Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 62

حاعفہ روم میں داخل ہوئی تھی جہاں اُسے آژمیر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تیار ہوتا نظر آیا تھا۔۔۔۔
حاعفہ اُسے کن اکھیوں سے دیکھتی الماری کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جہاں سے اُسے کچھ نہیں چاہیے تھا۔۔۔ تھوڑی دیر تک الماری میں کپڑے اندر سے اُدھر کرنے کے بعد وہ اُس کے پٹ بند کرتی آژمیر کی جانب پلٹی تھی۔۔۔۔
جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اُس کا پورا فوکس صرف اپنی کی تیاری پر ہے۔۔۔۔
“تیار تو ایسے ہورہے ہیں۔۔۔ جیسے ڈیٹ پر جانا ہو۔۔۔۔”
حاعفہ زیرِ لب بڑبڑائی تھی۔۔۔۔
“مجھ سے کچھ کہا۔۔۔۔؟؟؟”
اُسے صوفے کی جانب بڑھتے دیکھ آژمیر نے پلٹ کر اُس سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔”
حاعفہ نے خفگی سے جواب دیا تھا۔۔۔ وہ دو ہی دنوں میں اُس کی محبت اور توجہ کی اِس قدر عادی ہوچکی تھی۔۔۔ کہ آژمیر کا ذرا سا بھی اگنور کرنا اُس کو ایسے ہی بے چین کردیتا تھا۔۔۔
وہ مسلسل آژمیر کی توجہ اپنی جانب کھینچنے کی کوششوں میں تھی۔۔۔ اِس بات سے انجان کہ آژمیر مرر سے پوری طرح اُس کی حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔
جو اب بیڈ پر بالکل سیٹ تکیوں کو اُٹھا کر دوبارہ سیٹ کررہی تھی۔۔۔۔
ایک تو اُسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آژمیر کو کیسے منائے۔۔۔ اُوپر سے وہ اُس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔
حاعفہ کا موڈ اچھی طرح خراب ہوچکا تھا۔۔۔۔
“حاعفہ کم۔ہئیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ کو باہر جاتا دیکھ آژمیر آواز دے کر روک چکا تھا۔۔۔۔ اُس کی گھمبیر بھاری آواز ہمیشہ حاعفہ کی دھڑکنوں میں تغیانی برپا کرجاتی تھی۔۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ۔۔۔ آژمیر کے لیے اُس کی دیوانگی میں اضافہ ہی ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کو شاید کہیں جانا ہے۔۔۔ آپ تیار ہولیں۔۔۔میری وجہ سے ڈسٹرب ہوجائیں گے۔۔۔۔”
حاعفہ کو اُس کا آج کے دن بھی یوں جانا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔ جو شخص ہمیشہ ہر ایک کو نخرے دیکھانے کا عادی تھا۔۔۔ اور کسی کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔ پلٹ کر اُس کی کسی بات کا انکار کرے۔۔۔۔ آج اُس کی چہیتی بیوی اُس کے سامنے پورے حق سے ایسا کررہی تھی۔۔۔۔
حاعفہ کی بات پر آژمیر نے مُڑ کر اُسے گھورا تھا۔۔۔۔
جہاں وہ اپنے نظر انداز کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتی روم سے نکلی تھی۔۔۔۔
“حاعفہ۔۔۔۔۔ خاموشی سے واپس آجاؤ۔۔۔ ورنہ میں باہر سے سب کے سامنے اُٹھا کر لانے کی بھی ہمت رکھتا ہوں۔۔۔۔۔ اور تم اچھے سے جانتی ہو۔۔۔ میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔۔۔۔”
آژمیر نے اُسے دھمکی دی تھی۔۔۔۔
جسے سنتے حاعفہ کے قدم تھمے تھے۔۔۔ اُس نے پلٹ کر خفگی سے گھورا تھا آژمیر کو۔۔۔۔ جو اُس کے سامنے غصہ کرنا تو بھول ہی چکا تھا اور اپنی پیار بھری دھمکیوں سے اُس سے ہر بات منوا رہا تھا۔۔۔۔
آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔۔؟”
حاعفہ منہ پھلائے اُس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔
“تم کہوں تو کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔۔”
اُس کی نازک کلائیاں پکڑ کر اپنی کمر میں حمائل کرتے۔۔۔۔ آژمیر اُس کے ماتھے پر لب رکھ گیا تھا۔۔۔۔
“مجھے نہیں پتا تھا میری بیوی غصے میں اتنی ہاٹ لگتی ہو۔۔۔ تمہیں ایسے دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ۔۔۔۔”
