No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
“کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے۔۔۔۔ آج شادی ہے تمہاری۔۔اگر اتنی وافر مقدار میں ٹینشن لیتی رہی تو۔۔۔ تم نے تو نکاح سے پہلے ہی اللہ کا پیارا ہوجانا ہے۔۔۔۔”
فریحہ اُس کی پپڑی زدہ ہونٹ، زرد رنگت اورخوف سے کپکپاتے وجود کی جانب تاسف بھری نظروں سے دیکھتے بولی۔۔
“مجھے بھی یہی آسان حل لگا تھا، اِس اذیت اور خوف سے چھٹکارا پانے کا۔۔۔ مگر میرے نصیب میں تو لگتا ہے ابھی یہ نجات بھی نہیں لکھی۔۔۔۔”
زنیشہ خود اذیتی کی انتہا پر تھی۔۔
“پریشان مت ہو، سب ٹھیک ہوگا۔۔۔ پوری حویلی کے گرد گارڈز کا بہت سخت پیرا ہے۔۔۔ زوہان تو کیا اُس کا کوئی آدمی بھی اندر آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔ آژمیر لالہ ابھی کچھ دیر پہلے کسی کام سے نکلے ہیں۔۔۔ نکاح سے پہلے پہلے پہنچ جائیں گے۔۔۔”
ثمرہ نے اُس کی معلومات میں اضافہ کرتے، اُسے کچھ حد تک تسلی دینی چاہی تھی۔ مگر زنیشہ کو کسی طور قرار نہیں آرہا تھا۔۔
“آژمیر لالہ گھر پر نہیں ہیں؟ وہ اِس وقت باہر کیوں گئے؟ صرف وہی ہیں جو ملک زوہان کو اندر آنے سے روک سکتے ہیں۔۔۔۔”
آژمیر کی غیر موجودگی کا سن کر زنیشہ کے خوف میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
“ابھی کچھ دیر تک آجائیں گے پریشان مت ہو۔۔۔ ذیشان اور باقی لوگ جو یہاں موجود ہیں۔۔۔ سب سنبھال لیں گے۔۔۔”
فریحہ نے اُسے تسلی دی تھی۔ جب وہ لوگ خود بھی جانتی تھیں۔۔۔ کہ زوہان کے سامنے اِن سب میں سے کسی نے نہیں ٹک پانا تھا۔۔۔
“چلو اب اُٹھو۔۔۔۔ جلدی سے تیار کردیں تمہیں۔۔۔ پہلے ہی اتنا ٹائم ویسٹ ہوگیا ہے۔۔۔”
ثمرہ اُسے اُٹھنے کا کہتی اُس کا لہنگا ڈریسنگ روم میں ہینگ کرنے چل دی تھی۔ زنیشہ کا اِس سب کے لیے ایک پرسنٹ بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ایک بوجھل سانس ہوا میں خارج کرتے وہ بیڈ سے اُٹھ گئی تھی۔
@@@@@@
“آپی یہ ملازمہ پیکنگ کیوں کر رہی ہیں ہماری؟ ہم کہیں جارہی ہیں کیا؟”
ماورا شاور لے کر نکلتی صوفے پر بیٹھی حاعفہ کے پاس آئی تھی۔ اُس کی حیرت بھری نگاہیں دونوں کا سامان پیک کرتیں ملازمین پر ٹکی ہوئی تھیں۔
حاعفہ اُس کی بات کا جواب دیئے بنا نگاہیں کسی غیر مرئی نقطے پر ٹکائے گہری سوچ میں گم تھی۔ وہ کرامت کے سامنے تو بے دھڑک حامی بھر آئی تھی۔ مگر آگے پیش آنے والی صورتِ حال کا سوچ وہ کافی پریشان تھی
پتا نہیں وہ شخص کون تھا؟ کیسا تھا؟
جس کے قریب جاکر اُسے اپنی محبت کی جال میں پھنسانا تھا۔ آج تک وہ اپنی بھرپور زہانت اور عقل مندی کی بنا پر اپنی عصمت محفوظ رکھتی آئی تھی۔ مگر اب آگے اُس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ یہ سوچ کر ہی اُس کا دل کانپ اُٹھتا تھا۔
