Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

آژمیر فون کان سے لگائے ساکت بیٹھا تھا۔۔۔ اُسے لگا تھا جیسے کسی نے اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیل دیا ہو۔۔۔
اُسے ابھی فیصل کی کال موصول ہوئی تھی۔۔۔۔ جس کہ مطابق زوہان کی گاڑی پر ہوئی فائرنگ کے نتیجے میں۔۔۔ اُس کے ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ ساتھ زوہان بھی جگہ پر دم توڑ چکا ہے۔۔۔۔
یہ کوئی خبر تھی یا قیامت برسی تھی اُس پر۔۔۔۔۔
“جلدی سے ہاسپٹل چلو۔۔۔۔ گو فاسٹ۔۔۔”
آژمیر شدتِ ضبط سے چیخا تھا۔۔۔۔
ڈرائیور نے ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے گاڑی ہاسپٹل کے راستے پر موڑ دی تھی۔۔۔
اگر کوئی اِس وقت آژمیر کی لال آنکھیں دیکھ لیتا تو کبھی یقین نہ کر پاتا کہ اُسی ملک زوہان کے ساتھ اتنے سالوں سے وہ کیسی دشمنی نبھاتا آیا تھا۔۔۔۔
آژمیر کے لیے اِس وقت دنیا اندھیر ہوچکی تھی۔۔۔ وہ پہلے اپنے باپ کو نہیں بچا پایا تھا۔۔۔
مگر اب اپنے بھائی کو اُسی مقام پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اِس ایک خبر پر اُس کی نفرت کہیں دور جا سوئی تھی۔۔۔
ہاسپٹل کے آگے گاڑی رُکتے ہی وہ باہر نکلتا تیز رفتاری سے اندر کی جانب بھاگا تھا۔۔۔ اِردگرد موجود گارڈز اور باقی لوگوں کی اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔ وہ بس اندھا دھند اندر بھاگ رہا تھا۔۔۔ نرس کے بتانے پر وہ دائیں جانب موجود کوریڈور کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ جس طرف آئی سی یو تھا۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔۔”
وہ اُونچی آواز میں چلایا تھا۔۔۔ جب سامنے ہی خون آلود لباس میں ملبوس ڈاکٹر کے ساتھ پریشانی کے عالم میں بات کرتے زوہان نے اپنے نام کی اِس بے قراری بھری صدا پر پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا یا بولتا۔۔۔ آژمیر آگے بڑھتا اُسے بغل گیر ہوچکا تھا۔۔۔ زوہان کو کے گرد بازو پھیلائے وہ اُس کے صحیح سلامت ہونے کا یقین کررہا تھا۔۔۔۔
ویسے ہی جیسے بچپن میں زوہان پر اپنے بڑے ہونے کا رعب جماتے آژمیر اُس کو پروٹیکٹ کیا کرتا تھا۔۔۔۔
زوہان کتنے ہی لمحے ہل بھی نہیں پایا تھا۔۔۔
“تم ٹھیک ہو؟؟؟”
آژمیر جو بُری خبر سن چکا تھا اُس کے بعد زوہان کو یوں سہی سلامت کھڑے دیکھنا اُس کے لیے کس قدر سکون کا باعث تھی وہ بیان نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں آژمیر۔۔۔۔۔”
زوہان آژمیر کا یہ رُوپ دیکھتا کافی دیر بعد دقتوں سے بول پایا تھا۔۔۔۔
زوہان کی آواز نے آژمیر کو فوراً حقیقت میں لا پٹخا تھا۔۔۔۔۔ وہ ایک ہی جھٹکے میں پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔ زوہان یک ٹک اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُسے زندہ سلامت وہاں موجود دیکھ آژمیر کی سانسیں بحال ہوئی تھیں۔۔۔
ابھی گزرے لمحوں میں جو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔ آژمیر کی اپنے لیے دلی کیفیت جو اُجاگر ہوئی تھی۔۔
