Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“اگر وہ اپنی موت کے لیے اتنا ہی اُتاولا ہورہا ہے تو آجائے۔۔۔۔ میرے کتے کافی دنوں سے من پسند شکار نہ ملنے کی وجہ سے بھوکے گھوم رہے ہیں۔۔۔۔ اُنہیں کی دعوت ہوجائے گی۔۔۔”
آژمیر کے سفاکیت بھرے لہجے میں کسی قسم کی کوئی مہلت نہیں تھی۔
زنیشہ کا دل ڈوب کر اُبھرا تھا۔ اُسے شدت سے احساس ہوا تھا،وہ اِن دو مضبوط چٹانوں کے بیچ میں پھنس کر بُری طرح پسنے والی تھی۔
“لالہ پلیز آپ۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اُسے روکنا چاہا تھا۔ وہ کسی بھی صورت آژمیر کو خطرے میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ملک زوہان جیسا جنونی شخص کچھ بھی کرسکتا تھا آژمیر کو تکلیف دینے کے لیے۔۔۔
مگر آژمیر اُس کے ہاتھوں پر سرد نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
اُس کے اندر جھکڑ چل رہے تھے۔ ملک زوہان کی ہمت بھی کیسے ہوئی تھی، اُس کی بہن سے رابطہ کرنے کی۔۔۔۔
اُس کی زرا سی نرمی برتنے کا ناجائز فائدہ اُٹھایا جارہا تھا۔ مگر اب آژمیر میران کوئی لحاظ نہیں کرنے والا تھا۔
“زنیشہ میرے بچے۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم اندر آکر زنیشہ کو فرش پر بیٹھا دیکھ اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔۔
“ماما وہ دونوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہیں۔۔۔۔ کیوں ہیں یہ لوگ ایسے؟ کب ختم ہوگی اِنکی نفرت۔۔۔۔ ماما میں یہ سب نہیں دیکھ سکتی میں مرجاؤں گی۔۔۔۔”
زنیشہ اپنی ماں کی آغوش میں چھپتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ شمسہ بیگم اُسے سینے سے بھینچے تسلی دیتی رہی تھیں۔ کیونکہ اِس کے علاوہ اُن کے پاس کوئی چارہ تھا ہی نہیں۔ اُن کی آنکھوں کے گوشے بھی نم ہوئے تھے۔ جسے وہ بہت ہی مہارت سے چھپا گئی تھیں ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔

@@@@@@@@

“نگینہ بائی تم جو کہو گی میں مان جاؤں گی۔۔۔ جس کے ساتھ جانے کو بولو گی، میں چل پڑوں گی۔۔مگر پلیز ماورا کو اُس کی نادانی کی اتنی بڑی سزا مت دو تم لوگ۔۔۔”
حاعفہ ایک بار پھر اپنی بہن کی وکالت کرنے کی خاطر وہاں پہنچ چکی تھی. اُسے اُن لوگوں کے پیر بھی پکڑنے پڑتے یا اپنی جان بھی اُن کے قدموں میں رکھنی پڑتی وہ تب بھی پیچھے نہ ہٹتی۔۔۔۔
“میں کچھ نہیں کرسکتی۔۔۔۔ یہ معاملہ اب کرامت کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا۔ اُس کی نظر میں بھی اور ویسے بھی ماورا کی غلطی بہت بڑی ہے۔ اُس نے دھکا دیا ہے جس کی سزا تو اُسے مل کر رہے گی۔۔۔۔۔”
نگنیہ بائی سگریٹ جلا کر ہونٹوں میں رکھتی حاعفہ کو دو ٹوک انکار کر گئی تھی۔
حاعفہ نے اُس کی بات اور حرکت پر انتہائی ناگواری سے اُسے دیکھا تھا۔ وہ ڈر کر پیچھے ہٹ جانے والے اور سہم جانے والواں میں سے تو بالکل بھی نہیں تھی. اگر یہ لوگ سیدھے طریقے سے اُس کی بات نہیں مان رہے تھے، تو وہ اپنی بہن کا بچانے کے لیے کوئی انتہائی قدم بھی اٹھا سکتی تھی.