اِس سے پہلے کے آژمیر کوئی بے باک جملہ ادا کرتا حاعفہ اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی خاموش کروا گئی تھی۔۔۔۔ جس پر لب رکھتے آژمیر نے اُس کی نرماہٹیں محسوس کی تھیں۔۔۔۔
“آپ کے سامنے بھلا کسی کا غصہ ٹک سکتا ہے۔۔۔۔۔۔”
حاعفہ اُس کے خوبرو چہرے کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
“تم کرو نا۔۔۔۔ میں برداشت کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔”
آژمیر نے ہاتھ بڑھاتے اُس کا کیچر بالوں سے نکال لیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کی گھنیری زلفیی آبشار کی طرح اُس کے نازک وجود پر پھیل گئی تھیں۔۔۔۔ آژمیر نے مبہوت ہوکر یہ دلکشی بھرا منظر دیکھا تھا۔۔۔
وہ حاعفہ کے حسین کمر تک گرتے لمبے بالوں کا دیوانہ تھا۔۔۔۔ اُس کی فرمائش پر ہی حاعفہ روم میں اپنے بالوں کو کھلا ہی رکھتی تھی۔۔۔ لیکن اگر جوڑے میں قید رہ جاتے تو آژمیر ایسے ہی اپنے ہاتھوں سے یہ کام کرلیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔”
حاعفہ نے ماوا والی بات کا آغاز کیا تھا۔۔۔ جس کے لیے اُن سب نے حاعفہ کو خاص طور پر منتے ترلوں سے آژمیر کو منانے کے لیے اُس کے پاس بھیجا تھا۔۔۔۔ کیونکہ ایک آژمیر ہی اُن کا اتنی محنت سے بنایا گیا پلان چوپٹ کرسکتا تھا۔۔۔۔۔۔
“ہممہ۔۔۔ بولو۔۔۔۔”
اُس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو پیچھے ہٹاتے وہ نرمی سے بولا تھا۔۔۔ جبکہ اُس کی مسلسل کی جانے والی چھوٹی چھوٹی گستاخیوں پر حاعفہ کا چہرا بالکل گلنار ہوچکا تھا۔۔۔۔
“آپ پہلے پرامس کریں۔۔۔ میری بات مانیں گے۔۔۔۔۔”
حاعفہ کی بات پر آژمیر نے مشکوک نظروں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“رئیلی۔۔۔۔؟؟؟ اتنی سیریس بات ہے۔۔۔۔؟؟”
آژمیر کے پوچھنے پر حاعفہ نے اُسے سارا پلان بتا دیا تھا۔۔۔۔
“آپ کو اور کچھ نہیں کرنا بس۔۔۔ ماورا کے سامنے منہاج کا کوئی ذکر نہیں کرنا تاکہ اُسے پتا نہ چل سکے۔۔۔۔۔ پلیز میری خاطر مان جائیں۔۔۔۔”
حاعفہ آژمیر کو انکار کے لیے منہ کھولتا دیکھ لجاجت سے بولتی آژمیر کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔۔۔۔ یہ لڑکی اور اِس کے نئے نئے خوبصورت رُوپ۔۔۔ وہ فدا کیسے نہ ہوتا۔۔۔۔۔
“اور ایسا کرنے کے بدلے مجھے کیا ملے گا۔۔۔۔۔؟؟؟”
ْآژمیر نے اُس کے حسین تل کو چھوا تھا۔۔۔۔۔ حاعفہ اُس کی مونچھوں کی چھبن پر کسمسائی تھی۔۔۔ آژمیر کا لمس ہمیشہ شدت لیے ہوتا تھا۔۔۔۔
“آپ کو کیا چاہیے۔۔۔۔؟”
حاعفہ اُس کی نگاہوں کا فوکس اپنے ہونٹوں پر دیکھ لرزتی آواز میں بولی تھی۔۔۔۔
“جو اِس لمحے میرے دل کو مزید خوش کردے۔۔۔۔۔”
آژمیر نے اُس کے خوشی سے مسکاتے چہرے کی جانب وارفتگی سے دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔
“اوکے آپ آنکھیں بند کریں۔۔۔۔”
حاعفہ کو اُس کے اتنی آسانی سے مان جانے پر اِس لمحے اُس پر بہت پیار آیا تھا۔۔۔۔
جس کا وہ اظہار کرنے کا ارادہ بھی رکھتی تھی۔۔۔۔ آژمیر اُس کے انداز پر مسکرا کر سر تسلیم خم کرتا آنکھیں بند کرگیا تھا۔۔۔
حاعفہ نے اُس کے سہارے اُوپر ہوتے۔۔۔۔۔ پہلے باری باری اُس کی دونوں آنکھوں پر لب رکھے تھے۔۔۔۔ اُس کے گداز لبوں کا لمس آژمیر میران کے لیے واقعی بہت خوشی کا باعث تھا۔۔۔۔ جس کے بعد حاعفہ اُس کے دونوں گالوں کو اُسی محبت سے چھوتی آژمیر میران کو اپنا مزید دیوانہ بنا گئی تھی۔۔۔۔
حاعفہ نے اُس کی آنکھیں کھولنے سے پہلے آرام سے پیچھے ہٹتے اُس کے قریب سے فرار ہونا چاہا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اُس کے اِس ایکشن کا ری ایکشن اُس کے چودہ طبق روشن کردینے والا تھا۔۔۔۔
لیکن آژمیر بند آنکھوں سے بھی اُس کا دور جانا محسوس کرتے اُسے کلائی سے تھام کر اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
@@@@@@@

