Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟”
زنیشہ کے کل سے بے چین دل کو اُس کی آواز سن کر جیسے قرار آیا تھا۔۔۔
لیکن وہ ستمگر بھی اتنی محبت سے جواب دے دے ایسا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
“اتنی دیر سے کال کیوں نہیں پک کررہی تھی۔۔۔؟؟؟”
زوہان کو یہ انتظار پسند نہیں آیا تھا۔۔۔
اُس کے روڈ انداز پر زنیشہ نے پلٹ کر ماورا کو گھورا تھا۔۔۔۔ یہ شخص کبھی نرمی بھرے لہجے میں بات نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔ مگر اِس وقت میری مایوں کا فنکشن چل رہا ہے۔۔۔۔میں یہاں کھڑے ہوکر آپ کی کال نہیں سن سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔”
زنیشہ کو لگا تھا وہ اُس کی تعریف میں کچھ کہے گا۔۔۔ مگر وہ تو پھر ہمیشہ کی طرح تھانیدار بن چکا تھا۔۔۔
“تم اِس حلیے میں اپنے کزنز کے سامنے نہیں بیٹھو گی۔۔۔ تمہیں اِس روپ میں دیکھنے کا حق صرف میرا ہے۔۔۔۔ مایوں کا جتنا فنکشن ہونا تھا ہوگیا۔۔۔۔ اب خاموشی سے اپنے روم میں جاکر آرام کرو۔۔۔۔”
زوہان کے اِس حکم پر زنیشہ نے موبائل کان سے ہٹا کر سکرین پر جگمگاتے اُس کے نام کو گھورا تھا۔۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟؟؟ میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں۔۔؟؟؟ یہ میری مایوں کا فنکشن ہے….”
زنیشہ جو اپنی تصویر دیکھ لینے کے بعد اُس سے کسی تعریفی جملے کی امید کررہی تھی۔۔۔ اب منہ پھلائے اُس سے ٹھیک سے لڑ بھی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
اُس کی غیر ارادی نظر ایک طرف بیٹھے تمام کزنز پر پڑی تھی۔۔۔ جن میں باقی سب تو اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔ مگر حسیب مسلسل اُسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔ اُس کے دیکھنے کا انداز بہت عجیب تھا۔۔۔ جو زنیشہ کو بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔۔
اُسے اب سمجھ آئی تھی زوہان کی بات کی۔۔۔ وہ جسے پابندی لگانا سمجھ رہی تھی اُس میں اُسی کی بھلائی نکلی تھی۔۔۔
وہ شخص دور بیٹھ کر بھی اُس کے بارے میں سب خبریں رکھتا تھا۔۔۔۔
“میں ایسا نہیں کرسکتی۔۔۔۔ سب لوگ یہاں میری وجہ سے ہی جمع ہیں۔۔۔ “
زنیشہ کو یوں فنکشن سے اُٹھ جانا مناسب نہیں لگا تھا۔۔۔
لیکن اپنی بات کے جواب ميں دوسری جانب چھائی خاموشی پر اُس نے سکرین کو گھورا تھا۔۔۔۔ وہ اُس کے انکار پر غصے سے فون بند کرچکا تھا۔۔۔
“اُف میرے خدا کتنا غصہ کرتا ہے یہ بندہ۔۔۔۔”
زنیشہ نے سر پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا؟؟؟”
ماورا اُس کی مایوس صورت دیکھ قریب آئی تھی۔۔۔
“تمہارا سر۔۔۔۔ اُس ہٹلر کو چھیڑنے کی ضرورت کیا تھی۔۔۔ “
زنیشہ کو اب اُس کے مزید ناراض ہوجانے کی ٹینشن ہونے لگی تھی۔۔۔
“اوہ آئم سو سوری۔۔۔۔ مجھے لگا کچھ اچھا ہوگا۔۔۔”
ماورا اُس کی پریشان صورت دیکھ شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔
“نہیں۔۔۔ تم سوری مت بولو۔۔۔ ملک زوہان میران کے دماغ کے پیچ ہیں ہی ڈھیلے۔۔۔۔”