اُسے ہمیشہ اپنی اور اپنی بہن کی عزت کی حفاظت کرنے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی تھی۔ مگر اِس بار تو نجانے اُس سے بھی کہیں بڑھ کر ہونے والا تھا۔
اُسے ملازمہ نے ہی کرامت اور نگینہ بائی کی باتیں سن کر بتایا تھا کہ وہ لوگ اِس کام کے لیے بھاری معاوضہ وصول کر چکے تھے۔ اب چاہ کر بھی حاعفہ کے لیے فرار ممکن نہیں تھا۔۔۔
“آپی آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں۔ سب ٹھیک ہے نا؟”
ماورا دوزانو اُس کے قریب آن بیٹھی تھی۔ اور اُس کے نرم ملائم ہاتھ تھامتی اُس کی پریشانی سے لبریز شہد آگیں آنکھوں میں دیکھتے بولی تھی۔
“تمہاری نادانی کی قیمت چکانی ہے مجھے۔۔۔۔ تمہیں کہا تھا کسی مرد پر بھروسہ مت کرنا۔۔۔ وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیتے۔۔۔ یہ مرد ہم طوائف زادیوں کے جسم کی طلب میں تو اپنا سب کچھ وار سکتے ہیں۔۔ مگر ہم سے محبت کرکے اپنا دل میلا کرنا اُن کے لیے گناہِ کبیرہ ہے۔۔۔۔ “
ماضی کے کس خیال سے حاعفہ کی آنکھ سے آنسو نکلتے اُس کی نرم گداز گالوں پر بکھر گئے تھے۔
“آپی۔۔۔ نہیں آپ میری سزا اپنے سر لینے کے لیے۔۔۔ اپنے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دیں گی۔۔۔۔”
ماورا اُس کی بات کا مفہوم کسی حد تک سمجھتی تڑپ اُٹھی تھی. اُس کی بہن صرف اُس کی خاطر اِس گندگی میں رہ رہی تھی، جہاں سب کی نظروں میں وہ ایک طوائف ہی تھی۔ جس نے اپنا سب کچھ گاہکوں کے آگے لُٹا دیا تھا۔ صرف ماورا تھی جو اُس کی پاکدامنی کی گواہ تھی. اور اُس کی اِس پاکدامنی پر داغ لگتا ماورا کو کسی صورت برداشت نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ایک ہی شخص کی وجہ سے ہوا تھا۔ جسے ماورا کسی قیمت پر بخشنے کو تیار نہیں تھی. اُس شخص نے اُسے اپنی محبت کی جال میں پھنسا کر ذلیل اور رسوا کیا تھا۔ اُس کو واپس اِسی زلت کے ذندان میں لاپٹخہ تھا۔ ماورا کے دل سے اُس کے لیے بدعائیں ہی نکل رہی تھیں۔۔۔
جس کے دھوکے نے اُس کی بہن کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا تھا۔
“میری قسمت میں جو لکھا ہے وہ تو میرے ساتھ ہوکر ہی رہے گا۔۔۔ مگر تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے گلابی آرزوں پر لڑھکے آنسو اپنی لانبی مخروطی انگلیوں سے چنتی نرمی سے گویا ہوئی تھی۔
ماورا بنا کچھ بولے یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
“تم آئندہ یہ بات کبھی نہیں بھولو گی کہ تم شہزادی ہو میری۔۔۔۔ یہ دنیا کے مرد تمہاری جیسی صاف دل اور پیاری لڑکی کے قابل بالکل بھی نہیں ہیں۔۔۔ اپنے آپ کو دوبارہ کسی کے آگے بے مول نہیں کرو گی۔۔۔ یہاں محبت نہیں دھوکا اور فریب ہے صرف۔۔۔ “
