No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“ماورا کہاں ہو تم۔۔۔۔۔؟؟”
ماورا کو دور سے بیلا کی پکار سنائی دی تھی۔۔۔۔
“پلیز نیچے اُتارو مجھے۔۔۔۔۔”
منہاج کو ڈھلوانی راستے سے واپس اُوپر چڑھتے دیکھ ماورا اُس کا حصار توڑنے کی کوشش کرتے چلائی تھی۔۔۔
اگر بیلا اُسے اِس حالت میں دیکھ لیتی تو اُس کا الگ ہی ریکارڈ لگ جانا تھا۔۔۔۔
“ایک شرط پر۔۔۔۔۔۔”
منہاج بھی اپنے نام کا ایک تھا۔۔۔۔ اتنی آسانی سے اُسے بخشنے والا نہیں تھا۔۔۔۔
“کیسی شرط۔۔۔۔۔”
ماورا کی نظریں لمحہ با لمحہ قریب آتی بیلا کی جانب اُٹھ رہی تھیں۔۔۔ جو اُس طرف روشنی ہونے کی وجہ سے اُنہیں دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔ مگر وہ تاریکی میں ہونے کی وجہ سے اُس کی نظروں سے اوجھل تھے۔۔۔۔
“کس می ہیئر۔۔۔۔”
منہاج اپنے گال کی جانب اشارہ کرتا ماورا کا خون منجمند کرگیا تھا۔۔۔۔
اُس کا چہرا یہ سوچ کر ہی تپ اُٹھا تھا۔۔۔۔
“نن نہیں ۔۔۔۔۔ “
اُس نے منہاج کی بے باک نگاہوں سے نظریں چراتے لڑکھڑاتی زبان میں کہا تھا۔۔۔۔
“تو ٹھیک ہے تمہاری دوست کو میں خود ہی واپس لوٹا دیتا ہوں۔۔۔۔”
منہاج نے اُسے جواب دیتے بیلا کو آواز لگانی چاہی تھی۔۔۔۔ جب ماورا نے جلدی سے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ایسا کرنے سے روکا تھا۔۔۔۔۔
“نن نہیں پلیز۔۔۔۔۔ “
ماورا ہمیشہ اِس انسان کی بلیک میلنگ میں پھنس جاتی تھی۔۔۔۔
منہاج نے مسکراتی نظروں سے اُس کی جانب دیکھتے اپنا گال اُس کے ہونٹوں کے قریب کیا تھا۔۔۔۔ ماورا سختی سے آنکھیں میچے بے قابو ہوتے دل کے ساتھ اُس کی گال سے ہونٹ مس کرتی فوراً پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔
“پپ پلیز اب جانے دو۔۔۔۔”
ماورا کا چہرا حیا اور خفت سے لال انگارہ ہوچکا تھا۔۔۔۔
“اب اتنا بھی بے مروت نہیں ہوں مائی لیڈی۔۔۔۔ اِس پیار کا جواب دینا تو بنتا ہے نا۔۔۔۔”
منہاج یہ کہتے ساتھ ہی اُس کی گردن پر جھک کر اپنے شدت بھرے لمس سے اُس کو نوازتا، اپنی محبت کا نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔
ماورا اُس کے عمل سے پوری طرح کانپ اُٹھی تھی۔۔۔۔ اُس نے سختی سے منہاج کا گریبان دبوچ رکھا تھا۔۔۔۔
“تم مجھ پر یقین نہیں کرنا چاہتی مت کرو۔۔۔۔ میں خود اپنی چاہت سے بہت جلد تمہیں خود پر اور اپنی محبت پر اعتبار کرنا سیکھا دوں گا۔۔۔۔”
زوہان نرمی سے اُس کی پیشانی کا بوسہ لے کر اُسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ ماورا اپنی دھڑکنوں کا شمار لگاتی کتنے ہی لمحے وہاں سے ہل بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
@@@@@@@@
دنیا والوں کے سامنے بظاہر زنیشہ ملک فیاض میران اور شمسہ میران کی بیٹی اور آژمیر میران بہن سمجھی جاتی تھی۔۔۔۔ مگر حقیقت اِس سے برعکس تھی۔۔
