No Download Link
Rate this Novel
Episode 50
حاعفہ نے نوٹ کیا تھا کہ اُس کے آنے کے بعد آژمیر نے ایک کے بعد دوسری نگاہ نہیں ڈالی تھی اُس پر۔۔۔۔ ایک تو اُسے سویرا کو آژمیر کے ساتھ بیٹھے دیکھنے پر غصہ تھا۔۔۔ اُوپر سے اُس کا اِس قدر اگنور کرنا حاعفہ کی آنکھوں میں نمی بھر گیا تھا۔۔۔۔
جسے چھپاتی وہ سر جھکا گئی تھی۔۔۔۔
“واؤ آج تو بڑی محفل سجی ہوئی ہے ناشتے پے۔۔۔۔۔”
حاشر حاعفہ کے ساتھ پڑی خالی کرسی پر آن بیٹھتا خوشگوار لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔
“میرے لالہ کی پرسنیلٹی ہی اتنی جاندار ہے۔۔۔۔ جہاں آجائیں وہاں محفل سج ہی جاتی ہے۔۔۔۔۔ “
جواب زنیشہ کی جانب سے آیا تھا۔۔۔ جو آج کچھ الگ ہی خوشی سے چہک رہی تھی۔۔۔۔ جو بات سب نے ہی نوٹ کی تھی۔۔۔
“لگتا ہے میرے خون پسینے سے ارینج کی گئی کل کی دونوں ڈیٹس ہی کامیاب گئی ہیں۔۔۔۔ چہروں پر چھائی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی۔۔۔۔۔”
ماورا زنیشہ کے کان میں سرگوشی کرتے بولی۔۔۔۔
“ڈیٹ کی بچی۔۔۔۔۔۔ جو تم نے کل کیا ہے۔۔۔ اُس کا بدلہ تو میں ضرور لوٹاؤں گی۔۔۔۔ تمہاری ڈیٹ ارینج کرکے۔۔۔۔۔ آج صبح ہمارے اُٹھنے سے پہلے ہی تم کمرے سے نکل گئی ورنہ آج ہمارے ہاتھوں تمہاری درگت بننا یقینی تھا۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُسے مصنوعی گھوری سے نوازتے دھمکی دی تھی۔۔۔
“اماں سائیں۔۔۔۔ وہ کنیز آنٹی کیا کہہ رہی تھیں کل آپ کو۔۔۔۔ اُنہیں ماورا پسند آئی ہے اُن کے بیٹے کے لیے۔۔۔ اور وہ جلد از جلد رشتے کے لیے آنا چاہتی ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ نے مزے لیتے جو بات کہی تھی، وہ ماورا کے سر پر ایک زوردار بم کی طرح پھوٹی تھی۔۔۔۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ اور حاعفہ کو بھی اِس معاملے میں کافی حد تک رضامند دیکھ ماورا کے چھکے چھوٹ چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بے بسی سے موبائل فون کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ جب سے میران پیلس آئی تھی۔۔۔ نجانے کتنی بار منہاج کا نمبر ملا چکی تھی۔۔۔ مگر ہر بار وہ آف ہی مل رہا تھا۔۔۔
ماورا سب کے سامنے ہنسی کھیلتی اپنے اندر کتنی بڑی تکلیف چھپائے ہوئے تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
وہ حاعفہ کو اتنے عرصے بعد۔۔۔۔ یا شاید اب تک کی زندگی میں پہلی بار اتنا خوش اور آسودہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ اُسے ایک بار پھر اپنی وجہ سے پریشانیوں میں نہیں دھکیلنا چاہتی تھی۔۔۔۔ اِس لیے اُس کے سامنے زیادہ سے زیادہ خوش رہنے کی کوشش کرتی تھی۔۔۔۔۔
لیکن اب جو سر پر نئی تلوار لٹکنے لگی تھی۔۔۔ اِس نے اُسے بے چین کرکے رکھ دیا تھا۔۔۔۔
اب اُسے جلد از جلد منہاج سے رابطہ کرنا تھا۔۔۔
@@@@@@@@@@
“بابا اتنے دن گزر چکے ہیں اور آپ اب تک اُس کا پتا نہیں لگوا پائے۔۔۔ پلیز بابا وہ میرے لیے بہت امپورٹنٹ ہے۔۔۔۔ میں اُس کے بغیر نہیں رہ پاؤں گا بابا پلیز۔۔۔۔ ڈو سمتھنگ۔۔۔۔۔ میں جلد از جلد واپس آنے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔۔ مگر میں تب تک کے لیے بھی ویٹ نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔ کہیں وہ کسی مشکل میں نہ ہو۔۔۔۔۔ میں اتنا تو جانتا ہوں کہ وہ کسی مجبوری کی وجہ سے ہی گئی ہے۔۔۔۔وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔۔۔ “
