No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
“آپ کو ابھی تھوڑی دیر بعد جس پارٹی کے لیے نکلنا ہے آپ نہیں جائیں گے وہاں۔۔۔۔۔”
زنیشہ کی اگلی بات پر زوہان نے فون کان سے ہٹاتے ایک نظر سکرین کو گھورا تھا۔۔۔ کیا واقعی یہ زنیشہ میران ہی تھی۔۔۔
“مس زنیشہ میران کیا اِس وقت آپ کی مینٹلی کنڈیشن نارمل ہی ہے۔۔۔۔ آپ کس حق سے مجھے کہیں جانے سے روک رہی ہو۔۔۔ اور آپ کو کیا لگتا ہے میں رک جاؤں گا۔۔۔۔۔”
زوہان کی بات پر اُس کے سامنے بیٹھی ثمن پھیکا سا مسکرا دی تھی۔۔۔۔
اپنے دل و دماغ پر راج کرنے والی ہستی سے وہ اُسی کا مقام پوچھ رہا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔ اور نہ ہی آپ کا مجھ پر۔۔۔”
زنیشہ نےجان بوجھ کر یہ جملہ شامل کیا تھا۔۔۔ جسے سن کر زوہان کے ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں۔۔۔۔
“کال کیوں کی ہے؟؟؟”
زوہان نے سرد لہجے میں غصہ ضبط کرتے پوچھا تھا۔۔۔
“آپ پر حملہ ہونے والا ہے۔۔۔ آپ آج کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔”
زنیشہ نے بھی مختصر جواب دیا تھا۔۔۔
“تو تمہیں لگتا ہے میں تمہاری بات مان لوں گا۔۔۔۔”
زوہان سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے بےتاثر لہجے میں بولا۔۔۔
“آپ کی سیفٹی اِسی میں ہے۔۔۔۔”
زنیشہ کو اُس اُکھڑ انسان پر شدید تپ چڑھ رہی تھی۔۔۔ جس سے انسان اُس کی بھلائی کی بات بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
“آج ایسا کیا ہے۔۔۔۔ آئندہ ایسی فکر مجھے دیکھانے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔ مجھے اچھے سے اپنی سیفٹی کا خیال رکھنا آتا ہے۔۔۔۔ مجھے کب، کہاں جانا ہے یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کی اگلی بات سنے بغیر کال کاٹ گیا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے اِس قدر روڈ انداز پر زنیشہ کی آنکھوں میں نمی بھر گئی تھی۔۔۔
“ملک زوہان۔۔۔۔۔ بہت غلط کررہے ہو تم یہ۔۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی میں تمہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ آنکھوں میں آئے آنسو بے دردی سے رگڑتی ایک بار پھر اُس سنگدل کا نمبر ڈائل کرگئی تھی۔۔۔
زوہان کی جان خطرے میں تھی۔۔۔ اِس مقام پر وہ اپنی انا نہیں دیکھا سکتی تھی۔۔
“واٹس رانگ ود یو زنیشہ۔۔۔۔”
اب کی بار زوہان پہلے سے بھی زیادہ غصے میں دھاڑا تھا۔۔۔ وہ جتنا اِس لڑکی کو اپنے تصور سے نکالنے کی کوشش کرتا تھا یہ اتنا اُس کے سر پر سوار ہوتی تھی۔۔۔
“آئی ہیٹ یو ملک زوہان۔۔۔۔”
زنیشہ نے بھی روتے ہوئے اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔۔
اُس کی روتی آواز سن کر زوہان ایک دم خاموش ہوا تھا۔۔۔
“نفرت کرتی ہو تو مرنے دو پھر۔۔۔۔ اتنی تڑپ کس بات کی ہے۔۔۔۔”
زوہان بہت مشکل سے اپنے بگڑے اعصاب پر قابو پاتا اُسے سے گویا ہوا تھا۔۔۔۔
“مجھے کوئی تڑپ نہیں ہے آپ کے لیے۔۔۔۔ “
