڈ بہت زیادہ تھی۔۔۔۔ ماورا نے شال کو اپنے گرد مزید اچھے سے لپیٹا تھا۔۔۔۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔ جس کا یہی مطلب تھا کہ سب لوگ ابھی سو رہے ہیں۔۔۔۔
ماورا کی نظر کچھ فاصلے پر بنی زرا سی اُونچی پہاڑی پر پڑی تھی۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اُس جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اور وہاں رکھے پتھروں پر آن بیٹھی تھی۔۔۔
یہاں بیٹھے اب وہ کیمپس سائیڈ کا سارا ویو با آسانی دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔۔
ماورا اِن دلفریب مناظر میں گم ہو کر اپنی زندگی کی ساری تلخی بھلا دینا چاہتی تھی۔۔۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہو پارہا تھا۔ منہاج درانی کے ساتھ کل رات گزارے گئے پل اُس کے دماغ سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔۔۔۔ وہ جب بھی منہاج کی جانب سے اپنے دل کو سخت کرکے آگے بڑھ جانے کی کوشش کرتی وہ پھر اُسے اپنی محبت کے فریب میں اُلجھا کر واپس اُسی مقام پر لا پٹختا تھا۔۔۔
ماورا کو ہر بار اُس پر اعتبار کرنے کے بدلے دکھ اوع اذیت ہی ملی تھی۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کیا اب بھی منہاج درانی اُس سے کوئی کھیل کھیل رہا تھا یا سچ میں وہ اپنے کیے پر نادم ہوکر اُس کی جانب سچے دل سے بڑھا تھا۔۔۔
ماورا کا دل ہمیشہ کی طرح منہاج کے حق میں ہی گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔ مگر اُس کا دماغ ابھی تک فیصلہ نہیں کرپارہا تھا۔۔۔۔
ماورا اِن لامتناہی سوچوں پر سر جھٹکتی کیمپ سائیڈ پر ہوتی ہلچل کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔ جہاں اب آہستہ آہستہ سٹوڈنٹس جاگ رہے تھے۔۔۔ کچھ دیر بعد اُسے بیلا اپنی جانب آتی دیکھائی دی تھی۔۔۔۔
“صبح بخیر مائی مارننگ بیوٹی۔۔۔۔ کیا کہنے ہیں تمہارے۔۔۔۔ آج بھی جلدی اُٹھ گئی۔۔۔۔”
بیلا اُس کی گلابی چھلکاتی شفاف جلد کو دیکھتی محبت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
جس کے جواب میں ماورا ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
“منہاج کل رات کو ہی یہاں پہنچ گیا تھا۔۔۔۔ “
بیلا کی اگلی بات پر اُس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔۔۔
“تو میں کیا کروں…؟؟؟”
ماورا پہلے ہی اُس شخص کی کل رات کی بے باکیوں پر تپی بیٹھی تھی۔۔۔۔ جو اُس کے دل و دماغ سے نکل ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔ اب پھر بیلا کے منہ سے اُس کا ذکر سن ماورا غصے سے بولی تھی۔۔۔۔”
تم رات کو جلدی سو گئی تھی۔۔۔۔ سب نے مل کر باہر بہت شغل لگایا۔۔۔۔ منہاج نے سپیشلی بہت انجوائے کروایا۔۔۔۔ اب تو بچی کچی لڑکیاں بھی اُس کی فین ہوگئی ہیں۔۔۔۔”
بیلا اِس وقت الگ موڈ میں ہی تھی۔۔۔۔ ماورا کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر بولی جارہی تھی۔۔۔۔
“تم اپنا منہ بند کرتی ہو یا میں تمہیں یہاں سے نیچے دھکا دے دوں۔۔۔۔۔ “
ماورا دانت پیستی تپ کر بولی تھی۔۔۔۔
“اوکے سوری۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔ اب نہیں کرتی۔۔۔۔”
بیلا اُسے سیریس ہوتا دیکھ جلدی سے بات وہیں ختم کرگئی تھی۔۔۔
“یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے نا۔۔۔ میرا تو دل چاہ رہا ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جاؤں۔۔ “
