Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

اُسے قریب آتا دیکھ زنیشہ کی ساری بہادری جھاگ بن کر بیٹھنے لگی تھی۔۔۔۔ اِس شخص سے کسی قسم کی توقع بھی کی جاسکتی تھی۔۔۔ اِس لیے اُس نے اب کی بار اپنی زبان بند رکھنا ہی مناسب سمجھا تھا۔۔۔۔
“جواب دو ڈارلنگ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔”
ملک زوہان اُس کے قریب آتا گہری نظریں اُس کے صبیحہ چہرے پر ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔ جب اُس کے درزِ تخاطب پر زنیشہ اُسے گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔
“میں اُس ظالم شخص کے لیے کوئی رائے رکھنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔۔ جس کے لیے اپنی ضد اور نفرت سے بڑھ کر کچھ نہ ہو۔۔۔۔ جو صرف اپنی دلی تسکین کی خاطر لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔۔۔۔ ذیشان نے۔۔۔۔۔ “
زنیشہ کے باقی الفاظ ابھی منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔ جب زوہان نے اُس کے ہونٹوں پر مضبوط ہتھیلی جماتے اُس کے الفاظ وہیں دبا دیئے تھے۔۔۔۔
“ذیشان کا نام میں اب تمہارے منہ سے کبھی نہ سنوں۔۔۔۔ شادی ٹوٹ گئی نا، اب کوئی تعلق نہیں بچتا تمہارا اُس سے۔۔۔۔ سو نیکسٹ ٹائم بی کیئر فل۔۔۔۔۔ “
زوہان اُسے لال آنکھوں سے گھور کر اچھے سے باور کرواتا ہتھیلی ہٹا گیا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے اِس استحقاق بھرے عمل پر زنیشہ کا پارہ چڑھا تھا۔۔۔ وہ ہوتا کون تھا۔۔۔ بنا اجازت اُسے چھونے والا۔۔۔۔
“آپ اپنی لمٹس میں رہیں۔۔۔۔ میری مرضی میں جس کا نام لوں۔۔۔ جس کے بارے میں مرضی بولوں۔۔۔ آپ ہوتے کون ہیں مجھ پر حکم چلانے والے۔۔۔ اور ذیشان میرا ہونے والا شوہر ہے۔۔۔۔ اُس کا نام لینا کو تو حق حاصل ہے مجھے۔۔۔۔۔۔ “
زنیشہ کو اُس کا یوں اپنے ہونٹوں کو ٹچ کرنا بہت غصہ دلا گیا تھا۔۔۔ جس کا جواب دیتے وہ بنا زوہان کا لحاظ کیے جو دل میں آیا بول گئی تھی۔۔۔
جبکہ اُس کا ذیشان کو اپنا ہونے والا شوہر بولنا زوہان کو پتنگے لگا گیا تھا۔۔۔۔
“تم چاہتی ہو۔۔۔۔ ذیشان کو جان سے ہی مروا دوں میں۔۔۔۔ہے نا۔۔۔۔”
زوہان اپنے غصے پر بہت مشکل سے قابو پاتا۔۔۔ اُس کی کلائی دبوچتا اپنے قریب کرتے زہر خند لہجے میں بولا تھا۔۔۔
جہاں اُس کی حرکت زنیشہ کا دل بُری طرح دھڑکا گئی تھی۔۔۔ وہیں اُس کے الفاظ پر زنیشہ نے پھٹی پھٹی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اُسے کبھی کبھی آژمیر اور زوہان بالکل ایک جیسے لگتے تھے۔۔۔ جن کی بات مار سے شروع ہوکر مار پر ہی ختم ہوتی تھی۔۔۔ اور وہ کسی کو مارنے کی بات اتنی نارملی کرتے تھے۔۔۔ جیسے کسی سے کھانے کا پوچھا جارہا ہو۔۔۔
“چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ “
زنیشہ اُس کے سینے پر دوسری ہتھیلی سے دباؤ ڈالتی پیچھے ہونے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر ایک انچ بھی نہیں ہل پارہی تھی۔۔۔۔
“ایسا تو ناممکن ہے۔۔۔۔ مائی لیڈی۔۔۔۔۔ تمہیں ہی تو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔ تمہارا وہ ظالم بھائی سمجھتا ہی نہیں۔۔۔۔ مگر لگتا ہے بہت جلد سمجھانا پڑے گا اُسے۔۔۔ اور تمہیں بھی۔۔۔۔ تم پر اپنے نام کی مہر لگا کر۔۔۔۔ تاکہ تم کسی گھامڑ کا نام لے کر میرے غصے کو مزید ہوا نہ دو۔۔۔۔۔ میران پیلس میں ایک تم ہی تو واحد ہستی ہو۔۔۔ جس سے چاہنے کے باوجود نفرت نہیں کر پایا میں۔۔۔۔۔ “