کل کے دن زنیشہ نے اُس کے بعد ایک پل کے لیے بھی زوہان کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔ زوہان بھی اپنی ضدی بیوی کے آگے ہار مانتا آج کے دن اپنا آپ اُس کے حوالے کرگیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ اُسے لیے سب سے پہلے اُس کی ماں کی قبر پر گئی تھی۔۔۔۔ جہاں زوہان جانے کی ہمت آج تک نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔۔ لیکن زنیشہ کے آگے وہ بے بس ہوگیا تھا۔۔۔۔
مگر قبر پر جاکر فاتحہ پڑھنے کے بعد اُسے ایک بے طرح سکون نصیب ہوا تھا۔۔۔۔
اُن کی قبر پر ہاتھ پھیرتے اُسے وہ اپنے بہت قریب محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
وہاں سے وہ دونوں زنیشہ کے کہے کے مطابق یتیم خانے میں گئے تھے۔۔۔۔ جہاں پہلے ہی زنیشہ سارا انتظام کروا چکی تھی۔۔۔۔ بڑی تعداد میں وہاں موجود ٹین ایجرز اور بچے زوہان کے ماں کے سیالِ ثواب کے لیے قرآن پاک کی پاک کلام پڑھنے میں مصروف تھے۔۔۔۔
زوہان اور زنیشہ نے بھی کچھ وقت وہاں رہ کر اپنا حصہ ڈالا تھا۔ زوہان کے چہرے پر پھیلتی آسودگی زنیشہ کو بھی اندر تک پرسکون کر گئی تھی۔۔۔۔
زوہان ہر سال اپنی ماں کے نام پر غریبوں پر لاکھوں خرچ کرتا تھا۔۔۔ مگر اتنا سکون اُسے آج تک نصیب نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جس کے بعد اُن دونوں نے مل کر یتیم خانے کے ہر بچے کی اُس کی ضروریات کے مطابق مدد کی تھی۔۔۔ کسی کے آگے پڑھنے کا خرچا اُٹھایا تھا زوہان نے تو کسی کے علاج کا۔۔۔۔ یہ سب کرتے اُس کے چہرے پر ایک سچی خوشی تھی۔۔۔۔ جسے دیکھ دیکھ کر زنیشہ نہال ہورہی تھی۔۔۔۔ وہ آج کے دن اپنا غم بھول کر دوسروں کا غم بانٹتا خوشی سے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ یہ بات کافی انوکھی تھی۔۔۔۔ مگر وہ اپنی بیوی کا دل سے مشکور تھا۔۔۔۔ جس نے اُسے صحیح سمت دیکھائی تھی۔۔۔۔۔
زنیشہ کے لیے اُس کی دیوانگی اور محبت میں مزید اضافہ ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ نے زوہان کو کہے کے مطابق میران پیلس والوں سے کوئی رابطہ نہیں رکھا تھا۔۔۔۔ بلکہ اُسے تو اپنا موبائل اُٹھانے کا بھی ہوش نہیں تھا۔۔۔۔۔
اِس وقت بھی وہ زوہان کی فرمائش پر فریش ریڈ ڈریس زیب تن کیے۔۔۔۔ جس پر ہم رنگ کے دھاگوں اور موتیوں سے نہایت ہی خوبصورت ایمبرائیڈری کی گئی تھی۔۔۔ زوہان نے اُس کا یہ سوٹ خود سلیکٹ کیا تھا۔۔۔۔
جسے پہن کر وہ لگ بھی بے پناہ حسین رہی تھی۔۔۔۔ زوہان تو اُسے دیکھ کر ہی اُس کا دیوانہ ہوچکا تھا۔۔۔۔
“تو ملک زوہان کی بیوی اُسے چلانا اچھی طرح سے جان چکی ہے۔۔۔۔
زنیشہ کے گیلے بالوں کو محبت سے اپنی اُنگلیوں میں پھنساتا وہ اُس کے چہرے کی نرماہٹوں کو محسوس کرتا زنیشہ کے اوسان خطا کرگیا تھا۔۔۔۔
“زوہان پلیز۔۔۔۔ میں ابھی تیار ہوئی ہوں۔۔۔۔”
زنیشہ اُس کے خطرناک تیور دیکھ اُس کے سینے پر دونوں ہتھیلیاں جمائے فاصلہ رکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی تھی۔۔۔۔
اِس سے پہلے کے زوہان اُس کے خمار میں بہک کر کوئی گستاخی کرتا۔۔۔۔ دروازہ ناک ہوا تھا۔۔۔
بہت اہم بات کے علاوہ کسی کو اُنہیں ڈسٹرب کرنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔ زنیشہ جلدی سے زوہان سے جدا ہوئی تھی۔۔۔۔
“کم اِن۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کی اِن پھرتیوں کو گہری نگاہوں سے ملاحظہ کیا تھا۔۔۔
“سر وہ میران پیلس سے شمسہ بیگم کی کال ہے۔۔۔ وہ زنیشہ بی بی جی سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔”
ملازمہ کی بات پر زنیشہ نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا۔۔۔
“اُنہیں کہیں مجھے اُن سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔.”
