Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“نن نہیں لالہ کو کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔ “
زنیشہ نے ہکلاتے بمشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔
“بی بی جی آپ بس جلدی ہاسپٹل پہنچیں۔۔۔۔ “
مزمل یہ الفاظ ادا کرتا فون بند کرگیا تھا۔۔۔
زنیشہ آژمیر کے بارے میں ایسی خبر سن کر اِس قدر گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہوچکی تھی کہایک بار گھر کے کسی اور فرد کو کال کرکے اِس خبر کی تصدیق کرنے کا خیال اُس کے دماغ میں آیا ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ مزمل کی بات پر ایمان لاتی تیز قدموں سے مین گیٹ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ جہاں سامنے ہی گاڑی اور ڈرائیور دونوں اُس کے منتظر تھے۔۔
زنیشہ کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے تیزی سے گاڑی مطلوبہ راستے کی جانب بڑھا دی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ آژمیر کا سن کر اُس کی جان پر بن آئی تھی۔۔۔ اگر خدانخواستہ آژمیر کو کچھ ہوجاتا تو وہ بھی زندہ نہ رہ پاتی۔۔۔۔ اپنے بھائی سے اِس قدر محبت کرتی تھی وہ۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
آژمیر کی نظریں فرش پر بے سدھ پڑے وجود پر پڑی تھیں۔۔۔ وہ تیزی سے حاعفہ کی جانب بڑھا تھا۔۔ جو ٹھنڈے فرش پر بنا دوپٹے اور کھلے بالوں کے ساتھ بے ہوش پڑی تھی۔۔۔ اُس کے ہر وقت چادر میں چھپے رہنے والے وجود کی رعنائیاں ہر طرح کی قید سے آزاد تھیں اِس وقت۔۔۔۔
آژمیر جیسے مضبوط اعصاب کے مالک شخص نے بامشکل نگاہیں چرائی تھیں۔۔۔ اُس کی لانبی حسین گھٹائیں اور اُن سے اُٹھتی مسحور کن خوشبو نظر انداز کیے جانے کے قابل بالکل بھی نہیں تھی۔۔
آژمیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں آکر اُس نے ٹھیک کیا ہے یا غلط۔۔۔۔
“مس حاعفہ آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔”
آژمیر نے تشویش کے عالم میں اُس کا گال تھپ تھپایا تھا۔۔۔ مگر وہ ویسے ہی بے سدھ پڑی رہی تھی۔۔۔
حاعفہ کی یہ حالت دیکھ آژمیر کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔ اُس کے پیر میں پہلے ہی چوٹ لگی ہوئی تھی۔۔ اور اب شاید لڑکھڑا کر گرنے کی وجہ سے اُس کے ماتھے پر بھی چوٹ آئی تھی۔۔۔ ساتھ پڑے ٹیبل کی نوک پر ماتھا لگنے کی وجہ سے اُس کی پیشانی سے خون بہہ کر وہیں خشک ہوچکا تھا۔۔۔
آژمیر اُسے بانہوں میں اُٹھاتا بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ حاعفہ کا پورا وجود ٹھنڈ کی وجہ سے بالکل برف ہورہا تھا۔۔۔۔
حاعفہ جو ابھی تک بمشکل اپنی بے ہوشی کا ناٹک جاری رکھے ہوئے تھی۔۔۔ آژمیر کی نرم گرم مضبوط گرفت پر اُس نے نامحسوس طریقے سے اپنی مُٹھیاں بھینح لی تھیں۔۔۔ آژمیر کا لمحے بھر کا قرب، اُس کی نتھنوں میں اُترتی جان لیوا خوشبو اور اُس کی پکار میں چھپی بے قراری۔۔۔ حاعفہ سے اپنا ناٹک جاری رکھنا بہت مشکل ہوا تھا۔۔۔ اُس کا دل چاہا تھا ابھی آنکھیں کھول کر آژمیر پر اپنی ساری حقیقت آشکار کردے۔۔۔ مگر نہ ایسا کرنے کی اجازت تھی اُسے۔۔۔۔ اور نہ ہی آژمیر کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنے کی ہمت۔۔۔۔