ماورا ایک جذب کے عالم میں آنکھیں موندے بولی۔۔۔
“سہی کہہ رہی ہو یار۔۔۔۔ اور یہ جنگلی پھول کتنے خوبصورت ہیں۔۔۔۔۔”
بیلا بھی اُنہیں احساسات کے زیرِ اثر بولی۔۔۔
“ہاں میں کب سے اِنہیں ہی دیکھ رہی ہوں۔۔۔ بہت خوبصورت ہیں یہ۔۔۔۔”
ماورا کی نظریں اُن پرپل پھولوں پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔ جو مزید اُوپر موجود تھے۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنی باتوں میں اتنی مگن بیٹھی تھیں۔۔۔ کہ اپنے قریب آتے اُسامہ کو نہیں دیکھ پائی تھیں۔۔۔ اُسامہ منہاج کے مخالف گروپ کا ممبر تھا۔۔۔ جو منہاج کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔۔۔۔
“ہائی گرلز۔۔۔۔۔ گڈ مارننگ۔۔۔۔ کیا میں اِن پھولوں کو وہ پھول لاکر دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔”
اُسامہ کی مسکراتی آواز پر وہ دونوں اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔۔۔
“یس شیور۔۔۔۔ ہمیں بہت اچھا لگے گا۔۔۔۔”
بیلا اُسامہ کی بات کے جواب میں اُس سے بھی زیادہ خوش اخلاقی سے بولتی اُسامہ سمیت ماورا کو بھی حیران کر گئی تھی۔۔۔
اُسامہ خوش ہوتا اُوپر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ جب ماورا نے پیچھے سے اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔۔۔
“کیا ضرورت تھی یہ بکواس بولنے کی۔۔۔ پہلے کبھی پھول نہیں دیکھے تم نے۔۔۔۔”
ماورا دانت پیستی بہت ہی آہستہ آواز میں اُسے جھڑکتے بولی۔۔۔
جب بیلا نے آنکھوں سے اشارہ کیمپس کے قریب کھڑے منہاج کی جانب کیا تھا۔۔۔ جو خون آشام نظروں سے اُسامہ کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
“بیلا یہ کیا بے وقوفی ہے۔۔۔۔۔ تم نے جان بوجھ کر کیا یہ۔۔۔۔”
ماورا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر بیلا کے دماغ میں چل لیا رہا ہے۔۔۔۔۔
“تم کیوں ڈر رہی ہو۔۔۔؟ منہاج درانی سے کس بات کا ڈر ہے۔۔۔۔ وہ کونسا تمہارا ہزبینڈ ہے۔۔۔۔ خود ہی کہا تھا نا اُسنے۔۔۔ کہ وہ دنیا والوں کے سامنے تمہیں بیوی نہیں مانتا۔۔۔۔ میں اُس کی بات میں اُسے ہی اُلجھتے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”
بیلا زیادہ ظاہر نہیں کرتی تھی۔۔ مگر منہاج کی وجہ سے ہر وقت ماورا کی نم رہنے والی آنکھیں اُسے بہت تکلیف دیتی تھیں۔۔۔۔
“تم پاگل ہو۔۔۔۔ نہیں جانتی وہ کتنا جنونی اور اُلٹے دماغ کا شخص ہے اُس نے ابھی سب کے سامنے اعلان کر بھی دینا ہے۔۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں چاہتی جو تم کرنا چاہ رہی ہو۔۔۔ اور نہ ہی کوئی خون خرابہ چاہیئے مجھے۔۔۔۔۔۔”
ماورا دور سے بھی منہاج کی آنکھوں میں ٹھاٹھیں مارتا آتش فشاں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔ منہاج اُس سے محبت کرتا تھا یا نہیں۔۔۔۔ مگر وہ اتنا جانتی تھی کہ منہاج اُس پر اپنا پورا حق مانتا تھا۔۔۔
اگر وہ اُسامہ کو اُسے پھول دیتے دیکھ لیتا تو نجانے کیا کر گزرتا۔۔۔۔ اِس لیے اُسامہ کو پھول لیے واپس آتا دیکھ ماورا وہاں سے اُٹھ آئی تھی۔۔۔۔
منہاج ابھی بھی اُسی طرح اپنی جگہ کھڑا اُسے گھور رہا تھا۔۔۔۔
ماورا نے ایک بار نظریں اُٹھا کر دیکھا تھا۔۔۔۔ منہاج کی لال آنکھیں اُسے اندر تک لرزنے پر مجبور کر گئی تھیں۔۔۔۔
