No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
آژمیر کتنے ہی لمحے اُسے ایسے ہی مبہوت سا تکے گیا تھا۔۔۔ وہ اُس لمحے واقعی ہوش میں نہیں تھا۔۔۔ ورنہ ایسی بے اختیار حرکت وہ کبھی سر زد نہ کرتا۔۔۔ جب دوبارہ ہوتی اناؤنسمنٹ پر اُس کا سحر ٹوٹا تھا۔۔۔
وہ ہولے سے اُس کے کان کے قریب جھکا تھا۔۔۔۔
“اٹس اوکے۔۔ آئم دیئر۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
نجانے کس احساس کے زیرِ اثر وہ اُسے اپنے ہونے کا یقین بخش گیا تھا۔۔۔۔
بے انتہا قریب سے آتی آژمیر کی گھمبیر بھاری آواز اور چہرے ہر محسوس ہوتی اُس کی سانسوں کی تپیش حاعفہ کی دھڑکنیں منتشر کر گئی تھیں۔۔۔
حاعفہ نے گھنی پلکوں کی باڑ اُٹھاتے مڑ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
اِس لمحے اُسے آژمیر کی آنکھوں میں اپنے لیے ایک انوکھی کشش دیکھائی دی تھی۔۔۔ جس کے بارے میں شاید فلحال وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
حاعفہ کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔ وہ یہی تو چاہتی تھی پھر اُس کا دل اتنا خوفزدہ کیوں ہورہا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی سوچوں میں اُلجھی اُسے بے خودی میں تکے گئی تھی۔۔۔ جو آج اُس کے بہت قریب بیٹھا تھا۔۔۔ جس کے پاس ہوتے اُسے واقعی کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔ مگر وہ خوفزدہ تھی ، آژمیر میران کے اندر اپنے لیے سر اُٹھاتے محبت بھرے جذبوں سے خوفزدہ تھی۔۔۔ وہ اِس صاف دل، پیارے انسان کو اپنی وجہ سے ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ اِس شخص کی محبت میں دیوانی ہوتی وہ کب کا اپنا مقصد بھول چکی ہوتی اگر بات ماورا کی سیفٹی کی نہ ہوتی۔۔۔۔
آژمیر میران اُس کی زندگی کی وہ لاحاصل خواہش بنتا جارہا تھا جس کی تکمیل حاعفہ نور کی زندگی میں ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔ آژمیر میران جیسا غیرت مند مرد اُس جیسی طوائف زادی پر نگاہ ڈالنا بھی پسند نہ کرتا۔۔۔۔
اور جو دھوکا وہ اُس کے ساتھ کررہی تھی اُس کے بعد تو آژمیر میران اصلیت جاننے کے بعد اُسے اپنے ہاتھوں سے ختم کردیتا۔۔۔ اتنا تو وہ اُسے جان چکی تھی۔۔۔ دھوکے باز شخص کو وہ کبھی معاف نہیں کرتا تھا۔۔۔
“سیٹ بیلٹ۔۔۔۔۔”
آژمیر کی پکار نے حاعفہ کا سکتہ توڑا تھا۔۔۔ وہ اپنی حرکت پر پزل ہوتی فوراً نگاہیں جھکا گئی تھی۔۔۔ کیونکہ اُس کا یوں دیوانہ وار بے خود ہوکر دیکھنا آژمیر بہت اچھی طرح سے نوٹ کرچکا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اُس کی نگاہوں کی تپیش اور اپنی حرکت پر شرمندہ ہوتی اِس قدر کنفیوز ہوچکی تھی۔۔ کہ اُس سے سیٹ بیلٹ باندھنا تو دور تھاما بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔
آژمیر زیرک نگاہ رکھنے والا شخص تھا۔۔ اپنے قریب آنے پر وہ ہمیشہ سے حاعفہ کا نارمل سے ہٹ کر رویہ نوٹ کرتا آیا تھا۔۔۔ جسے اُس نے اپنی غلط فہمی سمجھ کر اگنور ہی کیا تھا۔۔ مگر آج کی حاعفہ کی کیفیت اگنور کرنے والی بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔
“ویٹ۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی جانب جھکتا اُس کے ہاتھ سے سیٹ بیلٹ تھام گیا تھا۔۔۔
حاعفہ ایک بار پھر آژمیر کے قریب ہونے پر اپنی سانسیں نارمل رکھنے کی ناکام کوشش کرتی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کا شمار لگانے لگی تھی۔۔۔
حاعفہ کو اپنے آپ پر ہی ترس آنے لگا تھا کہ اِس شخص کی زرا سی قربت پر اُس کا کیا حال ہورہا ہے جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں بھیجا گیا ہے وہ کرتے تو اُس نے فوت ہی ہوجانا ہے۔۔۔۔
آژمیر اُس کا سیٹ بیلٹ باندھنا پیچھے ہٹا تھا۔۔۔ اُس کی مسحور کن خوشبو حاعفہ کو اپنے حصار میں پوری طرح جکڑ گئی تھی۔۔۔
جہاز ٹیک آف کرنے والا تھا اور حاعفہ کی رنگت لمحہ با لمحہ زرد پڑتی جارہی تھی۔۔۔ اُسے یہ بھی خوف تھا کہ کہیں ڈر کے مارے اُس کے منہ سے چیخ نہ نکل جائے۔۔۔
آژمیر ناک کی سیدھ میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ مگر اُس کا پورا دھیان حاعفہ کی غیر ہوتی حالت پر تھا۔۔۔ جہاز میں اتنا خوفزدہ اُس نے آج تک کسی کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
حاعفہ کو اُس نے ہمیشہ اپنی ایک آفس ورکر ہی سمجھا تھا۔۔۔ مگر آج دل کی اچانک بدلتی کیفیت اُس کی سمجھ سے بالا تر تھی۔۔
اُس نے پلٹ کر حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو تقریباً رو دینے کو تھی۔۔ اُسے بے اختیار اِس لڑکی پر رحم آیا تھا۔۔۔
“ڈر لگ رہا ہے۔۔۔؟”
اُس کی جانب ہلکا سا رُخ موڑتے آژمیر نے شاید پہلی بار اتنی نرمی سے اُس سے بات کی تھی۔۔۔
حاعفہ نے لب کاٹتے آنسو پینے کی کوشش کرتے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا تھا۔۔۔ اُسے لگ رہا تھا، خوف کے مارے اُس کا ہارٹ فیل ہوجائے گا۔۔۔
“لک اِن ٹو مائی آئیز۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے گھمبیر لہجے میں کہا تھا۔۔۔ حاعفہ تو پہلے سے ہی پور پور اُس کی محبت میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔ اُس کے زرا سا توجہ دینے پر اُس کی جانب کھینچی چلی گئی تھی۔۔۔۔
جہاز ٹیک آف ہوا تھا۔۔۔ جب حاعفہ نے گھبرا کر بے اختیار آژمیر کا بازو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔۔۔ اور پھر وہ دیوانی بھول گئی تھی کہ وہ کس دنیا میں ہے۔۔۔ اُس کے لیے دنیا کا یہ سب سے بڑا فریب ہی حقیقت لگنے لگا تھا۔۔۔ وہ ہمیشہ کے لیے اِن خوش قسمت ترین لمحوں میں قید ہوکر رہنا چاہتی تھی۔۔۔
“ایوری تھنگ از آل رائٹ۔۔۔”
آژمیر کی آواز نے اُس کا سحر توڑا تھا۔۔۔ اُس نے فوراً آژمیر کی جانب سے نظریں پھیری تھیں۔۔۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑکتا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار ہوچکا تھا۔۔۔ ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں جگمگانے لگی تھیں۔۔۔۔
وہ اِس وقت اتنی بوکھلا چکی تھی۔۔۔ کہ آژمیر کا بازو چھوڑنا بھول چکی تھی۔۔۔ اُس کی گرفت آژمیر کے بازو پر پہلے سے زیادہ سخت ہوچکی تھی۔۔۔