زنیشہ مضبوط لہجے میں جواب دیتی پلٹ گئی تھی۔۔۔ اُسے اُس کی ماں نے ہی شوہر کی اہمیت کے بارے میں سمجھا کر بھیجا تھا۔۔۔۔ وہ اپنے شوہر کو زرا سا ہرٹ کرکے اپنی ماں کو بھی ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
زنیشہ کے انکار پر زوہان ملازمہ کے ہاتھ سے فون لیتا زنیشہ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“بات کرو۔۔۔۔۔”
زوہان نے سپیکر پر ہاتھ رکھ کر فون اُس کی جانب بڑھاتے کہا تھا۔۔۔۔۔
“مگر زوہان میں۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے انکار کرنا چاہا تھا۔۔۔
“میرے لیے تم اور تم سے منسلک ہر رشتہ اہم ہے۔۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔ میں سچ میں تمہیں میران پیلس والوں سے دور کرنا چاہوں گا۔۔۔۔ تمہیں اُن میں سے کسی سے رشتہ توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کی کان کی لوح کو چھوتا محبت بھرے انداز میں بولا تھا۔۔۔ زنیشہ کو ایک بار پھر اپنے اِس اکڑو شوہر سے محبت ہونے لگی تھی۔۔۔ جو اُس کی خاطر اُن لوگوں کو بھی قبول کرنے کو تیار تھا۔۔۔ جو اُس کی اب تک کی اذیت کا باعث تھے۔۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کے ہاتھ سے موبائل تھام کر اُسی طرح اُس کے حصار میں کھڑے۔۔۔۔ شمسہ بیگم سے بات کی تھی۔۔۔
جو حال احوال پوچھنے کے بعد اب اُسے اور زوہان کو آج رات کے ڈنر پر انوائٹ کررہی تھیں۔۔۔۔
زنیشہ جانتی تھی زوہان کو اُن سب کے بیچ بیٹھنا کتنا ناگوار گزرتا تھا۔۔۔ اِس لیے وہ انکار کر گئی تھی۔۔۔
“آئم سوری اماں سائیں ہم نہیں آسکتے۔۔۔۔”
زنیشہ نے یہاں بھی اپنے سے پہلے زوہان کا سوچا تھا۔۔۔۔ زوہان کو اِس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیئے تھا۔۔۔۔
“ہم دونوں آئیں گے آج۔۔۔۔”
زوہان اُس کے ہاتھ سے موبائل لے کر شمسہ بیگم کو جواب دیتا زنیشہ کے ہونٹوں پر پیار بھری مسکان بکھیر گیا تھا۔۔۔ زنیشہ کو آژمیر کی بات سب بالکل سچ لگی تھی۔۔۔۔ زوہان جتنا سخت دل اور بے حس بننے کی کوشش کرتا تھا۔۔۔۔ وہ ویسا تھا نہیں۔۔۔۔۔
“آئی لو یو۔۔۔”
زنیشہ اُس کا حصار توڑ کر شریر لہجے میں بولتی دور ہوئی تھی۔۔
“ایسی باتیں مجھے دور سے سمجھ نہیں آتیں۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کو دور کھسکتا دیکھ واپس اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔۔ زنیشہ اُس کے انداز پر کھلکھلاتی اُس کے سینے سے آن لگی تھی۔۔۔
@@@@@@@@@
گھر میں ماورا کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔۔۔ جو کہ منہاج کے کہنے پر دو دن بعد ہونی طے پائی تھی۔۔۔۔ ماورا نے خود کو کمرے میں بند کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔ اُس نے قاسم صاحب اور حاعفہ کے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی منہاج اور اپنے نکاح کے بارے میں بتانے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔۔
مگر کوئی اُس کی سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔۔
ماورا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔ نہ منہاج کا نمبر لگ رہا تھا۔۔۔ اور نہ اُس کی بیلا سے کوئی بات ہو پارہی تھی۔۔۔
اُسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ سوچ سوچ کر اُس کا دماغ پھٹ جائے گا۔۔۔۔ اُس کا دماغ مختلف سوچوں کی اماہ جگا بنا خود میں ہی اُلجھ کر رہ گیا تھا۔
اُس رات کی منہاج کی قربت وہ بھلائے نہیں بھول رہی تھی۔۔۔۔ وہ کسی طور اُسے اپنا خواب تصور کرنے کو تیار نہیں تھی۔۔۔۔ وہ منہاج ہی تھا اُسے اِس بات پر سو فیصد یقین تھا۔۔۔۔ لیکن اپنی ایک جھلک دیکھا کر کہاں غائب ہوگیا تھا وہ۔۔۔۔
ماورا کا اِس سب سے کہیں دور بھاگ جانے کو دل چاہا تھا۔۔۔
وہ اِسی طرح خود سے لڑنے میں مصروف تھی جب فجر اور رامین ناک کرتیں اندر داخل ہوئی تھیں۔۔۔
جن کے ہاتھوں میں پکڑے سجے سنورے تھال دیکھ ماورا نے رُخ پھیر لیا تھا۔۔۔
“ماورا تمہارے ہونے والے اُن کی چوائس تو بہت اعلٰی ہے۔۔۔۔۔ دیکھو تو کیسی ایک سے بڑھ کر ایک شے بھیجی ہے۔۔۔۔۔”
رامین اُس کی بے رُخی نوٹ کرنے کے باوجود اپنی ہانکے گئی تھی۔۔۔۔
“پلیز تم لوگ جاو یہاں سے۔۔۔ میرے سر میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔۔”
ماورا کی روہانسی آواز پر وہ دونوں خاموشی سے نکل گئی تھیں۔۔۔
“بھابھی یہ ڈرامہ مزید کب تک چلانا ہے۔۔۔۔ ماورا کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔۔۔”
وہ دونوں ماورا کے روم کے باہر کھڑی حاعفہ کو دیکھ فکرمندی سے بولی تھی۔۔۔ جو ابھی فون پر منہاج سے یہی بات ڈسکس کررہی تھی۔۔۔۔۔ اسی لمحے زنیشہ بھی وہاں آئی تھی۔۔۔۔
زوہان اُسے صبح چھوڑ گیا تھا۔۔۔ خود اُس کا رات تک میران پیلس آنے کا ارادہ تھا۔۔۔۔ زنیشہ بھی آتے ساتھ اُن سب کے پلان میں شریک پوری طرح اُن کی مدد کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔ جس قدر ماورا نے اُسے تنگ کیا تھا۔۔۔۔ اب اُس کے ہاتھ میں بھی موقع لگ چکا تھا سارے بدلے پورے کرنے کا۔۔۔۔ ساتھ ہی وہ ماورا کے لیے بہت خوش بھی تھی۔۔۔۔۔
“منہاج کا بھی یہی کہنا ہے کہ اُسے بیمار دلہن بالکل نہیں چاہیئے۔۔۔ ماورا کو سب بتا دینا چاہیے۔۔۔۔ “
حاعفہ نے مسکراتے اُن تک منہاج کے خیالات پہنچائے تھے۔۔۔۔۔۔
منہاج شہاب درانی کے ساتھ واپس جاچکا تھا۔۔۔ اب اُنہیں دو دن بعد وہاں بارات لے کر ہی پہنچنا تھا۔۔۔۔
“ہمم میرا بھی یہی خیال ہے۔۔۔۔ بچاری اپنی غلطی سے زیادہ سہہ چکی ہے۔۔۔۔”
وہ چاروں ایک ساتھ اندر داخل ہوئی تھیں۔۔۔۔
“یار کیا پرابلم ہے تم سب کو۔۔۔۔ مجھے تھوڑی سی پرائیوسی ملے گی۔۔۔۔؟؟؟؟”
ماورا ایک بار پھر اُن کو آتا دیکھ تپ اُٹھی تھی۔۔۔۔
“اچھا غصہ تو مت کرو۔۔۔ وہ تمہارے ہونے والے ہزبینڈ تم سے تمہارا رنگ سائز پوچھنا چاہتے ہیں۔۔۔ ایک بار بات تو کر لو اُن سے۔۔۔۔ جب سے تمہاری تصویر دیکھی ہے۔۔۔۔ بے تاب ہوئے پڑے ہیں تم سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔”
زنیشہ شریر مسکان کے ساتھ بولتی اُن تینوں کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔۔۔۔
“بھاڑ میں جائے وہ۔۔۔۔ اپنی بے تابیوں کے ساتھ۔۔۔۔”
ماورا کا اِس لمحے دل چاہا تھا۔۔۔ اُٹھا کر کچھ سر پر مار دے اِن چاروں کے۔۔۔۔ جو اُسے سمجھنے کے بجائے مزید تنگ کر رہی تھیں۔۔
“آریو شیور تمہیں بات نہیں کرنی۔۔۔۔؟؟؟”
حاعفہ نے آخری بار پوچھا تھا۔۔۔۔۔
“ہاں نہیں کرنی مجھے کسی بھی اُلو، جاہل گنوار سے بات۔۔۔۔۔ “
ماورا صبح سے اُس شخص کو اِسی طرح کے نجانے کن کن القابات سے نواز چکی تھی۔۔۔