زنیشہ نے روتے ہوئے اُس کی بات کو جھٹلایا تھا۔۔۔ جس پر نا چاہتے ہوئے بھی زوہان کے ہونٹوں پر ایک پیاری سی مسکان بکھر گئی تھی۔۔۔
ثمن بہت غور سے زوہان کا ایک ایک انداز نوٹ کررہی تھی۔۔۔ جو زنیشہ میران سے بات کرتا ایک بالکل الگ انسان ہوتا تھا۔۔۔
“میران پیلس والے میرے خون کے پیاسے ہیں۔۔۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔ اور اپنے دشمنوں کی ایک ایک حرکت پر نظر ہے میری۔۔۔ وہ میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔۔۔ حسیب میران کی تو اتنی اوقات نہیں ہے جتنی وہ پلاننگ کررہا ہے۔۔۔ بلکہ میران خاندان کے ایک فرد کے علاوہ کسی کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ مجھ سے مقابلہ کرنے کا سوچیں بھی۔۔۔۔ اور وہ ایک انسان ہے آژمیر میران۔۔۔۔ جو کبھی مجھ پر وار نہیں کرے گا۔۔۔۔ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا یقین ہے۔۔۔۔ “
زوہان کے ایک ایک لفظ پر زنیشہ ساکت سی اُسے سن رہی تھی۔۔۔
وہ پہلے سے جانتا تھا حسیب کے پلان کے بارے میں۔۔۔ اور آژمیر اُس سے اتنی نفرت کے باوجود اُس کو کیوں نہیں مروا سکتا تھا۔۔۔ یہ کیسا یقین تھا۔۔۔۔
زنیشہ کے پاس اِن سوالوں پر اُلجھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
کیونکہ ملک زوہان سے تو وہ اِن کے جواب کی اُمید کسی صورت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔
“آپ حسیب کے ساتھ کیا کریں گے۔۔۔۔؟؟؟”
زنیشہ کو اب حسیب کی متوقع درگت کا سوچ کر افسوس ہوا تھا۔۔۔
“تمہیں اُس کی فکر ہورہی ہے۔۔۔۔؟ “
زنیشہ اُس کے سوال میں چھپی ناگواریت محسوس کرسکتی تھی۔۔۔ اگر وہ ہاں بول دیتی تو مطلب سچ میں حسیب کی شامت لانے والی بات تھی۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ اُسے اُس کے کیے کی سزا ملنی چاہئے۔۔۔۔”
زنیشہ نے اپنے ننھے سے دماغ کا استعمال کرتے حسیب کی جان بخشی کروانی چاہی تھی۔۔۔۔
“اوکے اگر تمہیں بھی ایسا لگتا ہے تو میں اُسے اُس کی سزا ضرور دو گا۔۔۔۔”
زوہان طنزیا لہجے میں جواب دیتے بولا۔۔۔۔
“اور ہاں۔۔۔۔ آئندہ کبھی میرے سامنے یوں بننے کی کوشش مت کرنا زنیشہ میران۔۔۔۔ تمہارے بارے میں وہ سب بھی جانتا ہوں جن سے تم خود بھی انجان ہو۔۔۔۔”
زوہان کو حسیب کے حوالے سے اُس کا جھوٹ بولنا پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر زنیشہ کا دل چاہا تھا اپنا سر پیٹ لے۔۔۔
اُس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا۔۔۔ مگر اُس سے پہلے ہی فون ایک بار پھر بند ہوچکا تھا۔۔۔
یہ شخص اُس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ شاطر نکلا تھا۔۔۔۔
اب پتا نہیں حسیب کی اِس بے وقوفی کا کیا جواب ملنے والا تھا اُسے۔۔۔۔
@@@@@@@@
“سر کا بھی لگتا ہے موٹی موٹی کتابیں پڑھ کر دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔۔۔ وہ لیچڑ انسان ہی ملا تھا اُنہیں میرے لیے۔۔۔ کسی اور کے گروپ میں نہیں ڈال سکتے تھے کیا؟؟؟ اب دیکھنا کیسے کیمپنگ کے پورے ٹائم وہ مجھے تنگ کرے گا۔۔۔”