زنیشہ شمسہ بیگم کی بیٹی اور آژمیر کی بہن نہیں تھی۔۔۔۔ زنیشہ ملک فیاض کی اکلوتی چچا زاد ثمینہ بیگم کی بیٹی تھی۔۔۔۔ جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی اور کروڑوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث تھی۔۔۔۔ اُسی لحاظ سے اُسے بہت پیار بھی ملتا تھا۔۔۔۔ اُسے اپنے پیرنٹس کی جانب سے شہر میں پڑھنے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔۔۔۔۔ جہاں اُس کی زندگی کے شاید وہ سب سے سیاہ پل تھے۔۔۔۔ جب اُس کی ملاقات اپنے کلاس فیلو اکرام حنیف سے ہوئی تھی۔۔۔ اکرام حنیف دیکھنے میں بے پناہ وجیہہ اور خوش شکل انسان تھا۔۔۔۔ وہیں ثمینہ بھی کسی سے کم نہیں تھی۔۔۔۔۔
بہت جلد اکرام حنیف کی کوشش کی وجہ سے دونوں کے درمیان محبت کا رشتہ استوار ہوگیا تھا۔۔۔۔ وہ نادان لڑکی محبت کی آڑ میں اکرام حنیف کی آنکھوں میں چھپی لالچ نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔ اکرام حنیف اُس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر ثمینہ اچھے سے جانتی تھی چاہے جتنی چاہے اُس کے پیرنٹس اُس سے محبت کرتے ہوں۔۔۔ مگر وہ اُس کی اکرام سے شادی کے لیے کسی قیمت پر نہیں مانیں گے۔۔۔۔۔
مگر وہ اکرام حنیف کی محبت سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔ اور یہیں وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت بڑی بے وفائی کر گئی تھی۔۔۔۔
اُس نے اکرام سے کورٹ میرج کا کہا تھا۔۔۔۔ مگر اکرام اُس کے پیرنٹس کو ناراض کرکے شادی کرنے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔ بظاہر وہ یہ سب بول کر ثمینہ کے سامنے اچھا بن رہا تھا مگر در پردہ سچ یہی تھا کہ وہ خالی خولی ثمینہ کو حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ اُسے تو صرف ثمینہ کے پیرنٹس کی بے پناہ دولت سے پیار تھا۔۔۔۔ جو ثمینہ سے شادی کے بعد اُسی کے نام آنی تھی۔۔۔۔
ثمینہ اکرام کے منہ سے اپنے پیرنٹس کا اتنا احساس سن کر بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔۔ مگر وہ اچھے سے جانتی تھی ایسے اُس کے پیرنٹس کبھی بھی اکرام سے اُس کی شادی کے لیے نہیں مانیں گے۔۔۔۔
اگر وہ دونوں نکاح کرکے اُس کے والدین کے پاس جائیں گے تو تب وہ اُنہیں قبول کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرپائیں گے۔۔۔۔
اکرام حنیف ثمینہ کی بات سے متفق ہوتا راضی ہو گیا تھا۔۔۔
مگر جیسے ہی وہ دونوں نکاح کرکے ثمینہ کے پیرنٹس کے پاس پہنچے اُن کا ری ایکشن اُن کی سوچ کے بالکل برعکس نکلا تھا۔۔۔۔ ثمینہ کے والدین بیٹی کے ہاتھوں پورے زمانے کے سامنے اپنی عزت ایسے اُچھالے جانے پر اُسے معاف کرنے کا ظرف نہیں رکھ پائے تھے۔۔۔۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُن کی نازو پلی بیٹی اُن کی بے پناہ محبت کا یہ صلہ دے گی۔۔۔۔ اُنہوں نے اپنے دل کو پتھر کرتے نہ صرف ثمینہ کو گھر سے نکال دیا تھا۔۔۔ بلکہ اپنی جائیداد سے بھی عاق کردیا تھا۔۔۔۔