منہاج سمندر پار بیٹھا تڑپ رہا تھا۔۔۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی اُڑ کر یہاں پہنچ جائے۔۔۔۔ اور اپنی قیمتی متاع کو کہیں سے بھی ڈھونڈ نکالے جو نجانے اچانک کہاں کھو گئی تھی۔۔۔۔۔
ہمیشہ سے اُس نے سنا تھا کہ سچی محبت اتنی آسانی سے کبھی نہیں ملتی تھی۔۔۔۔ اِس بات کی سچائی اُسے آج سمجھ آرہی تھی۔۔۔۔ ماورا اُس کی ہوکر بھی اُس کے پاس نہیں تھی۔۔۔۔ اُس نے اپنی محبت کو پاکر کھو دیا تھا۔۔۔۔
اُسے یہی لگ رہا تھا کہ اُس نے محبت میں جتنا ماورا کو تڑپایا تھا اب قدرت اُس سے، اُن سب باتوں کا انتقام لے رہی تھی۔۔۔۔
“منہاج بیٹا کول ڈاؤن۔۔۔۔ میں نے پرامس کیا ہے نا آپ سے۔۔۔۔۔۔ میں اپنی بہو کو اِس گھر میں لاکر رہوں گا۔۔۔۔ “
شہاب درانی نے منہاج کو تسلی دینی چاہی تھی۔۔۔۔ وہ کسی قیمت پر اپنے بیٹے کی اکلوتی خوشی اُس سے دور نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔۔۔۔۔
مگر منہاج کا یہ جذباتی بن بھی اُنہیں پریشان کررہا تھا۔۔۔۔۔
“بابا کاش آپ میری تکلیف سمجھ پاتے۔۔۔۔ یہاں میرا ایک ایک سیکنڈ کس قدر اذیت میں گزر رہا ہے میں بتا نہیں سکتا۔۔۔۔”
منہاج اُن کا ایک بار پھر وہی تسلی بھرا جملہ سنتا افسردگی سے بول کر فون بند کر گیا تھا۔۔۔۔۔
“تمہارے بغیر اِس قدر بے چین اور پاگل ہوجاؤں گا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ اب احساس ہورہا ہے کہ کس قدر شدت سے چاہا ہے تمہیں۔۔۔ ایک بار مل جاؤ۔۔۔۔ پھر کبھی ایک سیکنڈ کے لیے بھی خود سے دور نہیں کروں گا۔۔۔۔۔”
منہاج خودکلامی کرتا کرسی کی پشت سے سر ٹکا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اُسے بس یہی فکر کھائے جارہی تھی کہ ماورا کسی پرابلم میں نہ ہو۔۔۔۔۔
اُسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کہ ماورا کو ڈھونڈے بغیر وہ یہاں آیا ہی کیوں تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“ارے پہلے بڑی بہن کی شادی ہوگی، اُس کے بعد چھوٹی کی۔۔۔۔۔ پہلے تو ہمیں حاعفہ کے لیے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈنا ہوگا۔۔۔۔”
حمیرا بیگم کی بات پر شمسہ بیگم نے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اِن لیڈیز کی باتوں پر بنا توجہ دیئے قاسم صاحب کے ساتھ آفس کے کوئی معاملات ڈسکس کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
شمسہ بیگم کو حاعفہ آژمیر کے لیے بہت پسند آئی تھی۔۔۔ یہ دھیمے نرم مزاج کی صابر سی لڑکی ہی اُن کے مشکل ترین بیٹے کو سنبھال سکتی تھی، اُسے سمجھ سکتی تھی۔۔۔۔۔
جس کے موڈ لمحے کے ساتھ بدلتے تھے۔۔۔۔ اور غصہ تو تقریباً ہر وقت ناک پر دھڑا رہتا تھا۔۔۔۔
لیکن شمسہ بیگم ابھی اِس بات سے انجان تھیں۔۔۔ کہ حاعفہ نہ صرف اُن کے بیٹے کو سمجھ چکی تھی بلکہ اُسے سنبھالنے کے لیے بھی دل و جان سے تیار تھی۔۔۔
“قاسم بھائی کیا خیال ہے اِس بارے میں آپ کا۔۔۔۔۔”
شمسہ بیگم نے جان بوجھ کر آژمیر کو متوجہ کرنے کے لیے قاسم صاحب کو مخاطب کیا تھا۔۔۔۔
“خیالات تو نیک ہی ہونے چاہییں۔۔۔ اور ساتھ میں قریب کی نظر بھی تیز ہونی چاہیئے۔۔۔۔”