حاعفہ اُس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرے محبت سے گویا ہوئی تھی۔ اُن دونوں میں بمشکل چار تین سال کا فرق تھا مگر حاعفہ اُسے بالکل چھوٹی بچی کی طرح ٹریٹ کرتی تھی۔ ماں کی وفات کے بعد حاعفہ وقت سے پہلے ہی بڑی ہوگئی تھی کیونکہ اُس کی ماں اُس پر، اُس کے ساتھ ساتھ اُس کی بہن کی حفاظت کی زمہ داری بھی ڈال کر گئی تھی۔ جسے حاعفہ اب تک بہت اچھے سے نبھاتی آئی تھی۔۔۔
“میں آپ کے ساتھ رہوں گی نا۔۔۔”
ماورا نے اُس کی باتوں سے سوال اخذ کرتے پوچھا تھا۔
“نہیں۔۔۔ تم ہاسٹل واپس جاؤ گی۔۔۔ اور اپنی ڈگری کمپلیٹ کرو گی۔۔۔۔ تم جانتی ہونا امی جان کا خواب تھا تمہیں ڈاکٹر بنانا۔۔۔۔ تم کسی قیمت پر وہ ادھورا نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔”
حاعفہ نے اُس کے انکار کا جواز ہی نہیں چھوڑا تھا۔ ماورا حاعفہ کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ مگر اُس کے دوٹوک انداز پر خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
ماورا کے دل میں اچانک سے ایک خیال زہر بن کر پھیل گیا تھا۔ وہاں تو وہ شخص بھی تھا جو اُس کا گنہگار تھا۔ جس کی وجہ سے اُس کی بہن کا آگے نجانے کیا کیا سہنا پڑنا تھا۔ جس نے اُسے اپنی بہن کے سامنے شرمندہ کرکے رکھ دیا تھا۔ اُس کا مردوں کے حوالے سے رہا سہہ اعتبار بھی چکناچور کردیا تھا۔ اُس نفرت کے قابل شخص کا سامنا کرنے سے ماورا کو اپنی آنکھیں نوچ لینا زیادہ بہتر لگ رہا تھا۔
@@@@@@@@
“سائیں آپ کا شک ٹھیک نکلا۔۔۔۔ ملک زوہان کے ثمن خان کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔۔۔ اکثر ملک زوہان کے شہر والے گھر اور ہوٹلز میں اُنہیں اُکٹھا دیکھا گیا ہے۔۔۔۔ وہ ہمارا پراجیکٹ آگے کبھی نہیں جانے دے گی.۔۔۔ اِتنے وقت سے اِس کام میں ناکامی اِسی باعث ہورہی ہے ہمیں۔۔۔ ثمن خان ملک زوہان کی ایک کٹپتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔۔۔ اُنہیں کے چکروں میں وہ اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کررہی ہے۔۔۔۔”
کبیر آژمیر کے قریب آن کھڑا ہوتا اُسے اُس کی مانگی گئی معلومات مہیا کر گیا تھا۔ جسے سن کر آژمیر میران کے جبڑے مزید سختی سے بھینچ گئے تھے۔ وہ کرسی کے ہینڈ کو پوری مضبوطی سے جکڑے اپنے اندر اُٹھتے اُبال پر قابو پانے لگا تھا۔ اُس کی کپنٹی کی رگیں باہر کی جانب اُبھر آئی تھیں۔۔ اُس کے چہرے پر اُتر آئی غضبناکی اور دہشت آس پاس کھڑے اُس کے آدمیوں کو بھی سہما گئی تھی۔
“تو ملک زوہان کے اُس عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے آژمیر میران کے وجیہہ چہرے پر نرمی کا کوئی تاثر موجود نہیں تھا۔ اُس کے اشارے پر پاس کھڑے کریم نے سیگریٹ سلگھا کر اُسے تھما دیا تھا۔ جس کا دھواں اپنے اندر اُتارتے اُس نے اپنے اضطراب پر قابو پانا چاہا تھا۔۔۔۔
