Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

اندر کا منظر دیکھ اُس کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔ نگینہ بائی ماورا کے بال اپنی مُٹھی میں جکڑے اُس کے منہ پر تھپڑ مارتیں، اُس کا چہرا لال کر گئی تھیں۔ ماورا کا ہونٹ پھٹ چکا تھا۔ مگر نگینہ کو اُس پر زرا برابر بھی رحم نہیں آیا تھا۔ وہ اُسے کوئی حیوان شے سمجھتیں مسلسل پیٹے جارہی تھیں. ہر وقت چہرے پر اداؤں بھری مسکراہٹ سجائے رکھنے والی حاعفہ کا چہرا غصے اور نفرت سے خطرناک حد تک لال ہوچکا تھا۔
ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بنا وہ ماورا تک پہنچی تھی۔ نگینہ بائی کو زور دار دھکا مار کر ماورا سے دور دھکیلتی وہ ماورا کو اپنی مہربان آغوش میں بھر گئی تھی۔
ستاروں بھری چمکتی دھمکتی ساڑھی، فل میک اپ اور ہیوی جیولری سے لدی پھندی نگینہ بائی حاعفہ کے دھکے پر اوندھے منہ بیڈ پر جاگری تھی۔
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری ماورا پر ہاتھ اُٹھانے کی۔۔۔”
حاعفہ آنکھوں میں شعلے بھرے خونخوار نظروں سے بیڈ سے سنبھل کر اُٹھتی نگینہ بائی کو گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
“تم جانتی بھی ہو۔۔۔ تمہاری یہ لاڈلی کیا گل کھلاتی پھر رہی ہے۔۔۔۔”
نگینہ بائی بھی جواباً اُسی انداز میں بولی تھی۔
“وہ جو بھی گل کھلائے مگر تمہیں یہ اجازت کس نے دی ہے اُسے یوں اتنی بے دردی سے پیٹوں۔۔۔ یہ بہت مہنگا پڑے گا تمہارے لیے یاد رکھنا۔۔۔۔”
حاعفہ تو جیسے اِس وقت آپے میں ہی نہیں تھی۔ ماورا کا لال چہرا اُس کے سینے میں آگ بھڑکا گیا تھا۔ ماورا اُس کے سینے سے لگی بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اُس کا ڈرا سہما انداز دیکھ حاعفہ نے اُسے مزید خود میں بھینچ لیا تھا۔
“حاعفہ تم جانتی بھی ہو یہ۔۔۔۔۔”
نگینہ بائی اِس سے پہلے کے مزید کچھ بولتی جب غیض و غضب کی تصویر بنے کرامت خان کو اندر آتے دیکھ وہ خاموش ہوئی تھی۔
“تمہارے کہنے پر ہم نے اِس لڑکی کو اِس کام سے دور رکھا، اِسے پڑھنے کے لیے ہاسٹل بھیجا۔۔۔۔”
کرامت خان کی قہر برساتی نگاہیں ماورا پر ٹکی ہوئی تھیں۔ کرامت کو وہاں دیکھ حاعفہ سمجھ گئی تھی، معاملہ کچھ سیریس ہے ہے۔۔۔
“ہاں اور اُس سب کی بھاری قیمت بھی ادا کررہی ہوں میں تم لوگوں کو۔۔۔۔”
حاعفہ نے ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست کرتے خود پر ضبط رکھا تھا۔
“تو تمہاری یہ لاڈلی اُس سب کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر اپنے کسی عاشق کے ساتھ بھاگی جارہی تھی۔۔۔۔”
کرامت خان نے حاعفہ کے سر پر بم پھوڑا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی بے یقینی بھری نظروں سے ماورا کو دیکھنے لگی تھی۔ ماورا نے بے اختیار اپنی بڑی بہن سے نگاہیں چرائی تھیں۔
“ہمارے کہنے پر ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے اِس پر کڑی نظر رکھی جارہی تھی۔ ورنہ اب تک یہ ہمیں دھوکا دے کر اپنے عاشق کے ساتھ فرار ہوچکی ہوتی۔۔۔۔”
کرامت خان کا بس نہیں چل رہا تھا ماورا کو آنکھوں سے ہی سالم نگل جاتا۔ اُس کی بات سننے کے بعد حاعفہ کے الفاظ جیسے ختم ہوئے تھے۔ اُس کی بہن نے اُس کی دی قسم توڑ دی تھی۔
“تمہاری وجہ سے بہت مہلت دی ہم نے اِسے مگر اب اور نہیں۔۔۔ اب اِس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ یہ بھی اب وہی کرے گی جو تم سمیت یہاں کی سب لڑکیاں کررہی ہیں۔۔۔ کوئی پڑھائی، کوئی ہاسٹل نہیں۔۔۔۔”
کرامت خان اپنی بات کہتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ نگینہ بائی بھی سخت نگاہ ماورا پر ڈالتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔
حاعفہ نے ماورا کے گرد سے اپنا حصار ہٹا لیا تھا.