آژمیر خاموش نگاہوں سے حاعفہ کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
“سر واٹر۔۔”
ائیر ہوسٹس کی پکار پر آژمیر اُس جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔ جو چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ سجائے اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ائیر ہوسٹس کی بات پر حاعفہ نے آژمیر کا بازو چھوڑتے فوراً ہاتھ کھینچ لیا تھا۔۔۔ اُس کا اِس وقت اپنی بے وقوفیوں پر شرم سے ڈوب مرنے پر دل چاہ رہا تھا۔۔۔
آژمیر نے پانی کی بوتل اُس کی جانب بڑھائی تھی۔۔ حاعفہ نے لرزتے ہاتھوں سے تھام لی تھی۔۔ اِس کی اُسے اِس وقت سخت ضرورت تھی۔۔۔
“سر آپ اور آپ کی مسز چائے لیں گے یا کافی۔۔۔۔”
ائیر ہوسٹس کو یہ کپل بہت پسند آیا تھا اور ایک دم پرفیکٹ لگا تھا۔۔۔
نازک سی چھوئی موئی بیوی اور اٹیچوز بھرا مغرور مگر بہت ہی کیئرنگ ہزبینڈ۔۔۔
اُس کی بات پر جہاں پانی پیتی حاعفہ کو زور کا اچھو لگا تھا وہیں آژمیر نے سخت قسم کی گھوری سے نوازا تھا اُسے۔۔۔
“شی از ناٹ مائی وائف۔۔۔ “
آژمیر کا انداز اتنا سرد تھا کہ ائیر ہوسٹس بھی گھبرا گئی تھی۔۔۔ حاعفہ کو ائیر ہوسٹس کی بات نے جو پل بھر کی تسکین دی تھی۔۔ آژمیر اُسے بہت بے دردی سے جھٹلاتا حقیقت کی دنیا میں پٹخ گیا تھا۔۔ اُس نے بالکل ٹھیک کیا تھا۔۔۔ مگر حاعفہ کی آنکھوں میں نمکین پانی بھر گیا تھا۔۔۔ اُس کا دل ایک دم بوجھل ہوا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے کے حسین لمحوں کا فسوں زائل ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔۔
“نیکسٹ ٹائم بی کیئر فل اِن یور ورڈز۔۔۔۔ آپ جاسکتی ہیں یہاں سے، کچھ چاہئے ہوگا تو بول دیں گے آپ کو۔۔۔”
آژمیر نے سخت لہجے میں ائیر ہوسٹس کو وارن کرتے وہاں سے بھیج دیا تھا۔۔۔
حاعفہ نے اُس کے بعد مڑ کر آژمیر کی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔۔ اُسے آژمیر کا موڈ اِس وقت بہت خراب لگ رہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر نے بھی اُس کے بعد اُس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔ اور جتنی بے وقوفیاں ابھی تھوڑی دیر میں وہ کر چکی تھی۔۔۔ یہ ہونا تو بنتا تھا۔۔۔
@@@@@@@@
ماورا ایک ہی جھٹکے میں اُس مضبوط گرفت کے ساتھ کھینچی چلی گئی تھی۔۔ ہونٹوں پر جمی ہتھیلی کی وجہ سے وہ اپنی مدد کے لیے کوریڈور کے دوسرے سرے پر کھڑے سٹوڈنٹس کو پکار نہیں پائی تھی۔۔ کسی انہونی کے خوف سے اُس کا دل لرزنے لگا تھا۔۔۔
اُس نے اِس آہنی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے ہاتھ پیر چلائے تھے۔۔۔ مگر تب تک دوسری جانب موجود شخص اُسے پوری طرح اپنے قبضے میں لیتا دروازے کے ساتھ لگا کر لاک کرچکا تھا۔۔۔
ماورا اپنے آپ کو چھڑوانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔ جب مقابل شخص نے اپنی گرفت مزید سخت کرتے اُس کی رہی سہی مزاحمت بھی ختم کردی تھی۔۔۔
ماورا نے گرفت کی سختی پر بلبلاتے چہرا اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جہاں سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ جہاں اُس کا خوف کم ہوا تھا۔۔۔ وہیں کچھ دیر پہلے کا منظر یاد کرتے آنکھوں میں چنگاریاں بھڑک اُٹھی تھیں۔۔۔