اپنی بہن کی حفاظت ہی اُس کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔ اپنی مرتی ماں سے کیا آخری وعدہ تھا۔ وہ بھلا اپنی ماں سے کیا وعدہ کیسے توڑ سکتی تھی۔
“ٹھیک ہے جو تم لوگوں نے کرنا ہے کرو۔۔۔۔ مگر پھر جو میں کروں گی، تم لوگ بھی اُس کے لیے مجھے روک نہیں پاؤ گے۔”
حاعفہ اُسے چیلنجنگ انداز میں دیکھتی واپس مُڑی تھی۔
جب عین اپنے پیچھے کھڑے کرامت کو دیکھ اُس کے قدموں کو بروقت بریک لگی تھی۔
“تو تم ہمیں دھمکی دے رہی ہو۔۔۔؟”
کرامت نگینہ بائی کے برابر بیٹھتا اُس کی جانب استہزایہ نظروں سے دیکھتے بولا تھا۔
“اپنی بہن کو اِس دلدل میں نہیں گھسنے دوں گی۔ اُسے بچانے کے لیے کی گئی میری کوشش تم دھمکی سمجھو یا نصیحت میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔”
حاعفہ اُسے بھی بنا ڈرے جواب دیتی پلٹی تھی۔ اُس حسین ملکہ کا یہی نڈر انداز اور زہانت سے چمکتی آنکھیں اُسے سب سے نمایاں رکھتی تھیں۔ ڈرنا تو جیسے حاعفہ نور نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ جب بات اُس کی بہن کی آتی تھی تو اُس کے لیے اچھائی برائی میں کوئی فرق نہیں رہتا تھا۔
“اگر تم چاہتی ہو ماورا کے ساتھ نرمی برتی جائے، اُسے واپس پڑھنے کے لیے بھیجا جائے تو تمہیں ہمارا ایک کام کرنا ہوگا۔۔۔۔ “
کرامت کی بات پر دروازے کے قریب پہنچتی حاعفہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔
“کیسا کام۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ کی آنکھوں میں واضح چمک در آئی تھی۔ ابھی بھی ماورا کو بچانا اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اُسے اُس کے رب نے دوسرا موقع دے دیا تھا۔
“کام انتہائی مشکل اور کافی حد تک ناممکن بھی ہے۔۔۔ اِس میں تمہاری جان بھی جاسکتی ہے۔ سوچ سمجھ کر حامی بھرنا۔۔۔۔۔”
کرامت کی بات پر نگینہ بائی نے بھی حیرت بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔
حاعفہ کو بھلا اپنی جان کی پرواہ تھی ہی کہاں۔۔۔ وہ تو ماورا کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی۔
“کیا کام ہے؟”
حاعفہ ہمہ تن گوشہ ہوئی تھی۔
“ایک بہت بڑی مچھلی کا شکار کرنا ہے تم نے۔۔۔۔ مگر اُس شکار کو زندہ ہم تک لانا ہے۔۔۔۔۔”
کرامت کی بات پر حاعفہ نے بوجھل سانس ہوا میں خارج کی تھی۔
“اُس کے لیے تمہیں یہاں نہیں ایک علیحدہ گھر میں رہنا پڑے گا۔۔۔۔”
کرامت کی اِس بات پر حاعفہ نے نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ چلو کسی ریزن سے ہی سہی مگر اُسے اِس کوٹھے سے کچھ وقت کے لیے چھٹکارا تو ملنے والا تھا۔
“مجھے منظور ہے۔۔۔۔ تم سمجھو تمہارا کام ہوگیا ہے۔۔۔”
حاعفہ نے اُسے یقین دلایا تھا۔
“نام تو سن لو۔۔۔۔ وہ شخص کوئی ایسا ویسا شخص نہیں ہے۔۔۔ ایک باکردار اور مضبوط اعصاب کا مالک کافی شاطر ہے۔۔۔ اُسے دھوکا دینا تقریباً ناممکن ہے۔۔۔ اگر اُسے زرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو تمہیں ختم کرنے میں ایک پل نہیں لگائے گا۔۔۔۔”