“آپی میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔ میری ایک بار بات سن لیں۔۔۔۔”
ماورا نے اُس کی کلائی تھامتے اُسے روکنا چاہا تھا. حاعفہ کی بے اعتباری بھری نگاہیں برداشت کرنا اُس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا.
وہ کچھ بھی سہہ سکتی تھی۔ مگر حاعفہ کی ناراضگی اُس سے نہیں دیکھی جاتی تھی۔
“چلو روم میں۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُسے سرد نگاہوں سے گھورتی اپنے ساتھ کمرے میں آنے کا کہتی باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔
اُس کے دل کی بے چینی مزید بڑھ چکی تھی۔ اب وہ کیسے بچائے گی اپنی بہن کو اِس دلدل میں اُترنے سے۔۔۔۔ کتنی مشکل سے لڑ جھگڑ کر، منتیں کرکے اُس نے ماورا کو یہاں سے نکال کر پڑھنے کے بہانے دور بھیج رکھا تھا۔ مگر ماورا اپنی ہی نادانی کی وجہ سے خود کو واپس اُسی ذلالت میں گھسیٹ لائی تھی۔
@@@@@@@@
آزاد کشمیر جو اپنی بے پناہ قدرتی خوبصورتی اور دلکش مناظر کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ سرسبزے اور پہاڑوں پر مشتمل فرحت آمیز نظارے بخشتا یہ حسین خطا زمین پر جنت قرار دیا گیا ہے۔۔۔
یہاں کی دلفریبی آنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھی۔ یہاں کا خوبصورت موسم بھی وہاں کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتا تھا۔
آج بھی مظفر آباد کے علاقے دواریاں میں برف باری ہورہی تھی۔ ٹھنڈ کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ اپنے گرم بستروں سے نکلنا اُن کے لیے مشکل تھا۔
وہیں ایک شخص ایسا بھی تھا جو اپنے کمرے کے ٹیرس پر کھڑا اپنے اندر لگی آگ کو بجھانے کے لیے اُس برف باری کا حصہ بن چکا تھا۔ اُسے اپنے برف سے شل ہوتے وجود کی کوئی پرواہ نہیں تھی. اُس کا چہرا مسلسل برف میں کھڑے رہنے اور یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑوں کی وجہ سے خطرناک حد تک سفید پڑ چکا تھا، مگر اُس کی آنکھوں سے ابھی بھی شعلے نکل رہے تھے۔ برف ہوتی ریلنگ کو تھامے وہ منجمند سا کھڑا تھا جب اُس کا موبائل فون بجا تھا۔
شدید ٹھنڈ کی وجہ سے اُس کے ہاتھ بالکل سن ہوچکے تھے۔ اُسے کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔۔ اپنی شرٹ کے ساتھ ہاتھ مسلتے اُس نے ہتھیلی کو تھوڑی حرارت بخشی تھی۔ اور اُوپری پاکٹ میں بجتا فون نکال کر آن کرتے کان سے لگایا تھا۔
“سرکار سائیں ایک خوشخبری ہے آپ کے لیے۔۔۔۔۔”
دوسری جانب سے بتانے والا مسکایا تھا۔
“بولو۔۔۔۔۔”
اُس کا لب و لہجہ برف سے بھی زیادہ سرد تھا۔
“ملک آژمیر میران کی لاڈلی بہن زنیشہ میران کی آج مہندی تھی اور کل بارات۔۔۔۔۔”
اُس کے خاص آدمی حاکم نے تمہید باندھنی چاہی تھی۔
“جانتا ہوں آگے بولو۔۔۔۔”
اُس کی بات کاٹتے اصل بات کی جانب لاتے لہجہ ہنوز سخت ہی تھا۔
“سائیں زنیشہ میران نے زہر کھا لی ہے۔۔۔۔۔”
حاکم نے ابھی اتنا ہی جملہ ادا کیا تھا جب مقابل کے احمریں لبوں پر اُمڈ آنے والی مسکراہٹ اُسی کی طرح انتہائی دلکش تھی۔ دیکھنے والوں کو دیوانہ بنا لینے والی۔۔۔۔
“ابھی اُسے ہاسپٹل لے جایا گیا ہے۔۔۔ اُس کی حالت کافی سیریس ہے۔۔۔۔ میران پیلس کی شہنائیاں ماتم میں بدل چکی ہیں سائیں۔۔۔ “
حاکم کا ایک ایک لفظ اُس کے سینے میں بھڑکتی آگ پر ٹھنڈی پھوار ثابت ہوا تھا.