ماورا زور سے اپنی ساری چیزیں گھاس پر پھینکتی خود بھی ٹک گئی تھی۔۔۔ جبکہ بیلا اُس غبارے کی طرح پھولا لال ہوتا چہرا دیکھ اپنی ہنسی نہیں روک پائی تھی۔۔۔
یونی کی جانب سے اُنہیں سوات کے ایک گاؤں میں کیمپنگ کے لیے جانا تھا۔۔۔ جس کے لیے ڈپارٹمنٹ کے کچھ مخصوص سٹوڈنٹس چنے گئے تھے۔۔۔ اُن میں ماورا اور بیلا بھی شامل تھیں۔
اُن سٹوڈنٹس کو پانچ گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔۔۔ منہاج اور چار سینئرز سٹوڈنٹس کو گروپ لیڈر بنایا گیا تھا۔۔۔ اور ماورا کو ایچ او ڈی نے اتفاقاً منہاج کے گروپ میں شامل کردیا تھا۔۔۔ جس وجہ سے پورے سات دن اُسے منہاج کے انڈر کام کرنا تھا۔۔۔ جب سے یہ خبر اُسے ملی تھی وہ غصے سے بھڑکتی اپنا بہت سارا خون جلا چکی تھی۔۔۔
مگر اُسے اِس سب سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔
“لڑکیاں مر رہی ہیں اُس کے گروپ میں جانے کے لیے ۔۔۔۔ اور ایک تم ہو۔۔۔۔”
بیلا چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے اُسے چھیڑتے ہوئے بولی۔۔۔ جس کے جواب میں ماورا نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔۔۔
“ایسی لڑکیاں مر ہی جائیں پھر۔۔۔۔”
وہ چڑھ کر بولی تھی۔۔۔ اُس کے انداز پر بیلا اپنا قہقہ نہیں روک پائی تھی۔۔
“یار پلیز کوئی حل بتاؤ۔۔۔۔ میں اب مزید اُس انسان کے ساتھ بات چیت نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔۔”
ماورا اِس وقت واقعی بہت پریشان تھی۔۔۔
“تم سر سے بات کر لو۔۔۔۔”
بیلا بھی اب کی بار سنجیدگی سے بولی تھی۔۔۔۔
“وہ مان ہی نہ لیں میری بات۔۔۔۔”
ماورا اِس وقت ہر شے سے اُکتائی ہوئی نظر آرہی تھی۔۔۔ وہ خاموش نگاہوں سے اردگرد آتے جاتے سٹوڈنٹس کو دیکھ رہی تھی، جب اچانک اُس کی نظر سڑھیوں کی جانب بڑھتے منہاج کی جانب اُٹھی تھی۔۔۔۔
اُس کے ساتھ اُس کی کلاس فیلو رمشہ بھی تھی۔۔۔ جو اپنی خوبصورت آنکھوں اور فگر کی وجہ سے یونیورسٹی کی ایشوریا رائے مشہور تھی۔۔۔ ماورا کو وہ نک چڑی سی لڑکی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔۔۔ جو نامحرموں سے اپنے حُسن کو سراہ کر فخر محسوس کرتی تھی۔۔۔۔
لیکن اُس پورے منظر میں ایک بات جو نوٹ کیے جانے والی تھی۔۔۔۔ وہ تھی منہاج کی ہاتھ میں قید رمشہ کا ہاتھ۔۔۔۔ جس پر نظر پڑتے ہی ماورا کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئی تھیں۔۔۔
وہ اپنی چیزیں وہیں چھوڑتی تیز قدموں سے اُن کے پیچھے بڑھی تھی۔۔۔۔
“ماورا کہاں جارہی ہو؟؟؟ “
بیلا کی پکار کو نظر انداز کرتی وہ منہاج کی چوڑی پشت پر اپنی خونخوار نظریں گاڑھے اُن کے پیچھے چلتی جارہی تھی۔۔۔
سیڑھیوں سے اُوپر آتے اُسے وہ دائیں جانب جاتے کوریڈور میں دیکھائی دیئے تھے۔۔۔ نہ صرف رمشہ کا ایک ہاتھ اُس کی گرفت میں تھا۔۔۔ بلکہ رمشہ نے دوسرا ہاتھ بہت ہی نزاکت سے منہاج کے کندھے پر بھی پھیلا رکھا تھا۔۔۔۔
