No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
حاعفہ دروازہ ہولے سے ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آژمیر نے اُس سے کوئی فائل مانگی تھی۔ وہی پروف ریڈ کرکے وہ اُسے دینے آئی تھی۔۔۔
وہ ٹیبل کے قریب آن پہنچی تھی۔ مگر آژمیر کہنیاں ٹیبل پر جمائے دونوں ہاتھوں کی مُٹھیوں بند کیے اُن پر ٹھوڑی رکھے بیٹھا بظاہر اُس کی جانب دیکھتا نجانے کس سوچ میں مبتلا تھا۔ حاعفہ سمجھ سکتی تھی کہ آژمیر کی نگاہیں اُسی پر جمی ہوئی ہیں۔۔۔ مگر وہ سوچ کچھ اور رہا ہے۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے کسی خاص بات کی جانب اشارہ کررہے تھے۔۔۔ نجانے کیوں حاعفہ کو وہ بے چین سا لگا تھا۔۔۔ مگر اُس میں ہمت نہیں تھی یہ پوچھنے کی اور نہ ہی حیثیت۔۔۔۔ اِس لیے وہ اُس کے بولنے کا انتظار کرتی چپ چاپ کرسی پر ٹک گئی تھی۔۔۔ اُس نے ہولے سے نگاہیں اُٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تھا۔۔۔ چوڑی کشادہ پیشانی پر لاتعداد شکنوں کا جال بچھا ہوا تھا۔۔ چہرے کے تاثرات میں مزید کھردرا پن اُتر آیا تھا۔ حاعفہ یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ یہ شخص اُس کے دل کو پہلی نظر میں بھا گیا تھا۔ مگر اُسے تفصیل سے دیکھنے کا موقع آج مل رہا تھا۔۔۔ حاعفہ بھی بنا اُس کی محویت توڑے یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔
اگلے دس منٹ بعد بھی آژمیر ویسے ہی بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کو اب عجیب سا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔
“سر آپ نے فائل منگوائی تھی۔۔۔”
حاعفہ نے دھیمے لہجے میں اُسے مخاطب کیا تھا۔۔۔
اُس کے ایک دو بار مزید پکارنے پر کہیں جاکر آژمیر اپنی گہری سوچ سے باہر آیا تھا۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔ آپ کب آئیں؟؟؟”
حاعفہ کو آژمیر کا موڈ کافی خراب لگا تھا۔۔۔
“سر پندرہ منٹ پہلے۔۔۔۔”
حاعفہ چہرا جھکائے شرمندہ لہجے میں ایسے بولی تھی۔۔۔ جیسے اِس میں اُسی کی غلطی ہو۔۔۔
“تو پندرہ منٹ سے آپ ایسے ہی بیٹھی ہیں یہاں۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی بات پر دلچسپی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جو جب بھی اُس کے سامنے ہوتی، اُس سے بات کررہی ہوتی تو اُس کا سر ایسے ہی جھکا ہوتا۔۔۔۔
“جی۔۔۔”
حاعفہ شرمندگی سے چور لہجے میں بولی تھی۔۔ اُسے کیا بتاتی پچھلے پندرہ منٹ سے وہ اُسے ہی گھور رہی تھی۔۔۔ اور اُس کے نقوش اچھی طرح ازبر کر چکی تھی۔۔۔
اُس نے جس طرح مجرمانہ انداز میں اِس بات کا اقرار کیا تھا۔۔۔ آژمیر چاہنے کے باوجود اپنے ہونٹوں پر اُمڈ آنے والی مسکراہٹ کو روک نہیں پایا تھا۔۔۔
حاعفہ اُس کی گہری نگاہیں خود پر مرکوز کرتی پزل ہوئی تھی۔۔۔
“آپ پلیز فائل دیکھا دیں مجھے جہاں مسٹیکس ہائی لائٹ کی ہیں آپ نے۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے ماتھے پر جگمگاتے پسینے کے ننھے ننھے قطرے دیکھ فوراً سنجیدہ ہوا تھا۔۔۔ اُس کے خلافِ مزاج اتنے نرم انداز کے باوجود حاعفہ کا اُس سے اتنا گھبرانا وہ اب تک سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔
“جی سر۔۔۔۔ میں نے تمام غلطیوں کی نشاندہی کردی ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے فائل اُس کی جانب بڑھائی تھی۔۔۔۔ ابھی آژمیر نے فائل تھامی ہی تھی جب اُس کے پرائیویٹ فون پر شمسہ بیگم کی کال آنے لگی تھی۔۔۔ آژمیر نے فائل اپنے سامنے رکھتے فوراً کال اٹینڈ کی تھی۔۔۔
کچھ دیر وہ خاموشی سے دوسری جانب سے کہی جانے والی باتیں سنتا رہا تھا۔۔۔ حاعفہ نے کن اکھیوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جس کے چہرے کے تاثرات دوسری جانب سے بات سنتے مزید سخت ہوتے جارہے تھے۔۔۔
“اماں سائیں۔۔۔معاف کیجیئے گا مگر آپ خاندان والے جتنے بھی لاجکس دیں۔۔۔۔ جو مرضی کریں۔۔۔ میں اپنی بہن کو کبھی زوہان کے حوالے نہیں کروں گا۔۔۔ زنیشہ کی شادی ہوگی تو ذیشان سے۔۔۔۔ آپ سب لوگ اچھی طرح ازبر کر لیں۔۔۔۔”
آژمیر کا لہجہ دو ٹوک تھا۔۔۔۔ جس میں ہر طرح کی نرمی مفقود تھی۔۔۔ کیونکہ یہاں بات اُس کی لاڈلی بہن کی تھی۔۔۔
“مگر آژمیر یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ زوہان زنیشہ سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ بچپن کی منگ ہے وہ اُس کی۔۔۔۔ اور اُس کی جنونی طبیعت سے بھی ہم سب اچھے سے واقف ہیں۔۔۔ وہ خود کو اور زنیشہ کو ختم کردے مگر کسی اور کا ہونے نہیں دے گا۔۔۔ اُسی کی بلیک میلنگ میں آکر زنیشہ خودکشی کی کوشش بھی کرچکی ہے۔۔۔ میں اپنی بیٹی کو کسی صورت کھو نہیں سکتی۔۔۔ زوہان کبھی بھی زنیشہ سے ہماری اِس دشمنی کا بدلہ نہیں لے گا۔۔۔۔ اور وہاں نفیسہ بھی ہے۔۔۔۔ کیا پتا ہمارے اِس قدم سے زوہان کے دل میں موجود نفرت کچھ حد تک کم ہوجائے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم آج پوری طرح زوہان کی وکیل بنی ہوئی تھیں۔۔۔
“وہ ایک پاگل، گھٹیا دماغ کا ایک کریکٹر لیس انسان ہے۔۔۔ میں اُسے کبھی اپنی بہن نہیں دے سکتا۔۔۔ اور ہمارے خلاف اپنے دل میں نفرت اُس نے خود بھری ہے۔۔۔۔ نکالے گا بھی وہ خود۔۔۔۔ میں اُس کی شکل دیکھنے کا روادار بھی نہیں ہوں۔۔۔ اور آپ لوگ اُسے میرے سر پر بیٹھانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ زنیشہ سے شادی بھی وہ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ اگر محبت کرتا تو میری بہن کو حرام موت مرنے کی نوبت پر نہ پہنچاتا۔۔۔۔ آپ سب لوگ جس طرف جارہے ہیں۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ اُس کے مخالف سمت ہی پائیں گے۔۔۔۔ زنیشہ اور زوہان کی منگنی میں توڑ چکا ہوں۔۔۔۔ اب زوہان کا زنیشہ سے کسی قسم کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔۔”
آژمیر شدید غصے میں بول رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ حاعفہ کو اِس وقت وہ ریسٹورنٹ والے دن سے بھی زیادہ غصے میں لگا تھا۔۔۔۔ شدید غصے میں اُس کا چہرا لال اور کنپٹی کی رگیں باہر اُبھر آتی تھیں۔۔۔۔
اُس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت موبائل فون پر مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔
“اور اگر زنیشہ بھی زوہان سے شادی کرنا چاہتی ہوئی تب بھی تم ایسے کی مخالفت کرو گے۔۔۔”
شمسہ بیگم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ پتا پھینکا تھا۔
آژمیر کے لیے ہر چیز لمحہ بھر کے لیے ساکت ہوئی تھی۔۔۔
“اُس نے ایسا کہا آپ سے۔۔۔۔”
آژمیر نے تنے نقوش کے ساتھ بامشکل خود پر ضبط کرتے پوچھا تھا۔
“اُس نے تو نہیں کہا مگر روز صبح اُس کے تکیے کے نیچے پڑی زوہان کی تصویر اُس کے دل کا حال بیان کرتی ہے مجھ سے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے بنا کچھ چھپائے اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر اُس کا سچ بتا دیا تھا۔۔۔
“کیا اب بھی اعتراض ہے تمہیں اِس رشتے سے۔۔۔۔؟؟”
شمسہ بیگم کو آژمیر کا خاموش ہونا اُس کی کمزوری محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
“آپ بات کرلیں زنیشہ سے اگر وہ اِس رشتے کے لیے رضامند ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ آپ سب لوگ جو مرضی کرنا چاہیں کریں۔۔۔۔ مگر میری ایک بات یاد رکھ لیں کہ جو شخص ملک زوہان سے رشتہ جوڑے گا اُسے پہلے مجھ سے تعلق توڑنا پڑے گا۔۔۔ چاہے وہ آپ ہوں، زنیشہ ہو یا خاندان کا کوئی بھی فرد۔۔۔۔ مجھے دھوکے باز لوگوں سے سخت نفرت ہے۔۔۔۔ اور زوہان تو اپنے نام اِس سے بھی بڑے گناہ لکھوا چکا ہے۔۔۔ اُسے کسی صورت معافی نہیں مل سکتی۔۔۔۔ “
آژمیر شمسہ بیگم کا جواب سنے بغیر فون کاٹ گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اُس کی ایک ایک بات سنتی حاعفہ تو اُس کے آخری ادا کیے الفاظ میں ہی اٹک گئی تھی۔
وہ بھی تو آژمیر میران کو دھوکا ہی دے رہی تھی۔ اُس کا پتا نہیں آگے چل کر کیا انجام ہونے والا تھا۔
“چلیں ہمیں سائٹ پر جانا ہے۔۔۔ کنسٹرکشن کا کچھ کام چیک کرنے۔۔۔۔۔”
آژمیر حاعفہ کی دی گئی فائل واپس ٹیبل پر پٹختے خراب موڈ کے ساتھ بولتا اپنی جگہ سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔ حاعفہ اُس کا اتنا خراب موڈ دیکھتی مزید سہم گئی تھی۔۔۔ کیونکہ اب آژمیر کے چہرے پر اُس کے لیے مخصوص رہتی نرمی اب مفقود تھی۔۔۔
وہ اتنی تیزی سے باہر نکلا تھا کہ حاعفہ کو بھاگ کر ہی اُس کے قریب پہنچنا پڑا تھا۔۔۔
@@@@@@@@@
منہاج کی گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے رکی تھی۔۔۔ راستے میں وہ فون پر نجانے کس کس سے کیا کیا بات کرتا آیا تھا۔۔۔ ماورا تو اُس کے تاثرات دیکھ کر ہی پریشان ہوتی رہی تھی۔۔۔ بظاہر خود کو نارمل دیکھانے کی کوشش کرتے اندر سے اُس کا دل ہول رہا تھا۔۔۔ نجانے یہ شخص اُسے کہاں لے آیا تھا۔ وہ منہاج کے غصے سے بہت اچھی طرح واقف تھی۔۔۔ جو غصے میں کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔۔ دوسروں کی غلطی معاف کرنے میں وہ ہمیشہ کم ظرف ہی رہا تھا۔۔۔
“نکلو باہر۔۔۔۔۔”
اُسے اِسی طرح گاڑی میں جما دیکھ وہ اُس کی جانب کا دروازہ کھولتا اُسے خوشمگی نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“نہیں آؤں گی میں باہر۔۔۔۔ مجھے واپس یونی چھوڑ کر آؤ۔۔۔”