اِس سے پہلے کہ حاعفہ کچھ بولتی۔۔۔۔۔ ملازمہ گھبرائی بوکھلائی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“بی بی جی وہ۔۔۔۔۔ آژمیر صاحب۔۔۔۔”
ملازمہ کے انداز نے اُن سب کو پریشان کردیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ساجدہ۔۔۔۔ “
حاعفہ آژمیر کے نام پر ملازمہ سے سوال کرتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔
ماورا سمیت باقی سب بھی پریشانی کے عالم میں باہر بھاگی تھیں۔۔۔ کیونکہ ملازمہ کے تیور اُن کی جان نکالنے کے لیے کافی تھے۔۔۔۔
@@@@@@@@@

ماضی۔۔۔۔۔۔
ملک فیاض میران کی تحریمہ ( زوہان کی ماں) سے پہلی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔۔۔ وہ اُن کے بزنس پارٹنر کی بیٹی تھی۔۔۔۔ جو اپنے دھیمے مزاج اور پرکشش شخصیت کی وجہ سے بہت پسند آئی تھی۔۔۔۔
نجانے کب اُن کا دل تحریمہ بیگم کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا وہ جان ہی نہیں پائے تھے۔۔۔۔ تحریمہ کا تعلق ایک اپر کلاس کے امیر کبیر گھرانے سے تھا۔۔۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی لاڈلی اولاد تھیں۔۔۔ جن کی زندگی خوشیوں اور آسائشوں سے مالا مال تھی۔۔۔۔ اُن کے بابا کی اُن کے بچپن میں ہی ڈیتھ ہوچکی تھی۔۔۔۔ اور ماما بھی کافی بیمار رہنے لگی تھیں۔۔۔ جس وجہ سے بہت کم عمری میں ہی اُنہوں نے اپنے وسیع و عریض بزنس کو سنبھال لیا تھا۔۔۔۔ جس کی شاخیں دوسرے ملکوں تک بھی پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔۔
تحریمہ بیگم بچپن سے ہی اپنے فرسٹ کزن فائز سے منسوب تھی۔۔۔۔ اور دونوں ایک دوسرے کو بہت پسند بھی کرتے تھے۔۔۔۔ فائز کے علاوہ اُنہوں نے کسی کو اپنے جیون ساتھی کے رُوپ میں نہیں سوچا تھا۔۔۔
تحریمہ کو بالکل خبر نہیں ہوئی تھی۔۔۔ کہ کوئی ہر پارٹی میں صرف اُن کی وجہ سے شرکت کرتا تھا۔۔۔ اور گھنٹوں اُنہیں یک ٹک دیوانہ وار نظروں سے دیکھتا محبت میں بہت آگے نکل چکا تھا۔۔۔
تحریمہ بیگم کا جھٹکا تو اُس دن لگا جب ایک بزنس میٹنگ سے واپسی پر اُن کا ڈرائیور گاڑی خراب ہوجانے کی وجہ سے ٹائم پر نہیں پہنچ پایا تھا۔۔۔۔
ملک فیاض کو اپنی محبت کے اظہار کا اِس سے اچھا موقع کوئی اور نہیں ملا تھا۔۔۔۔ انہوں نے تحریمہ بیگم کو ڈراپ کرنے کی آفر کی تھی۔۔۔ جو خود بھی کافی رات ہوجانے کی وجہ سے یہاں اکیلے رکنا مناسب نہ سمجھتیں۔۔۔ اُن کی آفر قبول کر چکی تھیں۔۔۔۔
لیکن ملک فیاض نے آدھے راستے پر پہنچ پر گاڑی ایک سائیڈ پر روکتے تحریمہ بیگم کو اچھا خاصہ خوفزدہ کردیا تھا۔۔۔۔
“آپ نے یہاں گاڑی کیوں روک دی۔۔۔۔۔؟؟”
تحریمہ بیگم نے قدرے سختی سے استفسار کیا تھا۔۔۔۔
جس کے جواب میں ملک فیاض آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے اُن کی جانب مُڑتے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے چلے گئے تھے۔۔۔۔
جسے سن کر تحریمہ بیگم کتنے ہی لمحے شاک کی کیفیت سے باہر نہیں آپائی تھیں۔۔۔۔
انہوں نے آج تک ملک فیاض کو ایک بزنس پارٹنر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا تھا۔۔۔ اُن کے منہ سے اپنے بارے میں ایسے خیالات تحریمہ بیگم کا چہرا غصے کی شدت سے لال کرگئے تھے۔۔۔۔
مگر اپنے غصے پر قابو پاتے وہ اُن کو نہایت ہی مناسب الفاظ میں انکار کرکے۔۔۔۔ عنقریب ہونے والی اپنی شادی کے بارے میں بتاتیں اُسی لمحے گاڑی سے اُتر گئی تھیں۔۔