زوہان اُس کی شال سے نکلی گھنے بالوں کی لٹ کو ہاتھ بڑھا کر اُس کے کان کے پیچھے اڑستے بولا۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کے ہاتھ کو دور جھٹکا تھا۔۔۔۔
جس پر اُس کی کلائی پر زوہان کی گرفت مزید تیز ہوئی تھی۔۔۔۔
آپ مجھے ہرٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ کو اُس کی سخت گرفت پر اپنی کلائی جلتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
زوہان جو غصے میں بھول گیا تھا کہ اُس کے مقابل اُس کی زنیشہ میران ہے۔۔۔ جسے تکلیف پہنچانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔ اُس نے فوراً گرفت ڈھیلی کر دی تھی۔۔۔ مگر آزادی ابھی بھی نہیں بخشی تھی۔۔۔۔
“تمہیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ میں تمہیں یہاں کچھ بتانے بھی آیا تھا۔۔۔۔”
زنیشہ کی آنکھوں میں آنسوؤں دیکھ زوہان ڈھیلا پڑ گیا تھا۔۔۔۔ شاید یہ لڑکی اور اِس کے یہ آنسو ہی اُس کی زندگی کی واحد کمزوری تھے۔۔۔جو بات جاننے کے باوجود بھی زوہان خود کو اُس سے انجان رکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“تم اور شاید میران پیلس کا ہر فرد یہ بات بھول چکے ہیں کہ تم میری منگ ہو۔۔۔ مگر میں بالکل بھی نہیں بھولا۔۔۔۔ تم بچپن سے میرے نام لگائی گئی ہو۔۔۔ صرف میری ہو۔۔۔ تم پر صرف میرا حق ہے۔۔۔ یہ بات خود کو اچھے سے ازبر کروا لو۔۔۔۔ اور رہی بات میران پیلس والوں کی تو اُنہیں یہ بات بہت جلد میں خود ہی اچھے سے سمجھانے والا ہوں۔۔۔۔ وہ سمجھ رہے یہ ایک گارڈ رکھ کر وہ مجھے تم سے دور رکھ پائیں گے۔۔۔۔ آژمیر میران کو کہہ دینا کہ ایسے ہزاروں اور لاکھوں بھی لے آئے تب بھی مجھے تم سے دور نہیں رکھ پائے گا۔۔۔۔ “
زوہان اُس کا ملائم گال ہولے سے تھپتھپاتا اُس کی کلائی آزاد کرگیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جلدی سے پیچھے ہٹتی درمیان میں فاصلہ بنا گئی تھی۔۔۔ اُس کی اِس پھرتی پر زوہان زیرِ لب مسکرایا تھا۔۔۔
“ابھی جتنی احتیاطی تدابیر کرنی ہیں کر لو۔۔۔۔۔ کیونکہ بعد میں یہ سب نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
زوہان اُسے جتاتی نظروں سے دیکھتے پلٹا تھا۔۔۔
“جب آپ مجھ سے اور میرے خاندان سے اتنی نفرت کرتے ہیں تو اب بھی میرے ساتھ وہ رشتہ قائم کیوں کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ ایسے رشتے تو محبت کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں۔۔۔ نفرت کی بنیاد پر نہیں۔۔۔۔”
زنیشہ اُس سے کچھ اُگلوانا چاہتی تھی جو شاید اُس کے بے چین دل کو قرار بخش جاتا۔۔۔۔
“مگر ملک زوہان کو اپنی زندگی کا ہر رشتہ نفرت کی بنیاد پر رکھنا ہی آتا ہے۔۔۔۔ میران پیلس کے ہر فرد سے نفرت کرتا ہوں میں شدید نفرت سوائے تمہارے۔۔۔۔ مگر اِس کا یہ مطلب مت سمجھنا کہ ملک زوہان محبت کرتا ہے تم سے۔۔۔۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔ میران پیلس کی چہیتی زنیشہ میران ملک زوہان کی محبت کے قابل نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ اِس خوش فہمی کو اپنے دل میں جگہ مت دینا۔۔۔۔ تمہیں حاصل کرنے کی وجہ صرف میری ضد ہے۔۔۔۔۔ میری غیرت گنوارہ نہیں کرتی میری منگ کسی اور کی جھولی مین ڈال دی جائے۔۔۔ میں اپنی شے خراب کرکے پھینکنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔۔۔۔۔ مگر کسی اور کا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔ تم تو پھر ایک جیتی جاگتی انسان ہو۔۔۔۔ تمہیں کیسے اپنے دشمنوں کے پاس دیکھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ “
زوہان پل بھر میں اپنی نگاہوں میں اُس کی حیثیت ظاہر کرتا اُسے آسمان سے زمین پر پٹخ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کی گالوں پر بہتی آنسوؤں کی لڑیاں دیکھے بنا وہ وہاں سے جاچکا تھا۔۔۔ جبکہ زنیشہ کتنے ہی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہوچکا تھا۔۔۔۔
وہ جانتی تھی ملک زوہان سنگدل، ظالم، بے حس اور گھمنڈی انسان ہے۔۔۔۔ جو اُس سے محبت ہونے کے باوجود نہیں بولے گا کہ اُس سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ مگر آج جو لفظ اُس نے ادا کیے تھے۔۔۔ زنیشہ اپنا دل چھلنی ہونے سے نہیں روک پائی تھی۔۔۔
وہ بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی خود کو کافی حد تک کمپوز کرتی آفس سے نکل آئی تھی۔۔۔۔ جہاں مزمل کھڑا اُس کے انتظار میں تھا۔۔۔۔
“ایڈیٹ۔۔۔ کیسے باڈی گارڈ ہو تم؟؟؟….. تمہیں لالہ نے اِسی لیے رکھا ہے نا کہ فل ٹائم میرے ساتھ رہو۔۔۔۔ میں اتنی دیر سے اندر تھی سر بھی آفس سے نکل گئے۔۔۔۔ تمہیں زرا خیال نہیں آیا کہ اندر جاکر دیکھ لو۔۔۔۔ میں کس جلاد کے پاس پھنسی کھڑی ہوں۔۔۔۔ لگتا ہے صرف باڈی ہی بنائی ہے۔۔۔ عقل نام کی چیز ہی نہیں ہے تم میں۔۔۔۔۔ “
زنیشہ زوہان کی ساری فرسٹیشن مزمل پر نکالتی غصے سے بولتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ مزمل اُس کی لال آنکھوں پر ایک نگاہ ڈالتا بنا کچھ بولے خاموشی سے اُس کے پیچھے چل دیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“گڈ مارننگ ڈیڈ۔۔۔۔۔”
منہاج درانی جم سے نکلتا سیدھا ڈرائنگ روم میں آیا تھا۔۔۔۔ جہاں شہاب درانی اُسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔۔۔۔ وہ اُس کے بغیر ناشتہ شروع نہیں کرتے تھے۔۔۔۔
“گڈ مارننگ مائی سن۔۔۔۔۔ آج زیادہ دیر نہیں لگا دی۔۔۔۔”
شہاب درانی محبت بھری نظروں سے اپنے فٹ اور ہینڈسم کو دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔۔
“سوری آپ کو ویٹ کرنا پڑا۔۔۔۔ آئیں ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔۔”
منہاج اُنہیں اتنی دیر سے انتظار میں بیٹھا دیکھ شرمندہ سا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں باتیں کرتے ایک ساتھ ڈائننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئے تھے۔ جو ابھی ملازمین سجا کر گئے تھے۔۔۔۔
“بوا جی کہاں ہیں؟ اُنہوں نے ناشتہ نہیں کرنا کیا؟؟…”
منہاج کو کلثوم بیگم کا خیال آیا تھا۔۔۔۔ جو اِس بڑے سے عالیشان بنگلے کا تیسرا فرد تھیں۔۔۔۔