“سائیں صرف اُس کے ساتھ نہیں۔۔۔۔ بلکہ ملک زوہان کو مظفر آباد کے خفیہ ٹھکانوں پر بنائے گئے طوائفوں کے کوٹھوں پر بھی جاتے دیکھا گیا ہے۔۔۔۔”
فیصل کی اگلی بات آژمیر میران کو جھلسا کر رکھ گئی تھی۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا اِس وقت ملک زوہان اُس کے سامنے ہو اور وہ اُس شخص کا حشر بگاڑ دے۔۔۔۔ جو اُس کے معزز خاندان کا نام بدنام کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔۔۔
“سائیں اُس کوٹھے پر جاکر ملک زوہان کے خلاف ثبوت باآسانی اکٹھے کیے جاسکتے ہیں۔۔۔۔ “
فیصل نے اپنی سوچ کے مطابق مشورہ پیش کیا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔ ابھی اُس کے خلاف کچھ نہیں کرنا۔۔۔۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ میرے خلاف جانے کے لیے وہ کس حد تک گراتا ہے خود کو۔۔۔۔۔”
آژمیر کے دماغ میں اِس وقت کچھ اور چل رہا تھا۔ جسے سمجھنا اُن میں سے کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔
آژمیر اپنے آدمیوں کو کچھ ضروری ہدایت دیتا وہاں سے نکل آیا تھا۔ اُس کی لاڈلی بہن کی شادی تھی آج۔۔۔ اِس وقت اُس سے ضروری آژمیر میران کے لیے کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
چوڑے مضبوط شانے، روشن پیشانی جو ہمیشہ شکن آلود ہی رہتی تھی، سختی سے ایک دوسرے میں پیوست عنابی لبوں پر سجی گھنی مونچھیں۔۔۔ کھڑی مغرور ناک۔۔۔۔ وہ حُسن و وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔۔ اُسے دیکھ کر ہی کسی فاتح کا گمان ہوتا تھا۔۔۔ اُسے ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹنے کی عادت تھی۔۔۔۔ ہارنا اور جھکنا تو اُس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
اُس کے تیکھے سرد نقوش ہر وقت تنے ہی رہتے تھے۔ غصہ ہر وقت اُس کے ناک پر سوار رہتا تھا۔ جہاں وہ اپنے سے منسلک لوگوں پر زرا سی آنچ آتی برادشت نہیں کر سکتا تھا، ہمیشہ اُن کے لیے جان دینے کے لیے تیار رہتا تھا۔ وہیں اُن میں سے کسی کی جرأت نہیں تھی ملک آژمیر میران کے کیے گئے فیصلے سے انکار کرنے یا اُسے جھٹلانے کی۔۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ زنیشہ نے اُس کے کیے گئے شادی کے فیصلے سے انکار کرنے کے بجائے موت کو گلے لگانے کو ترجیح دیا تھا۔۔۔
ملک آژمیر میران اچھوں کے لیے بہت اچھا اور بُرے کے ساتھ بہت بُرے سے پیش آتا تھا۔ اُسے جھوٹ بولنے والے اور دھوکے باز لوگوں سے شدید نفرت تھی. اُس کی زندگی میں ایسے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔۔۔ اُسے دھوکا دینے والوں کا انجام وہ بہت بدتر کرتا تھا۔۔۔ لوگ اُس کی دوستی اور دشمنی دونوں سے ہی ڈرتے تھے۔۔۔
@@@@@@@
