No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
“زز-زویا زوراشہ۔۔۔۔۔”
زوربینہ ہکلاتے ہوئے قدم پیچھے لینے لگی کہ اپنا دوپٹہ کندھوں سے ڈھلکتا پیروں میں اٹکنے کی وجہ سے وہ گرتے گرتے بچی تھی جبکہ نظر زویا کے ہاتھ میں موجود گن پر تھی
“آپ جیسی ماں ماں کہلانے کے قابل ہی نہیں تھو ہے آپ پر اس دن ہر جس دن آپ جیسی عورت نے مجھے جنم دیا۔۔۔۔۔”
زویا گن کا رخ اس کی جانب کئیے سرخ آنکھوں سے بولی تھی
“ہہ-ہم کو معاف کر دے مم-میں تیرا ماں ہے۔۔۔۔”
زربینہ کانپتے دل کے ساتھ ہاتھ جوڑتے بولی
“وہی ماں جس نے میرا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی مجھ سے چھین لیا ہاں۔۔۔۔۔”
زویا حلق کے بل چلائی تھی اپنے بچے کے یوں کھونے پر اس کے آنسوؤں بےاختیار آنکھوں سے نکلے تھے زوراشہ نے زویا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے سر اثبات میں ہلایا تھا جس نے بےدردی سے آنسووں کو رگڑتے دوبارہ سے گن کو دونوں ہاتھوں میں تھاما تھا اور زربینہ کو دیکھا جو ہاتھ جوڑتی اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی لیکن اسے اس کے گڑگڑانے کا رتی برابر فرق نا پڑ رہا تھا
“یہ میرے بچے کے لیے۔۔۔۔۔۔”
وہ بولتے ہوئے گن چلا گئی تھی اور گولی کے گونجتے ہی زربینہ کی چینخ بھی گونجی تھی اور اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا جہاں برق رفتار سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا
“یہ برسوں پہلے تم لوگوں کے کئیے ستم کے لیے۔۔۔۔”
زویا نے ایک اور گولی چلائی تھی جو کہ اس کے دل کے مقام پر لگی تھی زربینہ زمین پر گرتی چلی گئی تھی
“یہ گولی بدقسمتی سے تمہاری بیٹی ہونے کے لیے ۔۔۔۔”
زویا آنسوؤں کے باعث دھندھلائی آنکھوں سے گولی چلاتے بھرائی آواز میں بولی زربینہ کو یوں تڑپتے دیکھ زویا نے گن والا ہاتھ نیچے کیا اور گرفت ڈھیلی کی کہ گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گری تھی
زوراشہ ہاتھ میں کچھ پیپرز تھامے آگے گئی اور نیچے بیٹھتی ان پیپرز کو گول کئیے اس کا منہ زبردستی کھولے اس میں ٹھونسنے لگی تھی
“لے لو تمام جائیداد جس کے لیے تم لوگون نے اتنی خون بہائے دفن ہو جاو اس میں گھٹیا عورت تم عورت کے نام پر دھبا ہو یہ لے لو جس کے لیے تم نے ہم سے ہماری خوشیاں چھینی۔۔۔۔”
زوراشہ بھی اپنے تمام بدلے پورے کرنے پر تھی اور پھر ایک قہر برساتی نظر سے اس کے مردہ وجود کو دیکھا جو چند سیکنڈ پہلے ہی مردہ ہو گیا تھا اور پھر زویا کے پاس آئی
“چلو زویا مورے گاڑی میں ہماری منتظر ہو گی ۔۔۔”
زوراشہ زویا کا ہاتھ پکڑتے بولی اور دونوں حویلی سے نکلتی گاڑی میں بیٹھیں تھی گاڑی کے تھوڑا سا دور ہوتے ہی حویلی سے دھواں اٹھنے لگا تھا اور چند ہی سیکنڈ میں آگ نے اس حویلی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا حویلی کے ملازمین کو وہ لوگ پہلے ہی وہاں سے نکال چکے تھے وہ اس حویلی کو خاکستر کر دینا چاہتے تھے اور وہ ہو بھی رہی تھی