وہ جلدی سے اُس کے قریب سے گزرتی اپنے کیمپ میں گھس گئی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ آفس نہیں گئی تھی۔۔۔ وہ اِس وقت اپنے آپ کو آژمیر کا مجرم سمجھ رہی تھی۔۔۔۔ اور خود کو اُس کے سامنے جانے کے قابل تصور نہیں کر پارہی تھی۔۔۔
آژمیر کی اُسے دو بار کال آچکی تھی۔۔۔ مگر وہ چاہنے کے باوجود اٹینڈ نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ یہاں آنے سے پہلے اُس نے بالکل بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسی سچویشن میں بھی پھنس سکتی ہے۔۔۔۔
آژمیر جیسا محبت کرنے والا وفادار اور عزت دار مرد ملنا خوش قسمتی کی بات تھی۔۔۔۔ لیکن وہ خوش قسمت ہوکر بھی بدنصیب ہی ٹھہری تھی۔۔۔۔۔
“نہیں میں آژمیر کو نہیں کھو سکتی۔۔۔۔ ابھی بھی وقت ہے۔۔۔ میں اُنہیں سب کچھ سچ بتا دوں گی۔۔۔۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ میری مجبوری سمجھیں گے۔۔۔ اور مجھے میرے سچ کے ساتھ قبول بھی کریں گے۔۔۔۔ “
حاعفہ اپنے دل کی سنتی آخر کار ایک فیصلے پر آن پہنچی تھی۔۔۔ آژمیر میران کو کھونا کا تصور ہی اُس کی سانسیں چھیننے کے لیے کافی تھا۔۔۔
وہ جانتی تھی اگر اُس نے اُن لوگوں کی بات مان کر مزید آژمیر کے جذبات کے ساتھ کھیلتے اُسے اتنا بڑا دھوکا دیا، اُس کی جان کو خطرے میں ڈالا تو آژمیر اُسے کسی صورت معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔ آژمیر کے ساتھ رہتے وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی۔۔۔
حاعفہ نے اپنی گالوں پر لڑھک آئے آنسو صاف کرتے آژمیر کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔ اِس سے پہلے کہ وہ کال ملاتی۔۔۔۔ اُسے واٹس ایپ پر ایک نوٹیفیکیشن ریسیو ہوا تھا۔۔۔
حاعفہ نے جیسے ہی اُس پر کلک کیا ماورا کی بہت ساری تصویریں سکرین پر اُس کے سامنے اوپن ہوئی تھیں۔۔۔ ماورا اُسے ایک پتھر پر بیٹھی نظر آئی تھی۔۔۔ جس کے عین سر پر گن کا لال نشانہ واضح طور پر دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔ صرف ایک جگہ ایسا نہیں تھا۔۔۔ مختلف تصویروں میں ماورا کے جسم کے مختلف حصوں پر یہی نشان نظر آ رہا تھا۔۔۔
حاعفہ یہ سب دیکھ کر تڑپ اُٹھی تھی۔۔۔۔ اُسے لگا تھا جیسے کسی نے اُس کے سینے میں خنجر پیوست کردیا ہو۔۔۔
حاعفہ ساکت نگاہوں کے ساتھ اُن تصویروں کو گھور رہی تھی۔۔۔ جب اِسی انجان نمبر سے اُسے کال آنے لگی تھی۔۔۔۔ حاعفہ نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹینڈ کی تھی۔۔۔۔
“یہ تصویریں بھیجنے کا مقصد تمہیں یہ بتانا تھا کہ تمہاری بہن ہمارے نشانے پر ہے۔۔۔۔ ہم سے زرا بھی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو پہلے تمہاری بہن جان سے جائے گی اور پھر تم۔۔۔۔۔
تمہارے اُس محبوب نے تو ویسے بھی نہیں بچنا۔۔۔۔ تو کیوں خود کو اور اپنی بہن کی زندگی داؤ پر لگا رہی ہو۔۔۔۔ عقل مندی کا ثبوت دیتے وہی کرو۔۔۔ جو ہم کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔”
کال بند ہوچکی تھی۔۔۔ مگر حاعفہ ابھی بھی اُسی طرح فون کان سے لگائے کھڑی تھی۔۔۔۔
اُس کی ایک ایک حرکت نوٹ ہورہی تھی۔۔۔ حاعفہ کے پاس اُن لوگوں کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