آئینے کے سامنے کھڑی زنیشہ پتھرائی آنکھوں سے اپنا پور پور سجا سراپا دیکھ رہی تھی۔ ہمیشہ سادگی میں رہنے والی آج بلڈ ریڈ لہنگے میں غضب ڈھا رہی تھی۔ اُس کا قیامت خیز حُسن دیکھنے والوں پر قاتلانہ ثابت ہونا تھا۔
لہنگے میں اُس کے متناسب تراشیدہ بدن کی رعنائیاں واضح ہوتیں مزید دلکشی بکھیر رہی تھیں۔۔۔ ہاف سلیوز سے جھانکتی اُس کی نازک کلائیوں میں سونے کے کنگن اور سرخ چوڑیاں بے پناہ حسین لگ رہی تھیں۔۔۔ نازک صراحی دار گردن میں بھاری ہار اور کانوں میں لٹکتے بھاری جھمکے اُس کے روپ کو مزید چار چاند لگا رہے تھے۔۔۔ چھوٹی سے ناک میں پہنائی نتھ اُس کے نازک ہونٹوں سے مس ہورہی تھی۔ اُس کے لال لپسٹک سے سجے ہونٹ اُس کے ہوش ربا حُسن کو مزید دوآتشہ بنا گئے تھے۔۔۔
وہ لوگ زنیشہ کو تیار کرکے جاچکی تھیں۔ ابھی کچھ دیر میں اُسے نکاح کے لیے نیچے لے جایا جانا تھا۔ اُس کی بھیگی اُداس آنکھیں خشک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں. میک اپ واٹر پروف ہونے کی وجہ سے کافی بچت ہو گئی تھی۔
زنیشہ نجانے کتنے ہی لمحے بت بنی وہاں کھڑی رہتی جب کھڑکی پر ہوتی آہٹ پر اُس کا دل اُچھل کر حلق میں آن گرا تھا۔ وہ خوف زدہ ہوتی پلٹی تھی۔ کھڑکی سے روم کے اندر پڑتا سایہ دیکھ اُس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگا تھا۔
جب اگلے ہی لمحے اُس سائے کا مالک کھڑکی سے اندر اُس کے روم میں کود گیا تھا۔ کسی مرد کو اپنے روم میں دیکھ زنیشہ کی آنکھیں خوف کے مارے پھٹنے کو تیار ہوئی تھیں۔۔۔ اُس کے بے جان قدموں میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی. کہ بھاگ کر روم سے نکل جائے۔۔۔ کسی کے آکر ڈسٹرب کرنے کے خیال سے اُس نے دروازے کو اندر سے لاک کر رکھا تھا۔ کیونکہ اُسے کم از کم اِس آافت کا اندازہ تو بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔
وہ سیاہ پینٹ شرٹ میں ملبوس، چہرے کو سیاہ مفلر سے پوری طرح لپیٹے لمبا چوڑا دراز قد شخص اُس کی جانب بڑھا تھا۔ اُس کے کسرتی مضبوط وجود کے آگے زنیشہ کا دھان پان سا وجود کسی چیونٹی کی مانند ہی لگ رہا تھا۔ اُوپر سے اُس کا ہوش ربا سجا سنورا رُوپ، زنیشہ کا پورا وجود خوف کے مارے لرز اُٹھا تھا۔۔۔۔
“کک۔۔۔کون ہو تم۔۔۔ کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔۔”
اُس کا کمرہ ساؤنڈ پروف تھا۔ اِس لیے چلانے کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔۔۔ اُس کی لرزتی کانپتی آواز پر مقابل کی گہری سیاہ آنکھیں مسکائی تھیں۔۔۔
“حیرت کی بات ہے۔۔۔۔ میری پرنسز اپنے پرنس کو نہیں پہچان پائی۔۔۔۔ تمہیں اِس رُوپ میں میرے علاوہ اور کون دیکھنے کی گستاخی کرسکتا ہے۔۔۔ کون چاہے گا بھلا اُس کی آنکھیں نوچ کر ہتھیلی پر سجا دی جائیں۔۔۔۔”