“کیا ہوا مسز؟ میرا کسی اور لڑکی کے قریب جانا برداشت نہیں کرپائی تم۔۔۔۔”
منہاج اُس کے ماتھے پر پھسل آئے بال کو پھونک مار کر پیچھے ہٹاتا شوخی سے بولا تھا۔۔ مگر نہ ماورا کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا اور نہ اُس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تھا۔۔۔
ماورا اُسے خونخوار آگ اُگلتی نگاہوں سے گھورنے کے سوا کچھ نہیں کر پارہی تھی۔۔۔
“قسم سے یوں پر کٹی چڑیا کی طرح میری گرفت میں پھڑپھڑاتی تم میرے جذبات اور احساسات میں کیسا طوفان برپا کررہی ہو کاش میں اپنے عمل سے بتا پاتا۔۔۔۔”
منہاج ناک سے اُس کے گلابی گال کو ٹچ کرتا ماورا کو پورا لال کر گیا تھا۔۔۔ اُس کی یہ بڑھتی گستاخیاں ماورا کا پارہ مزید چڑھا رہی تھیں۔۔۔
“میں ہاتھ ہٹانے لگا ہوں۔۔۔ اگر تم چلائی تو میں جس انداز میں تمہیں چپ کرواؤں گا وہ شاید تمہیں پسند نہ آئے۔۔۔”
منہاج معنی خیزی سے کہتا اُس کے ہونٹ آزاد کرگیا تھا۔۔۔۔
اُس کے بے باک الفاظ اور انداز ماورا کے کانوں سے دھواں نکال گئے تھے۔۔۔
“تم سے زیادہ گھٹیا شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا۔۔۔۔ تمہیں شرم آنی چاہئے غیر لڑکیوں کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے۔۔۔”
ماورا کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔ ابھی اور اِسی وقت شوٹ کردے اِس شخص کو۔۔۔ جو اُس کی محبت کی سزا بن چکا تھا۔۔۔
گہرے گہرے سانس لیتی وہ منہاج کو اچھا خاصہ تپا گئی تھی۔۔۔
“گھٹیا کون ہے یہ بتانے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔ کیا کیا میں نے غیر لڑکیوں کے ساتھ؟؟ رات کی تاریکی میں اُن کا سودا تو نہیں کیا نا۔۔۔۔ اور نہ ہی اُن کی عزت۔۔۔۔۔”
منہاج اُس کے گھٹیا کہنے پر طیش میں آیا تھا۔۔۔ وہ اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا اُس کی ذات پر ایک بار پھر گہرا وار کرگیا تھا۔۔۔۔
دانت بھینچتے اُس نے خود کو سنگین الفاظ ادا کرنے سے روکا تھا۔۔۔
جبکہ ماورا آنکھوں میں آنسو بھرے افسوس بھری نظروں سے اُس کی جانب دیکھے گئی تھی۔۔۔ جس حوالے سے وہ ہمیشہ دور بھاگتی رہی تھی۔۔ یہ شخص ہر بار وہ کڑوی سچائی طمانچے کی طرح اُس کے منہ پر دے مارتا تھا۔۔۔
“تم جانتے ہو منہاج درانی۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ ایک ہی نصحیت ملی، کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے مرد ذات پر کبھی بھروسہ مت کرنا اور محبت۔۔۔۔ وہ تو گناہ ہے تمہارے لیے۔۔۔۔ آج تک میں نے مردوں کے بُرے رُوپ ہی دیکھے۔۔۔
مگر تمہیں دیکھ کر، تم سے مل کر مجھے لگا نہیں سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔۔۔ تم اُن مردوں جیسے بالکل بھی نہیں ہو۔۔۔ تم عورت کی عزت کرنا، اُسے محبت دینا، اُسے اُس کا مقام دینے والے ایک اعلٰی ظرف مرد ہو۔۔۔۔ لیکن تم نے مرد کا جتنا بھیانک رُوپ دیکھایا مجھے۔۔۔۔ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ تم نے میری محبت کو میرا جرم بنا کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔ مجھے لگا تھا منہاج درانی میری محبت کو معتبر کرکے مجھے دنیا والوں کے سامنے وہ مقام دے گا۔۔۔۔ جس کی خواہش ہوش سنبھالتے ہی میں کرتی آئی ہوں۔۔۔۔ مگر تم نے تو میری محبت کو رسوا کرکے مجھے زندگی کی سب سے بڑی سیکھ دے دی ہے۔۔۔۔