منہاج کی مدر کی کچھ عرصے پہلے ڈیتھ ہوچکی تھی۔۔۔۔ جس کہ بعد اُس کی بیوہ پھوپھو کلثوم بیگم نے ہی درانی مینشن کا اچھے سے خیال رکھا تھا۔۔۔۔ اور اب تک رکھتی آرہی تھیں۔۔۔ شہاب درانی کے دو بیٹے تھے۔۔۔ بڑا منہاج درانی اور چھوٹا شہریار درانی۔۔۔۔ شہاب درانی کا شمار ملک کے نامور سرجنز میں ہوتا تھا۔۔۔۔ وہ ہارٹ سپیشلسٹ تھے۔۔۔۔ منہاج کی پیدائش کے بعد اُنہوں نے اُس کے نام پر اپنا ایک ہاسپٹل تعمیر کروایا تھا۔۔۔ جو کہ اُن کی محنت اور سچی لگن کی وجہ سے اب ملک کے ٹاپ کے ہاسپٹلز میں جانا جاتا تھا۔۔۔۔ میڈیکل کے ہر سٹوڈنٹ کا خواب اُسی ہاسپٹل میں پریکٹس کرنے کا ہوتا تھا۔۔۔ شہاب درانی اب وہاں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے جدید مشینریز لانے والے تھے جو پہلی بار یہاں کہ کسی ہاسپٹل میں لائی جارہی تھیں۔۔۔۔۔ اِس لیے وہ اب پہلے سے زیادہ اِس کام میں مصروف تھے۔۔۔ منہاج بھی اہم بی بی ایس کا سٹوڈنٹ تھا۔۔۔۔ شہاب درانی کی خواہش تھی کہ منہاج اُن کے نقشِ قدم پر چل کر اُن سے بھی بڑا ہارٹ سپیشلسٹ بنے۔۔۔۔ منہاج ہمیشہ اپنی سٹڈیز اور باقی ایکٹیوٹیز میں جبکہ شہریار ہاسٹل میں ہی رہتا تھا۔۔۔ درانی مینشن کی ساری دیکھ بھال کی زمہ داری کلثوم بیگم کی ہی تھی۔۔۔
“اُن کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ تو پہلے ہی ناشتے کے بعد دوا لے کر سوگئی ہیں۔۔۔۔ تم سناؤ آج کل کہاں گم رہتے ہو۔۔۔۔۔”
شہاب درانی نے گہری جانچتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے نوٹ کررہے تھے منہاج کافی ڈسٹرب سا ہے۔۔۔۔ کچھ دنوں سے نہ صبح ناشتے کے ٹیبل پر ملتا تھا اور نہ ہی رات کو ڈنر کے ٹائم پر۔۔۔۔
دو دن سے میٹنگ کے سلسلے میں دبئی گئے ہوئے تھے۔۔۔ کلثوم بیگم سے ہی اُنہیں پتا چلا تھا کہ منہاج ٹائم پر گھر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ جو بات اُن کے لیے کافی فکرمندی کا باعث تھی۔۔۔ اُنہوں نے ہمیشہ منہاج کے ساتھ دوستانہ رویہ ہی رکھا تھا۔۔۔ اُن دونوں کے درمیان باپ بیٹے کے رشتے سے زیادہ بے تکلفی تھی۔۔۔۔ شہاب درانی اُس کی پریشانی کی وجہ جاننا چاہتے تھے۔۔۔۔ وہ چاہتے تھے منہاج ہمیشہ کی طرح اب بھی کھل کر اُن سے اپنا مسئلہ شیئر کرے۔۔۔۔
“سٹڈی میں ہی بزی رہتا ہوں۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں میڈیکل کی پڑھائی کتنی ٹف ہے۔۔۔۔۔”
منہاج لاپرواہی بھرے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔۔
“یہ پڑھائی تو پچھلے پانچ سالوں سے چل رہی ہے۔۔۔۔ اچانک اتنی ٹف ہوگئی کہ میرا بیٹا رات رات بھر گھر سے باہر رہنے لگ گیا۔۔۔۔۔”
شہاب درانی جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے اُس پر گہرا طنز کر گئے تھے۔۔۔۔
منہاج نے جواباً مسکرا کر اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
تو مطلب آپ سخت گیر باپ بننے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔۔”
منہاج جانتا تھا وہ اُس سے کتنا پیار کرتے تھے۔۔۔ اُس کے چہرے پر دکھ کا شائبہ تک نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔ اِس لیے وہ اپنے اندر کی اذیت اُن سے چھپاتا اُن کی بات مذاق میں اُڑا گیا تھا۔۔۔۔
مگر یہ بھی سچ تھا کہ منہاج درانی بہت ڈسٹرب تھا۔۔۔۔ وہ محبت کا روگ لگا بیٹھا تھا۔۔۔ جس کی تکلیف کسی پل اُسے چین نہیں لینے دے رہی تھی۔۔۔۔ وہ چاہنے کے باوجود اُس دھوکے باز لڑکی کو اپنے دل سے نہیں نکال پارہا تھا۔۔۔۔
اُس کی اصلیت جان لینے کے بعد بھی وہ اُس سے نفرت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔
“کاش سخت گیر باپ بن کر ہی اپنے لاڈلے کے اِس اُداس چہرے کی رونقیں واپس لے آتا۔۔۔۔ جو پچھلے دو مہینوں میں بہت بڑھ گئی تھیں۔۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے میری ہی نظر لگ گئی تمہیں۔۔۔۔ “
شہاب درانی باپ تھے بیٹے کی مصنوعی ہنسی کے پیچھے چھپی تکلیف باآسانی دیکھ پارہے تھے۔۔۔۔
” بابا پلیز آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں؟…. میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ صرف سٹڈی کا سٹریس ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔ فائنل ائیر چل رہا اِس لیے۔۔۔۔”
منہاج اب قدرے سنجیدگی سے بولا۔
“اُس لڑکی سے کب ملوا رہے ہو۔۔۔۔۔”
شہاب درانی نے بات کا رُخ اُسی سائیڈ موڑا تھا۔۔۔ جہاں وہ لے جانا چاہتے تھے۔۔۔۔
جب نوالہ منہ کی جانب لے جاتا منہاج کا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔۔۔۔
“کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ بہت غلط راستے پر چل نکلا تھا میں۔۔۔۔ مگر اللہ کا شکر ہے وقت رہتے سنبھل گیا میں۔۔۔۔ بابا مجھے یونی کے لیے لیٹ ہورہا ہے۔۔۔۔ شام میں ملاقات ہوتی ہے۔۔۔۔۔”
منہاج سرد تاثرات کے ساتھ جواب دیتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@@@@@
حاعفہ نے اپنی اندرونی گھبراہٹ پر قابو پاتے سامنے کھڑی بڑی سی عمارت کے اندر قدم رکھا تھا۔۔۔۔ وہاں لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف آجا رہے تھے۔۔۔ کسی کو دوسرے کا ہوش نہیں تھا۔۔۔
حاعفہ کا بچپن سے لے کر اب تک کا وقت کوٹھے پر ہی گزرا تھا۔۔۔۔اگر وہ وہاں سے نکلی تھی تو صرف پڑھائی کے لیے۔۔۔ اُس کے علاوہ نہ کہیں گئی تھی۔۔۔ نہ ایسی جگہوں پر لوگوں سے ڈیل کرنا اُسے آتا تھا۔۔۔۔ یہ سب اُس کے لیے نیا تھا۔۔۔۔۔
مگر اُس کی گھبراہٹ کی وجہ لوگوں کی یہ بھیڑ نہیں تھی۔۔۔۔ بلکہ آژمیر میران سے سامنا تھا۔۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ ریسیپشن کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔ اُس نے خود کو سیاہ شال میں لپیٹ رکھا تھا۔۔۔ جس سے صرف اُس کا سُندر مکھڑا ہی جھانک رہا تھا۔۔۔۔ سیاہ رنگ میں اُس کی دودھیا رنگت مزید دھمک رہی تھی۔۔۔۔ بنا میک اپ کے اُس کا حُسن مزید نکھر کر سامنے آتا تھا۔۔۔۔۔
ریسیپشن پر کھڑی لڑکی جو پہلے تو اُس کے حلیے کی وجہ سے اُسے عجیب نظروں سے گھورتی رہی تھی۔۔۔۔ اُس کے نام بتانے پر اُسے آژمیر کے آفس کی سمت جانے کا اشارہ کردیا تھا۔۔۔۔
شاید آژمیر اُسے پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا۔۔۔۔
اُس لڑکی نے آژمیر کا آفس اُوپر والے پورشن پر بتایا تھا۔۔۔۔ جہاں جانے کے لیے سب لوگ الیکڑک سٹئیرز کا استعمال کررہے تھے۔۔۔۔ حاعفہ نے آج تک سٹیئرز کا یوز نہیں کیا تھا۔۔۔۔ اُس نے باقی سب کو دیکھتے جھجھکتے ہوئے پیر اُس پر رکھ دیا تھا۔۔۔ وہ ہولے سے لڑکھڑائی تھی مگر سائیڈ پر بنی سپورٹ کا سہارا لیتے اُس نے خود کو گرنے سے محفوظ رکھا تھا۔۔۔۔
“کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔۔”
حاعفہ کو خجالت سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اگر اُسے یہاں آژمیر میران کے ساتھ کام کرنا پڑا تو وہ یہاں سروائیو کیسے کرے گی۔۔۔۔