کرامت نے اُسے معاملے کی سنگینی سے آگاہ کرنا چاہا تھا۔
“اگر مجھے اتنا بڑا کام سونپ رہے ہو تو مجھ پر اعتبار بھی کرو۔۔۔۔”
حاعفہ کے دماغ میں اِس وقت صرف ماورا کو بچانا ہی چل رہا تھا۔ اُس نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ جس کام کے لیے وہ حامی بھر رہی تھی وہ اُس پر کتنا بھاری پڑ سکتا تھا۔
حاعفہ اپنی بات کہتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
“کرامت یہ سب کیا ہے؟ تم حاعفہ جیسی سونے کی چڑیا کو اپنے پنجرے سے باہر بھیجنے کی بات کررہے ہو۔۔۔”
نگینہ بائی کو اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا۔
“جس کام کے لیے بھیجنے جارہا ہوں، اگر وہ ہوگیا تو تم سوچ بھی نہیں سکتی ہمیں کتنا پیسہ دیا جائے گا۔ اِس کام کی ایڈوانس رقم بھی ہمارے اتنے سالوں سے کیے جانے والے کام سے بھی کہیں زیادہ ہے۔۔۔۔ تو سوچو اگر حاعفہ اِس میں کامیاب ہوگئی تو ہمارے وارے نیارے ہوجائیں گے۔”
کرامت کی بات پر نگینہ بائی کی آنکھیں بھی لالچ سے چمک اُٹھی تھیں۔
“حاعفہ تو ماورا کی خاطر کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اتنے وقت سے ہم اُس یہی کمزوری ہی تو استعمال کرتے آئے ہیں۔ حاعفہ یہ کام ہر حال میں کرے گی اُس کے حُسن کے جلوے کے آگے بڑے بڑے زاہد و عابد اپنا ایمان نہ سنبھال پائیں۔۔۔ “
نگینہ بائی پُر امید تھی۔
“نہیں یہ کام اتنا آسان بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ شخص اتنی آسانی سے پگھلنے والا بالکل بھی نہیں ہے۔ انتہائی خطرناک اور طاقتور آدمی ہے۔۔۔۔ اگر اُسے زرا سی بھی بھنک پڑ گئی حاعفہ کے حوالے سے تو بنا کوئی سوال کیے اُدھر ہی ختم کردے گا۔۔۔۔ اور ہمیں بھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔”
کرامت کی بات پر اب کے نگینہ بائی بھی چونکی تھی۔
“کون ہے وہ۔۔۔۔؟؟”
نگینہ بائی نام جاننے کے لیے متجسس ہوئی تھی۔
“ملک آژمیر میران۔۔۔۔۔ اگر جاعفہ حسن کی ملکہ ہے تو وہ بھی طاقت اور زہانت کا بادشاہ ہے۔۔۔ بہت سے لوگوں نے اُسے طاقت سے ہرانے کی کوشش کی ہے مگر آج تک ہر کوئی ناکام رہا ہے۔۔۔۔ اب اُس کے دشمن اُس کے دماغ سے نہیں دل سے کھیل کر مات دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔”
کرامت خان نے نگینہ بائی کی لالچ کی بھڑکتی آگ پر پانی ڈال دیا تھا۔ کیونکہ یہ کام شیر کے پنجرے میں جاکر اُس کے منہ سے کھانا چھین کر لانے سے بھی کہیں زیادہ مشکل کام تھا۔۔۔۔ اُنہیں شاید حاعفہ کے بدلے ایڈوانس کی ملنے والی رقم پر ہی گزارا کرنا تھا۔۔۔۔
@@@@@@

رات بھر وہاں برفباری ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے ٹھنڈ مزید بڑھ گئی تھی۔ لوگوں سے ہیٹر کے آگے سے ہٹنا اور بستر چھوڑنا محال تھا. وہیں ملک زوہان ٹھنڈے پانی سے شاور لیتا، اپنی جلتی تڑپتی روح کو سکون بخشنے لگا تھا۔ اُس کے اندر لگی آگ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ سمجھ ہی نہیں پارہا تھا، آخر اُس کو سکون کیوں نہیں مل پارہا تھا۔ آژمیر میران کو وہ اُس کی بہن کے ذریعے مات دے تو رہا تھا۔ پھر کس چیز میں کمی یا جھول تھا آخر۔۔۔۔