اپنے دل کا خون کرتے اُس نے مرے مرے ہاتھوں سے آژمیر کو کال ملائی تھی۔۔۔۔ جو اُس کی پہلی بیل پر ہی اُٹھا لی گئی تھی۔۔۔۔
“حاعفہ۔۔۔۔ کہاں ہو تم؟؟؟ تم ٹھیک ہو؟؟… میری کال کیوں نہیں پک کررہی۔۔۔۔ میں صبح سے کتنی بار ٹرائے کر چکا ہوں۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی کچھ سنے بنا بے قراری سے بولا تھا۔۔۔ وہ اِس وقت میران پیلس میں موجود تھا۔۔۔ ورنہ کب کا حاعفہ کے پاس پہنچ چکا ہوتا۔۔۔۔۔
یہ لڑکی آہستہ آہستہ اُس کی رگوں میں ایک نشے کی طرح اُترنے لگی تھی۔۔۔۔ جس کے بغیر اُس کا رہنا کافی مشکل ہوجاتا تھا۔۔۔ وہ خود بھی حیران تھا آخر کب، کہاں اور کیسے حاعفہ اُس کے لیے اتنی امپورٹنٹ ہوگئی تھی کہ وہ اُس کے حسین تصور سے نکل ہی نہیں پارہا تھا۔۔۔
اُس کا کال پک نہ کرنا آژمیر کو کس قدر پریشان کرگیا تھا۔۔۔۔ اب تو وہ آفس سے کسی کو حاعفہ کی طرف بھیجنے ہی والا تھا۔۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ “
حاعفہ اپنی آنکھوں سے اُمڈ آتے آنسوؤں کے سیلاب پر قابو پاتے بامشکل یہ جملہ ادا کر پائی تھی۔۔۔
“حاعفہ تم رو رہی ہو۔۔۔۔؟ مجھے بتاؤ کیا وہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔۔؟ میں آؤں تمہارے پاس۔۔۔۔”
آژمیر کو ایک سیکنڈ لگا تھا تصدیق کرنے میں کہ وہ رو رہی ہے۔۔۔ وہ رات کے آٹھ بجے بھی اُس کے لیے گاؤں سے آنے کو تیار ہوگیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کا دل چاہا تھا اِس مہربان انسان کے سامنے اپنے دل کا سارا دکھ کھول کر رکھ دے۔۔۔۔ جس کے ساتھ وہ زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کرنے جارہی تھی۔۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کو آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں نے اِس وقت آپ کو کچھ کہنے کے لیے کال کی ہے۔۔۔۔”
حاعفہ اپنے بھیگے لہجے پر قابو نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔
“میں آپ ہی کو تو سن رہا ہوں محترمہ۔۔۔ آپ پلیز بولیں کچھ۔۔۔ مجھے فکر ہورہی ہے۔۔۔۔”
آژمیر بے چینی سے روم میں چکر کاٹتا اُس کے رونے پر اچھا خاصہ پریشان ہوا تھا۔۔۔
“مجھے آپ سے شادی کرنی ہے۔۔۔ جلد از جلد۔۔۔۔ آپ کریں گے نا مجھ سے شادی۔۔۔۔۔”
یہ بات مکمل کرتے حاعفہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری جانب حاعفہ کی بات سنتے آژمیر کچھ پل تو کچھ سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اُس کے ہونٹوں پر اُمڈ آنے والی مسکراہٹ بہت دلکش تھی۔۔۔۔
“یہ بات اتنے دکھی ہوکر اور آنسو بہا کر کہنے والی ہرگز نہیں تھی۔۔۔۔ “
آژمیر کی مسکراتی دلکش آواز حاعفہ کی سماعتوں سے ٹکراتی اُس کی دھڑکنیں بڑھا گئی تھی۔۔۔
“میں ابھی ابھی نکاح کرنے کو تیار ہوں۔۔۔ اگر تم کہو تو آجاؤں ابھی۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے رونے کی وجہ ابھی بھی نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔۔ لیکن اُس کا موڈ بہتر کرنے کے خیال سے شریر لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
“نہیں آپ آرام سے آئیں۔۔۔ میں انتظار کروں گی آپ کا۔۔۔۔ “