اُس کے دل میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آژمیر میران کے لیے محبت زور پکڑتی جارہی تھی۔۔۔ جو آگے جاکر اُس کی تکلیفیں مزید بڑھانے والی تھی۔۔۔ اِس لیے حاعفہ جلد از جلد یہ سارا معاملہ ختم کرکے آژمیر کی زندگی سے بہت دور جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
اُس نے آج یہ سارا ڈرامہ کیا ہی اِسی لیے تھا تاکہ آژمیر کو کسی طرح اپنے حُسن کے جال میں پھنسا سکے۔۔۔۔ یہ سب کرتے اُس کے پورے وجود میں انگارے لُوٹ رہے تھے۔۔۔۔ اپنے اندر لگی آگ پر قابو پاتے وہ آژمیر کے سامنے اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ جس کی جان لیوا قربت پر اُس کے دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھیں۔۔۔ یہ پل حاعفہ کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھے۔۔۔
آژمیر نے اُس پر کمبل ڈالتے اُسے پوری طرح کور کر دیا تھا۔۔۔ آژمیر میران کا یہی مضبوط کردار ہی حاعفہ کو اُس کا دیوانہ بناتا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کی بے خبری اور تنہائی کا فائدہ اُٹھا سکتا تھا۔۔۔۔ مگر اُس نے تو حاعفہ کو اپنی نامحرم نگاہوں سے بھی ڈھک دیا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ آنکھیں کھولیں۔۔۔۔”
آژمیر نے اُسے ایک بار پھر پکارا تھا۔۔ اُس کے بھاری فکر سے چور دلکش لہجے میں اپنے نام کی پکار سن کر حاعفہ تو موت سے بھی اُٹھ جاتی یہ تو پھر صرف بے ہوشی کا ایک ناٹک تھا۔۔۔
حاعفہ نے بنا سوچے سمجھے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔ جب اُسی لمحے آژمیر رُخ موڑتا ڈاکٹر کو کال ملانے لگا تھا۔۔۔۔ اُس نے حاعفہ کو آنکھیں کھولتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس، چوڑی پشت اُس کی جانب موڑے وہ فکرمندی سے ڈاکٹر کو کال کر رہا تھا۔۔۔ اِس لمحے اُسے زرا بھی اِس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اگر کسی نے اُسے یہاں ایک تنہا لڑکی کے فلیٹ میں دیکھ لیا تو اُس کا امیج کتنا خراب ہوسکتا ہے۔۔۔ اُسے اِس لمحے صرف بیڈ پر ہوش و حواس سے بیگانہ لڑکی کی فکر تھی۔۔۔ جس کی پیشانی پر جما خون آژمیر میران کے لیے تکلیف کا باعث بن رہا تھا۔۔۔۔
نجانے کتنے ہی لمحے حاعفہ اُسے دیوانہ وار نگاہوں سے دیکھتی رہی تھی۔۔۔ کوئی شخص اُسے اپنی لائف میں اتنا پیارا بھی لگ سکتا تھا اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔
مگر اُس کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی تھا کہ وہ اِسی پیارے شخص کو زندگی کا سب سے بڑا دھوکا دینے والی تھی۔۔۔
“سر۔۔۔۔”
حاعفہ نے اپنے اندر کی کیفیت سے گھبرا کر کمزور آواز میں آژمیر کو پکارا تھا۔۔۔
آژمیر اُس کی آواز پر فوراً اُس کی جانب مُڑتا قریب آیا تھا۔۔۔
“حاعفہ آپ ٹھیک ہیں؟ کیا ہوا تھا آپ کو؟”
