Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

گولی زوہان کے کندھے میں پیوست ہوئی تھی۔۔ آژمیر ساکت نگاہوں سے زوہان کی یہ حرکت دیکھ رہا تھا۔۔ جب اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھوں میں غصے کی لکیر اُبھری تھی۔۔۔
زوہان جس کے گرد اُس کے آدمی اکٹھے ہوچکے تھے۔۔۔ اُس نے جتاتی نظروں سے آژمیر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جانے انجانے میں آژمیر میران پر ملک زوہان کا احسان آن پڑا تھا۔۔۔ جسے وہ کسی بھی قیمت پر اُتارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ وہ دنیا میں کسی سے بھی مدد لے لیتا سوائے ملک زوہان کے۔۔۔۔
ملک زوہان سے وہ اِس قدر نفرت کرتا تھا کہ اُس کی انا ایسا کوئی بھی احسان قبول نہیں کرسکتی تھی۔۔۔
زوہان کو گولی لگتے دیکھ اکرام اپنے آدمی کے ساتھ وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔
زنیشہ زوہان کے کندھے سے نکلتا خون دیکھ بے ہوش ہونے کے در پر تھی۔۔۔ اُس کی تکلیف اپنے دل میں محسوس کرتے زنیشہ آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے۔۔۔۔
اپنے ساتھ کھڑے آژمیر کا خیال کیے بغیر وہ بے اختیاری میں قدم زوہان کی جانب بڑھا گئی تھی۔۔۔ آژمیر نے بہت گہری نگاہوں سے زنیشہ کی زوہان کے لیے یہ بے قراری اور فکر دیکھی تھی۔۔۔
اُسے تو یہی لگا تھا کہ زنیشہ بھی زوہان سے اتنی ہی نفرت کرتی ہوگی جتنی وہ کرتا ہے۔ کیونکہ زوہان نے اب تک زنیشہ کو استعمال ہی کیا ہے اپنے مقصد کے لیے۔۔۔۔ اُس کی بہن اتنی نادانی کیسے کر سکتی تھی۔۔۔۔ لیکن شاید وہ ابھی محبت کے وار سے محفوظ تھا اِس لیے اُس کے لیے اِسے سمجھنا ابھی ممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔ اِس وقت اُسے شمسہ بیگم کی کہی بات بالکل سچ لگنے لگی تھی۔۔۔ زنیشہ زوہان کی محبت کے جال میں پھنس چکی تھی۔۔۔۔
آژمیر سے مزید وہاں ایک لمحے کے لیے رکنا محال ہوا تھا۔۔۔ وہ سر نفی میں ہلاتا زنیشہ کو زوہان کے پاس جانے سے روک گیا تھا۔۔۔ زنیشہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوئی تھیں۔۔۔
زوہان خاموش نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
آژمیر نے بھی زوہان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ دونوں کی ضبط سے لال ہوتی آنکھیں پل بھر کو ٹکرائی تھیں۔۔۔
جب اگلے ہی لمحے آژمیر زنیشہ کا ہاتھ تھامتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
“سائیں وہ آپ کے دشمن ہیں۔۔۔۔۔ آپ نے اُنہیں بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر کیوں لگائی۔۔۔۔”
حاکم اُسے سہارا دیتے کھڑا کرتے بولا۔۔۔۔ زوہان کے کندھے سے خون تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا۔۔۔۔ اُس پر غنودگی طاری ہورہی تھی۔۔۔۔ شدید تکلیف کے احساس سے اُس نے سختی سے ہونٹ بھینچ رکھے تھے۔۔ اُس کا چہرا بالکل زرد ہوچکا تھا۔۔۔