اُس نے زوہان پر بھی گہرا نشان چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
دونوں اِس وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے عجیب سی کیفیت کا شکار تھے۔۔۔۔۔
“سر وہ۔۔۔۔”
فیصل آژمیر کو غلط خبر پہنچانے پر شرمندہ سا اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔۔ مگر اس کے قریب آتے ہی آژمیر کا پڑنے والا تھپڑ فیصل کا منہ دوسری جانب پھیر گیا تھا۔۔۔
“سر آئم سوری۔۔۔۔”
فیصل کو اپنی غلطی کی سنگینی کا اندازہ تھا۔۔۔ اُس نے بنا تصدیق کیے اتنی غلط خبر پہنچائی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ نادم سا سرجھکائے کھڑا تھا۔۔۔
“گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔”
آژمیر اتنے عرصے میں پہلی بار فیصل پر چلایا تھا۔۔۔
زوہان بنا کچھ بولے خاموشی سے کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا کہ آژمیر کے اس طرح غصے کرنے کی کیا وجہ تھی۔۔۔ زوہان کے حوالے سے ایسی جھوٹی خبر کے ساتھ ساتھ، آژمیر کو زوہان پر اُس کے لیے اپنی فکر آشکار ہونا بھی کھل رہا تھا۔۔۔
جس کا غصہ وہ فیصل پر نکال رہا تھا۔۔۔
لمحے بھر کو ایک مسکراہٹ زوہان کے ہونٹوں پر اُبھری تھی۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے معدوم بھی ہوچکی تھی۔۔۔
“مجھ پر حملہ کروایا ہے اکرام حنیف نے۔۔۔ شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد سے وہ دھمکیاں دے رہا تھا۔۔۔۔ اور آج اُس پر عمل پیرا ہوکر اپنی درد ناک موت کو مزید یقینی بنا دیا ہے۔۔۔ میریلے ڈرائیور کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔۔۔ اور گارڈ کی کنڈیشن کافی سیریس ہے۔۔۔۔”
زوہان نے رُخ موڑے آژمیر کو ساری حقیقت بتا دی تھی۔۔۔ اتنے سالوں میں پہلی بار وہ دونوں اِس طرح نارمل انداز میں بات کررہے تھے۔۔۔ جسے دیکھ اُن کے اردگرد کھڑے اُن کے خاص آدمی فیصل اور حاکم تقریباً کومہ میں جاچکے تھے۔۔۔۔
کیونکہ اُن کے لیے یہ بات معجزے سے کم نہیں تھی۔۔۔ اگر زنیشہ یہ سب دیکھتی تو خوشی سے پاگل ہو اُٹھتی۔۔۔۔
مگر یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ درمیان میں چاہے جتنی دشمنی سہی وہ دونوں بھائی تھے۔۔۔۔ کوشش کے باوجود بھی ایک دوسرے کو تکلیف میں دیکھ خود کو روک نہیں پاتے تھے۔۔۔
اکرام حنیف کے نام پر آژمیر نے غصے سے مُٹھیاں بھینچ لی تھیں۔۔۔ اب اِس شخص کو سبق سیکھانے کا وقت آگیا تھا۔۔۔۔
آژمیر یہاں صرف زوہان کی خاطر آیا تھا۔۔۔ اُسے اپنی آنکھوں سے سہی سلامت دیکھ وہ بنا مزید کوئی بات کیے واپس پلٹ گیا تھا۔۔۔ زوہان کی نظروں نے اُس کے منظر سے اوجھل ہوتے تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔
وہ چند پل کے لیے آژمیر کے حوالے سے نرم پڑا تھا۔۔۔ مگر اپنے بھیانک ماضی کا خیال آتے ہی اُس کے نقوش سختی سے تن گئے تھے۔۔۔
یہ وہی شخص تھا جو اُس کی ماں کے قاتل کو پناہ دیئے ہوئے تھا۔۔ وہ بھلا اِس انسان کے سامنے کیسے نرم پڑ سکتا تھا۔۔۔ جو اُس کی تکلیف دیکھنے کے باوجود اُس کے آگے ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔
ڈاکٹر نے آکر زوہان کو گارڈ کے خطرے سے باہر ہونے کا بتایا تھا۔۔۔ اُس کے ڈرائیور کی ڈیڈ باڈی اُس کے گھر میں پہنچا دی گئی تھی۔۔۔ زوہان لہو رنگ آنکھیں لیے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
چاہے جو بھی ہوتا۔۔۔ خسارہ ہمیشہ اُسی کی قسمت میں لکھا ہوتا تھا۔۔۔۔
وہ ہر شے پر سمجھوتا کرسکتا تھا۔۔۔۔ چاہے اُس سے سب کچھ چھین لیا جاتا وہ رہ لیتا۔۔۔ مگر زنیشہ میران کے بغیر وہ نہیں رہ سکتا تھا اب۔۔۔۔ اور نہ کسی کو اِتنی پاور دینے والا تھا کہ کوئی اُس سے زنیشہ میران کو چھینتا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“میری جان ابھی آژمیر سے بات ہوئی میری۔۔۔۔ زوہان بالکل ٹھیک ہے۔۔۔”
زنیشہ نے ہوش میں آتے ہی زوہان کو پکارنا شروع کردیا تھا۔۔۔ اُس کی زوہان کے لیے ایسی دیوانگی دیکھ وہاں موجود گھر کے سبھی افراد حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوئے تھے۔۔۔
زنیشہ اِس قدر چاہتی تھی زوہان کو کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔
وہ کسی کے بھی بتانے پر یقین نہیں کررہی تھی۔۔۔ وہ زوہان سے ملنا اور اپنی آنکھوں سے اُسے دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
زوہان کو کال کرنے کے لیے اُس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اُٹھایا تھا۔۔۔ وہاں حاکم کی جانب سے موصول ہوا نوٹیفیکیشن دیکھ۔۔۔ ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے زنیشہ نے وہ اوپن کیا تھا۔۔۔ جہاں جگمگاتی تصویر اُس کو بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔
“کیا ہوا زنیشہ تم ٹھیک ہو؟؟؟”
فریجہ اُسے اچانک روتے سے مسکراتا دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔۔۔۔
باقی سب نے بھی حیرت بھری نظروں سے زنیشہ کو دیکھا تھا۔۔۔ جس پر زنیشہ نے مسکراتے موبائل کی سکرین اُن سب کی جانب موڑ دی تھی۔۔۔ جہاں حاکم نے اُن دونوں کا گلے لگنے والا لمحہ قید کرکے زنیشہ کو سینڈ کیا ہوا تھا۔۔
“مطلب اِن دونوں کی صلح ہوگئی۔۔۔؟؟؟”
حمیرا بیگم خوشی سے بول بھی نہیں پائی تھیں۔۔۔
“صلح نہیں ہوئی۔۔۔۔ یہ صرف اتنی دیر کے لیے ہی تھا۔۔۔ “
کمرے میں داخل ہوتے حاشر نے سب کی خوش فہمی پر پانی پھیر دیا تھا۔۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔ اگر اتنی تبدیلی آئی ہے۔۔۔ تو میرا پروردگار اِن دونوں کے دل ایک دوسرے کے لیے مزید نرم بھی کردے گا۔۔۔۔”
شمسہ بیگم پراُمید لہجے میں بولتیں باقی سب کا بھی حوصلہ بڑھا گئی تھیں۔۔۔
موبائل سکرین سینے سے لگاتے زنیشہ نے آسودگی سے آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔ اب وہ اِن دونوں کو قریب لاکر ہی سکون سے بیٹھنے والی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ کو مایوں بیٹھا دیا گیا تھا۔۔۔ وہ ایک بار زوہان سے ملنا چاہتی تھی۔۔ مگر گھر میں شادی کا جو ماحول بنا ہوا تھا۔۔۔ اُس کے بعد تو زوہان سے ملنا ویسے ہی اُس کے لیے مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔
نجانے کتنی بار وہ اُسے کال کر چکی تھی۔۔۔ جو وہ کھڑوس شخص اٹینڈ کرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
باقی سب لڑکیاں بھی اِس وقت پوری تیاری کے ساتھ اُس کے کمرے میں موجود تھیں۔۔۔ نیچے فنکشن کی ارینجمنٹ کی جاچکی تھیں۔۔۔ یہ فنکشن خاص طور پر عورتوں کا تھا اِس لیے مرد حضرات اپنی الگ محفل سجائے باہر لان میں تشریف فرما تھے۔۔۔
“صدف پلیز میری ہیلپ کردو۔۔۔ میں اِن میں سے کونسے ائیرنگز پہنوں۔۔۔ کونسے والے سوٹ کریں گے مجھے۔۔۔۔ اور آژمیر کو مجھ پر اچھے بھی لگیں گے۔۔۔۔”
زنیشہ کے روم میں داخل ہوتی حاعفہ کے کانوں میں سویرا کا جملہ پڑتا اُسے بے چین کرگیا تھا۔۔۔ وہ جب سے آئی تھی۔۔۔ اِس لڑکی کے منہ سے ہر وقت آژمیر کا نام سن کر بہت خوفزدہ ہوچکی تھی۔۔۔ اگر آژمیر بھی اِسے ایسے ہی چاہتا ہوا تو؟؟؟؟
اِس سے آگے وہ کچھ سوچ بھی نہیں پاتی تھی۔۔۔۔
حاعفہ نے ایک نظر لہنگے ميں ملبوس سویرا پر ڈالی تھی۔۔۔ جو فل میک اپ اور پھولوں کا زیور پہنے تمام ہتھیاروں سے لیس کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
حاعفہ سب کے فورس کرنے کے باوجود نہایت ہی سادہ لباس میں ملبوس لپسٹک تک سے عاری تھی۔۔۔
اُس کی آژمیر سے سامنے کرنے کے خیال سے ہی جان نکل رہی تھی۔۔۔ تیار ہوکر وہ اُس کے غصے کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
زنیشہ اور اُس کے ساتھ بیٹھی ماورا نے ایک نارضگی بھری نظر حاعفہ کے حلیے پر ڈالی تھی۔۔۔
“حاعفہ میں آپ سے بالکل بھی بات نہیں کرنے والی اب۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے بالکل بھی ٹھیک نہیں کیا۔۔۔۔”
زنیشہ کی بات پر اپنی سوچوں سے نکلتے حاعفہ اُس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔۔
“کک۔۔۔ کیوں کیا ہوا؟؟؟؟”
حاعفہ ایک دم گھبرا گئی تھی۔۔۔
“آپ جو میرے ساتھ یہ سوتیلوں والا سلوک کررہی ہیں اُس کے لیے۔۔۔۔ “
زنیشہ کی بات کا مطلب سمجھتی حاعفہ مسکرا دی تھی۔۔۔
“آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ پر آئی پرامس کل ضرور تیار ہونگی جیسا تم چاہو گی۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کا ہاتھ تھامے نرمی سے مسکرائی تھی۔۔۔
مگر زنیشہ اُس کا کوئی ایکسکیوز سننے کو تیار نہیں تھی۔۔۔
پہلے دن سے ہی زنیشہ کو دھیمے مزاج کی نرم خو سی حاعفہ بہت پسند آئی تھی۔۔۔ وہ اپنے باپ کی اتنی زیادتیوں کے باوجود میران پیلس کے افراد کے لیے دل میں بے پناہ محبت رکھتی تھی۔۔۔ وہ سب کا بہت اچھے سے خیال رکھ رہی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کو وہ آژمیر کے لیے بہت زیادہ پسند آئی تھی۔۔۔ مگر وہ ابھی اپنی اِس خواہش کا اظہار کسی کے آگے بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
“آپی۔۔۔ یہ کیا کررہی ہیں آپ؟؟؟۔۔۔ اپنا ہی شوہر ٹرے میں سجا کر کسی اور کے آگے پیش کررہی ہیں۔۔۔۔ دیکھیں زرا اِس چڑیل کو کیسے آپ کے شوہر کے لیے سج سنور کر اُچھلتی پھر رہی ہے۔۔۔ اور آپ ہیں۔۔۔ جو اِس بات کا قانونی اور شرعی حق رکھتی ہیں۔۔۔ وہ ایسا کچھ نہیں کررہیں۔۔۔ کیا آپ چاہتی ہیں کہ آژمیر بھائی آپ کی جانب سے پوری طرح منہ موڑ کر اِس لڑکی کی جانب متوجہ ہوجائیں۔۔۔۔”