آژمیر اُس کی لال پڑتی رنگت کی جانب بغور دیکھتا اُس سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔ جس کی پیشانی پر آیا کٹ معمولی بالکل بھی نہیں تھا۔۔ حاعفہ اپنا یہ ناٹک بھی پورے دل سے کررہی تھی۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ آژمیر جیسا ذہین شخص بھی اُس کے فریب کو سمجھنے میں ناکام ہورہا تھا۔۔۔
لیکن وہیں اِس کا ایک ریزن یہ بھی تھا کہ حاعفہ کی نگاہوں میں آژمیر کے لیے جذبے سچے تھے۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اُس کا اصلی چہرا نہیں دیکھ پارہا تھا۔۔
“سر وہ پیر پر چوٹ کی وجہ سے لڑکھڑا کر گر گئی تھی۔۔۔ ماتھے پر ٹیبل سے چوٹ لگنے کی وجہ سے شاید بے ہوش ہوگئی۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے نظریں نیچی کیے مجرمانہ انداز میں اپنی فرضی بے ہوشی کا ناٹک بتایا تھا۔۔۔ کیونکہ خود پر جمیں آژمیر کی گہری نگاہیں اُسے خوفزدہ کررہی تھیں۔۔۔ کہیں وہ اُس کی چوری پکڑ تو نہیں چکا تھا۔۔۔ اور اگر اُس کو پتا چل جاتا کہ اِس بے وقوف دیوانی لڑکی نے خود ٹیبل سے اپنا سر پھوڑا ہے تو نجانے کیا ہوتا۔۔۔۔۔
“فرسٹ ایڈ باکس کہاں ہے؟”
آژمیر اُس کی گھبراہٹ اور خوف سے سُرخ پڑتی من موہنی صورت دیکھ کر انتہائی سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔
“اٹس اوکے سر میں اب ٹھیک ہوں۔۔ میں خود۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے ججھک کر انکار کرنا چاہا تھا۔۔۔ مگر آژمیر کے گھورنے پر اُس کی باقی کی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی۔۔۔
اُس نے خاموشی سے سائیڈ ٹیبل کی جانب اشارہ کیا تھا۔۔ آژمیر دراز سے باکس نکالتا واپس اُس کے قریب آیا تھا۔۔۔
حاعفہ کہنیوں کے بل تکیے کے سہارے اُٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ اُس کا دل بُری طرح دھک دھک کررہا تھا۔۔۔ آژمیر کے چہرے پر چھائی سنجیدگی اور سرد تاثرات حاعفہ کا حلق تک خشک کر گئے تھے۔۔۔ ہاتھوں پیروں کی لرزش تو ویسے بھی آژمیر میران کے سامنے اب عام بات ہوچکی تھی۔۔۔
“آپ کے فادر کا کیا نام ہے۔۔۔ “
آژمیر بیڈ کے قریب کرسی رکھے اُس کے مقابل براجمان ہوتا اُس سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔ جبکہ متفکر سی نگاہیں اُس کی پیشانی پر آئے کٹ کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔ آژمیر اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر ہی تھا۔۔۔ آج پھر وہ کل کی طرح اُس کے قریب تھا۔۔۔ حاعفہ کی دھڑکنوں کا شور لمحہ با لمحہ بڑھتا جارہا تھا۔۔۔۔
اُس کے سوال پر حاعفہ کی آنکھوں میں نفرت کی لہر سی دوڑ گئی تھی۔۔ جسے پلکوں کی گھنیری باڑ تلے چھپاتے وہ خشک لبوں پر زبان پھیر گئی تھی۔۔۔
اِس شخص کی ایک نگاہ اُس کی دنیا تہہ و بالا کر جاتی تھی اور اب تو وہ اُس کے سامنے بیٹھا اُس کی جانب پوری طرح متوجہ تھا۔۔۔ اور یہ موقع پیدا کرنے والی بھی وہی تھی۔۔۔
“شاکر احمد۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے بہت سوچ کر جواب دیا تھا۔۔۔
“آپ کو ہمیشہ سے ایسے ہی چوٹیں کھانے کی عادت ہے یا یہ سب ابھی سے سٹارٹ ہوا ہے۔۔ “