اِس وقت اُس کے پاس حاکم کو جواب دینے کے لیے کوئی الفاظ ہی نہیں تھے۔۔۔۔ بلکہ وہ خود بھی ابھی تک سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اُس نے ایسا کیا کیوں تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“ماورا کیا ہوا ہے تمہیں؟؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ کل اتنی امپورٹنٹ پریزینٹیشن ہے اور تم بنا تیاری کیے ایسے ہی پڑی ہو۔۔۔۔”
بیلا ماورا کو شام سے منہ سر لپیٹے کمبل میں چھپا دیکھ اب آخر کار اُسے ٹوکے بنا نہیں رہ پائی تھی۔۔۔۔
لیکن ماورا پر پھر بھی اُس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ ایسے ہی منہ پر کمبل ڈالے پڑی رہی تھی۔۔۔
“ماورا۔۔۔۔۔ تم بتانا پسند کرو گی۔۔۔ آخر ہوا کیا ہے؟… کسی نے کچھ کہا ہے تم سے۔۔۔۔”
بیلا اب کی بار اُس کے اُوپر سے کمبل کھینچتے اُس کے پاس آن بیٹھی تھی۔۔۔۔
جب ماورا کی بھیگی آنکھیں دیکھ اُس کی تشویش مزید بڑھی تھی۔۔۔۔
“بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟…”
بیلا پیار سے اُس کے ہاتھ تھامتی نرمی بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔۔ جب ماورا سہارا پاتے اُس کے کندھے پر سر رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔
وہ اُس بُری طرح ٹوٹ کر بکھری تھی کہ بیلا بھی اپنے آنسو روک نہیں پائی تھی۔۔۔۔
اُس نے اِس بات پر دھیان دیئے بنا کہ بیلا بھی اُس سے نفرت کرنے لگ جائے گی۔۔۔۔ بیلا کو شروع سے لے کر آخر تک اپنی ساری سچائی بتا دی تھی۔۔۔ منہاج سے نکاح اور پھر نکاح کے بعد اُس کے رواں رکھے گئے سلوک کی بھی۔۔۔۔
جسے سن بیلا کو نجانے کتنی دیر لگی تھی شاک سے باہر آنے کی۔۔۔۔
“دنیا کا کوئی مرد اعتبار اور محبت کے قابل نہیں ہوتا بیلا۔۔۔۔ سب ایک جیس ہوتے ہوس کے پجاری۔۔۔ میرے باپ کی طرح۔۔۔۔ منہاج درانی کی طرح اور کوٹھے پر آنے والے اُن تمام معزز مردوں کی طرح۔۔۔۔ نفرت کرتی ہوں میں اِن سب سے۔۔۔۔ کبھی معاف نہیں کروں گی اِن سب کو۔۔۔۔ اور منہاج درانی کو تو کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ میری محبت، میرے جذبات سے کھیلا ہے وہ۔۔۔۔۔ میری اذیت، تڑپ اور اِس رسوائی کا حساب تو دینا ہوگا اُسے ایک دن۔۔۔۔ وہ بھی ایسے ہی تڑپے گا۔۔۔۔۔”
بیلا کو ماورا اِس وقت اپنے حواسوں میں نہیں لگی تھی۔۔۔ اُس کی کہانی سن کر بیلا کا دل اذیت سے بھر گیا تھا۔۔۔۔
کافی دیر کی مسلسل کوششوں کے بعد بیلا نے کتنی مشکلوں سے سنبھالا تھا اُسے یہ وہی جانتی تھی۔۔۔۔
“ماورا بس بہت رو لیا تم نے۔۔۔۔ اب مزید نہیں۔۔۔۔ وہ شخص اِس قابل بالکل بھی نہیں ہے کہ تم اُس کے لیے اتنے آنسو بہاؤ۔۔۔۔۔ ناؤ سٹاپ اِٹ۔۔۔۔”
بیلا اُسے نرمی سے ڈپٹتے پانی کا گلاس اُس کے ہونٹوں سے لگا گئی تھی۔
“تمہیں بھی مجھ سے نفرت محسوس ہورہی ہوگی نا۔۔۔۔ گھن آرہی ہوگی مجھ سے۔۔۔۔ “
نارمل ہوتے حواس کے ساتھ ماورا بیلا کی جانب دیکھتی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئی تھی۔۔۔۔