ماورا کے تن بدن میں آگ بھڑک اُٹھی تھی۔۔۔۔
کوریڈور کا موڑ مڑتے وہ دونوں اُسے پہلے روم میں داخل ہوتے دیکھائی دیئے تھے۔۔۔
اِس وقت سٹوڈنٹس زیادہ لیب ورک میں ہی مصروف ہوتے تھے۔۔۔ اِس لیے کلاس روم خالی ہی ملتے تھے۔۔۔ اْوپر کے پورشن میں تو ویسے ہی کم ہی کلاسز ہوتی تھیں۔۔۔
ماورا نے آدھ کھلے دروازے سے اندر جھانکا تھا۔۔۔ مگر سامنے کا منظر دیکھ وہ چکرا گئی تھی۔۔۔ منہاج درانی اِس قدر گرا ہوا انسان ہوسکتا تھا اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔
رمشہ منہاج کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔ جبکہ
ماورا کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔۔
اُس کا دل چاہا تھا ابھی اندر جاکر منہاج درانی کی شکل بگاڑ دے۔۔۔۔ جو اب ایسی نازیبا حرکتوں میں انوالو ہوچکا تھا۔۔۔
وہ ایسا کرنے بھی والی تھی جب اُس کی نظر کوریڈور کے سرے پر کھڑے ایچ او ڈی پر پڑی تھی۔۔۔ اِس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا تھا اُسے منہاج درانی کو بے نقاب کرنے کا۔۔۔۔
“سر پلیز آپ میرے ساتھ آئیں مجھے آپ کو کچھ دیکھانا ہے۔۔۔۔۔”
وہ اگلے چند سیکنڈز میں اُن کے سر پر پہنچتی عجلت میں مخاطب ہوئی تھی۔۔۔
“ماورا کیا پرابلم ہے؟؟؟ “
اُنہوں نے اپنے موٹے چشموں کے پیچھے سے اُسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔
“سر آپ کو کچھ دیکھانا ہے۔۔۔ پلیز ایک بار چلیں میرے ساتھ۔۔۔ میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔۔”
ماورا جس طرح ملتجی لہجے میں بولی تھی۔۔۔ وہ اُسے انکار نہیں کرپائے تھے۔۔۔
روم کی جانب بڑھتے ماورا نے مناسب الفاظ میں اُنہیں منہاج درانی کی حرکتوں کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔ جسے سن کر سر کے تاثرات کافی حد تک تشویش ناک ہوئے تھے۔۔۔
“سر یہ۔۔۔۔۔”
ماورا نے دروازہ دھکیلتے اندر اشارہ کیا تھا۔۔۔ مگر خالی کمرہ دیکھ اُس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
“ماورا کیا بے ہودہ مذاق ہے یہ؟؟؟ یہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔ آپ کو شرم آنی چاہیئے ایسا پرینک کرتے ہوئے۔۔۔”
ایچ او ڈی کا اِس وقت بس نہیں چلا تھا کہ ماورا کو اِس بچکانا حرکت پر ایک تھپڑ ہی رسید کردیں۔۔۔
ماورا ایچ او ڈی سے ہونے والے جھاڑ کے بعد روہانسی صورت لیے آنسو بہاتی ہکا بکا سی کھڑی تھی۔۔۔
ابھی تو وہ دونوں وہاں تھے پھر اچانک کہاں غائب ہوگئے تھے۔۔۔
ماورا نے پورے کمرے میں نگاہیں دوڑائی تھیں۔۔۔ مگر وہ دونوں کہیں بھی نہیں تھے۔۔۔
وہ اپنے آنسو صاف کرتی واپسی کے لیے مڑی تھی۔۔۔ وہ ساتھ والے روم کے سامنے سے گزری کی تھی۔۔۔ جب کسی نے اُس کی کلائی دبوچ کر اپنی جانب کھینچتے اُس کے منہ پر مضبوط ہتھیلی جما دی تھی۔۔۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پیر نہیں چلا پائی تھی۔۔۔ اور اُس گرفت کے ساتھ کھینچی چلی گئی تھی۔۔۔
@@@@@@@