آژمیر نے انتہائی سکون سے بولتے لمحے بھر کو حاعفہ کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔۔۔
اُس کی بات پر حاعفہ نے جھٹکے سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ مگر وہ پورے انہماک سے روئی پر ڈیٹول لگائے اُس کے زخم کے اِردگرد جما خون صاف کررہا تھا۔۔۔
“کک کیا مطلب سر۔۔۔۔ میں سمجھی نہیں۔۔۔”
حاعفہ کو اب محسوس ہورہا تھا کہ آژمیر کے سامنے یہ چھوٹا سا ناٹک کرکے بھی کس بُری طرح پھنس سکتی تھی۔۔۔
“اِس میں نہ سمجھنے والی کونسی بات ہے مس حاعفہ۔۔۔۔ کل سے آپ کو دو بار چوٹ لگ چکی ہے اور میں یہ آپ کی دوسری بار بینڈیج کررہا ہوں۔۔۔ اتنا مہنگا ڈاکٹر ملنے پر آپ چوٹ پر چوٹ ہی لگوائی جا رہی ہیں۔۔۔”
آژمیر کی بات پر حاعفہ کی لرزتی نگاہیں اُس پر ٹک گئی تھیں۔۔۔ بھلا اتنے سیریس لہجے میں کون مذاق کرتا تھا۔۔۔ حاعفہ کی جان حلق کو آگئی تھی۔۔۔
لیکن آژمیر کے الفاظ کی نسبت اُس کے سنجیدہ چہرے سے اِس بات کا اندازہ لگانا اب بھی مشکل تھا کہ وہ سیریس ہے یا مذاق کررہا ہے۔۔۔۔
اُس کی بات میں کوئی گہرا طنز چھپا تھا یا وہ یہ بات عام انداز میں ہی بولا تھا۔۔۔
اُس کے چوٹ پر ڈیٹول لگانے سے حاعفہ کی درد سے سسکاری نکلی تھی۔۔۔ مگر ہونٹ بھینچے وہ اپنا درد دبا گئی تھی۔۔۔
آژمیر نے اُس کا یہ عمل بہت غور سے دیکھا تھا۔۔۔
اِسے یہ کوئی عام لڑکی بالکل بھی نہیں لگی تھی۔۔۔ کچھ تو خاص تھا اِس میں۔۔۔۔ آژمیر کو ہمیشہ وہ باقی لڑکیوں سے بالکل منفرد لگی تھی۔۔۔
“آئم سوری سر۔۔۔۔۔”
حاعفہ کو اُس کی بات کے جواب میں یہی کہنا ہی مناسب لگا تھا۔۔۔
“سوری فار واٹ۔۔۔۔۔”
آژمیر بھنویں اُٹھائے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
“وہ آپ کو تکلیف ہوئی۔۔۔۔۔”
حاعفہ جزبز ہوئی تھی۔۔۔
“محترمہ جو لوگ اور کام مجھے تکلیف دیں میں خود کو اُن سے کوسوں دور رکھنا پسند کرتا ہوں۔۔۔ اور اِس کام سے بھلا مجھے کیا تکلیف ہونی۔۔۔۔”
آژمیر اُس کے ماتھے پر بینڈیج لگاتا پیچھے ہٹا تھا۔۔ اُس کی بات پر حاعفہ نے اُسے خفگی سے گھورا تھا۔۔۔ نرمی سے کسی بات کا جواب دینا تو شاید سیکھا ہی نہیں تھا اِس اُکھڑ شخص نے۔۔۔۔
“تھینکس۔۔۔۔”
حاعفہ نے دھیمے لہجے میں شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔ جس کے جواب میں آژمیر نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا۔۔۔
“سر کیا میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟۔۔۔۔۔”
حاعفہ نے ہاتھوں کی اُنگلیاں مڑورتے بامشکل جملہ ادا کیا تھا۔۔۔ کیونکہ پہلے تو اُسے یہی اُمید تھی کہ آژمیر اُسے منع کردے گا۔۔
اور اگر اجازت دے بھی دی تو جو بات وہ پوچھنے والی تھی اُس کا جواب ملنا بضی مشکل تھا۔۔۔ مگر ڈانٹ ضرور پڑ جانی تھی۔۔۔
“جی فرمائیں۔۔۔۔”
آژمیر اُس کی ملازمہ کے آنے کا ویٹ کرنے لگا تھا۔۔۔ اُس کی امپورٹنٹ میٹنگ تھی۔۔۔ اُسے جلد از جلد نکلنا تھا مگر وہ حاعفہ کو یوں اکیلے چھوڑ کر بھی نہیں جاسکتا تھا۔۔۔۔
آژمیر نے موبائل پر نظریں گاڑھے بہت ہی مصروف انداز میں اُسے جواب دیا تھا۔۔۔۔
“کیا آپ میریڈ ہیں۔۔۔؟..”