یہ سرد ٹھٹھڑا دینے والا وحشت ناک گھمبیر لب و لہجہ۔۔۔۔ زنیشہ خوفزدہ کے مارے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اُسے دیکھتی اپنی جگہ سے لڑکھڑا گئی تھی۔۔۔ وہ بھلا کیسے نہ پہچان پاتی اِس سفاکیت سے بھرے لب و لہجے کو۔۔۔۔
ملک زوہان نے پورا چہرا مفلر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ اُس کی آنکھوں سے بس ایک باریک لائن تک کا فاصلہ چھوڑ رکھا تھا۔۔۔ اِس وجہ سے زنیشہ اُسے پہچان نہیں پائی تھی۔۔۔ مگر جیسے جیسے وہ قریب آرہا تھا۔ اُس کی مسحور کن دلفریب خوشبو زنیشہ کے نتھنوں سے ٹکراتی اُس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔
“چچ۔۔۔ چلے۔۔۔۔جا۔۔جائیں۔۔یہاں۔۔۔ مجھے ۔۔آپ س۔۔سے۔۔۔ کوئی۔۔۔ بات۔۔۔ ۔۔۔نہیں۔۔۔ کرنی۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے منہ سے ہکلاتے بمشکل یہ جملے ادا ہوئے تھے۔ اتنے سخت پہرے کے باوجود بھی یہ جنونی شخص یہاں آن پہنچا تھا۔ اکثر سب زنیشہ کے ملک زوہان سے اتنے خوفزدہ ہونے پر حیران بھی ہوتے تھے۔ مگر ہر بار اُس کے ڈر کی وجہ سچ ہوکر ہی رہتی تھی۔ ہر بار یہ ثابت ہوجاتا تھا کہ اُس سے بہتر ملک زوہان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
“مجھے یہاں آنے کا کچھ خاص شوق ہے بھی نہیں۔۔۔ چلا تو جاؤں گا ہی سہی مگر جو کام کرنے آیا ہوں۔۔۔وہ کرنے کے بعد۔۔۔۔”
زوہان اُس کے مقابل پہنچتا چہرے سے مفلر ہٹاتا بیڈ پر اُچھال گیا تھا۔ زنیشہ بالکل دیوار کے ساتھ چپکی کھڑی تھی۔ جیسے دیوار میں گھس کر اِس منظر سے غائب ہونے کی خواہش ہو۔۔۔۔
اُس نے لرزتی پلکیں اُٹھا کر اپنے قریب آکر کھڑے ہوتے اُس حُسن و وجاہت کے دیوتا کو دیکھا تھا۔ جس کے تنے خوبرو نقوش سے سجا مغرور چہرا اور شکنوں سے سجی روشن پیشانی زنیشہ کا دل بُری طرح دھڑکا گئی تھی۔۔۔
جبکہ مقابل کی بے تاثر، منجمند کرتیں نگاہیں زنیشہ کے قیامت خیز حسین رُوپ پر جم چکی تھیں۔۔۔ اُس کا پورا وجود ہولے ہولے کپکپاتا ملک زوہان کو پوری طرح اپنی جانب متوجہ کرگیا تھا۔۔۔
زوہان درمیان میں بچا دو قدم کا فاصلہ عبور کرتا اُس کے بے انتہا قریب آن کھڑے ہوتے۔۔۔ بازو اُس کے دائیں جانب دیوار پر ٹکاتے تقریباً اُس پر جھک آیا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کی درزیدہ نگاہیں اُس کے مغرور چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
“میری منگ ہوتے تم کسی اور کی دلہن کیسے بن سکتی ہو۔۔۔۔ میرے نام کی انگوٹھی اپنی اُنگلی سے نکالنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری۔۔۔۔۔”
زوہان شعلے برساتی آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھتے دھیمی آواز میں غرایا تھا۔
چہرے پر پڑتیں اُس کی گرم سانسوں کی تپیش اور لہجے کی سفاکی اُسے جی جان سے لرزا گئی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