“اب اگلا کیا حکم ہے میرے لیے سائیں۔۔۔۔”
حاکم اپنے مالک کو سکون میں آتا دیکھ خود بھی جیسے پرسکون ہوا تھا۔
“وہاں ہمیشہ ماتم ہی بچھا رہنا چاہیئے۔۔۔ میں جاننا چاہتا ہوں،ملک آژمیر میران کیا کرے گا اب۔۔۔۔۔ اپنی لاڈلی بہن کی جانب سے دی جانے والی اِس بدنامی کے بعد۔۔۔۔۔”
اُس کے لبوں کے گوشوں میں جیسے مسکراہٹ قید ہوکر رہ گئی تھی۔ وہ ابھی ٹیرس پر ہی کھڑا تھا۔ مگر اب اُس کے اندر کا ماحول بدل چکا تھا۔
“جو حکم سائیں۔۔۔۔۔”
حاکم اُس کی بات سنتا فون بند کر گیا تھا۔
“میری جانب سے بھیجی جانے والی بربادی تمہاری طرف بڑھ رہی ہے۔۔۔ دیکھتا ہوں کب تک بچتے ہو میرے دوست۔۔۔ ملک آژمیر میران۔۔۔۔”
یہ نام زیرِ لب دوہراتے اُس کی آنکھوں میں انتقام کی واضح جھلک لہرائی تھی۔
اُس کو آج کے لیے اُس کا سکون مل چکا تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے اپنے پرحدت روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
@@@@@@@
“آپی پلیز میری بات تو سنیں نا۔۔۔۔”
حاعفہ ہاتھوں میں سر گرائے صوفے پر بیٹھی تھی۔ جب ماورا اُس کے قدموں میں دوزانے بیٹھی اُس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے بولی۔
“کیا ہوگا تمہاری بات سن کر؟۔۔ یہ لوگ تمہیں واپس پڑھنے کے لیے بھیج دیں گے۔۔تمہیں اِس دلدل میں نہیں پھینکیں گے۔۔۔۔۔ تم جانتی بھی نہیں ہو تمہاری خاطر میں اب تک کتنی جنگیں لڑتی آئی ہوں۔۔۔ مگر تم نے میرے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔۔ ایک مرد کی محبت نے تمہیں اتنا پاگل کردیا۔۔۔ اگر وہ تم سے اتنی ہی محبت کرتا تھا تو کہاں ہے اِس وقت۔۔۔۔ کیوں نہیں کھڑا تمہارے ساتھ۔۔۔۔ کیوں بھاگ گیا تمہیں چھوڑ کر۔۔۔۔۔ کہا تھا نا میں نے تمہیں، یہ مرد اعتبار کے قابل بالکل بھی نہیں ہوتے۔۔۔۔ اِن کے نزدیک عورت ایک کھلونے سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتی، اُن کی محبت دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ اُنہیں صرف عورت کے جسم کی چاہ ہوتی اُس کی روح چاہے چھلنی ہو یا اُن کے ستم سہتی فنا ہوجائے، اُنہیں قطعاً پرواہ نہیں۔۔۔۔ بلکہ میرے نزدیک محبت ہوس کا دوسرا نام ہے۔۔۔ تمہیں سمجھایا تھا نا میں نے ایسا کچھ مت کرنا۔۔۔ مرد کی محبت رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ اُس پُر فریب راستے پر چلنے کا نتیجہ دیکھ لیا تم نے اب؟؟؟… تمہیں واپس اُسی جگہ لا پھینکا جہاں آنے سے پہلے عورت مرجانا پسند کرتی ہے۔۔۔ عورت ہمیشہ مرد کی محبت کو ترستی رہتی ہے۔۔۔۔ اور طوائف اُس کے لیے تو اِس کا نام لینا بھی گناہ ہے۔۔۔۔”
حاعفہ کے لہجے میں مرد ذات کے لیے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
جبکہ اُس کے یوں خود کو طوائف کہے جانے پر ماورا تڑپ کررہ گئی تھی۔
“ہم طوائفیں نہیں ہیں۔۔۔ آپ کیوں بولتیں ہیں ہر بار ہم دونوں کو ایسا۔۔۔ ہم دونوں گواہ ہیں ایک دوسرے کی۔۔۔ اِس گندگی میں رہنے کے باوجود ہم پاک دامن ہیں۔۔۔۔ ہمارے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے۔۔۔”
ماورا اُس کا چہرا ہاتھوں میں تھامتے ہچکیوں کے درمیان بولی تھی۔