اپنے خیالوں میں کھوئے وہ بھول گئی تھی کہ اُسے اِن سٹیئرز سے اُترنا بھی ہے۔۔۔ جب اچانک اُوپر پہنچ جانے کا احساس ہوتے وہ ہ بوکھلا گئی تھی۔۔۔ خوف کے عالم میں پیر پھنس جانے کے ڈر سے اُس نے فرش پر پیر جمانے چاہے تھے، مگر وہ بُری طرح لڑکھڑا گئی تھی۔۔۔۔ اِس سے پہلے کے وہ کھڑے قد سے پیچھے جا گرتی کسی نے اُسے گرنے سے بچانے کے لیے اُس کی کلائی تھام کر اپنے نجانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔

اگلے ہی لمحے حاعفہ کسی کی مضبوط بانہوں کے حصار میں تھی۔۔۔۔ وہ اِس وقت اِس قدر خوف کے زیرِ اثر تھی۔۔۔۔ کہ کچھ لمحے اُس کا دماغ کچھ سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی اپنے گرد کسی کی بانہوں کا حصار محسوس ہوا وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں اُس ے سے جدا ہوئی تھی۔۔۔۔ بنا شکل دیکھے وہ اپنی سانسوں میں اُترتی مہک سے ہی پہچان گئی تھی کہ مقابل شخص کون ہے۔۔۔۔