………………………………
“دلاور جلدی کر ہمارے پاس وقت نہیں وہ پٹھان کا بچہ ہمارے تک کبھی بھی پہنچتا ہو گا۔۔۔۔۔”
بہروز خان اپنے بھائی دلاور خان سے کہا جو خود کے سر پر جعلی بال سیٹ کر رہا تھا وہاں سے فرار ہونے کے بعد بہروز سیدھا دلاور کے پاس آیا تھا اب ان کا ارادہ اپنا بھیس بدل کر یہاں سے نکلنے کا تھا
وہ دونوں ایک دو بیگ اٹھائے باہر کی جانب ہڑبڑی میں بھاگے تھے لیکن دروازہ کھولتے ہی انہیں خود پر آسمان گرتا محسوس ہوا تھا زمین جیسے پیروں تلے سے کھسک گئی ہو دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو سہارا دیا تھا ورنہ دونوں زمین بوس ہو جاتے
“واہ موسیٰ موٹے پٹھان تمہارا باپ تو پہچاننے میں نہیں آ رہا۔۔۔۔”
داود نے دیوار سے ٹیک لگائے بڑے دلچسپ انداز میں پٹھان سے کہا دو دروازے سے ٹیک لگائے خود بھی دلچسپی سے ان کے بدلے حلیے کو دیکھ رہا تھا
“ہاں میں بھی وہی دیکھ رہا ہوں دلاور خان کو تو دیکھو زرا ہاہاہاہا اس کے بال۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کے بالوں کو دیکھتے ہاتھ پر ہاتھ مارے زور سے ہنسا تو دلاور کے بال دیکھتے داود اور بہرام کی بھی ہنسی نکلی تھی
“کیا لگا تھا تم لوگوں کو تم لوگ یہاں سے فرار ہو جاو گے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلے گا اتنا بچہ سمجھا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان گھر کے اندر داخل ہوتے بولا جبکہ وہ دونوں ان کے اپنی جانب بڑھتے قدم دیکھتے اپنے قدم پیچھے لیے تھے
“ارے کنفیوز کیوں ہوتا ہے ہم سب بتاتا ہے نہ بڑا دلچسپ انٹرسٹنگ گیم تھا اس کا سٹوری بھی کلاسک سے بھی کلاسک ہے اور پٹھان۔۔۔۔”
داود نے ان دونوں سے بولتے واپس پلٹ کر پٹھان کو پکارا
“ہممم۔۔۔۔”
“کیوں نہ اس سٹوری پر فلم بنایا جائے۔۔۔۔۔”
ان کی دل جلانے والی مسکراہٹ بہروز خان اور دلاور خان کا خون نچوڑ رہیں تھی
“اب تو فلم کا اینڈ ہے ولن کے مرنے کی باری ۔۔۔۔۔۔”
پٹھان نے بولتے بہروز خان کے منہ پر مکا جڑا تھا دلاور جو بھاگنے والا تھا بہرام نے اسے بیچ میں دبوچا تھا
“کدھر جاتا ہے تم اپنے بھائی کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔”
بہرام نے اسے ایسے پکڑا جیسے کسی معشوقا کو پکڑا ہو اور پھر پانچ منٹ بعد وہ دونوں کرسیوں سے بندھے ہوئے تھے
“اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف۔۔۔۔”
پٹھان نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا
“بہروز خان تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ تم میرے یعنی پٹھان کے چنگل سے اتنی آسانی سے فرار ہو گئے فرار ہوئے یا کروایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