زنیشہ ماورا کو مسکرا کر کہتی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔ مگر جھولے پر بیٹھ کر رسموں کے دوران بھی اُس کا پورا دھیان زوہان کی طرف تھا۔۔۔۔
جو اب اُس سے پہلے سے بھی زیادہ ناراض ہوچکا تھا۔۔۔
@@@@@@@@
“کیا ہوا زنیشہ بیٹا آپ ٹھیک ہو؟؟؟”
شمسہ بیگم بار بار زنیشہ کو ماتھا مسلتے دیکھ فکرمندی سے بولی تھیں۔۔۔
“جی اماں سائیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ بس سر میں ہلکا سا درد ہورہا ہے۔۔۔ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔”
زنیشہ نے ہولے سے مسکراتے اُنہیں مطمئین کیا تھا۔۔۔
“زنیشہ گیس واٹ۔۔۔ کون آیا ہے باہر۔۔۔۔؟؟؟”
فریحہ بھابھی اُس کے ساتھ بیٹھیں اُس کے دونوں گالوں پر اُبٹن لگا رہی تھیں۔۔۔ جب اریبہ چہکتی ہوئی اُن کے قریب آئی تھی۔۔۔
“کون آیا ہے؟؟؟”
زنیشہ نے لاپرواہی سے پوچھا تھا۔۔۔
“زوہان لالہ آئے ہیں۔۔۔ دیکھ لو اُن سے اپنی مایوں کی دلہن دیکھے بغیر نہیں رہا گیا۔۔۔۔ مگر اُنہیں یہ نہیں پتا کہ وہ اب بارات تک اپنی دلہن کا چہرا نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔”
صدف نے قریب آتے زنیشہ کو چھیڑا تھا۔۔۔۔ زنیشہ جو پہلے شدید گھبراہٹ کا شکار ہوئی تھی۔۔۔ صدف کی اگلی بات سن کر اُس نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔ مگر شاید وہ یہ بھول چکی تھی۔۔۔۔
کہ زوہان کو اُس سے ملنے کے لیے کسی قسم کی حد بندیاں نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔۔
اُس کی مایوں کی رسم جاری تھی۔۔۔ سب خواتین باری باری آکر اُس کے چہرے اور ہاتھوں پر اُبٹن لگا رہی تھیں۔۔۔
تمام مرد حضرات زوہان کی آمد کی وجہ سے وہاں سے اُٹھ کر باہر جاچکے تھے۔۔۔۔
زنیشہ نے اُس کی بات نہیں مانی تھی۔۔۔ مگر زوہان نے خود ہی حسیب کو وہاں سے اُٹھا دیا تھا۔۔۔۔
“زنیشہ تمہارے سر میں درد ہورہا نا؟؟؟”
ماورا اُس کے پاس آن کر بیٹھتی جیسے پوچھ نہیں بتا رہی تھی۔۔۔۔
“نہیں اب بہتر۔۔۔۔ آہہہہ۔۔۔۔”
زنیشہ ابھی جواب دے ہی رہی تھی کہ ماورا کی کاٹی والی چٹیا پر کراہ کر رہ گئی تھی۔۔۔
“بچاری کے سر میں بہت درد ہے۔۔۔ دیکھیں کیسے کراہ رہی ہے۔۔۔۔”
ماورا نے اپنی جانب متوجہ سب خواتین کو اِس بات کی یقین دہانی کرواتے کہا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے لائٹ آف ہوجانے پر ہال میں ہر شے اندھیرے میں ڈوب گئی تھی۔۔۔۔ ہر طرف شور سا مچ گیا تھا۔۔۔ جنریٹر کا پورا انتظام تھا پھر لائٹ بھلا کیسے جاسکتی تھی۔۔۔۔
زنیشہ بھی اِس قبر جیسے اندھیرے کو دیکھ سہم سی گئی تھی۔۔۔۔ جب اُسے اپنی دائیں جانب سے کسی کی گرم سانسیں خود پر پڑتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔
یہاں تو لائٹ آف ہونے سے پہلے ماورا بیٹھی تھی۔۔۔۔ زنیشہ خوفزدہ ہوکر چیخ مارنے ہی والی تھی۔۔۔ جب مقابل نے اُس کے ہونٹوں پر اپنی مضبوط ہتھیلی جماکر، اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔
اتنے قریب آجانے پر اُس کی مسحور کن خوشبو زنیشہ کے نتھنوں سے ٹکراتی اُسے ساکت کر گئی تھی۔۔۔۔۔
“زوہان۔۔۔۔”
اپنی نازک گرفت سے مقابل کی مضبوط ہتھیلی نیچے کرتے اُس کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔ اُس کی خوشبو کے ساتھ ساتھ اُس کا لمس بھی زنیشہ کو سمجھا گیا تھا کہ یہ شخص ملک زوہان کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ زوہان کے چھونے کا انداز بہت مختلف تھا۔۔۔ وہ جس استحقاق بھرے انداز میں اُسے اپنے قریب کرتا تھا۔۔۔۔ ویسا کرنے کی ہمت کسی کی نہیں تھی۔۔۔
زنیشہ کے ہونٹوں سے ادا ہوتا نام مقابل کے کانوں سے ٹکرایا تھا۔۔۔ جس پر اگلے ہی لمحے وہ اُسے اپنی بانہوں میں اُٹھاتا سیڑھیاں چڑھ گیا تھا۔۔۔۔
کچھ ہی لمحوں بعد پورا ہال روشنیوں سے نہا گیا تھا۔۔۔ مگر جھولے سے دلہن غائب دیکھ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔۔۔۔
“ارے زنیشہ کہاں گئی؟؟؟”
شمسہ بیگم پریشانی سے بولی تھیں۔۔
“آپ سب پریشان مت ہوں۔۔ زنیشہ کے سر میں بہت درد ہورہا تھا۔۔۔۔ اِس لیے میں ابھی اُسے روم میں چھوڑ آئی ہوں۔۔۔۔ پین کلر دے کر سلا دیا ہے اُسے۔۔۔۔ ابھی تو ویسے بھی ڈانس ٹائم شروع ہونے والا ہے۔۔۔ رسمیں تو ہوچکی نا پوری۔۔۔۔ تو ہم اپنا انجوائے کرتے ہیں۔۔۔۔”
ماورا ساری بات اپنے اُوپر لیتی۔۔۔۔ اُن سب کا دھیان زنیشہ سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“زوہان میں جانتی ہوں یہ آپ ہیں۔۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ نیچے سب پریشان ہوجائیں گے۔۔۔۔”
زنیشہ ہاتھ پیر چلانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔۔۔ مگر مقابل موجود شخص اُسے حویلی کی نجانے کون کون سی بھول بھلیوں سے گزارتا اندھیرے کے بیچ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔ زنیشہ دیکھ پارہی تھی کہ حویلی کے باقی حصوں میں لائٹ آچکی تھی۔۔۔۔ صرف یہ حصہ ہی تاریک تھا۔۔۔
جب یوں ہی اُسے بانہوں میں اُٹھائے وہ ناک کی سیدھ میں چلتا ایک کمرے کے آگے آن رُکا تھا۔۔۔
دروازے کو پیر مار کر کھولتے اندر داخل ہوکر واپس اُسی طرح بند کرتے لاک چڑھا دیا تھا۔۔۔
زنیشہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔ اور دل بُری طرح خوفزدہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
کمرے میں نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔ جس کے باوجود وہ اپنے بے حد قریب موجود شخص کا چہرا نہیں دیکھ پارہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ اندھیرے میں کھڑے تھے۔۔
“کک کون ؟؟؟؟”
وہ اُس کو اتنی دیر تک نہ بولتا دیکھ اُلجھ گئی تھی۔۔۔
یہ کمرہ کس کا تھا۔۔۔۔ اِس حویلی میں رہنے کے باوجود وہ پہلی بار یہاں آئی تھی۔۔۔۔۔
جب اُسے نیچے اُتارتے وہ شخص اُس کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔ اُسی لمحے کمرے کی لائٹس آن ہوئی تھیں۔۔۔ اور پورا کمرا روشنیوں میں نہا گیا تھا۔۔۔۔
سامنے موجود شخص کو دیکھ زنیشہ کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔۔
وہ ساکت کھڑی پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے شخص کی جرأت دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“مزمل؟؟؟؟؟”
سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس وہ کوئی زوہان نہیں مزمل تھا۔۔۔ زنیشہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ چکی تھیں۔۔۔ ایک غیر شخص اُسے اِس طرح اُٹھا کر یہاں کیوں لایا تھا۔۔۔۔
“تم۔۔۔۔۔ تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ گھٹیا حرکت کرنے کی۔۔۔۔ آژمیر لالہ اور زوہان تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔ تم کتنے بڑے فراڈ ہو میں اب اُن دونوں کو بتاؤں گی۔۔۔۔”
زنیشہ غصے سے چلاتی واپس جانے کے لیے پلٹی تھی۔۔۔ جب مزمل نے اُس کی کلائی دبوچ کے اپنی جانب کھینچتے اپنے بے حد قریب کر لیا تھا۔۔۔۔
وہ ہپنوٹائز سا اُس کا یہ سہانا رُوپ دیکھ رہا تھا۔۔۔ زرد لہنگے میں دوپٹے کو دلہنوں کی طرح سر پر سجائے سیاہ زلفوں کی ناگن چٹیا آگے ڈالے وہ مہندی، گجرے اور ابٹن کی خوشبوؤں میں رچی بسی سامنے کھڑے اپنے دیوانے کو مزید پاگل کر گئی تھی۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔”
زنیشہ نے اُس سے اپنے آپ کو آزاد کروانا چاہا تھا۔۔۔ جب اُس کی آنکھوں میں جھانکتے اُسے بریک لگی تھی۔۔۔
داڑھی اور مونچھوں کے پیچھے چھپا چہرا۔۔۔۔ ؟؟؟
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ ملک زوہان کے علاوہ کوئی تمہارا باڈی گارڈ ہوسکتا ہے۔۔۔۔ تمہارے قریب آنے سے پہلے اُس شخص کی سانسیں نہ چھین لوں۔۔۔۔”
زنیشہ کے گال پر ہونٹ ٹکائے بولتا وہ اُس کی سانسیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے دہکتے لمس نے زنیشہ کے ہوش گم کردیئے تھے۔۔۔۔
وہ اِس انکشاف پر اپنے چہرے سے داڑھی اور مونچھیں ہٹاتے زوہان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“آپ۔۔۔۔۔؟؟؟”
اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مزمل زوہان بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔
@@@@@@@@
زنیشہ نے زوہان سے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔ مگر زوہان نے اُس کی کمر پر گرفت مضبوط رکھتے اُسے اپنے مزید قریب کرلیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ جہاں اُس کے خطرناک تیور دیکھ خوفزدہ تھی۔۔۔ وہیں اُسے اپنی آنکھوں کے سامنے سہی سلامت کھڑا دیکھ کل سے دل پر چھائی بے چینی اور اضطراب ختم ہوچکا تھا۔۔۔۔
“دو دن۔۔۔۔ صرف دو دن کے بعد تم اِس وقت مکمل طور پر میری دسترس میں ہوگی۔۔۔۔ پھر میں تم سے اپنی ایک ایک اذیت اور تمہاری ہر بے اعتبائی کا حساب سود سمیت لونگا۔۔۔۔”
زوہان اُس کی گردن پر اپنی گرم سانسیں چھوڑتا اِس جان لیوا دھمکی کے ساتھ زنیشہ کو کانپنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔۔
زنیشہ کی خوشبو اُسے پاگل کررہی تھی۔۔۔۔ وہ جس غصے کہ ساتھ یہاں آیا تھا۔۔۔۔ اب چاہنے کے باوجود برقرار نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔۔
“جاسکتی ہو تم اب یہاں سے۔۔۔”
اگلے ہی لمحے زوہان اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا رُخ موڑ گیا تھا۔۔۔۔ جس کی وجہ زنیشہ اُس کا سخت خفا ہوجانا ہی سمجھی تھی۔۔۔
اِس بات سے انجان کے اُس کے اِس گریز کی وجہ احتیاط تھی۔۔۔ جو وہ خود کو زنیشہ کے اِس ہوش رُبا حُسن سے بہکنے سے بچانے کے لیے کررہا تھا۔۔۔۔
زنیشہ خاموشی سے کھڑی اُس کی چوڑی پشت کو گھورتی رہی تھی۔۔۔۔ اُس میں ہمت بالکل بھی نہیں تھی آگے بڑھ کر زوہان کو چھیڑنے کی۔۔۔۔
مگر وہ اپنی باتوں اود حرکتوں سے اُسے بہت زیادہ ناراض کرچکی تھی۔۔۔ جس کا خمیازہ بھی عنقریب اُسے ہی بھگتنا تھا۔۔۔۔ لیکن اُس کے لیے پہلے وہ اِس بپھرے شیر کو تھوڑا نرم کرکے جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
زنیشہ پوری ہمت مجتعم کرتی آگے بڑھی تھی اور پیچھے سے زوہان کے گرد بازوؤں کا حصار باندھ کر اُس کے سینے پر نازک ہتھیلیاں پھیلاتے وہ چہرا اُس کی پشت پر ٹکا کر آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ زبان سے اقرار نہیں کر پائے گی۔۔۔ مگر وہ اپنے اِس عمل سے زوہان کی اپنے دل میں اہمیت اُس پر واضح کردینا چاہتی تھی۔۔۔
زوہان جسے لگا تھا کہ اُس کے کہنے پر زنیشہ خاموشی سے نکل جائے گی۔۔۔ اُس کا نرم گرم لمس محسوس کرتے زوہان کتنے ہی لمحے حرکت نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔ زنیشہ کے لمس سے اُسے اپنے رگ و پے میں سکون سا سرایت کرتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
وہ کب سے تنہا بھٹکتے بھٹکتے تھک گیا تھا۔۔۔۔ اب اُسے زنیشہ میران اپنی سانسوں سے بھی قریب تر چاہیے تھی۔۔۔
یہ لڑکی اُس کے لیے کتنی ضروری تھی آژمیر کے علاوہ یہ بات آج تک کوئی نہیں جان پایا تھا۔۔۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آژمیر نے اتنی دشمنی کے باوجود بھی زنیشہ کو اُس کی دسترس میں سونپ دیا تھا۔۔۔
مگر زنیشہ میران اُسے کبھی سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔ ہمیشہ اپنے خاندان والوں کی خاطر اُس کے اگینسٹ جاکر اُس پر نجانے کیا کیا الزام لگائے تھے۔۔۔ جن میں حقیقت نہ ہونے کے برابر تھی۔۔۔
سینے پر محسوس ہوتے اُس کے نازک ہاتھوں کے لمس پر اُس کے دل میں چھائی ساری دھند چھٹنے لگی تھی۔۔۔ مگر وہ پلٹا ابھی بھی نہیں تھا۔۔۔
“آئم سوری۔۔۔۔”
زنیشہ کے لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
“فار واٹ۔۔۔۔؟؟؟؟”
زوہان نے بنا پلٹے، بنا اُس کے کپکپاتے وجود کو کوئی سہارا دیئے بے لچک انداز میں سوال کیا تھا۔۔۔
ورنہ اُس کے اندر اِس وقت جذبات کا کیسا طوفان اُٹھا ہوا تھا۔۔۔ وہ بیان سے باہر تھا۔۔۔۔۔
“اُس دن آپ کو ہرٹ کرنے کے لیے۔۔۔۔”
زنیشہ ہولے سے منمنائی تھی۔۔۔۔
“”تم نے تو ہر دن، ہر ملاقات میں مجھے ہرٹ کیا ہے۔۔۔۔ کس کس بات کی معافی مانگو گی۔۔۔۔؟؟؟”