تم مجھ سے اِس لیے نفرت کرتے ہو نا کہ میں ایک طوائف زادی ہوں۔۔۔ میں نے اپنی اصلی پہچان چھپا کر تمہیں دھوکا دیا۔۔۔ تو آج سن لو منہاج درانی میری اصلیت کیا ہے۔۔۔۔
میری اب تک کی زندگی بے شک کوٹھے پر گزری ہے۔۔۔۔ مگر میرے اللہ نے ہمیشہ میری عزت کی حفاظت کیے رکھی۔۔۔ آج تک کوٹھے پر آئے کسی غیر مرد کا مجھے چھونا تو دور، کسی کی غلط نگاہ بھی نہیں پڑنے دی مجھ پر۔۔۔۔ میں ایک طوائف کی بیٹی اور کوٹھے پر پلنے والی لڑکی ضرور ہوں۔۔۔ مگر عزت دار شریف گھرانوں میں تربیت پانے والی لڑکیوں سے کہیں زیادہ پاکباز ہوں۔۔۔۔
میں اب ایسے مرد کو اپنی لائف میں بالکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی جسے مجھے اپنے پاک دامن ہونے کا یقین دلانا پڑے۔۔۔۔
میں اپنے اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں۔۔۔ میرا دامن ہر غلاظت سے پاک ہے۔۔۔ میرے دل اور تصور میں اگر کسی انسان کی شبیہہ آئی ہے تو وہ واحد مرد تم ہو۔۔۔۔
مگر آج جس طرح مجھے تمہارے سامنے اپنے دل کے ہزاروں ٹکڑے کرکے، اپنے پاک دامن ہونے کا یقین دلانا پڑا ہے۔۔۔۔ اِس کے بعد تم نے مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔۔۔۔ اِن الفاظ کے ساتھ ہی میں اپنی محبت کو اپنے دل میں ہمیشہ کے لیے دفن کرچکی ہوں۔۔۔۔
تم نے نکاح نامہ پھاڑ کر بہت اچھا کیا۔۔۔۔
منہاج درانی تم نے آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا اعتبار، میری محبت کو کھو دیا ہے۔۔۔۔ “
ماورا ایک ہی سانس میں بولتی منہاج درانی کو بہت گہری کھائی میں دھکیل گئی تھی۔۔۔ وہ ساکت و جامد ایک ہی جگہ پر کھڑا خاموش نگاہوں سے ماورا کی آنکھوں سے بہتا سیلاب دیکھ رہا تھا۔۔۔
“مجھے نیچا دکھانے کے لیے۔۔۔۔ باقی لڑکیوں کے جذبات سے مت کھیلو۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کسی کے ٹوٹے دل سے نکلی آہ تمہیں برباد کردے۔۔۔۔۔”
ماورا بے دردی سے آنسو پونچھتی واپس پلٹی تھی۔۔۔۔
“اور ہاں۔۔۔۔۔ منہاج درانی میرے ساتھ دوبارہ کسی قسم کی زبردستی کرنے یا میرے قریب آنے کی کوشش کی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔۔۔۔”
ماورا اُسے زخمی نظروں سے دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
منہاج درانی کو لگا تھا کسی نے اُس کا دل تیز دھار آلے سے چیڑ کر رکھ دیا ہو۔۔۔۔۔
ہمیشہ وہ ماورا پر بنا کسی تصدیق کے اُس کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اُچھالتا آیا تھا۔۔۔ اُسے دھوکے باز کہتا آیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اب تک جو سزا وہ اُسے دے چکا تھا، ماورا کا کیا اُس کے آگے کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