حاشر نے پسندیدگی بھری نظروں سے حاعفہ کو دیکھتے لقمہ لگایا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کے غیر معمولی حُسن کی وجہ سے وہ تقریباً خاندان کے سبھی لڑکوں کی پسند بن چکی تھی۔۔۔۔ اور اب سب ہی اُسے حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔۔۔۔
“جسٹ سٹاپ اِٹ۔۔۔۔ یہ ڈائیننگ ٹیبل ہے کوئی میرج بیورو نہیں کہ سب رشتے کروانے والی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔۔۔ ابھی جس کی ہورہی ہے اُس کی آرام سکون سے ہونے دیں۔۔۔۔ باقیوں کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔۔۔”
آژمیر جس کے کانوں میں حاعفہ کو لے کر کب سے یہ ساری باتیں پڑ رہی تھیں۔۔۔ آخر کار اُس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔۔
جبکہ آژمیر کے اتنے شدید ری ایکشن اور ایک دم غصہ ہوجانے پر سب ایکدم گھبرا گئے تھے۔۔۔۔ سوائے حاعفہ کے۔۔۔۔۔ جو کب سے اِسی بات کا ویٹ کررہی تھی کہ آژمیر سب کو چپ کروائے گا۔۔۔۔۔
اُس نے آژمیر کے غصے سے لال چہرے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔ مضبوط سائبان اور تحفظ کا احساس کیسا ہوتا ہے۔۔۔ یہ آج حاعفہ نے محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔
“حاشر آؤ میرے ساتھ کچھ کام ہے تم سے۔۔۔۔۔”
آژمیر اپنی جگہ سے اُٹھتا، حاشر کا بھی ساتھ لے گیا تھا۔۔۔۔ جو اُس کی بیوی کے پاس بیٹھ کر اُسے گھور رہا تھا۔۔۔۔ اب کوئی نہیں جانتا تھا کہ حاشر کو اُس کی اِس گستاخی کی کیا سزا ملنے والی تھی۔۔۔ جو وہ انجانے میں کرگیا تھا۔۔۔
@@@@@@@@@@
“جی فرقان صاحب آپ اِس میٹنگ کو دو دن بعد کے لیے رکھ دیں۔۔۔ آج اور کل میں میرا آفس آنا پاسبل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ “
آژمیر فون پر بات کرتا اپنے روم سے نکل کر سٹڈی کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ جب اُس کی نگاہ سامنے کی جانب اُٹھی پھر واپس پلٹنا بھول چکی تھی۔۔۔۔ حاعفہ زرد رنگ کی سادہ سی شارٹ شرٹ اور کھلے پائنچوں والا ٹراؤزر پہنے، شرٹ کی سلیوز کو کہنیوں تک فولڈ کیے، دودھیا ہاتھوں کو بازوؤں تک فل مہندی سے بھرے وہ سادگی میں بھی قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔۔۔ سر پر اوڑھا دوپٹہ سلکی بالوں کی وجہ سے نیچے پھسل آیا تھا۔۔۔۔ جس میں سے جھانکتی اُس کی جوڑے میں مقید ناگن زلفیں آژمیر میران کو چاروں شانے چت کر گئی تھیں۔۔۔۔ اُسے حاعفہ کے بال بہت پسند تھے۔۔۔۔ جنہیں وہ ہر وقت اُس سے چھپا کر ہی رکھتی آئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ جو اپنے دھیان میں چلتی اُس کی جانب ہی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ کسی خیال کے زیرِ اثر اُس نے نگاہیں اُٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔۔۔ آژمیر کو وہاں کھڑا دیکھ اُس کے قدم اپنی جگہ پر ساکت ہوئے تھے۔۔۔۔
اُس نے ہڑبڑاہٹ میں دوپٹہ سر پر اوڑھنا چاہا تھا مگر پھر مہندی بھرے ہاتھوں کو بے بسی سے دیکھ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
وہ ماورا کی گھنٹوں کی محنت اِس طرح ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
آژمیر اُس کے قریب آچکا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ کی پلکیں گھبراہٹ کے زیرِ اثر کوشش کے باوجود دوبارہ نہیں اُٹھ پائی تھیں۔۔۔۔