اپنے آپ سے چھڑی جنگ ہارتا زوہان اُس کی نرم گداز اُنگلیوں کو چھوتا اُس کے گجرے کے پھولوں سے چھیڑ خانی کرتے بولا۔۔۔۔ اُس کی یہ شوخ جسارت زنیشہ کا چہرا لال کر گئی تھی۔۔۔ اُس نے حصار ختم کرکے پیچھے ہٹنا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر زوہان اب کی بار اُسے مہلت نہ دیتے کلائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
“اب بولو کیا بول رہی تھی؟؟؟”
زوہان کا موڈ زنیشہ کی اِس ایک استحقاق بھری حرکت سے بالکل فریش ہوچکا تھا۔۔۔۔
“کک کچھ نہیں۔۔۔۔”
زوہان کی تپیش زدہ نگاہوں کی تاب نہ لاتے زنیشہ کی زبان لڑکھڑائی تھی۔۔۔ اُسے موڈ میں آتا دیکھ اب بوکھلانے کی باری زنیشہ کی تھی۔۔۔۔ اُسے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی نرم پڑ جائے گا۔۔۔۔۔۔ کیونکہ زنیشہ ابھی تک اُس کی اپنے لیے بے پناہ شدتوں سے واقف نہیں تھی۔۔۔۔
“رئیلی کچھ نہیں؟؟؟”
زوہان نے اُس کے گداز ہونٹوں پر انگوٹھا پھیر کر اُسے وارن کرتے بات کرنے پر اُکسایا تھا۔۔۔
جس پر زنیشہ اُسے گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔
یہ شخص بنا دھمکی دیئے اُس سے کوئی بات نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ محبت کیسے جتاتا؟؟؟
“آپ بہت بڑے دھوکے باز ہیں۔۔۔۔”
زنیشہ جب بولی تو ایک ہی جملے سے زوہان کا دماغ گھما گئی تھی۔۔۔۔
“واٹ؟؟؟؟”
زوہان نے یہ بولنے کی توقع بالکل بھی نہیں کی تھی۔۔۔
زوہان کے ری ایکشن پر زنیشہ غلط الفاظ کا انتخاب کرنے پر گھبرائی تھی۔۔۔
“مم میرا مطلب مجھے اور لالہ کو دھوکا دیا۔۔۔۔ مجھے اتنے ٹائم مزمل کے نام پر بےوقوف بنائے رکھا۔۔۔۔ لالہ کو پتا چلا تو بہت ناراض ہونگے۔۔۔”
زنیشہ نے اُس کے خطرناک تیور دیکھ فوراً بات کو کور کرنا چاہا تھا۔۔۔۔ جس پر لمحہ بھر کو ایک صدیوں سے بھولی بسری دلکش مسکراہٹ زوہان کے ہونٹوں پر اپنی چھب دکھلا کر غائب ہوئی تھی۔۔۔
“پہلی بات تو یہ کہ تمہارے لالہ اب اِس سب کے بارے میں جان چکے ہیں اور دوسری بات۔۔۔۔ یہ میرا دھوکا نہیں تمہاری بے وقوفی اور نادانی ہے کہ اِتنے قریب رہنے کے باوجود مجھے پہچان نہیں پائی۔۔۔۔”
زوہان نے اُس کے الفاظ اُسی پر لوٹا دیئے تھے۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔ آئم سوری۔۔۔۔”
زنیشہ نے اب کی بار بھی ہتھیار ڈال دیئے تھے۔۔۔
“تم یہ سوری کی گردان کرکے کیا سمجھ رہی ہو۔۔۔۔۔ کہ آنے والے میرے وقت میں خود کو مجھ سے بچا لوگی۔۔۔۔ “
زوہان نے زنیشہ کے دوپٹے کو سر پر لگی پنوں سے آزاد کرتے دور اُچھال دیا تھا۔۔۔۔
زنیشہ کا چہرا حیا اور خوف سے لال پر گیا تھا۔۔۔۔
“زوہان یہ۔۔۔۔”
اُس نے کچھ بولنا چاہا تھا مگر زوہان کے اُس کی چٹیا کی جانب بڑھتے ہاتھ اُس کی بولتی وہیں بند کر گیا تھا۔۔۔
یہ شخص ہر حال میں اُس پر بھاری تھا۔۔۔ اِس کے غصے اور محبت دونوں کرنے کا انداز ہی جان لیوا ہوتا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔
اچانک سے مائینڈ کو پتا نہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔ سٹوری لکھی ہی نہیں جارہی۔۔۔۔ کچھ اچھے ریویوز دیں۔۔۔۔ یا مجھے موٹیویٹ کریں کہ میں جلدی سے لکھ سکوں پہلے کی طرح۔۔۔۔