حاعفہ بامشکل اپنی آواز میں خوشگواریت پیدا کرتے بولتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کا دل اِس وقت خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ وہ بیڈ پر اوندھے منہ گرتی دہاڑے مار مار کر رو دی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ کو جب سے یہ حقیقت پتا چلی تھی۔۔۔۔وہ گم صم سی اپنے کمرے میں قید ہوکر بیٹھی تھی۔۔۔۔ نہ کچھ کھا رہی تھی نہ پی رہی تھی۔۔۔۔۔
مسلسل دو گھنٹے ٹیرس پر کھڑے ہونے کی وجہ سے اُس کو شدید ٹھنڈ لگ گئی تھی۔۔۔۔ پہلے ہی زہنی تھکاوٹ اتنی زیادہ تھی۔۔۔ اُوپر سے ٹھنڈ لگ جانے کی وجہ سے زنیشہ کو سخت بخار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی۔۔۔ جب بھی پریشان ہوتی یا کسی پر غصہ ہوتی تو اُس انسان کو کچھ کہنے یا لڑنے کے بجائے وہ خود کو ہی تکلیف پہنچاتی تھی۔۔۔۔ آج بھی اُس نے یہی کیا تھا۔۔۔ بجائے آژمیر اور زوہان سے لڑنے کے وہ خود کو ہرٹ کرنے لگی تھی۔۔۔۔
زنیشہ ٹیرس پر ہی بیٹھی اِس وقت صرف ایک ہلکی سی شال اپنے گرد لپیٹے ٹھنڈ کی وجہ سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔ جب اُس اپنے روم کا دروازہ کھلنے اور آژمیر کے پکارنے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔
“زنیشہ۔۔۔۔ گڑیا کہاں ہو آپ؟؟؟”
آژمیر زنیشہ کو پکارتا ٹیرس کا دروازہ کھلا دیکھ اُس طرف آیا تھا۔۔۔
“زنیشہ واٹس رانگ ود یو۔۔۔۔۔ اتنی ٹھنڈ میں یہاں کیوں بیٹھی ہو؟؟؟”
زنیشہ کو وہاں برف بنا دیکھ آژمیر کا میٹر گھوما تھا۔۔۔۔ زنیشہ جو ہمیشہ آژمیر کے زرا سا اونچا بولنے پر گھبرا جاتی تھی۔۔۔۔ اِس بنا کوئی ردعمل دیئے ویسے ہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔
یہ اُس کی شدید ناراضگی کا اظہار تھا۔۔۔۔۔
آژمیر ڈنر میں اُس کی غیر موجودگی نوٹ کرتا اُسے بلانے اُوپر آیا تھا۔۔۔۔ مگر زنیشہ کا یہ گم صم انداز اُسے ٹھٹھکا گیا تھا۔۔۔۔ وہ مزید اُسے کچھ بولے بنا کندھوں سے تھامتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
ٹیرس کا دروازہ لاک کرکے پردے درست کرتا آژمیر اب پاس کھڑی اپنی لاڈلی بہن کی جانب مُڑا تھا۔۔۔۔ جو اُس سے اِس وقت بہت خفا لگ رہی تھی۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ زنیشہ ضرور اُسی سے ناراض ہے ورنہ وہ کسی اور سے ناراضگی پر اتنا لاؤڈ ری ایکشن نہیں دیتی تھی۔۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے؟ یہ ناراضگی کا شدید اظہار کیوں کیا جارہا تھا؟؟؟ “
آژمیر اُس کے مقابل کھڑا ہوتا نرمی بھرے لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔۔۔ وہ چاہے جتنا بھی سخت مزاج سہی مگر زنیشہ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر کے اچھے مزاج کو دیکھتے زنیشہ کچھ کہنے ہی والی تھی۔۔۔۔ جب اُسی لمحے شمسہ بیگم روم میں داخل ہوتیں۔۔۔۔ زنیشہ کو تنبیہی نظروں سے گھور گئی تھی۔۔۔۔
زنیشہ اُن پر جواباً ایک خفگی بھری نظر ڈالتی آژمیر کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔ جو تشویش کے عالم میں اُس کا خطرناک حد تک سُرخ پڑتا چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔
“میں ناراض ہوں آپ سے۔۔۔ کیونکہ آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے۔۔۔۔ پچھلے ایک ہفتے سے آپ نے مجھ سے بات تک نہیں کی۔۔۔۔ آپ کو صرف اپنا بزنس عزیز ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے آپ مجھے بھول جاتے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ منہ بسور کر بات بناتے بولتی آژمیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔۔ لیکن کہیں نہ کہیں وہ سمجھ گیا تھا کہ زنیشہ اُس سے کچھ چھپا رہی ہے۔۔۔۔