ماورا ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی تھی۔۔۔ یہاں اردگرد کافی آؤٹ کلاس لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔۔۔۔ سامنے انٹرنس پر بھی اسلحہ اُٹھائے باوردی گارڈز موجود تھے۔ ماورا کو پورا یقین تھا منہاج یہاں اُس سے کوئی زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
مگر وہ منہاج درانی ہی کیا جو کسی کا لحاظ کر جائے۔۔۔۔
“مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہیں میری قربت اتنی پسند ہے۔۔۔۔”
منہاج بنا لوگوں کا خیال کیے اُسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔ ماورا کی اپنی مزاحمت کی وجہ سے اُس کا سر زور دار طریقے سے گاڑی سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔
“اوہ آئم سوری۔۔۔۔”
ماورا سے بھی پہلے منہاج نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھے ہولے سے سہلایا تھا۔۔۔ ماورا کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ منہاج بے اختیاری میں اُس کا سر سہلانے لگا تھا۔۔۔ مگر جیسے ہی ماورا نے اچھنبے سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔ منہاج فوراً ہاتھ واپس کھینچ گیا تھا۔۔۔ ماورا عجیب سی کیفیت کا شکار یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔۔۔ جو شخص اُس کی زرا سی تکلیف پر ایسے ری ایکٹ کررہا تھا۔۔۔ وہ بھلا اُسے کسی بڑی اذیت سے دوچار کیسے کرسکتا تھا۔۔۔ ماورا کا دل ایک دم مطمئین ہوا تھا۔۔۔۔
منہاج نگاہیں پھیرتے ایسے اجنبی بنا تھا جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے بہت بڑا جرم سرزد ہوا ہو اُس سے۔۔۔۔
اب کی بار ماورا بنا کوئی مزاحمت کیے خاموشی سے اُس کے ساتھ چلنے لگی تھی۔۔۔۔ ریسپشن پر آکر منہاج نے اپنے مطلوبہ روم کی کیز لی تھیں۔۔۔ ماورا کا دل لمحہ بھر کو خوفزدہ ہوا تھا مگر وہ منہاج درانی کو آج آزمانا چاہتی تھی۔۔۔۔ کہ کیا جس شخص سے اُس نے محبت کی وہ اِس قابل تھا بھی یا نہیں۔۔۔۔
منہاج اُسے لیے ایک شاندار سے روم میں انٹر ہوا تھا۔۔۔ ماورا کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔۔ مگر وہ پھر بھی بہت مشکل سے خود کو کمپوز کیے ہوئے تھی۔۔۔
“کک کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟”
ماورا نے آخر کار چپ توڑتے رخ موڑے فون پر مصروف منہاج سے پوچھ ہی لیا تھا۔۔۔
“بتایا تو تھا۔۔۔۔۔ کس لیے لے کر جارہا ہوں تمہیں۔۔ ویسے بھی بند کمرے میں کسی غیر مرد کے ساتھ ایک طوائف زادی کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔۔۔۔ مجھ سے زیادہ اچھی طرح تو تم بتا سکتی ہو۔۔۔ آخر کو تجربہ رکھتی ہو اِس کا۔۔۔۔”
منہاج نے اپنا موبائل فون بیڈ پر اُچھالتے اُس کی جانب پیشِ قدمی کی تھی۔۔۔ جبکہ اپنے بارے میں اُس کے اتنے گھٹیا الفاظ پر ماورا کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے۔۔۔
“تم ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ۔۔۔۔”
ماورا سر نفی میں ہلاتی اپنی جگہ پر جمی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔
“کیوں نہیں کرسکتا۔۔۔ آخر میں بھی تو ایک مرد ہوں۔۔۔ جسے تم نے اپنی جھوٹی محبت کے جال میں پھانسنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ “
منہاج اُس کے مد مقابل آتا اُس کی بھیگی آنکھوں میں اپنی لال آنکھیں گاڑھتے سفاکیت بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔۔
“کیونکہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔۔۔۔ محبت کرنے والے عزت کے محافظ ہوتے ہیں لُٹیرے نہیں۔۔ “
ماورا کا یقین ابھی بھی اُس پر قائم تھا۔۔۔
“وہی محبت جس کی دھجیاں اُڑا دیں تم نے۔۔۔۔”
منہاج کو اپنے لیے اُس کی آنکھوں میں تیرتا یقین مزید آگ لگا رہا تھا۔۔۔
“میں نے جو غلطی کی تھی تم مجھے اُس کی سزا دے چکے ہو۔۔۔۔۔”
ماورا نے اُسے اُس کی بے رحمی کا احساس دلانا چاہا تھا۔۔۔۔
“میرے نزدیک وہ سزا کم تھی۔۔۔ تمہارے دھوکے کے بعد سے میرے دل کا سکون چھن چکا ہے مجھ سے۔۔۔ کسی صورت قرار نہیں مل رہا مجھے۔۔۔ آج وہی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تمہیں یہاں لایا ہوں۔۔۔”
منہاج نے بات کے اختتام پر اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنے نزدیک کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
ماورا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتی اُس سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔۔
یہ شخص ایک بار پھر اُس کے بھروسے کو چکنا چور کرنے والا تھا۔۔
جس لڑکی نے کوٹھے پر رہ کر اپنی عزت محفوظ رکھی تھی۔۔۔ وہ آج اپنی محبت کے ہاتھوں لُٹنے کے در پر تھی۔۔۔۔
“پلیز مت کرو ایسا۔۔۔۔ میں مرجاؤں گی۔۔۔۔”
ماورا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوچکی تھیں۔۔۔
“تو ٹھیک ہے۔۔۔ پھر میری دوسری شرط ماننے کے لیے راضی ہوجاؤ۔۔۔۔ اِس چیز سے بچ جاؤ گی۔۔۔۔”
منہاج نے اُسے جتنا خوفزدہ کرنا تھا کرلیا تھا۔۔۔۔ اب وہ اُسے اپنے اصل مقصد کی جانب لایا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات پر ماورا ہمہ تن گوشہ ہوئی تھی۔۔۔
“ساتھ والے روم میں نکاح خواں اور گواہان تیار بیٹھے ہیں۔۔۔۔ ابھی اور اِسی وقت اپنے تمام جملہ حقوق میرے نام کرکے مجھ سے حلال رشتہ قائم کرلو۔۔۔۔ چوائس تمہارے پاس ہے حلال رشتہ یا حرام رشتہ جو بھی رکھنا چاہو مجھے منظور ہے۔۔۔۔”
منہاج کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر ماورا اُس سے دور ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے الفاظ ماورا پر آتش فشاں بن کر پھٹے تھے۔۔۔ وہ اُسے ایک دلدل سے نکال کر دوسری میں پھینکنا چاہتا تھا۔
اُسے حاعفہ کی نصیحتیں، کرامت کی دھمکیاں سب یاد تھیں۔۔۔ وہ حاعفہ کے لیے زندگی مزید مشکل میں نہیں ڈال سکتی تھی۔۔۔ اور یہ بھی جانتی تھی کہ منہاج اُس سے یہ نکاح کس دلی خواہش کے تحت محبت میں آکر نہیں کررہا تھا۔۔۔ بلکہ اپنے اندر لگی انتقام کی آگ بجھانے کے لیے کررہا تھا۔۔۔۔ ایک طوائف کو اپنے نکاح میں لینے کے لیے بہت حوصلہ چاہیئے تھا۔۔۔۔ اور اگر وقتی طور پر جذبات میں آکر منہاج یہ قدم اُٹھا رہا تھا تو اِسی طرح کس دن اُس نے کہ نکاح ختم بھی کردینا تھا۔۔۔۔