“کون یقین کرے گا تمہاری گواہی پر۔۔۔۔ طوائف ذادیاں ہیں ہم۔۔۔۔۔ایک طوائف کی بیٹیاں۔۔۔۔۔ نامحرم مردوں کے ساتھ اکیلے۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے ہاتھ جھٹکتی تلخی سے جملا کمپلیٹ کرتی جب ماورا نے اُس کے گلابی ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اُسے اپنے بارے میں کچھ بھی غلط کہنے سے روکا تھا۔
“فار گاڈ سیک آپی۔۔۔۔ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی کہ آج تک آپ نے کسی مرد کو خود کو چھونے نہیں دیا۔۔۔۔ تو پھر خود کو کیوں بار بار طوائف کہہ کر میرا دل مزید زخمی کررہی ہیں۔۔۔ اِس گندگی میں گھرے ہونے کے باوجود آپ نے خود کو محفوظ رکھا ہے۔۔۔۔ “
ماورا نے اُس کی دل جلاتی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ٹوک دیا تھا۔
“اچھا اور تمہیں لگتا تمہاری یہ بات ہمارا معزز معاشرہ تسلیم کر لے گا۔۔۔ اور ہمیں پاکدامنی کا سرٹیفیکیٹ مل جائے گا۔۔۔۔ ؟؟”
حاعفہ تلخی سے ہنسی تھی۔
حاعفہ کا دماغ یہ بات سوچ سوچ کر ہی بے سکون ہوچکا تھا کہ وہ اب ماورا کو اِس سب سے کیسے دور رکھے گی۔ کرامت خان اور نگینہ بائی کے انداز سے یہی لگ رہا تھا کہ وہ اب اُسے مزید مہلت دینے والے بالکل بھی نہیں تھے۔۔۔
@@@@@@@@@@@
ڈاکٹرز نے فوری طور پر زنیشہ کا میدہ صاف کردیا تھا۔ وہ اب خطرے سے باہر تھی۔ مگر ہوش میں نہیں آئی تھی ابھی۔۔۔۔ گھر سے صرف ایک دو خواتین کو ہی ساتھ لایا گیا تھا۔ باقی سب مرد حضرات ہی موجود تھے۔
“آژمیر نے کب تک پہنچنا ہے۔۔۔؟”
شمسہ بیگم عدیل کے قریب آتے تشویش زدہ لہجے میں بولی تھیں۔
“بس کچھ ہی دیر میں پہنچنے والے ہیں۔۔۔۔ اللہ خیر ہی کرے اب۔۔۔۔ نہ کسی کا فون اُٹھا رہے نہ کسی کو کوئی جواب دے رہے۔۔۔۔ عام حالت میں وہ اپنے مزاج کے خلاف کسی کو جواب نہیں دیتے، آج تو پھر غضب ہی ہوگیا ہے۔۔۔ “
عدیل سمیت وہاں ہر شخص اِسی ٹینشن کا شکار تھا۔
“اللہ خیر کرے گا۔۔۔۔ اچھے کی اُمید ہی رکھو۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے اُس سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی۔
“آژمیر سائیں آچکے ہیں۔۔۔۔”
اُسی لمحے شور اُٹھا تھا۔ سب کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں۔ جب کچھ لمحوں بعد آژمیر چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے اندر داخل ہوا تھا۔ ہر طرف موت کا سا سناٹا چھا گیا تھا۔
“آژمیر۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کی راہ میں آئی تھیں۔ آژمیر نے نظریں اُٹھا کر اُن کی جانب دیکھا تھا۔
“بیٹا وہ۔۔۔۔۔”
بھیگے چہرے کے ساتھ اُن سے بولنا محال ہوا تھا۔ آژمیر بنا کچھ بولے اُن کے قریب ہوتے اُن کے چہرے سے آنسو صاف کیے تھے۔ شمسہ بیگم اُس کا چہرا دیکھ کر ہی اندازہ لگا گئی تھیں کہ وہ اِس وقت کس قدر شدید غصے میں ہے۔۔۔۔
اُنہوں نے کچھ بولنا چاہا تھا۔ جب آژمیر اُن کے ماتھے پر بوسہ دیتا آگے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔ جتنے غصے میں وہ تھا، اپنی ماں کے آگے کوئی گستاخی سرزد نہیں کرنا چاہتا تھا۔
روم میں داخل ہوتے اُس کی نگاہ بستر پر پڑی اپنی بہن پر پڑی تھی۔ جس کی سہمی نگاہیں اُسی کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔
آژمیر کو اندر آتا دیکھ زنیشہ کی جان حلق میں اٹکی تھی۔ شرمندگی اور ندامت کے مارے اُس سے سر اُٹھانا محال ہوا تھا۔ اُس نے عین شادی کے وقت یہ حرکت کرکے اپنے بھائی کے نام کا خیال بھی نہیں کیا تھا۔ جس نے ہمیشہ اُسے پلکوں پر بیٹھا کر رکھا تھا۔ اُس کو زرا سی گرم ہوا بھی نہیں لگنے دی تھی۔
“لالہ میں۔۔۔۔۔ “
آژمیر سرد تاثرات سجائے اُس کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
زنیشہ بولنا چاہتی تھی مگر اُس کی زبان ساتھ دینے سے انکاری تھی۔
“مجھے بہت غرور تھا اِس بات پر کہ میرے خاندان کا کوئی ایک فرد بھی میری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتا۔۔۔۔ مگر میری تو اپنی بہن نے ہی مجھے غلط ٹھہرا دیا۔۔۔۔ میرے فیصلے سے بچنے کے لیے موت کو گلے لگانا چاہا تم نے۔۔۔۔۔”
آژمیر مُٹھیاں بھینچے ہوئے تھا۔ اُس کی کنپٹی کی رگیں شدتِ ضبط کی وجہ سے اُبھر کر باہر آگئی تھیں۔۔۔۔
زنیشہ نقاہت زدہ سی سر نفی میں ہلاتی، ہاتھ سے ڈرپ کی نیڈل نکالتی اُس کے قدموں میں جا بیٹھی تھی۔ وہ اپنے بھائی کا مان تھی بھلا اُس کا سر جھکانے کا باعث بننا کیسے برداشت کر سکتی تھی۔
“لالہ مجھے معاف کردیں۔۔۔ میں نے یہ سب آپ کی زندگی کی خاطر کیا۔۔۔۔ میں آپ کی سر بلندی کے لیے مر مٹ سکتی ہوں۔۔۔ مگر آپ پر زرا سی آنچ آتی برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔۔ اُس نے کہا تھا اگر میں نے یہ نکاح کیا تو وہ مار دے گا آپ کو۔۔۔۔۔مم میں کیا کرتی۔۔۔۔ میرے پاس۔۔ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔”
زنیشہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ آژمیر کے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہوئے تھے۔ اُس نے اپنے ہونٹ سختی سے ایک دوسرے میں بھینچ رکھے تھے۔
“تم اُس سے رابطے میں ہو؟ کیوں؟ کس نے اجازت دی تمہیں؟ کیسے ہوا اُس کا رابطہ تم سے؟”
زنیشہ کو بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کرتے آژمیر چلایا تھا۔۔۔
“لالہ وہ جم۔۔۔ جمشید نے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے منہ سے خوف کے مارے بات مکمل ہی نہیں ہوپائی تھی۔۔۔۔ آژمیر کا سفید چہرا خطرناک حد تک لال ہوچکا تھا۔ اُس کی مقناطیسی سیاہ آنکھیں غضبناکی کی حد کو چھوتیں مقابل کی جان نکالنے کے در پر تھیں۔۔۔
اُس نے اُسی وقت موبائل پاکٹ سے نکالتے کال ملائی تھی۔۔۔۔
“جمشید کل کا سورج نہ دیکھ پائے۔۔۔۔ ورنہ میں تمہاری سانسیں سلامت نہیں رہنے دوں گا۔۔۔۔”
آژمیر سے اب مزید خود پر قابو رکھ پانا مشکل تھا۔ وہ ایک دم سفاک ہوا تھا۔ زنیشہ نے سہمی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
“کل مقررہ کردہ وقت پر تمہارا ذیشان سے نکاح ہوگا۔۔۔۔ اگر تم نے پھر سے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہارا گلا دبا کر قصہ ہی ختم کردوں گا۔۔۔۔۔”
آژمیر کے لفظوں کی سنگینی پر زنیشہ نے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“مگر ملک زوہان۔۔۔۔۔ اُس نے دھمکی دی مجھے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔
وہ اُس شخص کی دہشت سے بھی اچھی طرح واقف تھی۔۔۔۔۔ اُس سمیت خاندان کا کوئی فرد نہیں چاہتا تھا کہ یہ دو طوفان ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اب سے آگے روزانہ ایپیسوڈ پوسٹ ہوا کرے گی۔۔۔۔۔