جو بات ثمینہ سے بھی زیادہ اکرام پر گراں گزری تھی۔۔۔۔ اُسے ثمینہ سے تو کبھی محبت رہی ہی نہیں تھی۔۔۔۔ اُسے تو ثمینہ کی دولت سے محبت تھی۔۔۔۔ مگر اب جو بھی تھا اُسے ثمینہ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جانا پڑا تھا۔۔۔۔
وہ جو اُس کے سامنے اپنے خاندان اور دولت کی نجانے کیا کیا باتیں کرتا تھا۔۔۔ اُس کا ایک گندے سے محلے کی تنگ گلی میں واقع چھوٹا سا بوسیدہ گھر دیکھ ثمینہ بیگم کے اصل ہوش تب ٹھکانے آئے تھے۔۔۔ اور ساتھ ہی اکرام کا بدصورت ہوتا رویہ رہے سہے پول بھی کھول گیا تھا۔۔۔۔
ثمینہ کو اپنے ماں باپ کا دل دکھانے کی بہت بڑی سزا ملی تھی۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اُس پر اکرام کی غلط سرگرمیوں میں انوالو ہونے کے انکشافات بھی ہونے لگے تھے۔۔۔ اکرام کے ساتھ رہتے ثمینہ کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں تھی۔۔۔۔ وہ اُسے دن کے وقت مارتا پیٹتا اور رات کو اُس سے اپنی ہوس پوری کرنے پہنچ جاتا۔۔۔۔
ثمینہ کو کسی نامحرم پر اعتبار کرنے کی بہت سنگین سزا ملی تھی۔۔۔۔
اُس کے لیے اُس دوزخ میں رہنا ناممکن ہوگیا تھا۔۔۔۔ یہاں سے بھاگ جانے کا فیصلہ اُس نے اُس وقت کیا تھا۔۔۔۔ جب وہ اُمید سے تھی۔۔ مگر اکرام اُسے پیٹتے وقت اِس بات کا خیال بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔ ثمینہ اپنی کوک میں پلنے والے بچے کی زندگی بچانے کی خاطر ایک دن خاموشی سے اکرام کی دوزخ سے نکل آئی تھی۔۔۔۔۔
اپنے گاؤں، اپنے ماں باپ کی حویلی پہنچنے تک اُس کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔۔۔۔ اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھ اُس کے ماں باپ کا کلیجہ باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔ اُسے فوری ہاسپٹل پہنچایا گیا تھا۔۔۔۔ مگر ثمینہ زنیشہ کو جنم دیتے اپنی زندگی سے نادم وہیں دم توڑ گئی تھی۔۔۔۔
بیٹی کی جوان موت کا دکھ اُس کے والدین کے لیے بہت بھاری تھا۔۔۔۔ اُنہوں نے اکرام کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ نجانے کہاں روپوش ہوگیا تھا۔۔۔۔ اُنہوں نے اپنی نواسی کو سینے سے لگاتے اُس میں اپنی لاڈلی بیٹی کی شبیہہ تلاشنی چاہی تھی۔۔۔۔ مگر ثمینہ کا دکھ اُنہیں آہستہ آہستہ کھانے لگا تھا۔۔۔۔
جب اُنہیں دنوں اُن کا دکھ کم کرنے کے لیے اللہ کی جانب سے حج کا بلاوا آیا تھا اُن کے لیے۔۔۔۔۔
وہ دونوں زنیشہ کو شمسہ بیگم کی جھولی میں ڈالتے حج پر روانہ ہوئے دوبارہ کبھی نہ لوٹنے کے لیے۔۔۔۔ حج کے دوران ایک بس ایکسیڈنٹ میں اُن دونوں کا انتقال ہوگیا تھا۔۔۔۔
ثمینہ کے والد جاتے وقت اپنی ساری جائیداد زنیشہ کے نام وصیت کر گئے تھے۔۔۔ اور اُس کی کسٹڈی بھی ملک فیاض کو سونپ گئے تھے۔۔۔۔