آژمیر آگے بڑھا تھا اور جھک کر اُس کی دونوں کلائیوں سے اُٹھتی مہندی کی مسحور کن خوشبو سے اپنی سانسیں معطر کرتا اُسے اپنے قریب کر گیا تھا۔۔۔۔۔
اِس سے پہلے وہ کچھ بولتا عقب سے حاشر کی کمزور سی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
“لالہ نیچے سے ساری بکس اوپر شفٹ کردی ہیں۔۔۔۔ اب میں جاؤں۔۔۔۔۔”
حاشر آژمیر کے چوڑے وجود کے پیچھے چھپی حاعفہ کو نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔ اُس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔۔۔ اتنی ٹھنڈ میں بھی پوری طرح پسینے میں شرابور وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔۔
“آئندہ ایسی گستاخی ہوگی۔۔۔۔؟؟؟”
آژمیر حاعفہ کے چہرے پر پھسلی لٹ کو دیکھتا سرد لہجے میں حاشر سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔ حاعفہ کو لمحہ لگا تھا سمجھنے میں کہ حاشر کو کس بات کی سزا مل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کے ٹیبل پر اُس نے حاعفہ کے ساتھ جو فری ہونے کی کوشش کی تھی۔۔۔ اور جو اُلٹے سیدھے ڈائیلاگ مارے تھے۔۔۔ آژمیر کی جانب سے یہ اُن کا ری ٹرن تھا۔۔۔
حاشر کی شکل دیکھ حاعفہ کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ جسے اُس نے آژمیر سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے چہرا جھکا لیا تھا۔۔۔۔
“نہیں لالہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
حاشر منمنایا تھا۔۔۔۔ اب تو وہ ساری بات سے لاعلم ہوتے ہوئے بھی۔۔۔۔ حاعفہ کو بھابھی ہی بولنے والا تھا۔۔۔ کیونکہ آج تک آژمیر نے اتنا کنسرن کسی لڑکی کے لیے نہیں دیکھایا تھا۔۔۔ جتنا اُسے حاعفہ کے ساتھ حاشر کا یہ فضول باتیں کرنا بُرا لگا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے ہاتھ کے اشارے سے حاشر کا جانے کو بول دیا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ ابھی تک آژمیر کے سامنے اُسی پوزیشن میں کھڑی تھی۔۔۔۔۔
“کل زنیشہ کے ساتھ ساتھ تمہاری رخصتی بھی ہوگی تیار رہنا۔۔۔۔۔”
آژمیر بہت ہی پرسکون انداز میں اُس کے سر پر بم پھوڑتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ حاعفہ کے قریب سے اُٹھتی خوشبو اُسے بہکنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔
“کک کیا۔۔۔۔۔۔ کل رخصتی ۔۔۔۔ ؟”
حاعفہ کو یقین نہیں آیا تھا کہ جو اُس نے سنا ہے وہ سچ ہے یا اُس کا کوئی وہم۔۔۔۔۔۔
اُس کے سوال پر آژمیر واپس پلٹا تھا۔۔۔۔
اور حاعفہ کی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسے اپنے بے حد قریب کرگیا تھا۔۔۔۔
“کل تمہیں پوری طرح میری دسترس میں آنا ہوگا۔۔۔۔ اور اب تک جو جو کارنامے تم کرچکی ہو۔۔۔۔ ایک ایک کرکے اُن سب کا حساب دینا ہوگا۔۔۔۔۔ میری محبت اور غصے دونوں کی شدتوں کو سہنا ہوگا۔۔۔۔۔ میرے اندر بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنا ہوگا۔۔۔۔۔ میرے بے چین دل کا قرار بننا ہوگا۔۔۔۔۔ “
آژمیر اُس کے کان کی لوح کو ہونٹوں تلے دباتا، اُس کی گردن پر اپنا گہرا لمس چھوڑتا اُسے ابھی سے ہی اپنی شدتوں سے آگاہ کر گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ تو کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔ آژمیر میران جیسے مشکل بندے کی قربت برداشت کرنا بھی آسان نہیں تھا۔۔۔۔