حاعفہ نے آخر کار وہ بات پوچھ ہی لی تھی۔۔۔ جس نے نجانے جب سے اُس کے ضمیر کو ملامت کر رکھا تھا۔۔۔ اور یہ بات سوچ کر اُس کے دل میں بے چینی سی بھر جاتی تھی۔۔۔۔
آفس میں دو تین لوگوں سے پوچھنے پر بھی اُسے اِس بات کا جواب نہیں ملا تھا۔۔۔
آژمیر نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اچھنبے سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جیسے سماعتوں پر یقین نہ کر پارہا ہو۔۔۔۔ کہ سوال حاعفہ نے ہی اُس سے پوچھا ہے۔۔۔
حاعفہ اُس کے انداز پر شرمندہ سی ہوتی چہرا جھکا گئی تھی۔۔۔۔
“جی میریڈ بھی ہوں۔۔۔ اور پانچ بچے بھی ہیں میرے۔۔۔۔۔”
آژمیر موبائل پاکٹ میں رکھ کر اُس کی جانب پلٹتا بھرپور سنجیدگی سے بولا تھا۔۔۔ اُس کی بات پر حاعفہ نے ہونقوں کی طرح اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُس تو لگا تھا وہ میریڈ نہیں ہے۔۔
آژمیر کسی اینگل سے بھی اُسے پانچ بچوں کا باپ تو بالکل بھی نہیں لگتا تھا۔۔۔
حاعفہ کی ہونق شکل دیکھ آژمیر کے ہونٹوں پر محظوظ کن مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔ مگر پھر فوراً سنجیدہ ہوتے وہ باہر سے آتی ملازمہ کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اُسے اتنی جلدی واپس جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔
وہ بیڈ سے اُٹھی تھی۔۔۔۔ اُس کے پیر میں ابھی بھی بہت تکلیف تھی۔۔۔ وہ چند قدم ہی بڑھا پائی تھی۔۔۔ جب زور سے لڑکھڑانے کی وجہ سے وہ منہ کے بل دوبارہ زمین بوس ہونے کو تھی کہ آژمیر تیزی سے اُس کے قریب آتا گرنے سے پہلے ہی اُسے اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔۔
آژمیر کا ایک بازو حاعفہ کی کمر میں حمائل تھا، جبکہ دوسرے ہاتھ سے اُس نے حاعفہ کی کلائی تھام رکھی تھی۔۔۔۔
حاعفہ جو اِس بات سچ میں منہ کے بل گرنے والی تھی آژمیر کے مضبوط لمس پر اُس کا دل اُچھل کر حلق میں آن پہنچا تھا۔۔۔
اُس کی بے ترتیب ہوتی سانسیں اُس کے قابو سے باہر ہوئی تھیں۔۔
آژمیر کے وجود سے اُٹھتی سحر انگیز خوشبو اُسے اپنے ساتھ باندھنے لگی تھی۔۔۔ یہ لمحہ حاعفہ لیے جاں گزیں تھا۔۔۔
“آر یو اوکے۔۔۔۔ آپ کو کس نے کہاں تھا وہاں سے اُٹھنے کو۔۔۔۔”
آژمیر کڑے تیوروں کے ساتھ گویا ہوا تھا۔۔۔۔
“وہ مم میں۔۔۔۔ “
حاعفہ منمنا کر رہ گئی تھی۔۔۔ اُس نے آژمیر سے فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے اُس کا حصار توڑ دیا تھا۔۔۔
آژمیر نے گہری نگاہوں سے اُس کی خفت اور شرم سے لال پڑتے چہرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
حاعفہ کو آج آژمیر کے انداز کافی بدلے بدلے سے لگنے لگے تھے۔۔۔ جو وہ چاہتی تھی بالکل ویسے ہی۔۔۔۔
آژمیر اُسے واپس بیڈ پر بیٹھاتا بنا ایک لفظ بھی ادا کیے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کی نگاہیں دروازے پر کی ٹک گئی تھیں۔۔
“دو دن کے اندر مجھے اِس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا چاہیے۔۔۔ “
آژمیر گاڑی میں بیٹھتا اپنے خاص آدمی کو ہدایت سے گیا تھا ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