“میری دوست ایک پاکباز لڑکی ہے۔۔۔۔ جس نے اُس گندگی بھری جگہ پر رہنے کے باوجود اپنی عزت محفوظ رکھی۔۔۔۔ مجھے فخر محسوس ہورہا ہے کہ تم میری دوست ہو۔۔۔۔۔ محبت کرنا جرم نہیں ہے۔۔۔ تم نے بھی سچے دل سے محبت کی منہاج درانی سے۔۔۔۔ مگر تمہاری بدقسمتی سے وہ کم ظرف نکلا۔۔۔ اُس نے جو تمہارے ساتھ کیا اُسے اُس کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔ مگر تم وعدہ کرو مجھ سے خود کو اِس اذیت میں مبتلا نہیں رکھو گی۔۔۔۔
تمہیں جو موقع ملا ہے۔۔۔ کوٹھے پر رہنے والی ہر لڑکی اتنی خوش قسمت نہیں ہوتی۔۔۔۔ اِسے ضائع مت کرو۔۔۔۔ فل وقت بھول جاؤ اِس بات کو کہ کوئی منہاج درانی نامی شخص تمہاری زندگی میں آیا تھا۔۔۔۔”
بیلا ایک اچھی دوست ہونے کا فرض نبھاتی خلوص و محبت سے ماورا کو سمجھانے لگی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
زنیشہ پورے راستے بے آواز آنسو بہاتی آئی تھی۔۔۔ اُسے لگا تھا جیسے زوہان نے اپنی نفرت بھلا کر آژمیر کے نام کی گولی خود پر کھائی تھی۔۔۔۔ ویسے ہی آژمیر کچھ وقت کے لیے اپنی دشمنی بھلا کر زوہان کو کم از کم ہاسپٹل تک تو لے کر ضرور جائے گا۔۔۔
مگر زنیشہ کو زوہان کی تکلیف کے ساتھ ساتھ آژمیر کی یہ بے حسی بھی مزید رلا رہی تھی۔۔۔ نجانے کتنے نقصان سے گزرنے کے بعد اِن دونوں کی دشمنی ختم ہونی تھی۔۔
“زنیشہ سٹاپ کرائنگ۔۔۔ مرا نہیں ہے وہ،،،، زندہ ہے ابھی۔۔۔”
آژمیر جو کب سے ہونٹ بھینچے اُس کا رونا دیکھ رہا تھا۔۔۔ خود کو یہ سخت الفاظ کہنے سے روک نہیں پایا تھا۔۔
آژمیر کے اتنے کھٹور انداز پر زنیشہ نے تڑپ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ وہ بھلا اتنی آسانی سے زوہان کے مرنے کی بات اپنے منہ سے کیسے نکال سکتا تھا۔۔
مگر آژمیر کی لال آنکھیں اور تنے ہوئے نقوش دیکھ اُسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔۔۔
آژمیر کے اپنے جانب دیکھنے پر وہ اپنے آنسو صاف کرتی واپس سر جھکا گئی تھی۔۔۔
“لالہ وہ تکلیف میں تھے۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے موقع دیکھ کر آژمیر کا دل نرم کرنے کی چھوٹی سی کوشش کی تھی۔۔۔
“اتنے وقت سے اُس نے ہمارے پورے خاندان کو جس تکلیف میں مبتلا کررکھا ہے اُس کا کیا۔۔۔”
آژمیر اپنے سامنے زوہان کی وکالت تو بالکل بھی نہیں سن سکتا تھا۔۔۔۔ اور وہ بھی زنیشہ کے منہ سے۔۔۔۔ یہ امپاسبل تھا۔۔۔۔
زنیشہ اُس کے غصے سے دھاڑنے پر مزید کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
زنیشہ کو آژمیر سے بڑھ کر اِس دنیا میں کوئی بھی عزیز نہیں تھا۔۔۔ شاید ملک زوہان بھی نہیں۔۔۔۔۔
مگر آج زوہان نے آژمیر کی جان بچا کر جو کیا تھا وہ اُس کا مقام زنیشہ کے دل میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھا گیا تھا۔۔۔۔
اس وقت اُس کا دل ملک زوہان کی سلامتی کے لیے دعا گو تھا۔۔۔ اُس کی تڑپ اور بے قراری لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
“سر آپ کی پچھلے ہفتے کی تین میٹنگز پینڈنگ پر ہیں۔۔۔ اِن کو نیکسٹ ویک کے سیکیجول میں شامل کردوں یا آپ اِس ویک ہی کرنا چاہیں گے کیونکہ پروجیکٹ مسلسل ڈیلے ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔ “
بھٹی صاحب آژمیر سے کچھ فائلز پر سائن لیتے اُسے اِس حوالے سے بھی آگاہ کرنے لگے۔