پٹھان کے پرسوچ انداز میں کہی بات پر بہروز کے دماغ میں جھماکا ہوا تھا
“بڑھی ہڈیاں ہیں زیادہ زور مت ڈال بتا دے۔۔۔۔”
داود نے کچن سے نکلتا ایک پانی کی بوتل بہرام کو پکڑاتے جبکہ دوسری بوتل کا ڈھکن کھولتے بولا تھا
“تمہیں وہاں سے فرار کروانے میں میرا ہی ہاتھ تھا زوراشہ بھی ہمارے پلین کا ہی حصہ تھی ورنہ جس حقیقت جاننے کے بعد جس قدر اسے تم لوگوں سے نفرت ہو گئی تھی وہ تو پہلی نظر دیکھتے ہی تم لوگوں کی جان لے لیتی ۔۔۔۔۔”
بہروز کو اب احساس ہوا تھا کہ وہ پٹھان کے گھر سے پٹھان کی قید سے اتنی آسانی سے کیسے نکل گیا زوراشہ کو دو بار کہہ جانے پر وہ کیسے مان گئی اسے آزاد کرنے پر اور وہاں کوئی گارڈ بھی موجود نہ تھا تو یہ سازش تھی
“میں جانتا تھا تم وہاں سے فرار ہونے کے بعد سب سے پہلے دلاور خان سے ہی ملو گے ایک معاملے میں میں غلط ہو گیا تھا کہ دلاور خان ملک سے فرار ہو گیا ہے لیکن یہ کمبخت تو ملک میں ہی بیٹھا ہے البتہ ڈرگز میرے ہاتھ لگ گئیں تھی تو اندازہ ہوا کہ دلاور خان ضرور اسی ملک میں چھپا ہے تو کہاں چھپا ہے اب وہاں تک تو بہروز خان ہی پہنچا سکتا ہے اور ایسا ہی ہوا دیکھو ہم پہنچ گئے ۔۔۔۔”
پٹھان ہر بات سنجیدگی سے اور تحمل سے بتا رہا تھا جیسے اسے افسوس ہو کہ اس کے اپنے ہی اس کے دشمن ہیں اسے ایک بات کا افسوس تھا کاش وہ اس کی اولاد نہ ہوتا کاش وہ اس کا خون نہ ہوتا کاش یہ اس کا خاندان نہ ہوتا
“یوں زوراشہ حویلی میں پہنچ گئی اور وہاں سے دلاور خان کے کمرے سے تم لوگوں کی نازیبا تصویروں کے ساتھ ساتھ جائیداد کے اصل کاغذات بھی اٹھوا لئیے ہاں ایک اور بات۔۔۔۔۔”
اس نے کنپٹی کو سہلاتے کہا جیسے بہت اہم چیز یاد آئی ہو
“وہ جو مورے زویا اور زوراشہ کے نام جائیداد کا بتایا تھا نہ وہ سب جعلی تھا یعنی وہ ڈوبلیکیٹ سائن تھے۔۔۔۔”
پٹھان نے آخر میں سر کھجایا تھا اور وہ دونوں کرسیوں پر بندھے مچلے تھے
“بےشمار گالیوں سے تو نواز رہے ہونگے مجھے ۔۔۔۔”
اب کہ پٹھان ہنسا تھا اور ایسا ہی تھا ان کے مںہ بند تھے ورنہ وہ ضرور پٹھان کو بےشمار گالیوں سے نوازتے البتہ دل ہی دل میں وہ پٹھان کو قتل بھی کر چکے ہونگے
“کتنا بھولکڑ ہو گیا ہے تم پٹھان افسوس اتنا بڑا گینگسٹر بن کے سب سے اہم بات بھول گیا وہ بھی اپنی ماں کی بات اچھا ہم بتاتا ہے۔۔۔۔”
داود صوفے سے اٹھتا افسوس سے نفی میں سر ہلائے بولا تو زربینہ کے خود کے ماں کہے جانے پر پٹھان نے اسے گھورا تھا
“اب تک زوراشہ اور زویا تمہارا بیوی کو جان سے مارتا اس حویلی کو آگ بھی لگا دیا ہو گا اور مورے کے ساتھ وہ دونوں یہی آتے ہونگے آج ان شاءاللہ موت پکا ہے تم لوگوں گا آج انتقام مکمل ہو گا۔۔۔۔”