ملک فیاض نے اُنہیں روکنے کی اپنی محبت کا یقین دلانے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ مگر جب وہ اِس شخص کے حوالے سے کچھ فیل کرتی ہی نہیں تھیں تو کس بنیاد پر رکتیں۔۔۔۔ اُن کی چاہت اُن کے بچپن کا منگیتر فائز تھا۔۔۔۔ جس سے بہت جلد اُن کی شادی ہونے والی تھی۔۔۔
ملک فیاض کو صاف لفظوں میں انکار کرکے وہ یہی سمجھی تھیں۔۔۔ کہ بات وہیں ختم ہوچکی ہے۔۔۔ مگر ملک فیاض جیسے جنونی شخص نے اُن کی پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔ وہ کال میسجز کرکے اُنہیں اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔۔۔
جب اُنہیں دنوں انہیں ارجنٹ بیسز پر میران پیلس بلوا لیا گیا تھا۔۔۔ تحریمہ بیگم سے محبت میں وہ دو اہم باتیں تو فراموش ہی کرچکے تھے۔۔۔۔ اُن کے خاندان میں نہ ہی آؤٹ آف فیملی شادی کا رواج تھا اور سب سے اہم بات وہ بچپن سے اپنی کزن شمسہ بیگم سے منسوب تھے۔۔۔۔
اُنہیں میران پیلس بلائے جانے کا مقصد بھی یہی تھا۔۔۔ اُن کے والد ملک احمد نے اُن کی شادی کی تاریخ رکھ دی تھی۔۔۔۔ شمسہ بیگم اُن کی فرسٹ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ اُنہیں پسند بھی تھی۔۔۔۔ مگر تحریمہ بیگم سے وہ محبت کرتے تھے۔۔۔۔ اُن کے لیے دونوں سے دستبردار ہوپانا مشکل تھا۔۔۔۔ اِسی لیے اُنہوں نے اپنے دل و دماغ میں چھڑی جنگ کے زیرِ اثر شادی کے لیے حامی بھر لی تھی۔۔۔اُن کا انکار اُنہیں اپنے باپ کی ساری دولت جائیداد اُن سے چھیننے کا باعث بن سکتا تھا۔۔۔
وہ نہ شمسہ بیگم سے شادی سے انکار کرنا چاہتے تھے اود نہ ہی خاندان میں کوئی فساد چاہتے تھے۔۔۔
ملک فیاض کا شمار بزدل مردوں میں ہوتا تھا۔۔۔۔ جو اپنے مفاد کی خاطر کسی کو بھی استعمال کرسکتے تھے۔۔۔۔
شمسہ بیگم سے شادی کرکے انہوں نے خاندان میں اپنے تمام معاملات سنوار لیے تھے۔۔۔۔ شمسہ بیگم بھی اُن کے محبت بھرے انداز پر بہت خوش تھیں۔۔۔۔
ملک فیاض کا ابھی ایک ہفتہ مزید حویلی میں رکنے کا ارادہ تھا۔۔۔ جب تحریمہ بیگم کی طے پا جانے والی شادی نے اُن کی مردانہ انا پر کاڑی وار کیا تھا۔۔۔۔
اُن سے کسی طور برداشت نہیں تھا کہ اُن کے دل میں بسنے والی لڑکی کسی اور کی سیج سجائے۔۔۔۔
اِس لیے اُنہوں نے اپنی گھٹیا سازش چلتے فائز پر قاتلانہ حملہ کروانے کے ساتھ ساتھ تحریمہ کو اُٹھوا لیا تھا۔۔۔۔
تحریمہ بیگم پر تو جیسے تکلیفوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔۔ ملک فیاض کو اپنے سامنے دیکھ وہ یقین نہیں کر پائی تھیں۔۔۔ کہ یہ بظاہر معزز دکھنے والا شخص اندر سے اِس قدر کمینگی بھرا دل رکھتا تھا۔۔۔
اِس پڑھے لکھے معاشرے میں بھیڑیے مختلف رُوپ میں انسان کی کھال پہنے چھپے ہوئے تھے۔۔۔۔ جس کا ایک رُوپ اُس دن اُنہوں نے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
ملک فیاض نے اُنہیں زبردستی نکاح پر امادہ کرنے کے لیے دھمکی دی تھی۔۔۔۔ کہ اگر وہ اُن سے نکاح نہیں کریں گی تو وہ فائز کو مارنے کے ساتھ ساتھ زبردستی حاصل کرلیں گے۔۔۔۔
تحریمہ بیگم کی اتنی منتوں اور آہوں کا اُس ظالم شخص پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ بہت دقتوں کے بعد اپنے اوپر جبر کرتے تحریمہ بیگم نے فائز کی جان اور اپنی عزت بچانے کی خاطر نکاح کے لیے حامی بھر لی تھی۔۔۔۔