“آژمیر بیٹا ساری حقیقت آپ کے سامنے ہے۔۔۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔ زنیشہ پر یہ خطرے کی تلوار ہمیشہ کے لیے لٹکتے دینا چاہتے ہیں۔۔ یا اُس کا نکاح زوہان سے کرکے اُسے اکرام حنیف جیسے شخص کی سازش کا شکار ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔۔۔
میں اچھے سے جانتی ہوں۔ آپ سے بڑھ کر زنیشہ کی حفاظت کوئی نہیں کرسکتا۔۔۔ مگر فلحال اہم بات ہے زنیشہ کا نکاح۔۔۔ نکاح کے بعد اکرام حنیف کے ناپاک ارادے ناکام ہوجائیں گے۔۔۔ اور زوہان جیسے پاور فل شخص کا وہ کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔۔۔ اُس کا نشانہ زنیشہ سے ہٹ جائے گا۔۔۔ “
شمسہ بیگم نے نہایت ہی تحمل سے آژمیر کو ہر پہلو سے آگاہ کیا تھا۔۔۔
“آپ چاہتی ہیں میں اپنے ایک دشمن سے اپنی بہن کو بچانے کے لیے دوسرے دشمن کی مدد لوں۔۔۔”
آژمیر صوفے پر آگے کو جھک کر بیٹھا کارپٹ کو گھورتے سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔۔۔
ڈرائینگ روم میں بیٹھے تمام افراد کی نگاہیں اُسی پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔
“زوہان کا دشمنی کے علاوہ اِس خاندان سے ایک اور بہت اہم رشتہ بھی ہے۔۔۔۔ “
شمسہ بیگم آج جیسے آژمیر کو راضی کرنے کی پوری طرح تیاری کرکے بیٹھی تھیں۔۔۔
“میں نہیں مانتا کسی رشتے کو۔۔۔۔ زوہان زنیشہ کو استعمال کرنا چاہتا ہے مجھے کمزور کرنے کے لیے۔۔۔۔ اور آپ چاہتی ہیں میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کو اُس کے حوالے کردوں۔۔۔۔ جس کی نہ نیت ٹھیک ہے نہ کریکٹر۔۔۔۔ ثمن ملک کو بنا کسی رشتے کے دن رات اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے اُس نے۔۔۔۔ ایسے بدکردار۔۔۔۔”
آژمیر نے لہو رنگ آنکھوں سے یہ الفاظ ادا کرتے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔
شمسہ بیگم بھی لمحہ بھر کو لاجواب ہوئی تھیں۔۔۔
“زنیشہ سے محبت نہ کرتا ہوتا تو اِس رشتے کے لیے کبھی نہ راضی ہوتا۔۔۔ وہ اچھے سے جانتا ہے زنیشہ سے نکاح کرکے۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو کتنے بڑے خطرے میں دھکیل دے گا۔۔۔۔ مگر پھر بھی وہ اپنی بات پر ڈٹا کھڑا ہے۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا وہ زنیشہ کے ساتھ زندگی کے کسی موڑ پر بھی کچھ غلط کرے گا یا ہونے دے گا۔۔۔”
شمسہ بیگم آج ہر صورت آژمیر کو منا کر ہٹنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔۔۔۔
باقی سب گھر والے خاموشی سے اُن دونوں کی باتیں سن رہے تھے۔۔۔ مگر اُن میں سے کوئی فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ زنیشہ کے لیے کونسا فیصلہ اچھا ثابت ہوسکتا تھا۔۔۔۔
“آژمیر بھابھی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔ زوہان چاہے جتنا بھی بُرا سہی مگر زنیشہ کے معاملے میں وہ کبھی کچھ غلط نہیں کرسکتا۔۔۔ اتنا تو ہم سب اب تک اندازہ لگا ہی چکے ہیں۔۔۔”
قاسم صاحب نے شمسہ بیگم کی حمایت کرتے آژمیر کے سامنے اپنا نظریہ بھی رکھا تھا۔۔۔