آژمیر کو شروع سے وہ گلابی گالوں والی گڑیا بہت پیاری تھی۔۔۔ وہ ہمیشہ اُس کے معاملے میں بہت پروٹیکٹو رہا تھا۔۔۔۔
اکرام حنیف نے پہلے بھی ایک دو بار زنیشہ کو لینے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر ہر بار اُسے منہ کی کھانی پڑی تھی۔۔۔ لیکن اِس بار وہ بہت ہی ناپاک ارادوں کے ساتھ اپنے آپ کو مزید طاقتور بنا کر آیا تھا۔۔۔۔ اُس کے لالچ نے ایک ہنستا بستا گھرانہ تباہ کردیا تھا۔۔۔۔ مگر اُس میں کمی ابھی بھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
“یہ۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔۔۔ آپ اِس گاڑی میں کیا کررہے ہیں۔۔۔۔ “
زنیشہ حیرت و بے یقینی کی کیفیت سے نکلتی بامشکل بول پائی تھی۔۔۔۔
“تمہارے گھر والوں کی عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے اُس کے لیے میں کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔۔ مگر میرے ہوش و حواس پوری طرح سلامت ہیں اِس لیے میں تمہیں اتنے خطرے کے ساتھ رات کے اِس پہر کسی گارڈ کے ساتھ اکیلا تو بالکل بھی نہیں بھیج سکتا۔۔۔۔۔”
زوہان بنا اُس کی جانب دیکھے روڈ پر نظریں گاڑھے سرد لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔۔
زنیشہ تو بے یقینی سے اُسے تکے گئی تھی۔۔۔۔ وہ جو سمجھ رہی تھی کہ زوہان ثمن کے پاس چلا گیا ہے۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ زوہان اُس کی فکر میں ابھی تک یہیں پر تھا۔۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی زنیشہ کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔۔۔۔ جب اچانک زوہان نے گاڑی کو بریک لگاتے روڈ کے کنارے روکا تھا۔۔۔۔
“کک کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟”
اتنی زور سے بریک لگانے پر زنیشہ کا سر اگلی سیٹ کی بیک سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔
“آگے آؤ۔۔۔۔۔”
زوہان نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ اَن لاک کیا تھا۔۔۔۔ جس کے لیے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ زنیشہ جانتی تھی اگر وہ انکار کرتی تو زوہان نے اُسے زبردستی اُٹھا کر اپنے ساتھ آگے بیٹھا لینا تھا۔۔۔ اِس لیے وہ بنا وقت ضائع کیے شرافت سے خود ہی اُتر آئی تھی۔۔۔۔
“آپ نے حسیب پر حملہ کروایا ہے نا؟؟؟؟”
زنیشہ اُس کے مقابل بیٹھتی رُخ اُس کی جانب موڑ گئی تھی۔۔۔۔
“جب پتا ہے تو پوچھ کیوں رہی ہو؟؟”
مجال ہے جو وہ اُسے سیدھے طریقے سے کسی بات کا جواب دے دے۔۔۔۔
“اگر لالہ کو پتا چل گیا تو وہ آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔۔”
زنیشہ تنک کر بولتی وارن کرگئی تھی۔۔۔۔
“اچھا اب تک کیا بگاڑ پایا ہے تمہارا بھائی میرا۔۔۔۔ جو اب کچھ کرے گا۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کی بچکانا بات پر استہزیہ ہنسا تھا۔۔۔