حاعفہ آنے والے لمحوں کا سوچتی جی جان سے لرز اُٹھی تھی۔۔۔۔ اُس کے پورے وجود پر ابھی سے لرزا طاری ہوچکا تھا۔۔۔۔ اُس کے گلابی گال حیا اور گھبراہٹ سے تپ اُٹھے تھے۔۔۔۔
آژمیر گھر والوں کو کیسے بتانے والا تھا کیا کرنے والا تھا۔۔۔۔ اُسے کچھ اندازہ نہیں تھا۔۔۔ مگر اُسے اتنا پتا تھا کہ آژمیر اُس کے کردار پر کبھی کوئی بات نہیں آنے دیگا۔۔۔۔ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی بیوی کا سر نہیں جھکنے دے گا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
“مجھے ملک زوہان سے بات کرنی ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کو زوہان کا پرسنل نمبر آف ملا تھا۔۔۔ اِس لیے اُس نے زوہان کی پی اے کے نمبر پر کال کی تھی۔۔۔
“آئم سوری میم۔۔۔ مگر سر اِس وقت میٹنگ میں ہیں۔۔۔ مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کچھ گھنٹوں بعد کال لیجئے گا۔۔۔”
پی اے مصروف سے انداز میں جواب دیتی۔۔۔ زنیشہ کی اگلی بات سنے بغیر فون رکھ گئی تھی۔۔۔
جس بات نے زنیشہ کو مزید تپا دیا تھا۔۔۔۔
اُس نے دوبارہ کال ملائی تھی۔۔۔۔
“کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ اُن کی میٹنگ کس کے ساتھ چل رہی ہے۔۔۔۔؟”
زنیشہ نے دانت چبا کر بولتے اپنے لہجے کو مہذب رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
“ثمن خان کے ساتھ اگلے ایک بہت امپورٹنٹ پراجیکٹ کی ڈسکشن کررہے ہیں۔۔۔۔۔”
پی اے کے منہ سے نکلنے والے الفاظ زنیشہ کو آگ لگا گئے تھے۔۔۔۔ اُس نے فوراً سے کال کاٹتے، حاکم کا نمبر ملایا تھا۔۔۔۔۔
“اپنے سر سے بات کرواؤ میری ابھی اور اِسی وقت۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔۔ آج اُن کی مہندی تھی مگر اُس کے شوہر کو آج بھی اپنی میٹنگ عزیز تھیں۔۔۔۔ وہ بھی اُس لڑکی کے ساتھ جو دل و جان سے اُس کے شوہر پر فدا تھی۔۔۔۔
“اوکے میم۔۔۔۔۔”
حاکم کو پہلے ایک بار بات نہ کروانے کی وجہ سے زوہان سے ڈانٹ پر چکی تھی۔۔۔ اِس لیے وہ اب خاموشی سے اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
“سر زنیشہ میڈم کی کال ہے۔۔۔۔”
میٹنگ روم میں اِس وقت ثمن اور زوہان کے علاوہ پانچ لوگ اور بھی موجود تھے۔۔۔۔ زوہان حاکم کو یوں بیچ میں آکر ڈسٹرب کرنے پر گھور رہا تھا۔۔ جب اُس نے آگے سے زنیشہ کا فون پکڑا دیا تھا۔۔۔
“مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔ اُسی کی رخصتی کروائیں، جسے ہر وقت اپنے ساتھ لیے گھوم رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے کوئی اور بات کرنے کے لیے فون کیا تھا۔۔۔۔ مگر وہ غصے میں بول کچھ رہی تھی۔۔۔
“ایکسیوزمی۔۔۔۔۔۔”
زوہان میٹنگ سے کچھ وقت کی بریک لیتا باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
“کیا کہا تم نے؟؟؟؟ اب بولو زرا۔۔۔۔۔”
زوہان کی سنجیدہ آواز سپیکر سے اُبھری۔۔۔۔
اُس کے ورکرز کے سامنے شیرنی بنی ایک دم بھیگی بلی بنی تھی۔۔۔۔
“تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔ رئیلی؟؟؟؟”
زوہان نے اُس کی خاموشی پر اُس کی کہی بات دوہرائی تھی۔۔۔۔
“تو مطلب میں ثمن سے شادی کر لوں۔۔۔۔ یہ بھی اجازت دے دی ہے تم نے۔۔۔۔۔ ویسے بھی اُس سے دوسری شادی تو کرنی ہے تھی۔۔۔۔ تو کیوں نہ اب پہلی کرلوں۔۔۔۔ دوسری تم سے کرلوں گا۔۔۔۔”