“تو مطلب آپ سب پہلے سے ہی اِس بات پر رضامند بیٹھے ہیں۔۔۔ انتہائی حیرت ہورہی مجھے۔۔۔ آپ سب کو ملک زوہان سے اب کوئی ایشو نہیں ہے۔۔۔۔ اُس نے کیا کچھ نہیں کیا ہمارے خاندان کو نقصان پہنچانے کے لیے۔۔۔۔”
آژمیر سب پر ایک گہری طنزیا نگاہ ڈالتے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“مجھے ابھی کراچی کے لیے نکلنا ہے۔۔۔ میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔۔ اور جہاں تک رہی زنیشہ کے نکاح کی بات تو میں اُس کے لیے زوہان سے بھی کہیں زیادہ اچھا اور پاور فل شخص ڈھونڈ چکا ہوں۔۔۔ میرے کراچی سے واپس آتے زنیشہ کی رضامندی کے بعد میں اُس کا نکاح ایک بہت ہی اچھے انسان کے ساتھ کردوں گا۔۔۔۔ تب تک آپ سب لوگ اپنے دماغ سے زوہان کو نکال دیں۔۔۔۔”
آژمیر اُن سب کے سروں پر بم پھوڑتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
شمسہ بیگم ساکت نگاہوں سے خالی دروازے کو گھورنے لگی تھیں۔۔ آژمیر اپنی انا اور ضد میں آکر اپنی لاڈلی بہن کے دل کا خون کرنے والا تھا۔۔۔ جس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش اُس نے ہمیشہ پوری کی تھی۔۔۔ اور اب اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی پر یوں انجان بن بیٹھا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ نے جہاز میں بیٹھتے خوفزدہ نظروں سے اردگرد دیکھا تھا۔۔۔ وہ پہلی بار جہاز کا سفر کرنے والی تھی۔۔۔۔ وہ بھی آژمیر کے ساتھ۔۔۔ جس کے ساتھ ہوتے ویسے ہی اُس کی دھڑکنیں کنٹرول میں نہیں رہتی تھیں۔۔۔ اب نجانے کیا ہونے والا تھا اُس کے ساتھ۔۔۔۔
آژمیر ابھی سیٹ پر آکر نہیں بیٹھا تھا۔۔۔ حاعفہ یہی دعا مانگ رہی تھی کہ وہ اُس کے ساتھ نہ بیٹھے۔۔۔۔ اُس کی کوئی اور سیٹ ہو۔۔۔
مگر اگلے ہی سیکنڈ اُس کی یہ دعا ادھوری رہ گئی تھی۔۔۔ جب وہ اُس کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوتا اُسے اپنی سحر انگیز خوشبو کے حصار میں لپیٹ گیا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر میں جہاز نے ٹیک آف کرنا تھا۔۔۔ یہ سوچ کر ہی حاعفہ کی سانسیں رُک رہی تھیں۔۔۔ اُوپر سے ساتھ بیٹھے آژمیر کی موجودگی اُس کے اعصاب پر بھاری پڑ رہی تھی۔۔۔
اُسی لمحے سیٹ بیلٹ باندھنے کی اناؤنسمنٹ ہوئی تھی۔۔۔ آژمیر نے اپنا بیلٹ باندھتے پلٹ کر حاعفہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جس کی حالت دیکھ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ آنکھیں زور سے میچے دونوں ہاتھ آپس میں جکڑے بیٹھی اُسے بہت کیوٹ لگی تھی۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اُس نے خود کو سیاہ شال میں لپیٹ رکھا تھا۔۔۔ جس کے ہالے میں اُس کی دودھیا رنگت مزید دھمک رہی تھی۔۔۔ آرزوؤں پر لرزتی پلکیں، کپکپاتے گلابی ہونٹ آژمیر چاہ کر بھی اِس دلفریب منظر سے نظریں نہیں ہٹا پایا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