اُس کی بات لمحہ بھر کو زنیشہ کو بھی اُلجھا گئی تھی۔۔۔۔ واقعی یہ سچ تھا کہ آژمیر جو کسی کی چھوٹی سے چھوٹی گستاخی معاف نہیں کرتا تھا بہت ساری معاملات میں وہ زوہان کو معاف کرجاتا تھا۔۔۔۔
زنیشہ ہمیشہ اُن دونوں کے بیچ اُلجھ جاتی تھی۔۔۔ ایک طرف دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے پھرتے تھے پھر وہیں دوسری جانب ایک دوسرے کے لیے اتنی رعایت زنیشہ سمجھ نہیں پاتی تھی۔۔۔۔
“آپ کو تو جانا تھا نا اپنی چہیتی ثمن خان کے پاس۔۔۔۔”
زنیشہ اچانک خیال آتے ہی طنزیا لہجے میں اُس سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔
اُس کی بات اور انداز پر زوہان نظریں گھمائے اُس کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوا تھا۔۔۔۔۔ وہ کب سے اُسے دیکھنے سے گریز برت رہا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ اُس کے بالکل قریب بیٹھی تھی۔۔۔۔ زنیشہ کے وجود سے اُٹھتی دلفریب مہک زوہان کے حواسوں پر چھاتی اُسے اپنے حصار میں پوری طرح جکڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس نے بہت مشکل سے خود کو لمحوں کے سحر میں بہکنے سے روک رکھا تھا۔۔۔۔۔
“تم اتنی جیلس کیوں ہوتی ہو ثمن سے۔۔۔۔۔۔ اتنی اچھی لڑکی ہے وہ۔۔۔۔۔”
زوہان نے زنیشہ کی جانب سے فوراً نظریں پھیر لی تھیں۔۔۔۔ جس کے رخسار جلن اور غصے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈ کی وجہ سے بھی لال ہوچکے تھے۔۔۔۔ کیونکہ اُس نے اپنی سائیڈ کی ونڈو اوپن کر رکھی تھی۔۔۔ جس سے آتی ٹھنڈی ہوا اب اُسے کپکپکانے پر مجبور کررہی تھی۔۔۔۔
زوہان نے خاموشی سے ہاتھ بڑھاتے ونڈو بند کردی تھی۔۔۔۔ زنیشہ بنا ہلے خاموشی سے بیٹھی رہی تھی۔۔ اُسے زوہان کے منہ سے ثمن کی تعریف بہت بُری لگی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ سخت قسم کی ناراضگی کا اظہار کرتی اُس سے اب مزید کوئی بھی بات کرنے کا ارادہ ترک کرچکی تھی۔۔۔۔
زوہان کو اُس کا پھولا چہرا بہت کیوٹ لگا تھا۔۔۔۔
“تم سے شادی کرنے کا مقصد ہی یہی ہے۔۔۔ کہ پھر میں جلدی سے ثمن سے دوسری شادی کر لوں۔۔۔۔”
زوہان نے زنیشہ کے اِس کیوٹ سے غصے کا مزید ہوا دی تھی۔۔۔ جس کے بعد وہ مزید تپ بھی گئی تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے بنا اُس کے ڈرائیونگ کرنے کا لحاظ کرتے اُس کی جانب مڑتے اُسے کالر سے دبوچ کر اُس کا رُخ اپنی جانب موڑتے اُس کے قریب ہوئی تھی۔۔۔۔ زوہان نے گاڑی کی سپیڈ سلو کرتے بنا کوئی مزاحمت کیے اپنے آپ کو اُس کی گرفت کے کھنچاؤ کے آگے ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
اُس کے لیے زنیشہ کا یہ غصے بھرا رُوپ بہت ہی نیا اور دلفریب تھا۔۔۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔۔۔ میری امانت میں جو خیانت آپ کررہے ہیں اُس کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو۔۔۔۔۔”