“اوکے اِسی ویک رکھ دیں۔۔۔۔ اور مس حاعفہ کو میرے آفس بھیجیں۔۔”
آژمیر اپنے سامنے رکھی فائل بند کر کے اُس کی جانب بڑھاتا مصروف سے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔
“سر وہ تو آج آفس نہیں آئیں۔۔۔۔ اور کچھ انفارم بھی نہیں کیا۔۔۔”
بھٹی صاحب جواب دیتے آژمیر کے سر ہلانے پر اُس کے آفس سے نکل گئے تھے۔۔۔۔
آژمیر یہ بات تو فراموش ہی کرگیا تھا کہ کل حاعفہ کے پیر پر بہت سخت موچ آئی تھی۔۔۔۔ کل سے وہ اکرام حنیف والے معاملے اور زنیشہ کی ٹینشن میں اتنا اُلجھا ہوا تھا کہ حاعفہ کا خیال اُس کے دماغ سے بالکل ہی نکل گیا تھا۔۔۔۔
اُس نے فوراً حاعفہ کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔ مگر مسلسل کئی بار ٹرائے کرنے کے باوجود دوسری جانب سے کال پک ہی نہیں کی گئی تھی۔۔۔۔ اِس بات نے آژمیر کی فکر مزید بڑھا دی تھی۔۔۔۔
اُسے غیر زمہ دار لوگ سخت ناپسند تھے۔۔۔۔ مگر شاید اِس بار وہ خود ہی حاعفہ کے معاملے میں غیر زمہ داری کا ثبوت دے گیا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کی ایمپلائےتھی۔۔۔ اُسی کے کام کے دوران اُسے چوٹ لگی تھی۔۔۔ کل ہی حاعفہ کو گھر چھوڑ کر آتے اُسے پتا چلا تھا کہ وہ اکیلی رہتی تھی۔۔۔ اُس کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوچکی تھی۔۔۔ اُن کے بعد اب اِس دنیا میں اُس کا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
یہ خیال آتے ہی آژمیر کو اپنی لاپرواہی پر مزید غصہ آیا تھا۔۔۔۔
اپنے سامنے کھلی فائلز بند کرتا وہ موبائل اور کوٹ اُٹھاتے آفس سے نکل گیا تھا۔۔۔
اُسے اب اُس بے ضرر سی لڑکی کی فکر ہونے لگی تھی۔۔۔ اُسے اچھا خاصہ زخم آیا تھا۔۔۔ نجانے اُس نے دوبارہ ڈاکٹر کو بلوا کر ٹھیک سے بینڈیج کروائی بھی تھی یا نہیں۔۔۔۔ کیونکہ آژمیر کو وہ اپنے معاملے میں لاپرواہ سی ہی لگی تھی۔۔۔۔
اکثر وہ آفس میں کام میں اتنا مصروف رہتی تھی کہ کھانا کھانا بھی بھول جاتی تھی۔۔۔۔ شاید اُس نے اپنا خیال رکھنا سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ یا پھر حاعفہ کے لیے اُس کا اپنا آپ امپورٹنٹ تھا ہی نہیں۔۔۔۔
آژمیر ہمیشہ اپنے اردگرد کے ماحول کا زیرک نگاہی سے جائزہ لینے والا شخص تھا۔۔۔۔ حاعفہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آژمیر اُس کے بارے میں یہ باتیں بھی نوٹ کرتا ہے۔۔۔۔
یہ شاید آژمیر کی بدقسمتی تھی یا اُس کے آگے بُنا گیا حاعفہ کی معصومیت کا جال کہ جو چیز اُسے دیکھنی تھی۔۔۔ وہ آژمیر دیکھ نہیں پارہا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“زنیشہ میرے بچے آپ اتنی ٹھنڈ میں ٹیرس پر کیوں کھڑی ہو۔۔۔۔ اندر چلو۔۔۔۔ آپ کو تو ویسے ہی ٹھنڈ بہت جلدی لگ جاتی ہے۔۔۔۔ بیمار پڑ گئی تو۔۔۔۔”
شمسہ بیگم زنیشہ کو ٹیرس پر سرد ہواؤں میں بنا کوئی گرم شے اوڑھے کھڑا دیکھ فکرمندی سے اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔
میران پیلس میں تمام افراد وہاں پیش آئے واقع سے آگاہ ہوچکے تھے۔۔۔ اکرام حنیف کے واپس لوٹ آنے پر جہاں سب کے دلوں میں زنیشہ کی فکر مزید بڑھ گئی تھی وہیں زوہان کا آژمیر کی جان بچانے کے لیے اُٹھایا گیا یہ قدم سب کے لیے انتہائی خوش کن تھا۔۔۔
درمیانی نفرت ابھی اتنی بھی نہیں بڑھی تھی کہ اُسے ختم کرنا ناممکن ہوجائے۔۔۔۔۔
“اماں سائیں۔۔۔۔۔ وہ کیسے ہیں اب؟؟؟”
زنیشہ بنا رُخ موڑے رندھے ہوئے لہجے میں اُن سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ جب سے آئی تھی۔۔۔ ایسے گم صم ہی تھی۔ نہ کسی سے بات کررہی تھی نہ کچھ کھا پی رہی تھی۔۔۔ اُس نے خود کو بالکل کمرے میں بند کر رکھا تھا۔۔۔۔
“زنیشہ آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔۔ چلو میرے ساتھ اندر۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کے بخار سے تپتے ماتھے کو چھوتیں پریشان ہو اُٹھی تھیں۔۔۔ اب کی بار بنا اُس کی کچھ سنے۔۔۔۔ اُس کا ہاتھ پکڑتے وہ اُسے زبردستی اندر لے آئی تھیں۔۔۔۔
“وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ مگر زنیشہ آپ خود کو اذیت میں مبتلا کرکے بہت غلط کررہی ہیں۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُس کی مسلسل رونے کی وجہ سے سوجی آنکھیں دیکھ فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔ اُس کا چہرا بخار کی وجہ سے بالکل سُرخ پڑ چکا تھا۔۔۔۔
“اماں سائیں یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔ اگر آژمیر لالہ یا زوہان کو کچھ ہوجاتا تو۔۔۔ آپ لالہ سے کہیں مجھے میرے باپ کے حوالے کردیں۔۔۔۔ ویسے بھی میں آپ سب کے لیے ہمیشہ پریشانی ہی بن کررہی ہوں۔۔۔ لالہ اب مزید کب تک میری وجہ سے اتنا کچھ برداشت کرتے رہیں گے۔۔۔۔ آپ پلیز اُن سے بات کریں۔۔۔۔”
زنیشہ کی کنڈیشن اِس وقت بہت عجیب سی ہورہی تھی۔۔۔۔ اُس نے اپنی وجہ سے آج اپنی لائف کی دو اہم ترین ہستیوں کو خطرے میں دیکھا تھا۔۔۔ اگر اُن دونوں میں سے کسی کو کچھ ہوجاتا تو شاید وہ خود کو بھی ختم کردیتی۔۔۔۔
شمسہ بیگم کچھ پل خاموش نگاہوں سے اُسے دیکھنے کے بعد آگے بڑھتیں اُسے اپنی آغوش میں بھر گئی تھیں۔۔۔
“وہ دونوں ہیں کیونکہ آپ اُن دونوں کے درمیان موجود ہیں۔۔۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کب کا ایک دوسرے کو ختم کرچکے ہوتے۔۔۔ آپ اُن دونوں کو واپس سے ایک ساتھ نہیں دیکھنا چاہتیں کیا۔۔۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔۔۔ جو کچھ آج ہوا اُس سے کم از کم ہمیں اتنا اندازہ تو ہوگیا کہ اُن دونوں کے دلوں میں ابھی بھی ایک دوسرے کے لیے تھوڑا سا احساس تو موجود ہے نا۔۔۔۔۔ اور رہی بات زوہان کی تو وہ اب بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں ابھی یہی بتانے آئی تھی۔۔۔۔”
شمسہ بیگم کی آخری بات اُس کے رگ و پے میں سکون طاری کر گئی تھی۔۔۔۔
“میں ابھی کھانا اور دوا لے کر آتی ہوں۔۔۔۔ بیڈ سے اُٹھنا نہیں۔۔۔۔”
شمسہ بیگم اُسے نرمی سے وارن کرتیں روم سے نکل گئی تھیں۔۔۔
اُن کے جاتے ہی زنیشہ کچھ لمحوں کی سوچ و بچار کے بعد سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا موبائل اُٹھاتی زوہان کا نمبر ڈائل کردیا تھا۔۔۔۔