زوہان اُس کی غصہ ضبط کرنے کی کوشش میں لیتی گہری گہری سانسوں کو سنتا زیرِ لب مسکرا دیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ میران بھی اُس کے لیے اتنی ہی پوزیسو تھی جتنا وہ پوزیسو تھا۔۔۔۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔”
اُس کے ایسے مذاق پر بھی زنیشہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔
“تم نے مجھے منانا تھا۔۔۔۔ مگر یہ سب کرکے تم مجھے مزید خفا کر رہی ہو۔۔۔۔”
زوہان نے اُسے یاد دلایا تھا۔۔۔۔
“مگر مجھے اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔ آپ کے لیے وہ لڑکی مجھ سے بڑھ کر ہے میں جان چکی ہوں۔۔۔۔”
زنیشہ روہانسے لہجے میں بولتی زوہان کی مسکراہٹ گہری کر گئی تھی۔۔۔۔
“کاش تم اِس وقت میرے قریب ہوتی تو میں تمہیں بتاتا تم کیا ہو میرے لیے۔۔۔۔”
زوہان کے گھمبیر بھاری لہجے میں ادا کیے جانے والے جملے پر زنیشہ کی ہتھیلیاں بھیگ گئی تھیں۔۔۔۔
“وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کو ثمن کا زوہان کے ساتھ رہنا اِسی وجہ سے ہضم نہیں ہوتا تھا۔۔۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔”
زوہان نے مختصراً جواب دیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ اِس وقت اُس سے جو وضاحت مانگ رہی تھی۔۔۔ زوہان جان بوجھ کر اُسے وہ دینے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔ اُسے زنیشہ کا یہ جیلسی بھرا انداز بہت مزا دے رہا تھا۔۔۔
“مجھے اب آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔ آپ بہت بُرے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ شدید ناراضگی کا اظہار کرتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔۔
“میری معصوم سی بیوی تو شدت پسندی میں مجھ سے بھی آگے نکل گئی ہے۔۔۔۔۔۔”
زوہان زیرِ لب مسکراتا آفس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@@
مہندی کا فنکشن بھی میران پیلس کے بڑے سے لان میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔۔۔۔ ہر طرف سجی برقی قمقموں اور زرد پھولوں نے ایک سماں باندھ رکھا تھا۔۔۔
تقریب کے لیے تقریباً سارے انتظامات مکمل کردیئے گئے تھے۔۔۔۔ زنیشہ حاعفہ کے ساتھ پارلر تیار ہونے گئی تھی۔۔۔۔
مہمان آہستہ آہستہ آنا شروع ہوچکے تھے۔۔۔۔
گھر کے تمام افراد وہاں پر موجود آنے والوں کا خوشدلی سے استقبال کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔
“حمیرا زرا پتا تو کرواؤ۔۔۔۔ زنیشہ اور حاعفہ کب تک پہنچیں گی۔۔۔۔۔ ابھی تک تو اُنہوں نے آجانا تھا۔۔۔۔ اتنی لیٹ کیوں ہوگئیں۔۔۔۔ کہا بھی تھا بیوٹیشن کو یہیں بلوا لیں۔۔۔ مگر یہ لڑکی میری سنتی کہاں ہے۔۔۔۔”
شمسہ بیگم حمیرا بیگم کے پاس آتی فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔۔
ابھی کچھ دیر میں زوہان اور نفیسہ بیگم بھی مہندی لے کر اپنے دوست احباب کے ساتھ وہاں پہنچنے والے تھے۔۔۔
“بھابھی پریشان نہ ہوں میں کال کرتی ہوں۔۔۔ ویسے بھی اتنے سارے سیکیورٹی گارڈز ہیں تو سہی اُن کے ساتھ۔۔۔۔۔ اللہ سب خیر کرے گا۔۔۔۔”
حمیرا بیگم اُنہیں تسلی دے کر زنیشہ کا نمبر ملاتیں دوسری جانب بڑھ گئی تھیں۔۔۔۔
“بھابھی نمبر نہیں مل رہا دونوں کا۔۔۔۔۔”