زنیشہ کمزور لمحے کے زیرِ اثر دونوں کے درمیان موجود ہر گریز بھلائے چہرا اُس کے چہرے کے قریب کیے۔۔۔۔ نم آلود لرزتی پلکوں، غصے اور اُس کی نزدیکی کی وجہ سے کپکپاتے ہونٹوں سے بولتی زوہان کو مسمرائز سا کر گئی تھی۔۔۔۔
وہ بنا ہلے ساکت سا اُس ساحرہ کے سحر میں جکڑا اُس کی دلفریب خوشبو اپنی سانسوں میں اُتارتا اُسکے اتنے قریب ہونے کے باوجود خود کو اُس سے دور رکھے وہ خود پر کتنی مشکل سے ضبط کیے بیٹھا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔
اِس لڑکی کے حواس ٹھکانے لگانے کے لیے زوہان اب پہلے سے زیادہ جلدی اِس کے تمام جملہ حقوق اپنے نام لکھوانے کا سوچ چکا تھا۔۔۔۔
اب یہ کام اُسے کچھ دنوں کے اندر اندر ہی کرنا تھا۔۔۔۔
زنیشہ زوہان کی آنکھوں کے بدلتے تیور دیکھ پیچھے ہٹ چکی تھی۔۔۔۔ مگر زوہان ابھی اِس لمحے کی خوبصورتی سے باہر نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا زنیشہ میران صرف اتنا ہی تھا تمہارا غصہ۔۔۔۔۔”
زوہان اُس کے دور ہوجانے پر بدمزاح سا ہوا تھا۔۔۔۔
مگر زنیشہ نے اُس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔۔ وہ جذباتی ہوکر ہمیشہ ایسا ہی کچھ اُلٹا سیدھا کر جاتی تھی۔۔۔
اب بھی اُسے اپنی تھوڑی دیر پہلے سرزد کی جانے والی حرکت پر شرمندگی ہوئی تھی کہ نجانے زوہان اُس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا۔۔۔ وہ اتنی مری جارہی ہے اُس کے لیے۔۔۔۔۔
باقی کے راستے دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“میرا انتظار کرنا۔۔۔۔۔ بہت جلد تمہیں اپنے نام لگوانے آؤں گا۔۔۔۔۔”
زوہان میران پیلس کے مین گیٹ کے سامنے گاڑی روکتا اُس کی ٹھوڑی تھام کر رُخ اپنی جانب موڑتا پر یقین لہجے میں بولا تھا۔۔۔ اُس کی گھمبیر سرگوشی پر زنیشہ کی دھڑکنوں کا رقص بڑھا تھا۔۔۔۔
زنیشہ نے بامشکل لرزتی پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ مگر وہ زیادہ دیر اُس ستمگر کی مقناطیسی آنکھوں میں دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے ڈور اوپن کرتی گاڑی سے نکل گئی تھی۔۔۔۔۔
زوہان کی وارفتگی بھری نگاہوں نے اُس کے گیٹ کے اندر انٹر ہونے تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔
گاڑی سے نکل کر اُس نے اپنے سامنے پوری شان سے کھڑے میران پیلس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ جس کے مکینوں سے اُس کے بہت سارے حساب نکلتے تھے۔۔۔۔۔
@@@@@@@@
حاعفہ واپس آچکی تھی۔۔۔۔ مگر اُس کا دل وہیں آژمیر میران کے پاس ہی کہیں رہ گیا تھا۔۔۔۔۔
اُس پر نظر رکھنے والے آدمیوں کو بھی حاعفہ کی اِس مشن میں کامیابی کے بارے میں علم ہوچکا تھا۔۔۔۔ جس کو اپنے باس تک پہچانے کے بعد حاعفہ کو اب اِس ناٹک کا دی اینڈ کرنے کا کہا گیا تھا۔۔۔۔