اُس نے شدید ٹھنڈ کے باوجود بلیک ٹراؤذر کے اُوپر بلیک بنیاں پہن رکھی تھی۔ اُس کے کسرتی بازو بنیان سے جھانکتے اُس کی وجاہت میں مزید اضافہ کررہے تھے۔ روشن پیشانی پر بکھرے سیاہ بال، بھوری خوبصورت آنکھیں جو دیکھنے والوں کو اپنا اسیر کیے بنا نہیں رہتی تھیں، کھڑی مغرور ناک اور ایک دوسرے میں پیوست احمری لب۔۔۔۔ جن کی سگریٹ کی طلب روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ اُس کے سامنے کم لوگ ہی ٹک پاتے تھے۔ اُس کی پرسنیلٹی ایسی تھی کہ لوگ زیادہ دیر اُس کے مقابل کھڑے ہوکر بات نہیں کرسکتے تھے۔ ٹھیک بات کرنے کے باوجود اگلا بندہ اُس کی ساحرانہ خود پر اُٹھتی نگاہیں دیکھ سہم جاتا تھا۔ وہ انتہا کا موڈی شخص تھا کب اُسے کیا بات بُری لگ جائے ہوئی نہیں جانتا تھا۔
اُسے سمجھنا دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔ مگر ایک شخص تھا جو اُسے سمجھتا بھی تھا اور اُس کے مقابل آکر اُسے مات دینے کی ہمت بِھی رکھتا تھا۔ اور وہ شخص تھا ملک آژمیر میران۔ اُن دنوں کا ٹکراؤ ہمیشہ کوئی نہ کوئی تباہی ضرور لاتا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج کس کی جیت اور کس کی مات ہونے والی تھی۔۔۔۔۔ اور کون ٹوٹ کر بکھرنے والا تھا۔۔۔۔۔
زوہان ٹاول بالوں میں رگڑتا نیچے کی جانب بڑھ گیا تھا۔ یہ اندر سے لکڑی کا بنا بہت ہی خوبصورت کاٹیج تھا۔ جس کو باہر سے خالص سفید پینٹ کیا گیا تھا۔ اِس کے بالکل کنارے سے دلکش اور دلفریب نظارہ پیش کرتی جھیل بہتی تھی۔ جو اِس کاٹیج کی لوکیشن کو مزید حسین بنا دیتی تھی۔ اِس جگہ کی دلفریبی بھی ملک زوہان کے دل پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال پائی تھی۔ وہ تنہائی پسند شخص تنہا رہ کر مزید بےحس ہوچکا تھا۔ اُس پر اب نہ کسی کے جذبات اثر کرتے تھے نہ احساسات۔۔۔۔
وہ ناشتے سے سجے ڈائننگ ٹیبل پر آن بیٹھا تھا۔ جہاں اُس اکیلے شخص کے لیے چار چار ملازمین ہاتھ باندھے کھڑے تھے. کیونکہ یہ ٹیڑھا شخص ایک دو کو تو تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دیتا تھا۔ اِن چار پر بھی وہ اکثر بھاری پڑ جاتا تھا۔ ناشتے کے تھوڑے سے ٹائم پر وہ اُنہیں گھما کر رکھ دیتا تھا۔
وہ اپنے اندر ہیرو والی نہیں ولن والی خصوصیات لانا چاہتا تھا۔ جو دوسروں کو برباد کرنے پر خوش ہونا جانتا ہو صرف۔۔۔۔
اُس کو ناشتہ کرتا دیکھ دروازے میں کھڑا حاکم اندر نہیں آیا تھا۔ وہ اتنی بُری خبر سنا کر اُس کا ناشتہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کچھ دیر بعد اُسے اُٹھ کر ڈرائینگ روم میں جاتے دیکھ حاکم بھی اُس کے پیچھے آیا تھا۔
“حاکم تم یہاں؟…. میں نے تم سے کہا تھا ابھی اُدھر ہی رہنا۔۔۔۔ابھی ہمارا وہاں سے کام ختم نہیں ہوا۔۔”
زوہان اُسے سر جھکائے اپنے سامنے آن کھڑا ہوتا دیکھ زرا برہمی سے بولا تھا۔
“سائیں وہ بُری خبر ہے۔۔۔ “
حاکم اُسی طرح جھکائے بولا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا؟….”