ماورا کے لیے زندگی کبھی بھی آسان نہیں رہی تھی۔۔۔ مگر اِس وقت وہ اپنی زندگی کے عجیب دوہرائے پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یعنی کہ منہاج درانی سے نکاح وہ آج پوری ہورہی تھی۔ مگر جس طرح ہورہی تھی۔۔۔ ماورا اُس دے بہتر مرنا پسند کرتی تھی۔۔۔۔
اُس نے بے بسی سے منہاج کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ کہ شاید اِس سنگدل کو اُس پر رحم آجائے۔۔ مگر وہاں کسی قسم کی نرمی کا احساس موجود نہیں تھا۔۔۔ منہاج نے اُسے پانچ منٹ دیئے تھے سوچنے کے لیے۔۔۔ جس کے بعد ماورا بھیگے چہرے کے ساتھ اثبات میں سر ہلاگئی تھی۔۔
ماورا کا چہرا جھکا ہوا تھا جبکہ اُس کی رضامندی منہاج درانی کی آنکھوں میں واضح چمک بھر گئی تھی۔۔۔۔ وہ اُسے بلیک میل کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔۔۔
@@@@@@@
“زوہان میں آپ سے یہ بات پہلے بھی پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر ٹائم نہیں مل پایا۔۔۔۔۔ کیا آپ زنیشہ سے یہ رشتہ محبت کی وجہ سے جوڑنا چاہتے ہیں یا کسی انتقام کی تکمیل کی خاطر۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم زوہان کے قریب صوفے پر براجمان ہوتیں جانچتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھے گئی تھیں۔۔۔
“آپ کو کیا لگتا ہے؟”
اپنے سامنے کھلے لیپ ٹاپ پر مصروف انداز میں کام کرتے وہ اُسی سنجیدگی کے ساتھ جواباً اُنہیں سے سوال کر گیا تھا۔۔۔۔
“میرا دل کہتا ہے میرا زوہان اپنی نفرت میں مر کر بھی زنیشہ کو استعمال نہیں کرے گا۔ مگر دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ ملک زوہان آژمیر میران کو تکلیف پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔۔ اور زنیشہ آژمیر کے جگر کا ٹکڑا ہے۔۔۔۔ آژمیر کو ہرانے یا توڑنے کی سب سے آسان کڑی زنیشہ ہی ہے۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے صاف گوئی سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔۔۔
اُن کی بات سنتے زوہان کے چہرے پر تلخی بھری مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔
“میں بس اتنا ہی جواب دینا چاہوں گا کہ آپ کا دل بالکل ٹھیک کہتا ہے۔۔۔ اور رہی بات محبت کی تو ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے کوئی محبت وحبت نہیں ہے زنیشہ سے۔۔۔۔ وہ میری بچپن کی منگ ہے تو دلہن بھی اُسے میری ہی بننا چاہیئے۔۔۔۔۔۔ “
زوہان نے نپے تلے الفاظ میں اُنہیں اُن کے سوالوں کے جواب دے دیئے تھے۔۔۔۔۔
جبکہ اُس کے آخری جملے پر نفیسہ بیگم اپنی مسکراہٹ ضبط نہیں کر پائی تھیں۔۔۔۔
“مجھے ایک اور بات بھی کنفیوز کررہی۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم نے اپنے لاڈلے کے وجیہہ چہرے کو نگاہوں کے فوکس میں لیے کہا۔۔۔۔
“کونسی بات۔۔۔۔”
زوہان اُسی طرح مصروف انداز میں بولا۔۔۔۔۔
“ملک زوہان جو کسی سے نہیں ڈرتا۔۔۔ اپنے دشمنوں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے، جس کے آگے اُس کے مخالفین زیادہ دیر ٹک نہیں پاتے۔۔۔ وہ بھلا محبت سے اتنا ڈرتا کیوں ہے؟؟ محبت کے نام پر اُس کے چہرے کی ہوائیاں کیوں اُڑ جاتی ہیں۔۔۔۔”