مگر جو اینڈ حاعفہ کو پتا چلا تھا وہ سنتے حاعفہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔
اُسے آژمیر سے نہ صرف نکاح کرنا تھا۔۔۔ بلکہ اُس کے بعد اُسے اُس کے دشمنوں تک بھی لے کر آنا تھا۔۔۔۔
حاعفہ نے یہ سنتے فوری انکار کیا تھا۔۔۔۔ آژمیر کو نقصان پہنچانے سے پہلے وہ خود مرجانا پسند کرتی تھی۔۔۔۔
مگر یہاں بات اُس کی نہیں اُس کی بہن کی تھی۔۔۔۔ اُس کے انکار کے جواب میں اُنہوں نے ماورا کو شوٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔۔۔ اگر حاعفہ اُن کی بات نہ مانتی تو وہ ماورا کو ایک پل کے لیے بھی زندہ نہ چھوڑتے۔۔۔۔۔
حاعفہ اپنی زندگی کے بہت بڑے امتحان میں پھنس چکی تھی۔۔۔۔ ایک طرف اُس کا واحد خونی رشتہ اُس کی بہن تھی تو دوسری جانب اُس کی سانسوں میں بستا، اُس کی دھڑکنوں کا امین آژمیر میران تھا۔۔۔۔ جس پر حاعفہ نور مرتی تھی اُسے بھلا کیسے وہ اپنے ہاتھوں نقصان پہنچا سکتی تھی۔۔۔۔
اُس کا دماغ سوچ سوچ کر ماؤف ہوچکا تھا۔۔۔ مگر ابھی تک کوئی سرا ہاتھ نہیں لگا تھا۔۔۔۔
@@@@@@@@
“اماں سائیں۔۔۔۔۔ اماں سائیں کہاں ہیں آپ۔۔۔۔؟”
زنیشہ شمسہ بیگم کو پکارتی اُن کے روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“اماں سائیں کہاں ہیں آپ۔۔۔۔”
زنیشہ خالی واش روم چیک کرتی واپس پلٹی تھی۔۔۔ جب اُس کی نظر آدھ کھلی الماری پر پڑی تھی۔۔۔۔
الماری بند کرنے کی نیت سے جیسے ہی وہ آگے بڑھی اُس کی نظر الماری کے اندر کھلے لاکر پر پڑی تھی۔۔۔ جو ناصرف کھلا ہوا تھا۔۔۔ بلکہ اُس میں سے کچھ کاغذات بھی باہر نکلے پڑے تھے۔۔۔
زنیشہ بنا اُن کاغذات پر غور کیے تمام چیزیں لاکر میں رکھنے لگی تھی۔۔۔جب اچانک اُس کے ہاتھ سے ایک تصویر چھوٹ کر نیچے گری تھی۔۔۔۔
زنیشہ نے جیسے ہی تصویر اُٹھا کر سیدھی کی تصویر میں موجود دو نفوس کو دیکھ اُس کو گہرا جھٹکا لگا تھا۔۔۔ شمسہ بیگم کے اردگرد وہ دو پندرہ سولہ سالہ لڑکے آژمیر اور زوہان تھے۔۔۔۔ زنیشہ پہلے بھی اُن کی ایک دو بچپن کی تصویریں دیکھ چکی تھی۔ اِس لیے اُسے پہچاننے میں مشکل پیش نہیں آئی تھی۔۔۔
مگر دونوں کا ایک ہی فریم میں شمسہ بیگم کے ساتھ ہونا اُسے ٹھٹھکا گیا تھا۔۔۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور اُس نے جلدی سے لاکر میں رکھے کاغذات نکالے تھے۔۔۔۔ جس میں موجود بے فارم پر لکھے ریکارڈ کو دیکھتے زنیشہ کا دماغ چکرا گیا تھا۔۔۔۔
آژمیر اور زوہان سوتیلے بھائی تھے۔۔۔۔۔ زنیشہ لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔
اُن دونوں کی مائیں مختلف تھیں۔۔۔۔ مگر وہ دونوں ملک فیاض کا خون تھے۔۔۔۔۔۔ زنیشہ سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہوا تھا۔۔۔۔ یہ حقیقت بہت بڑی تھی اُس کے لیے۔۔۔۔
جب اپنے پیچھے سنائی دیتی قدموں کی آہٹ پر وہ پلٹی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