فائز ہاسپٹل میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنے مردہ وجود کے سہارے بیٹھیں وہاں اپنا آپ ایک وحشی درندے کے نام کرگئی تھیں۔۔۔
جو محبت کا سب سے بڑا دعوے دار محبت جیسے جذبے کے مفہوم سے بھی نابلد معلوم ہوا تھا اُنہیں۔۔۔۔
ملک فیاض نے اپنی ضد اور مردانہ انا کو تسکین پہنچاتے تحریمہ بیگم کے وجود کو تو حاصل کرلیا تھا۔۔۔ مگر اُن کے دل تک رسائی حاصل نہیں کرپائے تھے۔۔۔۔
فائز کی حالت کچھ بہتر تھی۔۔۔ لیکن تحریمہ بیگم کی ماں اپنی بیٹی کی عین شادی کے موقع پر گمشدگی اور میڈیا پر چلتی اُس کے کردار کو لے کر روح اُدھیڑتے الزام نہ سہہ پاتے اُنہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا چکی تھیں۔۔۔۔
تحریمہ بیگم دکھ سے نڈھال ہوتی گم صم سی ہوکر رہ گئی تھیں۔۔۔ اُنہیں کسی کے اپنے آس پاس ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔
ملک فیاض کو میران پیلس سے آژمیر کی پیدائش کی خبر ملی تھی۔۔۔ جس پر وہ تحریمہ بیگم کو اِسی حال میں چھوڑتے بھاگے بھاگے شمسہ بیگم کے پاس پہنچے تھے۔۔۔۔ بیٹے کے جنم پر وہ بے پناہ خوش تھے۔۔۔ اور وہ کتنے عرصے کے لیے تحریمہ بیگم کے پاس ہی جانا فراموش کرگئے تھے۔۔۔۔
وقت آہستہ آہستہ گزرنے لگا تھا۔۔۔۔ تحریمہ بیگم کو ملک فیاض نے ایک گھر تک محصور کرکے رکھا ہوا تھا۔۔۔ اتنے صدمے برداشت کرنے اور یوں تنہائی کا شکار ہونے کی وجہ سے اُن کا زہنی توازن ٹھیک نہیں رہا تھا۔۔۔
جب اُنہیں دنوں تحریمہ بیگم نے ایک بہت پیارے سے بیٹے کو جنم دیا تھا۔۔۔۔
زوہان کا چہرا دیکھتے ہی اتنے عرصے میں پہلی بار اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔۔۔ ملک فیاض کا بیٹا ہونے کے باوجود وہ اُسے خود سے دھتکار نہیں پائی تھیں۔۔۔ کیونکہ وہ اُن کے جگر کا ٹکڑا بھی تھا۔۔۔۔۔
اُنہیں لگا تھا اُن کا بیٹا اُن کی ڈھال ضرور بنے گا۔۔۔ اور اِس درندہ صف شخص کے کیے کی سزا ضرور دے گا اُسے۔۔۔۔
زوہان کو گود میں اُٹھاتے ملک فیاض کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہا تھا۔۔۔۔
تحریمہ بیگم کے حوالے سے تو اُنہیں کبھی ایسا خیال نہیں آیا تھا۔۔۔۔ مگر زوہان کو وہ اُس کے اصل مقام میران پیلس لے جانا چاہتے تھے۔۔۔۔
اُنہوں نے سب سے پہلے شمسہ بیگم کو اعتماد میں لیتے کچھ سچ جھوٹ کی ملاوٹ کرتے، انتہائی مجبوری میں دوسری شادی کرنے کا جھوٹ بولتے بہت کوششوں کے بعد آخر کار منانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔۔۔
لیکن یہی بات سنتے میران پیلس میں ایک طوفان برپا ہوا تھا۔۔۔۔ جسے آہستہ آہستہ ملک فیاض دبانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔۔۔۔
تبدیلی یہ آئی تھی کہ تحریمہ بیگم کو میران پیلس میں ان کی دوسری بیوی کا مقام مل چکا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ اب بھی اِس گھر میں بھی ایک قیدی سے زیادہ کچھ نہیں تھیں۔۔۔۔ اُنہیں ملک فیاض کی جانب سے نہ تو کہیں جانے کی اجازت تھی اور نہ کسی سے فون پر بات کرنے کی۔۔۔۔
اب تو اُس گھٹیا شخص نے فائز کو ختم کر دینے کی دھمکی کے ساتھ، اپنی سگی اولاد زوہان کے حوالے سے بھی اُنہیں دھمکانا شروع کردیا تھا۔۔۔۔۔

جاری ہے