نفیسہ بیگم کی بات پر زوہان کے متحرک ہاتھ پل بھل کے لیے رکے تھے۔۔۔ اُس نے نگاہیں گھما کر نفیسہ بیگم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جن کی مسکراہٹ اُس سے پوشیدہ نہیں رہ پائی تھی۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ نہ ہی مجھے کسی سے محبت ہے اور نہ ہی میں محبت نامی بلا سے ڈرتا ہوں۔۔۔۔ لگتا ہے مجھے اپنا باقی کا کام سٹڈی میں ہی جاکر کرنا ہوگا۔۔۔۔”
زوہان اُن کی شرارت سمجھتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔ جبکہ نفیسہ بیگم اُس کے یوں محبت کے نام پر کھسک جانے پر مسکرا دی تھیں۔۔۔۔
اُنہیں شمسہ بیگم کے وہاں سے آتے وقت کہے الفاظ بالکل ٹھیک لگے تھے۔۔۔ زنیشہ ہی اِن دونوں کے درمیانی فاصلے کم کرکے اِن کی نفرت واپس محبت میں بدل سکتی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“فری کیا ہر ٹائم یہ انڈین فضول ڈرامے دیکھتی رہتی ہو۔۔۔ جب دیکھو یہ ناگن ہی چلتی رہتی ٹی وی پر۔۔۔ بھلا ناگن بھی ہیروئن ہوسکتی ہے۔۔۔ پاگل لوگ۔۔۔۔”
زنیشہ کا مزاج کافی چڑچڑا سا ہورہا تھا تھا۔۔
اِس لیے لاؤنج میں آکر فائقہ اور فریحہ کو پوری محویت سے پھر ناگن ڈرامے میں گم دیکھتی لتاڑنے کے ساتھ ساتھ اُن کے ہاتھ سے ریموٹ چھین گئی تھی۔۔۔
“زنیشہ چینل چینج مت کرنا۔۔۔ بہت مزے کا سین چل رہا ہے۔۔۔۔”
فریحہ اُسے باز رہنے کا کہتی پوری طرح ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھیں۔۔۔
مگر زنیشہ کی تو ویسے ہی سانپوں سے جان جاتی تھی۔۔۔ وہ اتنے خوفناک سین نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس نے فوراً ہی چینل چینج کردیا تھا۔۔۔
“زنیشہ ریموٹ واپس کرو۔۔۔۔ سین گزر جائے گا۔۔۔”
وہ دونوں اُس پر جھپٹیں ریمورٹ چھیننے کی تگ و دو میں تھیں۔۔۔ جب اچانک کانوں پر پڑتی آواز نے اُنہیں سکرین پر چلتے مناظر کی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔ ایک دوسرے سے ہٹتے اُنہوں نے نظریں سکرین پر گھمائی تھیں۔۔۔۔ جہاں دیکھائی جانے والی خبر زنیشہ کے چہرے سے سارا خون نچوڑ گئی تھی۔۔۔
ملک کی نامور ہستی ثمن خان ملک زوہان کی بانہوں میں جھولتی اُس کے انتہائی قریب ہونے کی کوشش کرتی پورے استحقاق سے دیکھنے والوں کو زوہان سے اپنی نزدیکیوں کی ساری داستان سنا رہی تھی۔
زنیشہ جو تھوڑی دیر پہلے فل مستی کے موڈ میں تھی۔۔۔ اِس وقت اُس کا چہرا لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
زوہان میٹنگ میں بزی تھا۔۔۔ اُس کا موبائل اُسکے پرسنل اسسٹنٹ کامران کے پاس تھا۔۔۔ جس پر زنیشہ کی پانچ مس بیلز آچکی تھیں۔۔۔ مگر کامران زوہان کو کال کے بارے میں آگاہ کرکے اُس کی میٹنگ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کیونکہ زوہان کی جانب سے کی جانے والی ڈانٹ برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
نوٹ۔۔۔۔
کل صرف تینوں کپلز کے لانگ سینز پڑھنے لیے جلدی سے اِس ایپی پر لائکس اور کمنٹس کریں۔۔۔۔۔