زوہان کے تاثرات منجمند ہوئے تھے۔
“سائیں وہ آژمیر میران نے جمشید کو کل رات مروا دیا ہے۔۔۔۔ وہ جان گیا تھا جمشید اُس کے ساتھ رہ کر ہمارے لیے کام کررہا ہے۔۔۔”
حاکم چہرا جھکائے مجرمانہ انداز میں بولا تھا۔ جیسے سارا قصور اُسی کا ہو۔۔۔۔
جبکہ اپنے اتنے اہم آدمی کی موت کا سن زوہان غصے سے بپھر گیا تھا۔ اُس کا دل چاہا تھا اِسی وقت آژمیر اور اُس کے خاندان کے پرخچے اُڑا دے۔۔۔۔ ہر بار آژمیر میران اُس کا ایسے ہی نقصان کر جاتا تھا۔
زوہان نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ پوری قوت سے سامنے پڑے کانچ کے ٹیبل پر دے مارا تھا۔ جو کافی مضبوط ہونے کے باوجود درمیان سے چکنا چور ہوا تھا۔
حاکم خوف کھاتا چند قدم پیچھے ہٹا تھا۔
“آژمیر اب مزید نہیں۔۔۔۔۔ اب مزید اپنا نقصان نہیں ہونے دوں گا تمہارے ہاتھوں۔۔۔۔ اب بربادی تمہارے مقدر میں لکھی جائے گی۔۔۔ تمہیں ایسا برباد کروں گا کہ دوبارہ میرے سامنے تو کیا کسی کے مقابل آنے کی ہمت نہیں کر پاؤ گے۔۔۔۔”
زوہان غصے سے دھاڑا تھا۔ اُس کے اشارے پر حاکم نے اُس کے کسی خاص آدمی کو فون ملا کر موبائل اُس کے ہاتھ میں رکھا تھا۔
“میرا کام کہاں تک پہنچا؟”
زوہان کی آواز میں شعلوں کی سی لپک تھی۔
“سائیں کام ہوگیا ہے۔۔۔۔ ملک آژمیر میران کا غرور بہت جلد ٹوٹنے والا ہے۔۔۔۔”
دوسری جانب بیٹھا شخص اثبات میں جواب دیتا کافی پر اُمید لگا تھا۔
“اِس کام میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا میں۔۔۔۔ “
وہ سرد لہجے میں کہتا فون کاٹ گیا تھا۔ وہ جب تک اِس پلین میں کامیاب نہ ہوجاتا تب تک خوشیاں نہیں منانا چاہتا تھا۔۔۔
“حاکم۔۔۔۔ تیاری پوری رکھو، میران پیلس جانا ہے میں نے آخر کو زنیشہ میران کی شادی ہے۔۔۔۔ اُسے نیگ دینا تو بنتا ہے نا۔۔۔۔۔”
زوہان زہر خند مسکراہٹ سے بولتا اُوپر اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔ حاکم اُسے وہاں جانے کے لیے روکنا چاہتا۔ مگر اُس کی اتنی ہمت تھی ہی نہیں۔۔۔ زوہان کا وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر اگر اُس نے ٹھان لی تھی تو اُس کا رکنا تقریباً ناممکن تھا۔ حاکم بے بس سا سر پکڑے بیٹھا تھا۔ جب اُس کے دماغ میں کسی کی شبیہہ لہرائی تھی۔ ایک ہستی تھی جو ملک زوہان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال سکتی تھی۔ جس کی بات ٹالنا ملک زوہان کے لیے کافی مشکل تھا۔
حاکم جلدی سے اُٹھ کر نمبر ڈائل کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ زوہان کو وہاں جانے سے روکنے کی وہ اپنی سر توڑ کوشش کرنا چاہتا تھا۔

@@@@@@@@

زنیشہ ٹانگے فولڈ کرکے سینے سے لگائے اُن پر چہرا ٹکائے نڈھال سی بیڈ پر بیٹھی تھی۔ جب ثمرہ اور فریحہ اُس کا سُرخ کامدار بھاری لہنگا اور باقی سارا سامان اُٹھائے اُس کے روم میں داخل ہوئی تھیں۔
“زینی کیسی طبیعت ہے اب؟”
ثمرہ چیزیں صوفے پر رکھتی اُس کے قریب آئی تھی۔ زنیشہ نے چہرا اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ اُس کا گلابی سوجا چہرا مسلسل رونے کی گواہی دے رہا تھا۔
“بھابھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کا ہاتھ تھامتی خوف سے لرزتی آواز میں بولی تھی۔
“کس سے؟ زوہان سے یا آژمیر سے۔۔۔۔”
اُس کے نرم گالوں پر بہہ آئے آنسو کے شفاف قطروں کو پوروں پر چنتے ثمرہ نے سوالیہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“دونوں سے۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی آواز میں نمی کا تاثر نمایاں تھا۔ اُس کی جان اِس وقت سولی پر اٹکی ہوئی تھی.
“جبکہ سوچنا اِس وقت تمہیں ذیشان کے بارے میں چاہیئے جس کے نام کچھ دیر میں تم اپنے تمام جملہ حقوق لکھنے والی ہو۔۔۔۔”
فریحہ اُس کے قریب آبیٹھتی شوخی سے بولی تھی۔ وہ سب اِس وقت اندر سے خوفزدہ تھے۔ مگر زنیشہ کی حالت زیادہ تشویش ناک تھی۔ اُس کی بہتی آنکھیں سب کو ہی تکلیف میں مبتلا کررہی تھیں۔ مگر اُن میں سے کوئی بھی اِس سب پر اختیار نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