حمیرا بیگم بھی اب شدید پریشانی کا شکار اُن کے قریب آئی تھیں۔۔۔۔
شمسہ بیگم کے بلانے پر قاسم صاحب بھی وہاں آچکے تھے۔۔۔۔ کسی گارڈ کا نمبر بھی نہیں مل رہا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے اب سب کے چہروں پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔۔۔۔
مہندی آچکی تھی مگر کسی کو پریشانی میں اُن کا ویلکم کرنے کا ہوش ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
“زنیشہ کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟”
زوہان کے کانوں تک بھی اِس بات کی بھنک پڑ چکی تھی۔۔۔ وہ ضبط سے لال ہوتی آنکھوں کے ساتھ سختی سے مُٹھیاں بھینچے اُن کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
جو بات اُسے پتا چلی تھی اُس نے زوہان کی سانسیں چھین لی تھیں۔۔۔
اُس کی زنیشہ مسنگ تھی۔۔۔۔ اُس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔۔۔۔۔
“وہ آژمیر لالہ آگئے۔۔۔۔”
حاشر کی نظر اندر داخل ہوتے آژمیر پر پڑی تھی۔۔۔۔
آژمیر کو بھی اُن دونوں کی گمشدگی کی خبر مل چکی تھی۔۔۔۔
“آپ لوگ اِس سچویشن میں اُن دونوں کو مجھ سے پوچھے بغیر یوں بھیجنے کی غلطی کیسے کرسکتے ہیں۔۔۔۔ اُن دونوں کو اگر زرا سی خراش بھی آئی تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔”
وہ لہو رنگ آنکھوں اور پتھریلے تاثرات کے ساتھ سب پر ایک سخت نگاہ ڈالتا رُخ موڑ گیا تھا۔۔۔
جبکہ زوہان کا بس نہیں چل رہاہ تھا کہ پورے میران پیلس کو اُن کے مکینوں سمیت آگ لگا دیے۔۔۔۔ جو اُس کی زنیشہ کے حوالے سے اتنی لاپرواہی برت چکے تھے۔۔۔
اُن کی حالت ہی اِس وقت قابلے رحم تھی۔۔۔۔ کیونکہ اِس وقت اُن کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہ یہاں کھڑے رہ کر کسی بُری خبر کا انتظار نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔ ابھی اُنہیں نے باہر کی جانب قدم بڑھاتے ہی تھے۔۔۔۔ جب سامنے سے آتے فیصل کو دیکھ وہ دونوں اپنی جگہ ساکت ہوئے تھے۔۔۔۔
“فیصل۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
آژمیر نے سوالیہ نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جس کی جھکی نگاہیں کچھ غلط ہونے کا پیغام دے رہی تھیّ۔۔
“سائیں۔۔۔۔ وہ سیکیورٹی خدشات کے تحت۔۔۔۔ زنیشہ بی بی جی اور حاعفہ بی بی جی کو الگ الگ گاڑیوں میں یہاں واپس لایا جارہا تھا۔۔۔۔”
فیصل سے اپنے مالک کی اذیت کا سوچ کر اگلا جملہ ادا کرنا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔
باقی سب کی سانسیں رک سی گئی تھیں۔۔
“اکرام حنیف کے آدمیوں نے دونوں گاڑیوں پر حملہ کرکے زنیشہ بی بی جی کو اغوا کر لیا ہے۔۔۔۔ اور حاعفہ بی بی جی جس گاڑی میں تھیں۔۔۔ وہ تباہ کردی گئی ہے۔۔۔۔ ابھی ہمارے آدمی اُس تباہ کن ملبے سے باڈی پارٹس ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔۔”
فیصل کے الفاظ قیامت بن کر ٹوٹے تھے اُن سب پر۔۔۔۔ قاسم صاحب سکتے کے عالم میں یہ سب دیکھ سن رہے تھے۔۔۔۔ جبکہ باقی سب کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔
فیصل کے الفاظ نے آژمیر کے جسم سے روح کھینچ لی تھی۔۔۔۔
مگر اُس نے آگے بڑھتے ایک زناٹے دار تھپڑ فیصل کے منہ پر رسید کیا تھا۔۔۔۔ جس سے فیصل لڑکھڑا کر پیچھے جاگرا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