مقابل کو بھی شاید اُسی کی کال کا انتظار تھا۔۔۔ پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کر کی گئی تھی۔۔۔ زنیشہ کو دوسری جانب سے کی جانے والی اِس پھرتی کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ اِس لیے کال پک ہوتے ہی اُس کا دل زور سے دھڑک اُٹھا تھا۔۔۔ موبائل تھامے ہاتھ میں لرزش سی ہوئی تھی۔۔۔
زوہان خاموشی سے فون کان سے لگائے اُس کے بولنے کا منتظر تھا۔۔۔۔ جبکہ اُس کی بوجھل سانسوں کی آواز زنیشہ کے کانوں سے ٹکراتی اُس کی سانسوں میں اتھل پتھل پیدا کر گئی تھی۔۔۔
“آپ۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ہیں؟؟؟؟”
زنیشہ نے جھجھکتے بامشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔ ہمیشہ زوہان سے بات کرنے کے لیے وہ بہت کچھ سوچے رکھتی تھی۔۔۔۔ مگر جیسے ہی وہ مدمقابل ہوتا یا فون پر بات کرنی ہوتی زنیشہ کے دماغ سے سب کچھ بھگ سے اُڑ جاتا تھا۔۔۔
“بہت گہرا زخم ہے۔۔۔ اتنی جلدی کیسے ٹھیک ہوسکتا ہوں۔۔۔۔”
زوہان کا جواب کافی معنی خیزی لیے ہوئے تھا۔۔۔ جبکہ اُس کے لہجے میں چھپی تکلیف کا اندازہ لگاتے زنیشہ کی آنکھیں ایک بار پھر سے بھیگ گئی تھیں۔۔۔
وہ اُس کے مختصر جملے میں چھپا طنز باآسانی سمجھ گئی تھی۔۔۔
“مجھے ملنا ہے آپ سے۔۔۔۔۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں آپ کو۔۔۔۔”
زنیشہ کے منہ سے بے ساختہ وہ الفاظ نکل گئے تھے۔۔۔۔ جو کہنے کے لیے اُس کا دل کب سے بے قابو ہورہا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کا یہ کھلا اظہار زوہان کے ہونٹوں پر دلکشی بھری مسکراہٹ کی چھب دکھلا گیا تھا۔۔۔
اِس سے پہلے کہ زوہان اُسے اُس کی بات کا جواب دیتا جب اُسی لمحے ثمن پریشان سی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
“زوہان کیسے ہوا یہ سب؟؟؟ تم اپنے آپ کو کسی کی وجہ سے بھی خطرے میں کیسے ڈال سکتے ہو۔۔۔۔”
ثمن اُس کے بیڈ کے قریب آتی اُس کے کندھے پر لگی بینڈیج دیکھ تشویش بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔
زنیشہ زوہان کے اتنے قریب سے آتی یہ فکر سے لبریز نسوانی آواز سن کر واپس اپنے خول میں سمٹ گئی تھی۔۔۔۔ کچھ لمحے پہلے وہ کمزور لمحوں کی ذد میں آکر اُس کے سامنے دبے لفظوں میں جو اظہار کر گئی تھی۔۔۔۔ اُس پر اُس نے خود کو جی بھر کو کوسا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے شدید غصہ ہونے کے باوجود کال نہیں کاٹی تھی۔۔۔۔ اُسے ایسا محسوس ہوا تھا کہ ثمن نے بات کے دوران شاید زوہان کو بوسہ بھی دیا ہے۔۔۔ زنیشہ کا دل چاہا تھا موبائل سے نکل کر زوہان سمیت اُس لڑکی کی بھی گردن دبا دے۔۔۔۔۔ جسے شرم نہیں آتی تھی کسی نامحرم مرد کے اتنے قریب جانے کی۔۔۔ وہ سوشل میڈیا پر ایسی کئی پکچرز دیکھ چکی تھی اُن دونوں کی، جہاں ثمن زوہان کا بازو تھامے اُس کے ساتھ بالکل چپک کر کھڑی ہوتی تھی۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

گزشتہ دنوں بہت ٹف پیپرز تھے اِس لیے ایپی پوسٹ نہیں کرسکی۔۔۔۔