اس نے بولتے ہوئے بہرام سے موبائل پکڑا اور سکرین اس کے سامنے کی جس پر نیوز رپورٹر ان کی نازیبا تصویروں پر بڑی مہارت سے تبصرے کر رہی تھی ان دونوں نے سختی سے اپنی آنکھوں کو میچا تھا ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ باہر دروازہ کھٹکا تھا
“میرا دل آ گیا۔۔۔۔”
داود نے بےصبری سے کہا
“اوو بھائی حوصلہ رکھو بہرام تم کھولو۔۔۔۔”
پٹھان نے ہنستے ہوئے کہا تو داود نے منہ بنایا تھا
“ہاں ہاں کرو دیدار پہلے ۔۔۔۔”
داود نے شرارت سے ہانک لگائی وہ آج بہت عرصے بعد یوں پہلے جیسے شرارتیں کر رہے تھے
دو منٹ بعد بہرام کے ساتھ وہ تینوں اندر آئیں تھی داود فوراً زویا کی جانب بڑھا جبکہ پٹھان نے مسکرا کر زوراشہ کو دیکھا اور اس کے قریب آیا تھا اور آفشاں اور بہرام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ان کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے
“ٹھیک ہے طبعیت۔۔۔۔؟”
داود کے پیار سے پوچھنے پر اس نے سر کو اثبات میں ہلایا تھا
“زیادہ روئی تو نہیں۔۔م۔۔؟”
پٹھان نے شرارت سے اس سے پوچھا
“گلیسرین سے بس زرا آنکھوں میں درد ہے۔۔۔۔۔”
وہ بھی مسکرا کر بولی تھی
“رات میں تمام دردوں کا بڑے اچھے سے مداوا کر دونگا ریڈی رہنا۔۔۔۔۔”
اس کی زومعنی بات ہر وہ شرما دی تھی
“خیر یہ ہمارا مجرم ہمارے سامنے ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے گہرا سانس بھرے بلند آواز میں کہا
“یہ ہم سب کا قصور وار ہے۔۔۔۔”
اب کہ بہرام بولا تھا اور پھر ان تینوں نے اپنے ہمسفروں کے کندھوں کے گرد حصار باندھے اپنی گن نکالیں تھی جب کہ وہ دونوں کرسیوں پر بندھے بری طرح مچل رہے تھے
“اتنا وقت بےکار میں دیا تم لوگوں کو۔۔۔۔۔”
پٹھان کے بولنے پر تینوں نے بنا رکے گولیاں چلانا شروع کئیں تھی اور تمام گولیوں کا ان پر صفایا کرتے ان کے خون سے لت پت وجود کو دیکھا تھا
داود نے گلا کھنگارا تو پٹھان نے پلٹ کر اسے دیکھا لیکن داود کے ہاتھ میں موجود سیگرٹ اور لائیٹر دیکھتے وہ کھل کر مسکرایا تھا اور اس سے تھامتے اس نے سیگرٹ لبوں میں دبائے اس کو بڑی مہارت سے سلگاتے گہرا کش لئیے دھواں ہوا میں چھوڑا تھا جبکہ زویا اور زوراشہ کڑے تیوروں سے انہیں گھور رہیں تھی
“تم دونوں کو آج تم لوگوں کی بیویاں چھوڑے گا نہیں۔۔۔۔۔”
آفشاں نے آنے والے حالات سے ان کو آگاہ کیا تو فونوں نے بےوقت دونوں کو ایک آنکھ دبا کر دیکھا اور پھر دونوں ہنستے ایک دوسرے کے گلے لگے تھے تو وہ دونوں بھی مسکرا دیں تھی
“پٹھان انتظام مکمل ہے چلنا ہو گا ہمیں۔۔۔۔۔”
بہرام کی آواز پر پٹھان نے زوراشہ سے وہ جائیداد کے کاغذات لئیے اور ان کو پھاڑتے ان ہر اچھالا تھا پھر وہ لوگ ایک آخری نفرت بھری نگاہ ان پر ڈالتے وہاں سے نکلے تھے اور دو منٹ میں ہی وہ گھر بھی پورا آگ سے جھلس رہا تھا
………………………………