“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔”

آژمیر اُس کا زرد پڑتا چہرا دیکھ فکرمندی سے بولا تھا۔۔۔ وہ اُس کے خوف کی وجہ سمجھ گیا تھا۔

حاعفہ سر اثبات میں ہلاتی واپس جھکا گئی تھی۔۔۔

“آئیں میرے ساتھ۔۔۔۔۔”

آژمیر اُسے نرمی سے اپنے ساتھ آنے کا کہتا اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔ وہ اِس وقت آفس کا وزٹ کرنے نکلا ہوا تھا۔۔۔ جب اُس کی نظر حاعفہ پر پڑی تھی۔۔۔ وہ اُسی کی جانب آرہا تھا جب اُسے نیچے گرتا دیکھ وہ خود کو اُسے تھامنے سے نہیں روک پایا تھا۔۔۔۔

حاعفہ اُس کی چوڑی پشت کو گھورتی اُس کے پیچھے چل دی تھی۔۔ جب آژمیر نے جدید آرائش سے سجے ایک شاندار آفس میں قدم رکھا تھا۔۔۔۔ حاعفہ تو اُس کی بناوٹ دیکھ کر ہی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھی۔۔۔۔ آژمیر بڑے سے شیشے کے ٹیبل کے پڑے رکھی چئیر پر براجمان ہوتے اُسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کر گیا تھا۔۔۔۔

حاعفہ خاموشی سے کرسی پر ٹک گئی تھی۔ اور اپنے ہاتھ میں تھامی فائل اُس کی جانب بڑھا دی تھی۔۔۔۔ جہاں کسی بھی چیز میں اُس کا ایکسپیرینس نِل تھا۔۔۔۔ حاعفہ کو یہی لگا تھا کہ وہ اُسے ابھی ہی وہاں سے واپس لُٹا دے گا۔۔۔ اتنے بڑے آفس میں، اتنے پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان بھلا اُس کی جگہ کہا ہوسکتی تھی۔۔۔۔ آژمیر میران اُس پر ترس کھا کر اُسے اپنے آفس میں باورچی کی جاب ہی دینے والا تھا شاید۔۔۔۔

“کیا آپ میرے آفس میں کام کرنا چاہیں گی؟ آپ کو یہاں مکمل عزت اور تخظ ملے گا۔ آپ کو میری سیکریٹری کے طور پر جاب کرنی ہوگی۔ اگر آپ اِس میں کمفرٹیبل ہیں تو۔۔۔۔۔”

آژمیر اُنگلیوں میں پین گھماتا اُس سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔۔ حاعفہ نے حیرت بھری نگاہیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ مگر اُس کی نگاہیں خود پر نرکوز دیکھ۔۔۔ واپس سر جھکا گئی تھی۔۔۔۔

اُس کے ہاتھوں پر ہمیشہ کی طرح آژمیر کی موجودگی میں لرزہ طاری ہوچکا تھا۔۔۔۔ اُس نے دونوں ہاتھ کی اُنگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے اُن کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔

“سر میرے لیے یہ جاب بھی بہت بڑی ہے۔۔۔۔ پچھلی سے تو کہیں گنا بہتر۔۔۔۔ آپ میری اتنی مدد کررہے ہیں۔۔۔ میں اُس کے لیے آپ کی ہمیشہ مشکور رہوں گی۔۔۔۔”

حاعفہ چہرے پر بشاشت طاری کیے ہولے سے مسکرا کر اُس سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔

اُس کے مسکرانے پر اُس کی دونوں گالوں پر اُبھرنے والے گڑھے اتنا دلفریب منظر پیش کررہے تھے کہ آژمیر کو بے اختیار اُس کے چہرے سے نظریں چرانی پڑی تھیں۔۔۔

“اوکے آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں۔۔۔ ظفر باہر موجود ہے وہ آپ کو جاب کے حوالے سے باقی ساری ڈیٹیلز سمجھا دیں گے۔۔۔۔”

آژمیر نے لیپ ٹاپ اپنے سامنے رکھتے اُسے جانے کا بول دیا تھا۔ حاعفہ کے فائل اُٹھاتے ہاتھوں کی لرزش آژمیر کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر اپنی جھلک دیکھاتی معدوم ہوئی تھی۔۔۔