زنیشہ کو اندر آتی شمسہ بیگم کی جانب متوجہ ہوتا دیکھ ماورا نے حاعفہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔۔۔۔
“ماورا جیسا تم سمجھ رہی ہو سب کچھ اُتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔ آژمیر مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔ جو کچھ میں اُن کے ساتھ کرچکی ہوں اُس کے بعد میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے وہ۔۔۔۔ اور تم چاہتی ہو۔۔۔ میں تیار ہوکر اُن کے سامنے جاؤں۔۔۔ تاکہ اُن کا غصہ مزید بھڑک اُٹھے۔۔۔۔”
حاعفہ نے اپنے اندر کا خوف ماورا کے سامنے بیان کردیا تھا۔۔۔۔
“اُف اوہ آپی۔۔۔۔ آپ ہمیشہ ایکسٹرا کیوں سوچتی ہیں؟؟ ہمیشہ میں نے آپ کی بات مانی ہے۔۔۔۔ پلیز آج میری سن لیں۔۔۔۔ ایک بار سوچیں ذرا۔۔۔ جو شخص آپ کے سادگی بھرے حلیے پر فدا ہوا ہے۔۔۔۔ وہ آپ کا وہ ہوشربا حُسن دیکھ کر اپنا غصہ کیسے برقرار رکھ پائے گا۔۔۔۔ پلیز ایک بار مان لیں نا میری۔۔۔۔ “
ماورا بضد ہوئی تھی۔۔۔
“ماورا۔۔۔۔۔ تم نہیں جانتی اُنہیں۔۔۔۔ اُن کا غصہ بہت غضب ناک ہوتا ہے۔۔۔۔۔”
حاعفہ گزری ملاقاتیں یاد کرتی کپکپاتے لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“دی گریٹ حاعفہ نور کو اپنے شوہر نامدار سے اِس طرح خوفزدہ ہوتے اور اُن کے ذکر پر لرزتے کانپتے دیکھ بہت اچھا لگا۔۔۔ مگر میری مان لیں۔۔ مزید اچھا ہوگا۔۔۔۔ کیوں تائی جان۔۔۔ حاعفہ آپی کو بھی باقی سب کی طرح تیار ہونا چاہیے نا۔۔۔۔ آپ کہیں نا اِن سے میری تو سن ہی نہیں رہی ہیں۔۔۔۔”
ماورا اُسے چھیڑنے کے ساتھ ساتھ شمسہ بیگم کو بھی اپنی جانب متوجہ کرچکی تھیں۔۔۔
“ارے حاعفہ بیٹا آپ تیار کیوں نہیں ہوئیں ابھی تک؟؟… نیچے فنکشن شروع ہونے والا ہے۔۔۔ “
شمسہ بیگم حاعفہ کی اِس تیاری کو کسی خاطر میں لائے بغیر بیوٹیشن کی جانب اشارہ کر چکی تھیں۔۔۔ اُنہوں نے گھر کی باقی لڑکیوں کے ساتھ حاعفہ اور ماورا کے بھی ڈریسز تیار کروائے تھے۔۔۔۔
حاعفہ کے نہ نہ کرنے کے باوجود۔۔۔ اُس کو اُن تینوں خواتین نے مل کر تیار کیا تھا۔۔۔۔
اورینج اور ریڈ کمبینیشن کی شارٹ چولی اور زمین کو چھوتا ملٹی شیڈڈ لہنگا پہنے وہ نازک سی گڑیا جیسی بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔
پھولوں کے زیور اور ماتھا پٹی لگائے۔۔۔ مایوں کے لائٹ میک اپ میں۔۔۔۔ اپنے گھنے بالوں کو کرل کرکے کھلا چھوڑ رکھا تھا۔۔۔۔ دونوں کلائیاں گجرے اور کانچ کی ریڈ چوڑیوں سے سجی ایک الگ ہی بہار پیش کررہی تھیں۔۔۔
ماورا کے بہت اصرار کے باوجود بھی اُس نے نیٹ کا پیلا دوپٹہ سر پر لے لیا تھا جو اُس کا ہوشربا حُسن چھپانے میں پوری طرح ناکام تھا۔۔۔
حاعفہ اب پورا ارادہ کر چکی تھی۔۔۔ کہ آژمیر کے آتے ہی وہ اپنے کمرے میں چھپ جائے گی۔۔۔۔ وہ اُس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“حاعفہ بیٹا۔۔۔ زرا یہ میٹھائی کی ٹوکری تو وہاں ٹیبل پر رکھ آئیں۔۔۔۔”