“میری گڑیا نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اُسے بھول سکتا ہوں۔۔۔۔ تم میری زندگی کی بہت اہم ہستی ہو۔۔۔۔۔ میں نہ اِس چہرے پر اُداسی دیکھ سکتا ہوں۔۔۔ نہ ہی اِن آنکھوں میں آنسو۔۔۔۔۔”
آژمیر زنیشہ کو اپنے ساتھ لگاتے بولتا اُس کی پیشانی پر بوسہ دے گیا تھا۔۔۔۔ جب آژمیر کو شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔ زنیشہ کی پیشانی دھکتے کوئلے کی طرح تپ رہی تھی۔۔۔ اور پورا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔۔
“زنیشہ کو بہت سخت بخار ہے۔۔۔۔۔ “
آژمیر اُسے اپنے حصار میں لیتا پریشانی سے بولا تھا۔۔۔ زنیشہ جو اب تک بہت مشکل سے کھڑی تھی۔۔۔ آژمیر کا مضبوط سہارا پاتے ہی اُس نے جلتی آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔۔۔
شمسہ بیگم بھی پریشان سی قریب آئی تھیں۔۔۔۔
“زنیشہ گڑیا آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔”
آژمیر اُس کا چہرا تھپتھپاتے بے انتہا پریشانی سے بولا تھا۔۔۔۔۔
“اماں سائیں گاڑی نکلوائیں جلدی زنیشہ کو ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا ابھی۔۔۔۔۔ “
زنیشہ بے ہوش ہوچکی تھی۔۔۔۔ اُس کا سر آژمیر کے کندھے پر لڑھک گیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کی یہ حالت دیکھ آژمیر کو اپنی آدھی دنیا رکتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
شمسہ بیگم تیز قدموں سے باہر نکل گئی تھیں۔۔۔۔
آژمیر زنیشہ کے گرد اپنی شال اچھے سے لپیٹتا اُسے اُٹھائے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
زوہان نفیسہ بیگم سے ملنے مظفر آباد آیا ہوا تھا۔۔۔۔ اُن کی طبیعت کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اِس لیے وہ زبردستی اُنہیں ہاسپٹل لے آیا تھا۔۔۔۔ وہ ویسے بھی باقاعدگی سے اُن کا منتھلی چیک اپ کرواتا رہتا تھا۔۔۔ وہ اپنا یہ واحد پرخلوص رشتہ تھا کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
اِس وقت بھی وہ اُنہیں لیے ہاسپٹل سے نکل رہا تھا۔۔۔۔ جب اُس کی نظر وہاں آکر رکتی آژمیر کی گاڑی پر پڑی تھی۔۔۔
زوہان کو اُس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔۔۔۔ وہ نظریں پھیر کر وہاں سے ہٹنے ہی لگا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر آژمیر کی بانہوں میں موجود وجود پر پڑی تھی۔۔۔۔ زنیشہ پوری طرح ڈھکی ہوئی تھی۔۔۔ مگر اُس کے باوجود زوہان کم از کم زنیشہ میران کو پہچاننے میں غلطی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
آژمیر راستے میں کھڑے زوہان کو صاف نظر انداز کرتا اندر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
زوہان زنیشہ کے معاملے میں کسی قیمت پر بھی سخت دل نہیں بن سکتا تھا۔۔۔ آژمیر سے لاکھ اختلاف سہی مگر وہ زنیشہ کی خاطر اُس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا زنیشہ کو۔۔۔؟؟”
زوہان تیز قدموں سے چلتا آژمیر تک پہنچا تھا۔۔۔ جہاں وہ زنیشہ کو سٹریچر پر لیٹا چکا تھا۔۔۔
“سٹے اوے۔۔۔۔ “
آژمیر زوہان کو وہاں دیکھ دبی آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