وہ خود سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر یہ لڑکی اُس سے اتنا ڈرتی کیوں تھی۔۔۔۔ حلانکہ وہ تو اپنے مزاج کے بر خلاف ہر ملاقات میں اُس سے انتہائی نرمی سے پیش آتا تھا۔۔۔ جو کہ اُس کے مزاج کا خاصہ بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ مگر حاعفہ کا دھیما مزاج اُس کی نرم پرسوز آواز۔۔۔۔ ہمیشہ نگاہیں جھکا کر بات کرنا۔۔۔۔ آژمیر میران کی دلچسپی اپنی جانب بڑھا رہا تھا۔۔۔۔ اور سب سے زیادہ جس چیز نے آژمیر کو زیادہ افیکٹ کیا تھا۔۔۔۔ وہ تھا اُس کا خود کو ڈھکے رکھنا۔۔۔۔ اِسی لیے اُس دن اُسے بے پردہ دیکھ وہ خود پر ضبط نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔ اور پھر اُسے بنا سوچے سمجھے اپنے آفس میں جاب دے گیا تھا۔۔۔

“تھینکیو سو مچ سر۔۔۔۔ “

حاعفہ اُس کا شکریہ ادا کرتی اُٹھی تھی۔۔۔ اور بے دھیانی میں کرسی کی بیک سے اُلجھا اپنی شال کا پلو نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ وہ ایک قدم ہی آگے بڑھی تھی۔۔۔ جب اُس کی شال میں کھنچاؤ پیدا ہوا تھا۔۔۔ اور اُس کے سر سے شال پھسل کر شانوں پر ڈھلک گئی تھی۔۔۔۔

اُس کے منہ سے نکلی ہلکی سے “آہ ” پر آژمیر نے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ مگر اُس کی سیاہ گھنی حسین زلفوں پر نظر پڑتے ہی آژمیر کی نگاہیں بے خودی میں اِن گہری دلفریب گھٹاؤں پر ساکت ہوئی تھیں۔۔۔

یہ لڑکی سراپا قیامت تھی۔۔۔ آژمیر گہری سانس بھرتا نظریں فوراً پھیر گیا تھا۔۔۔

مگر وہ بھی آژمیر کے لیے کسی آزمائش سے کم ثابت نہیں ہورہی تھی۔۔۔ ابِھی تک اُسی پوزیشن میں کھڑی وہ پلو نکالنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ جو نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔

آژمیر زیادہ دیر خود کو اِس سب سے اجنبی نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔۔۔

اُسے اُٹھتا دیکھ حاعفہ کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔ وہ اتنی دیر سے کوشش کے باوجود اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کی وجہ سے پلو نکال ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔

مگر اب آژمیر کو اپنے قریب آتا دیکھ اُس نے ہاتھوں کو مُٹھیوں کی صورت بھینچ لیا تھا۔۔۔۔ آژمیر نے تو اب تک اُس کے سامنے شرافت کا مظاہرہ ہی کیا تھا۔۔۔ پھر اب وہ کیوں قریب آرہا تھا۔۔۔۔
لیکن آژمیر کے اگلے عمل نے حاعفہ کے شکوک و شبہات کا جواب دے دیا تھا۔۔۔ وہ اُس کے قریب اُس کی مدد کرنے آیا تھا۔۔۔ چیئر کے کیل میں پھنسی اُس کی شال آزاد کرواتے ہوئے بھی وہ اُس سے کافی فاصلے پر تھا۔۔ حاعفہ نے پلکوں کی بھاری باڑ اُٹھاتے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔

اپنے پورے ہوش و حواس میں پہلی بار وہ اُسے اپنے قریب دیکھ رہی تھی۔۔ آژمیر کے وجود سے اُٹھتی مسحورکن خوشبو اُسے جکڑنے لگی تھی۔۔۔۔
“سنبھل کر۔۔۔۔ “
آژمیر اُس کا پلو آزاد کرواتا سیدھا ہوا تھا۔۔۔ اُس کے مختصراً ادا کیے الفاظ کا اصل مطلب حاعفہ باآسانی سمجھ پائی تھی۔۔۔۔
“سوری سر۔۔۔۔ “
اُس کے سرد و سپاٹ انداز پر حاعفہ اُس سے جلدی سے معافی مانگتے وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔ اِس ساحر کے پاس زیادہ دیر کھڑے ہونا حاعفہ کو خطرے سے خالی نہیں لگا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