مایوں کا فنکشن شروع ہوچکا تھا۔۔۔ پھولوں سے سجے جھولے پر ییلو لہنگے میں مایوں کی دلہن بنی زنیشہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ موتیوں کے پھولوں سے بالوں کی خوشبوئیں بکھیرتی چٹیا گوندھ کر آگے ایک طرف ڈالے۔۔۔۔ چہرے پر شرمیلی مسکان اور آنکھوں میں اُس ستمگر کا احساس لیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ اُس پر بہت رُوپ آیا تھا۔۔۔۔۔ شمسہ بیگم نجانے کتنی بار اُس کی نظر اُتار چکی تھیں۔۔۔
“ویسے زوہان بھائی کا بھی حق بنتا ہے تمہیں اِس رُوپ میں دیکھنے کا۔۔۔۔ مایوں کی ہی سہی مگر دلہن تو اُن کی ہی ہو نا۔۔۔۔”
ماورا زنیشہ کی کیفیت سے حظ اُٹھاتے شرارتی لہجے میں بولی۔۔۔
“خبردار ایسا کچھ سوچا بھی تو۔۔۔۔۔”
زنیشہ اُسے تیز نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔
وہ کچھ دنوں میں ہی ماورا کے شوخ و شریر مزاج سے واقف ہوچکی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ آپ دونوں کا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ آپ دونوں تو ایسے ڈرتی ہو اپنے شوہروں سے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ خون پینے والے جانور ہیں۔۔۔۔”
ماورا زنیشہ کے پاس سے اُٹھتی دائیں جانب کھڑی حاعفہ سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔
“خبردار۔۔۔ اُن کے بارے آئندہ ایسا کوئی فضول استعمال کیا تو۔۔۔۔”
آژمیر کو اتنا غلط بولے جانے پر حاعفہ بھڑکی تھی۔۔۔ جس کے جواب میں ماورا اپنی ہنسی نہیں روک پائی تھی۔۔۔
“اور دونوں دیوانی بھی ہو۔۔۔۔”
ماورا اُسے مزید چڑھاتی وہاں سے کھسک گئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ بے چینی سے اِدھر اُدھر دیکھتی ایک کونے میں آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ آژمیر ابھی تھوڑی دیر میں پہنچنے والا تھا۔۔۔ جس کے ساتھ ہی لمحہ با لمحہ حاعفہ کی دھڑکنیں بھی رفتار پکڑ رہی تھیں۔۔۔
“حاعفہ بیٹا۔۔۔۔”
اُس نے ہال سے فرار ہونے کا سوچا ہی تھا۔۔۔ جب حمیرا بیگم کی پکار اُس کے قدم وہیں روک گئی تھی۔۔۔
“حاعفہ بیٹا یہ میٹھائی تو وہاں زنیشہ کے پاس ٹیبل پر رکھ دیں۔۔۔ اور ساتھ ہی وہاں پڑے پھول بھی ٹھیک کر دیجیے گا۔۔۔۔ “
حمیرا بیگم کے ہاتھ سے ٹوکری پکڑتے ناچار اُسے اُس طرف جانا پڑا تھا۔۔۔
حاعفہ ابھی ٹوکری رکھنے کے لیے جھکی ہی تھی۔۔۔ جب اُس کے کانوں میں پڑتی حاشر کی چہکتی آواز اُس کے ہوش اُڑا گئی تھی۔۔۔
“آژمیر لالہ آگئے ہیں۔۔۔۔”
حاعفہ ٹیبل پر جھکی اُسی پوزیشن میں اپنی جگہ جم سی گئی تھی۔۔۔ اُسے اپنے دل کی دھڑکنیں ڈھولک پر بجتے گانوں سے زیادہ اونچی سنائی دینے لگی تھیں۔۔۔
کیونکہ آژمیر قاسم صاحب کے ساتھ وہاں ہال میں داخل ہوچکا تھا۔۔۔ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا حاعفہ کے پاس۔۔۔۔
“کیسی ہے میری گڑیا؟؟؟؟”
نہایت قریب سے سنائی دیتی آژمیر کی گھمبیر بھاری آواز اُس کی حالت غیر کر گئی تھی۔۔۔ مٹھائی کی ٹوکری چھوٹ کر ٹیبل پر جاگری تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